پرسیکیوشن رپورٹس

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے دردناک مظالم کی الَم انگیز داستان

فروری2021ء میں سامنےآنے والے چند تکلیف دہ واقعات سے انتخاب

پنجاب حکومت کے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے خواتین، نوجوانوں، بچوں اور بزرگوں کے لیےجماعت احمدیہ کے روزنامہ اور ماہانہ رسالوں پر پابندی لگا دی گئی۔ نوٹیفکیشن کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ عدالت نے کیس التوا میں رکھا اور سماعت کی نئی تاریخ نہیں دی

انتہاپسند اپنے گزشتہ طریق پر قائم اور اصلاح سے انکاری

(گذشتہ سے پیوستہ)جامعہ احمدیہ کے طالب علم وقار احمد، جامعہ احمدیہ کے پرنسپل سید مبشر احمد ایاز اور جامعہ احمدیہ کے لیکچرر محمد اظہر منگلا کے خلاف 12؍نومبر 2019ء کو سائبر کرائم قانون کے تحت، سوشل میڈیا پر قرآنی مواد شیئر کرنے کے الزام میں ایف آئی آر نمبر 152/2019 آف پولیس سٹیشن FIA سائبر کرائم ونگ لاہور احمدیہ مخالف قانون PPC 298-C، توہین رسالت کے قوانین 295-B اور 295-A، PECA-11 اور PPCs 120-B، 109 اور 34 کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ وقار احمد کو گرفتار کر لیا گیا۔ جرم ثابت ہونے پر انہیں عمر قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ ذوالفقار باری مجسٹریٹ سیکشن 30 نے 8؍اپریل 2020 کو ان کی درخواست ضمانت مسترد کر دی۔

عبدالمجید ولد عبدالوحید ساکن شاہین مسلم ٹاؤن تاج چوک پھندو روڈضلع پشاورعمر20سال پر، عمران علی نامی ایک کم سن لڑکے نے توہین مذہب کا الزام لگایا تھا۔ پولیس نے ملاؤں کے دباؤ میں آکر ان کے خلاف پاکستان پینل کوڈ 1860 کی دفعہ 295-C کے تحت من گھڑت مقدمہ درج کیا جس میں 10؍ستمبر2020ءکو ایف آئی آر نمبر648 تھانہ پھندو پشاور میں درج کی گئی تھی۔ انہیں 13.09.2020 کو گرفتار کیا گیا تھا۔ وہ اس وقت پشاور جیل میں ہیں۔ ان کی سماعت کی تاریخ 10؍مارچ 2021ءمقرر کی گئی۔

روحان احمد، ملک عثمان احمد اور حافظ طارق شہزاد وغیرہ کے خلاف 26؍مئی 2020ء کو ایف آئی آرنمبر 29/2020 پولیس سٹیشن FIA سائبر کرائمز ونگ، لاہور میں PPCs 295B,298C,120B,109,34 R/W, 2016-PECA-11 کے درج کی گئی۔ جرم ثابت ہونے پر انہیں عمر قید ہو سکتی ہے۔ پاکستان کا سائبر کرائمز ڈیپارٹمنٹ جو وفاقی تحقیقاتی ادارے کے تحت کام کرتا ہےنے واپڈا ٹاؤن لاہور کے روحان احمد کے گھر پر چھاپہ مار کر اسےگرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بنایا۔ وہ اس وقت لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں ہیں۔

ملک عثمان احمد اور حافظ طارق شہزاد کو ایف آئی اے آفس میں پیشی پر گرفتار کیا گیا، وہ کوٹ لکھپت جیل لاہور میں ہیں۔

ایڈیشنل سیشن جج لاہور حامد حسین کی عدالت میں تینوں قیدیوں کی درخواست ضمانت کی سماعت جاری ہے۔ سماعت کی اگلی تاریخ 3؍ مارچ 2021 مقرر کی گئی۔

ملک ظہیر احمد کو 30؍ستمبر 2019ء کو سیکشن 298-C، 295-B PECA-11 اور 109 کے تحت مقدمہ بنا کر گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں 23؍فروری 2021ء کو ضمانت مل گئی تھی اور توقع تھی کہ چار سے پانچ دن میں کاغذی کارروائی کے بعد ان کی رہائی متوقع ہے۔ 27؍فروری کو جب ملک ظہیر احمد کی کیمپ جیل سے رہائی متوقع تھی، سائبر کرائم ونگ لاہور کی ٹیم نے انہیں ایف آئی آر نمبر88 PPCs 295A,298C, PECA-11کے تحت گرفتار کر لیا۔ اس مقدمے میں انہیں باضابطہ طور پر نامزد بھی نہیں کیا گیا تھا۔

25؍نومبر 2020ء کو طارق اے طاہر اور صفوان احمد کے خلاف پولیس اسٹیشن نگر پارکر سندھ میں ایف آئی آر 83/2020توہین رسالت کی شق PPC 295-B کے تحت درج کی گئی۔ طارق اے طاہر کو گرفتار کیا گیا۔ سیشن جج مٹھی ارشاد علی کی عدالت میں درخواست ضمانت پر سماعت جاری ہے۔ سماعت کی اگلی تاریخ 10؍مارچ 2021ء مقرر کی گئی۔

چار احمدیوں جناب محمد محمود اقبال ہاشمی، شیراز احمد، اے وکیل راجپوت اور عتیق احمد کے خلاف سائبر کرائم پولیس اسٹیشن لاہور نے 20؍جون 2019ء کو ایف آئی آر نمبر 88، پی پی سی 295-A، PECA-11/298-C کے تحت مقدمہ درج کیا تھا کہ انہوں نے ایک گروپ’’سندھ سلامت‘‘ بنایا تھا اور اس میں احمدیہ مواد کو مبینہ طور پر شیئر کرکیا تھا۔ شیراز احمد کو 25؍فروری 2021ء کو حافظ آباد سے گرفتار کیا گیا تھا۔

دیگر: شرافت احمد، اکبر علی اور طاہر نقاش کے خلاف 2؍مئی 2020ء کو تھانہ مانگٹانوالہ، ضلع ننکانہ میں PPCs 298-B اور 298-C کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ لاہور ہائی کورٹ نے ان کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست 2؍اکتوبر 2020ء کو مسترد کر دی۔ انہیں کمرہ عدالت میں گرفتار کر کے شیخوپورہ جیل بھیج دیا گیا۔ درخواست ضمانت قبل از گرفتاری مسترد کرنے کی اپیل ڈسٹرکٹ ننکانہ کے مجسٹریٹ عادل ریاض کی عدالت میں دائر کی گئی تھی جنہوں نے 23؍اکتوبر کو مسترد کر دی تھی۔ 4؍جنوری 2021ء کو ننکانہ صاحب کے مجسٹریٹ ایم عادل ریاض نے توہین رسالت کی شق PPCs 295-C اور 295-B شامل کرنے کے لیے سیشن جج سے رجوع کیا۔ اکبر علی، 16؍فروری کو اسیری کے دوران دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گئے۔ 23؍فروری 2021ء کو جج اسجد جاوید گھرال نے سماعت مکمل ہونے پر شرافت احمد اور طاہر نقش دونوں کی ضمانت منظور کر لی۔ مقدمہ زیر سماعت ہے۔

نعیم احمد، نسیم احمد، ڈاکٹر شاہد اقبال، نصیر احمد قمر، فضل احمد اور محترمہ بشریٰ طالب کے خلاف PPCs 295-B، 295-A، 298-A، 298-B،298-C،506-B، کے تحت FIR نمبر325 کے ساتھ 23؍جولائی 2020ء کو پولیس اسٹیشن راجن پور میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ڈاکٹر شاہد اقبال کو 15؍ستمبر 2020ء تک ضمانت مل گئی تھی تاہم جب انہوں نے ضمانت کی تصدیق کے لیے یکم اکتوبر 2020ء کو لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بنچ کے سامنے خود کو پیش کیا تو ان کی درخواست کاانکار کر دیا گیا تھا۔ ڈاکٹر اقبال کو اسی وقت ادھر ہی گرفتار کیا گیا اور راجن پور جیل منتقل کر دیا گیا۔ بعدہ انہیں رہا کر دیا گیا۔ مقدمہ زیر سماعت ہے۔

علامہ اقبال ٹاؤن لاہور کے محمود ہاشمی کو سوشل میڈیا پر جماعتی مواد شیئر کرنے پر 20؍جون 2019ء کو تھانہ علامہ اقبال میں دفعہ 298-C اور 295-A کےتحت مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا گیا۔ کیس زیر سماعت ہے اور اگلی سماعت 4؍ مارچ 2021ء کو مقررہوئی۔

حق المبین پر احمدیہ مخالف PPC 298-C کے تحت ایف آئی آر نمبر 2637پولیس اسٹیشن شاہدرہ لاہور میں 2؍ ستمبر 2020ء کو مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ انہیں اپنے دوست کی پوسٹ پر واٹس ایپ کمنٹ کے بعد گرفتار کیا گیا۔ انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا لیکن مقدمہ زیر سماعت ہے۔

وحید احمد بٹ پر 15؍اگست 2020ء کو احمدی مخالف شق PPC 298-C اور توہین رسالت کی شق 295-A کے تحت ایف آئی آر نمبر309 تھانہ پھلورہ، ضلع سیالکوٹ میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ جس پر انہیں گرفتار کر لیا گیا۔ اور بعد میں ضمانت پر رہا کر دیا گیا لیکن مقدمہ زیر سماعت ہے۔

فضل سعید، ان کے بھائی منور سعید اور ان کے والد سعید احمد کے خلاف 15؍اگست 2020ءکو احمدی مخالف شق PPC 298-C کے تحت ایف آئی آر نمبر 710 کے ساتھ تھانہ پیر محل، ضلع ٹوبہ ٹیک سنگھ میں قربانی کرنے پر مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ فضل سعید کو گرفتار کر لیا گیا۔ بعد ازاں 22؍ستمبر 2020ء کو ان کی ضمانت منظور ہوئی اور انہیں جیل سے رہا کر دیا گیا۔ مقدمہ زیر سماعت ہے۔

لاہور کے امجد اقبال سیلونی اور اکرام الٰہی پر چار سال قبل مذہب تبدیل کرنے کے جھوٹے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا تھا۔ ضمانت پر رہائی سے قبل وہ ایک سال سے زائد عرصے تک جیل میں رہے۔ ان پر مقدمے چل رہے ہیں۔ سماعت کی تاریخ 9؍ مارچ 2021ء مقرر کی گئی۔

دوالمیال کیس

چار سال قبل دوالمیال، ضلع چکوال میں ایک ہجوم نے احمدیوں کی مسجدپر حملہ کیا۔ ہنگامہ آرائی میں دونوں اطراف کا ایک ایک فرد ہلاک ہوا۔ ATCکی عدالت نے دونوں فریقین کے سمجھوتے کے بعد ملزمان کے مقدمے کی سماعت ملتوی کر دی۔ احمدیہ مسجد جس پر حملہ ہوا تھا اور پھر اسے حکام نے بند کر دیا تھا وہ ابھی تک بند ہے اور احمدیوں کے لیے عبادت کے لیے نہیں کھلی ہے۔ احمدیوں کے پاس نماز باجماعت کے لیے کوئی متبادل سہولت نہیں جبکہ غیر احمدیوں کے پاس بےشمار مساجد ہیں۔ مسجد کو سیل کرنے کے لیے عدالت میں مقدمہ چل رہا ہے۔ سول کورٹ چوآ سیدن شاہ میں مسجد کی ملکیت کا مقدمہ بھی چل رہا ہے۔ سماعت کی اگلی طے شدہ تاریخ 8؍مارچ 2021ءہے۔

ایک احمدی استاد طاہر اے خالد کو پی پی سی 295-B کے تحت 31؍مارچ 2014ء کو توہین مذہب کے جھوٹے الزام میں مقدمہ درج کر کے گرفتار کیا گیا تھا۔ ساڑھے پانچ ماہ بعد انہیں ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ ان کا ٹرائل گذشتہ سات سال سے جاری ہے۔ سماعت کی اگلی تاریخ 20؍مارچ 2021ء ہے۔

عید الاضحی پر مویشیوں کی قربانی

ایک مخالف گروپ نےعید الاضحی پر احمدیوں کے مویشیوں کی قربانی پر پابندی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں رٹ دائر کر دی۔ عدالت نے کیس التوا میں رکھا اور سماعت کی نئی تاریخ نہیں دی۔

احمدیہ لٹریچرپر پابندی

پنجاب حکومت کے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے بانی احمدیہ جماعت کے تمام تحریری لٹریچر پر پابندی لگا دی گئی۔ نوٹیفکیشن کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ عدالت نے کیس التوا میں رکھا اور سماعت کی نئی تاریخ نہیں دی۔

پنجاب حکومت کے ایک نوٹیفکیشن کے ذریعے خواتین، نوجوانوں، بچوں اور بزرگوں کے لیےجماعت احمدیہ کے روزنامہ اور ماہانہ رسالوں پر پابندی لگا دی گئی۔ نوٹیفکیشن کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا ہے۔ عدالت نے کیس التوا میں رکھا اور سماعت کی نئی تاریخ نہیں دی۔

٭…٭…٭

(مرتبہ: ’اے آر ملک‘)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button