پرسیکیوشن رپورٹس

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے دردناک مظالم کی الَم انگیز داستان

فروری2021ء میں سامنےآنے والے چند تکلیف دہ واقعات سے انتخاب

راہوالی کینٹ تھانہ کے سیکیورٹی انچارج صغیر احمد چیمہ نے تین مقامی احمدی خاندانوں کے گھر کا دورہ کیا اور انہیں بتایا کہ ان کے گھروں کے باہر ’’ماشاءاللہ ‘‘لکھا ہوا ہے جس کے خلاف پچاس لوگوں نے پولیس تھانے میں درخواست دی ہے۔ اس لیے احمدی خود ہی اس کو اتار لیں

احمدی کو جعلی بنیادوں پر گرفتار کیا گیا

کھریپڑ ضلع قصور، 28؍فروری 2021ء: شرافت احمد، اکبر علی اور طاہر نقاش کے خلاف 2؍مئی 2020ء کو تھانہ مانگٹانوالہ، ضلع ننکانہ میں احمدی مخالف تعزیرات 298-B اور 298-C کے تحت مقدمہ درج کیا گیا۔ لاہور ہائی کورٹ نے 2؍اکتوبر 2020ء کو قبل از گرفتاری ضمانت کے لیے ان کی درخواست مسترد کر دی۔ بعد ازاں 4؍جنوری 2021ء کو ایک مجسٹریٹ نے ان کی چارج شیٹ میں 295-Cشامل کیا۔ طاہر نقاش 27؍فروری 2021ء کو شیخوپورہ جیل سے ضمانت پر رہا ہوئے اور کھریپڑ، ضلع قصور میں اپنے گھر چلے گئے۔

28؍فروری کو نقاش کچھ رشتہ داروں کے ساتھ گاؤں میں سیر کے لیے گئے۔ وہاں، سرکردہ مخالفین کے ایک گروہ نے، جو پہلے ہی انتظامیہ کی مدد سے احمدیوں کی مسجد پر قبضہ کر چکا تھا، ان کے ساتھ کچھ سخت بحث کی۔ پھر انہوں نے پولیس کو بلایا جو وہاں پہنچی اور طاہر نقاش اور دیگر دو افرادکو گرفتار کر لیا۔ بعد ازاں پولیس نے انہیں ایک لاکھ روپے کا ضمانتی مچلکہ لینے کے بعد اس شرط پر رہا کر دیا کہ جب بھی پولیس انہیں بلوائے گی وہ پیش ہو ں گے۔

مخالفین اس واقعے کو جواز فراہم کرنے کے لیے موصوف کے خلاف سوشل میڈیا پر مہم چلا رہے ہیں، اور ختم نبوت گروپ ان کے خلاف سرگرم ہے۔ یکم مارچ 2021ء کو، مخالفین نے ایس ایچ او گنڈا سنگھ والا تھانے، ضلع قصور میں شکایت درج کروائی جس میں بلا جواز الزام لگایا گیا کہ نقاش اور دیگر نامعلوم افراد نے اسلام کی توہین کی گویا توہین مذہب کا ارتکاب کیا اور قتل کی دھمکیاں دیں۔

یکم مارچ 2021ء کو پولیس نے نقاش کے خلاف ایف آئی آر نمبر83 کے ساتھ مقدمہ درج کیا۔ تھانہ گنڈا سنگھ والا، ضلع قصور نے تعزیراتِ پاکستان دفعہ 298کے تحت مقدمہ درج کر کے انہیں گرفتار کر لیا۔

پولیس کے ہاتھوں 25 احمدیوں کی قبروں کی بے حرمتی

چک565گ ب،جڑانوالہ،ضلع فیصل آبا،2؍فروری 2021ء: یہاں کا قبرستان گاؤں سے تھوڑے فاصلے پر واقع ہے۔ کچھ دن پہلے ایک ملا نے احمدیوں کی قبروں کی مخالفت کی بنیاد پر احمدی مخالف مہم شروع کی۔ معاملہ ایس ایچ او کے پاس گیا جس نے 2؍فروری کو جماعت احمدیہ کے مقامی عہدیداروں سے ملاقات کی۔ اگلے دن ایس ایچ او قبرستان گیا، اس جگہ کا معائنہ کیا اور احمدیوں کو قبروں کے کتبے اتارنے کو کہا۔ پولیس کو بتایا گیا کہ احمدی ایسا کام نہیں کریں گے اور نہ کسی کو ایسا کرنے دیں گے۔ اگر پولیس وردی میں آئی تو احمدی مزاحمت نہیں کریں گے۔

چنانچہ 3؍فروری کو غروب آفتاب کے بعد پولیس کچھ مقامی غیراحمدیوں کے ساتھ پہنچی۔ انہوں نے 25مقبروں کے کتبوں کو توڑ دیا اور اپنے ساتھ لے گئے۔

پولیس نے احمدیوں کی مسجدسے کلمہ ہٹا دیا

سکھیکی، ضلع حافظ آباد، 28؍جنوری2021ء: پولیس نے احمدیوں کی مسجد کا دورہ کیا اوراس کے اندر لکھے ہوئے کلمہ کی تصاویر لیں۔ انہوں نے ایک احمدی قمر شاہین سے کہا کہ اسے مٹا دو۔ انہیں بتایا گیا کہ احمدی کلمہ کو نہیں مٹائیں گے اورنہ کسی شہری کو ایسا کرنے دیں گے۔ پولیس اہلکاروں نے قمر شاہین کو ہدایات نہ ماننے کے الزام میں گرفتار کرلیا۔

دو گھنٹے بعدپولیس کے ایک دستے نے قمر شاہین کے ساتھ مسجدکا دوبارہ دورہ کیا، وہاں سے کلمہ کو مٹا دیا اور اسے دوبارہ نہ لکھنے کو کہا۔ واضح رہے کہ قانون احمدیوں کو اپنی مساجدکے اندر کلمہ لکھنے سے منع نہیں کرتا۔

گوجرانوالہ میں احمدیوں کے گھروں سے مقدس تختیاں ہٹا دی گئیں

راہوالی کینٹ، ضلع گوجرانوالہ، 22؍فروری 2021ء : راہوالی کینٹ تھانہ کے سیکیورٹی انچارج صغیر احمد چیمہ نے تین مقامی احمدی خاندانوں کے گھر کا دورہ کیا اور انہیں بتایا کہ ان کے گھروں کے باہر ’’ماشاءاللہ‘‘ لکھا ہوا ہے جس کے خلاف پچاس لوگوں نے پولیس تھانے میں درخواست دی ہے۔ اس لیے احمدی خود ہی اس کو اتار لیں۔ اس پر احمدیوں نے انہیں بتایا کہ وہ ایسا نہیں کریں گے اور نہ ہی کسی عام شہری کو ایسا کرنے کی اجازت دیں گے۔ پولیس کو یہ پیغام مقصود احمد باجوہ اور غضنفر ملک کے اہل خانہ نے پہنچایا۔

تاہم جب پولیس غلام باری کے گھر گئی تواس وقت گھر میں صرف ان کی اہلیہ موجود تھیں۔ پولیس نے انہیں اطلاع دی کہ تقریباً پچاس لوگ ان کے گھر پر حملہ کرنا چاہتے تھے لیکن پولیس نے انہیں روک دیا۔ چنانچہ احمدیوں کو چاہیے کہ وہ ’’ماشاءاللہ‘‘ کی تختی اتار لیں۔ احمدی خاتون نے بتایا کہ گھر میں کوئی مرد نہیں ہے، اور وہ یہ کام نہیں کر سکتیں۔ اس پر ایک آدمی نے پیشکش کی کہ وہ یہ کر دےگا۔ چنانچہ وہ ایک سیڑھی اور ہتھوڑا لے کر آیا اور ’’ماشاءاللہ‘‘ کے الفاظ کو توڑ دیا۔

اگلے دن احمدیہ وفد نے ایس ایچ او عامر شہزاد سے ملاقات کی۔ ایس ایچ او پولیس نے سیکیورٹی انچارج سے کہا کہ وہ ایس او پیز کے مطابق کام کریں۔

25؍فروری کو پولیس احمدیوں کے گھروں میں جا کر تحریروں کو توڑنے لگی۔ وہاں سیکیورٹی انچارج نے ایک ساتھی پولیس والے سے کہا کہ وہ انہیں توڑ دیں، لیکن اس نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا۔ پھر سیکیورٹی انچارج نے ایک مستری کو بھیجا جس نے ٹائلیں توڑ دیں۔ اسی طرح انہوں نے بلاجھجک مقصود باجوہ کے گھر کے باہر نام کی تختی پر لکھا ہوا لفظ ’’حاجی‘‘ توڑ دیا اور واپس چلے گئے۔

یہ سب غیر قانونی تھا کیونکہ قانون احمدیوں کو ایسی تختیاں آویزاں کرنے سے منع نہیں کرتا۔

پولیس کی زیادتی

شوکت آباد کالونی، ضلع ننکانہ، پنجاب، فروری 2021ء: اکبر علی جو محض احمدی ہونے کی وجہ سے مذہبی بنیاد پر قید میں ہیں، شوکت آباد کالونی میں چند دکانوں کے مالک ہیں۔ ان میں سے چند پر اسمائے باری تعالیٰ تحریر کیے گئے تھے۔ چند روز قبل مخالفین نے ان کی تصویریں بنائیں اور پھر ان کے بیٹے کے خلاف مقدمہ درج کرنے کے لیے پولیس کو درخواست دی۔ پولیس نے ایف آئی آر تو درج نہیں کی، لیکن تعصب پسند مذہبی عناصر کے مطالبات پر ان پاکیزہ تحریروں کو مٹادیا۔

سوالیہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پنجاب حکومت کی یہ پالیسی ہے کہ اس کی پولیس ملاّ کے ہر جائز و ناجائز مطالبے کو پورا کریں!!؟

سائبر کرائم ونگ لاہور کا بے مقصد تعاقب

فیصل آباد، 17؍فروری2021ء: ملک خلیل احمد عابد کو سائبر کرائم کے انسپکٹر محسن رضا کا فون آیا کہ وہ اپنے فون کے غلط استعمال کی وضاحت کے لیے لاہور میں سائبر کرائم کے دفتر میں حاضر ہوں۔ ملک خلیل احمد عابد بزرگ آدمی ہیں۔ انسپکٹر نے مبینہ طور پر انہیں دھمکی دی کہ عدم تعمیل کی صورت میں انہیں ’اٹھایا‘ بھی جا سکتا ہے۔

احمدی کو اپنا دفاع کرنے پر حراست میں لے لیا گیا

جھڈو، ضلع میرپور خاص، سندھ، فروری 2021ء: احمدیوں کے مخالفین میرپور خاص اور تھرپارکر میں وسیع پیمانے پر احمدی مخالف سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ جھڈو شہر میں چند روز قبل اپوزیشن کی جانب سے احمدیہ مخالف بینرز اور پوسٹرز لگائے گئے تھے۔ 19؍فروری کو لوگوں کو جماعت کے خلاف اکسانے کے لیے مزید پوسٹرز اور بینرز لگائے گئے جن میں احمدی مخالف تحریریں درج تھیں۔

19؍فروری کو رات 9بجے، ایک سیاسی مذہبی جماعت جے یو آئی نے لاڑکانہ میں مرکز احمدیہ کے قریب ایک جلسہ کیا، جس میں جماعت احمدیہ کے خلاف نفرت انگیز تقاریر کی گئیں۔

27؍فروری کو ایک احمدی وسیم احمد صاحب نے مبینہ طور پر مخالفین کی طرف سے لگایا ہوا ایک بینر اتار دیا جس سے جھڈو میں کافی ہنگامہ ہوا اور ملاؤں نے پولیس پر دباؤ ڈالا اور وسیم احمدصاحب کو گرفتار کر لیا۔ پولیس نے اسے ایک دن کے لیے حراست میں رکھا اور دوسرے دن رہا کر دیا۔ وسیم احمد صاحب کو احتیاط کے طور پر اپنا گاؤں چھوڑنا پڑا۔

آزاد جموں و کشمیر میں بڑھتی ہوئی مذہبی عدم برداشت

گلہار کالونی، ضلع کوٹلی آزاد کشمیر، 8؍فروری 2021ء: ایک احمدی محمد قدیر کی یہاں ایک دکان ہے جس پر’’ماشاء اللہ‘‘ کی پلیٹ لگی ہوئی تھی۔ حافظ محمد ثاقب جس کا تعلق انتہا پسند ٹی ایل پی سے ہے نے ’’ماشاء اللہ‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے پولیس میں درخواست دائر کی۔ پولیس نے محمد قدیر کو تھانے طلب کیا اورغیر قانونی طور پر ان سے تحریر ہٹانے کے لیے کہا جس سے انہوں نے انکار کر دیا۔ پولیس کی مداخلت سے معاملہ فی الحال رفع دفع ہو گیا ہے۔

اسی طرح تتہ پانی بازار میں ایک احمدی حاجی محمد بشیر کی دکان ہے۔ 12؍فروری 2021ء کو ایک ایمبولینس ڈرائیور ان کی دکان پر آیا اور اس نے اپنے احمدی ملازم منور محمود کو چیختے ہوئے کہا کہ وہ احمدیوں کی آرام باری میں موجود مسجد سے کلمہ ہٹا دیں۔ نیز نہایت بدتمیزی کا مظاہرہ کیا۔ معاملے کی اطلاع پولیس کو کر دی گئی۔

(جاری ہے)

(مرتبہ: مطہر احمد طاہر۔ جرمنی+’اے آر ملک‘)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button