ادبیات

ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب (قسط نمبر97)

(محمود احمد طلحہ ۔ استاد جامعہ احمدیہ یو کے)

بعض لوگ جہالت سے اعتراض کرتے ہیں کہ قرآن شریف میں ہے کہ ہر ایک قوم کی زبان میں الہام ہونا چاہئے جیسے وَمَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا بِلِسَانِ قَوۡمِہٖ۔مگر تم کو عربی میں ہی کیوں ہوتے ہیں ؟

توایک تو اس کا جواب یہ ہے کہ خداسے پوچھوکہ کیوں ہوتے ہیں۔ اور اس کا اصل سرّ یہ ہے کہ صرف تعلق جتلانے کی غرض سے عربی میں الہامات ہوتے ہیں کیونکہ ہم تابع ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جو کہ عربی تھے۔ ہمارا کاروبارسب ظلی ہے اورخدا کے لئے ہے۔ پھر اگر اسی زبان میں الہام نہ ہو تو تعلق نہیں رہتا۔اس لئے خدا تعالیٰ عظمت دینے کے واسطے عربی میں الہام کرتاہے اور اپنے دین کو محفوظ رکھنا چاہتاہے۔ جس بات کو ہم ذوق کہتے ہیں۔ اسی پر وہ لوگ اعتراض کرتے ہیں خدا تعالیٰ اصل متبوع کی زبان کو نہیں چھوڑتا اور جس حال میں یہ سب کچھ اسی (آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ) کی خاطر ہے اور اسی کی تائید ہے توپھراس سے قطع تعلق کیونکر ہو۔ اور بعض وقت انگریزی۔ اردو و فارسی میں بھی الہام ہوتے ہیں تاکہ خداتعالیٰ جتلادیوےکہ وہ ہر ایک زبان سے واقف ہے۔

آنحضرتﷺ کو فارسی زبان میں الہام

اسی طرح ایک دفعہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراض ہواتھا۔ کہ کسی اور زبان میں الہام کیوں نہیں ہوتا تو آپؐ کو اللہ تعالیٰ نے فارسی زبان میں الہام کیا

’’ایں مشتِ خاک را گرنہ بخشم چہ کنم‘‘

(ملفوظات جلدچہارم صفحہ299-300)

اس حصہ ملفوظات میں حضرت محمدﷺ کا یہ فارسی الہام شامل ہے

’’اِیْں مُشْتِ خَاکْ رَا گَرْنَہْ بَخْشَمْ چِہْ کُنَمْ‘‘

ترجمہ: ’’اس مٹھی بھرخاک کو اگر میں معاف نہ کروں تو کیا کروں۔ ‘‘

آنحضرتﷺ کا فارسی الہام جو کہ کتاب کوثر النبیؐ میں درج ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ایک دفعہ رسول کریمﷺ پر اعتراض ہوا تھاکہ کسی اَور زبان میں الہام کیوں نہیں ہوتاتو آپ کو اللہ تعالیٰ نے فارسی زبان میں الہام کیا۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close