عالمی خبریں

خبرنامہ

(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)

٭…سعودی عرب نے مملکت میں آنے والے مسافروں کیلئے پی سی آر ٹیسٹ اور قرنطینہ کی شرط ختم کردی۔ سعودی عرب نے کورونا کیسز میں کمی آنے کے بعد مملکت میں عائد متعدد پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کیا۔

حرمین شریفین سمیت تمام مساجد میں سماجی فاصلے کی پابندیاں بھی ختم کردی گئی ہیں تاہم ماسک لازمی قرار دیا گیا ہے۔

٭…روس کی مبینہ شیلنگ سے یوکرین کےشہر اینیرہوڈر Enerhodar میں واقع ملک کے سب سے بڑے جوہری پلانٹ کی عمارت میں آگ لگ گئی جس سے پلانٹ کو شدید خطرہ لاحق ہے۔یوکرینی وزیرخارجہ نے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انربودار کے جوہری پلانٹ میں دھماکا ہوا تو چرنوبل سے 10 گنا زیادہ تباہی ہوگی۔ یورپ کے سب سے بڑے نیوکلیئر پاور پلانٹ پر حملے نے اس خدشات کو جنم دیا ہے کہ تباہ شدہ پاور اسٹیشن سے تابکاری کا اخراج ہو سکتا ہے۔ یوکرین کے صدر ولادومیر زیلنسکی نے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ روس کے علاوہ کسی بھی ملک نے کبھی جوہری توانائی کے یونٹس پر گولہ باری نہیں کی۔ یہ ہماری تاریخ میں پہلی بار ہوا ہے، دہشت گرد ریاست نے اب جوہری دہشت گردی کا سہارا لیا۔

٭…نیٹو کے بعد امریکا نے بھی روس سے جنگ نہ لڑنے کا اعلان کیا ہے۔ صدر بائیڈن کا کہنا ہے کہ امریکی افواج یوکرین میں روس سے لڑائی نہیں کریں گی۔ امریکی اور اتحادی اپنی سرحدوں کی حفاظت پوری طاقت کے ساتھ کریں گے۔بائیڈن نے صدر پیوٹن کو روسی آمر قرار دیتے ہوئے روسی پروازوں کیلئے امریکی فضائی حدود بند کرنے کا بھی اعلان کیا۔بائیڈن نے اپنے پہلے اسٹیٹ آف دی یونین خطاب میں کہا کہ پیوٹن دنیا میں تنہا ہوچکے ، بائیڈن نے ہال میں موجود یوکرینی سفیر کو متعارف کرایا جس پر شرکا نے کھڑے ہوکر یوکرین سے یکجہتی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ امریکا یوکرینی عوام کے ساتھ کھڑا ہے، پیوٹن کا یوکرین پر حملہ کرنے کا منصوبہ سوچا سمجھا اور بلااشتعال تھا، انہوں نے سفارتی کوشش کو مسترد کیا۔

صدر بائیڈن کا کہنا تھا کہ ہم نے اپنی تاریخ سے یہی سیکھا ہے کہ آمر جب سبق نہیں سیکھتے اور اپنی جارحیت کی قیمت نہیں اٹھاتے تو وہ مزید افراتفری پھیلاتے ہیں۔

٭… جنیوا میں اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کے اجلاس سے روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف ورچوئل خطاب کے لیے آئے تو 40 ممالک کے سفارت کاروں نے یوکرین پر روسی حملے کی مخالفت کی اور تقریباً 100 سفارت کار احتجاجاً اجلاس سے واک آؤٹ کرگئے۔بائیکاٹ کرنے والوں میں یورپی یونین، امریکا، برطانیہ، جاپان اور دیگر ممالک کے سفارت کار شامل تھے جب کہ روسی وزیر خارجہ کے خطاب کے دوران چند سفارت کار ہی اجلاس میں موجود تھے جن میں شام، چین اور وینزویلا کے سفارتکار شامل تھے۔

٭…یوکرین نے روس کے خلاف لڑنےکے لیے یوکرین آنے والے جنگجوؤں پر سے ویزا پابندی ختم کردی۔خیال رہےکہ یوکرینی صدر ولودو میر زیلنسکی نے غیر ملکی شہریوں سے اپیل کی تھی کہ وہ روس کے خلاف یوکرین کے دفاع کے لیے بنائی گئی رضاکاروں کی ’انٹرنیشنل بریگیڈ‘ میں شمولیت اختیار کرلیں۔ جنگجوؤں کے لیے یوکرینی صدر ولودو میر زیلنسکی نے حکم نامے کے تحت عارضی طور پر ویزا پابندی اٹھالی ہے ، اس طرح روس کے خلاف یوکرین کے دفاع کی جدوجہد میں عملی شرکت کے خواہشمند افراد باآسانی یوکرین داخل ہوسکیں گے۔

٭…امریکی سینیٹ کی ذیلی کمیٹی میں یوکرین پر روسی حملے کے حوالے سے معاون وزیرخارجہ برائے جنوبی ایشیائی امور ڈونلڈ لو نے اپنے بیان میں کہا کہ امید ہے روس پر شدید تنقید کے بعد بھارت خود کو روس سے دور کرے گا۔ روسی حملے کی مذمت کے اجتماعی ردعمل کیلئے امریکا نے بھارت سے بات کی ہے۔ روسی بینکوں پر پابندیوں کے بعد کسی بھی ملک کیلئے روس سے بڑے ہتھیاروں کا نظام خریدنا بہت مشکل ہوگا۔ بھارت امریکا کا اہم سیکیورٹی پارٹنر ہونے کے ساتھ ساتھ امریکا کا واحد بڑا اتحادی ہے جس نے ماسکو پر عوامی سطح پر تنقید کرنے سے انکار کیا ہے۔

٭…روس اور یوکرین انسانی امداد کے لیے عارضی جنگ بندی پر متفق ہو گئے۔ دونوں کی جانب سے جنگ زدہ علاقہ چھوڑنے والوں کو بھی راستہ دینے پر اتفاق کیا گیا۔یوکرین کے خلاف روسی کارروائی کے آغاز سے اب تک دونوں جانب سے یہ پہلی پیش رفت ہے۔ روس اور یوکرین کے مذاکرات اگلے ہفتے پھر ہوں گے۔ روسی مندوب کا کہنا تھا کہ بات چیت میں کافی پیش رفت ہوئی ہے، شہریوں کے انخلا پر ہم آہنگی پیدا ہو گئی ہے۔

٭…امریکی حکام کے مطابق روسی فوج کیئو کے مرکز سے صرف 25 کلو میٹر دور پہنچ چکی ہے۔ یوکرین کا دوسرا بڑا اور 15 لاکھ آبادی کا شہر خار کیف تباہی سے دو چار ہے جہاں روسی فوج نے محاصرہ کیا ہوا ہے۔ روسی فوج نے ماریوپول کا بھی محاصرہ کیا ہوا ہے جبکہ یوکرین کے شہر خیرسون پر پہلے ہی روس قابض ہو چکا ہے۔

اقوامِ متحدہ کا کہنا ہے کہ جنگ زدہ یوکرین سے 10 لاکھ افراد نقل مکانی کر چکے ہیں، جن میں سے زیادہ تر پولینڈ میں عارضی طور پر پناہ گزین ہیں۔

٭… روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے کہا ہے کہ اگر تیسری جنگ عظیم ہوئی تو اس میں جوہری ہتھیاروں کا استعمال ہوگا اور یہ تباہ کن ہوگی۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر یوکرین نے ایٹمی ہتھیار حاصل کر لیے تو روس کے لیے حقیقی خطرہ پیدا ہو جائے گا۔

٭…روس سے جنگ میں شدت آنے کے خدشے کے باعث یوکرین نے یورپی یونین میں شمولیت کی باضابطہ درخواست کردی۔ ادھر یورپی یونین کے ایک سینئر ترجمان کا کہنا ہے کہ مارچ میں ہونے والی غیر رسمی سربراہی اجلاس میں یورپی یونین کے رہنما یوکرین کی رکنیت کے امکان پر تبادلہ خیال کر سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ یہ مسئلہ روس کے ساتھ تنازع کے خاتمے پر بات چیت میں یوکرین کے لیے اہم ہے۔ تاہم یورپی یونین کے ترجمان نے کہا کہ یوکرین کے یورپی بلاک میں شامل ہونے کے حوالے سے اب تک کوئی عمل شروع نہیں ہوا۔

٭…روس کے صدر ولادیمیر پیوٹن نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلیفونک رابطہ کیا جس کے دوران دو طرفہ تعلقات، باہمی دلچسپی کے امور اور یوکرین کے مسئلے پر بات چیت ہوئی۔ سعودی ولی عہد نے یوکرین کے مسئلے کے حل کے لیے مذاکرات پر زور دیا۔ سعودی عرب نے روس یوکرین تنازع پر ثالثی کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے جبکہ یوکرین کے بحران کے توانائی کی منڈیوں پر اثرات پر بھی تبادلۂ خیال کیا گیا۔

سعودی ولی عہد نے تیل کی مارکیٹ میں توازن کے لیے اوپیک پلس کے کردار پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اوپیک پلس معاہدے کو برقرار رکھنا ضروری ہے۔ سعودی ولی عہد نے تیل کی مارکیٹ میں استحکام برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔

٭…روسی حکومت کی خلائی ایجنسی نے اپنے راکٹ پر بھارت کے جھنڈے کو برقرار رکھتے ہوئے امریکا اور جاپان سمیت کئی ممالک کے جھنڈوں کو ہٹا دیا۔ روسی حکومت کی خلائی ایجنسی کے ڈائریکٹر نے ٹوئٹر پر ایک ویڈیو شیئر کی جس میں دکھایا گیا کہ اسپیس پورٹ پر روسی کارکن امریکا اور جاپان کے پرچم خلائی راکٹ سے مٹا رہے ہیں جبکہ بھارت کا پرچم راکٹ پر موجود ہے۔ ڈائریکٹر نے ٹوئٹر پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ہم نے فیصلہ کیا کہ کچھ ممالک کے جھنڈوں کے بغیر، ہمارا راکٹ زیادہ خوبصورت نظر آئے گا۔ خلائی ایجنسی Roscosmos کی طرف سے یہ علامتی اقدام ظاہر کرتا ہے کہ روس اور ان ممالک کے درمیان تعلقات خراب ہوگئے ہیں۔

٭…امریکی کمپنی ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے بانی ایلون مسک نے یوکرینی شہریوں کے لیے وارننگ جاری کرتے ہوئے اپنی ٹویٹ میں خدشہ ظاہر کیا ہے کہ یوکرین میں موجود اسٹار لنک کو روس کی جانب سےنقصان پہنچانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔ لکھا کہ اسٹارلنک واحد غیر روسی مواصلاتی نظام ہے جو اب بھی یوکرین کے کچھ حصوں میں کام کر رہا ہے، اس لیے اسے نشانہ بنائے جانے کا بہت زیادہ امکان ہے۔جبکہ ایلون مسک کی ٹوئیٹ پر یوکرین کے وزیر برائےڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن نے جواب دیا کہ ہم اسے اپنی فتح کے بعد بھی یوکرینی عوام کے لیے استعمال کریں گے۔

٭…روس کے یوکرین پر حملے کے بعد ملک چھوڑنے والے یوکرینی شہریوں کو جاپان میں سیاسی پناہ فراہم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے جاپانی وزیراعظم کِشیدا فُومیو نے کہا کہ یوکرین کے ساتھ اپنی یکجہتی کا مظاہرہ کرنے کی غرض سے ہم اُن لوگوں کو قبول کریں گے جو یوکرین سے کسی دوسرے ملک چلے گئے ہوں۔جاپانی وزیر خارجہ ہایاشی یوشی ماسا نے جاپان کیلئے یوکرین کے سفیر کو بتایا کہ فائر بندی کیلئے ٹوکیو جی سیون کے دیگر رکن ملکوں اور وسیع تر بین الاقوامی برادری کے ساتھ ملکر کام کرے گا۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close