خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرمودہ 04؍فروری2022ء

ابنِ ابی قحافہ کی مثال فرشتوں میں میکائیل کی مانند ہے (الحدیث)

آنحضرتﷺ کے عظیم المرتبت خلیفہ ٔراشد صدیقِ اکبرحضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے کمالات اور مناقبِ عالیہ

غزوۂ بنو قریظہ، صلح حدیبیہ، سریہ ابو بکر بطرف بنو فزارہ، سریہ ابو بکر بطرف نجد اور غزوۂ فتح مکہ کا تذکرہ

دیکھو عمر!سنبھل کر رہو، رسولِ خدا کی رکاب پرجو ہاتھ تم نے رکھا ہے اسے ڈھیلا نہ ہونے دینا

کیونکہ خدا کی قَسم! یہ شخص جس کے ہاتھ میں ہم نے اپنا ہاتھ دیا ہے بہرحال سچا ہے (صدیقِ اکبرؓ)

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزفرمودہ 04؍فروری2022ء بمطابق 04؍تبلیغ 1401 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد،ٹلفورڈ (سرے)، یو کے

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔

أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾

اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾

اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

آج کل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر ہو رہا ہے اور بعض غزوات کا بھی ذکر ہوا تھا۔ غزوۂ بنو قریظہ ایک غزوہ تھا۔و اقدی نے غزوۂ بنو قریظہ میں شامل افراد کے نام درج کیے ہیں جس کے مطابق قبیلہ بنو تیم میں سے حضرت ابوبکر صدیقؓ اور حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ بھی غزوۂ بنو قریظہ میں شامل ہوئے تھے۔

(کتاب المغازی للواقدی جلد دوم صفحہ 4،غزوۃ بنی قریظۃ، دارالکتب العلمیۃ بیروت 2013ء)

عبدالرحمٰن بن غنمؓ روایت کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بنو قریظہ کی طرف روانہ ہوئے تو حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ نے آپؐ کی خدمت میں عرض کیا یا رسول اللہؐ! لوگ اگر آپؐ کو دنیاوی زینت والے لباس میں دیکھیں گے تو ان میں اسلام قبول کرنے کی خواہش زیادہ ہو گی۔ پس آپؐ وہ حلّہ زیب تن فرمائیں جو حضرت سعد بن عبادہؓ نے آپؐ کی خدمت میں پیش کیا تھا۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے پہنیں تا کہ مشرکین آپؐ پر خوبصورت لباس دیکھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا مَیں ایسا کروں گا۔ اللہ کی قسم!

اگر تم دونوں میرے لیے کسی ایک امر پر متفق ہو جاؤ

تومیں تمہارے مشورے کے خلاف نہیں کرتا

اور میرے رب نے میرے لیے تمہاری مثال ایسی ہی بیان کی ہے جیسا کہ اس نے ملائک میں سے جبرائیل اور میکائیل کی مثال بیان کی ہے۔ جہاں تک ابنِ خطاب ہیں تو ان کی مثال فرشتوں میں سے جبرائیل کی سی ہے۔ اللہ نے ہر امّت کو جبرائیل کے ذریعہ ہی ہلاک کیا ہے اور ان کی مثال انبیاء میں سے حضرت نوح کی سی ہے جب انہوں نے کہا رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْاَرْضِ مِنَ الْكٰفِرِيْنَ دَيَّارًا (نوح:27) اے میرے رب! کافروں میں سے کسی کو زمین پر بستا ہوا نہ رہنے دے۔ اور

ابنِ ابی قحافہ کی مثال فرشتوں میں میکائیل کی مانند ہے

یعنی حضرت ابوبکرؓ کی مثال۔ جب وہ مغفرت طلب کرتا ہے تو ان لوگوں کے لیے جو زمین میں ہیں اور انبیاء میں اس کی مثال حضرت ابراہیم ؑکی مانند ہے جب انہوں نے کہا فَمَنْ تَبِعَنِيْ فَاِنَّهٗ مِنِّيْ وَ مَنْ عَصَانِيْ فَاِنَّكَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ (ابراہیم: 37)پس جس نے میری پیروی کی تو وہ یقینا ًمجھ سے ہے اور جس نے میری نافرمانی کی تو یقینا ًتُو بہت بخشنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ آپؐ نے فرمایا اگر تم دونوں میرے لیے کسی ایک امر پر متفق ہو جاؤ تو میں مشورہ میں تم دونوں کے خلاف نہیں کروں گا۔ لیکن تم دونوں کی حالت مشورے میں کئی طرح کی ہے جیسے جبرائیل اور میکائیل اور نوح اور ابراہیم علیہ السلام کی مثال ہے۔

(کنزالعمال جلد 7 صفحہ 10کتاب الفضائل، فضائل الصحابہ روایت نمبر 36132 دارالکتب العلمیۃ 2004ء)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب

بنو قریظہ کا محاصرہ

کیا ہوا تھا تو اس حوالے سے ایک روایت میں مذکور ہے۔ عائشہ بنت سعد نے اپنے والد سے بیان کیا۔ وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا۔ اے سعد ! آگے بڑھو اور ان لوگوں پر تیر چلاؤ۔ میں اس حد تک آگے بڑھا کہ میرا تیر اُن تک پہنچ جائے اور میرے پاس پچاس سے زائد تیر تھے جو ہم نے چند لمحوں میں چلائے گویا ہمارے تیر ٹڈی دَل کی طرح تھے۔ پس وہ لوگ اندر گھس گئے اور ان میں سے کوئی بھی جھانک کر باہر نہ دیکھ رہا تھا۔ ہم اپنے تیروں کے متعلق ڈرنے لگے کہ کہیں وہ سارے ہی ختم نہ ہو جائیں۔ پس ہم ان میں سے بعض تیر چلاتے اور بعض کو اپنے پاس محفوظ رکھتے۔

حضرت کعب بن عَمْرو مَاْزِنِیؓ بھی تیر چلانے والوں میں سے تھے۔ وہ کہتے ہیں کہ مَیں نے اس روز جتنے تیر میرے ترکش میں تھے وہ سارے چلائے یہاں تک کہ جب رات کا کچھ حصہ گزر گیا تو ہم نے ان لوگوں پر تیر چلانا بند کر دیے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم تیر اندازی کر چکے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھوڑے پر سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسلح تھے اور گھڑ سوار آپؐ کے ارد گرد تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ارشاد فرمایا تو ہم اپنے اپنے ٹھکانوں کی طرف لوٹ آئے اور ہم نے رات گزاری۔ اور ہمارا کھانا وہ کھجوریں تھیں جو حضرت سعد بن عُبادہؓ نے بھیجی تھیں اور وہ کھجوریں کافی زیادہ تھیں۔ ہم نے رات ان کھجوروںمیں سے کھاتے ہوئے گزاری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم، حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کو دیکھا گیا کہ وہ بھی کھجوریں کھا رہے تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے کہ کھجور کیا ہی عمدہ کھانا ہے۔

(کتاب المغازی للواقدی جلد دوم صفحہ 6،غزوۃ بنی قریظۃ، دارالکتب العلمیۃ بیروت 2013ء)

حضرت سعد بن معاذؓ نے جب بنو قریظہ کے متعلق فیصلہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعریف کی اور فرمایا کہ تم نے اللہ کے حکم کے مطابق فیصلہ کیا ہے۔ اس پر حضرت سعدؓ نے دعا کی کہ اے اللہ! اگر تُو نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی قریش کے ساتھ کوئی اَور جنگ مقدر کر رکھی ہے تو مجھے اس کے لیے زندہ رکھ اور اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان جنگ کا خاتمہ کر دیا ہے تو مجھے وفات دے دے۔ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ ان کا زخم کھل گیا حالانکہ آپؓ تندرست ہو چکے تھے اور اس زخم کا معمولی نشان باقی رہ گیا تھا اور وہ اپنے خیمے میں واپس آ گئے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے لگوایا تھا۔ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ ان کے پاس تشریف لائے اور حضرت عائشہ ؓ فرماتی ہیں کہ اس کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے کہ مَیں حضرت عمرؓ کے رونے کی آواز کو حضرت ابوبکرؓ کے رونے کی آواز سے الگ پہچان رہی تھی جبکہ مَیں اپنے حجرے میں تھی۔ یعنی اس وقت جب حضرت سعدؓ کی نزع کی کیفیت طاری ہوئی، تو یہ دونوںرو رہے تھے۔ میں اپنے حجرے میں تھی اور وہ ایسے ہی تھے جیسے کہ اللہ عز وجل نے فرمایا ہے رُحَمَآءُ بَیْنَہُمْ (الفتح:30) یعنی آپس میں ایک دوسرے سے بےحد محبت کرنے والے ہیں۔

(ماخوذ از مسند احمد بن حنبل جلد 8صفحہ 256تا259 مسند عائشہ روایت 25610۔ عالم الکتب 1998ء)

صلح حدیبیہ

کے حوالے سے لکھا ہے جیسا کہ گذشتہ خطبات میں ذکر ہو چکا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک خواب دیکھی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کے ساتھ بیت اللہ کا طواف کر رہے ہیں۔ اس خواب کی بنا پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم چودہ سو صحابہ کی جمعیت کے ساتھ ذوالقعدہ چھ ہجری کے شروع میں پیر کے دن بوقت صبح مدینہ سے عمرے کی ادائیگی کے لیے روانہ ہوئے۔

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین صفحہ 749-750)

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوا کہ کفارِ مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ میں داخل ہونے سے روکنے کی تیاری کر لی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے مشورہ طلب کیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے مشورہ دیتے ہوئے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ؐ! ہم تو محض عمرے کے لیے آئے ہیں ہم کسی سے لڑنے نہیں آئے۔ میری رائے یہ ہے کہ ہم اپنی منزل کی طرف جائیں۔ اگر کوئی ہمیں بیت اللہ سے روکنے کی کوشش کرے گا تو ہم اس سے لڑائی کریں گے۔

(ماخوذ از سبل الھدیٰ والرشادجلد5 صفحہ37 دار الکتب العلمیۃ بیروت1993ء)

صلح حدیبیہ کے موقع پر جب قریش کی طرف سے باہم گفت و شنید کے لیے وفود کا سلسلہ شروع ہوا تو عُرْوَہآپؐ کے پاس آئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے گفتگو کرنے لگے۔ عروہ نے کہا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )! بتاؤ تو سہی اگر تم نے اپنی قوم کو بالکل نابود کر دیا تو کیا تم نے عربوں میں سے کسی عرب کی نسبت سنا ہے جس نے تم سے پہلے اپنے ہی لوگوں کو تباہ کر دیا ہو؟ اور اگر دوسری بات ہو یعنی قریش غالب ہوئے تو اللہ کی قَسم! میں تمہارے ساتھیوں کے چہروں کو دیکھ رہا ہوں جو اِدھر اُدھر سے اکٹھے ہو گئے ہیں وہ بھاگ جائیں گے اور تمہیں چھوڑ دیں گے۔ یہ سن کر حضرت ابوبکرؓ نے عُروہ بن مسعود سے نہایت سخت الفاظ میں کہا کہ جاؤ جاؤ جا کر اپنے بت لات کو چومتے پھرو یعنی اس کی پوجا کرو۔ اس پر عروہ نے پوچھا یہ کون ہے؟ لوگوں نے کہا ابوبکرؓ۔ عُروہ نے کہا دیکھو اس ذات کی قَسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے کہ اگر تمہارا مجھ پر ایک احسان نہ ہوتا جس کا مَیں نے ابھی تک تمہیں بدلہ نہیں دیا تو میں اس کا تمہیں جواب دیتا۔ حضرت ابوبکرؓ کا احسان یہ تھا کہ ایک معاملے میں عُروہ پر دیت جب واجب ہوئی تو حضرت ابوبکرؓ نے دس گابھن اونٹنیوں کے ساتھ اس کی مدد کی تھی۔بہرحال عُروہ نے یہ کہا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے باتیں شروع کر دیں۔

صلح حدیبیہ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قریش کامعاہدہ ہو رہا تھا۔ حضرت عمر بن خطابؓ کہتے تھے کہ مَیں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا کیا آپ سچ مچ اللہ کے نبی نہیں ہیں؟ آپؐ نے فرمایا کیوں نہیں۔ میں نے کہا کیا ہم حق پر نہیں ہیں اور ہمارا دشمن باطل پر؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں۔ میں نے عرض کیا تو پھر ہم اپنے دین سے متعلق ذلت آمیز شرطیں کیوں مانیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں اللہ کا رسول ہوں اور میں اس کی نافرمانی نہیں کروں گا۔ وہ میری مدد کرے گا۔ یعنی اگر میں شرطیں مان رہا ہوں تو یہ اللہ تعالیٰ کے حکم کی نافرمانی نہیں ہے۔ فرمایا کہ وہ میری مدد کرے گا۔ میں نے کہا یعنی حضرت عمرؓ نے کہا۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے نہیں کہتے تھے کہ ہم عنقریب بیت اللہ میں پہنچیں گے اور اس کا طواف کریں گے؟ آپؐ نے فرمایا: بےشک میں نے کہا تھا اور کیا میں نے تمہیں یہ بتایا تھا کہ ہم بیت اللہ اسی سال پہنچیں گے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا۔ میں نے یہ تو نہیں کہا تھاکہ ہم اسی سال بیت اللہ پہنچیں گے۔ حضرت عمرؓ کہتے تھے۔ میں نے کہا نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو پھر بیت اللہ ضرور پہنچو گے اور اس کا طواف بھی کرو گے۔ حضرت عمرؓ کہتے تھے یہ سن کر میں ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس آیا اور میں نے کہا۔ ابوبکرؓ! کیا حقیقت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے نبی نہیں ہیں؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ میں نے کہا کیا ہم حق پر نہیں ہیں اور ہمارا دشمن باطل پر؟ انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ میں نے کہا ہم اپنے دین سے متعلق ذلت آمیز شرط کیوں قبول کریں؟ اس وقت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے کہا اے مردِ خدا! بےشک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور رسول اپنے رب کی نافرمانی نہیں کیا کرتا اور اللہ ضرور ان کی مدد کرے گا۔ حضرت ابوبکرؓ نے تقریباً وہی الفاظ دہرائے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے تھے۔ پھر حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عمرؓ کو فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے طے فرمودہ معاہدے کو مضبوطی سے تھامے رہو۔ اللہ کی قسم! آپؓ یقیناً حق پر ہیں۔ حضرت عمرؓکہتے ہیں مَیں نے کہا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہم سے نہیں کہتے تھے کہ ہم ضرور بیت اللہ میں پہنچیں گے اور اس کا طواف کریں گے۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا بیشک۔ کیا آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی بتایا تھا کہ تم اسی سال وہاں پہنچو گے؟ حضرت عمرؓکہتے ہیں اس پر میں نے کہا نہیں۔ تو اس پر حضرت ابوبکرؓ نے کہا پھر تم ضرور وہاں پہنچو گے اور اس کا طواف ضرور کرو گے۔ زُہری نے کہا کہ حضرت عمرؓ کہتے تھے کہ مَیں نے اس غلطی کی وجہ سے بطور کفارہ کئی نیک عمل کئے۔(ماخوذ از صحیح بخاری کتاب الشروط بَابُ الشُّرُوطِ فِي الْجِهَادِ وَالمُصَالَحَةِ مَعَ أَهْلِ الحَرْبِ وَكِتَابَةِ الشُّرُوطِ حدیث نمبر2731-2732)(ماخوذ از عمدۃ القاری جلد14صفحہ16 دار احیاء التراث العربی بیروت)یہ بخاری میں سے لیا گیا ہے۔

اسی صلح حدیبیہ کی تفصیلات کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے لکھا ہے کہ عروہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اورآپؐ کے ساتھ گفتگو شروع کی۔ آپؐ نے اس کے سامنے اپنی وہی تقریر دوہرائی جو اس سے قبل آپؐ بُدَیل بن وَرْقَا کے سامنے فرماچکے تھے۔ عُروہ اصولاً آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی رائے کے ساتھ متفق تھا مگر قریش کی سفارت کاحق ادا کرنے اوران کے حق میں زیادہ سے زیادہ شرائط محفوظ کرانے کی غرض سے کہنے لگا۔ اے محمد(صلی اللہ علیہ وسلم)! اگر آپؐ نے اس جنگ میں اپنی قوم کو ملیا میٹ کردیا تو کیاآپؐ نے عربوں میں کسی ایسے آدمی کا نام سنا ہے جس نے آپؐ سے پہلے ایسا ظلم ڈھایا ہو لیکن اگر بات دگرگوں ہوئی یعنی قریش کو غلبہ ہو گیا توخدا کی قسم !مجھے آپؐ کے اردگرد ایسے منہ نظر آرہے ہیں کہ انہیں بھاگتے ہوئے دیر نہیں لگے گی اور یہ سب لوگ آپ کا ساتھ چھوڑ دیں گے۔ حضرت ابوبکرؓ جو اس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی بیٹھے تھے عروہ کے یہ الفاظ سن کر غصہ سے بھر گئے اورفرمانے لگے جاؤ جاؤ اورلات کو، یعنی اُن کا بت جولات ہے، اس کو چومتے پھرو۔ کیا ہم خدا کے رسول کوچھوڑ جائیں گے؟ لات بت جو تھا وہ قبیلہ بنو ثقیف کا ایک مشہور بت تھا۔ حضرت ابوبکرؓکا مطلب یہ تھا کہ تم لوگ بت پرست ہو اور ہم لوگ خدا پرست ہیں تو کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ تم تو بتوں کی خاطر صبر و ثبات دکھاؤ اور ہم خدا پر ایمان لاتے ہوئے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑ کر بھاگ جائیں۔ عروہ نے طیش میں آکر پوچھا یہ کون شخص ہے جو اس طرح میری بات کاٹتا ہے؟ لوگوں نے کہایہ ابوبکرؓہیں۔ ابوبکر کا نام سن کر عروہ کی آنکھیں شرم سے نیچی ہو گئیں۔ کہنے لگا اے ابوبکرؓ! اگر میرے سرپر تمہارا ایک بھاری احسان نہ ہوتا۔ یہاں بھی یہی ذکر کیا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے ایک دفعہ اس کا قرض ادا کر کے اس کی جان چھڑائی تھی۔ تو خدا کی قسم میں تمہیں اس وقت بتاتا کہ ایسی بات کاجو تم نے کہی ہے کس طرح جواب دیتے ہیں۔

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیینؐ صفحہ757،756)

بخاری کے ایک حوالے میں درج ہے کہ صلح حدیبیہ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ قریش کا معاہدہ ہو رہا تھا اور شرائط طے پا چکی تھیں۔ اس وقت حضرت ابوجَندل جو کہ سُہَیل بن عَمرو کے بیٹے تھے اپنی زنجیروں میں لڑکھڑاتے ہوئے آئے۔ سُہَیل بن عَمرو نے جو مکہ کی طرف سے بطور سفیر آئے تھے اس نے ان کو واپس کرنے کا مطالبہ کیا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قریش کو واپس کر دیا۔

(ماخوذ از صحیح بخاری کتاب الشروط بَابُ الشُّرُوطِ فِي الْجِهَادِ وَالمُصَالَحَةِ حدیث نمبر2731-2732)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے اس کی کچھ تفصیل بیان کی ہے اور اس میں اس واقعہ کا بھی ذکر ہے جو حضرت عمرؓ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بحث کرتے ہوئے کیا تھا کہ اگر آپؐ اللہ تعالیٰ کے سچے نبی ہیں تو پھر ہم یوں نیچے لگ کر بات کیوں کریں۔ بہرحال اس کی تفصیل یہ ہے یعنی ابوجندل کے ساتھ زیادتی ہو رہی ہے اس پر حضرت عمرؐ نے یہ بات کی۔

’’مسلمان یہ نظارہ دیکھ رہے تھے‘‘ ابوجندل سے زیادتی کا ’’اورمذہبی غیرت سے ان کی آنکھوں میں خون اتر رہا تھا مگررسول اللہﷺ کے سامنے سہم کر خاموش تھے۔ آخر حضرت عمرؓ سے نہ رہا گیا۔ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب آئے اورکانپتی ہوئی آواز میں فرمایا۔ کیا آپؐ خدا کے برحق رسول نہیں؟ آپؐ نے فرمایا ہاں ہاں ضرور ہوں۔ عمرؓنے کہاکیا ہم حق پرنہیں اورہمارا دشمن باطل پر نہیں؟ آپؐ نے فرمایا ہاں ہاں ضرورایسا ہی ہے۔ عمرؓنے کہا تو پھر ہم اپنے سچے دین کے معاملہ میں یہ ذلت کیوں برداشت کریں؟ آپؐ نے حضرت عمرؓکی حالت کودیکھ کر مختصر الفاظ میں فرمایا۔ دیکھو عمر! میں خدا کا رسول ہوں اور میں خدا کی منشاء کو جانتا ہوں اوراس کے خلاف نہیں چل سکتا اور وہی میرا مددگار ہے مگر حضرت عمرؓکی طبیعت کا تلاطم لحظہ بلحظہ بڑھ رہا تھا۔کہنے لگے کیا آپؐ نے ہم سے یہ نہیں فرمایا تھا کہ ہم بیت اللہ کاطواف کریں گے؟ آپؐ نے فرمایا ہاں میں نے ضرور کہا تھا مگر کیا میں نے یہ بھی کہا تھا کہ یہ طواف ضرور اسی سال ہو گا؟ عمرؓ نے کہانہیں ایسا تو نہیں کہا۔ آپؐ نے فرمایاتو پھر انتظار کرو۔ تم ان شا اللہ ضرور مکہ میں داخل ہو گے اور کعبہ کا طواف کرو گے۔ مگر اس جوش کے عالم میں حضرت عمرؓکی تسلی نہیں ہوئی لیکن چونکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا خاص رعب تھا اس لئے حضرت عمرؓ وہاں سے ہٹ کر حضرت ابوبکرؓ کے پاس آئے اوران کے ساتھ بھی اسی قسم کی جوش کی باتیں کیں۔ اور حضرت ابوبکرؓ نے بھی اسی قسم کے جواب دئے مگر ساتھ ہی حضرت ابوبکرؓ نے نصیحت کے رنگ میں فرمایا

دیکھو عمر سنبھل کر رہو۔ رسولِ خدا کی رکاب پرجو ہاتھ تم نے رکھا ہے اسے ڈھیلا نہ ہونے دینا کیونکہ خدا کی قَسم! یہ شخص جس کے ہاتھ میں ہم نے اپنا ہاتھ دیا ہے بہرحال سچا ہے۔

حضرت عمرؓکہتے ہیں کہ اس وقت میں اپنے جوش میں یہ ساری باتیں کہہ توگیا مگر بعد میں مجھے سخت ندامت ہوئی اورمیں توبہ کے رنگ میں اس کمزوری کے اثر کودھونے کے لئے بہت سے نفلی اعمال بجا لایا۔ یعنی صدقے کئے۔ روزے رکھے۔ نفلی نمازیں پڑھیں اورغلام آزاد کئے تاکہ میری اس کمزوری کا داغ دھل جائے۔‘‘

(سیرت خاتم النبیینؐ صفحہ767-768)

حضرت مصلح موعودؓ صلح حدیبیہ کے واقعات بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’رسول کریم صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم جب خانہ کعبہ کے طواف کے لئے تشریف لے گئے توکفار مکہ نے خبر پاکر اپنے ایک سردار کو آپؐ کی طرف روانہ کیا کہ وہ جا کر کہے کہ اس سال آپؐ طواف کے لئے نہ آئیں۔ وہ سردار آپ کے پاس پہنچا اور بات چیت کرنے لگا۔ بات کرتے وقت اس نے آپ کی ریشِ مبارک کو ہاتھ لگایا کہ آپ اس دفعہ طواف نہ کریں اور کسی اگلے سال پرملتوی کر دیں۔‘‘ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ’’ایشیاء کے لوگوں میں دستور ہے کہ جب وہ کسی سے بات منوانا چاہتے ہوں تو منّت کے طور پر دوسرے کی داڑھی کو ہاتھ لگاتے ہیں یا اپنی داڑھی کو ہاتھ لگا کر کہتے ہیں کہ دیکھو! میں بزرگ ہوں اور قوم کاسردار ہوں میری بات مان جاؤ۔ چنانچہ اس سردار نے بھی منّت کے طور پر آپ کی داڑھی کو ہاتھ لگایا۔ یہ دیکھ کر ایک صحابی آگے بڑھے اور اپنی تلوار کاہتھا مار کر سردار سے کہا اپنے ناپاک ہاتھ پیچھے ہٹاؤ۔ سردار نے تلوار کا ہتھا مارنے والے کو پہچان کر کہا تم وہی ہو جس پر میں نے فلاں موقع پر احسان کیا تھا۔ یہ سن کر وہ صحابی خاموش ہو گئے اور پیچھے ہٹ گئے۔ سردار نے پھر منّت کے طور پر آپ کی داڑھی کو ہاتھ لگایا۔ صحابہؓ کہتے ہیں کہ ہمیں اس سردار کے اس طرح ہاتھ لگانے پر سخت غصہ آرہا تھا مگر اس وقت ہمیں کوئی ایسا شخص نظر نہ آتا تھا جس پر اس سردار کا احسان نہ ہو اور اس وقت ہمارا دل چاہتا تھا کہ کاش! ہم میں سے کوئی ایسا شخص ہوتا جس پر اس سردار کا کوئی احسان نہ ہو۔ اتنے میں ایک شخص ہم میں سے آگے بڑھا جو سر سے پاؤں تک خوداور زِرہ میں لپٹا ہوا تھا اور بڑے جوش کے ساتھ سردار سے مخاطب ہو کر کہنے لگا ہٹا لو اپنا ناپاک ہاتھ۔ یہ حضرت ابوبکرؓ تھے۔‘‘جنہوں نے یہ کہا تھا۔ ’’سردار نے جب ان کو پہچانا تو کہا ہاں میں تمہیں کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ تم پر میرا کوئی احسان نہیں ہے۔‘‘

(ہندوستانی الجھنوں کا آسان ترین حل،انوارالعلوم جلد 18صفحہ560)

ذوالقعدہ چھ ہجری میں صلح حدیبیہ کے موقع پر جب صلح نامہ لکھا گیا تو اس معاہدے کی دو نقلیں تیار کی گئیں اور بطور گواہ کے فریقین کے متعدد معززین نے ان پراپنے دستخط کیے۔ مسلمانوں کی طرف سے دستخط کرنے والوں میں سے حضرت ابوبکر ؓ،حضرت عمر ؓ، حضرت عثمانؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ، حضرت سعد بن ابی وقاصؓ، حضرت ابوعبیدہ بن جراحؓ تھے۔ یہ سیرت خاتم النبیین سے ماخوذ ہے۔

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اےؓ صفحہ 769)

حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ

اسلام میں صلح حدیبیہ سے بڑی کوئی اَور فتح نہیں ہے۔

(سبل الھدیٰ والرشادجلد5 صفحہ64 دار الکتب العلمیۃ بیروت1993ء)

سریہ حضرت ابوبکرؓ بطرف بَنُو فَزَارَہ

اس کے ذکر میں لکھا ہے کہ یہ سریہ چھ ہجری میں ہوا ہے۔ بنو فَزَارَہ نَجْداور وادِی الْقُریٰ میں آباد تھے۔

(فرہنگ سیرت صفحہ64 زوار اکیڈیمی کراچی 2003ء)

طبقات الکبریٰ میں اور سیرت ابن ہشام میں لکھا ہے کہ یہ سریہ حضرت زید بن حارثہ ؓکی کمان میں بھیجا گیا تھا۔

(ماخوذ از الطبقات الکبریٰ جزء 2 صفحہ 69 دار الکتب العلمیۃ بیروت2017ء)

(ماخوذ از السیرة النبویہ لابن ہشام صفحہ875 دار الکتب العلمیۃ بیروت2001ء)

لیکن صحیح مسلم اور سنن ابی داؤد کی حدیث سے پتہ چلتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرؓ کو اس سریہ کا امیر مقرر فرمایا تھا۔ چنانچہ صحیح مسلم کی روایت میں ہے کہ اِیَاس بن سَلَمہ بیان کرتے ہیں کہ میرے پاس میرے والد نے بیان کیا وہ کہتے ہیں کہ ہم نے فَزَارَہ قبیلہ سے جنگ کی اور ہمارے امیر حضرت ابوبکرؓ تھے۔ آپؓ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہم پر امیر بنایا تھا۔

(صحیح مسلم کتاب الجھاد و السیر باب التنفیل و فداء المسلمین بالاساری حدیث 4573)

(سنن ابی داؤد کتاب الجہاد باب الرخصۃ فی المدرکین یفرق بینھم حدیث 2697)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے بھی اس سریہ کا ذکر کرتے ہوئے یہ بیان فرمایا ہے کہ ’’آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہؓ کاایک دستہ حضرت ابوبکرؓ کی کمان میں بنوفَزَارَہ کی طرف روانہ فرمایا۔ یہ قبیلہ اس وقت مسلمانوں کے خلاف برسرپیکار تھا اوراس دستہ میںسَلَمَہ بن اَکْوَعْ بھی شامل ہوئے جو مشہور تیرانداز اور دوڑنے میں خاص مہارت رکھتے تھے۔سَلَمَہ بن اَکْوَع بیان کرتے ہیں کہ ہم صبح کی نماز کے قریب اس قبیلہ کی قرارگاہ کے پاس پہنچے اورجب ہم نماز سے فارغ ہوئے تو حضرت ابوبکرؓ نے ہمیں حملہ کا حکم دیا۔ ہم قبیلہ فَزَارہ سے لڑتے ہوئے ان کے چشمہ تک جاپہنچے اورمشرکین کے کئی آدمی مارے گئے جس کے بعد وہ میدان چھوڑ کر بھاگ نکلے اور ہم نے کئی آدمی قید کر لئے۔ سلمہؓ روایت کرتے ہیں کہ بھاگنے والے لوگوں میںسے ایک پارٹی بچوں اور عورتوں کی تھی جو جلدی جلدی ایک قریب کی پہاڑی کی طرف بڑھ رہی تھی۔ میں نے ان کے اور پہاڑی کے درمیان تیر پھینکنے شروع کردئیے۔ جس پر یہ پارٹی خائف ہوکر کھڑی ہوگئی اور ہم نے انہیں قید کر لیا۔ ان قیدیوں میں ایک عمررسیدہ عورت بھی تھی جس نے اپنے اوپر سرخ چمڑے کی چادر اوڑھ رکھی تھی اوراس کی ایک خوبصورت لڑکی بھی اس کے ساتھ تھی۔ میں ان سب کو گھیر کر حضرت ابوبکرؓ کے پاس لے آیا اورآپؓ نے یہ لڑکی میری نگرانی میں دے دی۔ پھر جب ہم مدینہ میں آئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ لڑکی لے لی اوراسے مکہ بھجوا کر اس کے عوض میں بعض ان مسلمان قیدیوں کی رہائی حاصل کی جو اہل مکہ کے پاس محبوس تھے۔‘‘(سیرت خاتم النبیین ﷺ صفحہ 716-717)جن کو اہل مکہ نے قید کیا ہوا تھا۔ اس لڑکی کے عوض ان کو چھڑوایا۔

غزوۂ خیبر

کے بارے میں ذکر ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ماہ محرم سات ہجری میں خیبر کی طرف روانہ ہوئے۔ خیبر ایک نخلستان ہے جو مدینہ منورہ سے ایک سو چوراسی کلو میٹر شمال میں واقع ہے۔ یہاں ایک آتش فشانی چٹانوں کا سلسلہ ہے۔ یہاں یہود کے بہت سے قلعے تھے جن میں سے بعض کے آثار اب بھی باقی ہیں۔ ان قلعوں کو مسلمانوں نے غزوۂ خیبر میں فتح کیا تھا۔ یہ علاقہ نہایت زرخیز اور یہود کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے بعد مدینہ پر سِبَاعْ بن عُرْفُطَہ غِفَارِی کو امیر مقرر کیا۔

(تاریخ الطبری جلد 3صفحہ144ذکر الاحداث الکائنۃ فی سنۃ سبع من الہجرۃ غزوۂ خیبر دار الفکر بیروت 2002ء)

(اٹلس سیرت نبوی از ڈاکٹر شوقی ابو خلیل صفحہ 330 دار السلام)

(فرہنگ سیرت صفحہ 117 زوار اکیڈیمی کراچی 2003ء)

خیبر میں قلعوں کا محاصرہ دس سے زائد راتیں رہا۔

(المواھب اللدنّیہ جلد1 صفحہ517 غزوۂ خیبر المکتب الاسلامی2004ء)

حضرت بُرَیْدَہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دردِ شقیقہ ہو جاتا تھا تو آپؐ ایک یا دو دن باہر تشریف نہ لاتے تھے۔ پس جب آپؐ خیبر میں اترے تو آپؐ کو درد شقیقہ ہو گیا تو آپؐ لوگوں میں تشریف نہ لائے۔ سر درد ہوتی ہے جسے درد شقیقہ، Migraineکہتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق ؓکو کَتِیْبَہ کے قلعوں کی طرف بھیجا۔ پس انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا لیا اور دشمن کے مقابلے میں ڈٹ گئے اور سخت قتال کیا۔ پھر واپس آ گئے اور فتح نہ ہوئی حالانکہ انہوں نے بہت کوشش کی تھی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓکو بھیجا۔ انہوں نے بھی آپؐ کا جھنڈا لیا اور سخت قتال کیا اور یہ پہلے قتال سے بھی زیادہ سخت تھا۔ پھر آپؓ بھی واپس لوٹ آئے لیکن فتح نہ ہوئی۔

( سبل الھدٰی و الرشاد جزء 5صفحہ 124دار الکتب العلمیة بیروت 1993ء)

تاریخ و سیرت کی اکثر کتب میں یہی ملتا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓکو یکے بعد دیگرے امیر لشکر بنایا گیا تھا لیکن ان کے ہاتھ سے قلعہ فتح نہ ہو سکا۔ البتہ ایک کتاب ہے جس کا نام ’’سیدنا صدیقِ اکبر‘‘ہے۔ یہ لاہور سے فروری 2010ء میں شائع ہوئی تھی۔ ہماری تحقیق کرنے والوں نے اس کو دیکھ کر مجھے لکھا ہے۔ اس میں مصنف نے لکھا ہے کہ حضرت ابوبکرؓکے ہاتھ سے وہ قلعہ فتح ہوا تھا لیکن اس نے کوئی حوالہ نہیں دیا۔ بہرحال مصنف لکھتا ہے کہ ایک قلعہ کی فتح کے لیے حضرت ابوبکرؓا میرِ لشکر ہو کر گئے جو آپؓ کے ہاتھ پر فتح ہوا۔ دوسرے قلعہ پر حضرت عمرؓکو مقرر کیا گیا وہ بھی کامیاب ہوئے۔ تیسرے قلعہ کو سر کرنے کی مہم محمد بن مَسْلَمہؓ کے سپرد ہوئی لیکن وہ اس میں کامیاب نہ ہوئے تو حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا صبح میں ایسے شخص کو امیر لشکر بنا کر عَلم دوں گا جو خدا اور اس کے رسول کو بہت دوست رکھتا ہے اور اس کے ہاتھ سے قلعہ فتح ہو گا۔ چنانچہ حضرت علیؓ کو عَلم عنایت ہوا اور قلع قَمُوْصفتح ہوا۔

(سیدناصدیق اکبرؓ صفحہ 49 از الحاج حکیم غلام نبی ایم۔ اے مطبوعہ ادبیات لاہور)

ایک روایت غزوۂ خیبر کے حوالے سے واقدی کی ہے۔کیونکہ لوگ اس کی تاریخ بھی پڑھتے ہیں اس لیے ذکر کر دیتا ہوں لیکن ضروری نہیں کہ یہ سو فیصد صحیح ہو۔ بہرحال وہ لکھتا ہے کہ غزوۂ خیبر کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی حضرت حُبَاب بن مُنْذِرؓ نے آپؐ سے عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یہود کھجور کے درخت کو اپنی جوان اولاد سے بھی زیادہ محبوب رکھتے ہیں۔ آپ ان کے کھجور کے درخت کاٹ دیں۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کھجوروں کے درخت کاٹنے کا ارشاد فرمایا اور مسلمانوں نے تیزی سے کھجوروں کے درخت کاٹنے شروع کیے۔ یہاں تک جو یہ بیان ہے وہ سو فیصد قابل قبول نہیں ہو سکتا لیکن بہرحال یہ اگلا حصہ صحیح لگتا ہے۔ کہتے ہیں کہ اس پر حضرت ابوبکرؓآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور عرض کیا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم! یقیناً اللہ عز وجل نے آپؐ سے خیبر کا وعدہ کیا ہے اور وہ اپنے وعدے کو پورا کرنے والا ہے جو اس نے آپؐ سے کیا ہے۔ آپؐ کھجور کے درخت نہ کاٹیں۔ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا اور کھجوروں کے درخت کاٹنے سے منع کر دیا۔

(کتاب المغازی للواقدی جلد 2 صفحہ 120 باب غزوۂ خیبر دار الکتب العلمیۃ بیروت 2004ء)

جب اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر پر فتح نصیب فرمائی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خیبر کی ایک خاص وادی کَتِیْبَہ کو اپنے قرابت داروں اور اپنے خاندان کی عورتوں اور مسلمانوں کے مردوں اور عورتوں میں تقسیم فرمایا۔ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیگر رشتہ داروں کے علاوہ حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بھی ایک سو وسق غلہ اور کھجوریں عطا فرمائیں۔

(ماخوذ از السیرة النبویة لابن ہشام صفحہ 707 ذکر مقاسم خیبر و اموالھا۔ دار الکتب العلمیة بیروت 2001ء)

ایک وسق ساٹھ صاع کا ہوتا ہے اور ایک صاع اڑھائی کلو کا ہوتا ہے۔(لغات الحدیث جلد4صفحہ487 و جلد 2 صفحہ 648)اس طرح تقریباً تین سو پچہتر من غلہ بنتا ہے جو حضرت ابوبکرؓکے حصہ میں آیا۔

سَرِیَّہحضرت ابوبکر بطرف نَجْد

اس کے بارے میں لکھا ہے کہ نجد ایک نیم صحرائی لیکن شاداب خطہ ہے۔ اس میں متعدد وادیاں اور پہاڑ ہیں۔ یہ جنوب میں یمن، شمال میں صحرائے شام اور عراق تک جا پہنچتا ہے۔ اس کے مغرب میں صحرائے حجاز واقع ہے۔ یہ علاقہ سطح زمین سے بارہ سو میٹر بلند ہے۔ اس بلندی کی بنا پر اس کونَجْدکہتے ہیں۔

(فرہنگ سیرت صفحہ297 زوار اکیڈیمی کراچی 2003ء)

نَجْد میں بَنُو کِلَاب مسلمانوں کے خلاف اکٹھے ہوئے تو حضرت ابوبکرؓکو ان کی سرکوبی کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے وہاں بھیجا۔ یہ سریہ شعبان سات ہجری میں ہوا۔ حضرت سلمہ بن اکوعؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرؓ کو بھیجا اور ہم لوگوں پر ان کو امیر بنایا۔

(سبل الہدیٰ والرشاد سریۃ ابوبکر الی بنی کلاب بنجد جلد 6 صفحہ131 دارالکتب العلمیۃ بیروت 1993)

ابوسفیان صلح حدیبیہ کے بعد جب مکہ آیا

تو اس کے بارے میں لکھا ہے کہ صلح حدیبیہ کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جب بنو بکر نے جو قریش کے حلیف تھے، مسلمانوں کے حلیف قبیلہ بنو خُزَاعہ پر حملہ کیا اور قریش نے ہتھیاروں اور سواریوں سے بنوبکر کی مدد بھی کی اور صلح حدیبیہ کی شرائط کا پاس نہ کیا اور بڑے غرور اور تکبر سے کہہ دیا کہ ہم کسی معاہدے کو نہیں مانتے تو اس وقت ابو سفیان مدینہ میں آیا اور صلح حدیبیہ کے معاہدے کی تجدید چاہی۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی کسی بات کا جواب نہیں دیا۔ پھر وہ ابوبکرؓکے پاس گیا اور ان سے بات کی کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کریں لیکن انہوں نے کہا کہ میں ایسا نہیں کروں گا۔ پھر جیسا کہ حضرت عمرؓکے ذکر میں بیان ہو چکا ہے وہ حضرت عمرؓ کے پاس گیا انہوں نے بھی انکار کر دیا۔ بہرحال وہ ناکام لوٹا۔

(ماخوذاز سیرت ابن ہشام صفحہ734-735دارالکتب العلمیۃ بیروت 2001ء)

(شرح زرقانی جلد 3 صفحہ 379-380 دار الکتب العلمیة بیروت)

غزوۂ فتح مکہ، اس غزوہ کو غَزْوَةُ الْفَتْحِ الاعْظَم بھی کہتے ہیں۔

(شرح زرقانی جلد 3صفحہ 386 دار الکتب العلمیة بیروت)

غزوۂ مکہ رمضان آٹھ ہجری میں ہوا۔ تاریخ طبری میں بیان ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو سفر کی تیاری کا ارشاد فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے گھر والوں سے فرمایا۔ میرا سامان بھی تیار کر دو۔ حضرت ابوبکرؓاپنی بیٹی حضرت عائشہؓ کے پاس داخل ہوئے، ان کے گھر گئے۔ اس وقت حضرت عائشہؓ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامان کو تیار کر رہی تھیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے پوچھا اے میری بیٹی !کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہیں کچھ ارشاد فرمایا ہے کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا سامان تیار کرو؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ حضرت ابوبکرؓ نے پوچھا تمہارا کیا خیال ہے کہ آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ کہاں جانے کا ہے؟ حضرت عائشہؓ نے کہا میں بالکل نہیں جانتی۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو بتا دیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کی طرف جا رہے ہیں اور آپؐ نے انہیں فوراً انتظام کرنے اور تیار ہونے کا ارشاد فرمایا اور دعا کی کہ

اے اللہ! قریش کے جاسوسوں کو اور ان کے مخبروں کو روکے رکھ

یہاں تک کہ ہم ان لوگوں کو ان کے علاقوں میں اچانک پا لیں۔

اس پر لوگوں نے تیاری شروع کر دی۔

(تاریخ الطبری لابی جعفر محمد بن جریر طبری ذکر الخبر عن فتح مکہ جلد 3 صفحہ 166 دار الفکر بیروت 2002ء)

اس واقعہ کی مزید وضاحت کرتے ہوئے سیرت حَلَبِیَّہ میں لکھا ہے کہ جب حضرت ابوبکرؓحضرت عائشہؓ سے استفسار فرما رہے تھے تو اسی وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں تشریف لے آئے۔ حضرت ابوبکرؓ نے آپ سے پوچھا یا رسول اللہ ؐ! کیا آپؐ نے سفر کا ارادہ فرمایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ تو حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا تو پھر مَیں بھی تیاری کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں۔ حضرت ابوبکرؓ نے دریافت کیا یا رسول اللہ ؐ! آپ نے کہاں کا ارادہ فرمایا ہے؟ آپؐ نے فرمایا قریش کے مقابلہ کا مگر ساتھ ہی یہ فرمایا کہ ابوبکر اس بات کو ابھی پوشیدہ ہی رکھنا۔ غرض آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو تیاری کا حکم دیا مگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس سے بے خبر رکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کہاں جانے کا ارادہ ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے آپؐ سے عرض کیا یا رسول اللہ!صلی اللہ علیہ وسلم کیا قریش اور ہمارے درمیان ابھی معاہدے اور صلح کی مدت باقی نہیں ہے۔ آپؐ نے فرمایا ہاں مگر انہوں نے غداری کی ہے اور معاہدے کو توڑ دیا ہے مگر مَیں نے تم سے جو کچھ کہا ہے اس کو راز ہی رکھنا۔

ایک روایت میں یوں بیان ہوا ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے آپؐ سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیا آپؐ نے کسی طرف روانگی کا ارادہ فرمایا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا شاید آپ بنو اَصْفَر یعنی رومیوں کی طرف کوچ کا ارادہ فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا تو کیا پھر نَجْد کی طرف کوچ کا ارادہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا پھر شاید آپ قریش کی طرف روانگی کا ارادہ فرما رہے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہاں۔ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ؐ!مگر آپ کے اور ان کے درمیان تو ابھی صلح نامہ کی مدت باقی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کیا تمہیں معلوم نہیں کہ انہوں نے بنو کعب یعنی بنو خُزاعہ کے ساتھ کیا کیا ہے؟ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیہات اور ارد گرد کے مسلمانوں میں پیغامات بھجوائے اور ان سے ارشاد فرمایا کہ جو شخص اللہ تعالیٰ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے وہ رمضان کے مہینہ میں مدینہ حاضر ہو جائے۔ پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اعلان کے مطابق قبائل عرب مدینہ آنے شروع ہو گئے۔ جو قبائل مدینہ پہنچے ان میں بنو اسلم، بنو غِفَار، بنو مُزَیْنَہ، بنو اشْجَعْاور بنو جُہَیْنَہ تھے۔ اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دعا کی کہ اے اللہ ! قریش کے مخبروں اور جاسوسوں کو روک دے یہاں تک کہ ہم ان لوگوں پر ان کے علاقے میں اچانک جا پہنچیں۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام راستوں پر نگرانی کرنے والی جماعتیں بٹھا دیں تاکہ ہر آنے جانے والے کے متعلق پتا رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ جو کوئی بھی انجان شخص تمہارے پاس سے گزرے تو اسے روک دینا تا کہ قریش کو مسلمانوں کی تیاری کا علم نہ ہو سکے۔

(السیرۃ الحلبیۃ، جلد 3صفحہ 107-108، دار الکتب العلمیۃ، بیروت 2002)

اس واقعہ کی تفصیل بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ بیان فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی ایک بیوی سے کہا کہ میر ا سامانِ سفرباندھنا شروع کرو۔ انہوں نے رختِ سفر باندھنا شروع کیا اور حضرت عائشہؐ سے کہاکہ میرے لیے ستّو وغیر ہ یا دانے وغیرہ بھون کر تیار کرو۔ اِسی قسم کی غذائیں ان دنوں میں ہو تی تھیں۔ چنا نچہ انہوں نے مٹی وغیرہ پھٹک کر دانوں سے نکالنی شروع کی۔ حضرت ابوبکرؓگھر میں بیٹی کے پاس آئے اور انہوں نے یہ تیاری دیکھی تو پوچھا عائشہ یہ کیا ہو رہا ہے؟ کیا رسول اللہ ؐکسی سفر کی تیاری میں ہیں؟ کہنے لگیں سفر کی تیا ری ہی معلوم ہو تی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سفر کی تیا ری کے لیے کہا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے اس پر کہا کوئی لڑائی کا ارادہ ہے؟ انہوں نے کہاکہ مجھے تو کچھ پتہ نہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میر ا سامانِ سفر تیا ر کرو اور ہم ایسا کر رہے ہیں۔ دوتین دن کے بعد آپؐ نے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کو بلایا اور کہا دیکھو تمہیں پتہ ہے خُزَاعہ کے آدمی اس طرح آئے تھے اور پھر بتایا کہ یہ واقعہ ہوا ہے اور مجھے خدا نے اِس واقعہ کی پہلے سے خبر دے دی تھی کہ انہوں نے غداری کی ہے اور ہم نے ان سے معاہدہ کیا ہوا ہے۔ اب یہ ایمان کے خلاف ہے کہ ہم ڈر جائیں اور مکہ والوں کی بہادری اور طاقت دیکھ کر ان کے مقابلہ کے لیے تیار نہ ہو جائیں۔ تو ہم نے وہا ں جا نا ہے تمہاری کیا رائے ہے؟ حضرت ابوبکرؓ نے کہا۔ یارسول اللہؐ! آپ نے تو ان سے معاہدہ کیا ہوا ہے اور پھر وہ آپؐ کی اپنی قوم ہے۔ مطلب یہ تھا کہ کیا آپؐ اپنی قوم کو ما ریں گے؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ہم اپنی قوم کو نہیں ماریں گے۔ معاہدہ شکنوں کو ماریں گے۔ پھر حضرت عمرؓسے پوچھا۔ توانہوں نے کہا۔ بسم اللہ مَیں تو روز دعائیں کیا کرتا تھا کہ یہ دن نصیب ہو اور ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت میں کفار سے لڑیں۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔

ابوبکر بڑا نرم طبیعت کاہے مگر قولِ صادق عمرؓکی زبان سے زیادہ جاری ہوتا ہے۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تیاری کرو۔ پھر آپؐ نے ارد گرد کے قبائل کو اعلان بھجوایا کہ ہر شخص جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتا ہے وہ رمضان کے ابتدائی دنوں میں مدینہ میں جمع ہو جا ئے۔ چنا نچہ لشکر جمع ہونے شروع ہوئے اور کئی ہزار آدمیوں کا لشکر تیا ر ہو گیا اور آپؐ لڑنے کے لیے تشریف لے گئے۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو آپؐ نے فرمایا اے میرے خدا! میں تجھ سے دعا کرتا ہوں کہ تو مکہ والوںکے کانوں کو بہرا کر دے اور ان کے جاسوسوںکو اندھا کر دے۔ نہ وہ ہمیں دیکھیں اور نہ ان کے کانوں تک ہماری کوئی بات پہنچے۔ چنانچہ آپؐ نکلے مدینہ میں سینکڑوں منافق موجود تھے لیکن دس ہزار کا لشکر مدینہ سے نکلتا ہے اور کوئی اطلاع تک مکہ میں نہیں پہنچتی۔(ماخوذ از سیر روحانی(7)، انوارالعلوم جلد 24صفحہ 260تا 262)یہ اللہ تعالیٰ کے کام تھے۔

طبقات ابن سعد میں لکھا ہے کہ مسلمانوں کا قافلہ عشاء کے وقت مَرُّالظَّہْرَانمیں اترا۔ مر الظہران مکہ سے مدینہ کے راستے پر پچیس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ یعنی پچیس کلو میٹر مکہ سے دور تھا۔ آپؐ نے اپنے صحابہ کو حکم دیا تو انہوں نے دس ہزار جگہ آگ روشن کی۔ قریش کو آپؐ کی روانگی کی خبر نہیں پہنچی۔ وہ غمگین تھے کیونکہ انہیں یہ ڈر تھا آپؐ ان سے جنگ کریں گے۔ یہ خیال تھا ان کا۔ خبر تو نہیں پہنچی لیکن یہ خیال تھا کہ قریش کی جنگ اب ضرور ہو گی۔ اس بات کا ان کو غم تھا۔ بہرحال لگتا ہے یہاں غلط لکھا گیا ہے روانگی کی خبر ان کو پہنچ گئی۔ یہاں پہنچنے کے بعد خبر پہنچی ہو گی۔ تو جب یہ قافلہ وہاں ٹھہر گیا اور دس ہزار جگہوں پر آگ روشن ہو گئی تو قریش نے ابوسفیان کو بھیجا کہ وہ حالات معلوم کرے۔ انہوں نے کہا اگر تُو محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ملے تو ہمارے لیے ان سے امان لے لینا۔ ابو سفیان بن حَرْب،حکیم بن حِزَام اور بُدَیل بن وَرْقَاءروانہ ہوئے۔ جب انہوں نے لشکر دیکھا تو سخت پریشان ہو گئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات پہرے پر حضرت عمرؓ کو نگران مقرر فرمایا۔ حضرت عباسؓ نے ابوسفیان کی آواز سنی تو پکار کر کہا کہ ابوحَنْظَلَہ ،یہ ابوسفیان کی کنیت ہے، اس نے کہا لبیک۔ یہ تمہارے پیچھے کیا ہے؟ ابوسفیان نے حضرت عباسؓ سے پوچھا کہ تمہارے پیچھے کیا ہے؟ انہوں نے کہا یہ دس ہزار کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ حضرت عباسؓ نے اسے پناہ دی۔ اسے اور اس کے دونوں ساتھیوں کو آنحضورصلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا۔ تینوں اسلام لے آئے۔

(الطبقات الکبریٰ جلد دوم صفحہ 102-103 غزوہ رسول اللّٰہ عام الفتح دارالکتب العلمیۃ 2017ء)

(اٹلس سیرت نبویؐ صفحہ396 مکتبہ دار السلام)

ابھی اس کا تسلسل آگے جاری ہے۔ ان شاء اللہ آئندہ بیان ہو گا۔

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close