سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح

(’اے ولیم‘)

ظاہری اور باطنی مناروں کا ورثہ

(گزشتہ سے پیوستہ)حضرت اقدس مرزا صاحب کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب نے قادیان میں اس ظاہری اینٹ پتھر کے منارہ کی تعمیر اور تکمیل کر دی۔ لیکن حضرت اقدس کے وہ خدام جنہوں نے اپنا مرکز لاہور بنایا انہوں نے اسی حقیقی منارۃ المسیح کو جس کا آپ کے الہام میں ذکر تھا اور جس کے ساتھ آنحضرتﷺ نے مسیح موعود کو وابستہ کیا تھا بلند کرنا شروع کیا۔ یعنی آپ کی اتباع میں اسلام کی حفاظت و اشاعت کے لئے لٹریچر مہیا کرنا اور اسلام پر جہاں سے بھی حملہ ہو وہیں جا کر سینہ سپر ہونا اور اسلام کی تبلیغ کو دنیا کے چار کھونٹ میں پہنچانا اپنی زندگی کے اغراض و مقاصد میں سے بنا لیا۔ اینٹ پتھر کا منارہ تو ایک حد تک بلند ہو کر رہ گیا۔ مگر یہ منارۂ روحانی جو صحیح معنوں میں منارۃ المسیح ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے روز افزوں ترقی پاتا ہوا بلند تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ انشاء اللہ القدیر یہ اتنا بلند ہو جائے کہ اس کی روشنی تمام دنیا کے لوگوں کے قلوب کو منور کر دے۔ و باللہ التوفیق

ان دونو مناروں کی تفریق میں جناب الٰہی کی طرف سے یہ اشارہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اقدس کے بعد آپ کا جسم اور جسمانی تعلقات تو قادیان میں رہ جائیں گے اور روح اور روحانی فیوض لاہور میں منتقل ہو جائیں گے۔ جیسا کہ آپ کے الہام ’’داغ ہجرت‘‘ سے بھی ظاہر ہوتا ہے۔ ‘‘

(مجدّد اعظم از ڈاکٹر بشارت احمد جلد اوّل صفحہ 688 تا 693)

یہ وہ تفصیلی مضمون ہے جومحترم ڈاکٹربشارت صاحب نے اپنی کتاب میں لکھاہے جس کاماحصل اور خلاصہ گویایہ بنتاہے کہ

i۔ منارہ کی بابت روایات واحادیث ضعیف اور قابل اعتراض ہیں ایسی کہ روایت اور درایت دونوں کے لحاظ سے اس پر اس قدر اعتراضات پڑتے ہیں کہ اس کی مثال ایک چیونٹیوں بھرے کباب کی سی ہے۔ منارہ والی احادیث محض ایک کشفی نظارہ تھا جوکہ تعبیر طلب ہے۔

ii۔ لیکن آپ کو یہ خیال ہوا کہ اگر حدیث مذکورہ بالا اور اس الہام کو اپنے ظاہری رنگ میں بھی پُورا کرنے کی کوشش کی جائے تو بطور تفاول نیک کے ہرج کوئی نہیں۔ پس آپ نے اس منارہ کو جس کا وجود استعارہ اور مجاز کے رنگ میں مسیح موعود کے وجود سے وابستہ تھا ظاہری رنگ میں بھی بطور یادگار کے تعمیر کرنا چاہا۔

iii۔ لیکن حضرت اقدس نے اجازت آ جانے کے باوجود اس کی تعمیر رکوا دی اور پھر اس کی طرف سے آپ کی توجہ بالکل ہٹ گئی۔ یہاں تک کہ آپ اس جہان سے گزر گئے۔ ظاہر ہے کہ اس کی تعمیر رک جانے کی وجہ مالی تنگی تو نہیں ہو سکتی تھی۔

iv۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کسی اشارۂ غیبی یا القائے ربّانی نے آپ کی توجہ کو اس طرف سے ہٹا کر

v۔ اس منارۂ روحانی کی طرف پھیر دیا جو دراصل آپ کے علم کلام اور بے بہا لٹریچر کے ذریعہ تیار ہو رہا تھا۔ پس وہ منارہ جس کا اس الہام میں ذکر ہے وہ اسی علم کلام مبنی بر قرآن و حدیث کا منارۂ روحانی و علمی ہے جو حضرت اقدس مرزا صاحب نے اسلام کی حفاظت اور اس کے غلبہ بر ادیان عالم کے متعلق پیدا کیا۔

vi۔ حضرت اقدس مرزا صاحب کی وفات کے بعد ان کے صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب نے قادیان میں اس ظاہری اینٹ پتھر کے منارہ کی تعمیر اور تکمیل کر دی۔ لیکن حضرت اقدس کے وہ خدام جنہوں نے اپنا مرکز لاہور بنایا انہوں نے اسی حقیقی منارۃ المسیح کو جس کا آپ کے الہام میں ذکر تھا اور جس کے ساتھ آنحضرتﷺ نے مسیح موعود کو وابستہ کیا تھا بلند کرنا شروع کیا۔

vii۔ اینٹ پتھر کا منارہ تو ایک حد تک بلند ہو کر رہ گیا۔ مگر یہ منارۂ روحانی جو صحیح معنوں میں منارۃ المسیح ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے روز افزوں ترقی پاتا ہوا بلند تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔

viii۔ ان دونوں مناروں کی تفریق میں جناب الٰہی کی طرف سے یہ اشارہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ حضرت اقدس کے بعد آپ کا جسم اور جسمانی تعلقات تو قادیان میں رہ جائیں گے اور روح اور روحانی فیوض لاہور میں منتقل ہو جائیں گے۔

حسدوتعصب اتنی بری بلاہوتی ہے یہ اب معلوم ہواکہ جودلوں کے ساتھ ساتھ علم وعقل اور فہم وفراست کوبھی مسخ کردیتی ہے۔ اوراس کی دلیل یہ مذکورہ بالااقتباس ہے۔ یہاں موقع نہیں کہ اس کاتفصیلی جواب دیاجائے۔ نہایت اختصارسے صرف یہ بیان کرتا ہوں کہ اس مذکورہ بالااقتباس پرایک نظرڈالی جائے تو خلاصہ مذکورہ بالانکات کی صورت میں یہی نکلتاہے کہ مینار کی بابت آنحضرتﷺ کی احادیث تونعوذباللہ چیونٹی بھرے کباب کی طرح ہیں اوران سے مراد اینٹ اورپتھرکامنارہرگزنہیں وہ تومحض ایک تفاؤل کے طورپربناناچاہاتھالیکن کسی القائے ربانی اور اشارۂ غیبی سے آپ کوروک دیاگیا۔

خاکسارکے نزدیک اس توجیہہ پرجتنا بھی افسوس کیاجائے وہ کم ہے۔ کیونکہ اگر ان احادیث سے یہی مرادتھی توکتنی حیرت اور تعجب کی بات ہے کہ یہ سارے معارف اور علمی نکات حضرت اقدس علیہ السلام کے ذہن میں نعوذباللہ نہیں آئے۔ ’’جانے نہ جانے گل ہی نہ جانے باغ توساراجانے ہے‘‘!

جبکہ امرواقعہ یہ ہے کہ جومنارکے بارہ میں اس طرح کی رائے رکھتاہے جیسی کہ مصنف مجدداعظم نے بیان کی ہے اس نے منارۃ المسیح کی بابت ان دواشتہاروں پرغورہی نہیں کیاجوحضرت اقدسؑ نے مئی 1900ء اور جولائی 1900ء میں شائع فرمائے ہیں۔ کیونکہ صرف ان دواشتہارات کوہی غورسے پڑھاجائے تو ایک دونہیں درجن بھرامورایسے سامنے آئیں گے کہ جواس بات کی دلیل ہیں کہ منارۃ المسیح کاظاہری رنگ میں بنایاجاناہی مسیح موعود علیہ السلام کامقصودتھااوریہی آنحضرتﷺ کی پیشگوئی تھی اور خداکاحکم بھی یہی تھااور یہ کہ اس ظاہری مینار کی تعمیرپراعتراض کرنے والانادان اور گستاخ ہے۔

دونوں اشتہارات کی عبارتیں پیش کرتاہوں کہ کیسے وہ ان خیالات کی تردیدکرتی ہیں:

1۔ مسجدکی شرقی طرف جیساکہ احادیث رسول اللہﷺ کامنشاء ہے ایک نہایت اونچامنارہ بنایاجائے۔

(خطبہ الہامیہ صفحہ ب، روحانی خزائن جلد16 صفحہ16)

2۔ یہ منارہ مسیح موعودکے احقاق حق اور صَرف ہمت اور اتمام حجت اور اعلاء ملت کی جسمانی طورپرتصویرہے۔

(خطبہ الہامیہ صفحہ ث، روحانی خزائن جلد16 صفحہ20حاشیہ)

3۔ یہ منارہ اس لئے طیارکیاجاتاہے کہ تاحدیث کے موافق مسیح موعودکے زمانہ کی یادگارہو۔

(خطبہ الہامیہ صفحہ ث، روحانی خزائن جلد16صفحہ20)

4۔ یہ منارہ وہ منارہ ہے جس کی ضرورت احادیث نبویہ میں تسلیم کی گئی۔

(خطبہ الہامیہ صفحہ ذ، روحانی خزائن جلد16 صفحہ28)

5۔ جودوست اس منارہ کی تعمیرکے لئے مددکریں گے… وہ ایک بھاری خدمت کوانجام دیں گے۔

(خطبہ الہامیہ صفحہ ذ، روحانی خزائن جلد16صفحہ28)

6۔ کاش ان کے دل سمجھیں کہ ا س کام کی خداکے نزدیک کس قدرعظمت ہے۔

(خطبہ الہامیہ صفحہ ذ، روحانی خزائن جلد16صفحہ28)

7۔ جس خدانے منارہ کاحکم دیاہے۔ اس نے اس بات کی طرف اشارہ کردیاہے کہ اسلام کی مردہ حالت میں اسی جگہ سے زندگی کی روح پھونکی جائے گی اور یہ فتح نمایاں کامیدان ہوگا۔

(خطبہ الہامیہ صفحہ ذ، روحانی خزائن جلد16صفحہ28)

8۔ یہ منارۃ المسیح کیاچیزہے اوراس کی کیاضرورت ہے۔ سوواضح ہوکہ ہمارے سیدو مولیٰ خیرالاصفیاءخاتم الانبیاء سیدنامحمدمصطفیٰﷺ کی یہ پیشگوئی ہے……

(مجموعہ اشتہارات جلد2صفحہ423)

9۔ اس سے قبل مسلمانوں نے دومرتبہ مینارتیارکیاتاکہ رسول اللہﷺ کی پیشگوئی پوری ہوجائے۔ مگرخداتعالیٰ کی قضاوقدرسے……آگ لگ گئی۔ غرض دونوں مرتبہ مسلمانوں کواس قصدمیں ناکامی رہی۔

(مجموعہ اشتہارات جلد2صفحہ423)

10۔ اوراس کاسبب یہی تھاکہ خداتعالیٰ کاارادہ تھاکہ قادیان میں منارہ بنے کیونکہ مسیح موعودکے نزول کی یہی جگہ ہے۔

(مجموعہ اشتہارات جلد2صفحہ423-424)

11۔ سواب یہ تیسری مرتبہ ہے اور خداتعالیٰ نے آپ لوگوں کوموقع دیاہے کہ اس ثواب کوحاصل کریں۔ جوشخص اس ثوا ب کوحاصل کرے گا وہ خداتعالیٰ کےنزدیک ہمارے انصارمیں سے ہوگا۔

(مجموعہ اشتہارات جلد2صفحہ424)

12۔ مینارکی تعمیرپراعتراض کرنے والے نادان مولوی اور گستاخی کی باتیں زبان پرلانے والے پھربھی مسلمان کہلاتے ہیں۔

(مجموعہ اشتہارات جلد2صفحہ423حاشیہ)

13۔ اس منارہ کے بنانے سے اصل غرض یہ ہے کہ تاپیغمبرخداﷺ کی پیشگوئی پوری ہوجائے۔

(مجموعہ اشتہارات جلد2صفحہ423حاشیہ)

14۔ اصل بات یہ ہے کہ یہ مولوی نہیں چاہتے کہ آنحضرتﷺ کی کوئی پیشگوئی پوری ہو۔

(مجموعہ اشتہارات جلد2صفحہ423حاشیہ)

15۔ اگرقادیان کے منارہ پرراضی نہیں توچاہیے کہ دمشق میں جاکرمنارہ بناویں۔

(مجموعہ اشتہارات جلد2صفحہ423حاشیہ)

16۔ ہرایک ان میں سے کم سے کم ایک سوروپیہ اس عظیم الشان کام کے لئے پیش کرے۔

(مجموعہ اشتہارات جلد2صفحہ424)

17۔ مسیح موعودکے لئے دوپیشگوئیاں تھیں ایک کسوف و خسوف جس میں انسانی ہاتھوں کادخل نہ تھااوردوسری منارہ کاطیارہونا جس میں انسانی ہاتھوں کادخل ہے۔

(مجموعہ اشتہارات جلد2صفحہ425)

18۔ ابتداء سے یہ مقدرہے کہ حقیقت مسیحیہ کانزول جونوراور یقین کے رنگ میں دلوں کوخداکی طرف پھیرے گا منارہ کی طیاری کے بعدہوگا۔

(مجموعہ اشتہارات جلد 2صفحہ 425)

19۔ خداکے بعض جسمانی کام اپنے اندرروحانی اسراررکھتےہیں۔

(مجموعہ اشتہارات جلد2صفحہ426)

20۔ پس جیساکہ توریت کے روسے صلیب پرچڑھنے والا لعنت سے حصہ لیتاتھا ایساہی منارۃ المسیح پرصدق اور ایمان سے چڑھنے والا رحمت سے حصہ لے گا۔

(مجموعہ اشتہارات جلد2صفحہ426)

21۔ اسی زمانہ میں جبکہ منارہ طیارہوجائے گا مسیحی برکات کازوروشورسے ظہورو بروزہوگا۔

(مجموعہ اشتہارات جلد2صفحہ426)

22۔ لوگ اس عظیم الشان سعادت سے حصہ لیں گے …

(مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ426)

(باقی آئندہ)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button