پرسیکیوشن رپورٹس

اسلامی جمہوریہ پاکستان میں احمدیوں پر ہونے والے دردناک مظالم کی الَم انگیز داستان

(مرتبہ: مطہر احمد طاہر۔ جرمنی)

ستمبر2020ء میں سامنےآنے والے چند تکلیف دہ واقعات سے انتخاب

پولیس نے ملّاں کے دباؤ کے سامنے سر جھکا دیا اور …من گھڑت مقدمہ درج کیا جس کے تحت سزائے موت تک دی جاسکتی ہے

احمدیوں کا قبرستان نفرت کے نشانے پر

161مراد ضلع بہاولپور(ستمبر2020ء):2007ء تک یہاں احمدیوں اور غیر احمدیوں کا مشترکہ قبرستان موجود تھا۔ لیکن ملّاں کی شر انگیزی کے بعد احمدیوں نے اپنا علیحدہ قبرستان بنا لیا جس کے لیے جگہ ایک احمدی مقبول احمد صاحب نے ہدیہ کی تھی۔

چند رو ز قبل مخالفین نے پولیس کو شکایت درج کرائی کہ احمدیوں نے اپنے قبروں کی تختیوں پر قرآنی آیات درج کی ہیں جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی ہے۔ لہٰذا ان کو ختم کیا جائے۔اس شکایت کے بعد تھانہ صدر حاصل پور کے SHOاور مقامی پولیس کے انسپکٹر صاحب نے جگہ کا دورہ کیا۔ پولیس نے اس علاقے کے غیر احمدی احباب سے تو بات کی لیکن دوسرے فریق یعنی احمدیوں سے کسی قسم کی کوئی ملاقات نہ کی۔

اس واقعہ کے بعد احمدیوں میں مسلسل خوف و ہراس پایا جاتا ہے کیونکہ پہلے ہی احمدیوں کی قبروں کی بے حرمتی کےواقعات رونما ہوچکے ہیں۔ یاد رہے کہ اس سال میں تین ایسے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں جن میں پولیس نے سو سے زائد احمدی مرحومین کی قبور کی تختیاں توڑ دی تھیں۔

احمدی کی قبرستان میںتدفین منع کر دی گئی

ضلع شیخوپورہ (18؍ستمبر 2020ء): رانسی سے تعلق رکھنے والے حاجی محمد صدیق صاحب نے تحقیق کے بعد دو سال قبل احمدیت قبول کرنے کی توفیق پائی۔ان کا خاندان چونکہ مذہباََ اہل حدیث ہے ، سو ان کو اپنے اہل خانہ کی طرف سے شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

ایک ماہ قبل محمد صدیق صاحب میں جگر کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ ان کی بیماری کے دوران ان کے رشتے داروں نے محمد صدیق صاحب کو احمدیت سے دُور کرنے کی بھرپور کوشش کی، لیکن وہ اپنے ایمان میں ثابت قدم رہے۔

علاوہ ازیں محمد صدیق صاحب نے وصیت کی تھی کہ اگر انہیں گاؤں کے قبرستان میں دفن نہ ہونے دیا گیا تو پھر ان کو اُن کی اپنی مملوکہ زمین میں دفنا دیا جائے۔

18؍ستمبر 2020ء کو محمد صدیق صاحب وفات پاگئے اور مخالفین نے گاؤں کے قبرستان میں آپ کی تدفین کو روک دیا۔ پولیس نے بھی بہت کوشش کی کہ کسی طرح تدفین عمل میں لائی جاسکے لیکن ساری کوششیں بے سود رہیں۔بالآخر محمد صدیق صاحب کو انہیں کی زمین میں سپردِخاک کردیا گیا۔

پولیس شر پسند عناصر کا آلہ کار بن چکی ہے

لیہ (ستمبر 2020ء):جاوید اکبر کلاسرہ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والا ایک صحافی ہے۔اُس نے گاؤں 170، 171، اور 172 TDA میں احمدیہ قبروں کی ویڈیو بنا کر پولیس کے پاس شکایت درج کرائی۔ پولیس سٹیشن پیر جاگی کے SHO نے 170 TDA جماعت احمدیہ کے صدر کو بلوا کر ان سے احمدیوں کی قبور پر سے امن عامہ کو قائم رکھنے کی خاطر عربی عبارات ختم کرنے کو کہا۔

بدقسمتی سےیہ طریقہ کار پولیس کا وتیرہ بن چکا ہے۔پاکستان کا آئین احمدیوں کو مذہبی آزادی اور انسانی حقوق دیتا ہے جبکہ اکثر پولیس والے یا تو اس بات سے بے خبر ہیں یا وہ جاننا چاہتے ہی نہیں اور شر پسند عناصر کے ہاتھ میں آلہ کار بن کر رہ جاتے ہیں۔

چنانچہ پولیس کے اس مطالبے پر احمدیوں نے جواب دیا کہ وہ نہ تو خود یہ عبارات مٹائیں گے نہ مخالفین کو ان کو مٹانے کی اجازت دیں گے۔

دس روز بعد احمدیوں کی سیکیورٹی انچارج سے ملاقات ہوئی جس نے احمدیوں کا موقف سمجھا اور کچھ ہدایات جاری کردیں۔

اس کے بعد احمدیوں کی DPOسے ملاقات ہوئی جنہوں نے اس واقعے سےبظاہر لاعلمی کا اظہار کیا۔ لیکن ڈی پی او صاحب نے احمدیوں کی مسجد کے مناروں کو ختم کرنے کا کہا جس پر احمدیوں نے انہیں بتایا کہ ان مناروں کی تعمیر 1952ء میں مسجد کے ساتھ ہوئی تھی اور یہ کہ احمدی ان کو بالکل بھی نہیں گرائیں گے۔ احمدیوں نے مزید کہا کہ ان کے اردگرد رہنے والے غیر احمدیوں کو ان مناروں سے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ اسی طرح احمدی اپنے ہاتھوں کلمہ بھی نہیں مٹا سکتے کیونکہ ان کا ضمیر اس بات کی اجازت نہیں دیتا ۔ اس بات پر DPO نے میٹنگ ختم کردی۔

کراچی میں احمدیوں کو دھمکیاں

کراچی (ستمبر 2020ء):سعادت احمد ظفر اور ان کے بھائی مبارک احمد ظفرڈرگ کالونی کراچی کے رہائشی ہیں۔ کچھ عرصہ قبل، سنی تحریک کے چند نوجوانوں نے ان کے مالک مکان کے بیٹے کو دھمکایا کہ وہ قادیانیوں سے اپنے گھر خالی کروالیں ورنہ وہ (مراد سنی تحریک والے )خود یہ کام کروالیں گے۔ اس پر سنی تحریک والوں کو کہا گیا کہ وہ اپنے کام سے کام رکھیں۔ اس دوران سخت الفاظ کا تبادلہ بھی ہوا۔

پھر ایک دن مبارک احمد ظفر صاحب کا بیٹا گھر جارہا تھا کہ رستے میں لڑکوں نے اسے کہا کہ ’’ابھی تو تم ہنس رہے ہو، پتہ تو تمہیں اس دن چلے گا جس دن تمہاری چیخیں نکلیں گی۔‘‘ ان واقعات کی اطلاع پولیس کو کر دی گئی۔

11؍ستمبر 2020ء کو ایک مشکوک شخص احمدیہ مسجد مسمی بیت الرحیم آیا ۔ اسی شخص نے اگست 2020ء میں چند احمدی نوجوانوں سے احمدیہ دفتر کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی۔ جب یہ شخص دوبار ہ آیا تو ڈیوٹی پر موجود احمدی خدام نے پولیس کو بلوایا۔ پولیس کے پوچھنے پر اس شخص نے بتایا کہ وہ اپنے ایک رشتہ دار کو ہسپتال لے کر آیا ہے لیکن ہسپتال لے جانے پر وہ کسی رشتہ دار کو شناخت نہ کرسکا۔ اس پر پولیس اس کو تھانے لے گئی جہاں اس نے بتایا کہ وہ دیکھنا چاہتا تھا کہ قادیانی عبادت کس طرح کرتے ہیں۔اس بیان سے پولیس مطمئن نہ ہوئی اور مزید تفتیش کے لیے اسے تھانے میں روک لیا۔

مقدمات اور قید و بند کی صعوبتیں برداشت کرنے والے احمدی!

حق المبین کو جو کہ ایک احمدی ہیں مورخہ 2؍ستمبر 2020ء کو تعزیراتِ پاکستان کی احمدیہ مخالف شق 298-Cکے تحت زیر ایف آئی آر نمبر 2637گرفتار کرلیا گیا۔

عبدالمجید S/o جناب عبدالوحید ساکن شاہین مسلم ٹاؤن، تاج چوک ، پھندو روڈ ، ضلع پشاور ، عمر 20سال، پر عمران علی نامی ایک نابالغ نے توہین مذہب کا الزام لگایا تھا۔ پولیس نے ملّاں کے دباؤ کے سامنے سر جھکا دیا اور عبد المجید کے خلاف تعزیرات پاکستان 1860 کی دفعہ 295-C ایف آئی آر نمبر 648کے تحت من گھڑت مقدمہ درج کیا جس کے تحت سزائے موت تک دی جاسکتی ہے۔ پولیس سٹیشن پھندو، پشاور۔ پولیس نے عبدالمجیدکی پناہ گاہ کا سراغ لگایا ،اور 13؍ستمبر 2020ء کو 03:00بجے چھاپہ مار کر انہیں گرفتار کر لیا۔

9؍مئی 2020ء کو شرافت احمد، اکبر علی اور طاہر نقاش پر تعزیراتِ پاکستان 298-B اور 298-C کے تحت اور 298-C مانگٹانوالہ، ضلع ننکانہ کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا۔2؍اکتوبر 2020ء کو لاہور ہائی کورٹ نے ان کی قبل از گرفتاری ضمانت کی درخواست مسترد کردی۔انہیں کمرہ عدالت میں گرفتار کر کے شیخوپورہ جیل بھیج دیا گیا۔

23؍جولائی 2020ء کو نعیم احمد، نسیم احمد، ڈاکٹر شاہد اقبال ، نصیر احمد قمر ، جناب فضل احمد اور بشریٰ طالب کے خلاف تعزیرات ِپاکستان295-B, 295-A, 298-A, 298-C, 506-B ایف آئی آر نمبر 325کے تحت پولیس سٹیشن راجن پور میں مقدمہ درج کیا گیا۔ ڈاکٹر شاہد اقبال کو 15؍ستمبر 2020ء تک ضمانت مل گئی تھی۔ تاہم جب انہوں نے ضمانت کی تصدیق کے لیے یکم اکتوبر 2020ءکو خود کو لاہور ہائی کورٹ کے ملتان بینچ کے سامنے پیش کیا تو ان کی درخواست مسترد کر دی گئی اور انہیں وہاں پھر گرفتار کر کے راجن پور جیل منتقل کر دیا گیا۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close