عالمی خبریں

خبرنامہ

(اہم عالمی خبروں کا خلاصہ)

٭…افغانستان کی عبوری حکومت کے نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نےکہا ہے کہ عالمی برادری سے افغانستان سے اچھے روابط کے مطالبے پر ہم وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے شکر گزار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم ہر ایک سے اچھے تعلقات چاہتے ہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ ہماری حکومت کو تسلیم کیا جائے اور ہمارے نام بلیک لسٹ سے نکال دیے جائیں جبکہ ہماری قیادت کو بیرون ملک آنے جانے کی مکمل آزادی دی جائے۔

٭…نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے اپنے پہلے خطاب میں اسرائیلی وزیراعظم نفتالی بینیٹ کا کہنا تھا کہ ایران نے جوہری اسلحے کے پروگرام میں تخفیف کے معاملے کی خلاف ورزیوں میں تمام ’سرخ لکیریں‘ عبور کرلی ہیں لیکن اسرائیل ایران کو کبھی ایٹم بم بنانے نہیں دے گا۔

انہوںنے الزام لگایا کہ ایران نے جوہری ہتھیار بنانے کے لیے یورینیم کی افزودگی میں کافی پیش رفت کرلی ہے اور اس کا جوہری ہتھیاروں کا پروگرام نازک موڑ پر ہے۔

٭…بھارتی سیاستدان و سابق کرکٹر نوجوت سنگھ سدھو کانگریس پنجاب کے سربراہ کے عہدے سے مستعفی ہوگئے۔ سدھو رواں برس ہی بھارتی پنجاب کے لیے کانگریس چیف مقرر ہوئے تھے، ان سے قبل سنیل جاکھر پنجاب کانگریس کے سربراہ کے عہدے پر فائز تھے۔بھارتی میڈیا کے مطابق کانگریس پارٹی کے کچھ لوگوں نے بتایا ہے کہ سدھو اس بات سے کافی مایوس ہیں کہ پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ امریندر سنگھ کے مستعفی ہونے کے بعد ان کا نام کیوں تجویز نہیں کیا گیا۔ تاہم یہ امکان ظاہر کیا جارہاہے کہ رواں ماہ نوجوت سنگھ سدھو کو بھارتی پنجاب کا وزیرِ اعلیٰ بنا دیا جائے گا۔

٭…طالبان کے ترجمان و نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد کے ایک جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ عالمی قوانین کے تحت ممالک اپنی ریاستوں کی علاقائی اور فضائی خودمختاری کے واحد مالک ہیں لہٰذا امارت اسلامی افغانستان کی زمین اور فضائی حدود کی سرپرست ہے۔ان کا کہنا تھاکہ امریکی ڈرونز افغانستان کی فضائی حدود پر حملہ کر رہے ہیں اور امریکا نے تمام بین الاقوامی قوانین اور امارات اسلامی سے کیے گئے وعدوں کی خلاف ورزی کی ہے جن کی اصلاح اور روک تھام ہونی چاہیے۔خیال رہے کہ طالبان کے کنٹرول کے بعد 28؍ اگست کو کابل ایئرپورٹ کے قریب ڈرون حملہ ہوا تھا جس میں 7 بچوں سمیت 10 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

٭…امریکی سینیٹ میں افغانستان سے متعلق پیش کیے گئے بل جس میں طالبان کا ساتھ دینے والوں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔امریکی سینیٹر مارکو روبیو نے سینیٹر جم ریش اوردیگر 20 ساتھیوں کے ساتھ مل کر افغانستان کے لیے انسداد دہشت گردی، نگرانی اور احتساب بل پیش کیا۔ری پبلکن سینیٹرز کی جانب سے پیش کیے گئے بل میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ طالبان کا ساتھ دینے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے اور پاکستان سمیت طالبان کو مدد دینے والی ریاستوں اور غیر ریاستی افرادکی نشاندہی کی جائےکہ کن ممالک نےطالبان کاساتھ دیا یا کسی قسم کی مدد فراہم کی۔

٭…جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن نے ملک میں کتے کے گوشت کے استعمال پر پابندی لگانے پر غور شروع کردیا ہے جب کہ یہ پہلا موقع ہے کہ صدر نےکتےکے گوشت پر مکمل پابندی کے امکان کو ظاہر کیاہے۔ جنوبی کورین صدر نے یہ امکان اس وقت ظاہر کیا ہے جب ملک میں لاوارث جانوروں کے تحفظ کے لیے نئے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔

٭… افغانستان میں طالبان کی عبوری حکومت کی وزارت خارجہ کے ترجمان عبد القہار بلخی کی جانب سے جاری بیان میں بین الاقوامی فضائی کمپنیوں سے انٹرنیشنل فلائٹس کی بحالی کی اپیل کرتے ہوئے ایئرلائن کمپنیز کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کروائی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ کابل ایئرپورٹ پر مسائل حل ہوگئے ہیں۔ جبکہ ایئر پورٹ اب ملکی اور بین الاقوامی پروازوں کے لیے مکمل طور فعال ہے۔

٭…برطانیہ میں ٹرک ڈرائیوروں کی کمی کے سبب پیٹرول سٹیشنز پر ایندھن کی رسائی کا عمل متاثر ہوگیا ہے اور پیٹرول کی شدید قلت ہوگئی ہے۔ وزیراعظم بورس جانسن پیٹرول اسٹیشنوں تک پیٹرول کی سپلائی کے لیے فوجیوں کی خدمات حاصل کرنے پر غور کریں گے۔پیٹرول ریٹیل ایسوسی ایشن کےمطابق ان کے 50 سے 90 فیصد آؤٹ لیٹس پر پیٹرول کی قلت ہے۔ برطانوی حکومت نے وقتی طور پر فیول کی سپلائی بہتر بنانے کے لیے پیٹرولیم کمپنیوں کو مسابقتی ایکٹ سے استثنیٰ دے دیا ہے۔ٹرک ڈرائیورز کی کمی کو پورا کرنے کے لیے برطانوی حکومت نے گذشتہ ہفتے تقریباً 10 ہزار سے زائد افراد کو عارضی ویزے جاری کرنے کا بھی اعلان کیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق 2019ء سے 2021ء کے دوران برطانیہ 72 ہزار ٹرک ڈرائیورز سے محروم ہوا جس کی اہم وجہ یوروپین یونین میں سے برطانیہ کا انخلا ہے اور یہ ڈرائیورز یورپی یونین کے رکن ممالک میں رہنا چاہتے ہیں۔

٭… امریکہ کی جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل مارک ملے نے امریکی ایوانِ نمائندگان کی کمیٹی برائے مسلح افواج کے روبرو کہا ہے کہ امریکہ افغانستان میں 20سالہ طویل جنگ ’ہار‘ گیا ہے۔ جنرل مارک ملے نے کہا: ’یہ واضح ہے، یہ ہم سب کے سامنے ہے کہ افغانستان میں جنگ اُن شرائط پر نہیں ختم ہوئی جو ہم چاہتے تھے اور طالبان کابل میں واپس آ گئے ہیں‘۔واضح رہے کہ کانگریس میں امریکہ کی تاریخ کی طویل ترین جنگ کے حوالے سے مختلف عہدیداروں کو طلب کر کے اس جنگ کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔

بدھ کو کمیٹی کی کارروائی کے دوسرے روز جنرل ملے نے افغانستان سے فوجیں نکالنے اور شہریوں کے افراتفری میں انخلا کے بارے میں کہا کہ ’یہ جنگ سٹریٹجک ناکامی تھی۔‘

جنرل ملے نے کہا کہ ’یہ جنگ گذشتہ 20 دنوں میں نہیں اور نہ ہی 20 ماہ میں ہاری گئی ہے۔‘یہ ماضی میں لیے گئے کئی سٹریٹجک فیصلوں کا مجموعی اثر ہے۔جنرل ملے نے امریکی شکست کی وجوہات گنواتے ہوئے تورا بورا میں القاعدہ رہنما اسامہ بن لادن کو پکڑنے میں ناکامی، سنہ 2003ء میں عراق پر حملے جس سے فوجی توجہ افغانستان سے ہٹی، افغانستان سے کچھ سال قبل مشیروں کو واپس بلانے اور ’(طالبان کے) محفوظ ٹھکانے کے طور پر پاکستان سے مؤثر انداز میں پیش نہ آنے‘کا تذکرہ کیا۔

٭…78سال کے امریکی صدر جوبائیڈن کو کورونا ویکسین فائزر کا بوسٹر شاٹ لگادیا گیا۔ امریکی صدر نے بوسٹر شاٹ لیتے ہوئے ٹوئٹر پر تصویر شیئر کی اور کہا کہ جن لوگوں کو کورونا سے زیادہ خطرہ ہے انہیں بوسٹر شاٹ مزید تحفظ فراہم کرے۔ امریکی صدر نے عوام سے اپیل کی کہ بوسٹر شاٹ کے اہل افراد کی جلد ویکسین لگوانے کے لیے حوصلہ افزائی کریں۔

٭…انگلینڈ کرکٹ بورڈ کے چیئرمین ایئن واٹمور نے خواتین اور مردوں کی کرکٹ ٹیموں کا دورۂ پاکستان منسوخ کرنے کے فیصلے پر اپنی خاموشی توڑتے ہوئے پاکستان سے معذرت کی ہے اور آئندہ پاکستان کا طویل دورہ کرنے کی یقین دہانی بھی کروائی ہے۔برطانوی روزنامہ ٹیلی گراف کو دیے گئے انٹرویو میں ان کا کہنا تھا کہ میں ان تمام افراد سے معذرت خواہ ہوں جنہیں اس فیصلے سے تکلیف پہنچی ہے، خاص طور پر پاکستان میں۔بورڈ کی جانب سے کیا گیا فیصلہ انتہائی مشکل تھا اور ہم نے یہ فیصلہ کھلاڑیوں اور سٹاف کی ذہنی صحت اور فلاح و بہبود کو مدِ نظر رکھتے ہوئے کیا ہے۔

خیال رہے کہ اکتوبر میں انگلینڈ کی مردوں کی ٹیم نے پاکستان میں ورلڈ T20سے قبل دو T20میچز کھیلنے تھے جبکہ خواتین کی ٹیم نے دو T20اور تین ون ڈے میچوں کی سیریز بھی کھیلنی تھی۔ تاہم نیوزی لینڈ کی جانب سے دورۂ پاکستان منسوخ کرنے کے کچھ روز بعد ای سی بی نے بھی دورہ منسوخ کر دیا تھا۔

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close