خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 27؍اگست 2021ء

اللہ اپنا حکم نافذ کرنے والا ہے اور اپنے وعدے کو پورا کرنے والا ہے اور ایک قوم کے بعد دوسری قوم کو نمودار کرے گا۔ ……تم اپنی حالت میں کوئی تغیر و تبدل نہ کرنا ورنہ اللہ تمہیں تمہارے علاوہ لوگوں سے بدل دے گا۔ …… مجھے اس وقت امت مسلمہ کی تباہی اور بربادی کا صرف تمہی سے اندیشہ ہے(حضرت عمرفاروقؓ)

آنحضرتﷺ کے عظیم المرتبت خلیفہ ٔراشد فاروقِ اعظم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اوصافِ حمیدہ کا تذکرہ

چین کے شہنشاہ نے مسلمانوں کے حالات و واقعات سننے کے بعد یَزْدَجَرد کو لکھا کہ تمہارے قاصد نے مسلمانوں کی جو صفات بیان کی ہیں میرے خیال میں اگر وہ پہاڑ سے بھی ٹکرا جائیں تو اسے ریزہ ریزہ کر دیں

ہمارا معاملہ ہمیشہ بامِ عروج پر رہے گا اور ہم تمام مصائب سے محفوظ رہیں گے جب تک کہ ہم چوری اور خیانت نہ کریں۔ جب ہم مالِ غنیمت میں خیانت کرنے لگیں گے تو یہ ناپسندیدہ باتیں ہمارے اندر نظر آئیں گی۔ یہ برے کام ہماری اکثریت کو لے ڈوبیں گے۔ (حضرت عثمان بن ابوالعاصؓ)

جنگِ رَے، فتحِ قُوْمِیْس، آذربائیجان، خُرَاسَان، اصطخر، فَسَا اور دارِ ابجرد، کرمان، سَجِسْتَان، مکران اور آرمینیا کی مصالحت کا تذکرہ

ٹرکش انٹرنیٹ ریڈیو کے افتتاح کا اعلان

چار مرحومین مکرم محمد المختار قِبْطَہ صاحب آف مراکش ،مکرم محمود احمد صاحب سابق خادم مسجد اقصیٰ و مسجد مبارک قادیان ،محترمہ سودہ صاحبہ اہلیہ عبدالرحمٰن صاحب آف کیرالہ انڈیااورمحترمہ سعیدہ مجید صاحبہ اہلیہ شیخ عبدالمجید صاحب آف فیصل آبادکا ذکرِ خیر اور نماز ِجنازہ غائب

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 27؍اگست 2021ء بمطابق 27؍ظہور 1400 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)، یوکے


أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے واقعات کا ذکر چل رہا ہے۔ حضرت عمرؓ کے زمانے میں ایک جنگ ہوئی جسے

جنگ رَے

کہتے ہیں۔ رَے ایک مشہور شہر ہے جو پہاڑوں کی سرزمین ہے۔ یہ نیشا پور سے 480میل کے فاصلے پر اور قَزْوِیْن سے 51میل کے فاصلے پرہے۔ رَے کے رہنے والے کو رازی کہتے ہیں۔ مشہور مفسر قرآن حضرت امام فخر الدین رازیؒ رَے کے رہنے والے تھے۔ رَے کا حاکم

سِیَاوَخْش بِن مِہْرَان بِن بَہْرَام شُوْبِیْن

تھا۔ اس نے دُنْبَاوَنْد، طَبَرِسْتَان، قُوْمِسْ اور جُرْجَانْ والوں کو اپنی امداد کے لیے بلایا اور ان کو کہا کہ مسلمان رَے پر حملہ آور ہیں۔ تم ان کے مقابلے کے لیے جمع ہو جاؤ ورنہ پھر الگ الگ تم ان کے سامنے کبھی نہ ٹھہر سکوگے۔ چنانچہ ان علاقوں کی امدادی افواج بھی رَے میں جمع ہو گئیں۔ ابھی یہ مسلمان جو تھے رَے کے راستے میں ہی تھے کہ ایک ایرانی سردار اَبُوالْفَرْخَان زَیْنَبِی مصالحانہ طور پر مسلمانوں سے آملا جس کی وجہ غالباً یہ تھی کہ اس کی رَے کے حاکم سے لگتی تھی۔ لشکر جب رَے پہنچا تو دشمن کی تعداد اور اسلامی لشکر کی تعداد میں کوئی مناسبت نہیں تھی۔ یہ صورت دیکھ کر زَیْنَبِی نے نُعَیْم کو کہا کہ آپ میرے ساتھ کچھ شہسوار بھیجیے مَیں خفیہ راستے سے شہر کے اندر جاتا ہوں، آپ باہر سے حملہ آور ہوں اور شہر فتح ہو جائے گا۔ چنانچہ رات کے وقت نُعَیْم بن مُقَرِّن نے اپنے بھتیجے مُنْذِرْ بِن عَمْروکی سرکردگی میں رسالے کا کچھ حصہ زینبی کے ہمراہ بھیج دیا اور ادھر باہر سے لشکر لے کر خود شہر پر حملہ آور ہوئے۔ جنگ شروع ہو گئی۔ دشمن نے بڑی ثابت قدمی سے حملہ کا جواب دیا مگر جب اپنی پشت سے ان مسلمانوں کے نعروں کی آواز سنی جو زینبی کے ہمراہ شہر کے اندر داخل ہو گئے تھے تو ہمت ہار دی اور شہر پر مسلمانوں کا قبضہ ہو گیا۔ شہر والوں کو تحریراً امان دے دی گئی اور جو امان دی اس کے الفاظ اس طرح ہیں۔ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ یہ وہ تحریر ہے جو نُعَیْم بن مُقَرِّن، زَیْنَبِی کو دیتے ہیں۔ وہ باشندگان رَے اور باہر کے باشندوں کو جو ان کے ساتھ ہیں امان دیتے ہیں اس شرط پر کہ ہر بالغ سالانہ حسب طاقت جزیہ دے اور یہ کہ وہ خیر خواہی کرے۔ راستہ بتائیں ا ور خیانت اور دھوکا بازی نہ کریں اور ایک دن رات مسلمانوں کی میزبانی کریں اور ان کی تعظیم کریں۔ جو مسلمانوں کو گالی دے گا سزا پائے گا اور جو اس پر حملہ کرے گا مستوجب قتل ہو گا۔ بہرحال یہ تحریر ہو کر گواہی ڈالی گئی۔

(مقالہ ’تاریخ اسلام بعہد حضرت عمر رضی اللہ عنہ‘ از مکرم سید میر محمود احمد ناصر صاحب صفحہ170تا172)

(تاریخ طبری جلد 2 صفحہ537 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2012ء)
(معجم البلدان جلد 1 صفحہ 511 جلد 3صفحہ 132 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت)

پھر

فتحِ قُوْمِیْس اور جُرْجَانْ

ہے۔ یہ بائیس ہجری کی ہیں۔ رَے کی فتح کی خوشخبری حضرت عمرؓ کے پاس قاصد لے کر پہنچا تو آپ نے نعیم بن مقرن کو لکھا کہ اپنے بھائی سُوَیْدبن مُقَرِّن کو قُوْمِیْس کی فتح کے لیے بھیج دو۔ یہ شہر رے اور نیشا پور کے درمیان طَبَرِسْتَان کے پہاڑی سلسلہ کے آخری حصہ پر واقع تھا۔ قُوْمِیْس والوں نے کوئی مزاحمت نہ کی اور سُوَیْد نے ان لوگوں کے لیے امان اور صلح کی تحریر لکھ دی۔ اس کے ساتھ ہی جُرْجَان جو طَبَرِسْتَان اور خُرَاسَانکے درمیان ایک بڑا شہر تھا اور طَبَرِسْتَان کے لوگوں نے بھی سُوَیْدکی طرف اپنے لوگ بھیجے اور انہوں نے بھی جزیہ پر صلح کرلی۔ سُوَیْدنے سب علاقے کے لوگوں کے لیے امان اور صلح کی تحریر لکھ کر دے دی۔

(سیرت امیر المومنین عمر بن خطاب از الصلابی صفحہ 432 دارالمعرفہ بیروت 2007ء)

کوئی مذہب کی بات نہیں ہوئی۔ جنہوں نے صلح کی ان کے ساتھ صلح کر لی گئی۔ پھر

فتحِ آذر بائیجان

ہے۔ یہ بھی بائیس ہجری کی ہے۔ حضرت عمرؓ کی طرف سے آذربائیجان کی مہم کا جھنڈا عُتْبَہ بن فَرْقَدْ اور بُکَیر بن عبداللہ کو دیا گیا تھا جو پہلے بیان ہو چکا ہے۔ اور حضرت عمرؓ نے ہدایت کی تھی کہ دونوں الگ الگ اطراف سے حملہ آور ہوں۔ بُکَیر بن عبداللہ لشکر لے کر بڑھے اور جَرْمِیْذَانْ کے قریب رستم کا بھائی اِسْفَنْدیَاذْ بن فَرُّخْزاذ جو وَاجْرُوْذ کے معرکہ میں شکست کھا کر بھاگا تھا مقابلہ کے لیے نکلا۔ یہ بُکَیر کا آذربائیجان میں پہلا معرکہ تھا۔ لڑائی ہوئی۔ دشمن کو شکست ہوئی اور اِسْفَنْد یَاذْ گرفتار ہو گیا۔ اِسْفَنْد یَاذْ نے اسلامی سالار بُکَیر سے پوچھا کہ آپ صلح پسند کرتے ہیں یا جنگ؟ بُکَیر نے جواب دیا کہ صلح ۔ وہ بولا تو پھر آپ مجھے اپنے پاس ہی رکھیں۔ اپنی قید میں لے لیا ہے تو اپنی قید میں رکھو۔ جب تک میں ان لوگوں کا نمائندہ بن کر آپ سے صلح نہ کروں گا یہ لوگ کبھی مصالحت نہیں کریں گے۔ جنگ لڑتے رہیں گے جبکہ ارد گرد کے پہاڑوں میں منتشر ہو جائیں گے یا یہ لوگ قلعوں میں محصور ہو جائیں گے۔ بُکَیر نے اِسْفَنْدیَاذْ کواپنے پاس ہی رکھا۔ آہستہ آہستہ اَور علاقہ ان کے زیر اقتدار آتا چلا گیا۔ عُتبہ بن فَرْقَدْ نے دوسری جانب سے حملہ کیا۔ اسفندیاذ کا بھائی بَہْرَام ان کے راستے میں حائل ہوا مگر لڑائی کے بعد شکست کھا کر بھاگ گیا۔ اسفند یاذ نے جب یہ خبر سنی تو کہنے لگا کہ اب لڑائی کی آگ بجھ گئی اور صلح کا وقت آگیا۔ چنانچہ اس نے صلح کر لی اور آذربائیجان کے باشندوں نے اس کا ساتھ دیا اور یہ صلح نامہ لکھا گیا۔ اس کے الفاظ یہ تھے جو بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے شروع ہوتا ہے۔ یہ تحریرہے جو امیر المومنین عمر بن خطاب کے عامل عُتْبہ بن فَرْقَد آذربائیجان کے باشندوں کو دیتے ہیں۔ آذربائیجان کے میدانی علاقے اور پہاڑی علاقے اور سرحدی اور کناروں کے علاقے کے رہنے والوں اور تمام مذاہب والوں کے لیے یہ تحریر ہے۔ ان سب کو امان ہے اپنے نفوس کے لیے، اپنے اموال کے لیے، اپنے مذاہب کے لیے، اپنی شریعتوں کے لیے اس شرط پر کہ وہ جزیہ ادا کریں اپنی طاقت کے مطابق۔ جو بھی ان کی طاقت ہے اس کے مطابق جزیہ ادا کریں۔ لیکن جزیہ نہ بچے پر ہو گا نہ عورت پر، نہ لمبے بیمار پر جو ایک مستقل بیمار ہے جس کے پاس مال نہیں، نہ اس عابد گوشہ نشین پر جس کے پاس کچھ مال نہیں اور یہ یہاں کے باشندوں کے لیے بھی ہے اور ان کے لیے بھی جو باہر سے آ کر ان کے ساتھ آباد ہو جائیں۔ آئندہ آنے والوں اور وہاں آباد ہونے والوں کے لیے بھی ہے۔ ان کے ذمہ اسلامی لشکر کی ایک دن رات مہمان نوازی ہے اور اس کو راستہ بتانا ہے۔ اگر کسی سے کوئی فوجی خدمت لی جائے گی تو اس سے جزیہ ساقط کر دیا جائے گا۔ جو یہاں قیام کرے اس کے لیے یہ شرائط ہیں اور جو یہاں سے باہر جانا چاہے وہ امن میں ہے حتی کہ اپنے امن کے مقام پر چلا جائے۔ یہ تحریر جُنْدُبْ نے لکھی اور اس کے گواہ ہیں بُکَیربن عبداللہ اور سِمَاکْ بِن خَرَشَہْ۔

(مقالہ ’تاریخ اسلام بعہد حضرت عمر رضی اللہ عنہ‘ از مکرم سید میر محمود احمد ناصر صاحب صفحہ176تا179)

(تاریخ طبری جلد2 صفحہ 539-540 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2012ء)

آرمینیاکی مصالحت

کے بارے میں لکھا ہے کہ آذربائیجان کی فتح کے بعد بُکَیر بن عبداللہ آرمینیا کی طرف بڑھے۔ ان کی امداد کے لیے حضرت عمرؓ نے ایک لشکر سُرَاقَہ بن مالِک بن عَمرو کی سرکردگی میں بھجوایا اور اس مہم میں سپہ سالار اعلیٰ بھی سُرَاقَہ کو مقرر کیا اور ہراول دستوں کی کمان عبدالرحمٰن بن رَبِیْعَہ کو دی۔ ایک بازو کا افسر حُذَیْفَہ بن اُسَیْدغِفَارِی کو بنایا اور یہ حکم دیا کہ جب یہ لشکر بُکیر بن عبداللہ کے لشکر سے جوآرمینیا کی طرف روانہ تھا جا ملے تو دوسرے بازو کی کمان بکیر بن عبداللہ کے سپرد کی جائے۔ یہ لشکر روانہ ہوا اور ہراول دستوں کے افسر عبدالرحمٰن بن رَبِیعہ سرعت سے نقل و حرکت کرتے ہوئے بُکیر بن عبداللہ کے لشکر سے آگے نکل کر بَابْ مقام کے قریب جا پہنچے جہاں شَہْرَبَرَازْ حاکم ِآرمینیا مقیم تھا۔ یہ شخص ایرانی تھا۔ اس نے خط لکھ کر عبدالرحمٰن سے امان حاصل کی اور عبدالرحمٰن کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ ایرانی تھا اور آرمینیوں سے اسے نفرت تھی۔ اس نے عبدالرحمٰن کے پاس صلح کی پیشکش کی اور کہا کہ مجھ سے جزیہ نہ لیا جائے۔ میں حسب ضرورت فوجی امداد دیا کروں گا۔یہاں یہ ایک اَور طرز کا معاہدہ ہو رہا ہے۔ خود آگیا ہے۔ صلح کر لی تو جزیہ نہ لیا جائے۔ میں مدد کرتا ہوں، فوجی مدد کروں گا۔ سراقہ نے یہ تجویز منظور کر لی اور بغیر جنگ کے آرمینیا پر قبضہ ہو گیا۔ حضرت عمرؓ کی خدمت میں جب اس قسم کی صلح کی رپورٹ کی گئی تو نہ صرف یہ کہ آپ نے اسے منظور کر لیا بلکہ بڑی مسرت اور پسندیدگی کا اظہار فرمایا۔ حضرت سُراقَہ نے جو تحریر صلح کی دی وہ یہ تھی کہ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔ یہ وہ تحریر ہے جو امیر المومنین عمر بن خطاب کے گورنر سراقہ بن عمرو نے شَہْرَبَرَازْ اور آرمینیا اور اَرْمَنْ کے باشندوں کو دی ہے وہ انہیں امان دیتے ہیں ان کی جانوں پر، اموال پر اور مذہب پر کہ انہیں کوئی نقصان نہ پہنچایا جائے۔ وہ حملے کی صورت میں فوجی خدمت سرانجام دیں گے اور ہر اہم کام میں جب حاکم مناسب سمجھے مدد دیں گے اور جزیہ ان پر نہیں لگایا جائے گا بلکہ فوجی خدمت جزیہ کے بدلے میں ہو گی۔ مگر جو فوجی خدمت نہ دیں ان پر اہل آذربائیجان کی طرح جزیہ ہے اور راستہ بتانا ہے اور پورے ایک دن کی میزبانی ہے لیکن اگر ان سے فوجی خدمت لی جائے گی تو جزیہ نہ لیا جائے گا۔ اگر فوجی خدمت نہ لی جائے گی تو جزیہ لگایا جائے گا۔ پھر اس کے بھی گواہ ہیں عبدالرحمٰن بن رَبِیعَہ اور سَلْمَان بن رَبِیعہ ، بُکَیر بن عبداللہ۔ یہ تحریر جو ہے مَرْضِیبن مُقَرِّن نے لکھی اور یہ بھی گواہ ہیں۔

اس کے بعد سراقہ نے آرمینیا کے ارد گرد کے پہاڑوں کی طرف افواج بھیجنا شروع کیں۔ چنانچہ بکیر بن عبداللہ، حبیب بن مَسْلَمَہ، حُذَیْفہ بن اُسَید اورسَلْمَان بن رَبِیعہ کی سرکردگی میں ان پہاڑوں کی طرف افواج روانہ ہوئیں۔ بکیر بن عبداللہ کو مُوْقَان بھیجا گیا۔ حبیب کو تَفْلِیْس کی طرف روانہ کیا اور حُذَیفہ بن اُسَید کو لَانْ کے پہاڑوں میں رہنے والوں کے مقابلے کے لیے بھیجا۔ سراقہ کی ان افواج میں نمایاں کامیابی بکیر بن عبداللہ کو ہوئی۔ انہیں مُوْقَان بھیجا گیا تھا۔ انہوں نے موقان کے باشندوں کو امن کی تحریر دے دی اور یہ تحریر یوں تھی جو بسم اللہ الرحمٰن الرحیم سے شروع ہوتی ہے۔ یہ وہ تحریر ہے جو بکیر بن عبداللہ نے قبح کے پہاڑوں میں اہلِ مُوقَان کو دی ہے۔ ان کو امان ہے ان کی جانوں پر، ان کے مالوں پر، ان کے مذہب پر، ان کی شریعتوں پر اس شرط پر کہ وہ جزیہ دیں جو ہر بالغ پر ایک دینار یا اس کی قیمت ہے۔ ہر جگہ یہ جو معاہدے ہو رہے ہیں وہاں مذہب پہ آزادی ہے، شریعت کی آزادی ہے۔ جو الزام لگایا جا تا ہے کہ اسلام نے مذہب تلوار سے پھیلایا،کسی کو نہیں کہا گیا کہ زبردستی اسلام لاؤ۔ اور خیرخواہی کریں اور مسلمانوں کو راستہ دکھائیں اور ایک دن رات کی میزبانی کریں۔ ان کے لیے امان ہو گی جب تک وہ اس عہد نامے پر قائم رہیں اور خیر خواہ رہیں اور ہمارے ذمہ ان سے وفاداری ہے۔ واللّٰہُ الْمُسْتَعَانْ۔ اللہ مددگار ہے لیکن اگر وہ اس عہد کو ترک کر دیں اور کوئی فریب ان سے سرزد ہو تو ان کی امان باقی نہ ہوگی مگر یہ کہ وہ دھوکاکرنے والوں کو حکومت کے سپرد کر دیں ورنہ وہ بھی ان کے شریک سمجھے جائیں گے۔ اس کے بھی گواہ مقرر تھے۔ چار پانچ گواہوں نے دستخط کیے۔

(مقالہ ’تاریخ اسلام بعہد حضرت عمر رضی اللہ عنہ‘ از مکرم سید میر محمود احمد ناصر صاحب صفحہ180تا184)

پھر

فَتحِ خُرَاسَان

ہے جو بائیس ہجری میں ہوئی۔ اس کی تفصیل یوں ہے کہ جنگ جَلُولَاء کے بعد بادشاہِ ایران یَزْدَجَرد رَے پہنچا۔ وہاں کے حاکم آبَانْ جَاذَوَیْہ نے یَزْدَجَرد پر حملہ کر دیا اور یَزْدَجَرد کی مہر پرقبضہ کر کے اپنی مرضی کی دستاویز تیار کر لیں اور پھر وہ انگوٹھی اسے واپس کر دی۔ پھر آبان حضرت سعدؓ کے پاس آیا اور وہ تمام چیزیں واپس کر دیں جو تحریری طور پر لکھی ہوئی تھیں۔ یعنی جو دستاویز تیار کی گئی تھیں وہ انہیں دے دیں۔ یَزْدَجَرد رَے سے اصفہان کی طرف روانہ ہوا۔ آبَان کو یَزْدَجَرد کا وہاں قیام پسند نہ آیا۔ اس لیے یَزْدَجَرد کو کَرْمَان کی طرف روانہ ہونا پڑا۔ مقدس آگ اس کے ساتھ تھی۔ یہ لوگ آگ پرست تھے تو آگ کو ساتھ لیے پھرتے تھے۔ جو ان کی مقدس آگ تھی وہ اس کے ساتھ تھی۔ پھر اس نے خُرَاسَان کا ارادہ کیا اور مَرْو میں آ کر مقیم ہو گیا۔ مقدس آگ کو وہاں روشن کر دیا اور اس کے لیے آتش کدہ تعمیر کروایا اور باغ لگوایا جو مَرْو سے دو فرسخ یعنی چھ میل کے فاصلے پر تھا۔ یہاں آ کر وہ امن و امان سے رہنے لگا۔ غیر مفتوحہ علاقوں کے اہل عجم سے خط و کتابت کی اور راہ و رسم بڑھانے لگا یہاں تک کہ وہ سب اس کے مطیع اور فرمانبردار ہو گئے۔ نیز اس نے مفتوحہ علاقوں کے اہلِ فارِس کو اور ہُرْمُزْان کو بھی ورغلایا۔ چنانچہ اس ورغلانے کے نتیجہ میں انہوں نے مسلمانوں سے اپنے وفا کے بندھن توڑ ڈالے اور بغاوت کر دی۔ نیز اہلِ جِبَال اور اہلِ فِیْرُوزَان نے بھی ان کی دیکھا دیکھی معاہدے توڑ دیے اور بغاوت کر دی۔ جِبَال جو ہے یہ عراق میں ایک معروف علاقے کا نام ہے جو اَصْبَہان سے لے کر زَنْجَان، قَزْوِین، ہَمَذَان، رَے وغیرہ شہروں پر مشتمل ہے۔ فِیْرُوزَان اَصْبَہَان کی ایک بستی کا نام ہے۔ بہرحال ان وجوہات کی بنا پر امیر المومنین حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مسلمانوں کو اجازت دے دی کہ وہ ایران کے علاقوں میں پیش قدمی کر کے اس کے اندر گھس جائیں۔ چنانچہ اہل کوفہ اور اہل بصرہ روانہ ہوئے اور انہوں نے ان کی سرزمین پر پہنچ کر زبردست حملے شروع کر دیے۔ اَحْنَف بن قیس خُرَاسَانکی طرف روانہ ہوئے۔ راستے میں انہوں نے مِہْرجَان قَذَقْ پر قبضہ کر لیا۔ مِہْرجَان قَذَقْ جو ہے یہ حُلْوَان سے لے کر ہَمَذَان تک پہاڑوں کے درمیان کا ایک وسیع علاقہ ہے جو کئی شہروں اور بستیوں پر مشتمل تھا۔ پھر مزید آگے بڑھتے ہوئے اَصْبَہان کی طرف روانہ ہوئے تو اس وقت اہل کوفہ ’’جَیّ‘‘ کا محاصرہ کیے ہوئے تھے۔ جَیّ بھی اَصْبَہان کے نواح میں ایک قدیم شہر کا نام تھا جو آج کل تقریباً ویران ہے۔ عجم میں اس کو شَہْرَسْتَان کہا جاتا ہے۔ اس لیے وہ طَبَسَانْ کے راستے خُرَاسَان میں داخل ہوئے اور ہَرَاتْپر بزور شمشیر قبضہ کر لیا۔ طَبَسَانْ ایک نواحی قصبہ ہے جو نیشا پور اور اَصْبَہان کے درمیان واقع ہے۔ فارس میں اسے مفرد کے طور پر طَبَسْ پڑھتے ہیں۔ ہَرَاتْ، خُرَاسَان کے مشہور شہروں میں سے ایک عظیم اور مشہور شہر ہے۔ انہوں نے وہاں صُحَار بِنْ فُلَاں عَبْدِی کو اپنا جانشین بنایا اور پھر مزید آگے بڑھتے ہوئے مَرْوشَاہِ جَہَاں کی طرف روانہ ہوئے۔ مَرْوشَاہِ جَہَاں خُرَاسَان کے شہروں اور قصبوں میں سب سے مشہور ہے۔ یہ نیشاپور سے 210میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس دوران درمیان میں کسی سے کوئی جنگ نہیں ہوئی۔ اس لیے نیشا پور کی طرف مُطَرِّفْبن عبداللہ بن شِخِّیْرکو بھیجا اور سَرْخَسْ کی طرف حَارِث بن حسان کو روانہ کیا۔ سَرْخَسْ بھی خُرَاسَان کے نواح میں ایک پرانا اور بڑا شہر ہے جو نیشا پور اور مَرْو کے درمیان واقع ہے۔ بہرحال جب اَحْنَفبن قیس مَرْوشَاہِ جَہَاں کے قریب پہنچا تو یَزْدَجَرد مَرْورُوْذچلا گیا اور وہاں رہنے لگا۔

رْورُوْذ جو ہے اس کا یہ نام اس لیے ہے کہ مَرْو اس سفید پتھر کو کہتے ہیں جس میں آگ جلائی جاتی ہے۔ نہ وہ سیاہ ہوتا ہے اور نہ سرخ اور رُوذفارسی میں دریا کو کہتے ہیں گویا یہ دریا کا مَرْو ہوا۔ یہ مَرْوشَاہِ جَہَاں سے پانچ دن کی مسافت پر ایک بہت بڑے دریا پر واقع ہے۔ اَحْنَف بن قیس مَرْوشَاہِ جَہَاں میں فروکش ہو گئے۔ یَزْدَجَرد نے مَرْورُوْذ پہنچنے کے بعد خوف کے مارے مختلف حاکموں کے پاس امداد کی درخواست کی۔ اس نے خَاقَانْ سے بھی امداد کی درخواست کی۔ شَاہِ صُغْد کو بھی تحریر کیا کہ فوج کے ذریعہ اس کی مدد کی جائے۔ صُغْد وہ علاقہ ہے جس میں سمرقند اور بُخَارا وغیرہ واقع ہیں۔ نیز اس نے شہنشاہ چین سے بھی امداد کی درخواست کی۔ اَحْنَف بن قیس نے مَرْوشَاہِ جَہَاں پر حَارِثَہ بن نعمان بَاہِلِی کو اپنا جانشین مقرر کیا اور اس عرصہ میں کوفہ کی فوجیں ان کے چاروں سرداروں کی قیادت میں اَحْنَف بن قیس کے پاس پہنچ گئیں۔ جب تمام فوجیں مَرْوشَاہِ جَہَاں آگئیں تو اَحْنَف بن قیس نے مَرْوشَاہِ جَہَاں سے مَرْورُوْذ کی طرف فوج کشی کی۔ جب یَزْدَجَرد کو یہ خبر ملی تو وہ بَلْخکی طرف روانہ ہو گیا۔ بَلْخ بھی دریائے جِیْحُوْن کے قریب خُرَاسَان کا ایک خوبصورت شہر تھا چنانچہ اَحْنَف بن قیس مَرْورُوْذ میں مقیم ہو گئے۔ جب کوفہ کی فوجیں براہ راست بَلْخ روانہ ہو گئیں تو پھر اَحْنَفبن قیس بھی ان کے پیچھے روانہ ہو گئے۔ بالآخر بَلْخ میں اہل کوفہ کی افواج اور یَزْدَجَرد کی افواج کا سامنا ہوا اور فریقین کے درمیان مقابلہ ہوا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اللہ تعالیٰ نے یَزْدَجَرْد کو مات دے دی اور وہ ایرانیوں کو لے کر دریا کی طرف روانہ ہوا اور دریا پار کر کے بھاگ گیا۔ اتنے میں اَحْنَف بن قیس بھی کوفہ کی فوجوں کے ساتھ آملے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے ان کے ہاتھوں بَلْخ کو فتح کرا دیا۔ اس لیے بَلْخ اہل ِکوفہ کی فتوحات میں شامل تھا۔ اس کے بعد خُرَاسَان کے وہ باشندے جو بھاگ گئے تھے یا قلعہ بند ہو گئے تھے اور نیشا پور سے لے کر طَخَارِسْتَان کے باشندے سب صلح کے لیے آنے لگے۔ طَخَارِسْتَان: یہ جو علاقہ ہے یہ بہت سے شہروں پر مشتمل ہے اور یہ خُرَاسَان کے نواح میں ہے۔ اس کا سب سے بڑا شہرطَالِقَانْ ہے۔ اس کے بعد اَحْنَف بن قیس واپس مَرْورُوذ چلے گئے اور وہاں رہنے لگے۔ البتہ رِبعی بن عامر جو عرب کے شرفاء میں سے تھے ان کو طَخَارِسْتَان میں اپنا جانشین بنایا۔ اَحْنَف بن قیس نے حضرت عمرؓ کو فتح خُرَاسَان کی خبر لکھ کر بھجوائی۔ فتح خُرَاسَان کی خبر سن کر حضرت عمرؓ نے فرمایا: میں چاہتا تھا کہ ان کے خلاف کوئی لشکر نہ بھیجا جاتا اور میری خواہش تھی کہ ان کے اور ہمارے درمیان آگ کا سمندر حائل ہوتا۔ یہ کہتے ہیں جی زمینوں پہ قبضہ کرنا چاہتے تھے، ملکوں پہ قبضہ کرنا چاہتے تھے۔ لیکن حضرت عمرؓ کی یہ خواہش تھی کہ میں فوج نہیں بھیجنا چاہتا تھا۔ حضرت علیؓ نے حضرت عمرؓ کی یہ بات سن کے فرمایا۔ اے امیر المومنین! آپؓ یہ بات کیوں فرماتے ہیں؟ تو آپؓ نے فرمایا :اس کی وجہ یہ ہے کہ یہاں کے باشندے تین مرتبہ عہد شکنی کریں گے اور معاہدہ کو توڑیں گے اور تیسری مرتبہ ان کو مغلوب کرنے کی ضرورت ہو گی۔ ایک روایت میں اس طرح ہے کہ حضرت علی بن ابی طالبؓ فرماتے ہیں کہ جب حضرت عمرؓ کے پاس فتحِ خُرَاسَان کی خبر پہنچی تو وہ فرمانے لگے مَیں چاہتا ہوں کہ ہمارے اور ان کے درمیان آگ کا سمندر حائل ہوتا۔ اس بات پر حضرت علیؓ نے فرمایا اے امیر المومنین! یہ تو خوشی کا مقام ہے۔ آپؓ کو کیا پریشانی ہے؟ فتح ہو گیا اور آپ کہتے ہیں روک پیدا ہو جاتی۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا ہاں خوشی کی بات ہے مگر پریشان اس بات پر ہوں کہ یہ لوگ تین مرتبہ عہد شکنی کریں گے۔ ایک روایت میں ہے کہ جب حضرت عمرؓ کو یہ اطلاع ہوئی کہ اَحْنَف بن قیس کا مَرْو کے دونوں شہروں پر قبضہ ہو گیا ہے اور انہوں نے بَلْخ بھی فتح کر لیا ہے تو آپ نے فرمایا اَحْنَف بن قیس اہلِ مشرق کے سردار ہیں۔ پھر اَحْنَف بن قیس کو یہ تحریر کیا کہ تم دریا عبور نہ کرنا بلکہ تم اس سے پہلے کے علاقے میں مقیم رہو۔ جن خصوصیات کے ساتھ تم خُرَاسَان میں داخل ہوئے تھے آئندہ بھی تم ان عادات پر قائم رہنا۔ اس طرح فتح و نصرت ہمیشہ تمہارے قدم چومے گی البتہ تم دریا کو عبور کرنے سے پرہیز کرو ورنہ تم نقصان اٹھاؤ گے۔

(تاریخ طبری مترجم جلد3 حصہ اول صفحہ183تا 185، دارالاشاعت کراچی 2003ء)

(تاریخ الطبری جلد 2 صفحہ 546 547- مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2012ء)
(معجم البلدان جلد جلد 2 صفحہ26، 105 جلد 3 صفحہ 451، 250، 37، 191، 252 جلد 4 صفحہ347، 471، 253 دار الاحیاء التراث العربی بیروت)

یَزْدَجَرد نے پہلے اپنے ہمسایہ ممالک کو مدد کے لیے بلایا تھا ۔اس وقت تو ان ممالک نے کوئی خاص امداد نہیں کی مگر اب یزد جرد خود اپنی مملکت سے بھاگ کر ان کے پاس مدد کا طالب ہوا اور ان ممالک سے مدد حاصل کر کے دوبارہ اپنا ملک فتح کرنے کا قصد کیا۔ ترک سردار خَاقَاننے اس کا ساتھ دیا اور بَلْخ میں اپنی فوج لے کر آگیا۔ بَلْخ دریائے جِیْحُوْنکے قریب خُرَاسَانکا ایک خوبصورت شہر تھا۔ مسلمان بیس ہزار کی تعداد میں تھے۔ اَحْنَفنے ترک شہسواروں کے تین فوجی قتل کر دیے جس سے ترک سردار خَاقَان بدشگونی لیتا ہوا واپس چلا گیا۔ چین کے شہنشاہ نے مسلمانوں کے حالات و واقعات سننے کے بعد یَزْدَجَردکو لکھا کہ تمہارے قاصد نے مسلمانوں کی جو صفات بیان کی ہیں میرے خیال میں اگر وہ پہاڑ سے بھی ٹکرا جائیں تو اسے ریزہ ریزہ کر دیں اور اگر مَیں تمہاری مدد کے لیے آؤں تو جب تک وہ یعنی مسلمان ان اوصاف پر قائم ہیں جو تمہارے قاصد نے مجھے بتائے ہیں کہ یہ اوصاف ہیں تو وہ میرا تخت بھی چھین لیں گے اور میں ان کا کچھ بگاڑ نہ سکوں گا اس لیے تم ان سے مصالحت کر لو۔ یَزْدَجَرد پھر مختلف شہروں میں پھرتا رہا یہاں تک کہ حضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت میں قتل ہوا۔

(سیرت امیر المومنین عمر بن خطاب از الصلابی صفحہ 433 تا 435 دارالمعرفہ بیروت 2007ء)
(تاریخ الطبری جلد 2 صفحہ548 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2012ء)

اَحْنَف بن قیس نے فتح کی خوشخبری اور مال غنیمت حضرت عمرؓ کی خدمت میں روانہ کر دیا۔ حضرت عمرؓ نے مسلمانوں کو جمع کیا اور ان سے خطاب فرمایا۔ فتح کے متعلق تحریر حضرت عمرؓ کے ارشاد پر پڑھ کر سنائی گئی۔ پھر حضرت عمرؓ نے اپنے خطبہ میں فرمایا: یقیناًً اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر فرمایا ہے اور اس ہدایت کا ذکر فرمایا ہے جس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بھیجا گیا تھا۔ اور اللہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کرنے والوں سے جلد ثواب اور دنیا و آخرت میں دیر سے بھلائی کے ملنے کا وعدہ فرمایا ہے۔ پھر حضرت عمرؓ نے قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی۔

هُوَ الَّذِيْٓ اَرْسَلَ رَسُوْلَهٗ بِالْهُدٰى وَ دِيْنِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهٗ عَلَى الدِّيْنِ كُلِّهٖ وَ لَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُوْنَ (التوبۃ:33)

وہی ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا تا کہ وہ اسے سب دینوں پر غالب کر دے خواہ وہ مشرک کیسا ہی ناپسند کریں۔ پھر آپؓ نے فرمایا کہ تمام حمد اللہ کے لیے ہے جس نے اپنا وعدہ پورا کر دیا اور اپنے لشکر کی مدد کی۔ سنو !اللہ نے مجوسی بادشاہت کو ہلاک کر دیا اور ان کے اتحاد کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا۔ اپنی حکومت کی ایک بالشت زمین بھی اب ان کی ملکیت میں باقی نہیں کہ وہ کسی مسلمان کو نقصان پہنچا سکیں۔ سنو! اللہ نے تم کو ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے اموال اور ان کے بیٹوں کا وارث بنا دیا ہے تا کہ وہ دیکھے کہ تم کیسے اعمال کرتے ہو۔ اس بات کو اچھی طرح ذہن نشین کر لو کہ تمہاری طرح بہت سی قومیں فوجی طاقت کی مالک تھیں۔ حضرت عمرؓ مسلمانوں کو نصیحت فرما رہے ہیں ۔ اچھی طرح ذہن نشین کر لو کہ تمہاری طرح بہت سی قومیں فوجی طاقت کی مالک تھیں اور گذشتہ زمانے کی بہت سی مہذب قومیں دور دراز کے ممالک میں قابض ہو گئی تھیں۔ اللہ اپنا حکم نافذ کرنے والا ہے اور اپنے وعدے کو پورا کرنے والا ہے اور ایک قوم کے بعد دوسری قوم کو نمودار کرے گا۔ تم لوگ اس کے احکامات کو نفاذ کرانے کے لیے ایسے شخص کی پیروی کرو جو تمہارے لیے اس کے عہد کو پورا کرے اور تمہارے لیے خدائی وعدے کو پورا کر کے دکھائے۔ تم اپنی حالت میں کوئی تغیر و تبدل نہ کرنا ورنہ اللہ تمہیں تمہارے علاوہ لوگوں سے بدل دے گا۔ اگر بدل دو گے اپنے دین کو بھول جاؤ گے، جو احکامات ہیں ان پر عمل نہیں کرو گے تو پھر اللہ تعالیٰ دوسرے لوگوں کو لے آئے گا۔ پھر فرمایا: مجھے اس وقت امت مسلمہ کی تباہی اور بربادی کا صرف تمہی سے اندیشہ ہے۔ مجھے یہ خطرہ نہیں کہ دشمن مسلم امہ کو تباہ کرے گا بلکہ مسلمانوں کی مسلم امہ کی تباہی و بربادی کا صرف تمہی مسلمانوں سے ہی اندیشہ ہے اور خوف ہے۔

(تاریخ الطبری جلد2 صفحہ549 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2012ء)
(تاریخ طبری مترجم جلد3 حصہ اول صفحہ190 دارالاشاعت کراچی 2003ء)

اور آج ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہی بات سچ ثابت ہو رہی ہے۔ مسلمان ہی مسلمان کی گردنیں مار رہا ہے۔ ان کو ختم کر رہا ہے۔ ایک دوسرے پہ حملے کر رہا ہے۔ ملک ملک پہ چڑھائی کر رہے ہیں اور کہنے کو یہ جہاد ہے لیکن مسلمان مسلمانوں کو قتل کر رہا ہے۔

فتحِ اِصْطَخْر

اِصْطَخْر فارس کا مرکزی شہر تھا۔ یہ سَاسَانی بادشاہوں کا قدیم مرکزی اور مقدس مقام تھا۔ یہاں پر ان کا قدیم آتش کدہ بھی تھا جس کی نگرانی خود شہنشاہِ ایران کرتا تھا۔ حضرت عثمان بن ابوالعاصؓ نے اِصْطَخْر کے مقام کا ارادہ کرتے ہوئے اس کی طرف پیش قدمی کی اور اہل اِصْطَخْرکے ساتھ جَور کے مقام پر مقابلہ ہوا۔ مسلمانوں نے وہاں ان کے ساتھ بھرپور جنگ لڑی۔ پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو اہل جَور کے مقابلے پر فتح عطا کی اور مسلمانوں نے اِصْطَخْر بھی فتح کر لیا۔ بہت سے لوگوں کو قتل کیا گیا اور بہت سے لوگ بھاگ گئے۔ حضرت عثمان بن ابوالعاصؓ نے کافروں کو جزیہ ادا کرنے اور ذمی رعایا بننے کی دعوت دی۔ چنانچہ انہوں نے ان سے خط و کتابت کی اور حضرت عثمان بن ابوالعاص بھی ان سے نامہ و پیام کرتے رہے۔ آخر کار ان کے حاکم ہُرمُز نے اس پیشکش کو قبول کر لیا اور جزیہ ادا کرنے پر راضی ہو گئے۔ چنانچہ جو لوگ فتح اِصْطَخْر کے وقت بھاگ گئے تھے یا الگ ہو گئے تھے سب جزیہ ادا کرنے کی شرط کے ساتھ دوبارہ امن کی جگہ پہ واپس آ گئے۔ دشمن کی شکست کے بعد حضرت عثمان بن ابوالعاص نے سب مال غنیمت جمع کیا اور اس کا خُمس نکال کر امیر المومنین حضرت عمرؓ کے پاس بھیج دیا اور باقی حصہ مسلمانوں میں تقسیم کی غرض سے رکھ لیا اور تمام مسلمان فوجوں کو لوٹ مار سے روک دیا اور چھینی ہوئی چیزوں کو واپس کرنے کا حکم دیا۔ جو کچھ لوگوں سے چھینا تھا سپہ سالار نے کہا کہ سب واپس کرو۔ پھر حضرت عثمان بن ابوالعاصؓ نے تمام لوگوں کو اکٹھا کیا اور فرمایا ہمارا معاملہ ہمیشہ بامِ عروج پر رہے گا اور ہم تمام مصائب سے محفوظ رہیں گے جب تک کہ ہم چوری اور خیانت نہ کریں۔ جب ہم مال غنیمت میں خیانت کرنے لگیں گے اور یہ ناپسندیدہ باتیں ہمارے اندر نظر آئیں گیتو یہ برے کام ہماری اکثریت کو لے ڈوبیں گے۔ خیانت کرو گے، چوری کرو گے تو پھر یہی باتیں تمہیں لے ڈوبیں گی اور آج کل کے مسلمانوں میں یہی کچھ ہمیں نظر آ رہا ہے۔ آپس میں ہی لوٹ مار ہے یا جہاں بھی جاتے ہیں وہاں لوٹ مار ہے، بددیانتی ہے اور انہی بداخلاقیوں نے ان کو بالکل ہی کسی کام کا نہیں چھوڑا اور ہر جگہ دنیا میں بدنام ہو رہے ہیں۔

حضرت عثمان بن ابوالعاصؓ نے فتح کے دن فرمایا کہ جب اللہ تعالیٰ کسی قوم کے ساتھ بھلائی کا ارادہ کرتا ہے تو انہیں ہر قسم کی برائیوں سے بچاتا ہےاور ان کے اندر امانت اور دیانت داری کی خصوصیات پیدا فرما دیتا ہے۔ اس لیے تم امانتوں کی حفاظت کرو کیونکہ تم سے اپنے دین و مذہب کی جو چیز سب سے پہلے چھوٹے گی وہ ہے امانت۔ اور جب تمہارے اندر سے دیانت داری جاتی رہے گی تو روزانہ کوئی نہ کوئی نیکی تمہارے اندر سے جاتی رہے گی۔ دیانتداری گئی تو نیکیاں بھی ختم ہونی شروع ہو جائیں گی۔

حضرت عمر فاروقؓ کے دورِ خلافت کے آخری زمانے اور حضرت عثمانؓ کے دور خلافت کے پہلے سال

شَھْرَکْ نے بغاوت کر دی

اور اس نے اہلِ فارس کو ورغلایا اور ان کو بھڑکانے کے نتیجہ میں اہلِ فارس نے عہد شکنی کی۔ حضرت عثمان بن ابوالعاص کو ان کی سرکوبی کے لیے دوبارہ بھیجا گیا اور پیچھے سے حضرت عبداللہ بن مَعْمَرؓ اور شِبْلبن مَعْبَد بَجَلِّی کی معیت میں امدادی فوج بھیجی گئی۔ ان کا فارس کے مقام پر دشمن سے سخت مقابلہ ہوا جس میں شَھْرَکْ اور اس کا بیٹا مارا گیا اور اس کے علاوہ بہت سے لوگوں کو بھی قتل کیا گیا اور شَھْرَکْکو حضرت عثمان بن ابوالعاصؓ کے بھائی حَکَم بن ابوالعاص نے قتل کیا۔

(تاریخ طبری مترجم جلد سوم حصہ اول صفحہ 192-193 دار الاشاعت کراچی 2003ء)

ایک روایت کے مطابق حضرت عَلَاء بن حَضْرَمِیؓ نے سترہ ہجری میں حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں پہلی مرتبہ اِصْطَخْرکو فتح کیا تھا۔ اس کے باشندوں نے صلح کے بعد بدعہدی کی جس کے نتیجہ میں بغاوت پھیل گئی۔ اس کی سرکوبی کے لیے حضرت عثمان بن ابوالعاصؓ نے اپنے بیٹے اور بھائی کو بھیجا جنہوں نے بغاوت دور کی اور اِصْطَخْر کے امیر کو قتل کر دیا جس کا نام شَھْرَکْ تھا۔

(سیرت امیر المومنین عمر بن خطاب از صلابی صفحہ 436 دار المعرفہ بیروت 2007ء)
(الکامل فی التاریخ لابن اثیر جلد 2 صفحہ 382-383 دار الکتب العلمیہ بیروت 2006ء)

فَسَا اور دَارَابَجِرْد

حضرت سَارِیَہ بن زُنیم ؓ کو حضرت عمرؓ نے فَسَا اور دَارَابَجِرْد شہر کی طرف روانہ فرمایا۔ یہ 23؍ہجری کا واقعہ ہے۔ فَسَا فارس کا ایک قدیم شہر تھا جو شیراز سے 216میل کے فاصلے پر واقع تھا۔ دَارَابَجِرْد فارس کا ایک وسیع علاقہ ہے جس میں فَسَا اور دیگر شہر تھے۔ دلائل النبوة میں روایت ہے۔ حضرت ابن عمرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے ایک لشکر حضرت سَارِیَہ ؓ کی سرکردگی میں روانہ فرمایا۔ ایک دن جبکہ حضرت عمرؓ خطاب کر رہے تھے کہ اچانک اونچی آواز میں کہنے لگے یَا سَارِیَ الْجَبَلَ۔ اے سَارِیَہ! پہاڑ کی طرف ہٹ جاؤ ۔

تاریخ طبری میں ہے حضرت عمرؓ نے حضرت سَارِیَہ بن زُنیم ؓکو فَسَا اور دَارَابَجِرْد کے علاقے کی طرف روانہ کیا۔ انہوں نے وہاں پہنچ کر لوگوں کا محاصرہ کر لیا۔ اس پر انہوں نے اپنے حمایتی لوگوں کو اپنی مدد کے لیے بلایا تو وہ مسلمان لشکر کے مقابلے کے لیے صحرا میں اکٹھے ہو گئے اور جب ان کی تعداد زیادہ ہو گئی تو انہوں نے ہر طرف سےمسلمانوں کو گھیر لیا ۔ حضرت عمرؓ جمعہ کے دن خطبہ دے رہے تھے کہ آپ نے فرمایا :یَا سَارِیَۃ بِنْ زُنَیْم! اَلْجَبَل اَلْجَبَل۔ یعنی اے سَارِیَہ بن زُنَیْم! پہاڑ پہاڑ۔ مسلمان لشکر جس جگہ پرمقیم تھا اس کے قریب ہی ایک پہاڑ تھا۔ اگر وہ اس کی پناہ لیتے تو دشمن صرف ایک طرف سے حملہ آور ہو سکتا تھا۔ پس انہوں نے پہاڑ کی جانب پناہ لے لی۔ اس کے بعد انہوں نے جنگ کی اور دشمن کو شکست دی اور بہت سا مال غنیمت حاصل کیا۔ اس مال غنیمت میں جواہرات کا ایک صندوقچہ بھی تھا جسے مسلمان لشکر نے باہمی اتفاق رائے سے حضرت عمرؓ کے لیے ہبہ کر دیا۔ حضرت سَارِیَہؓ نے اس صندوقچےکے ساتھ اور فتح کی خوشخبری کے ساتھ ایک ایلچی کو حضرت عمرؓ کی طرف بھجوایا۔ جب وہ ایلچی مدینہ پہنچا تو اس وقت حضرت عمرؓ لوگوں کو کھانا کھلا رہے تھے اور آپؓ کے ہاتھ میں وہ عصا تھا جس کے ذریعہ وہ اونٹوں کو ہنکایا کرتے تھے۔ اس قاصد نے حضرت عمرؓ سے بات کرنے کی خواہش ظاہر کی تو حضرت عمرؓ نے اسے کھانے پہ بٹھا دیا۔ چنانچہ وہ کھانے پر بیٹھ گیا۔ جب وہ کھانے سے فارغ ہوا تو حضرت عمرؓ جانے لگے۔ وہ شخص پھر کھڑے ہو کر ان کے پیچھے پیچھے جانے لگا۔ حضرت عمرؓ نے اس کو اپنے پیچھے آتے دیکھ کر گمان کیا کہ اس شخص کا پیٹ ابھی نہیں بھرا۔ لہٰذا جب آپؓ اپنے گھر کے دروازے پر پہنچے تو فرمایا اندر آ جاؤ اور آپؓ نے نانبائی کو حکم دیا کہ دستر خوان پر کھانا لائے۔ چنانچہ کھانا لایا گیاجو روٹی اور زیتون اور نمک پر مشتمل تھا۔ پھر آپؓ نے اس شخص سے فرمایا کھاؤ جب وہ کھانے سے فارغ ہوا تو اس شخص نے کہا اے امیرالمومنینؓ! میں سَارِیَہ بن زُنَیمکا ایلچی ہوں۔ آپؓ نے فرمایا خوش آمدید۔ پھر وہ آپؓ کے قریب آیا یہاں تک کہ اس کا گھٹنا حضرت عمرؓ کے گھٹنے سے چھونے لگا۔ پھر حضرت عمرؓ نے اس سے مسلمانوں کے بارے میں پوچھا۔ پھر سَارِیہ کے بارے میں پوچھا تو اس نے آپؓ کو بتایا۔ پھر اس نے صندوقچےکا حال بیان کیا تو حضرت عمرؓ نے اس کی طرف دیکھا اور بلند آواز سے فرمایا: نہیں۔ اس میں کوئی عزت والی بات نہیں ہے۔ اس لشکر کے پاس جاؤ اور اسے ان کے درمیان تقسیم کرو۔ یہ جواہرات جو مجھے بھیجے ہیں یہ لشکرکو ہی تقسیم کر دو۔ اس نے عرض کیا کہ اے امیر المومنینؓ! میرا اونٹ لاغر ہو گیا ہے اور میں نے انعام کی توقع پر قرض بھی لیا تھا۔ پس آپ مجھے اتنا دیں جس سے میں ان کی تلافی کر سکوں۔ وہ اصرار کرتا رہا یہاں تک کہ حضرت عمرؓ نے اس کے اونٹ کے بدلے صدقے کے اونٹوں میں سے ایک اونٹ اسے دیا اور اس کا اونٹ لے کر صدقے کے اونٹوں میں شامل کیا اور وہ ایلچی معتوب اور محروم ہوتے ہوئے بصرہ پہنچا اور حضرت عمرؓ کے حکم پر عمل کیا۔

یہ بھی بیان کیا جاتا ہے کہ جب قاصد فتح کی خوشخبری لے کر مدینہ آیا تو اہلِ مدینہ نے اس سے سَارِیَہ کے بارے میں پوچھا اور فتح کے بارے میں اور یہ کہ کیا جنگ کے دن مسلمانوں نے کوئی آواز سنی تھی؟ اس نے کہا کہ ہاں ہم نے سنا تھا یَا سَارِیَۃ اَلْجَبَل۔ یعنی اے سَارِیَہ پہاڑ کی طرف ہٹ جاؤ۔ اس وقت قریب تھا کہ ہم ہلاک ہو جاتے۔ پس ہم نے پہاڑ کی طرف پناہ لی تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطا فرمائی۔

(تاریخ طبری مترجم جلد 3حصہ اول صفحہ 194 تا 196 دار الاشاعت کراچی 2003ء)
(تاریخ طبری جلد 2 صفحہ 553-554 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2012ء)
(دلائل النبوۃ للبیہقی جلد 6 صفحہ 370 دار الکتب العلمیہ بیروت 2002ء)
(سیرت امیر المومنین عمر بن خطاب از صلابی صفحہ 436 دار المرفہ بیروت 2007ء)
(معجم البلدان جلد 2 صفحہ 273، جلد 3 صفحہ 434 دار الاحیاء التراث العربی بیروت)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس واقعہ کو اس طرح بیان فرمایا ہے۔ فرماتے ہیں کہ ’’حضرت عمرؓ کا ایک واقعہ لکھا ہے کہ ان کی خلافت کے ایام میں وہ منبر پر چڑھ کر خطبہ پڑھ رہے تھے کہ بے اختیار ان کی زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے۔ یَا سَارِیَةُ اَلْجَبَلَ، یَا سَارِیَةُ اَلْجَبَلَ۔ یعنی اے سَارِیَہ! پہاڑ پر چڑھ جا۔ اے سَارِیَہ! پہاڑ پر چڑھ جا۔ چونکہ یہ فقرات بے تعلق تھے لوگوں نے ان سے سوال کیا کہ آپؓ نے یہ کیا کہا؟ تو آپؓ نے فرمایا کہ مجھے دکھایا گیا کہ ایک جگہ سَارِیَہ جو اسلامی لشکر کے ایک جرنیل تھے کھڑے ہیں اور دشمن ان کے عقب سے اس طرح حملہ آور ہے کہ قریب ہے کہ اسلامی لشکر تباہ ہو جائے۔ اس وقت میں نے دیکھا تو پاس ایک پہاڑ تھا کہ جس پر چڑھ کر وہ دشمن کے حملہ سے بچ سکتے تھے۔ اس لیے میں نے ان کو آواز دی کہ وہ اس پہاڑ پر چڑھ جاویں۔ ابھی زیادہ دن نہ گزرے تھے کہ سَارِیَہکی طرف سے بعینہ اسی مضمون کی اطلاع آئی اور انہوں نے یہ بھی لکھا کہ اس وقت ایک آواز آئی جو حضرت عمرؓ کی آواز سے مشابہ تھی جس نے ہمیں خطرہ سے آگاہ کیا اور ہم پہاڑ پر چڑھ کر دشمن کے حملہ سے بچ گئے۔‘‘ حضرت مصلح موعودؓ لکھتے ہیں کہ ’’اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت عمرؓ کی زبان اس وقت ان کے اپنے قابو سے نکل گئی تھی اور اس قادرِ مطلق ہستی کے قبضہ میں تھی جس کے لئے فاصلہ اور دوری کوئی شئے ہے ہی نہیں۔‘‘

(تقدیر الٰہی، انوار العلوم جلد 4 صفحہ 575)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام بھی اس بارے میں فرماتے ہیں۔ ’’ہم یہ بھی کہتے ہیں کہ یہ الزام کہ صحابہ کرام سے ایسے الہام ثابت نہیں ہوئے بالکل بے جا اور غلط ہے کیونکہ احادیث صحیحہ کے رو سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے الہامات اور خوارق بکثرت ثابت ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا سَارِیَہ کے لشکر کی خطرناک حالت سے باعلام الٰہی مطلع ہو جانا جس کو بیہقی نے ابنِ عمر سے روایت کیا ہے اگر الہام نہیں تھا تو اَور کیا تھا اور پھر انکی یہ آواز کہ یَا سَارِیَہ اَلْجَبَلَ اَلْجَبَلَ۔ مدینہ میں بیٹھے ہوئے مونہہ سے نکلنا اور وہی آواز قدرتِ غیبی سے سَارِیَہ اور اس کے لشکر کو دور دراز مسافت سے سنائی دینا اگر خوارق عادت نہیں تھی تو اَور کیا چیز تھی۔‘‘

(براہین احمدیہ حصہ چہارم، روحانی خزائن جلد 1 صفحہ 653-654 حاشیہ در حاشیہ نمبر 4)

پھر

فَتحِ کَرْمَان

کا ذکر ہے جو 23 ہجری میں ہوئی۔ حضرت سُہَیل بن عَدِی کے ہاتھوں کَرْمَان فتح ہوا۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ عبداللہ بن بُدَیل کے ہاتھوں فتح ہوا۔

(سیرت امیر المومنین عمر بن خطاب از صلابی صفحہ 436 دار المعرفہ بیروت 2007ء)

حضرت سُہَیلؓ کے ہراول دستے پر نُسَیْر بن عَمْرو عِِجِلّی تھے۔ ان کے مقابلے کے لیے اہل کرمان جمع ہو گئے۔ وہ اپنی سرزمین کے قریب علاقے میں جنگ کرتے رہے۔ آخر کار اللہ تعالیٰ نے انہیں منتشر کردیا اور مسلمانوں نے ان کا راستہ روک لیا۔نُسَیْرنےان کے بڑے بڑے سرداروں کو قتل کر دیا۔ اسی طرح حضرت سُہَیل بن عدی ؓ نے دیہاتیوں کے دستے کے ذریعہ دشمن کے راستے کو جِیرَفْت مقام تک روک لیا۔ حضرت عبداللہ بھی شِیرکے راستے وہاں پہنچے اور حسب منشا اس مقام پر انہیں بہت سارے اونٹ بھیڑ بکریاں ملیں تو انہوں نے اونٹوں اور بھیڑ بکریوں کی قیمت لگائی۔ ان کی قیمت میں عرب کے اونٹوں سے بڑے ہونے کے باعث ان میں اختلاف پیدا ہوا ۔چنانچہ اس اختلاف کو ختم کرنے کے لیے اس کے بارے میں حضرت عمرؓ کو لکھا گیا۔ حضرت عمرؓ نے ان کی طرف لکھا کہ عربی اونٹ کی گوشت کے مطابق قیمت لگائی جاتی ہے اور یہ اونٹ بھی اسی کی مانند ہیں۔ اگر وہ تمہاری رائے کے مطابق بڑھ کر ہے تو اس کی قیمت میں اضافہ کر دو۔ جو مال ہاتھ آیا تھا اس کے مطابق اس کے جانوروں کی قیمت لگائی جا رہی ہے۔ ایک روایت میں آتا ہے کہ حضرت عمرؓ کے دور خلافت میں حضرت عبداللہ بن بُدَیْلبن وَرْقَاء خُزَاعِی نے کرمان کو فتح کیا۔ پھر فتح کرمان کے بعد وہ طَبَسَیْن آئے۔ پھر وہاں سے حضرت عمرؓ کے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے طَبَسَیْن کو فتح کر لیا ہے۔ آپ مجھے یہ دونوں علاقے جاگیر میں دے دیں۔ جب حضرت عمرؓ نے یہ دونوں علاقے ان کو جاگیر میں دینے کا ارادہ کیا تو کسی نے آپ سے کہا کہ یہ دونوں علاقے بہت بڑے اضلاع ہیں اور خُرَاسَان کے دروازے ہیں۔ اس پر آپ نے ان کو یہ دونوں علاقے جاگیر میں دینے کا ارادہ ملتوی کر دیا۔

(تاریخ طبری مترجم جلد سوم حصہ اول صفحہ 196-197 دار الاشاعت کراچی 2003ء)

فَتْحِ سَجِسْتَان،

یہ بھی 23؍ ہجری کی ہے۔ سَجِسْتَان خُرَاسَان سے بڑا علاقہ ہے اور اس کی سرحدیں دور درواز علاقوں تک پھیلی ہوئی تھیں۔ یہ علاقہ سندھ اور دریائے بَلْخ کے درمیان تھا۔ اس کی سرحدیں بہت دشوار گزار تھیں اور آبادی بھی بہت زیادہ تھی۔ اس سَجِسْتَان کو ایرانی سِیْستَان بھی کہا جاتا ہے یا ایرانی لوگ اس کو سِیْستَان کہتے ہیں۔ مشہور ایرانی پہلوان رستم اسی علاقے کا رہنے والا تھا۔ یہ کرمان کے شمال میں واقع تھا اس کا صدر مقام زَرَنْج تھا۔ قدیم زمانے میں یہ بہت بڑا علاقہ تھا اور حضرت معاویہؓ کے زمانے میں یہ بہت اہم علاقہ تھا۔ یہاں کے لوگ قندھار ترک اور دوسری قوموں سے جنگ کرتے رہتے تھے۔ عاصم بن عَمرو نے سَجِسْتَان کا رخ کیا اور عبداللہ بن نُمَیربھی فوج لے کر اس کے ساتھ شامل ہو گئے۔ اہل سَجِسْتَانسے ان کے قریبی علاقے میں مقابلہ ہوا اور مسلمانوں نے انہیں شکست دی اور اہل سَجِسْتَان بھاگ گئے۔ چنانچہ مسلمانوں نے ان کا تعاقب کیا اور زَرَنْجمقام پر ان کا محاصرہ کر لیا گیا اور ساتھ ساتھ مسلمان جہاں جہاں ممکن ہوا مختلف علاقوں کو بھی فتح کرتے گئے۔ بالآخر اہل سَجِسْتَان نے زَرَنْج اور دیگر مفتوحہ علاقوں کے بارے میں مصالحت کر لی اور باقاعدہ مسلمانوں سے معاہدہ منظور کرایا اور اپنے صلح نامہ میں یہ شرط منظور کرا لی کہ ان کے جنگل محفوظ چراگاہوں کی طرح سمجھے جائیں گے۔ اس لیے جب مسلمان وہاں سے گزرتے تھے تو ان کے جنگلوں سے بچ کر نکلتے تھے کہ وہ کہیں انہیں نقصان پہنچا کر عہد شکنی کے مرتکب نہ ہو جائیں۔ اس حد تک مسلمان احتیاط کرتے تھے۔ بہرحال اہل سَجِسْتَان خراج دینے پر راضی ہو گئے اور مسلمانوں نے ان کی حفاظت کی ذمہ داری کو قبول کر لیا۔

(تاریخ طبری مترجم جلد سوم حصہ اول صفحہ 197 دار الاشاعت کراچی 2003ء)

فَتْحِ مُکْرَان،

یہ بھی 23؍ ہجری کی ہے۔ حَکَم بن عَمْرو کے ہاتھوں مُکْرَان (آج کل اسے مَکران کہا جاتا ہے۔ پرانی تاریخوں میں مُکران لکھا ہوا ہے، یہ) فتح ہوا۔ لیکن پھر شِہَابْ بِن مُخَارِقْ، سُہَیل بِن عَدِی اور عبداللہ بن عبداللہ بھی لشکروں سمیت ان کے ساتھ مل گئے تھے۔ مسلمانوں نے سندھ کے بادشاہ کے خلاف متحد ہو کرجنگ کی اور اسے شکست دی۔ حکم بن عمرو نے صُحَار عَبدِی کے ہاتھ فتح کی خبر اور مالِ غنیمت بھیجا اور مالِ غنیمت میں حاصل شدہ ہاتھیوں کے بارے میں ہدایت طلب کی۔ جب حضرت عمرؓکو فتح کی بشارت پہنچی تو حضرت عمرؓ نے اس سے مکران کی زمین کے بارے میں پوچھا۔ اس نے کہا اے امیر المومنینؓ! اس کے نرم میدانوں کی زمین بھی پہاڑوں کی طرح سخت ہے اور وہاں پانی کی سخت قلت ہے۔ اس کے پھل خراب ہیں اور وہاں کے دشمن بہت دلیر ہیں اور وہاں بھلائی کے مقابلے میں برائی بہت زیادہ ہے۔ وہاں کثیر تعداد بھی تھوڑی معلوم ہوتی ہے اور قلیل تعداد ضائع ہو جاتی ہے اور اس کا پچھلا حصہ تو اس سے بھی بدتر ہے۔ حضرت عمرؓ نے اس کے اس اندازِ گفتگو پہ فرمایا کہ کیا تم قافیہ پیمائی کر رہے ہو یاواقعی صورتِ حال کی خبر دے رہے ہو۔ اس نے اس پر کہا کہ میں صحیح خبر آپؓ تک پہنچا رہا ہوں۔ اس پر آپؓ نے فرمایا کہ اگر تم صحیح بتلا رہے ہو تو بخدا میرا لشکر وہاں حملہ نہیں کرے گا۔ چنانچہ آپؓ نے حَکم بن عمرو اور حضرت سُہَیلکو یہ حکم تحریر فرمایا اور یہ حکم تحریر فرما کر روانہ کیا کہ تم دونوں کے لشکروں میں سے کوئی بھی مکران سے آگے پیش قدمی نہ کرے اور دریا کے اس پار کے علاقے تک محدود رہے۔ نیز آپؓ نے یہ بھی حکم دیا کہ ہاتھیوں کو اسلامی سرزمین پر ہی فروخت کر دیا جائے اور اس سے حاصل ہونے والے مال کو مسلمان لشکروں میں تقسیم کر دیا جائے۔

(تاریخ طبری مترجم جلد سوم حصہ اول صفحہ 198-199 دار الاشاعت کراچی 2003ء)
(تاریخ طبری جلد 2 صفحہ 555 مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2012ء)

اس جنگ کی جو تفصیلات بیان کی گئی ہیں وہ طبری سے لی گئی ہیں۔ اس جنگ کی بابت علامہ شبلی نے ایک نوٹ بھی دیا ہے کہ فتوحات فاروقی کی اخیر حد یہی مکران ہے لیکن یہ طبری کا بیان ہے۔ مؤرخ بلاذری کی روایت ہے کہ دیبل کے نشیبی علاقوں اور تھانہ تک فوجیں آئیں۔ اگر یہ صحیح ہے تو حضرت عمرؓ کے عہد میں اسلام کا قدم سندھ و ہند میں بھی آ چکا تھا۔ نیز وہ حاشیہ میں لکھتے ہیں کہ آج کل مکران کا نصف حصہ بلوچستان کہلاتا ہے۔ اگرچہ مورخ بلاذری فتوحاتِ فاروقی کی حد سندھ کے شہر دیبل تک لکھتاہے مگر طبری نے مکران کو ہی اخیر حد قرار دیا ہے۔

(ماخوذ از الفاروق از شبلی صفحہ 157 مطبوعہ دار الاشاعت کراچی 2004ء)

تو بہرحال یہ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے کا ذکر ابھی چل رہا ہے۔ ابھی آئندہ بھی بیان ہو گا۔

جمعہ کے بعد میں ایک

ٹرکش انٹرنیٹ ریڈیو کا افتتاح

کروں گا۔ اس ریڈیو چینل کانام اسلام احمدیتین سیسی (Islam Ahmediyetin Sesi)یعنی صدائے اسلام احمدیت ہے جو الحمد للہ اب چوبیس گھنٹے کی نشریات کے لیے تیار ہے۔ یہ ریڈیو دنیا بھر میں ٹیبلٹ اور سمارٹ فون اور لیپ ٹاپ وغیرہ پر ایک لنک کے ذریعہ سنا جا سکے گا۔ چار گھنٹے پر مشتمل ایک پیکج (package)کو چھ دفعہ دن میں repeatکیا جائے گا۔ اس پیکج میں ایک گھنٹہ تلاوت مع ترکی ترجمہ۔ حدیث نبوی صلی اللہ علیہ وسلم، کلام الامام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام، ترکی زبان میں میرے خطبات کا ترجمہ نیز ایک مجلس سوال و جواب بھی نشر ہوا کرے گی۔ دنیا کے بیس ممالک سے زائد ممالک تبلیغی اور تربیتی مقاصد کے لیے اس ریڈیو سےاستفادہ کر سکیں گے۔ تبلیغی میدان میں بھی اور تربیتی مقاصد کے لیے بھی ان شاء اللہ اس ریڈیو سے استفادہ ہو گا۔ مثلاً آذر بائیجان ہے، جارجیا ہے، یہ ترکی زبان بولنے والے ملک ہیں۔ کئی سابقہ روسی ریاستیں ہیں جہاں ترکی زبان بولی جاتی ہے۔ اسی طرح ملک ترکی اور وہ سبھی یورپین ممالک جن میں ترک آباد ہیں ان نشریات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس ریڈیو کی تیاری کی توفیق شعبہ تبلیغ جرمنی کو ملی ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو بھی جزا دے اور اللہ تعالیٰ ہر لحاظ سے اس کو بابرکت فرمائے۔ اس کو ابھی میں جمعہ کی نماز کے بعد لانچ کروں گا۔

بعض غائب جنازے ہیں ان کو مَیں جمعہ کے بعد ادا کروں گا۔ ساتھ یہ بھی بتا دوں کہ ہمارے پیارے عزیز طالع کا جنازہ ابھی پہنچا نہیں ہے۔ شاید چند دن لگ جائیں تو جب آئے گا تو اس کے بعد نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی ان شاء اللہ اور پھر وہاں اس کا ذکر بھی ان شاء اللہ ہو گا۔ جو

جنازہ غائب

آج میں نے پڑھنے ہیں ان میں پہلا مکرم محمد المختار قِبْطَہ صاحب کا ہے جو مراکش کے تھے۔ 73سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔مرحوم نے 2009ء میں بیعت کی۔ بہت مخلص احمدی تھے۔ بیعت کے بعد جماعت کی خدمت اور احمدیت کی تبلیغ میں ہر وقت لگے رہتے تھے۔ معاشرے میں غلط عقائد کی درستی میں انہوں نے بہت کردار ادا کیا ہے۔

ان کا علاقہ مغربی مراکش کا تھا ۔وہاں کے صدر صاحب لکھتے ہیں کہ مرحوم ریٹائرڈ فوجی تھے۔ پڑھے لکھے تھے۔ عربی کے علاوہ فرانسیسی اور سپینش زبانوں کے ماہر تھے۔ حمامة البشریٰ پڑھ کر جلد ہی بیعت کرلی۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتابوں کوبھی بڑے شوق اور محبت سے کم از کم دو بار پڑھا۔ پھر تفسیر کبیر کا مطالعہ کیا پھر اس کی کاپیاں کروا کر اور جلد بنوا کر احمدیوں میں تقسیم کیں۔ کہتے ہیں جب ہمارے علاقے میں نظام جماعت قائم ہوا تو انہوں نے جماعتی خدمت کے لیے زندگی وقف کر دی اور مختلف جماعتوں کے دورے کیے۔ مالی قربانیوںمیں بھی پیش پیش رہے۔ کبھی بھی انہوں نے یہ نہیں کہا کہ آج میں مصروف ہوں یا یہ خدمت نہیں کر سکتا۔ بڑے پختہ عزم کے مالک تھے جو کہ نوجوانوں میں بھی نہیں ملتا۔ پھر لکھتے ہیں کہ نظام خلافت کی کامل اور فوری اطاعت کرتے تھے تبلیغ کا بڑا جوش تھا۔ گاڑی، بس، ریل اور دکان میں ہر چھوٹے بڑے کو تبلیغ کرتے۔ خاندان میں ہر ایک کو پیغام حق پہنچایا۔ مرحوم نماز تہجد میں باقاعدہ تھے۔ ہر سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھتے تھے۔ وہ دعائیں بھی جو میری طرف سے بتائی گئی تھیں اور جوبلی کی دعائیں بھی وہ ہمیشہ پڑھتے تھے۔ روزانہ پانچ سے دس احزاب تلاوت قرآن کریم کرتے رہتے تھے۔ چلتے ہوئے قرآن کریم یاد کرتے تھے، دہرائی کرتے رہتے تھے اور بعض دفعہ رستے میں چلتے ہوئے تلاوت قرآن میں اتنے مصروف ہوتے کہ اِدھر اُدھر کے ماحول سے بے خبر ہو جاتے تھے۔گویا قرآن کریم سے تو انہیں ایک عشق تھا بلکہ بعض تو کہتے ہیں کہ رات کو سوتے ہوئے بھی ان کے منہ سے قرآن کریم کی آیات پڑھنے کی آوازیں آتی تھیں۔ مرحوم نے نو سال تک مغربی مراکش میں بطور نائب صدر جماعت اور صدر انصار اللہ اور سیکرٹری مال خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم موصی تھے۔ان کی اہلیہ بھی بہت مخلص اور موصیہ ہیں۔

اگلا ذکر محمود احمد صاحب سابق خادم مسجد اقصیٰ اور مسجد مبارک قادیان کا ہے جو 74سال کی عمر میں گذشتہ دنوں وفات پا گئے تھے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔ مرحوم مخدوم حسین صاحب آف بیلگام کے بیٹے تھے جو کہ صوبہ کرناٹک سے ہجرت کر کے قادیان آ گئے تھے۔ 28سال تک انہوں نے مسجد اقصیٰ اور مسجد مبارک میں خادم مسجد کے طور پر خدمت کی توفیق پائی۔ مرحوم موصی تھے۔ مرحوم صوم و صلوٰة کے پابند تھے۔ تہجد گزار اور دعا گو انسان تھے۔ مسجد کے ساتھ ان کا خاص لگاؤ تھا۔ پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ دو بیٹے اور ایک بیٹی شامل ہیں۔

اگلا ذکر سودہ صاحبہ اہلیہ عبدالرحمٰن صاحب کیرالہ انڈیا کا ہے۔ 22جولائی کو 76سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی تھی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔مرحومہ شمس الدین صاحب مالاباری مبلغ انچارج کبابیر کی والدہ تھیں۔ شمس الدین صاحب کہتے ہیں کہ خاکسار کی والدہ صاحبہ وی ٹی محمد صاحب مرحوم کی بیٹی تھیں جو ضلع پالکھاٹ اور مضافات کے سب سے پہلے احمدی تھے جنہوں نے 1937ء میں بیعت کی توفیق پائی۔ پھر لمبے عرصہ تک دشمنوں کی طرف سے شدید مظالم کا سامنا کرتے رہے۔کہتے ہیں اسی بائیکاٹ کے دوران کہ جب والدہ ڈیڑھ سال کی تھیں تو اس وقت ان کی والدہ، خاکسار کی نانی اور ان کی بڑی بیٹی کی وفات ہو گئی۔ وفات کے بعد دشمنوں نے نانی کو دفنانے بھی نہیں دیا جس پر چالیس کلو میٹر دور شہر کے عام قبرستان میں انہیں دفنانا پڑا۔ کہتے ہیں نانا اپنی کمسن بچی کے ساتھ ہجرت کر گئے۔ اس طرح والدہ بچپن سے ہی طرح طرح کی ابتلاؤں میں سے گزرتی رہیں۔ مرحومہ صوم و صلوٰة کی پابند اور موصیہ تھیں۔ ہمدردیٔ خلق ان کے اندر کوٹ کوٹ کر بھری ہوئی تھی۔ ہر پریشان حال شخص کے لیے دعائیں کرنا اور اگر سامنے ہو تو اس کی مدد کرنا آپ کی عادت تھی۔ پسماندگان میں شوہر کے علاوہ چار بیٹے اور دو بیٹیاں شامل ہیں اور ان کے پوتے بھی واقف زندگی ہیں اور ایک بیٹے مبلغ ہیں جو باہر تھے۔ جنازے پہ حاضر بھی نہیں ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے۔

اگلا ذکر سعیدہ مجید صاحبہ اہلیہ شیخ عبدالمجید صاحب فیصل آباد کا ہے۔ گذشتہ دنوں ان کی وفات 86سال کی عمر میں ہوئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔ ان کے بیٹے شیخ وحید صاحب کہتے ہیں ان کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ ان کے دادا حضرت برکت علی قادیانی صاحبؓ کے ذریعہ سے ہوا۔ آپ کے دادا اور دادی دونوں کو یہ اعزاز ملا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابی تھے۔ سعیدہ مجید صاحبہ نے لمبا عرصہ جماعت کی خدمت کی توفیق پائی۔ شروع میں صدر حلقہ اور سیکرٹری مال کی حیثیت سے اور پھر 1982ء سے لجنہ اماء اللہ ضلع فیصل آباد کی تشکیل نو ہونے پر سیکرٹری مال کے عہدے پر سات سال فائز رہیں۔ بہت محنت سے بیاسی مجالس میں باقاعدگی سے دورہ جات کر کے ہر مجلس میں عہدیداران کے کام کی نگرانی کرتی رہیں۔ شعبہ مال کے ریکارڈ اور چندہ جات کی بروقت آمد اور ترسیل پر خصوصی نظر رکھتی تھیں۔ ان کی ضلع کی سابقہ صدر بشریٰ سمیع صاحبہ ہیں وہ کہتی ہیں کہ ایک دفعہ جماعتی دورے سے واپسی پر ڈاکوؤں نے گاڑی کو روکا۔ انہوں نے جلدی سے پرس جس میں چندے کے پیسے تھے وہ پیروں میں گرا دیا تا کہ چندہ محفوظ رہے اور اپنا زیور چھن جانے کی ذرا پروا نہیں کی۔ باقی زیور ڈاکوؤں نے ان سے اتروا لیا لیکن چندے کے پیسے بچ گئے اور اس بات پر بڑی خوش تھیں کہ چندے کے پیسے بچ گئے۔ وفات سے چند ماہ قبل جو بھی زیور ان کے پاس تھا وہ سارا جماعتی تحریکات میں پیش کر دیا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا کئی بار مطالعہ کیا۔ بہت سی خوبیوں کی مالک تھیں۔ خدا تعالیٰ کی محبت میں بڑھی ہوئی، دعا گو، متوکل علی اللہ تھیں۔ خلافت سے بہت محبت اور عشق کا تعلق تھا۔ اپنے بیٹوں، بہوؤں اور پوتوں پوتیوں کو ہمیشہ خلافت سے وابستہ رہنے اور خلیفہ وقت کے لیے دعا کرنے اور خلیفہ وقت کے خطبات سننے کی تلقین کرتی رہتی تھیں۔ مرحومہ موصیہ تھیں۔ پسماندگان میں شوہر کے علاوہ آٹھ بیٹے اور متعدد پوتے پوتیاں اور پڑپوتے پڑپوتیاں شامل ہیں۔

اللہ تعالیٰ ان سب مرحومین سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ ان کے درجات بلند فرمائے۔ جیساکہ میں نے کہا نماز کے بعد ان کا نماز جنازہ غائب ادا کروں گا۔

(الفضل انٹرنیشنل 17؍ستمبر2021ء صفحہ 5تا10)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close