ادبیات

ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب (قسط نمبر81)

(محمود احمد طلحہ ۔ استاد جامعہ احمدیہ یو کے)

قبولیت دعا کا ثبوت

دعا کے قبول ہونے پر ہمارا کامل ایمان ہے۔اور ہم نے اس کا نتیجہ بھی دیکھا ہے۔کہ لیکھرام کے قتل سے پہلے پانچ سال میں نے خبر دی تھی۔

میں نے سید احمد خاں کو لکھا تھا کہ میں نے لیکھرام کے واسطے دعا کی ہے،تومجھے خبردی گئی ہے کہ تیری دعا قبول ہو گئی ہے اور خدا تعالیٰ اس کو ہیبت ناک موت سے مارے گا۔یہی نمونہ تمہارے سامنے پیش کرتا ہوں۔کہ اگر یہ دعا قبول نہ ہوئی،تو تمہارے دعویٰ کا ثبوت ہوا۔اور اگر قبول ہو گئی تو تم اس عقیدہ سے توبہ کرنا ۔اور وہ لیکھرام کی موت کودیکھ کر فوت ہواتھا ۔

پس اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے

لَا تُدْرِکُہُ الْاَبْصَارُوَھُوَیُدْرِکُ الْاَبْصَارَ(الانعام:104)

آنکھیں تو اس کو دیکھ نہیں سکتیں۔اور وہ آنکھوں کو دیکھ سکتا ہے۔جب وجودی ہو گیا۔تو پھر باقی کیا رہ گیا۔

اصل میں یہ سب مذاقی باتیں ہیں۔ثبوت تو وہ ہے جس کا نمونہ انسان دکھلا دیوے۔آنحضرت ﷺ۔موسیٰ ؑ۔عیسیٰ ؑکے مصائب پر ذرا غور کرو۔

ان باتوں کے ذکر کی ضرورت نہیں۔اول خدا سے تعلق پیدا کرو۔جب انسان کسی گھر میں داخل ہوتا ہے،تو اندر کے حالات کا آپ ہی پتہ لگ جاتا ہے۔جبتک گھر سے ہزاروں کوس دور ہے تو اندر کے حالات کس طرح بتلا سکے گا۔یہ مناسب ہے کہ چند روز ہمارے پاس رہیں اور خاص ہمارے سلسلہ کے متعلق جو اعتراض ہوں وہ بیان کریں۔

تو کارے زمیں را نکو ساختی

کہ با آسماں نیز پرداختی

ہم نے بعض آدمی ایسے دیکھے ہیں جو کہتے ہیں کہ اجی اس جھگڑے کو جانے دو۔رفع یدین اور انگلی کے اُٹھانے کا فیصلہ کرو۔مگر یہ اپنا اپنا مذاق ہوتا ہے۔

(ملفوظات جلد سوم صفحہ 434)

اس حصہ میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے شیخ سعدی کا فارسی کا یہ شعر استعمال کیاہے۔

تُوْ کَارِے زَمِیْں رَا نِکُوْسَاخْتِیْ

کِہ بَا آسِمَاںْ نِیْز پَرْدَاخْتِی

ترجمہ:۔ کیا تو نے زمینی کاموں کودرست کرلیاہے کہ آسمانی کاموں کی طرف بھی متوجہ ہوگیاہے

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close