پریس ریلیز (Press Release)

جماعت احمدیہ برطانیہ کے 55 ویں جلسہ سالانہ کا بابرکت انعقاد

امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے پانچ ایمان افروز خطابات

ایک لاکھ پچیس ہزار سے زائد افراد کی جماعت احمدیہ مسلمہ میں شمولیت

’’اگر حکومتیں اپنے فرائض کو نہیں سمجھیں گی اور دوسروں کے حقوق ادا نہیں کریں گی تو پھر عالمگیر جنگ کے لیے بھی تیار رہیں جس کی تباہی پھر ہر تصور سے باہر ہے۔‘‘

8؍اگست 2021ء کو امام جماعت احمدیہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز، حضرت مرزا مسرور احمد نے جماعت احمدیہ کے 55ویں جلسہ سالانہ سے اختتامی خطاب فرمایا۔

یوکے بھر سے 8000 احباب جلسہ سالانہ یوکے میں شامل ہوئے، جو حدیقۃ المہدی Alton، Hampshire میں منعقد ہوا۔گزشتہ سال کی عالمی وبا سے پہلے 35000 افراد نے دنیا بھر سے جلسہ سالانہ میں بھرپور شرکت کی تھی۔ امسال محض یوکے سے 18 سے 65سال تک کے ایسے احباب کو جنہیں ویکسینیشنکی دونوں خوراکیں لگ چکی تھیں، جلسہ سالانہ میں شرکت کی اجازت تھی۔

حدیقۃ المہدی پہنچ کر جلسہ میں شامل ہونے والے ہزاروں احمدی مسلمانوں کے علاوہ ملک بھر میں کئی ریجنز میں اور پوری دنیا میں آن لائن ایسے انتظامات کیے گئے تھے کہ لوگ اس جلسہ کی کارروائی کو براہ راست دیکھ سکیں۔ جلسہ سالانہ کے جملہ پروگرامز ایم ٹی اے پر براہ راست بھی نشر کیے گئے۔

اپنے اختتامی خطاب میں حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے حاضرین جلسہ کو معاشرے کے مختلف طبقات کے حقوق کے بارے میں اسلامی تعلیمات سے روشناس کیا جن میں دوست، بیمار، یتیم، جن سے کوئی عہد باندھا گیا ہو اور جن سے جنگ کی جا رہی ہو شامل ہیں۔

حضور انور نے فرمایا کہ آپ کا اختتامی خطاب دراصل جلسہ سالانہ 2019ء کے اختتامی خطاب کا ہی تسلسل ہے جس میں آپ نے معاشرے کے دیگر طبقات کے حقوق کے بارے میں توجہ دلائی تھی جن میں والدین، بچے، میاں بیوی، بیوگان، بزرگ، غیر مسلم، ہمسائے اور دیگر شامل تھے۔

شکر گزاری کے جذبات اور ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کے حوالہ سے حضور انور نے فرمایا کہ یہ یقینی بات ہے کہ معاشرے کے مختلف طبقات کے حقوق اس وقت تک قائم نہیں ہو سکتے جب تک کہ اس بات پر یقین نہ ہو کہ ہمارا ایک پیدا کرنے والا خدا ہے اور اس کا حق ادا کرنا بھی ضروری ہے۔

مزید فرمایا کہ اللہ تعالیٰ جو سب طاقتوں کا مالک ہے رب ہے، ہر چیز دینے والا ہے جس کی شکرگزاری ایک انسان پر لازم ہے کہ کس طرح وہ اپنی ربوبیت، رحمانیت اور رحیمیت کے نظارے دکھاتا ہے۔ مزید برآں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اگر تم سے کوئی نیک سلوک کرے اور تم اس کا شکریہ ادا نہیں کرتے تو تم اللہ تعالیٰ کے بھی شکرگزار نہیں ہو۔ پس اللہ تعالیٰ نے تو ہر موقع پر ہمیں بتایا کہ تم ایک دوسرے کے حق ادا کرو تبھی میرے حق ادا کرنے والے بنو گے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی شکرگزاری کے لیے بھی بندوں کی شکرگزاری کا کہہ کر اپنے حق کو بھی بندوں کے حق کی ادائیگی سے مشروط کر دیا۔ پس یہ ہے اسلام کی خوبصورت تعلیم اور یہ ہے اسلام کا خدا جو ایک دوسرے کے حقوق کو اس طرح قائم کرنے کی تلقین فرماتا ہے۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دوستی کی اہمیت پر روشنی ڈالی اور دوستی کے حقوق ادا کرنے کے حوالہ سے اعلیٰ معیار کی وضاحت فرمائی۔ حضور انور نے فرمایا کہ حقیقی دوست وہی ہو سکتے ہیں جن کے دل صاف ہیں۔ اگر دل صاف نہیں تو پھر دوستی کیسی اور جب ایسے لوگوں کو دوست بنا لو جن کے دل صاف ہیں تو پھر ان کا حق بھی ادا کرو۔

پھر فرمایا کہ حضرت ابوامامہؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جس شخص نے اللہ کی خاطر محبت کی اور اللہ کی خاطر نفرت کی اور اللہ کی خاطر دیا اور اللہ ہی کی خاطرکچھ دینے سے رکا رہا تو یقینا ًاس نے اپنا ایمان مکمل کر لیا۔ خدا کی خاطر دوستی نبھانا ہی حقیقی دوستی قائم رکھ سکتا ہے اور رکھتا ہے۔ یہ پھر عارضی دوستی نہیں ہوتی جس میں دراڑیں پڑ جائیں۔

حضور انور نے آنحضرت ﷺ کی ایک حدیث بیان فرمائی کہ حضرت ابودرداءؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو بھی مسلمان اپنے بھائی کے لیے اس کی غیرموجودگی میں دعا مانگتا ہے تو فرشتہ اس کے حق میں کہتا ہے کہ تیرے لیے بھی اسی طرح ہو۔

حضورِ انور نے ہر قسم کے حالات میں دوستی کے حقوق ادا کرنے کی اہمیت واضح فرمائی۔ حضورِ انور نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے ایک ارشاد کے حوالے سے فرمایا:

میرا یہ مذہب ہے کہ جو شخص ایک دفعہ مجھ سے عہد دوستی باندھے۔ مجھے اس عہد کی اتنی رعایت ہوتی ہے کہ وہ کیسا ہی کیوں نہ ہو اور کچھ ہی کیوں نہ ہو جائے میں اس سے قطع تعلق نہیں کر سکتا۔ ہاں اگر وہ خود قطع تعلق کر دے تو ہم لاچار ہیں ورنہ ہمارا مذہب تو یہ ہے کہ اگر ہمارے دوستوں میں سے کسی نے شراب پی ہو اور بازار میں گرا ہوا ہو اور لوگوں کا ہجوم اس کے گرد ہو تو بلاخوف لومۃ لائم کے اسے اٹھا کر لے آئیں گے۔ عہد دوستی بڑا قیمتی جوہر ہے۔ اس کو آسانی سے ضائع کر دینا نہ چاہیے اور دوستوں سے کیسی ہی ناگوار بات پیش آوے اسے اغماض اور تحمل کے محل میں اتارنا چاہیے۔

دوران خطاب حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے بیماروں کی عیادت کی اہمیت اور یتیموں کے حقوق کی ادائیگی کے بارے میں تفصیل سے وضاحت کرتے ہوئے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ

فَامَّا الْیَتِیْمَ فَلَا تَقْھَرْ۔

پس جہاں تک یتیم کا تعلق ہے اس پر سختی نہ کرو۔ یہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے یتیم کا حق ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی ہے جو معاشرے کا کمزور حصہ ہے بلکہ کمزور ترین حصہ ہے کہ جب تک بلوغت کو نہیں پہنچ جاتا اس کی حفاظت کرو، اس کے تمام حقوق کی حفاظت کرو اور یہی ایک مومن کے لیے لازمی شرط ہے۔

حضورِ انور نے جن کے ساتھ عہد باندھا گیا ہو یا کوئی معاہدہ کیا گیا ہو کے بارے میں فرمایا کہ ایسے عہد یا معاہدے کی پاسداری ہر سچے مسلمان پر فرض ہے۔ بعد ازاں حضور انور نے جنگوں کے دوران آنحضرت ﷺ کے اسوۂ حسنہ کا ذکر فرمایا کہ کس طرح آپؐ نے ایک قابل تقلید نمونہ قائم فرمایا ہے اور آپ ﷺ کے بعد آپ کے خلفائے راشدین نے بھی اسی پر عمل کیا۔ یوں اسلامی نیک مثالوں اور حوالہ جات کاآج کے دور کے منافقانہ لیڈروں اور حکومتوں سے موازنہ کرتے ہوئے فرمایا: آج دنیا کی بڑی بڑی حکومتیں جو اپنے آپ کو عدل و انصاف کا علمبردار قرار دیتی ہیں اور جن کا وجود امن عالم کے قیام کی ضمانت سمجھا جاتا ہے ان کی یہ کیفیت ہے کہ وہ دشمن اقوام کو ہمیشہ ایٹمی ہتھیاروں سے ہلاک کرنے کی دھمکی دیتی رہتی ہیں بلکہ عملاً گذشتہ جنگ عظیم میں ہیروشیما اور ناگا ساکی پر ایٹم بم گرا کر لاکھوں بے گناہ جاپانی مردوں اور عورتوں اور بچوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا اور اب بھی مختلف شہروں میں جو حملے ہوتے ہیں، جنگیں ہو رہی ہیں؛ عراق میں کیا ہوا؛ فلسطین میں کیا ہوا؛ شام میں کیا ہوا؛ یمن میں کیا ہو رہا ہے ۔سب کچھ یہی ہو رہا ہے اور اسے امن عالم کے قیام کے لیے ایک بڑا بھاری کارنامہ قرار دے کر اسے سراہا جاتا ہے کہ ہم نے کارنامہ سرانجام دے دیا۔ لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور خلفائے راشدین کے زمانے میں کہیں ایسا ظلم دکھائی نہیں دیتا کہ برسرپیکار ہونے کی حالت میں بھی انہوں نے بے گناہ مردوں اور عورتوں اور بچوں کو تہ تیغ کیا ہو مگر یہ لاکھوں افراد کے ناجائز خون سے اپنے ہاتھ رنگنے والے تو عدل و انصاف کے مجسمے کہلاتے ہیں اور وہ مسلمان جنہوں نے اپنے پاؤں تلے کبھی ایک چیونٹی کو بھی نہیں مسلا تھا انہیں یہ لوگ ڈاکو اور لٹیرا قرار دیتے ہیں۔

اپنے خطاب کے اختتام پر حضور انور نے دنیا کے لیڈروں کو ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کے حوالہ سے توجہ دلائی اور اس بات کا اعادہ کیا اور تنبیہ فرمائی کہ اگر آپ کی نصیحت کو نظر انداز کیا گیا تو دنیا بہت جلد ایسے تنازعات کا شکار ہو جائے گی جس کا نتیجہ بہت بھیانک ہوگا۔

حضور انور نے فرما یا: پس یہ چند حقوق میں نے مزید بیان کیے ہیں اور یہی حقوق ہیں جن کو قائم کر کے ہم معاشرے میں اور دنیا میں امن کی فضا قائم کر سکتے ہیں، امن قائم کر سکتے ہیں ورنہ دنیا میں امن کی کوئی ضمانت نہیں ہے خاص طور پر جنگ کرنے والوں کے حقوق جو میں نے ذکر کیا ہے اس طرح اگر حکومتیں اپنے فرائض کو نہیں سمجھیں گی اور دوسروں کے حقوق ادا نہیں کریں گی تو پھر عالمگیر جنگ کے لیے بھی تیار رہیں جس کی تباہی پھر ہر تصور سے باہر ہے۔ اللہ تعالیٰ ان دنیاداروں اور ان دنیاوی حکومتوں کو عقل دے اور اپنی اناؤں کی بجائے انسانیت کو بچانے کی فکر کرنے والے ہوں۔

اس حوالہ سے احمدی مسلمانوں کو ان کے فرائض کی طرف توجہ دلا تے ہوئے حضور انور نے فرمایا

پس اس لحاظ سے آج ہر احمدی کا کام ہے کہ دعا کرے کہ دنیا تباہی اور بربادی سے بچ جائے اور واحد اور لاشریک خدا کو مان لے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کو سمجھنے والی اور عمل کرنے والی بن جائے اور یہی ان کی بقا ہے اور یہی ان کی بقا کی ضمانت ہے یہی ان کی نسلوں کی بقا کی ضمانت ہے۔ اللہ تعالیٰ ان کو عقل دے۔

جلسہ سالانہ کے دوران حضور انور نے پانچ خطابات فرمائے جن میں خطبہ جمعہ، مستورات سے خطاب اور احمدیہ مسلم جماعت کی سالانہ ترقیات پر مبنی خطاب بھی شامل تھے۔

6؍ اگست کو خطبہ جمعہ میں حضور انور نے جلسہ میں شریک ہونے والوں کے لیے برکتوں کا ذکر فرمایا اور فرمایا کہ اس وبا کی وجہ سے اگرچہ بہت سے لوگ جلسہ میں جسمانی طور پر شریک نہیں ہوسکے تاہم آن لائن شرکت کرکے بھی ان برکات سے مستفید ہواجا سکتا ہے۔ اس حوالہ سے حضور انور نے فرمایا: آج کل جو وبا پھیلی ہوئی ہے اس کی وجہ سے یہاں شامل ہونے والوں کی تعداد بہت محدود ہے لیکن گھروں میں اور بعض جگہ مجھے بتایا گیا ہے کہ جماعتی انتظام بھی ہے اس کے تحت مساجد میں یا جہاں ہال میسر ہیں وہاں ہالوں میں جلسہ سنا جائے گا۔ بہرحال جو بھی اس طرح جلسہ میں شامل ہو رہے ہیں وہ بھی اس سوچ کے ساتھ جلسہ میں شامل ہوں کہ گویا وہ جلسہ گاہ میں ہی ہیں اور تینوں دن پروگراموں کو سنیں اور دعاؤں میں گزاریں۔

حضورِ انور نے ان لوگوں کو جن کو جلسہ سالانہ کے لیے دعوت نامے ملے تھے تاکید فرمائی کہ وہ سوائے اشد مجبوری کے ضرور جلسہ میں شامل ہوں۔ نیز حضور انور نے احباب جماعت کو خراب موسم کے باوجود دلجمعی کے ساتھ جلسے میں شامل ہونے کی نصیحت فرمائی۔

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اس حوالہ سے اپنا ایک واقعہ یوں بیان فرمایا کہ مجھے یاد ہے کہ ایک جلسہ میں مَیں شامل ہوا تو بارش کی وجہ سے جلسہ گاہ کے اندر بھی کچھ حصہ میں پانی آ گیا اور زمین گیلی ہو گئی۔ کناروں پر تو پانی کھڑا تھا اور جو لوگ کناروں پہ کھڑے ہو کے نماز پڑھتے تھے ان کے گھٹنے اور ماتھے پانی میں ہوتے تھے یا کیچڑ میں ہوتے تھے۔ خود میرے ساتھ بھی اسی طرح ہوا اور سجدے سے سر اٹھا کر پہلے ماتھا صاف کرنا پڑتا تھا کہ آنکھوں میں پانی یا کیچڑ نہ آجائے یا گھاس پھوس لگا ہوتا تھا لیکن سب لوگ مَیں نے دیکھا ہے ایک جذبے سے جلسہ میں شامل ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب بھی یہ جذبہ ہے اور کہنا چاہیے کہ احمدیوں کی تقریباً اکثریت میں یہ جذبہ موجود ہے۔

جمعۃ المبارک کو بعد دوپہر حضور انور نے جلسہ سالانہ برطانیہ کا افتتاحی خطاب فرمایا جس میں احباب جماعت کو اعلیٰ اخلاق پیدا کرنے، روحانیت میں ترقی کرنے اور تقویٰ پر چلنے نیز جلسہ کے بابرکت ماحول سے فائدہ اٹھانے کی طرف توجہ دلائی۔

حضور انور نے فرمایا: ان دنوں میں ہر ایک کو اپنے جائزے لینے چاہئیں… حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے فرمایا کہ ہر احمدی کو آپس میں محبت و مؤاخات کا نمونہ بھی ہونا چاہیے۔ ایسی محبت اور ایسا بھائی چارہ ہو جو ایک نمونہ ہو اور جلسہ کے مقاصد میں سے ایک یہ مقصد بھی ہے جو افراد جماعت کے دلوں میں پیدا کرنا ہے۔

حضور انور نے مزید فرمایا کہ اللہ کرے کہ … یہ روحانی ماحول ہمارے اندر زہد، خدا ترسی، پرہیزگاری، نرم دلی، آپس کی محبت و اخوت، انکسار اور عاجزی اور سچائی کے اعلیٰ معیار پیدا کرنے والا بن جائے۔

مورخہ 07؍جولائی بروز ہفتہ حضورِ انور نے مستورات سے اسلام میں عورت کی عزت اور بلند مقام کے موضوع پر خطاب فرمایا۔ حضور انور نے اپنے خطاب میں عورتوں کے حقوق پر روشنی ڈالی۔

حضور انور نے فرمایا کہ عورت اگر اگلی نسل کو سنبھالنے کے لیے تعلیم کے زیور سے آراستہ ہوتی ہے تو یہ اسے جنت کی خوشخبری دیتی ہے جس کا ایک دوسری حدیث میں یوں ذکر آیا ہے کہ جنت ماؤں کے قدموں کے نیچے ہے یعنی اولاد کی اعلیٰ تربیت اور تعلیم صرف ماؤں کو جنت میں نہیں لے جاتی بلکہ بچوں کو بھی جنت میں لے جانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ یہ کتنا بڑا اعزاز اور مقام ہے جو مرد کو نہیں دیا گیا بلکہ عورت کو دیا گیا بلکہ عورت کی عزت کو اس سے بھی بڑھ کر بیان کیا گیا ہے۔

حضور انور نے مزید فرمایا کہ پس نیک عورت، مومنہ عورت ایسی ہے جو مردوں سے کئی قدم آگے ہو سکتی ہے اور جس قوم کی عورتیں نیکی میں آگے ہوں تعلیم یافتہ اور تربیت یافتہ ہوں اپنے بچوں کی صحیح اسلامی تعلیم کی روشنی میں تربیت کرنے والی ہوں تو پھر اگلی نسلیں جن میں لڑکے بھی شامل ہیں لڑکیاں بھی ایسی نکلیں گی جو نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے والی ہوں گی بڑھنے والی ہوں گی۔

حضورِ انور نے فرمایا کہ اسلام میں بیان کردہ عورت کا مقام اور اس کی عزت اور شرف کسی بھی نام نہاد حقوقِ نسواں کے علمبردار قانون سے بہت بلند ہے اس لیے احمدی خواتین کو اپنے آپ کو دنیا کے سامنے بطور نمونہ پیش کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ یا احساس کمتری میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔

اس حوالہ سے احمدی خواتین کے فرائض اور ذمہ داریاں بیان کرتے ہوئے حضور انور نے فرمایا کہ ہر احمدی عورت اور ہر احمدی بچی کو اپنے مقام کو سمجھنا چاہیے اور اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے طریق پر چلتے ہوئے اپنی زندگیوں کو سنوارنے کی کوشش کرنی چاہیے نہ کہ آزادی اور حقوق کے نام پر اندھی تقلید کرتے ہوئے ان دنیاداروں کے پیچھے چلنا شروع کر دیں ۔

حضور انور نے مزید فرمایا: دنیا کو عورت کا مقام اور اس کی عزت اور شرف کے بارے میں بتاناآج احمدی عورت اور احمدی بچی کا کام ہے جس کے لیے بغیر کسی احساس کمتری کے ہر ایک کو کوشش کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔

ہفتہ کے روز بعد دوپہر حضور انور نے ایک اور بصیرت افروز خطاب فرمایا جس میں دوران سال ہونے والے کاموں اور جماعت پر نازل ہونے والے خدا تعالیٰ کے افضال کا ذکر فرمایا۔

اس خطاب میں سے چند ایک بنیادی نکات درج ذیل ہیں:

٭… اس سال دنیا بھر میں (پاکستان کے علاوہ) 403 نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔

٭… اس سال کووڈ کی پابندیوں کی وجہ سے کھل کے تبلیغ نہیں ہوسکتی تھی لیکن اس کے باوجود اس سال اللہ تعالیٰ نے ایک لاکھ پچیس ہزار دو سو اکیس (125221) بیعتیں عطا فرمائی ہیں جو گذشتہ سال کی نسبت تیرہ ہزار سے زائد ہیں۔

٭…دوران سال نئی مساجد کی تعمیر اور جماعت کو عطا ہونے والی مساجد کی کُل تعداد 211ہے۔ 31مساجد کے ساتھ گھانا اس میں سر فہرست ہے۔

٭…رقیم پریس فارنہم، یوکے کے ذریعہ سے چھپنے والی کتب کی تعداد تین لاکھ پندرہ ہزار سے زائد ہے۔

٭… ایم ٹی اے انٹرنیشنل کے آٹھ چینل چوبیس گھنٹے نشریات پیش کر رہے ہیں۔

٭… اس وقت جماعت احمدیہ کے ریڈیو سٹیشنز کی تعداد 27ہے۔ ان میں سے مالی میں 17 ہیں۔ اسی طرح ترکی زبان میں صدائے اسلام کے نام سے انٹرنیٹ ریڈیو کا قیام عمل میں آیا ہے۔

٭… مختلف زبانوں کے ڈیسکس میں قرآن کریم اور حضرت مسیح موعودؑ کی کتب کے تراجم کا کام جاری ہے۔

٭… مجلس نصرت جہاں کے تحت 12 ممالک میں 37 ہسپتال اور کلینک کام کر رہے ہیں۔ ان ہسپتالوں میں 49 مرکزی اور 14 مقامی ڈاکٹر خدمت انجام دے رہے ہیں۔ اسی طرح 593 سکول میں 21 مرکزی اساتذہ کام کر رہے ہیں۔

٭…انصار اللہ یوکے نے برکینافاسو میں مسرور آئی انسٹیٹیوٹ کی تعمیر کی ہے جو عنقریب انشاء اللہ کام شروع کر دے گا۔

حضور انور نے اپنے خطاب کے آخر میں حضرت مسیح موعودؑ کا درج ذیل ارشاد پڑھاجس میں حضورؑ اپنے مخالفین سے مخاطب ہیں۔ حضورؑ فرماتے ہیں :

’’باز آ جاؤ اور اس کے قہر سے ڈرواور یقینا ًسمجھو کہ تم اپنے مفسدانہ حرکات پر مہر لگا چکے ہو۔ اگر خدا تمہارے ساتھ ہوتا تو اس قدر فریبوں کی تمہیں کچھ بھی حاجت نہ ہوتی۔ تم میں سے صرف ایک شخص کی دعا ہی مجھے نابود کر دیتی مگر تم میں سے کسی کی دعا بھی آسمان پر نہ چڑھ سکی بلکہ دعاؤں کا اثر یہ ہوا کہ دن بدن تمہارا ہی خاتمہ ہوتا جاتا ہے۔ کیا تم دیکھتے نہیں کہ تم گھٹتے جاتے ہو اور ہم بڑھتے جاتے ہیں۔ اگر تمہارا قدم کسی سچائی پر ہوتا تو کیا اس مقابلے میں تمہارا انجام ایسا ہی ہونا چاہیے تھا۔‘‘

آخر پر حضور نے فرمایا:

اللہ تعالیٰ ان مخالفین کو بھی عقل دے اور دنیا کے تمام انسانوںکو عقل دے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیغام کو سمجھیں۔ اسلام کے حقیقی پیغام کو سمجھیں اور دنیا میں جو اللہ تعالیٰ نے اپنا فرستادہ بھیجا ہے اس کو مان کر اپنی دنیا و عاقبت سنوارنے والے بنیں۔

جلسہ سالانہ یوکے 2021ء کا اختتام دعا کے ساتھ ہوا جو حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے کروائی۔

بشکریہ مرکزی پریس اینڈ میڈیا آفس:

More Than 125,000 People Join The Ahmadiyya Muslim Community

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close