پریس ریلیز (Press Release)

2018ء : وطن عزیز پاکستان میں احمدیوں کےبنیادی انسانی حقوق کی پامالی کا سلسلہ جاری رہا۔

بانی جماعت احمدیہ کا تمام لٹریچر اور جماعت احمدیہ کے تمام جرائد کے ساتھ ساتھ احمدیوں کی ویب سائٹ بھی پابندی کی زد میں رہی۔ پاکستانی احمدی آزادی اظہار رائے کے حق سےمحروم رہے۔

عام انتخابات میں مساوی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مذہبی تفریق کی بنا پر صرف احمدیوں کے لیے الگ ووٹر لسٹ بنائی گئی۔

منظم منصوبہ بندی کے تحت احمدی عبادت گاہوں کو پرتشدد ہجوم نے نقصان پہنچایا ۔انتظامیہ تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی۔

احمدیوں کے خلاف نفرت انگیز مہم جو خصوصاً سوشل میڈیا پر چلتی رہی اور اس پر حکومتی اداروں نے بےحسی او ر مجرمانہ غفلت کا مظاہرہ کیا۔

اردو ذرائع ابلاغ نے احمدیوں کے خلاف2389نفرت انگیز خبریں اور 300مضامین شائع کیے۔

احمدیوں کے خلاف امتیازی قوانین ختم کرتے ہوئے بنیادی انسانی حقوق بحال کیے جائیں:ترجمان جماعت احمدیہ پاکستان

چناب نگر۔پ ر۔جماعت احمدیہ نے پاکستان میں اپنے ساتھ ہونے والے امتیازی اور متعصبانہ سلوک کے حوالے سے سالانہ رپورٹ جاری کر دی۔ترجمان جماعت احمدیہ سلیم الدین نے رپورٹ جاری کرتے ہوئے کہا کہ پاکستانی احمدی ایک طویل عرصہ سے بنیادی انسانی حقوق سے محروم ہیں۔سال 2018ء میں بھی احمدی بنیادی حقوق سے محروم رہے ۔انہوں نے کہا کہ گذشتہ سال احمدیوں کے ساتھ ہونے والے امتیازی اور متعصبانہ سلوک میں شدت محسوس کی گئی۔نفرت انگیز مہم عروج پررہی۔انتخابات کا سال ہونے کی بنا پر سیاسی جماعتوں کے امیدواروں بشمول وزیراعظم پاکستان عمران خان نے مذہبی انتہا پسند طبقے کی خوشنودی کے حصول کے لیے احمدیوں کے خلاف نفرت انگیز بیانات دیے۔جبکہ انتخابات میں صرف احمدیوں کے لیے الگ ووٹرلسٹ بنا کر احمدیوں کو مرکزی سیاسی دھارے سے الگ کر دیا گیا جو کہ جمہوریت کے بنیادی اصول اور مخلوط طرز انتخاب کی روح کے خلاف ہے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ احمدیوں کو پاکستان میں مذہبی آزادی حاصل نہیں اور آئے روز حکومت کی جانب سےایسے اقدامات کیے جاتے ہیں جن کے نتیجے میں پاکستان میں احمدیوں کے لیے معمول کی زندگی گزارنا ناممکن بنا دیا گیا ہے۔احمدیوں کو تبلیغ پر پابندیوں کے ساتھ ساتھ مذہبی فرائض کی بجاآوری پربھی دشواری کا سامنا ہےاور انہیں مسلسل بے جا مقدمات میں گھسیٹا جا رہا ہے۔

ترجمان نے کہا کہ قومی شناختی کارڈ کے حصول کے لیے NADRAکےمجوزہ فارم میں کالم نمبر20 میں شہری اپنامذہب بیان کرتا ہے۔جو فرد اپنا مذہب اسلام بیان کرتا ہے اس کو آئین پاکستان میں دی گئی‘‘مسلم’’کی تعریف پہ مبنی حلفیہ بیان پر دستخط کرنا پڑتے ہیں۔اس کے باوجود اس فارم میں کالم نمبر38کا غیر ضروری اور غیر منطقی اضافہ کر کے آئینی طور پر غیر مسلم افراد کو اپنے غیر مسلم ہونے کا حلف دینا پڑ رہا ہے۔ کالم نمبر 38صرف احمدیوں کو دیوار سے لگانے کے لیے فارم میں شامل کیا گیا ہے۔اسی طرح سرکاری ملازمین سے حلف لیا جا رہا ہے کہ وہ مسلمان ہیں یا غیر مسلم۔مذہب کے مقدس نام پر پاکستانیوں کو تقسیم کیا جا رہا ہے۔جس سے صرف امتیازی اور متعصبانہ رویوں کو فروغ مل رہا ہے۔

ترجمان جماعت احمدیہ سلیم الدین نے پاکستان کے طول وعرض میں احمدیوں کے خلاف بڑھتی ہوئی نفرت انگیز مہم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذہبی انتہا پسند عناصر کے علاوہ حکومتی ادارے بھی احمدیوں کے متعلق پر تشدد نظریات کے پھیلاؤ میں مصروف ہیں۔ وفاقی حکومت کے زیر انتظام اسلام آباد میں ‘‘ختم نبوت اور مسلمانوں کی ذمہ داریاں ’’ کے عنوان سے ہونے والی کانفرنس میں وزیر اعظم کی موجودگی میں مولوی احمد علی سراج نے احمدیوں سے نمٹنے کے لیے پُرتشدد اقدامات کی کھلے عام تحریک کی۔

ترجمان جماعت احمدیہ نے کہا کہ ملک کے مختلف حصوں میں پڑھائے جانے والے تعلیمی نصاب میں احمدیوں کے خلاف نفرت و تشدد کی تعلیم دی جا رہی ہے جبکہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ وہ ہم آہنگی اور رواداری پر مبنی نصاب تشکیل دے رہی ہے۔

ترجمان نے کہا کہ 1984ء کے امتیازی قوانین کے بعد سے اب تک احمدیوں کے قتل، ہدف بنا کر قاتلانہ حملوں کا نشانہ بنانے ، جماعت احمدیہ کی عبادتگاہوں کو آگ لگانے ،زبردستی قبضہ کرنے اور یہاں تک کہ دنیا سے گز ر جانے والے احمدیوں کے ساتھ بد سلوکی کیے جانےکے واقعات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ا س حوالے سے اعداد وشمار منسلک ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ نیشنل ایکشن پلان میں یہ واضح ایجنڈا دیا گیا تھا کہ نفرت انگیز تحریر وتقریر کے خلا ف قانونی کارروائی کی جائے گی۔ تاہم پاکستان بھر میں احمدیوں کے خلاف کھلے عام نفرت کی ترغیب دی جاتی ہے۔سوشل میڈیا پر تو جماعت احمدیہ کے خلاف اس قدر نامناسب اور غلیظ مواد موجود ہے کہ اس کی مثال بھی پیش نہیں کی جا سکتی ۔حکومتی ادارے اس ضمن میں مکمل طور پر چشم پوشی سے کام لے رہے ہیں۔
ترجمان جماعت احمدیہ نے پاکستان کے اردو ذرائع ابلاغ کے رویہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ 2018ء کے دوران 2389 بے بنیاد اور جھوٹی خبریں اور 300 مخالفانہ مضامین یکطرفہ طور پر شائع کیے گئےاور کسی ایک موقع پر ہمارا موقف لینے کے لیے رابطہ نہیں کیا گیا جو کہ صحافت کے بنیادی ضابطہ اخلاق کے خلاف ہے ۔ اگر کسی موقع پر جماعت احمدیہ نے اپنا موقف دیا تو اس کو نظر انداز کر دیا گیا۔ 6ستمبر کو یوم دفاع و یوم شہداء کے موقع پر ایک اہم ملکی جریدے نے جماعت احمدیہ کا اشتہار شائع کردیا لیکن مٹھی بھر انتہا پسندوں کے کہنے پر اخبار نے اپنے ایمان کی وضاحت کرتے ہوئے معذرت شائع کی اور اشتہار بک کرنے والے اپنے نامہ نگار کو بھی فارغ کر دیا۔

ترجمان نے احمدیوں کے خلاف امتیازی قوانین کو ختم کرتے ہوئے بنیادی انسانی حقوق کی بحالی کا مطالبہ کیا ہے اور پاکستان کے انصاف پسند حلقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احمدیوں اور دوسری برادریوں کے مذہبی بنیادوں پر بنیادی حقوق کی پامالی پر آواز بلند کریں کیونکہ یکساں اور مساوی حقوق ہر شہری کا حق ہیں اور ان حقوق کو نظر انداز کرنے کی بنا پر وطن عزیز میں آج نفرت اور تشدد کو فروغ مل رہا ہے۔

احمدیوں کے انسانی حقوق کی پامالی
کے حوالے سے اعداد وشمار

1984ء کے امتیازی قوانین کے اجراء تا 31 دسمبر 2018ء

٭…عقیدے کے اختلاف کی بنا پر ہد ف بنا کر شہید کیے جانے والے احمدیوں کی تعداد 262
٭…عقیدے کے اختلاف کی بنا پر قاتلانہ حملوں کا نشانہ بننے والے احمدیوں کی تعداد 388
٭…مسمار کی جانے والی احمدی مساجد کی تعداد28
٭…انتظامیہ کی جانب سے سر بمہر کی جانے والی احمدی مساجد کی تعداد39
٭…ہجوم کے ہاتھوں احمدی مساجد کے جلانے اور توڑ پھوڑ کے واقعات 23
٭…احمدی مساجد جن پر زبردستی قبضہ کر لیا گیا 17
٭…انتظامیہ کی جانب سے احمدی مساجد کی تعمیر روکی گئی 58
٭…تدفین کے بعد احمدی افراد کی قبر کشائی کے واقعات 39
٭…مشترکہ قبرستانوں میں احمدیوں کی تدفین روکی گئی 69
٭…احمدیوں کے گھروں اور دکانوں سے کلمہ مٹایا گیا 43
٭…احمدی مساجد سے کلمہ مٹانے کے واقعات کی تعداد 103

مذہبی بنیادوں پر، احمدیوں پر
درج ہونے والے مقدمات کی تعداد

1984ء کے امتیازی قوانین کے اجراء تا 31 دسمبر 2018ء

٭…کلمہ طیبہ لکھنے کے‘‘جرم’’ میں مقدمات 765
٭… اذان دینے پر مقدمات38
٭… خود کو مسلمان ظاہر کرنے پر447
٭… اسلامی اصطلاحات استعمال کرنے پر 161
٭… نماز ادا کرنے پر93
٭… تبلیغ کرنے پر 819
٭… 1989ء میں صد سالہ جشن تشکر منانے پر 27
٭… کسوف و خسوف کا نشان پورا ہونے کی ایک صدی مکمل ہونے کی خوشی منانے پر 50
٭… پمفلٹ ‘‘ایک حرف ناصحانہ’’ تقسیم کرنے پر 27
٭… پمفلٹ ‘‘مباہلہ’’تقسیم کرنے پر 148
٭… توہین قرآن کے بے بنیاد الزام پر46
٭… توہین رسالت کے بے بنیاد الزامات پر 315
٭… احمدی ہونے کی بنا پر مختلف دفعات کے تحت قائم ہونے والے مقدمات1220
جماعت احمدیہ کے چوتھے امام پرجبکہ وہ لندن میں مقیم تھے ،درج ہونے والے مقدمات16
جماعت احمدیہ کے پانچویں امام پرجبکہ وہ لندن میں مقیم ہیں ،درج ہونے والے مقدمات2
٭… ربوہ شہر کے تمام احمدیوں پر 1989ء اور 2008ء میں 298 –سی کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ۔ایک اندازے کے مطابق ربوہ کی آبادی 60000ہزار ہے۔
٭… کوٹلی کے تمام احمدیوں کے خلاف اپنی مسجد کی مرمت کرنے پر 2008ء میں مقدمہ درج کیا گیا۔
٭… کل تعداد مقدمات 4174

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close