خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 09؍جولائی2021ء

حضرت عمرؓ نے عدالت میں مساوات اور انصاف کا لحاظ رکھنے کی تلقین فرمائی

حضرت عمرؓ نے قانونِ شریعت سے واقفیت کے لیے محکمہ افتاء کا قیام فرمایا اور چند صحابہ کو نامزد فرمایا کہ ان کے علاوہ کسی سے فتویٰ نہیں لیا جائے گا

حضرت عمرؓ نے ملک میں امن قائم رکھنے کی خاطر اَحْدَاث یعنی پولیس کا محکمہ قائم فرمایا

آنحضرتﷺ کے عظیم المرتبت خلیفہ ٔراشد فاروقِ اعظم حضرت عمرؓ بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اوصافِ حمیدہ کا تذکرہ

جو چاہتا ہے کہ وہ اَلْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ یعنی قوی اور امانت دار کو دیکھے تو اس شخص (عمرؓ)کو دیکھ لے

اے لوگو !عمر اور اس کی آل کے لیے خواہ وہ قریبی ہو یا دورکا ان کا اتنا ہی حق ہے جتنا عام مسلمانوں کا ہے۔اس سے زیادہ کا نہیں(حضرت عمرؓ)

چوالیس اوّلیاتِ عمر کا بیان

چھ مرحومین : مکرم سرِپتوہادی سسوُویو صاحب آف انڈونیشیا، مکرم چودھری بشیر احمد بھٹی صاحب ابن اللہ داد صاحب بھوڑو ضلع ننکانہ صاحب، مکرم حمید اللہ خادم ملہی صاحب ربوہ، مکرم محمد علی خان صاحب پشاور، مکرم صاحبزادہ مہدی لطیف صاحب آف میری لینڈ امریکہ، عزیزم فیضان احمد سمیر ابن شہزاد اکبر صاحب کارکن دفتر پرائیویٹ سیکرٹری ربوہ کا ذکرِ خیر اور نمازِجنازہ غائب

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 09؍جولائی2021ء بمطابق 09؍وفا1400 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر ہو رہا تھا۔ محکمہ قضا کے اجرا کے بارے میں روایت ہے کہ حضرت عمرؓ نے باقاعدہ قضا کے صیغہ کا اجرا فرمایا۔ تمام اضلاع میں باقاعدہ عدالتیں قائم کیں اور قاضی مقرر کیے۔ حضرت عمرؓ نے قضا کے متعلق قانونی احکامات بھی صادر فرمائے۔

(ماخوذ ازالفاروق از شبلی نعمانی صفحہ195تا 198ادارہ اسلامیات کراچی2004)

قاضیوں کے انتخابات میں ماہرین فقہ کو منتخب کیا جاتا لیکن حضرت عمرؓ اسی پر اکتفا نہیں کرتے تھے بلکہ ان کا امتحان بھی لیتے تھے۔ قاضیوں کی گراں قدر تنخواہیں مقرر فرماتے تاکہ کوئی غلط فیصلہ نہ کر دے۔ دولت مند اور معزز شخص کو قاضی مقرر فرماتے تا کہ فیصلہ کے وقت کسی کے رعب میں نہ آ سکے۔ حضرت عمرؓ نے عدالت میں مساوات اور انصاف کا لحاظ رکھنے کی تلقین فرمائی۔ ایک دفعہ حضرت اُبَیبن کعبؓ کے ساتھ کسی قسم کا جھگڑا تھا۔ حضرت اُبَی ؓنے زید بن ثابتؓ کی عدالت میں مقدمہ کر دیا۔ زیدؓ نے حضرت عمرؓ اور اُبَیکو بلایا اور حضرت عمرؓ کی تعظیم کی تو حضرت عمرؓ نے فرمایا: یہ تمہارا پہلا ظلم ہے۔ یہ کہہ کر اُبَیؓکے ساتھ جا کر بیٹھ گئے۔

(ماخوذ ازالفاروق از شبلی نعمانی صفحہ199، 200 ادارہ اسلامیات کراچی2004ء)

یعنی کہ ہم دونوں اب فریق ہیں۔ فریقین کو فریق کی طرح دیکھو اور ساتھ ساتھ بٹھاؤ، نہ کہ مجھے عزت دو۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ اس واقعہ کا تذکرہ کرتے ہوئے یوں بیان فرماتے ہیں کہ ’’حضرت عمرؓ خلیفہ ثانی کا ایک دفعہ ایک جھگڑا اُبَی بن کعبؓ سے ہو گیا تھا۔ قاضی کے پاس معاملہ پیش ہوا۔ انہوں نے حضرت عمرؓ کو بلوایا اور آپؓ کے آنے پر (قاضی نے) اپنی جگہ ادب سے چھوڑدی‘‘ کہ یہ خلیفۂ وقت ہیں۔ ’’حضرت عمرؓ فریقِ مخالف کے پاس جا بیٹھے اور قاضی سے فرمایا کہ یہ پہلی بے انصافی ہے جو آپ نے کی ہے۔ اس وقت مجھ میں اور میرے فریق مخالف میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہئے تھا۔‘‘

(احمدیت یعنی حقیقی اسلام ۔ انوار العلوم جلد 8 صفحہ 300)

حضرت عمرؓ نے افتاء کا محکمہ بھی جاری فرمایا۔ قانونِ شریعت سے واقفیت کے لیے محکمہ افتاء کا قیام فرمایا اور چند صحابہ کو نامزد فرمایا کہ ان کے علاوہ کسی سے فتویٰ نہیں لیا جائے گا۔ ان میں حضرت علیؓ یعنی فتویٰ دینے والوں میں حضرت علیؓ تھے۔ حضرت عثمانؓ، حضرت معاذ بن جبلؓ، حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ، حضرت أبی بن کعبؓ، حضرت زید بن ثابتؓ، حضرت ابوہریرہؓ اور حضرت ابودرداء ؓتھے۔ ان لوگوں کے سِوا اگر کوئی اَور فتویٰ دیتا تو حضرت عمرؓ اسے منع کر دیتے تھے۔ حضرت عمرؓ ان مفتیان کی بھی وقتاً فوقتاً جانچ کرتے رہتے تھے۔

(ماخوذ ازالفاروق از شبلی نعمانی صفحہ202 ادارہ اسلامیات کراچی2004ء)

حضرت مصلح موعودؓ اس بارے میں فرماتے ہیں ایک صیغہ فتویٰ کا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے بعد زمانۂ خلفاء میں قاعدہ تھا کہ شرعی امور میں فتویٰ دینے کی ہر شخص کو اجازت نہ تھی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ تو اتنی احتیاط کرتے تھے کہ ایک صحابی، غالباً عبداللہ بن مسعودؓ تھے ، جو دینی علوم میں بڑے ماہر بھی تھے اور ایک جلیل القدر انسان تھے انہوں نے ایک دفعہ کوئی مسئلہ لوگوں کو بتایا اور اس کی اطلاع آپؓ کو پہنچی یعنی حضرت عمرؓ کو جب اس کی اطلاع پہنچی تو آپؓ نے فوراً ان سے جواب طلب کیا کہ کیا تم امیر ہو یا امیر نے تم کو مقرر کیا ہے کہ فتویٰ دیتے ہو؟ دراصل اگر ہر ایک شخص کو فتویٰ دینے کا حق ہو تو بہت سی مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں اور عوام کے لیے بہت سے فتاویٰ ابتلا کا موجب بن سکتے ہیں کیونکہ بعض اوقات ایک ہی امر کے متعلق دو مختلف فتوے ہوتے ہیں اور دونوں صحیح ہوتے ہیں۔ یعنی کہ صورت ِحال کے مطابق فتویٰ دیا جاتا ہے۔ مسائل کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو اس میں لچک ہوتی ہے اس صورت میں یہ فتویٰ ہو گا اور اس صورت میں یہ فتویٰ ہو گا مگر عوام کے لیے یہ سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے کہ دونوں کس طرح درست ہیں۔ اس لیے وہ پھر ابتلا میں پڑ جاتے ہیں۔

(ماخوذ از خطاب جلسہ سالانہ 17 مارچ 1919ء انوار العلوم جلد 4صفحہ 404)

پھر اسی طرح محکمہ پولیس کا اجرا کیا۔ حضرت عمرؓ نے ملک میں امن قائم رکھنے کی خاطر اَحْدَاثْ یعنی پولیس کا محکمہ قائم فرمایا۔ اس محکمہ کو احتساب، امن و امان، بازار کی نگرانی وغیرہ کے اختیارات دیے تھے یعنی کہ لوگوں کو دیکھنا کہ وہ صحیح طرح باتوں پر عمل درآمد کررہے ہیں کہ نہیں۔ کسی کے حق مارے جا رہے ہیں تو ان کی ادائیگی کروانا۔ جو انتظامی معاملات تھے انہیں دیکھنا جب تک معاملہ قاضی کے پاس نہیں جاتا۔ امن و امان، بازار کی نگرانی وغیرہ، یہ سارے نگرانی کے اختیارات تھے۔ حضرت عمرؓ نے باقاعدہ جیلیں بھی بنوائیں۔ اس سے قبل جیلوں کا رواج نہیں تھا۔ سخت سزائیں بھی مجرموں کو دی جاتی تھیں۔

پھر اسی طرح بیت المال کا قیام ہے۔ حضرت عمرؓ سے قبل جو بھی مال آتا وہ فوری تقسیم ہو جاتا۔ حضرت ابوبکرؓ کے دور میں ایک مکان خرید کر بیت المال کے لیے وقف کیا گیا لیکن وہ بند ہی رہتا تھا کیونکہ جو بھی مال آتا اسی وقت تقسیم ہو جاتا۔ 15؍ ہجری میں بحرین سے پانچ لاکھ کی رقم آئی تو حضرت عمرؓ نے صحابہ سے مشورہ کیا کہ اس رقم کا کیا کیا جائے۔ ایک رائے یہ تھی کہ سلاطین شام میں خزانے کا محکمہ قائم ہے۔ چنانچہ اس رائے کو حضرت عمر ؓنے پسند فرمایا اور مدینہ میں بیت المال کی بنیاد ڈالی۔ حضرت عبداللہ بن ارقم کو خزانے کا افسر مقرر کیا گیا۔ بعد میں مدینہ کے علاوہ تمام صوبہ جات اور ان کے صدر مقامات میں بیت المال قائم کیے گئے۔ حضرت عمرؓ عمارتوں کی تعمیر میں کفایت شعاری سے کام لیتے تھے مگر بیت المال کے لیے نہایت مستحکم اور شاندار عمارتیں بنوایا کرتے تھے۔ بعد میں ان پر پہرے دار بھی مقرر کیے گئے تھے۔

(ماخوذ ازالفاروق از شبلی نعمانی صفحہ203تا 205 ادارہ اسلامیات کراچی2004ء)

اس کے لیے سیکیورٹی کا پورا نظام تھا۔ بیت المال کے مال کے متعلق حضرت عمرؓ خود حفاظت فرماتے تھے۔ ایک واقعہ تاریخ میں آتا ہے کہ حضرت عثمان بن عفانؓ کے ایک آزاد کردہ غلام بیان کرتے ہیں کہ ایک روز شدید گرمی تھی۔ میں حضرت عثمانؓ کے ہمراہ ’عالیہ‘ مقام میں ان کے مال مویشیوں کے پاس تھا۔ مدینہ سے نجد کی جانب چار سے آٹھ میل کے درمیان کی وادی ہے اسے ’عالیہ‘ کہتے ہیں۔ آپؓ نے ایک آدمی کو دیکھا جو دو نوجوان اونٹ ہانک کر لے جا رہا تھا یعنی حضرت عثمانؓ نے دیکھا کہ ایک آدمی آ رہا ہے اور جوان اونٹ اس کے آگے آگے چل رہے ہیں اور زمین شدید گرم تھی۔ اس پر حضرت عثمانؓ نے فرمایا اس شخص کو کیا ہوا ہے! اگر یہ مدینہ میں رہتا اور موسم ٹھنڈا ہونے کے بعد نکلتا تو اس کے لیے بہتر ہوتا۔ جب وہ شخص قریب آیا تو حضرت عثمانؓ کے ملازم کہتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ نے مجھ سے فرمایا کہ دیکھو یہ کون ہے؟ میں نے کہا چادر میں لپٹا ہوا ایک شخص ہے جو دو نوجوان اونٹ ہانک رہا ہے۔ پھر وہ شخص اَور قریب ہوا تو حضرت عثمانؓ نے پھر فرمایا کہ دیکھو کون ہے؟ میں نے دیکھا تو وہ حضرت عمر بن خطابؓ تھے۔ میں نے عرض کی کہ یہ تو امیر المومنین ہیں۔ حضرت عثمانؓ کھڑے ہوئے اور دروازے میں سے سر باہر نکالا لیکن گرم ہوا کی لپٹ پڑی تو آپؓ نے سر اندر کر لیا اور پھر فوراً ہی دوبارہ حضرت عمرؓ کی طرف منہ کر کے عرض کیا۔ آپؓ کو کس مجبوری نے اس وقت گھر سے نکالا ہے؟ حضرت عمرؓ نے فرمایا صدقے کے اونٹوں میں سے یہ دو اونٹ پیچھے رہ گئے تھے ان کے علاوہ باقی سارے اونٹ ہانک کر لے جائے جا چکے تھے تو میں نے چاہا کہ ان کوچراگاہ میں لے جاؤں۔ مجھے ڈر تھا کہ یہ دونوں کھو جائیں گے۔ پھر اللہ مجھ سے ان کے بارے پوچھے گا۔ حضرت عثمانؓ نے کہا اے امیر المومنین! آپؓ سائے میں آئیں ا ور پانی پئیں۔ ہم آپؓ کے لیے کافی ہیں۔ ہم خدمت کر لیتے ہیں۔ ہم بھیجنے کا انتظام کردیتے ہیں۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: اپنے سائے میں لَوٹ جاؤ، تم جاؤ سائے میں بیٹھو۔ حضرت عثمانؓ کے آزاد کردہ غلام کہتے ہیں کہ میں نے عرض کیا: ہمارے پاس وہ ہے جو آپؓ کے لیے کافی ہے۔ اس پر حضرت عمر ؓنے فرمایا: اپنے سائے کی طرف لوٹ جاؤ۔ پھر حضرت عمرؓچلے گئے۔ حضرت عثمانؓ نے کہا جو چاہتا ہے کہ وہ اَلْقَوِیُّ الْاَمِیْنُ یعنی قوی اور امانت دار کو دیکھے تو اس شخص کو دیکھ لے۔

ایک دوسری روایت میں آتا ہے کہ عمر بن نافع نے ابوبکر عیسیٰ سے روایت کر کے بیان کیا۔ وہ کہتے تھے میں حضرت عمر بن خطابؓ ،حضرت عثمان بن عفانؓ اور حضرت علی بن ابی طالبؓ کے ساتھ صدقے کے وقت آیا۔ حضرت عثمانؓ سائے میں بیٹھ گئے اور حضرت علیؓ ان کے پاس کھڑے ہو کر وہ باتیں ان سے کہتے جاتے جو حضرت عمرؓ کہتے تھے اور حضرت عمرؓ باوجود سخت گرمی کے دن ہونے کے دھوپ میں کھڑے تھے اور آپؓ کے پاس دو سیاہ چادریں تھیں۔ ایک کی تہبند باندھ لی تھی اور ایک سر پر ڈال لی تھی اور صدقے کے اونٹوں کا معائنہ کر رہے تھے اور اونٹ کے رنگ اور ان کی عمریں لکھتے تھے۔ حضرت علیؓ نے حضرت عثمانؓ سے کہا کہ کتاب اللہ میں تم نے حضرت شعیب کی بیٹی کا یہ قول سنا ہے؟ اِنَّ خَيْرَ مَنِ اسْتَاْجَرْتَ الْقَوِيُّ الْاَمِيْنُ۔(القصص:27) یقیناً جنہیں بھی تُو نوکر رکھے ان میں بہترین وہی ثابت ہو گا جو مضبوط اور امانت دار ہو۔ پھر حضرت علیؓ نے حضرت عمرؓ کی طرف اشارہ کر کے کہا یہ وہی الْقَوِيُّ الْاَمِيْنُ ہے۔

(اسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ جلد3صفحہ667 عمربن الخطاب مطبوعہ دارالفکر بیروت لبنان2003ء)

(عمدۃ القاری شرح صحیح البخاری جلد 16 صفحہ 279 مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت)

حضرت مصلح موعودؓ اس بارے میں واقعہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک واقعہ ہے۔ حضرت عثمانؓ بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں میں ایک دفعہ باہر قُبَّہمیں بیٹھا ہوا تھا اور اتنی شدید گرمی پڑ رہی تھی کہ دروازہ کھولنے کی بھی ہمت نہیں پڑتی تھی کہ اتنے میں میرے غلام نے مجھے کہا دیکھئے اس شدید دھوپ میں باہر ایک شخص پھر رہا ہے۔ مَیں نے پردہ ہٹا کر دیکھا تو مجھے ایک شخص نظر آیا جس کا منہ شدتِ گرمی کی وجہ سے جھلسا ہوا تھا۔ میں نے اس سے کہا کہ کوئی مسافر ہو گا مگر تھوڑی دیر ہی گزری تھی کہ وہ شخص میرے قُبَّہ کے قریب پہنچا اور میں نے دیکھا کہ وہ حضرت عمرؓ ہیں۔ ان کو دیکھتے ہی میں گھبرا کر باہر نکل آیا اور میں نے کہا: اس وقت گرمی میں آپ کہاں؟ حضرت عمرؓ فرمانے لگے: بیت المال کا ایک اونٹ گم ہو گیا تھا جس کی تلاش میں میں باہر پھر رہا ہوں۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد8 صفحہ314-315)

اونٹ کے گمنے کا یہ بھی ایک واقعہ آتا ہے۔ پہلے بھی ایک دفعہ بیان ہو چکا ہے۔

حضرت عمرؓ ایک دفعہ بیت المال کا مال تقسیم کر رہے تھے کہ ان کی ایک بیٹی آ گئی اور اس نے اس مال میں سے ایک درہم اٹھا لیا۔ حضرت عمرؓ اسے لینے کے لیے اٹھے۔ آپؓ کے ایک کندھے سے چادر ڈھلک گئی اور وہ بچی اپنے گھر والوں کے پاس روتی ہوئی بھاگ گئی اور وہ درہم اس نے اپنے منہ میں ڈال لیا۔ حضرت عمر ؓنے انگلی ڈال کر اس کے منہ سے وہ درہم نکالا اور اس کو مال میں لا کر رکھ دیا اور کہا اے لوگو !عمر اور اس کی آل کے لیے خواہ وہ قریبی ہو یا دورکا ان کا اتنا ہی حق ہے جتنا عام مسلمانوں کا ہے۔اس سے زیادہ کا نہیں۔ ایک اَور روایت ہے۔ حضرت ابوموسیٰ نے ایک دفعہ بیت المال میں جھاڑو دیا تو ان کو ایک درہم ملا۔ حضرت عمرؓ کا ایک چھوٹا بچہ گزر رہا تھا تو انہوں نے وہ اس کو دے دیا۔ حضرت عمرؓنے وہ درہم اس بچے کے ہاتھ میں دیکھ لیا تو آپ نے اس کے بارے میں پوچھا: اس نے کہا کہ یہ مجھے ابوموسیٰ نے دیا ہے تو یہ معلوم کر لینے کے بعد کہ درہم بیت المال کا ہے، حضرت عمر ؓنے فرمایا کہ اے ابوموسیٰ !کیا اہل مدینہ میں سے آلِ عمر کے گھر سے زیادہ حقیر تر تیرے نزدیک کوئی گھر نہیں تھا۔ تُو نے یہ چاہا کہ امتِ محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی بھی باقی نہ رہے مگر وہ ہم سے اس ظلم کا مطالبہ کرے۔ پھر آپؓ نے وہ درہم بیت المال میں لوٹا دیا۔

(ماخوذ از ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء مترجم اشتیاق احمد صاحب جلد3 صفحہ286 قدیمی کتب خانہ آرام باغ کراچی)

رفاہِ عامہ کے کام کے بارے میں آتا ہے کہ حضرت عمر ؓنے عوام الناس کی بھلائی اور بہتری کے لیے بہت سے کام سرانجام فرمائے جو درج ذیل ہیں۔

زراعت میں بہتری اور عوام کے لیے پانی کی فراہمی کے لیے نہریں کھدوائیں:1۔ نہر ابو موسیٰ: دریائے دجلہ سے نو میل لمبی نہر بنا کر بصرہ تک لائی گئی۔ 2۔ نہر مَعْقَل: یہ نہر بھی دریائے دجلہ سے نکالی گئی تھی۔ 3۔ نہر امیر المومنین: حضرت عمرؓ کے حکم سے دریائے نیل کو بحیرۂ قلزم سے ملایا گیا۔ اٹھارہ ہجری میں جب قحط پھیلا تو حضرت عمرؓ نے حضرت عمرو بن عاصؓ کو امداد کے لیے خط لکھا۔ فاصلہ چونکہ زیادہ تھا اس لیے امداد میں تاخیر ہو گئی۔ حضرت عمرؓ نے عمرو کو بلا کر کہا کہ دریائے نیل کو سمندر سے ملا دیا جائے تو عرب میں کبھی قحط نہ ہو۔ عَمرو نے جو وہاں کے گورنر تھے واپس جا کر فسطاط سے بحیرۂ قلزم تک نہر تیار کروائی جس کے ذریعہ بحری جہازمدینہ کی بندرگاہ جدہ تک پہنچ جاتے۔ یہ نہر انتیس میل لمبی تھی اور چھ ماہ کے عرصہ میں تیار کر لی گئی۔ حضرت عمرو بن عاصؓ نے بحیرۂ روم اور بحیرۂ قلزم کو آپس میں ملانے کا ارادہ کیا اور چاہا کہ فَرْمَا کے پاس سے جہاں بحر قلزم اور بحر روم میں ستر میل کا فاصلہ تھا نہر نکال کر ان کو ملا دیا جائے۔ فَرْمَا مصر کے نواح میں ایک ساحلی شہر تھا۔ لیکن حضرت عمرؓ یونانیوں کے ہاتھوں حاجیوں کے لُوٹے جانے کے ڈر سے اس پر رضا مند نہ ہوئے۔ اگر عمرو بن عاصؓ کو اجازت مل جاتی تو نہر سویز کی ایجاد عربوں کے حصہ میں آتی جو بعد میں بنائی گئی تھی۔

مختلف تعمیرات۔ حضرت عمرؓ نے عوام الناس کی سہولت کے لیے مختلف عمارتیں تعمیر کروائیں۔ ان میں مساجد، عدالتیں، فوجی چھاؤنیاں، بیرکس، ملکی تعمیراتی کاموں کے لیے مختلف دفاتر، سڑکیں، پل، مہمان خانے، چوکیاں، سرائیں وغیرہ۔ مدینہ سے مکہ تک ہر منزل پر چشمے اور سرائیں بنوائیں، چوکیاں بھی تعمیر کروائیں۔

(ماخوذ ازالفاروق از شبلی نعمانی صفحہ206تا 210ادارہ اسلامیات کراچی2004ء)

یعنی سیکیورٹی کا بھی انتظام رہے اور لوگوں کی رہائش کے لیے، آرام کرنے کے لیے ہوٹل وغیرہ بھی، سرائے بھی میسر آ جائیں۔

شہروں کی آباد کاری کے بارے میں آتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے اپنے دورِ خلافت میں متعدد نئے شہر آباد فرمائے۔ آپؓ نے ان کو آباد کرتے وقت دفاعی، معاشی اور اقتصادی فوائد کو مدنظر رکھا۔ ان شہروں کے محل وقوع کا انتظام حضرت عمرؓ کی جنگی بصیرت، سیاست اور آبادکاری کے اصولوں پر، دقیق نظر پر دلالت کرتا ہے۔ یہ شہر حالتِ جنگ اور حالتِ امن دونوں میں فائدہ مند تھے۔ حضرت عمرؓ کی کوشش ہوتی کہ عرب کی جو سرحد عجم سے ملی ہوئی ہے وہاں شہر آباد ہوں تا کہ اچانک حملے سے بچا جا سکے۔ ان شہروں کا محل وقوع اس طرح ہوتا جو عربوں کو موافق ہوتا۔ ان شہروں کے ایک طرف عرب کی سرزمین ہوتی جو چراگاہ کا کام دیتی اور دوسری طرف عجمی سرزمین کے سرسبز علاقے ہوتے جہاں سے پھل غلّہ اَور دوسری اشیاء میسر ہوتیں یعنی زراعت دوسری طرف کی جاتی تھی۔ شہروں کی آبادکاری میں یہ بھی مدنظر رکھا گیا کہ ان کے درمیان کوئی دریا یا سمندر حائل نہ ہو۔ حضرت عمر ؓنے بصرہ، کوفہ، فُسْطَاط وغیرہ شہر آباد فرمائے۔

حضرت عمرؓ نے مستحکم اور صحیح بنیادوں پر ان شہروں کی آبادکاری کی۔ ان کی سڑکوں اور راستوں کو وسیع رکھا۔ بڑی کھلی سڑکیں تھیں اور نہایت بہترین انداز میں منظم کیا اور یہ طرز فکر ثابت کرتی ہے کہ آپ اس علم میں ماہر اور منفرد تھے۔

(ماخوذ از سیرت امیر المومنین عمر بن خطاب از الصلابی صفحہ214 تا 217 و 221 دارالمعرفہ بیروت 2007ء)

اسی طرح محکمہ فوج ہے۔ اس کا قیام آپؓ نے کیا۔ حضرت عمرؓ نے باقاعدہ فوج کی ترتیب کی اور تنظیم سازی کی۔ مراتب کے لحاظ سے فوج کے رجسٹر بنوائے اور ان کی تنخواہیں مقرر فرمائیں۔ حضرت عمرؓ نے فوج کو دو حصوںمیں تقسیم کیا۔ ایک جو باقاعدہ جنگ میں شامل ہوتے اور دوسرے والنٹیئر جو ضرورت کے وقت بلائے جاتے تھے۔ حضرت عمرؓ کو فوج کی تربیت کا بہت خیال تھا۔ انہوں نے نہایت تاکیدی احکام جاری کیے تھے کہ ممالک مفتوحہ میں کوئی شخص زراعت یا تجارت کا شغل اختیار نہ کرنے پائے۔ جو علاقے فتح ہوں گے وہاں جاکے کوئی شخص تجارت یا زراعت نہیں کرے گا کیونکہ یہ فوجی تھے تو یہ فوجیوں کے بارے میں تھاکیونکہ اس سے ان کے سپاہیانہ جوہر کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا۔ آج کل ہم مسلمان ملکوں میں بھی دیکھتے ہیں کہ فوجی تجارتوں میں مصروف ہیں بلکہ ایک ملک کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ پہلے تو فوجی اپنی پیشہ وارانہ مہارت کی طرف دیکھتے تھے لیکن اب کمیشن ملتے ہی جو افسر ہوتا ہے وہ یہ دیکھتا ہے کہ کہاں کوئی نئی کالونی بن رہی ہے۔ کون سی ڈیفنس کالونی بن رہی ہے جہاں مجھے پلاٹ ملے اور میں پلاٹ الاٹ کراؤں۔ اور اسی وجہ سے بہرحال پھر ان کی سپاہیانہ صلاحیتیں کم ہوتی چلی جا رہی ہیں۔

پھر آتا ہے کہ سرد اور گرم ممالک پر حملہ کرتے وقت موسم کا بھی خیال رکھا جاتا تھا تا کہ فوج کی صحت اور تندرستی کو نقصان نہ پہنچے۔ فوج کے متعلق حضرت عمرؓ نے سختی سے یہ ہدایات دی تھیں کہ ساری فوج تیراکی ، گھوڑ سواری، تیر چلانا اور ننگے پاؤں چلنا سیکھے۔ ہر چار مہینے کے بعد سپاہیوں کو وطن جا کر اپنے اہل و عیال سے ملنے کے لیے رخصت دی جاتی تھی۔ جفا کشی کے خیال سے یہ حکم تھا کہ اہل فوج رکاب کے سہارے سے سوار نہ ہوں۔ گھوڑے پر سوار ہونے کے لیے رکاب میں پاؤں ڈال کے نہیں سوار ہونا بلکہ چھلانگ مار کے سوار ہونا ہے۔ نرم کپڑے نہ پہنیں۔ دھوپ سے بچیں اور حماموں میں نہ نہائیں۔ وہاں زیادہ آرام طلبی کی عادت پڑ جاتی ہے۔ حضرت عمرؓ بہار کے موسم میں فوج کو سرسبزو شاداب علاقوں میں بھیج دیتے تھے۔ فوجی بیرکس اور چھاؤنیوں کے بناتے وقت آب و ہوا کو مدنظر رکھا جاتا۔ یہ بھی ضروری تھا کہ سرسبز علاقوں میں فوجوں کو بھیجا جائے تا کہ وہاں تازہ فضا سے ان کی صحت بھی اچھی رہے۔ آب و ہوا کو مدنظر رکھا جاتا تھا۔ تمام اضلاع میں فوجی چھاؤنیاں بنوائیں۔ فوجی صدر مقامات میں مدینہ، کوفہ، بصرہ، موصل، فُسْطَاط، دمشق، حِمص، اُردن، فلسطین شامل کیے جہاں ہمیشہ فوج تعینات رہتی تھی۔ ہر چار ماہ کے بعد فوجیوں کو چھٹی دی جاتی تھی۔ فوجی مرکز میں بیک وقت چار ہزار گھوڑے ہوتے تھے جن کی دیکھ بھال کی جاتی۔ گھوڑوں کی رانوں پر جَیْشٌ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہ داغ کر لکھا جاتا تھا یعنی اللہ کی راہ میں لشکر۔ حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں اسلامی فوج نے آلاتِ جنگ میں ترقی کی۔ نئے سازو سامان مرتب کیے جن میں قلعہ شکن ہتھیار مَنْجَنَِیْقاور دَبَّابَہوغیرہ شامل تھے۔ دَبَّابَہسے مراد وہ ہتھیار ہے جس کے ذریعہ سے دشمن کے قلعوں کو توڑا اور منہدم کیا جاتا ہے۔ اس کے اندر آدمی بیٹھتے اور قلعہ کی دیواروں میں سوراخ کر کے اس کی دیواریں گرائی جاتیں۔

(ماخوذ ازالفاروق از شبلی نعمانی صفحہ216 تا 218ادارہ اسلامیات کراچی2004ء)

(سیر الصحابہ جلد 1 صفحہ 126، 127 از معین الدین ندوی دارالاشاعت کراچی پاکستان 2004ء)(لسان العرب زیر مادہ ’دب‘)

اسلامی حکومت کے ماتحت غیر اقوام کے لوگ بڑے بڑے اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے۔ یہ نہیں کہ صرف مسلمانوں کو اعلیٰ عہدے دیے جاتے تھے بلکہ غیر مسلموں کو بھی اور غیر قوموں کے لوگوں کو بھی اعلیٰ عہدے دیے جاتے تھے۔

حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلفاء کے زمانے میں بھی حالانکہ ابھی ملک میں پُرامن طور پر ساری قومیں نہیں بسی تھیں ان حقوق کو تسلیم کیا جاتا تھا۔ چنانچہ علامہ شبلی اس کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے صیغۂ جنگ کو جو وسعت دی تھی اس کے لیے کسی قوم اور کسی ملک کی تخصیص نہ تھی یہاں تک کہ مذہب و ملت کی بھی کچھ قید نہ تھی۔ والنٹیئر فوج میں تو ہزاروں مجوسی شامل تھے یعنی ایسے لوگ جو خدا کو نہیں مانتے، آتش پرست تھے، سورج پرست تھے وہ بھی شامل تھے جن کو مسلمانوں کے برابر مشاہرے ملتے تھے۔ فوجی نظام میں بھی مجوسیوں کا پتہ ملتا ہے ۔

اسی طرح لکھتے ہیں کہ یونانی اور رومی بہادر بھی فوج میں شامل تھے۔ چنانچہ فتح مصر میں ان میں سے پانچ سو آدمی شریکِ جنگ تھے اور آج پاکستان میں یہ کہتے ہیں کہ جی احمدیوں کو فوج سے نکالو۔ یہ بڑی نازک، sensitive پوسٹیں ہیں۔ حالانکہ اگر تاریخ پڑھیں تو پاکستان کی خاطر سب سے زیادہ قربانیاں احمدی افسروں نے دی ہیں۔ بہرحال یہ تو ان کے اپنے فعل ہیں۔ حضرت عمرؓ کے بارے میں آتا ہے کہ جب عمرو بن عاصؓ نے فُسْطَاط آباد کیا تو یہ جداگانہ محلے میں آباد کیے گئے۔ یہودیوں سے بھی یہ سلسلہ خالی نہ تھا۔ چنانچہ مصر کی فتح میں ان میں سے ایک ہزار آدمی اسلامی فوج میں شریک تھے۔اسی طرح تاریخ سے ثابت ہے کہ غیر اقوام کے افراد کو جنگی افسر بھی مقرر کیا جاتا تھا۔ چنانچہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں ایرانیوں کو بھی فوجی افسر مقرر کیا گیا۔ ان میں سے بعض کے نام بھی تاریخ میں موجود ہیں۔ علامہ شبلی نے چھ افسروں کے نام یہ لکھے ہیں۔ سیاہ، خسرو، شہریار، شیروَیہ، شَہْروَیہ، اَفْرَودِین۔ ان افسروں کو تنخواہیں بھی سرکاری خزانے سے ملتی تھیں اور باقاعدہ پے رول (payroll) میں ان کا نام تھا۔ چاروں خلفاء کے بعد حضرت معاویہؓ کے متعلق تاریخ سے ثابت ہے کہ ان کے زمانے میں ایک عیسائی ابن آثال نامی وزیر خزانہ تھا۔ یہ وضاحت میں لکھتے ہیں کہ تفسیر کبیر میں جو میں نے پڑھا ہے تو حضرت مصلح موعودؓ نے علامہ شبلی کے حوالے سےافرودین لکھا ہے اور ایسے ہی الفاروق میں بھی درج ہے لیکن عربی کتب میں اس کا نام اَفْرَوْذِین لکھا ہے۔ یعنی بجائے دال کے ذال کے ساتھ۔ (ماخوذ از تفسیر کبیر جلد6 صفحہ534)(تاریخ الطبری جلد 2 صفحہ 504 سنہ 17ھ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1987ء) بہرحال یہ نام کا ذال اور دال کا ذرا سا فرق ہے کیونکہ لوگ اس پہ بحث شروع کر دیتے ہیں اس لیے وضاحت کر دی ہے۔

اسی طرح مارکیٹ کنٹرول، پرائس کنٹرول کے لحاظ سے جو ناجائز حد تک قیمت گرانا ہے اس سے بھی اسلام نے منع فرمایا ہے اور حضرت عمرؓ نے اس کی پابندی کروائی۔ مال کی قیمت گرانے کی ممانعت کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ’’اسلام نے قیمت کو ناجائز حد تک گرانے سے بھی منع کیا ہے …… قیمت کا گرانا بھی ناجائز مال کمانے کا ذریعہ ہوتا ہے کیونکہ طاقتور تاجر اس ذریعہ سے کمزور تاجروں کو تھوڑی قیمت پر مال فروخت کرنے پر مجبور کر دیتا ہے اور ان کا دیوالہ نکلوانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ حضرت عمرؓ کے زمانہ کا ایک واقعہ ہے کہ آپؓ بازار کا دورہ کر رہے تھے کہ باہر سے آئے ہوئے ایک شخص کو دیکھا کہ وہ خشک انگور نہایت ارزاں قیمت پر فروخت کر رہا تھا جس قیمت پر مدینہ کے تاجر فروخت نہیں کر سکتے تھے۔ آپؓ نے اسے حکم دیا کہ یا تو اپنا مال منڈی سے اٹھا کر لے جائے یا پھر اسی قیمت پر فروخت کرو جس مناسب قیمت پر مدینہ کے تاجر فروخت کر رہے تھے۔‘‘ مدینہ کے جو تاجر تھے وہ مال کی زیادہ قیمت نہیں لے رہے تھے بلکہ مناسب قیمت تھی۔ آپؓ نے کہا اسی قیمت پر فروخت کرو۔ ’’جب آپؓ سے اس حکم کی وجہ پوچھی گئی تو آپؓ نے جواب دیا کہ اگر اس طرح فروخت کرنے کی اسے اجازت دی گئی تو مدینہ کے تاجروں کو جو مناسب قیمت پر مال فروخت کر رہے ہیں نقصان پہنچے گا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض صحابہؓ نے حضرت عمرؓ کے اس فعل کے خلاف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ قول پیش کیا کہ منڈی کے بھاؤ میں دخل نہیں دینا چاہئے ۔مگر ان کا یہ اعتراض درست نہ تھا کیونکہ منڈی کے بھاؤ میں دخل دینے کے یہ معنی ہیں کہ پیداوار اور مانگ (Supply and demand) کے اصول میں دخل دیا جائے۔‘‘ یعنی سپلائی اور ڈیمانڈ کے جو اصول ہیں ان میں دخل دینا ہے ’’اور ایسا کرنا بیشک نقصان دہ ہے اور اس سے حکومت کو بچنا چاہئے۔‘‘ مارکیٹ خود اپنے آپ کوسپلائی ڈیمانڈ سے ایڈجسٹ کرتی ہے ’’ورنہ عوام کو کوئی فائدہ نہ پہنچے گا اور تاجر تباہ ہو جائیں گے۔‘‘ (اسلام کا اقتصادی نظام۔ انوار العلوم جلد 18 صفحہ 53) اس کی اجازت نہ دی جائے لیکن قیمت کنٹرول جو ہے وہ جائز ہے۔

حضرت مصلح موعودؓ اس کی تفصیل ایک اَور جگہ یوں بیان فرماتے ہیں کہ ’’شہری حقوق میں یہ بھی داخل ہے کہ لین دین کے معاملات میں خرابی نہ ہو۔ ہم دیکھتے ہیں کہ اسلام نے اس حق کو بھی نظر انداز نہیں کیا۔ چنانچہ اسلام نے بھاؤ کو بڑھانے اور مہنگا سودا کرنے سے روکا ہے۔ اسی طرح دوسروں کو نقصان پہنچانے اور ان کو تجارت میں فیل کرنے کے لیے بھاؤ کو گرا دینے سے بھی منع فرمایا‘‘ ہے۔ مقابلے میںکم قیمت کرنا بھی منع ہے۔ ’’ایک دفعہ مدینہ میں ایک شخص ایسے ریٹ پر انگور بیچ رہا تھا جس ریٹ پر دوسرے دکاندار نہیں بیچ سکتے تھے۔ حضرت عمرؓ پاس سے گزرے تو انہوں نے اس شخص کو ڈانٹا کیونکہ اس طرح باقی دکانداروں کو نقصان پہنچتا تھا۔ غرض اسلام نے سودا مہنگا کرنے سے بھی روک دیا اور بھاؤ کو گرا دینے سے بھی روک دیا تا کہ نہ دکانداروں کو نقصان ہو اور نہ پبلک کو نقصان ہو۔‘‘

(تفسیر کبیر جلد 10 صفحہ307)

تعلیم کے نظام کے بارے میں آتا ہے کہ حضرت عمرؓ نے تعلیم کو نہایت ترقی دی۔ تمام ممالک میں مدرسے قائم کیے جن میں قرآن مجید، حدیث، فقہ کی تعلیم دی جاتی۔ کبار علماء صحابہ کو تعلیم و تربیت پر مامور کیا گیا اور پڑھانے والوں کی تنخواہیں بھی مقرر کی گئیں۔

(ماخوذ ازالفاروق از شبلی نعمانی صفحہ233ادارہ اسلامیات کراچی2004ء)

اسی طرح ہجری کیلنڈر کا آغاز کس طرح ہوا؟اس بارے میں روایات میں آتا ہے۔ ایک تو صحیح بخاری کی روایت ہے۔ حضرت سہل بن سعدؓ نے بیان کیا کہ صحابہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے تاریخ کا شمار نہیں کیا اور نہ آپؐ کی وفات سے بلکہ آپؐ کے مدینہ میں آنے سے ہی انہوں نے تاریخ کا شمار کیا۔(صحیح بخاری کتاب مناقب الانصار باب التاریخ: من این ارّخوا التاریخ حدیث نمبر 3934)یعنی ہجرت کے وقت سے۔

بخاری کے شارح علامہ ابن حجر عسقلانی کہتے ہیں امام سہیلی کے نزدیک صحابہ نے ہجرت سے تاریخ کا آغاز کرنے کا خیال اللہ تعالیٰ کے

قول لَمَسْجِدٌ اُسِّسَ عَلَی التَّقْوٰی مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍ

سے لیا ہے۔ پس مِنْ اَوَّلِ یَوْمٍسے مرادوہ دن ہو گا جس میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے صحابہ مدینہ میں داخل ہوئے۔ واللہ اعلم۔

ہجری کیلنڈر کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی؟ اس بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں۔ حضرت ابوموسیٰ نے حضرت عمرؓ کی طرف لکھا کہ آپؓ کی طرف سے ہمیں خطوط آتے ہیں ان پر تاریخ وغیرہ درج نہیں ہوتی۔ اس پر حضرت عمرؓ نے لوگوں کو مشورہ کے لیے اکٹھا کیا۔ علامہ ابن حجر کہتے ہیں کہ بخاری نے کتاب الادب میں اور حاکم نے میمون بن مہران کے واسطے سے روایت کی ہے کہ حضرت عمرؓ کی خدمت میں ایک چیک پیش کیا گیا جس کی میعاد شعبان تھی۔ آپؓ نے فرمایا کون سا شعبان؟ کیا وہ جو گزر گیا یا وہ جس میں سے ہم گزر رہے ہیں یا وہ شعبان جو آئے گا۔ آپؓ نے فرمایا لوگوں کے لیے کوئی تاریخ متعین کرو جو سب کو معلوم رہے۔

ابن سیرین کہتے ہیں کہ ایک شخص یمن سے آیا اور اس نے کہا میں نے یمن میں ایک چیز دیکھی جسے وہ تاریخ کہتے ہیں۔ وہ اسے یوں لکھتے ہیں کہ فلاں سال اور فلاں مہینہ۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا یہ عمدہ طریق ہے۔ تم بھی تاریخ لکھو۔

ہجری تقویم کا آغاز،اس کیلنڈر کا آغازکس نے کیا؟ اس بارے میں متفرق آرا ہیں۔ پہلے قول کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاریخ مرتب کرنے کا ارشاد فرمایا اور ربیع الاول میں تاریخ لکھی گئی۔ چنانچہ حاکم نے اپنی کتاب اَلْاِکْلِیْل میںابن شہاب زُہری سے روایت کی ہے کہ

اَنَّ النَّبِیَّ لَمَّا قَدِمَ الْمَدِیْنَۃَ اَمَرَ بِالتَّارِیْخِ فَکُتِبَ فِی رَبِیْعِ الْاَوَّلِ۔

جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو آپؐ نے تاریخ لکھنے کا ارشاد فرمایا۔ پس وہ ربیع الاول میں لکھی گئی۔ علامہ ابن حجر کہتے ہیں کہ یہ روایت مُعْضَلہے۔ مُعْضَل سے مراد وہ روایت ہوتی ہے جس کی سند میں پے در پے دو یا زیادہ راوی ساکت ہوں۔ ایک اَور روایت میں ہے کہ تاریخ کی ابتدا اس دن سے ہوئی جس دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہجرت فرما کر مدینہ تشریف لائے اور مشہور بات اس کے برعکس ہے اور وہ یہ کہ تاریخ تقویم ہجری حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں قائم ہوئی۔

سُبُلُ الْھُدٰی وَ الرَّشَاد فِیْ سِیْرَۃِ خَیْرِ الْعِبَاد

کےمصنف محمد بن یوسف صالحی کہتے ہیں کہ ابن صلاح نے کہا ہے کہ انہوں نے ابوطاہرمَحْمِشْ کی کتاب اَلشُّرُوط میں یہ لکھا ہوا دیکھا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تاریخ لکھنے کا ارشاد فرمایا تھا کیونکہ جب آپؐ نے نجران کے عیسائیوں کی طرف خط لکھنے کا ارشاد فرمایا تو حضرت علیؓ سے فرمایا اس میں لکھو لِخَمْسٍ مِّنَ الْھِجْرَۃِ ۔یعنی ہجرت کے بعد پانچواں سال۔ پس اس لحاظ سے پہلے مؤرخ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں اور حضرت عمرؓ نے اس میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع کی ہے۔ دوسرے قول کے مطابق حضرت یَعلیٰ بن اُمَیَّہؓنے تاریخ کا آغاز کیا جو یمن کے رہنے والے تھے۔ امام احمد نے اس کو بیان کیا ہے لیکن اس میں انقطاع ہے یعنی عمرو اور یَعلیٰ کے درمیان میں۔ تیسرے اور مشہور قول کے مطابق یہ ہے کہ تاریخ تقویم ہجری کا آغاز حضرت عمرؓ کے دَورِ خلافت میں ہوا۔

ہجری کیلنڈر کے لیے ہجرت سے کیوں آغاز کیا گیا؟ اس بارے میں یہ تفصیل ملتی ہے۔ جب حضرت عمرؓ نے سال کی تعیین کے لیے مشورہ مانگا تو ایک رائے یہ تھی کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش سے اس کا آغاز کیا جائے۔ دوسری رائے یہ تھی کہ آپؐ کے مبعوث ہونے کے سال سے اس کا آغاز کیا جائے۔ تیسری رائے یہ تھی کہ آپؐ کی وفات کے سال سے اس کا آغاز کیا جائے۔ چوتھی رائے یہ تھی کہ آپؐ کی ہجرت کے سال سے اس کا آغاز کیا جائے۔ ہجرت کے سال سے اس کا آغاز کرنا مناسب سمجھا گیا کیونکہ ولادت اور بعثت کے سال کی تعیین میں اختلاف تھا۔ جہاں تک وفات کا تعلق ہے تو اس لیے منتخب نہیں کیا کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی وجہ سے مسلمانوں کے رنج و الم کا عنصر اس میں شامل تھا۔ پس صحابہ نے ہجرت پر اتفاق کیا۔

صحابہؓ نے ربیع الاول کی بجائے محرم سے سال کا آغاز کیوں کیا؟ تو اس کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرت کا عزم محرم کے مہینہ میں ہی کر لیا تھا۔ ذوالحجہ میں بیعت عَقَبہ ثانیہ ہو چکی تھی اور وہی ہجرت کا پیش خیمہ تھی۔ اس طرح بیعت عَقَبہ ثانیہ اور ہجرت کا پختہ ارادہ کر لینے کے بعد جس مہینے کا چاند طلوع ہوا وہ محرم کا چاند تھا۔ لہٰذا مناسب یہی سمجھا گیا کہ اسی کو نقطہ آغاز بنایا جائے۔ علامہ ابن حجر کہتے ہیں اسلامی کیلنڈر کے محرم سے آغاز کی مناسبت سے میرے نزدیک یہ سب سے مضبوط دلیل ہے۔

(فتح الباری لابن حجر جلد7 صفحہ 314-315۔ کتاب مناقب الانصار باب التاریخ حدیث 3934۔دار الریان للتراث قاہرہ 1986ء)

(سبل الھدیٰ و الرشاد جلد 12 صفحہ 36-37۔ باب مبدأ التاریخ الاسلامی۔ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1993ء)

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کب تشریف لائے؟ اس بارے میں مختلف آرا ہیں۔ آپؐ مختلف جگہ ٹھہرتے ہوئے بارہ ربیع الاول 14؍ نبوی مطابق 20؍ ستمبر 622ء کو مدینہ کے پاس پہنچے۔ بعض مؤرخین کے نزدیک 8؍ ربیع الاول کی تاریخ تھی۔ بعض کے نزدیک آپؐ ماہ صفر میں نکلے اور ربیع الاول میں پہنچے۔ یکم ربیع الاول کو مکہ سے آپؐ نے ہجرت کا آغاز فرمایا اور بارہ ربیع الاول کو مدینہ پہنچے۔

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیین ﷺ صفحہ 243 از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے)

(شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ جزء 2 صفحہ 102 باب ھجرۃ المصطفیٰ و اصحابہٗ۔ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1996ء)

تقویم ہجری کس سال میں ہوئی؟ اس بارے میں بھی مختلف آرا ہیں۔ کب یہ کیلنڈر شروع ہوا ؟ کچھ کہتے ہیں سولہ ہجری میں ہوئی۔ کچھ کے نزدیک سترہ ہجری میں ہوئی۔ کچھ کہتے ہیں کہ اٹھارہ ہجری میں ہوئی۔ بعض کے نزدیک اکیس ہجری میں ہوئی۔

(فتح الباری لابن حجر جلد7 صفحہ315۔ کتاب مناقب الانصار باب التاریخ حدیث 3934۔ دار الریان للتراث قاہرہ 1986ء)
(الکامل فی التاریخ لابن اثیر جزء1 صفحہ 13۔ دار الکتاب العربی بیروت 2012ء)
(ماخوذ ازالفاروق از شبلی نعمانی صفحہ248ادارہ اسلامیات کراچی2004ء)

لیکن اس بات پر بہرحال اکثر متفق ہیں کہ حضرت عمرؓ کے زمانے میں اس کیلنڈر کا اجرا ہوا۔

اسلامی سکّہ۔ عام مؤرخین کے نزدیک عرب میں سب سے پہلے سکّہ عبدالملک بن مروان نے جاری کیا۔ مدینہ طیبہ کے بعض مؤرخین نے کہا ہے کہ سب سے پہلے اسلامی سکّے حضرت عمرؓ کے دور میں رائج ہوئے تھے۔ ان کے اوپر ’الحمد للّٰہ‘ کندہ تھا اور بعض پر ’محمّدٌ رَّسول اللّٰہ‘ اور بعض پر ’لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ‘ بھی کندہ ہوتا تھا لیکن ساسانی، ایرانی بادشاہوں کی تصویروں سے کوئی تعرض نہیں کیا گیا۔ ایک تحقیق کے مطابق سب سے پہلے اسلامی سکّے دمشق میں سترہ ہجری میں حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت میں رائج ہوئے تھے مگر ان کے اوپر بھی بازنطینی شہنشاہ کی تصویر اور لاطینی میں ان کی لکھائی موجود ہوا کرتی تھی اور ایک روایت کے مطابق حضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت میں اٹھائیس ہجری میں سب سے پہلے اپنا سکّہ استعمال ہوا۔ وقتی طور پر ساسانیوں کے علاقوں میں رائج سکّوں کو ہی چلایا گیا۔ ان کے اوپر ساسانی بادشاہوں کی تصاویر ہوا کرتی تھیں مگر ان پر کوفی رسم الخط میں بسم اللہ لکھ دیا گیا۔

(ماخوذ ازالفاروق از شبلی نعمانی صفحہ250ادارہ اسلامیات کراچی2004ء)

(ماخوذ از جستجوئے مدینہ صفحہ 310 از عبد الحمید قادری۔ اورینٹل پبلی کیشنز پاکستان )

پھر یہ کہ حضرت عمرؓ نے کون کون سی باتیں شروع کیں؟ کون سی اوّلیات ہیں جو اوّلیاتِ فاروقی کہلاتی ہیں؟ علامہ شبلی نعمانی اپنی کتاب الفاروق میں لکھتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے ہر ذریعہ میں جو جو نئی باتیں ایجاد کیں ان کو مؤرخین نے یکجا لکھا ہے اور ان کو اوّلیات کہا جاتا ہے اور وہ درج ذیل ہیں۔ یعنی یہ شروع کروائیں:

بیت المال یعنی خزانہ قائم کیا۔ نمبر دو: عدالتیں قائم کیں اور قاضی مقرر کیے۔ پھر تاریخ اور سن قائم کیا جو آج تک جاری ہے۔ نمبر چار: امیر المومنین کا لقب حضرت عمرؓ نے خلیفۂ وقت کے لیے اختیار کیا۔ نمبر پانچ: فوجی دفتر ترتیب دیا۔ نمبر چھ: والنٹیئرز کی تنخواہیں مقرر کیں۔ نمبر سات: دفتر مال قائم کیا۔ نمبر آٹھ: پیمائش جاری کیں۔ نمبر نو: مردم شماری کروائی۔ نمبر دس: نہریں کھدوائیں۔ گیارہ: شہر آباد کرائے یعنی کوفہ، بصرہ، جِیزہ، فُسْطَاط، مُوصَل وغیرہ۔ نمبر بارہ یہ ہے کہ ممالک مقبوضہ کو صوبوں میں تقسیم کیا۔ نمبر تیرہ: عُشور یعنی دسواں حصہ بطور ٹیکس یا محصول مقرر کیا۔ عُشور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ایجاد ہے جس کی ابتدا یوں ہوئی کہ مسلمان جو غیر ملکوں میں تجارت کے لیے جاتے تھے ان سے وہاں کے دستور کے مطابق مال تجارت پر دس فیصد ٹیکس لیا جاتا تھا۔ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حضرت عمررضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اس واقعہ کی اطلاع دی۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا کہ ان ملکوں کے تاجر جو ہمارے ملک میں آئیں ان سے بھی اسی قدر محصول لیا جائے یعنی پھر دس فیصد ان سے بھی وصول کیا جائے۔ نمبر چودہ یہ ہے کہ دریا کی پیداوار پر محصول لگایا اور محصل مقرر کیے۔ نمبر پندرہ: حربی تاجروں کو ملک میں آنے اور تجارت کرنے کی اجازت دی۔ نمبر سولہ: جیل خانہ قائم کیا۔ نمبر سترہ: دُرّے کا استعمال کیا۔ نمبر اٹھارہ: راتوں کو گشت کر کے رعایا کے دریافت حال کا طریق نکالا۔ نمبر انیس: پولیس کا محکمہ قائم کیا۔ نمبر بیس: جابجا فوجی چھاؤنیاں قائم کیں۔ نمبر اکیس :گھوڑوں کی نسلوں میں اَصِیْل اور مُجَنَّسکی تمیز قائم کی جو اس وقت تک عرب میں نہ تھی۔ نمبر بائیس: پرچہ نویس مقرر کیے۔ نمبر تئیس: مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ تک مسافروں کے آرام کے لیے مکانات بنوائے۔ چوبیس: لاوارث بچوں کی پرورش کے لیے روزینہ مقرر کیے۔ پچیس: مختلف شہروں میں مہمان خانے تعمیر کرائے۔ چھبیس: یہ قاعدہ قرار دیا کہ اہل عرب گو کافر ہوں غلام نہیں بنائے جا سکتے۔ ستائیس: مفلوک الحال عیسائیوں اور یہودیوں کے روزینے مقرر کیے۔ اٹھائیس: مکاتب قائم کیے۔ انتیس :معلموں اور مدرسوں کےمشاہرے مقرر فرمائے، تنخواہیں مقرر کیں۔ تیس: حضرت ابوبکر ؓکو اصرار کے ساتھ قرآن مجید کی ترتیب پر آمادہ کیا اور اپنے اہتمام سے اس کام کو پورا کیا۔ اکتیس: قیاس کا اصول قائم کیا۔ بتیس: فرائض میں ’عول‘ کا مسئلہ ایجاد کیایعنی نان نفقہ کے لیےبعض لوگوں کو عیال میں شامل کرنا۔ تینتیس: نماز تراویح جماعت سے قائم کی۔ چونتیس: تین طلاقوں کو جو ایک ساتھ دی جاتی تھیں طلاق بائن قرار دیا۔ یہ تو آپؓ نےسزا کے طور پر بھی کیا تھا ۔ پینتیس: شراب کی حدکے لیے اسّی کوڑے مقرر کیے۔ چھتیس: تجارت کے گھوڑوں پر زکوٰة مقرر کی۔ سینتیس: بنو ثعلب کے عیسائیوں پر بجائے جزیہ کے زکوٰة مقرر کی۔ اڑتیس: وقف کا طریقہ ایجاد کیا۔ انتالیس: نماز جنازہ میں چار تکبیروں پر تمام لوگوں کا اجماع کروا دیا۔ ویسے عمومی طور پر مسنون یہی ہے تین تکبیریں ہوتی ہیں یا پہلی تکبیر کے ساتھ آخری تکبیر تک سلام پھیرنے سے پہلے چار… ابھی بھی یہی رائج ہیں۔ چالیس یہ ہے کہ مساجد میں وعظ کا طریقہ قائم کیا اور ان کی اجازت سے تمیم داری نے وعظ کہااور یہ اسلام میں پہلا وعظ تھا۔ اکتالیس: اماموں اور مؤذنوں کی تنخواہیں مقرر کیں۔ بیالیس: مساجد میں راتوں کو روشنی کا انتظام کیا۔ تینتالیس: ہجو کرنے پر تعزیر کی سزا قائم کی۔ چوالیس: غزلیہ اشعار میں عورتوں کے نام لینے سے منع کیا حالانکہ یہ طریقہ عرب میں مدتوں سے جاری تھا۔ علامہ شبلی لکھتے ہیں کہ اس کے سوا اَور بھی عمرؓ کی اوّلیات ہیں جن کو ہم طوالت کے خوف سے قلم انداز کرتے ہیں۔

(ماخوذ از الفاروق از شبلی نعمانی صفحہ 401تا 403، 212 دار الاشاعت کراچی 1991ء)

بہرحال یہ ذکر ابھی چل رہا ہے۔ آئندہ بھی ان شاء اللہ بیان ہو گا۔ اس وقت میں بعض مرحومین کا بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں اور ان شاء اللہ نماز کے بعد نماز جنازہ پڑھاؤں گا۔

پہلا ذکر مکرم سرِپتوہادی سِسوُویو(Suripto Hadi Siswoyo)صاحب انڈونیشیا کا ہے۔ اناسی سال کی عمر میںگذشتہ ماہ ان کی وفات ہوئی ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ انہوں نے اکیس سال کی عمر میں بیعت کر لی تھی اور اس وقت بڑی مضبوطی سے قائم رہے۔ مرحوم کی اہلیہ نے لکھا ہے کہ مرحوم نے اہلیہ کے علاوہ آٹھ بچے یادگار چھوڑے ہیں۔ ایک بیٹا ان کا بطور مبلغ خدمت بجا لا رہا ہے۔ مرحوم کئی مرتبہ جماعت کے صدر کی حیثیت سے خدمت سرانجام دیتے رہے۔ دارالقضاء انڈونیشیا میں بطور قاضی بھی خدمت کی توفیق پائی۔ تبلیغ کا بہت شوق تھا۔ ایک فعال داعی الی اللہ تھے۔ کسی بھی قسم کے مشکل حالات میں تبلیغ کا جذبہ کبھی ختم نہیں ہوا۔ ان کے بیٹے اروان حبیب اللہ، جو مربی ہیں ،کہتے ہیں کہ کئی دفعہ ایسا ہوتا کہ موٹر سائیکل کسی کے گھر چھوڑ کرتبلیغ کے لیے بیسیوں کلو میٹر تک پیدل سفر کیا کرتے تھے۔ دوسرے گاؤں جانے کے لیے نہروں اور چٹانوں کو پار کرنا پڑتا تو کرتے۔ سفر بہت مشکل ہوتا تھا۔ والد صاحب محنت اور مشقت کرنے والے شخص تھے۔ جب والد صاحب بطور ٹیچر ملازمت کرتے تھے تو انہوں نے سکول کے پرنسپل کو درخواست کی کہ ان کے پڑھانے کی باری چار ہی دنوں میں کروا دی جائے۔ سکول کی جتنی کلاسیں ہیں چار دن میں مکمل کر دیں اور باقی دن چھٹی ہو جائے تاکہ تبلیغ کے لیے زیادہ وقت مل سکے۔ جمعرات میں سکول سے فارغ ہو کر سیدھا تبلیغ کے لیے جاتے اور اتوار کی شام کو ہی گھر واپس آتے تھے بلکہ بعض دفعہ سوموار کی صبح گھر آتے۔

بشارت احمد صاحب مربی سلسلہ لکھتے ہیں کہ وسطی جاوا کے وونوسوبو (Wonosobo)علاقے میں دس جماعتیں آپ کے ذریعہ سے قائم ہوئیں۔ ہر حالت میں تہجد کا خاص اہتمام کرتے تھے۔ ہرسطح کے لوگوں سے بڑی عزت اور نرمی سے پیش آتے تھے۔ ایک بار آپ نے کہا کہ میری خواہش ہے کہ آخری ایام تک تبلیغ میں مصروف رہوں اسی میں میری خوشی اور میری صحت کی کنجی تھی۔ احمد ہدایت صاحب مربی سلسلہ بیان کرتے ہیں کہ مرحوم ایک بہادر داعی الی اللہ تھے۔ جب مخالفت کرنے والے لوگوں کی طرف سے دھمکی ملتی تو کبھی خوف محسوس نہیں کرتے تھے اور بڑا ڈٹ کرمقابلہ کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ درجات بلند فرمائے۔

اگلا ذکر چودھری بشیر احمد بھٹی صاحب ابن اللہ داد صاحب بھوڑو ضلع ننکانہ صاحب کا ہے۔ پچانوے سال کی عمر میں ان کی گزشتہ ماہ وفات ہوئی ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ان کے بیٹے محمد افضل بھٹی صاحب مربی سلسلہ تنزانیہ ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ پیدائشی احمدی تھے۔ صوم و صلوٰة کے پابند تھے۔ انصاف پسند اور صاف گو تھے۔ احمدیت اور خلافت کے ساتھ والہانہ عشق تھا ،چھوٹی عمر سے ہی قادیان جلسہ پر جایا کرتے تھے۔ گاؤں میں تعویذ گنڈے کرنے والوں سے لوگ بہت ڈرتے تھے، یہ عام رواج ہے ہمارے ملکوں میں۔تو آپ ان لوگوں کو کہا کرتے تھے کہ ان لوگوں سے نہ ڈرا کرو۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کی مرضی کے بغیر آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے لیکن گاؤں کے لوگ ان کو یہ کہہ دیا کرتے تھے کہ آپ لوگ تو احمدی ہیں، آپ ان چیزوں کو نہیں مانتے اس لیے آپ کو کوئی نقصان نہیں پہنچتا لیکن ہمیں بڑا خوف ہے۔ 1953ء میں جب فسادات شروع ہوئے تو مخالفین احمدیت نے علاقے میں جلوس نکالے۔ احمدیوں کے گھروں کو آگ لگانے کا پروگرام بنایا۔ قریبی گاؤں سے آپ کی برادری کے سرکردہ افراد جو اپنے گاؤں میں بڑا اثر و رسوخ رکھتے تھے مگر احمدی نہیں تھے، کچھ لوگ ان کے پاس گئے اور انہوںنے کہا کہ احمدی ڈیرے پر رہتے ہیں، کل ہمارا وہاں آگ لگانے کا پروگرام ہے ان کو سمجھا لیں کہ وہاں سے چلے جائیں یا احمدیت سے انکار کر دیں ورنہ انجام اچھا نہیں ہوگا۔ تو ان کے رشتہ داروں نے جب اپنے رشتہ دار کو سمجھایا کہ عارضی طور پر احمدیت کا انکار کر دو۔ جب جلوس چلا جائے گا تو پھر واپس اپنے دین پہ آ جاناتو آپ نے انہیں کہا کہ آپ پریشان نہ ہوں ہم نے بڑی سوچ سمجھ کے احمدیت قبول کی ہے۔ ہمارا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ ہم احمدیت کے لیے قربان تو ہو سکتے ہیں مگر یہ گوارا نہیں کرسکتے کہ ایک منٹ کے لیے بھی اپنے ایمان سے پیچھے ہٹیں۔ بہرحال انہوں نے کہا اگر تم کچھ نہیں کر سکتے تو نہ کرو ہمارا توکّل اللہ تعالیٰ پر ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے ایسا انتظام کیا کہ جلوس بھی کچھ فاصلے تک آ کے خود بخود تتر بتر ہو گیا اور ان کو ان کے ڈیرے تک آنے کی جرأت نہیں ہوئی۔

پسماندگان میں دو بیٹیاں اور پانچ بیٹے شامل ہیں۔ ایک بیٹے مکرم افضل بھٹی صاحب مربی سلسلہ تنزانیہ ہیں، وہاں خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔ میدان ِعمل میں ہونے کی وجہ سے جنازہ اور تدفین میں شامل نہیں ہو سکے۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیاں جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے اور ان کے بیٹے جو شامل نہیں ہو سکے ان کو بھی صبر اور حوصلہ کی توفیق دے۔

اگلا ذکر حمید اللہ خادم ملہی صاحب ابن چودھری اللہ رکھا ملہی صاحب دارالنصر غربی ربوہ کا ہے۔ 82 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ۔آپ چودھری اللہ بخش بھُلر صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نواسے اور نصر اللہ ملہی صاحب شہید مربی سلسلہ کے والد تھے۔ مرحوم صوم و صلوٰة کے پابند، سادہ لوح، شریف النفس، غریب پرور، ایک مخلص اور فدائی احمدی تھے۔ دورانِ ملازمت بڑی بہادری سے مخالفت کا ڈٹ کر مقابلہ کرتے رہے۔ ان کے ایک بیٹے واقفِ زندگی ہیں۔ ربوہ میں طاہر ہارٹ میں کام کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔

اگلا ذکر محمد علی خان صاحب پشاور کا ہے جو شریف اللہ خان صاحب کے بیٹے تھے۔ نواسی سال کی عمر میں یا انانوے89 eighty nine سال کی عمر میں بقضائے الٰہی وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ۔ اللہ کے فضل سے 1/8 حصہ کے موصی تھے۔ پسماندگان میں تین بیٹیاں اور سات بیٹے شامل ہیں۔ ان کی ایک بیٹی سلیمہ صاحبہ جو برہان صاحب کی اہلیہ ہیں یہاں اسلام آباد میں ہی رہتے ہیں۔ یہ لکھتی ہیں کہ پہلے یہ لوگ، ان کا خاندان غیر مبائع تھے۔ پھر 1954ء میں ان کے والد نے خلیفہ ثانیؓ کے ہاتھ پر بیعت کی اور تاحیات جماعت اور خلافت سے وابستہ رہے اور ان کے والد نے دینی غیرت اور جماعت سے گہری وابستگی کا مظاہرہ کیا۔ بہرحال اس کے بعد پھر ان کو جماعتی خدمت کی بھی توفیق ملی۔ قائد ضلع خدام الاحمدیہ بھی رہے۔ پھر سیکرٹری وصایا، سیکرٹری تعلیم القرآن وغیرہ رہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا مطالعہ بڑی گہرائی سے کیا کرتے تھے۔ قرآن کریم سے آپ کو بے پناہ محبت تھی۔ ہمیشہ آپ کو قرآن کریم کی تلاوت کرتے دیکھا۔ قرآن کریم کا بہت سا حصہ آپ کو زبانی یاد تھا۔ دعا گو، نیک، مہمان نواز، سچے اور کھرے انسان تھے۔ درود شریف کا بہت ورد کیا کرتے تھے۔ لوگوں کی مالی مدد بھی بہت کرتے تھے۔ ان کے غیر احمدی رشتہ داروں نے ان کو کہا کہ اگر آپ احمدیت چھوڑ دیں تو ہم آپ کے قدموں میں قربان ہونے کے لیے تیار ہیں تو کہتی ہیں میرے والد نے ان کو جواب دیا مجھے تمہاری قربانی کی کیا ضرورت ہے۔ میں تو خود قربان ہو چکا ہوں۔ اب میری بات سنو کہ مسیح موعودؑ کو مان لوجس نے آنا تھا وہ آ گیا،اور اپنی زندگیاں سنوار لو۔لیکن بہرحال انہوں نے کوئی توجہ نہیں دی۔ آہستہ آہستہ وہ سارے رشتہ دار ساتھ چھوڑ گئے لیکن آپ احمدیت کے ساتھ تعلق میں دن بہ دن ترقی کرتے چلے گئے ۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ درجات بلند کرے۔

اگلا ذکر صاحبزادہ مہدی لطیف صاحب میری لینڈ امریکہ کا ہے جو ستاسی87 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ۔ صاحبزادہ مہدی لطیف صاحب حضرت صاحبزادہ عبداللطیف شہید رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پوتے اور صاحبزادہ محمد طیّب لطیف صاحب مرحوم کے بیٹے تھے۔ صاحبزادہ مہدی لطیف صاحب مرحوم اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا بہت وسیع مطالعہ کیا ہوا تھا۔ پنجوقتہ نمازوں اور تہجد کی ادائیگی باقاعدگی سے کیا کرتے تھے۔ خلافت احمدیت کے شیدائی تھے۔ بہت ہی عاجز اور منکسرالمزاج شخصیت کے مالک تھے۔ آپ کو تبلیغ کا بہت شوق تھا اور ہمیشہ دوسروں کو بھی تبلیغ کرنے کی تلقین کیا کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور درجات بلند کرے۔

اگلا ذکر فیضان احمد سمیر ابن شہزاد اکبر صاحب کا ہے۔ شہزاد اکبر صاحب جو ہیں یہ ہمارے دفتر پرائیویٹ سیکرٹری ربوہ کے کارکن ہیں، ان کے بیٹے تھے۔ کووِڈ سے سولہ سال کی عمر میں ان کی وفات ہو گئی اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ۔ نہایت ہی ذہین، کم گو، شریف النفس، نیک بچہ تھا۔ وقفِ نو کی تحریک میں شامل تھا۔ اپنی پڑھائی کی طرف توجہ دینے والا اور غیر ضروری سرگرمیوں میں بلکہ کھیلوں میں بھی بہت کم حصہ لیتا تھا۔ بالکل سنجیدہ طبع بچہ تھا۔ سکول کے علاوہ زیادہ وقت گھر پر گزارتا تھا۔ان کے نانا خواجہ عبدالشکور صاحب بھی جماعت کی لمبا عرصہ خدمت کرتے رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ مرحوم کے والدین کو بھی صبر عطا فرمائے۔ مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے۔ درجات بلند کرے۔

(الفضل انٹرنیشنل 27جولائی تا 12 اگست 2021ءجلسہ سالانہ نمبر صفحہ 5-10)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close