خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 18؍جون2021ء

عمرؓ وہ جلیل القدر انسان تھا جس کے عدل اور انصاف کی مثال دنیا کے پردہ پر بہت کم پائی جاتی ہے (المصلح الموعودؓ)

جب مَیں اپنے رب سے ملوں گا اور وہ مجھ سے پوچھے گا تو مَیں جواب دوں گا کہ مَیں نے تیرے بندوں میں سے بہترین کو تیرے بندوں پر خلیفہ بنایا ہے(حضرت ابوبکرؓ)

’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غصہ کے متعلق آیا ہے کہ آپؓ سے کسی نے پوچھا کہ قبل از اسلام آپؓ بڑے غصہ ور تھے۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ غصہ تو وہی ہے البتہ پہلے بے ٹھکانے چلتا تھا مگر اب ٹھکانے سے چلتا ہے۔‘‘ (حضرت مسیح موعودؑ)

جب حضرت عمرؓ منبر پر چڑھے تو آپؓ کا سب سے پہلا کلام یہ تھا کہ آپؓ نے فرمایا

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ شَدِیْدٌ فَلَیِّنِیْ وَ اِنِّیْ ضَعِیْفٌ فَقَوِّنِیْ وَ اِنِّیْ بَخِیْلٌ فَسَخِّنِیْ۔

کہ اے اللہ! مَیں سخت ہوں پس تو مجھے نرم کر دے اور مَیں کمزور ہوں پس تو مجھے طاقتور بنا دے اور مَیں بخیل ہوں پس تو مجھے سخی بنا دے

آنحضرتﷺ کے عظیم المرتبت خلیفہ ٔراشد فاروق اعظم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اوصافِ حمیدہ کا تذکرہ

سات مرحومین : مکرمہ سہیلہ محبوب صاحبہ اہلیہ فیض احمد صاحب گجراتی درویش مرحوم ناظر بیت المال،مکرم راجہ خورشید احمد منیر صاحب مربی سلسلہ، مکرم ضمیر احمد ندیم صاحب مربی سلسلہ ،مکرم عیسیٰ مواکی تلیمہ صاحب نیشنل نائب امیرتنزانیہ،مکرم شیخ مبشر احمد صاحب سپروائزر نظامت تعمیرات قادیان، مکرم سیف علی صاحب سڈنی آسٹریلیا اورمکرم مسعود احمد حیات صاحب کا ذکرِ خیر اور نمازِ جنازہ غائب

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 18؍جون2021ء بمطابق 18؍احسان1400 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

آج کل حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ذکر چل رہا ہے۔ جب حضرت ابوبکرؓ کی وفات کا وقت قریب آیا تو حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو بلایا اور فرمایا مجھے عمرؓ کے متعلق بتاؤ۔ تو انہوں نے یعنی حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے کہا کہ اے رسول اللہؐ کے خلیفہ، اللہ کی قسم !حضرت عمرؓ آپ کی رائے سے بھی افضل ہیں سوائے اس کے کہ ان کی طبیعت میں سختی ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا سختی اس لیے ہے کہ وہ مجھ میں نرمی دیکھتے ہیں۔ اگر امارت ان کے سپرد ہو گئی تو وہ اپنی بہت سی باتیں جو ان میں ہیں ان کو چھوڑ دیں گے کیونکہ میں نے ان کو دیکھا ہے کہ جب میں کسی شخص پر سختی کرتا ہوں تو وہ مجھے اس شخص سے راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور جب میں کسی شخص سے نرمی کرتا ہوں، نرمی کا سلوک کرتا ہوں تو وہ اس وقت مجھے سختی کرنے کا کہتے ہیں۔ اس کے بعد حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عثمان بن عفانؓ کو بلایا اور ان سے حضرت عمرؓ کے بارے میں دریافت فرمایا۔ حضرت عثمانؓ نے کہا کہ ان کا باطن ان کے ظاہر سے بھی بہتر ہے اور ہم میں ان جیسا کوئی نہیں۔ اس پر حضرت ابوبکرؓ نے دونوں اصحاب سے فرمایا۔ جو کچھ مَیں نے تم دونوں سے کہا ہے اس کا ذکر کسی اَور سے نہ کرنا اور اگر مَیں عمرؓ کو چھوڑتا ہوں تو عثمانؓ سے آگے نہیں جاتا (یعنی آپؓ کے نزدیک دونوں ایسے لوگ تھے جو خلافت کا حق ادا کرنے والے تھے) اور ان کو یہ اختیار ہو گا کہ وہ تمہارے امور کے متعلق کوئی کمی نہ کریں۔ اب میری یہ خواہش ہے کہ مَیں تمہارے امور سے علیحدہ ہو جاؤں اور تمہارے اسلاف میں سے ہو جاؤں۔ حضرت ابوبکرؓ کی بیماری کے دنوں میں حضرت طلحہ بن عبیداللہؓ حضرت ابوبکرؓ کے پاس آئے اور حضرت ابوبکرؓ سے کہا کہ آپ نے حضرت عمرؓ کو لوگوں پر خلیفہ بنا دیا ہے حالانکہ آپ دیکھتے ہیں کہ وہ آپ کی موجودگی میں لوگوں سے کس طرح سلوک کرتے ہیں اور اس وقت کیا حال ہو گا جب وہ تنہا ہوں گے؟ اور آپؓ اپنے رب سے ملاقات کریں گے اور آپؓ سے رعیّت کے بارے میں پوچھے گا۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا کہ مجھے بٹھاؤ۔ تو انہوں نے آپؓ کو سہارا دے کر بٹھایا اور آپؓ نے کہا۔ کیا تم مجھے اللہ سے ڈراتے ہو؟ جب مَیں اپنے رب سے ملوں گا اور وہ مجھ سے پوچھے گا تو مَیں جواب دوں گا کہ مَیں نے تیرے بندوں میں سے بہترین کو تیرے بندوں پر خلیفہ بنایا ہے۔ پھر حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عثمانؓ کو علیحدگی میں بلایا تا کہ وہ حضرت عمرؓ کے متعلق وصیت لکھ دیں۔ پھر فرمایا لکھو بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرّحِیْم۔ یہ ابوبکر بن ابو قحافہ کی وصیت مسلمانوں کے نام ہے۔ اتنا کہہ کر آپ پر غشی طاری ہو گئی اور حضرت عثمانؓ نے اپنی طرف سے لکھا کہ مَیں نے تم پر عمر بن خطابؓ کو خلیفہ مقرر کیا ہے اور مَیں نے تمہارے متعلق خیر میں کمی نہیں کی۔ پھر حضرت ابوبکرؓ کو افاقہ ہوا تو فرمایا مجھے پڑھ کر سناؤ کیا لکھا ہوا ہے۔ حضرت عثمانؓ نے سنایا تو حضرت ابوبکرؓ نے اللہ اکبر کہا اور فرمایا میرا خیال ہے کہ تم ڈر گئے کہ اگر مَیں اس بیہوشی میں وفات پا جاؤں تو کہیں لوگوں میں اختلاف نہ پیدا ہو جائے۔ حضرت عثمانؓ نے کہا ہاں یہی بات ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا اللہ تمہیں اسلام اور مسلمانوں کی طرف سے جزا عطا کرے۔

(الکامل فی التاریخ لابن اثیر جلد 2 صفحہ 272-273 دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان 2003ء)

حضرت عثمانؓ نے حضرت عمرؓ کے خلیفہ ہونے کا جو فقرہ اپنی طرف سے لکھا تھا اس پر حضرت ابوبکرؓ نےکوئی اعتراض نہیں کیا۔

تاریخ طبری میں لکھا ہے کہ محمد بن ابراہیم بن حارث بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عثمان ؓکو علیحدگی میں بلایا اور فرمایا لکھو بِسْمِ اللّٰہِ الرَّحْمٰنِ الرّحِیْم۔ یہ عہد نامہ ابوبکر بن ابوقحافہ کی طرف سے مسلمانوں کے لیے ہے اور اما بعد راوی کہتے ہیں پھر آپؓ پر یعنی حضرت ابوبکرؓ پر غشی طاری ہو گئی اور آپؓ بے ہوش ہو گئے۔ اس کے بعد اس طرح جیسا کہ پہلے بیان ہو چکا ہے حضرت ابوبکرؓ ہوش میں آئے۔ جب افاقہ ہوا تو وہی باتیں ہوئیں اور حضرت عثمانؓ سے پڑھ کر سنانے کے لیے کہا۔ اس کو سن کر پھر جیسا کہ بیان ہوا ہے حضرت ابوبکرؓ نے اللہ اکبر کہا۔ پھر حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا: اللہ تمہیں اسلام اور اہل اسلام کی طرف سے جزائے خیر دے جو تم نے یہ فقرہ لکھ دیا۔ حضرت ابوبکرؓ نے اس تحریر کو اس جگہ بر قرار رکھا، کوئی تبدیلی نہیں کی۔

(تاریخ الطبری جلد 2 صفحہ 353۔ سنۃ 13ھ، ذکر استخلاف عمر بن الخطاب۔ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1987ء)

ایک روایت میں ہے کہ حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عثمان ؓکو بلوایا اور ان سے فرمایا کہ مجھے خلیفہ کے لیے کسی شخص کا مشورہ دو۔ اللہ کی قسم! تم میرے نزدیک مشورے کے اہل ہو۔ اس پر انہوں نے کہا حضرت عمرؓ ۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا لکھو۔ تو انہوں نے لکھا یہاں تک کہ نام تک پہنچے تو حضرت ابوبکرؓ بےہوش ہو گئے۔ پھر جب حضرت ابوبکرؓ کو افاقہ ہوا تو آپؓ نے فرمایا لکھو عمرؓ۔

پھر ایک روایت میں ہے۔ حضرت عائشہؓ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت ابوبکرؓ کی وصیت حضرت عثمانؓ تحریر کر رہے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ پر غشی طاری ہوئی۔ حضرت عثمانؓ نے حضرت عمرؓ کا نام لکھ دیا۔ جب حضرت ابوبکرؓ کو افاقہ ہوا تو انہوں نے دریافت فرمایا تم نے کیا لکھا ہے؟ انہوں نے کہا مَیں نے لکھا ہے عمرؓ۔ حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا تم نے وہی لکھا جس کا مَیں نے ارادہ کیا تھا کہ تم سے کہوں گا ۔ اگر تم اپنا نام بھی لکھ دیتے تو تم بھی اس کے اہل تھے۔

(سیرت عمر بن الخطاب از ابن جوزی صفحہ 44-45 فی ذکر عہد ابی بکرعلی عمر…… المطبعۃ المصریہ الازہر)

ایک روایت میں مذکور ہے کہ جب حضرت ابوبکرؓ بیمار ہوئے تو آپؓ نے حضرت علیؓ اور حضرت عثمانؓ اور مہاجرین و انصار کے چند لوگوں کی طرف پیغام بھیجا اور فرمایا اب وقت آ گیا ہے جو تم دیکھ رہے ہو اور تمہیں حکم دینے کے لیے کوئی نہیں کھڑا۔ اگر تم چاہو تو اپنے میں سے کسی کو چن لو اور اگر تم لوگ چاہو تو مَیں تمہارے لیے چن لوں۔ انہوں نے عرض کیا بلکہ آپؓ ہمارے لیے چن لیں۔ انہوں نے حضرت عثمانؓ سے فرمایا لکھو یہ وہ عہد ہے جو ابوبکر بن ابو قحافہ نے اس دنیا سے جاتے ہوئے اپنا آخری عہد کیا اور آخرت میں داخل ہوتے ہوئے اپنا پہلا عہد کیا جہاں فاجر توبہ کرے گا اور کافر ایمان لائے گا اور جھوٹا تصدیق کرے گا اور وہ عہد یہ ہے کہ وہ گواہی دیتے ہیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور مَیں خلیفہ مقرر کرتا ہوں۔ پھر حضرت ابوبکرؓ پر غشی طاری ہو گئی تو حضرت عثمانؓ نے خود ہی عمر بن خطابؓ لکھ دیا ۔ پھر جب حضرت ابوبکرؓ کو افاقہ ہوا تو آپؓ نے فرمایا کیا تم نے کچھ لکھا؟ تو انہوں نے کہا جی ہاں مَیں نے لکھا ہے عمر بن خطابؓ۔ اس پر حضرت ابوبکرؓ نے فرمایا اللہ تم پر رحم فرمائے ۔اگر تم اپنا نام بھی لکھ دیتے تو تم اس کے اہل تھے۔ پس تم لکھو مَیں نے اپنے بعد عمر بن خطابؓ کو تمہارا خلیفہ مقرر کیا ہے اور مَیں تم لوگوں کے لیے ان پر راضی ہوں۔

(صحیح تاریخ الطبری جلد 3 صفحہ 126 حاشیہ۔ ذکر استخلاف عمر بن الخطاب، دارابن کثیر دمشق2007ء)

جب وصیت لکھی جا چکی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا۔ اسے لوگوں کو پڑھ کر سنایا جائے۔ پھر حضرت عثمانؓ نے لوگوں کو جمع کیا اور آپؓ نے اپنے آزاد کردہ غلام کے ہاتھ خط بھیجا۔ اس وقت حضرت عمرؓ بھی اس کے ساتھ تھے۔ حضرت عمرؓ لوگوں کو کہتے خاموش ہو جاؤ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ کی بات سنو کیونکہ انہوں نے تمہارے لیے خیر خواہی میں کمی نہیں کی۔ تب لوگ سکون سے بیٹھ گئے اور ان کے سامنے وصیت پڑھی گئی۔ انہوں نے اسے سنا اور اطاعت کی۔ اس وقت حضرت ابوبکرؓ لوگوں کی طرف مائل ہوئے اور فرمایا کیا تم اس پر راضی ہو جسے مَیں نے تم پر خلیفہ مقرر کیا ہے کیونکہ مَیں نے کسی رشتہ دار کو تم پر خلیفہ مقرر نہیں کیا۔ مَیں نے یقینا ًتم پر عمرؓ کو خلیفہ مقرر کیا ہے۔ پس اس کو سنو اور اطاعت کرو اور اللہ کی قسم! یقینا ًمَیں نے اس بارے میں غور و فکر میں کمی نہیں کی۔ اس پر لوگوں نے کہا ہم نے سنا اور اطاعت کی۔ پھر حضرت ابوبکرؓ نے حضرت عمرؓ کو بلایا اور ان سے فرمایا کہ مَیں نے تمہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ پر خلیفہ مقرر کیا ہے اور آپ یعنی حضرت عمرؓ کو اللہ کا تقویٰ اختیار کرنے کی وصیت کی۔ پھر فرمایا اے عمرؓ! یقینا ًاللہ کے کچھ حقوق ہیں جو رات کے وقت ہوتے ہیں جنہیں وہ دن کے وقت میں قبول نہیں کرتا اور کچھ حقوق دن کے ہیں جنہیں وہ رات میں قبول نہیں کرتا اور یقیناً وہ اس وقت تک نوافل قبول نہیں کرتا جب تک فرائض پورے نہ کیے جائیں۔ اے عمرؓ!کیا تم نہیں دیکھتے کہ انہی لوگوں کے ترازو بھاری ہیں جن کے حق کی پیروی کرنے اور بھاری ہونے پر قیامت کے دن ترازو بھاری ہوں گے۔ جو سچائی کی پیروی کریں گے ان کے ترازو قیامت کے دن بھاری ہوں گے۔ پھر آپؓ نے فرمایا اور ترازو کے لیے یہ بات حق ہے کہ کل کو اس میں وہی بات رکھی جائے گی جو بھاری ہو گی ۔ اے عمرؓ! کیا تم نہیں دیکھتے کہ انہی لوگوں کے ترازو ہلکے ہیں جن کے قیامت کے دن ترازو ہلکے ہوں گے۔ ان کے باطل کی پیروی اور ان کے ہلکا ہونے کی وجہ سے یعنی وہ سچائی کی پیروی نہیں کر رہے تھے اور نیکیاں نہیں بجا لا رہے تھے اس لیے قیامت کے دن پھر ان کے ترازو ہلکے ہوں گے۔ اور ترازو کے لیے یہ بات حق ہے کہ جب بھی اس میں باطل رکھا جائے گا تو وہ ہلکا ہی ہو گا۔ اے عمرؓ!کیا تم نہیں دیکھتے کہ نرمی والی آیات شدت والی آیات کے ساتھ نازل ہوئی ہیں اور شدت والی آیات نرمی والی آیات کے ساتھ تا کہ مومن رغبت رکھنے والے اور ڈرنے والے بھی ہوں۔ ایک طرف نیکی کی رغبت رکھیں اور دوسرے اللہ تعالیٰ کا خوف بھی ان میں ہو اور کوئی ایسی خواہش نہ رکھیں جس کا اللہ سے تعلق نہ ہو اور نہ ہی وہ کسی ایسے امر سے ڈرے جو اس کے اپنے ہاتھوں سے ہو۔ اے عمرؓ! کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آگ والوں کا محض ان کے برے اعمال کی وجہ سے ذکر کیا ہے۔ پس جب تم ان کا ذکر کرو تو کہو یقینا ًمَیں امید کرتا ہوں کہ مَیں ان میں سے نہیں ہوں اور اللہ نے جنت والوں کا ذکر محض ان کے نیک اعمال کی وجہ سے کیا ہے کیونکہ اللہ نے ان کی برائیوں سے درگزر کر دیا ہے۔ پس جب تم ان کا ذکر کرو تو کہو کیا میرے اعمال ان کے اعمال جیسے ہیں۔ (الکامل فی التاریخ لابن اثیر جلد 2 صفحہ 273-274 دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان 2003ء) اپنے دل سے پوچھو۔

جب حضرت ابوبکرؓ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپؓ فرمانے لگے۔ ہمارے پاس مسلمانوں کا جو مال ہے اسے واپس کر دو۔ مَیں اس مال میں سے کچھ بھی لینا نہیں چاہتا۔ میری وہ زمین جو فلاں فلاں مقام پرہے مسلمانوں کے لیے ان اموال کے عوض ہے جو مَیں نے بطور نفقہ بیت المال سے لیا تھا۔ یہ زمین، اونٹنی، تلوار صیقل کرنے والا غلام اور چادر جو پانچ درہم کی تھی سب حضرت عمرؓ کو دے دیا گیا۔ حضرت عمرؓ نے جب یہ سارا سامان دیکھا تو کہا کہ حضرت ابوبکرؓ نے اپنے بعد والے کو مشقت میں ڈال دیا ہے۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد 3 صفحہ 143 دارالکتب العلمیۃ بیروت 1990ء)

حضرت خلیفة المسیح الاول رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ سے کسی نے پوچھا تھا کہ آپؓ کی طبیعت میں وہ تیزی نہیں رہی جو زمانۂ جاہلیت میں تھی تو حضرت عمرؓ نے جواب دیا تیزی تو وہی ہے مگر اب کفار کے مقابلے میں دکھائی جاتی ہے۔

(ماخوذ از حقائق الفرقان جلد اوّل صفحہ206)

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ’’حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو لوگوں نے کہا تھا کہ اگر آپؓ نے اپنے بعد عمر رضی اللہ عنہ کو جانشین مقرر کیا تو بڑا غضب ہو گا کیونکہ یہ بہت غصیلے ہیں۔ انہوں نے فرمایا کہ ان کا غصہ اسی وقت تک گرمی دکھاتا ہے جب تک کہ مَیں نہ رہوں اور جب مَیں نہ رہوں گا تو یہ خود نرم ہو جائیں گے۔‘‘

(انوار خلافت ، انوار العلوم جلد3 صفحہ151)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام حضرت عمرؓ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ ’’حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے غصہ کے متعلق آیا ہے کہ آپؓ سے کسی نے پوچھا کہ قبل از اسلام آپؓ بڑے غصہ ور تھے۔ حضرت عمرؓ نے جواب دیا کہ غصہ تو وہی ہے البتہ پہلے بے ٹھکانے چلتا تھا مگر اب ٹھکانے سے چلتا ہے۔‘‘ (احمدی اور غیر احمدی میں کیا فرق ہے؟، روحانی خزائن جلد20صفحہ487) صحیح جگہ پہ غصہ استعمال ہوتا ہے۔

جامع بن شدّاد اپنے کسی قریبی عزیز سے روایت کرتے ہیں کہ مَیں نے حضرت عمر بن خطابؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ اے خدا !مَیں ضعیف ہوں مجھے طاقتور بنا دے اور مَیں سخت مزاج ہوں مجھے نرم مزاج بنا دے اور مَیں بخیل ہوں مجھے سخی بنا دے۔

حضرت عمرؓ نے خلیفہ بننے کے بعد جو پہلا خطاب فرمایا اس بارے میں بھی متفرق روایات ملتی ہیں۔ ایک روایت میں ہے۔ حُمَید بن ہلال بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق ؓکی وفات کے وقت جو حاضر تھا اس نے ہمیں بتایا کہ حضرت ابوبکرؓ کی تدفین سے جب حضرت عمرؓ فارغ ہوئے تو انہوں نے اپنے ہاتھوں سے ان کی قبر کی مٹی کو جھاڑا۔ پھر اپنی جگہ پر کھڑے ہوئے اور فرمایا: یقینا ًاللہ تعالیٰ نے تمہیں میرے ذریعہ سے اور مجھے تمہارے ذریعہ سے آزمایا ہے اور اس نے میرے دونوں ساتھیوں کے بعد مجھے تم پر باقی رکھا ہے۔ اللہ کی قَسم !تمہارا جو بھی معاملہ میرے سامنے پیش ہو گا تو میرے علاوہ کوئی اَور اس کو نہیں دیکھے گا اور جو معاملہ مجھ سے دُور ہو گا تو اس کے لیے مَیں قوی اور امین لوگوں کو مقرر کروں گا یعنی لوگ مقرر کیے جائیں گے جو تمہاری نگرانی کریں گے اور معاملات کو دیکھیں گے۔ اگر لوگ اچھا برتاؤ کریں گے تو مَیں بھی ان سے اچھا برتاؤ کروں گا اور اگر انہوں نے برائی کی تو مَیں انہیں سزا دوں گا۔

حسن کہتے ہیں کہ ہمارا خیال ہے کہ سب سے پہلا خطبہ جو حضرت عمرؓ نے ارشاد فرمایا وہ یہ تھا۔ آپؓ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا بیان کی پھر فرمایا۔ امّا بعدمجھے تم لوگوں کے ذریعہ آزمایا گیا ہے اور تم لوگ میرے ذریعہ سے آزمائے گئے ہو اور مجھے اپنے دونوں ساتھیوں کے بعد تم لوگوں پہ پیچھے چھوڑ دیا گیا۔ پس جو معاملہ ہمارے سامنے ہو گا ہم اسے خود دیکھیں گے اور جو معاملہ ہم سے دور ہو گا تو ہم اس کے لیے قوی اور امین لوگ مقرر کریں گے اور جو اچھائی کرے گا ہم اس کو بھلائی میں بڑھائیں گے اور جو برائی کرے گا ہم اسے سزا دیں گے اور اللہ ہماری اور تمہاری مغفرت فرمائے۔

جامع بن شَدَّاد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عمرؓ منبر پر چڑھے تو آپؓ کا سب سے پہلا کلام یہ تھا کہ آپؓ نے فرمایا

اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ شَدِیْدٌ فَلَیِّنِیْ وَ اِنِّیْ ضَعِیْفٌ فَقَوِّنِیْ وَ اِنِّیْ بَخِیْلٌ فَسَخِّنِیْ۔

کہ اے اللہ! مَیں سخت ہوں پس تُو مجھے نرم کر دے اور مَیں کمزور ہوں پس تُو مجھے طاقتور بنا دے اور مَیں بخیل ہوں پس تُو مجھے سخی بنا دے۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد جلد 3 صفحہ 208۔ ذکر استخلاف عمر، دار الکتب العلمیۃ بیروت 1990ء)

جامع بن شَدَّاد اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ جب حضرت عمرؓ خلیفہ منتخب ہوئے تو آپؓ منبر پر چڑھے اور فرمایا کہ مَیں چند کلمات کہنے والا ہوں تم ان پر آمین کہو۔ یہ پہلا کلام تھا جو حضرت عمرؓ نے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد کیا۔حُصَیْن مُرِّی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عمرؓ نے فرمایا عربوں کی مثال نکیل میں بندھے ہوئے اونٹ کی طرح ہے جو اپنے قائد کے پیچھے چلتا ہے۔ پس اس کے قائد کو چاہیے کہ وہ دیکھے کس طرف ہانک رہا ہے اور جہاں تک میرا تعلق ہے تو رَبِّ کعبہ کی قَسم! مَیں انہیں ضرور سیدھے رستے پر رکھوں گا۔ (تاریخ الطبری جلد 2 صفحہ 355۔ سنۃ 13ھ، دارالکتب العلمیۃ بیروت 1987ء) جو پہلے والی روایت ہے اس میں یہ تو ہے کہ آمین کہنا لیکن تفصیل اس کی نہیں بیان ہوئی۔ یا یہی نکیل والی تفصیل ہے۔

بہرحال حضرت عمرؓ نے خلیفہ منتخب ہونے کے بعد تیسرے روز ایک تفصیلی خطاب فرمایا۔ وہ یوں ہے کہ جب حضرت عمرؓ کو لوگوں کے ان سے خائف ہونے کی اطلاع پہنچی تو لوگوں میں ان کے حکم سے الصلوٰةُ جامِعَۃٌ کہ نماز تیار ہے کی بلند آواز لگائی گئی۔ اس پر لوگ حاضر ہو گئے تو آپؓ منبر پر اس جگہ بیٹھے جہاں حضرت ابوبکرؓ اپنے پاؤں رکھا کرتے تھے۔ جب پورا اجتماع ہو گیا یعنی لوگ اکٹھے ہو گئے تو سیدھے کھڑے ہوئے اور اللہ کی حمد و ثنا ان کلمات سے کی جو اس کے مناسب ہیں اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھا۔ پھر فرمایا کہ مجھے یہ اطلاع پہنچی ہے کہ لوگ میری تیز مزاجی سے ڈر رہے ہیں اور وہ میری تُند خوئی سے خوفزدہ ہو رہے ہیں اور کہتے ہیں کہ عمرؓ ہم پر سخت گیری اس زمانے میں بھی کیا کرتا تھا جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود تھے اور پھر ہم پر سختی کرتا رہا جبکہ ابوبکرؓ ہم پر حاکم تھے نہ کہ وہ، تو اب کیا حال ہو گا جبکہ امور کا پورا اختیار اسی کے ہاتھ میں پہنچ گیا ہے؟ جس نے یہ کہا اس نے سچ کہا۔ بےشک مَیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا اور آپؐ کا غلام اور آپؐ کا خادم تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسے تھے کہ کوئی شخص آپؐ کی نرمی اور رحمدلی کی صفت تک نہیں پہنچ سکتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپؐ کو اس سے موسوم کیا اور آپؐ کو اپنے اسماء میں سے دو نام رؤوف اور رحیم عطا کیے اور مَیں ایک کھچی ہوئی تلوار تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اگر چاہیں تو مجھے نیام میں کر لیں یا مجھے چھوڑ دیں تو مَیں کاٹ ڈالوں۔ یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے اور وہ مجھ سے خوش تھے اور اللہ کا شکر ہے کہ مَیں اس بنا پر سعادت مند رہا۔ پھر لوگوں کے حاکم ابوبکرؓ ہوئے تو وہ ایسے لوگوں میں سے تھے کہ تم میں سے کوئی ان کی رقیق القلبی اور کرم اور نرم مزاجی کا منکر نہیں ہے اور مَیں ان کا خادم اور ان کا مددگار تھا۔ اپنی سختی کو ان کی نرمی کے ساتھ ملا دیتا تھا اور سونتی ہوئی تلوار بن جاتا تھا اور ان کے ہاتھ میں ہوتا تھا کہ وہ مجھے نیام میں بند کر دیں یا اگر چاہیں تو مجھے چھوڑ دیں اور مَیں کاٹ ڈالوں۔ تو مَیں ان کے ساتھ اسی طرح رہا یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ عز وجلّ نے ان کو اس حال میں وفات دی کہ وہ مجھ سے خوش تھے۔ الحمد للہ مَیں اس بنا پر سعادت مند رہا۔

پھر اے لوگو! مَیں تمہارے امور کا والی بن گیا ہوں۔ اب سمجھ لو کہ وہ تیزی کمزور کر دی گئی لیکن وہ مسلمانوں پر ظلم و دراز دستی کرنے والوں پر ظاہر ہو گی۔ تم پر کمزور ہے لیکن دشمنوں پر تیزی ظاہر ہو گی ۔ رہے وہ لوگ جو نیک خُو اور دین دار اور صاحبِ فضیلت ہیں مَیں ان کے ساتھ اس سے بھی زیادہ نرم ثابت ہوں گا جو نرمی وہ ایک دوسرے کے ساتھ کرتے ہیں اور مَیں کسی ایسے شخص کو نہیں پاؤں گا جو دوسرے پر ظلم و دراز دستی کرتا ہو گا مگر مَیں اس کے رخسار کو زمین پر ڈال کر اپنا پاؤں اس کے دوسرے رخسار پر رکھوں گا یہاں تک کہ وہ حق کو اچھی طرح سمجھ لے یعنی بہت سختی کروں گا۔ اور اے لوگو! تمہارے مجھ پر بہت سے حقوق ہیں جو مَیں تم سے ذکر کرتا ہوں تم ان پر میری گرفت کر سکتے ہو۔ تمہارا مجھ پر یہ حق ہے کہ مَیں اس مال میں سے جو تم پر خرچ کرنا ہے کوئی شے تم سے چھپا کر نہ رکھوں اور نہ اس میں سے جو اللہ تعالیٰ غنیمتوں میں سے تمہارے لیے بھیجے بجز اس کے جو اللہ تعالیٰ کے کام کے لیے روکوں۔ اور تمہارا مجھ پر یہ حق ہے کہ وہ مال اپنے حق کے موقع پر خرچ ہو اور تمہارا مجھ پر یہ حق ہے کہ مَیں تمہارے وظائف اور روزینے تم کو دیتا رہوں اور تمہارا مجھ پر یہ حق بھی ہے کہ مَیں تم کو ہلاکت کے مقامات میں نہ ڈالوں اور جب تم لشکر میں شامل ہو کر گھر سے غائب رہو تو مَیں تمہارے بال بچوں کا باپ بنا رہوں یہاں تک کہ تم ان کے پاس واپس آؤ۔ مَیں اپنی یہ بات کہہ رہا ہوں اور اللہ سے اپنے اور تمہارے لیے مغفرت چاہتا ہوں۔

(ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء مترجم از شاہ ولی اللہ محدث دہلوی جلد 3صفحہ 226تا228مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی )

حضرت عمرؓ کے دورِ خلافت کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ’’مسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے ہر وقت یہ آیت رہتی تھی کہ

تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهْلِهَا۔

یعنی جو لوگ حکومت کے قابل ہوں، جو انتظامی امور کو سنبھالنے کی اہلیت اپنے اندر رکھتے ہوں ان کو یہ امانت سپرد کیا کرو اور پھر جب یہ امانت بعض لوگوں کے سپرد ہوجاتی تھی توشریعت کا یہ حکم ہر وقت ان کی آنکھوں کے سامنے رہتا تھا کہ دیانت داری اور عدل کے ساتھ حکومت کرو۔ اگر تم نے عد ل کو نظر انداز کردیا، اگر تم نے دیانت داری کوملحوظ نہ رکھا، اگر تم نے اِس امانت میں کسی خیانت سے کام لیاتو خدا تم سے حساب لے گا اور وہ تمہیں اِس جرم کی سزادے گا۔یہی وہ چیزتھی جس کا اثر حضرت عمررضی اللہ عنہ کی طبیعت پر اِس قدرغالب اور نمایاں تھا کہ اسے دیکھ کر انسان کے رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ حضرت عمرؓ جو اسلام میں خلیفہ ثانی گزرے ہیں انہوں نے اسلام اور مسلمانوں کی ترقی کے لئے اِس قدر قربانیوں سے کام لیا ہے کہ وہ یورپین مصنف جو دن رات رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اعتراضات کرتے رہتے ہیں، جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اپنی کتابوں میں نہایت ڈھٹائی کے ساتھ یہ لکھتے ہیں کہ نعوذ باللہ! آپؐ نے دیانت داری سے کام نہیں لیا وہ بھی ابوبکرؓ اور عمرؓ کے ذکر پر یہ تسلیم کئے بغیر نہیں رہ سکتے کہ جس محنت اور قربانی سے اِن لوگوں نے کام کیا ہے اِس قسم کی محنت اور قربانی کی مثال دنیا کے کسی حکمران میں نظر نہیں آتی۔ خصوصاً حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے کام کی تو وہ بے حد تعریف کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ وہ شخص تھا جس نے رات اور دن انہماک کے ساتھ اسلام کے قوانین کی اشاعت اور مسلمانوں کی ترقی کے فرض کو سر انجام دیا مگر عمرؓ کا اپنا کیا حال تھا؟ اس کے سامنے باوجود ہزاروں کام کرنے کے، باوجود ہزاروں قربانیاں کرنے کے، باوجود ہزاروں تکالیف برداشت کرنے کے یہ آیت رہتی تھی کہ

اِنَّ اللّٰهَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تُؤَدُّوا الْاَمٰنٰتِ اِلٰٓى اَهْلِهَا

اور یہ کہ

وَاِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ۔

یعنی جب تمہیں خدا کی طرف سے کسی کے کام پر مقر ر کیا جاوے اور تمہارے ملک کے لوگ اور تمہارے اپنے بھائی حکومت کے لئے تمہارا انتخاب کریں تو تمہارا فرض ہے کہ تم عدل کے ساتھ کام کرو اور اپنی تمام قوتوں کو بنی نوع انسان کی فلاح وبہبود کے لئے صرف کردو۔ چنانچہ حضرت عمرؓ کا یہ واقعہ کیسا دردناک ہے کہ وفات کے قریب جبکہ آپؓ کو ظالم سمجھتے ہوئے ایک شخص نے نادانی اور جہالت سے خنجر سے آپؓ پروار کیااور آپؓ کو اپنی موت کا یقین ہوگیا تو آپؓ بستر پر نہایت کرب سے تڑپتے تھے اور بار بار کہتے تھے

اَللّٰھُمَّ لَا عَلَیَّ وَلَالِیْ۔ اَللّٰھُمَّ لَا عَلَیَّ وَلَا لِیْ

اے خدا! تُو نے مجھ کو اس حکومت پر قائم کیا تھا اور ایک امانت تُو نے میرے سپرد کی تھی۔ مَیں نہیں جانتا کہ مَیں نے اس حکومت کا حق ادا کر دیا ہے یا نہیں۔ اب میری موت کا وقت قریب ہے اور مَیں دنیا کو چھوڑ کر تیرے پاس آنے والا ہوں۔ اے میرے رب! مَیں تجھ سے اپنے اعمال کے بدلہ میں کسی اچھے اجر کا طالب نہیں، کسی انعام کا خواہش مند نہیں بلکہ اے میرے رب! مَیں صرف اِس بات کا طالب ہوں کہ تُو مجھ پر رحم کر کے مجھے معاف فرما دے اور اگر اِس ذمہ داری کی ادائیگی میں مجھ سے کوئی قصورہوگیا ہو تو اس سے درگزر فرما دے۔ عمرؓ وہ جلیل القدر انسان تھا جس کے عدل اور انصاف کی مثال دنیا کے پردہ پر بہت کم پائی جاتی ہے مگر اس حکم کے ماتحت کہ

وَاِذَا حَكَمْتُمْ بَيْنَ النَّاسِ اَنْ تَحْكُمُوْا بِالْعَدْلِ۔

جب وہ مرتا ہے تو ایسی بےچینی اور ایسے اضطراب کی حالت میں مرتا ہے کہ اسے وہ تمام خدمات جو اس نے ملک کی بہتری کے لئے کیں، وہ تمام خدمات جو اس نے لوگوں کی بہتری کے لئے کیں، وہ تمام خدمات جو اس نے اسلام کی ترقی کے لئے کیں بالکل حقیر نظر آتی ہیں۔ وہ تمام خدمات جو اس کے ملک کے تمام مسلمانوں کو اچھی نظر آتی تھیں، وہ تمام خدمات جو اس کے ملک کی غیراقوام کو بھی اچھی نظر آتی تھیں، وہ تمام خدمات جو نہ صرف اس کے ملک کے اپنوں اور غیروں کو ہی نہیں بلکہ غیر ممالک کے لوگوں کو بھی اچھی نظر آتی تھیں، وہ تمام خدمات جو صرف اس کے زمانہ میں ہی لوگوں کو اچھی نظر آتی تھیں بلکہ آج تیرہ سو سال گزرنے کے بعدبھی وہ لوگ جو اس کے آقا پر حملہ کرنے سے نہیں چوکتے جب عمرؓ کی خدمات کا ذکر آتا ہے تو کہتے ہیں بے شک عمرؓ اپنے کارناموں میں ایک بے مثال شخص تھا۔ وہ تمام خدمات خود عمرؓ کی نگاہ میں بالکل حقیر ہو جاتی ہیں اور وہ تڑپتے ہوئے کہتا ہے

اَللّٰھُمَّ لَا عَلَیَّ وَلَالِیْ۔

اے میرے رب! ایک امانت میرے سپرد کی گئی تھی۔مَیں نہیں جانتا کہ مَیں نے اس کے حقوق کو ادا بھی کیاہے یا نہیں۔ اِس لئے مَیں تجھ سے اتنی ہی درخواست کرتا ہوں کہ تُو میرے قصوروں کو معاف فرمادے اور مجھے سزا سے محفوظ رکھ۔‘‘

(اسلام کا اقتصادی نظام۔ انوار العلوم جلد 18 صفحہ 11تا 13)

پھر اپنی ایک تقریر ’’دنیا کا محسن‘‘ میں حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ ’’حضرت عمرؓ وہ انسان تھے جن کے متعلق‘‘ ویسے یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں تھا۔ ’’عیسائی مؤرخ بھی لکھتے ہیں کہ انہوں نے ایسی حکومت کی جو دنیا میں اَور کسی نے نہیں کی۔ وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو گالیاں دیتے ہیں مگر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی تعریف کرتے ہیں۔ ایسا شخص ہر وقت کی صحبت میں رہنے والا مرتے وقت یہ حسرت رکھتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں میں اسے جگہ مل جائے۔ اگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کسی فعل سے بھی یہ بات ظاہر ہوتی کہ آپؐ خدا کی رضا کے لئے کام نہیں کرتے تو کیا حضرت عمرؓ جیسا انسان اس درجہ کو پہنچ کر کبھی یہ خواہش کرتا کہ آپؐ کے قدموں میں جگہ پائے۔‘‘

(دنیا کا محسن ۔ انوار العلوم جلد 10 صفحہ 262)

حضرت مصلح موعودؓ یہ ثابت کر رہے ہیں کہ یہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی کی وجہ تھی اور آپؐ کی تربیت تھی جس کی وجہ سے حضرت عمرؓ میں یہ انصاف کے کام تھے اور یہ خوفِ خدا تھا۔

حضرت عمرؓ کی اہل ِبیت سے عقیدت کا کیا اظہار تھا؟ اس بارے میں حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں:حضرت عائشہؓ دیر تک رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد زندہ رہی تھیں۔ حضرت عمرؓ کے زمانہ میں جب ایران فتح ہوا تو وہاں سے آٹا پیسنے والی ہوائی چکیاں لائی گئیں۔ جن میں باریک آٹا پیسا جانے لگا۔ جب سب سے پہلی چکی مدینہ میں لگی تو حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حکم دیا کہ پہلا پسا ہوا باریک آٹا حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بطور تحفہ بھیجا جائے۔ چنانچہ آپؓ کے حکم کے مطابق وہ باریک میدہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا گیا اور ان کی خادمہ نے اس آٹے کے باریک باریک پھلکے تیار کیے۔ مدینہ کی عورتیں جنہوں نے پہلے کبھی ایسا آٹا نہیں دیکھا تھا وہ ہجوم کر کے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں جمع ہو گئیں کہ آؤ ہم دیکھیں وہ آٹا کیسا ہے اور اس کی روٹی کیسی تیار ہوتی ہے؟ سارا صحن عورتوں سے بھرا ہوا تھا اور سب اِس انتظار میں تھے کہ اس آٹے کی روٹی تیار ہو تو وہ اسے دیکھیں۔ حضرت مصلح موعود ؓعورتوں کو خطاب کر رہے تھے۔ ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ تم خیال کرتی ہوگی کہ شاید وہ کوئی عجیب قسم کا آٹا ہوگا۔ وہ عجیب قسم کا آٹا نہیں تھا بلکہ اس سے بھی ادنیٰ آٹا تھا جو تم روزانہ کھاتی ہو بلکہ اس سے بھی ادنیٰ آٹا تھا۔ آج جو آٹا تم میں سے ایک غریب سے غریب عورت کھاتی ہے اس سے بھی وہ ادنیٰ تھا۔ مگر مدینہ میں جس قسم کے آٹے ہوتے تھے ان سے وہ بہت اعلیٰ تھا۔ بہرحال آٹے کے پھلکے تیار ہوئے۔ عورتوں نے ان کو دیکھا اور وہ حیران رہ گئیں۔ وہ وفورِ شوق میں اپنی انگلیاں ان پھلکوں کو لگاتیں اور بے ساختہ کہتیں۔ اُف کیسا نرم پھلکا ہے۔ کیا اِس سے اچھا آٹا بھی دنیا میں ہو سکتا ہے؟

روٹی تو پک گئی لیکن یہاں سے حضرت عائشہؓ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے عشق و محبت کی کہانی شروع ہوتی ہے اور آپؓ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا جذبات تھے۔ حضرت عائشہؓ نے پھلکے میں سے، اس چھوٹی سی روٹی میں سے ایک لقمہ توڑا اور منہ میں ڈالا۔ وہ ساری کی ساری عورتیں جو وہاں کھڑی تھیں اِس شوق سے حضرت عائشہ ؓکا منہ دیکھنے لگیں کہ اِس کے کھانے سے حضرت عائشہؓ کی عجیب حالت ہوگی۔ نرم پھلکا ہے کھا کے وہ مزہ لیں گی۔ وہ خوشی کا اظہار کریں گی اور خاص قسم کی لذت اِس سے محسوس کریں گی۔ مگر حضرت عائشہؓ کے منہ میں وہ لقمہ گیا تو جس طرح کسی نے گلا بند کر دیا ہو۔ وہ لقمہ ان کے منہ میں ہی پڑا رہ گیا اور ان کی آنکھوں میں سے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔ عورتوں نے کہا۔ بی بی آٹا تو بڑا ہی اچھا ہے۔ روٹی اِتنی نرم ہے کہ اِس کی کوئی حد ہی نہیں۔ آپؓ کو کیا ہو گیا ہے کہ اسے نگل ہی نہیں سکیں اور رونے لگ گئیں؟ کیا اِس آٹے میں کوئی نقص ہے؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا۔ آٹے میں نقص نہیں۔ مَیں مانتی ہوں کہ یہ بڑا ہی نرم پھلکا ہے اور ایسی چیز پہلے ہم نے کبھی نہیں دیکھی مگر میری آنکھوں سے اِس لیے آنسو نہیں بہے کہ اِس آٹے میں کوئی نقص ہے بلکہ مجھے وہ دن یاد آگئے جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی آخری عمر میں سے گزر رہے تھے ۔آپؐ ضعیف ہوگئے تھے اور سخت غذا نہیں کھا سکتے تھے مگر ان دنوں میں بھی ہم پتھروں سے گندم کچل کر اور اس کی روٹیاں پکا پکا کر آپؐ کو دیتے تھے۔ پھر آپؓ نے فرمایا۔ وہ جس کے طفیل ہم کو یہ نعمتیں ملیں وہ تو اِن نعمتوں سے محروم چلا گیا لیکن ہم جنہیں اس کے طفیل سے یہ سب عزتیں مل رہی ہیں ہم وہ نعمتیں استعمال کر رہے ہیں۔ یہ کہا اور لقمہ تھوک دیا اور فرمایا۔ اٹھا لے جاؤ یہ پھلکے میرے سامنے سے۔ مجھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ یاد آ کر گلے میں پھندا پڑتا ہے اور مَیں یہ پھلکا نہیں کھا سکتی۔

(ماخوذ از آئندہ وہی قومیں عزت پائیں گی جو مالی و جانی قربانیوں میں حصہ لیں گی ۔ انوار العلوم جلد 21 صفحہ 155-156)

حضرت ابن عباسؓ سے مروی ہے کہ جب حضرت عمرؓ کے زمانے میں اصحابِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدائن کو فتح کیا۔ (مدائن کسریٰ کی تخت گاہ تھا) تو آپؓ نے ان کو مسجد میں چمڑے کی چٹائی بچھانے کا حکم دیا اور اموالِ غنیمت کے بارے میں حکم دیا جو اس چٹائی پر انڈیل دیے گئے۔ پھر اصحابِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم جمع ہوئے تو سب سے پہلے جس نے آپؓ سے مالِ غنیمت لینے کی ابتدا کی وہ حضرت حسن بن علیؓ تھے۔ انہوں نے عرض کیا اے امیر المومنین! جو مال اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عطا فرمایا ہے اس میں سے میرا حق مجھے عطا فرمائیں تو حضرت عمرؓ نے ان کو کہا بڑی خوشی سے اور عزت سے اور ان کو ایک ہزار درہم دینے کا حکم فرمایا۔ پھر وہ یعنی حسنؓ چلے گئے اور حسین بن علی ؓآپ کی طرف آگے بڑھے اور عرض کیا اے امیر المومنین! جو مال اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عطا فرمایا اس میں سے میرا حق مجھے عطا فرمائیں تو حضرت عمرؓ نے ان کو کہا بڑی خوشی سے اور عزت کے ساتھ اور ان کو ایک ہزار درہم دینے کا حکم فرمایا۔ پھر آپؓ کے بیٹے یعنی حضرت عمرؓ کے بیٹے عبداللہ بن عمرؓ آپ کی طرف آگے بڑھے اور عرض کیا اے امیر المومنین! جو مال اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو عطا فرمایا ہے اس میں سے میرا حق مجھے عطا فرمائیں۔ تو حضرت عمرؓ نے ان کو کہا بڑی خوشی اور عزت کے ساتھ اور انہیں پانچ سو درہم دینے کا حکم فرمایا۔ اس پر عبداللہ بن عمرؓ نے عرض کیا۔ اے امیر المومنین! مَیں ایک طاقتور مرد ہوں جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے تلوار چلایا کرتا تھا اور حَسن اور حُسین اس وقت بچے تھے جو مدینہ کی گلیوں میں پھرا کرتے تھے۔ آپؓ نے ان دونوں کو ایک ایک ہزار درہم دیے ہیں اور مجھے پانچ سو۔ آپؓ نے فرمایا: ہاں! جاؤ اور میرے پاس ایسا باپ لے کے آؤ جیسا ان دونوں کا باپ ہے اور ماں جو اِن دونوں کی ماں کے جیسی ہو اور نانا جو اِن دونوں کے نانا جیسا ہو اور نانی جو اِن دونوں کی نانی جیسی ہو اور چچا جو ان دونوں کے چچا جیسا ہو اور ماموں جو اِن دونوں کے ماموؤں جیسا ہو اور خالہ جو ان دونوں کی خالہ جیسی ہو اور یقیناً تُو میرے پاس نہیں لا سکے گا۔

(ماخوذ از ازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء مترجم از شاہ ولی اللہ محدث دہلوی جلد 3صفحہ 292-293 مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی )

(فرہنگ سیرت صفحہ 264 زوار اکیڈیمی کراچی 2004ء)

ابوجعفر سے مروی ہے کہ حضرت عمرؓ نے جب ارادہ کیا کہ لوگوں کے لیے وظیفے مقرر کر دیں اور آپؓ کی رائے سب لوگوں کی رائے سے بہتر تھی تو لوگوں نے عرض کیا کہ آپؓ اپنی ذات سے شروع کریں۔ آپؓ نے فرمایا نہیں۔ چنانچہ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سب سے قریبی رشتہ دار سے شروع کیا۔ آپؓ نے پہلے حضرت عباسؓ کا اور پھر حضرت علی ؓکا حصہ مقرر کیا۔

(ماخوذ ازازالۃ الخفاء عن خلافۃ الخلفاء مترجم از شاہ ولی اللہ محدث دہلوی جلد 3صفحہ 241 مطبوعہ قدیمی کتب خانہ کراچی )

حضرت عمر بن خطابؓ حضرت امام حسنؓ اور امام حسینؓ کی عزت کرتے تھے اور ان کو سوار کرتے اور ان دونوں کو عطا کرتے تھے جیسے ان کے والد کو عطا کیا کرتے تھے۔ ایک دفعہ یمن سے کچھ حُلّے یعنی کپڑوں کے جوڑے آئے تو آپؓ نے انہیں صحابہ کے بیٹوں میں تقسیم کر دیا اور ان دونوں کو ان میں سے کچھ نہ دیا اور فرمایا: ان میں ان دونوں کے لائق کوئی چیز نہیں۔ پھر آپؓ نے یمن کے نائب کو پیغام بھیجا تو اس نے ان دونوں کے مناسب حال حُلّے بنوائے۔

(البدایة والنھایة جلد 4 جزء 8 باب فضل ذکر فی شیء من فضائلہ صفحہ 214-215دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان2001ء)

یہ ذکر ان شاء اللہ آئندہ بھی چلے گا اس وقت مَیں بعض مرحومین کا بھی ذکر کرنا چاہتا ہوں۔ نماز کے بعد نمازِ جنازہ بھی پڑھاؤں گا۔

ان میں سے پہلا ذکر ہے سہیلہ محبوب صاحبہ اہلیہ فیض احمد صاحب گجراتی درویش مرحوم جو ناظر بیت المال تھے۔ سہیلہ صاحبہ کی نوّے سال کی عمر میں وفات ہوئی ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصیہ تھیں۔ یہ بِہار کے ایک تعلیم یافتہ گھرانے سے تعلق رکھتی تھیں۔ ان کے والد احمدی نہیں تھے لیکن ان کی والدہ اپنے والد کی بیعت کے بعد خود مطالعہ کر کے احمدیت میں شامل ہوئیں اور تین چار سال تک اپنے خاوند کی بے رخی سے بہت تکلیف بھی اٹھائی لیکن احمدیت پر ثابت قدم رہیں۔ ان کے خاوند احمدی تو نہیں ہوئے لیکن بعد میں مخالفت ترک کر دی اور بیٹیوں کے رشتے بھی احمدی گھرانوں میں ہوئے۔ اس طرح سہیلہ صاحبہ کا بھی رشتہ احمدیوں میں ہوا۔ 1958ء میں مرحومہ کی والدہ اپنی بیٹی سہیلہ محبوب کے ساتھ پہلی بار قادیان آئیں۔ سہیلہ محبوب صاحبہ کہتی ہیں ان کو قادیان کی بستی سے بہت اُنس ہو گیا۔ بہت دعائیں کیں کہ کسی طرح وہ قادیان میں ہی آباد ہو جائیں۔ بہرحال انہوں نے زندگی وقف کی۔ اس وقت ناظر خدمت درویشاں حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ تھے۔ اس لیے انہوں نے زندگی وقف کے خط کے جواب میں ان کو لکھا کہ مجھے آپ کے وقف کا علم ہوا ہے اور آپ کا یہ اقدام بڑی قدر کے قابل ہے۔ وقف کے ماتحت آپ کا اولین فرض ہے کہ دین کا علم سیکھیں۔ اپنے اعمال کو اسلام اور احمدیت کے مطابق بنائیں تا کہ بہترین نمونہ قائم ہو۔ چنانچہ 1964ء میں یہ بہرحال وقف ہوئیں۔ 1964ء میں مرحومہ کی شادی چودھری عبداللہ صاحب درویش سے ہوئی۔ ان سے ایک بیٹی پیدا ہوئی لیکن کچھ دیر بعد علیحدگی ہو گئی۔ پھر ان کی دوسری شادی چودھری فیض احمد صاحب گجراتی درویش سے ہوئی۔ ان سے ایک لڑکا پیدا ہوا لیکن وہ بچپن میں فوت ہو گیا۔ مرحومہ کو ریٹائرمنٹ تک تقریباً تیس سال نصرت گرلز ہائی سکول قادیان میں بطور ہیڈ مسٹرس خدمت کا موقع ملا۔

دوسرا ذکر راجہ خورشید احمد منیر صاحب مربی سلسلہ کا ہے جو آج کل آسٹریلیا میں تھے وہاں ان کی وفات ہوئی ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔مرحوم موصی تھے۔ ان کو لمبا عرصہ پاکستان اور آزاد کشمیرکے مختلف علاقوں میں بطور مربی سلسلہ خدمت کی توفیق ملی۔ ایک نڈر مربی سلسلہ تھے۔ آزاد کشمیر میں خدمت کے دوران آپ کو بہت مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ 74ء کے پُرآشوب حالات کے دوران بڑی بہادری سے مخالفت کا سامنا کیا۔ حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ نے ایک میٹنگ میں آپ کے بارے میں یہ فرمایا کہ وہاں ہمارا ایک بہادر مربی ہے۔ ’’بہادر مربی‘‘ کے لقب سے نوازا ۔ راجہ خورشید احمد منیر صاحب نے راولپنڈی میں اپنا ایک گھر بھی خلیفة المسیح الرابعؒ کے زمانے میں جماعت کو بطور عطیہ دیا اور انہوں نے ان کے عطیے کو قبول فرمایا۔

راجہ صاحب تقسیم پاک وہند کے بعد احمد نگر چلے گئے تھے۔ جامعہ احمدیہ کا جہاں قیام عمل میں آیا تھا وہاں یہ پڑھتے رہے۔ اخراجات پورے کرنے کے لیے انہوں نےکمرے میں ہی ایک چھوٹی سی دکان کھول لی۔ پھر 1948ء میں فرقان بٹالین میں بھی شامل ہوئے۔ 49ء میں مولوی فاضل کا امتحان پاس کیا اور جامعہ کی شاہد کی پہلی کلاس سے امتحان پاس کرنے کے بعد مربی سلسلہ کی حیثیت سے پاکستان کے مختلف مقامات اور کشمیر میں دینی خدمات انجام دیں۔ 1974ء میں ان کے گھر پر حملہ ہوا لیکن آپ نے بڑی بہادری سے مقابلہ کیا اور ہجوم کے پتھراؤ سے زخمی بھی ہوئے لیکن بہرحال سب گھر والے محفوظ رہے۔ آپ ہمیشہ ثابت قدمی کی تلقین کیا کرتے تھے اور فرمایا کرتے تھے کہ الٰہی جماعتوں پر ایسے ابتلا آتے ہیں، امتحانات آتے ہیں۔ اور ان حالات میں بھی بڑی جرأت کے ساتھ جماعتوں کا دورہ کیا کرتے تھے۔ لوگوں کے گھروں میں جایا کرتے تھے اور کئی دفعہ ایسا ہوا کہ اس دورے کے دوران جہاں لوگوں کو، جماعت کے افراد کو ملنے جاتے تھے لوگوں نے ان کو پکڑا اور مارا لیکن کبھی انہوں نے کوئی شکوہ نہیں کیا۔ ان کے چار بیٹے اور چار بیٹیاں ہیں۔ آج کل آسٹریلیا میں تھے۔ وہیں ان کی وفات ہوئی ہے۔

اگلا ذکر ضمیر احمد ندیم صاحب کا ہے۔ چھپن سال کی عمر میں ان کی وفات ہو گئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔ان کو کینسر کی تکلیف تھی۔ ان کے پڑدادا رحیم بخش صاحب صحابی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے ذریعہ سے 1897ء میں ان کے خاندان میں احمدیت آئی اور جب ان کے پڑدادا نے سنا کہ امام مہدی آ گئے ہیں تو اپنے گاؤں شکار پور ماچھیاں، یہ ضلع گورداسپور میں گاؤں تھا، وہاں سے قادیان جلسہ میں شرکت کے لیے گئے اور بیعت کرلی۔ پھر اپنے ایک عزیز مہر دین صاحب کو بتایا وہ بھی گئے انہوں نے بھی بیعت کر لی اور پھر ان کی تبلیغ سے تقریباً پورا گاؤں ہی احمدی ہو گیا۔

ضمیر صاحب نے جامعہ پاس کرنے کے بعد اصلاح و ارشاد مقامی کے تحت کچھ عرصہ میدانِ عمل میں کام کیا۔ پھر دفتر منصوبہ بندی کمیٹی میں ان کی تقرری ہوئی۔ پھر نظارت اصلاح و ارشاد مرکزیہ کے تحت خدمت کی توفیق ملی۔ 2005ء سے وفات تک یہ معاون ناظر وصیت شعبہ استقبالیہ تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو ایک بیٹے اور بیٹی سےنوازا۔ ان کے بیٹے بھی مربی سلسلہ ہیں۔ تعلقات بھی ان کو خوب بنانے آتے تھے۔ باسکٹ بال کے کھلاڑی بھی اچھے تھے۔ اس وجہ سے تعلقات ہوتے تھے اور پھر جماعت کے لیے اس تعلق کا استعمال بھی کرتے تھے، فائدہ بھی اٹھاتے تھے۔ تہجد گزار تھے۔ اللہ تعالیٰ پر توکل بہت زیادہ تھا۔ مشکل وقت میں فوراً دو نفل پڑھنا اور خلیفہ وقت کو خط لکھنا ان کی عادت تھی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی دعاؤں اور نوافل کو اللہ تعالیٰ قبول بھی فرماتا تھا۔

اگلا ذکر مکرم عیسیٰ مواکی تلیمہ (Issa Mwaki Talima) صاحب کا ہے۔ یہ تنزانیہ کے ہیں۔ گذشتہ دنوں میں ان کی وفات ہوئی ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔یہ عیسائی گھرانے میں پیدا ہوئے تھے۔ انیس سال کی عمر میں ارد گرد کے ماحول کی وجہ سے مذہبی گفتگو میں دلچسپی پیدا ہوئی۔ اور اسلام قبول کرنے کی سعادت حاصل کی۔ چند سال بعد جماعت کے عقائد سے تعارف ہوا اور تحقیق کرنے کے بعد 1992ء میں بیعت کر کے جماعت احمدیہ میں شامل ہو گئے۔ بیعت کے بعد مرحوم کے اندر ایک پاکیزہ تبدیلی پیدا ہوئی جو ان کے قریبیوں کو بھی واضح طور پر محسوس ہوتی تھی اور ان کی اس پاک تبدیلی کو دیکھ کر ان کی اہلیہ نے بھی بیعت کر لی۔ بیعت کے بعد مرحوم نے اپنے دینی علم کو بڑھانے کے لیے بہت محنت کی۔ اپنے کام کے دوران بھی اسلام احمدیت کی تبلیغ کا موقع ہاتھ سے نہ جانے دیتے تھے۔ چندہ جات کی ادائیگی میں ہمیشہ پیش پیش رہتے۔ متعدد مرتبہ اظہار کیا کہ خدا کی راہ میں دینے سے کاروبار اور مال میں برکت پڑتی ہے۔ ان کا کاروبار تھا۔ بہت ہی ملنسار خوش اخلاق اور عاجز انسان تھے۔ واقفین زندگی، جماعتی عہدیداران اور کارکنان سے بہت عزت کے ساتھ پیش آتے تھے۔ مرحوم موصی تھے۔ پسماندگان میں دو بیویاں اور دس بچے شامل ہیں۔

امیرو مشنری انچارج تنزانیہ لکھتے ہیں کہ مرحوم کو دارالسلام کا ریجنل پریذیڈنٹ مقرر کیا گیا۔ ان کی طبیعت میں سادگی نمایاں تھی جس کی وجہ سے لوگوں کے دلوں میں گھر کر لیتے تھے۔ خاموش خدمت کرنے والے بزرگ تھے۔ پھر یہ نائب امیر تنزانیہ مقرر ہوئے اور اس کام میں بھی بڑے اعلیٰ رنگ میں اپنی خدمات سرانجام دیں۔ بہت ہی صائب الرائے بزرگ تھے۔ ہمیشہ جماعتی نظام کی عزت و وقار کا خیال رکھا کرتے تھے۔ احمدیوں کو آپس میں باہمی رواداری کے ساتھ رہنے اور خلافت احمدیہ سے وابستہ ہو جانے کی ہمیشہ تلقین کرتے رہتے تھے۔ جماعتی کارکنان کی ذاتی ضروریات کا بھی خیال رکھا کرتے تھے۔ ہر ممکن تعاون کی کوشش کرتے تھے بلکہ کارکنان کو صبح اپنے کام پہ جاتے ہوئے اپنی گاڑی میں لے کے دفتر آتے تھے تا کہ بسوں میں آتے ہوئے ان کا وقت ضائع نہ ہو۔ اپنے گھر میں ایک کمرہ نماز سینٹر کے طور پر بنایا ہوا تھا جہاں نمازیں ادا کی جاتی تھیں۔ موصیان کو حصہ جائیداد کی ادائیگی کے لیے جب تحریک کی گئی تو انہوں نے سب سے پہلے اپنی دو قیمتی جائیدادوں کی تشخیص کروائی اور حصہ جائیداد کی ادائیگی کر دی۔

اگلا ذکر مکرم شیخ مبشر احمد صاحب سپر وائزر نظامت تعمیرات قادیان کا ہے جو شیخ اسرار احمد صاحب کیرنگ اوڈیشہ انڈیا کے بیٹے تھے۔ ان کی بھی گذشتہ دنوں میں کورونا کی وجہ سے وفات ہوئی۔ ان کی عمر تینتیس سال تھی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔مرحوم پیدائشی احمدی تھے۔ پرانے احمدی خاندان میں سے ان کا خاندان ہے۔ نہایت بااخلاق نمازی اور خدمت دین کے لیے تیار رہنے والے خادم سلسلہ تھے۔ بچپن سے ہی مسجد کے ساتھ خاص تعلق تھا۔ آٹھ سالوں سے مرحوم نظامت تعمیرات قادیان میں بہت خوش اسلوبی سے بطور سپروائزر خدمت بجا لا رہے تھے اور بڑی سنجیدگی سے کام کرنے والے تھے ۔گہرائی میں جا کر اپنے کام کو دیکھتے تھے۔ پسماندگان میں بیوہ کے علاوہ والدین دو بھائی اور ایک بہن شامل ہیں۔

اگلا ذکر مکرم سیف علی شاہد صاحب کا ہے جن کی سڈنی میں وفات ہوئی ہے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔اللہ کے فضل سے موصی تھے۔ ان کے ننھیال کی طرف سے صحابہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام چودھری محمد علی صاحب تھے اور چودھری گامے خان صاحب تھے جن کے یہ نواسے اور پڑنواسے تھے۔ حیدر علی ظفر صاحب ان کے بھائی ہیں جو مبلغ سلسلہ جرمنی ہیں اور آج کل نائب امیر ہیں۔ یہ کہتے ہیں کہ 1961ء میں یہ میٹرک کر کے حیدرآبادمیں ملازم ہو گئے۔ پھر اس کے بعد ہم دو بھائیوں کی تعلیم کا خرچ بھی اٹھاتے رہتے تھے۔ ہمارے اخراجات پورے کرتے تھے اور والدین کی بھی بڑی بے لوث ہو کے انہوں نے خدمت کی۔ نہایت ملنسار، نرم گو اور عاجز انسان تھے۔ بچوں سے شفقت اور نوجوانوں سے محبت سے پیش آتے تھے۔ نظام جماعت اور خلافت سے بے انتہا محبت اور اطاعت کا تعلق تھا۔ ہمیشہ اپنے بچوں کو بھی خلافت سے محبت اور اطاعت کا درس دیا۔ عہدیداروں کی بہت عزت کرتے تھے۔ کسی بھی عہدے دار کے خلاف کبھی کوئی بات سننا گوارا نہیں کرتے تھے۔ بہت ہی دعا گو انسان تھے۔ نماز تہجد ادا کرتے تھے۔ نمازوں کو سنوار کر ادا کرنے والے تھے۔ پاکستان میں جب یہ تھے تو بطور سیکرٹری مال، سیکرٹری وقف جدید ان کو خدمت کی توفیق ملی۔ پھر میر پور خاص میں حضرت خلیفة المسیح الرابع نے ان کو صدر جماعت مقرر فرمایا اور امارت کے قیام تک یہ وہاں صدر جماعت رہے۔ ڈاکٹر عبدالمنان صدیقی صاحب کی شہادت کے بعد ان کو امیر مقامی اور امیر ضلع کی خدمت کی بھی توفیق ملی اور آسٹریلیا روانگی تک آپ وہاں امیر ضلع میر پور خاص رہے۔ ذیلی تنظیموں میں بھی ان کو کافی خدمت کی توفیق ملی۔ اسی طرح آسٹریلیا میں قضا بورڈ کے ممبر تھے۔ نائب صدر اول انصار اللہ تھے اور اسی طرح جماعت میں 2016ء سے سیکرٹری رشتہ ناطہ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ دوبیٹے بھی ان کی زندگی میں فوت ہوئے اور بڑے صبر سے انہوں نے ان کے صدمے کو برداشت کیا۔ بہرحال پسماندگان میں اہلیہ کے علاوہ ان کے چار بیٹے شامل ہیں۔

اگلا ذکر مکرم مسعود احمد حیات صاحب ابن رشید احمد حیات صاحب کا ہے جن کی اسّی سال کی عمر میں وفات ہوئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔ان کے خاندان میں بھی احمدیت ان کے دادا حضرت بابو عمر حیات صاحب ابن چودھری پیر بخش صاحب کے ذریعہ سے آئی تھی۔ عمر حیات رضی اللہ تعالیٰ عنہ چودہ سال کی عمر میں 1898ء میں بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے تھے۔ پہلے فوج میں ملازمت کی پھر وہ کینیا چلے گئے۔ مسعود حیات صاحب 1967ء میںکینیا سے یوکے آ گئے اور پھر یہیں مستقل رہائش ہو گئی۔ نہایت نفیس طبع، صوم و صلوٰة کے پابند تھے۔ خوش اخلاق، ملنسار، مہمان نواز، شفیق انسان تھے۔ دو مرتبہ ان کو حج کرنے کی توفیق ملی۔ حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ کے ساتھ مختلف ممالک کے دورہ جات میں ڈرائیونگ اور سیکیورٹی کی خدمت سرانجام دینے کی توفیق ملی۔ 1983ء میں جب بیت الاحد مسجد والتھم سٹو (Walthamstow)میں خریدی گئی تو اس میں سب سے زیادہ حصہ مرحوم اور ان کی اہلیہ طاہرہ حیات صاحبہ مرحومہ کا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ پر مالی لحاظ سے خاص فضل فرمایا ہوا تھا اور اس مال کا بہت حصہ وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ بھی کیا کرتے تھے۔جب ریڈ برج (Redbridge)ایسٹ لندن کی جماعت الگ ہوئی تو اس جماعت کے پاس اپنی کوئی مسجد نہیں تھی۔ جب ان کو علم ہوا تو آپ نے اپنے گھر کا ایک حصہ جماعت کے لیے وقف کر دیا۔ جہاں تین سال تک جماعت سینٹر قائم رہا اور جماعت کے مختلف کام بھی وہاں ہوتے تھے۔ ان کے دو بیٹے ہیں۔ پہلی اہلیہ تو فوت ہو گئی تھیں۔ اہلیہ ثانی ہیں اور دو بیٹے ہیں۔

اللہ تعالیٰ ان تمام مرحومین سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور ان کی نسلوں کو بھی احمدیت کے ساتھ جوڑے رکھے اور آگے نسلوں کے حق میں ان بزرگوں کی دعائیں بھی قبول ہوں۔ نماز کے بعد جیسا کہ مَیں نے کہا نمازِ جنازہ پڑھاؤں گا۔

(الفضل انٹرنیشنل 9؍جولائی 2021ء صفحہ 5تا9)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close