خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 28؍مئی 2021ء

اب خلافت اسی طرح جاری رہنی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا ہے

ظہورِ قدرتِ ثانیہ یعنی خلافتِ احمدیہ کی برکت سے جماعت احمدیہ مسلمہ پر گذشتہ 113 سال کے دوران نازل ہونے والے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی ایک جھلک

اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی کامل فرمانبرداری تو تب ہو گی، دلی سکون اور امن تو تب ملے گا جب ہمارا ہر عمل صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لیے ہو گا

جو خالص ہو کر خلافت کے مطیع اور فرمانبردار ہوں گے یہی لوگ حقیقی رنگ میں خلافت سے وفا کا تعلق رکھنے والے ہیں۔ خلافت کی حفاظت کرنے والے ہیں اور خلافت ان کی حفاظت کرنے والی ہے۔ خلیفہ وقت کی دعائیں ان کے ساتھ ہوں گی ان کی تکلیفیں خلیفہ وقت کو ان کے لیے دعائیں کرنے کی طرف متوجہ کرنے والی ہوں گی

یہ وہ حقیقی خلافت ہے جس میں جماعت اور خلیفۂ وقت کا تعلق خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے ہے اور یہی وہ خلافت ہے جو تمکنت اور امن کا باعث ہے

ہر احمدی کا ہر لمحہ جہاں اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری میں گزرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں خلافت کی نعمت سے نوازا ہے وہاں اپنے جائزے لیتے ہوئے بھی گزرنا چاہیے کہ کیا ہم اللہ تعالیٰ کے حکموں کی تعمیل کر رہے ہیں؟

ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق اور اللہ تعالیٰ نے جو آپؑ سے وعدہ کیا تھا اس کے مطابق گذشتہ 113سال سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حرف بہ حرف پورا ہوتا دیکھ رہے ہیں

بیعت وہی ہے جس میں کامل اطاعت کی جائے اور جس میں خلیفہ کے کسی ایک حکم سے بھی انحراف نہ کیا جائے

ہر موقع پر اس اولوالعزم خلیفہ نے جماعت کی کشتی کو اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے ساتھ کامیابی کی منزلوں تک پہنچایا اور محفوظ رکھا

اللہ تعالیٰ نے خلافت سے تعلق قائم کرنے کے لیے ایک نیا رستہ بھی سمجھا دیا ہے جو آن لائن ملاقات یا ورچوئل ملاقات کے ذریعہ سےاس کووڈ کی بیماری کی وجہ سے سامنے آیا، اس ذریعہ سے میٹنگیں بھی ہو رہی ہیں۔ ملاقاتیں بھی ہو رہی ہیں جس سے براہِ راست جماعتوں سے رابطہ ہو رہا ہے۔

لوگ خلیفہ وقت سے براہ راست راہنمائی لے رہے ہیں۔ میں یہاں لندن سے کبھی افریقہ کے کسی ملک سے، کبھی انڈونیشیا سے، کبھی آسٹریلیا سے، کبھی امریکہ سے ملاقات کر لیتا ہوں تو یہ سب خدا تعالیٰ کی تائیدات کے نظارے ہیں

ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جو اپنے فضلوں کے نظارے دکھا رہا ہےاور خلافت کے انعام سے جو ہمیں نوازا ہوا ہے اس کا ہم نے ہمیشہ حق ادا کرنے والا بننا ہے تا کہ قیامت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ہم اس نعمت سے فائدہ اٹھاتے رہیں

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 28؍مئی2021ء بمطابق 28؍ہجرت1400 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

وَعَدَ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ لَیَسۡتَخۡلِفَنَّہُمۡ فِی الۡاَرۡضِ کَمَا اسۡتَخۡلَفَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ ۪ وَ لَیُمَکِّنَنَّ لَہُمۡ دِیۡنَہُمُ الَّذِی ارۡتَضٰی لَہُمۡ وَ لَیُبَدِّلَنَّہُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ خَوۡفِہِمۡ اَمۡنًا ؕ یَعۡبُدُوۡنَنِیۡ لَا یُشۡرِکُوۡنَ بِیۡ شَیۡئًا ؕ وَ مَنۡ کَفَرَ بَعۡدَ ذٰلِکَ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفٰسِقُوۡنَ۔وَ اَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ اَطِیۡعُوا الرَّسُوۡلَ لَعَلَّکُمۡ تُرۡحَمُوۡنَ(النور:56-57)

ان آیات کا ترجمہ ہے کہ تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے ان سے اللہ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اس نے ان سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا اور ان کے لیے ان کے دین کو، جو اس نے ان کے لیے پسند کیا، ضرور تمکنت عطا کرے گا اور ان کی خوف کی حالت کے بعد ضرور انہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔ وہ میری عبادت کریں گے۔ میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے۔ اور جو اُس کے بعد بھی ناشکری کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو نافرمان ہیں۔اور نماز کو قائم کرو اور زکوٰة ادا کرو اور رسول کی اطاعت کرو تا کہ تم پر رحم کیا جائے۔

کل 27؍ مئی تھی جسے ہم یومِ خلافت کے نام سے یاد رکھتے ہیں۔ یومِ خلافت کی مناسبت اور حوالے سے جماعت میں جلسے بھی منعقد ہوتے ہیں تاکہ جماعت کی تاریخ اور خلافت کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں سے ہم واقف رہیں اور خلافت کی بیعت میں آنے کے بعد ان ذمہ داریوں کو ادا کرنے والے بنیں تا کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بنتے رہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر جو احسان کیا ہے کہ ہم نے اس زمانے میں اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرستادے کو مانا جو اس نے اسلام کی حقیقی تعلیم کے بتانے کے لیے ہم میں بھیجا اور پھر اس کے بعد خلافت کی بیعت میں آئے تا کہ اس تعلیم کو اپنے اوپر بھی لاگو کریں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے ہمیں بتائی اور آگے دنیا میں پھیلاتے بھی چلے جائیں۔ پس خلافتِ احمدیہ سے منسلک ہونا ہر احمدی پر بہت بڑی ذمہ داری ڈالتا ہے۔ اگر ہم اس ذمہ داری کو ادا کریں گے تو تبھی ہم اس احسان کا حق ادا کر سکتے ہیں جو اللہ تعالیٰ نے ہم پرکیا ۔

یہ آیات جو مَیں نے تلاوت کی ہیں اس میں جہاں اللہ تعالیٰ نے تمکنت عطا فرمانے، خوف کی حالت سے امن میں آنے کا وعدہ کیا ہے وہاں یہ وعدہ اس شرط کے ساتھ ہے کہ مضبوط ایمان والے ہو، نیک اعمال بجا لانے والے بنو، عبادت کا حق ادا کرنے والے ہو، اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانے والے نہ ہو، کسی بھی قسم کا شرک کا پہلو تمہارے اندر نہ ہو اور ان چیزوں کے حاصل کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور نماز بہت ضروری ہے۔ نماز جو اللہ تعالیٰ نے عبادت کا طریقہ بتایا ہے، ان نمازوں کی ادائیگی کرنے والے بنو۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنا بہت ضروری ہے۔ اللہ کی راہ میں خرچ کرنے والے بنو اور رسولؐ کی اطاعت انتہائی ضروری ہے۔ ان کے ہر حکم کو ماننے والے بنو۔

پس یہ باتیں جب ہم یاد رکھیں گے اور اپنی زندگیوں کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں گے، اپنا عہد جو ہم نے کیا ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گے اس پر حقیقی روح کے ساتھ عمل کرنے کی کوشش کریں گے تو پھر ہی ہم اللہ تعالیٰ کے ان انعاموں سے حصہ لینے والے ہوں گے جس کا وعدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور تبھی ہم خلافت کے انعام سے حقیقی فیض پانے والے ہوں گے۔ پس یہ آیت مومنوں کے لیے ایک بہت بڑی خوشخبری ہے لیکن ساتھ ہی ہمارے لیے فکر کا مقام بھی ہے کیونکہ جو شرائط ہیں اگر اس پر پورا نہیں اتر رہے تو پھر اس انعام سے حقیقی طور پر فیض نہیں پا سکتے۔ اگر نماز، زکوٰة، حقوق اللہ کی ادائیگی نہیں، حقوق العباد کی ادائیگی نہیں تو پھر جیسا کہ ذکر ہوا اللہ تعالیٰ کے رحم اور فضل کو جذب کرنے والے نہیں بن سکتے۔ پس صرف اپنی تاریخ سے واقفیت حاصل کر لینا اور یومِ خلافت منا لینا کافی نہیں ہے جب تک ہم حقیقی عبد نہیں بن جاتے۔ پس جب تک ہم اپنی نمازوں کی حفاظت کرنے والے نہیں بن جاتے، بندوں کے حق ادا کرنے والے اور اللہ تعالیٰ کا حق ادا کرنے والے نہیں بن جاتے، اس وقت تک ہمارا یہ یومِ خلافت منا لینا کوئی فائدہ نہیں دے سکتا۔ پس ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ ہماری ایمانی حالت کیا ہے؟ کیا ہم میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور خشیت ہے؟کیا ہم تقویٰ کی باریک راہوں پر چلنے والے ہیں؟ کیا ہم اللہ تعالیٰ سے ہر چیز سے زیادہ محبت کرنے والے ہیں؟ کیا ہم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی کامل فرمانبرداری کرنے والے ہیں؟ اور پھر ساتھ ہی ہماری نظر اپنے عمل کی طرف پھرنے والی ہونی چاہیے کہ کیا ہمارا ہر عمل اسلام کی حقیقی تعلیم کے مطابق ہے؟ ہمارے عمل کہیں دکھاوے کے عمل تو نہیں؟ ہماری نمازیں کہیں دکھاوے کی نمازیں تو نہیں؟ ہمارا مال خرچ کرنا، زکوٰة دینا کہیں دکھاوا تو نہیں؟ ہمارے روزے کہیں دکھاوے کے روزے تو نہیں؟ ہمارے حج صرف حاجی کہلانے کے لیے تو نہیں؟ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسولؐ کی کامل فرمانبرداری تو تب ہو گی، دلی سکون اور امن تو تب ملے گا جب ہمارا ہر عمل صرف اور صرف خدا تعالیٰ کی رضا کو حاصل کرنے کے لیے ہو گا اور تبھی وہ معاشرہ خلافت کے زیرِسایہ قائم ہو گا جب ہمارا ہر عمل حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کا حق ادا کرنے والا ہو گا۔ پس صرف زبانی باتیں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد کو ہمیشہ سامنے رکھنا ہو گا کہ وہ ایمان لانے والے اس سے فیض اٹھائیں گے جن کے عمل صالح ہوں گے۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام فرماتے ہیں کہ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کے ساتھ عملِ صالح بھی رکھا ہے۔ عملِ صالح اسے کہتے ہیں کہ جب ایک ذرّہ بھی فساد نہ ہو۔ یاد رکھو انسان کے عمل پر ہمیشہ چور پڑا کرتے ہیں۔ وہ کیا ہیں؟ ’’وہ کون سے چور ہیں؟ وہ یہ ہیں۔’’ ریاکاری (یعنی جب انسان دکھاوے کے لیے ایک عمل کرتا ہے)، عُجب، (ایک عمل کر کے کوئی نیکی کر لی تو پھر دل میں بڑا خوش ہوتا ہے کہ میں نے بڑی نیکی کر لی ۔) اور قسم قسم کی بدکاریاں (جن کو بعض دفعہ انسان محسوس بھی نہیں کرتا) اور گناہ (ہیں) جو اس سے صادر ہوتے ہیں۔ اس سے اعمال باطل ہو جاتے ہیں۔ عمل صالح وہ ہے جس میں ظلم، عُجب، ریاء، تکبر حقوق انسان کے تلف کرنے کا خیال تک نہ ہو۔‘‘ (وہ عمل صالح ہے۔ یہ نہیں کہ عمل نہیں کیا بلکہ فرمایا ان کا خیال بھی تمہارے دل میں نہ آئے تب وہ حقیقی مومن بنو گے اور عمل صالح کرنے والے کہلاؤ گے۔) فرمایا ’’جیسے آخرت میں عمل صالح سے بچتا ہے ویسے ہی دنیا میں بھی بچتا ہے۔‘‘ فرمایا کہ ‘‘اگر ایک آدمی بھی گھر بھر میں عمل صالح والا ہو تو سب گھر بچا رہتا ہے۔ سمجھ لو کہ جب تک کہ تم میں عمل صالح نہ ہو صرف ماننا فائدہ نہیں کرتا۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد 4 صفحہ 274-275)

پس ایمان کے ساتھ عمل صالح انتہائی ضروری شرط ہے۔ پھر فرمایا کہ عمل صالح ہماری اپنی تجویز اور قرارداد سے نہیں ہو سکتا۔ یہ نہیں کہ ہم یہ کہتے ہیں کہ عمل صالح ہے۔ اصل میں اعمال صالحہ وہ ہیں جس میں کسی نوع کا کوئی فساد نہ ہو کیونکہ صالح فساد کی ضد ہے۔ جیسے غذا طیب اس وقت ہوتی ہے کہ وہ نہ کچی ہو نہ سڑی ہوئی ہو اور نہ کسی ادنیٰ درجہ کی جنس کی ہو بلکہ ایسی ہو جو فوراً جزوِ بدن ہو جانے والی ہو جو جسم کا حصہ بن جائے۔ وہ غذا طیب ہے جس میں کسی قسم کی کمی نہ ہو۔ اسی طرح پر ضروری ہے کہ عمل صالح میں بھی کسی قسم کا فساد نہ ہو یعنی اللہ تعالیٰ کے حکم کے موافق ہو۔ جو اللہ نے حکم فرمایا ہے اس کے مطابق عمل ہو اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کے موافق ہو جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا اور کر کے دکھایا اور فرمایا اس کے مطابق ہو اور پھر نہ اس میں کسی قسم کا کسل ہو۔ کوئی سستی نہیں ہونی چاہیے۔ اس عمل کو بجا لانے میں نہ عُجب ہو نہ ریا ہو نہ وہ اپنی تجویز سے ہو جب ایسا عمل ہو تو وہ عمل صالح کہلاتا ہے۔ خود اپنی تجویزیں نہ بناتے رہو ۔عمل صالح کے لیے خود تشریحیں نہ کرتے رہو۔ خود یہ نہ کہتے رہو کہ اس سے یہ منشا ہے اور یہ منشا ہے بلکہ حرفاً حرفاً اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکموں پر عمل کرو تو عمل صالح ہو گا اورفرمایا کہ یہ کبریتِ احمر ہے۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد 6 صفحہ 425-426)

یہ بہت بڑی اور اہم چیز ہے۔ اگر اس حالت کو حاصل کر لیا تو سمجھو کہ اللہ تعالیٰ کے وعدے سے فیض اٹھانے والے بن گئے۔ اور یہی وہ لوگ ہیں جو خلافت احمدیہ کے قائم رکھنے کے عہد کو بھی پورا کرنے والے ہیں نہ کہ وہ جو جب اپنے مفاد سامنے آئیں تو عمل صالح کی خود تشریح کرنے لگ جائیں۔ معروف فیصلہ کی خود تفسیر کرنے لگ جائیں۔ ان کی اَنا انہیں اپنے قبضہ میں لے لے۔ ایسے لوگ جو ہیں انہیں ان کا خلافت سے جڑنے کا اعلان کچھ فائدہ نہیں دے سکتا۔ بےشک وہ کہتے رہیں ہم خلافت سے جڑے ہوئے ہیں۔ جو خالص ہو کر خلافت کے مطیع اور فرمانبردار ہوں گے یہی لوگ حقیقی رنگ میں خلافت سے وفا کا تعلق رکھنے والے ہیں۔ خلافت کی حفاظت کرنے والے ہیں اور خلافت ان کی حفاظت کرنے والی ہے۔ خلیفہ وقت کی دعائیں ان کے ساتھ ہوں گی۔ ان کی تکلیفیں خلیفہ وقت کو ان کے لیے دعائیں کرنے کی طرف متوجہ کرنے والی ہوں گی۔ یہ اعمال صالحہ بجا لانے والے ہی ہیں جن کا خلافت سے رشتہ اور خلافت کا ان سے رشتہ خدا تعالیٰ کی رضا کی خاطر ہے۔

پس یہ وہ حقیقی خلافت ہے جس میں جماعت اور خلیفۂ وقت کا تعلق خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کے لیے ہے اور یہی وہ خلافت ہے جو تمکنت اور امن کا باعث ہے۔ یہی وہ افراد اور خلیفۂ وقت کا تعلق ہے جو دونوں کو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والا بناتا ہے۔ دوسرے مسلمان خلافت قائم کرنا چاہتے ہیں لیکن دنیاوی حیلوں سے، دنیاوی تدبیروں سے۔ اور یہ حیلے اور تدبیریں انہیں کبھی فائدہ نہیں دے سکتیں اور نہ اس طرح خلافت قائم ہو سکتی ہے جتنا چاہے یہ کوشش کر لیں۔ اب خلافت اسی طرح جاری رہنی ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے فیصلہ فرما دیا ہے۔ پس جہاں اس بات سے ہمارے اندر شکرگزاری کے جذبات پیدا ہونے چاہئیں اور اللہ تعالیٰ کے آگے جھکنے والا ہونا چاہیے کہ اس نے ہمیں خلافت کی نعمت سے نوازا ہے وہاں ہمیں ہر وقت اللہ تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہوئے اپنے اعمال پر نظر رکھنے کی ضرورت ہے کہ کیا یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے حکموں کے مطابق ہیں؟ کیا ہمارے حقوق اللہ کی ادائیگی اور حقوق العباد کی ادائیگی کے معیار اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے معیار کے مطابق ہیں؟

پس ہر احمدی کا ہر لمحہ جہاں اللہ تعالیٰ کی شکرگزاری میں گزرنا چاہیے کہ اس نے ہمیں خلافت کی نعمت سے نوازا ہے وہاں اپنے جائزے لیتے ہوئے بھی گزرنا چاہیے کہ کیا ہم اللہ تعالیٰ کے حکموں کی تعمیل کر رہے ہیں؟ اور جب اس سوچ کے ساتھ زندگی گزاریں گے اور پھر اپنے عملوں کو بھی اس کے مطابق کریں گے اور خلافت کے قائم رہنے کے لیے دعائیں بھی کر رہے ہوں گے تو پھر اللہ تعالیٰ کے انعاموں کے وارث بھی بنتے چلے جائیں گے۔ یہی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام نے ہمیں بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو تسلی بھی دی کہ خلافت کا نظام جاری رہے گا اور اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو جو خوشخبریاں دی ہیں وہ ضرور پوری ہوں گی اگر ہم ان شرائط کو پورا کرنے والے ہیں۔ چنانچہ رسالہ الوصیت میں آپؑ نے خلافت کے نظام کے بارے میں بڑی تفصیل سے ذکر فرمایا ہے۔

آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’یہ خدا تعالیٰ کی سنت ہے اور جب سے کہ اس نے انسان کو زمین میں پیدا کیا ہمیشہ اِس سنت کو وہ ظاہر کرتا رہا ہے کہ وہ اپنے نبیوں اور رسولوں کی مدد کرتا ہے اور ان کو غلبہ دیتا ہے جیسا کہ وہ فرماتا ہے کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَرُسُلِیْ (المجادلہ:22) (خدا نے لکھ رکھا ہے کہ وہ اور اس کے نبی غالب رہیں گے۔منہ) اور غلبہ سے مراد یہ ہے کہ جیسا کہ رسولوں اور نبیوں کا یہ منشاء ہوتا ہے کہ خدا کی حجت زمین پر پوری ہو جائے اور اس کا مقابلہ کوئی نہ کر سکے اِسی طرح خدا تعالیٰ قوی نشانوں کے ساتھ ان کی سچائی ظاہر کر دیتا ہے اور جس راستبازی کو وہ دنیا میں پھیلانا چاہتے ہیں اس کی تخم ریزی انہیں کے ہاتھ سے کر دیتا ہے لیکن اس کی پوری تکمیل ان کے ہاتھ سے نہیں کرتا بلکہ ایسے وقت میں ان کو وفات دے کر جو بظاہر ایک ناکامی کا خوف اپنے ساتھ رکھتا ہے مخالفوں کو ہنسی اور ٹھٹھے اور طعن اور تشنیع کا موقع دے دیتا ہے اور جب وہ ہنسی ٹھٹھا کر چکتے ہیں تو پھر ایک دوسرا ہاتھ اپنی قدرت کا دکھاتا ہے اور ایسے اسباب پیدا کر دیتا ہے جن کے ذریعہ سے وہ مقاصد جو کسی قدر ناتمام رہ گئے تھے اپنے کمال کو پہنچتے ہیں۔‘‘

(رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 304۔305)

ہم دیکھتے ہیں کہ جہاں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے وصال نے ہر احمدی کو ہلا کررکھ دیا وہاں غیروں نے بھی خوشی کے بڑے شادیانے بجائے۔ آپؑ کی وفات پر ایسی ہرزہ سرائیاں کی گئیں کہ انسانیت کو ان کے بارے میں سن کر شرم آتی ہے۔ وہ وہ بیہودہ گوئیاں کی گئیں کہ انسان حیران ہوتا ہے کہ اللہ اور رسولؐ کے نام لینے والے اس حد تک بھی گر سکتے ہیں۔ یہ تمام بیہودہ گوئی تو مجھے بیان کرنے کی ضرورت نہیں لیکن ان کی بعض دوسری کوششوں کا ذکر کر دیتا ہوں کہ کس طرح انہوں نے آپؑ کے وصال کے بعد کوشش کی کہ جماعت کو ختم کیا جائے۔ جماعت کے شیرازے کے بکھرنے کے بارے میں اور احمدیوں کو احمدیت سے تائب ہونے کے بارے میں انہوں نےجھوٹی خبریں کس طرح پھیلائیں۔ مثلاً پیر جماعت علی شاہ کے مریدوں نے کہا کہ مرزائی تائب ہو کر بیعت کر رہے ہیں۔

(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ 204)

یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی وفات کے بعد احمدیت سے توبہ کر کے اب ان کے اندر شامل ہو رہے ہیں۔ خواجہ حسن نظامی صاحب احمدیوں کو مشورہ دیتے ہوئے یہ کہتے ہیں کہ اب مرزا صاحب کے دعویٰ مسیحیت اور مہدویت سے احمدی صاف انکار کر دیں ورنہ اندیشہ ہے کہ مرزا صاحب جیسے سمجھدار اور منتظم شخص کی عدم موجودگی کے سبب احمدی جماعت مخالفین کی شورش کو برداشت نہ کر سکے گی اور اس کا شیرازہ بکھر جائے گا۔

(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد سوم صفحہ 206)

بڑے سیاسی انداز میں اپنی طرف سے بڑی نرم زبان میں یہ مشورہ دے رہے ہیں۔ یہ صاحب سنجیدہ طبع تھے بظاہر۔ انہوں نے بڑے سادہ بن کر اور ہمدرد بن کر احمدیوں کو مشورہ دیا ہے کہ مرزا صاحب تو اب فوت ہو گئے، اب تمہیں کوئی نہیں سنبھال سکتا اس لیے چھوڑو احمدیت کو اور آؤ اور ہمارے ساتھ شامل ہو جاؤ لیکن ان کو نہیں پتہ تھا ان کی آنکھ ان وعدوں کی شان کو نہیں دیکھ سکتی تھی جو اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام سے کیے تھے کہ ’’میں تیرے ساتھ اور تیرے تمام پیاروں کے ساتھ ہوں۔‘‘

(الحکم جلد 11 نمبر 46 مورخہ 24 دسمبر1907ء صفحہ 4)

اللہ تعالیٰ نےالہاماً آپؑ کو فرمایا ۔ آپؑ سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرما کر تسلی دی تھی کہ آپؑ کے بعد آپؑ کی خلافت کا سلسلہ شروع ہو گا اور جو وعدے اور پیشگوئیاں ہیں ضرور پوری ہوں گی۔ آپؑ نے واضح فرمایا کہ یہ نبیوں کی جماعت دوسری قدرت کو بھی دیکھتی ہے۔ یہاں نبی کی یہ مثال دے کر ان لوگوں کو بھی یہ جواب دے دیا جو بعض کمزور طبع احمدی لوگ بعض دفعہ یہ کہتے ہوئے جھجکتےہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نبی تھے۔ یہاں اس کا بھی جواب آ گیا۔ آپؑ نے خود یہ فرما دیا کہ میری جماعت نبی کی جماعت ہے اور میں نبی ہوں اور آپؑ نے فرمایا کہ نبیوں کی جماعت دوسری قدرت کو بھی دیکھتی ہے اور یہی تم لوگ بھی دیکھو گے جو ایمان پر قائم رہو گے اور عمل صالح کرو گے۔

چنانچہ آپؑ قدرت ثانیہ کے جاری رکھنے کے بارے میں فرماتے ہیں: ’’غرض‘‘ اللہ تعالیٰ ’’دو قسم کی قدرت ظاہر کرتا ہے۔ (۱) اول خود نبیوں کے ہاتھ سے اپنی قدرت کا ہاتھ دکھاتا ہے۔ (۲) دوسرے ایسے وقت میں جب نبی کی وفات کے بعد مشکلات کا سامنا پیدا ہو جاتا ہے اور دشمن زور میں آجاتے ہیں اور خیال کرتے ہیں کہ اب کام بگڑ گیا اور یقین کر لیتے ہیں کہ اب یہ جماعت نابود ہو جائے گی اور خود جماعت کے لوگ بھی تردد میں پڑ جاتے ہیں اور ان کی کمریں ٹوٹ جاتی ہیں اور کئی بدقسمت مرتد ہونے کی راہیں اختیار کر لیتے ہیں۔ تب خدا تعالیٰ دوسری مرتبہ اپنی زبردست قدرت ظاہر کرتا ہے اور گرتی ہوئی جماعت کو سنبھال لیتا ہے۔ پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے وقت میں ہوا جب کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت ایک بے وقت موت سمجھی گئی اور بہت سے بادیہ نشین نادان مرتد ہوگئے اور صحابہؓ بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہوگئے۔ تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام کو نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا

وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِيْنَهُمُ الَّذِي ارْتَضٰى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِّنْۢ بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا (النور:56)

یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جمادیں گے۔‘‘

(رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 304-305)

پھر آپؑ فرماتے ہیں: ’’سو اے عزیزو! جب کہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھلاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا وے سو اب ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے۔ اس لئے تم میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی غمگین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے اور اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی ہے جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا۔ اور وہ دوسری قدرت نہیں آ سکتی جب تک میں نہ جاؤں۔ لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی جیسا کہ خدا کا براہین احمدیہ میں وعدہ ہے اور وہ وعدہ میری ذات کی نسبت نہیں ہے بلکہ تمہاری نسبت وعدہ ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ میں اِس جماعت کو جو تیرے پیرو ہیں قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا۔ سو ضرور ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے تا بعد اس کے وہ دن آوے جو دائمی وعدہ کا دن ہے۔ وہ ہمارا خدا وعدوں کا سچا اور وفادار اور صادق خدا ہے۔ وہ سب کچھ تمہیں دکھائے گا جس کا اس نے وعدہ فرمایا اگرچہ یہ دن دنیا کے آخری دن ہیں اور بہت بلائیں ہیں جن کے نزول کا وقت ہے پر ضرور ہے کہ یہ دنیا قائم رہے جب تک وہ تمام باتیں پوری نہ ہو جائیں جن کی خدا نے خبر دی۔ میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہرہوں گے۔ سو تم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہو کر دعا کرتے رہو۔‘‘

(رسالہ الوصیت۔ روحانی خزائن جلد20 صفحہ305-306)

سو ہم حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پیشگوئی کے مطابق اور اللہ تعالیٰ نے جو آپؑ سے وعدہ کیا تھا اس کے مطابق گذشتہ 113سال سے اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حرف بہ حرف پورا ہوتا دیکھ رہے ہیں۔ وہی لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی وفات پر کہتے تھے کہ ان کا سر کٹ گیا ہے اور اب ان کے پاس کچھ نہیں رہا۔کچھ باتیں تو میں نے پہلے بیان کیں کہ یہ چھوڑ دیں۔ اب کوئی ان کو سنبھال نہیں سکے گا۔

پھر حضرت خلیفة المسیح الاولؓ کے بارے میں اخبار کرزن گزٹ نے لکھا کہ اب مرزائیوں میں کیا رہ گیا ہے۔ ان کا سر کٹ چکا ہے۔ حضرت خلیفة المسیح الاولؓ کی خلافت کے بعد یہ لکھاکہ ایک شخص جو ان کا امام بنا ہے اس سے اَور تو کچھ نہیں ہو گا۔ ہاں یہ کہ وہ تمہیں مسجد میں قرآن سنایا کرے گا۔ لیکن ان عقل کے اندھوں کو کیا پتہ تھا کہ یہی تو وہ عظیم کام ہے جس کے کرنے کے لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی نسل میں سے ایک عظیم رسول مبعوث ہونے کی دعا مانگی تھی اور یہی وہ عظیم شریعت ہے جسے لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے تھے اور یہی وہ کامل اور مکمل کتاب ہے جس کو پڑھنے اور پڑھانے والے دنیا و آخرت میں بامراد ہوتے ہیں۔ یہی تو وہ کتاب ہے جس کی تعلیم کو پھیلانے کے لیے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام مبعوث ہوئے تھے اور یہی کام ہے جس کے کرنے کے لیے خلافت کا نظام جاری ہوا ہے۔ بہرحال ان کی یہ بات سن کر حضرت خلیفة المسیح الاولؓ نے فرمایا کہ خدا کرے کہ یہی ہو کہ مَیں تمہیں قرآن ہی سنایا کروں۔

(ماخوذ از بدر قادیان 7؍جنوری 1909ء جلد8 شمارہ نمبر10صفحہ5)

یہ کام تو حضرت خلیفة المسیح الاولؓ نے کیا اور خوب کیا لیکن دشمن کا جو یہ خیال تھا کہ اب جماعت میں انتظامی کمزوریاں پیدا ہو جائیں گی اور اس کا شیرازہ بکھر جائے گا اس کے دیکھنے کی انہیں حسرت ہی رہی۔ حضرت خلیفة المسیح الاولؓ نے منافقین اور انجمن کے بعض عمائدین کے فتنوں کو اس سختی سے دبایا کہ کسی کو جرأت نہیں ہوئی کہ کسی قسم کا شر پیدا کر سکے۔ آپؓ نے اپنی خلافت کی پہلی تقریر میں فرمایا کہ ’’اب تمہاری طبیعتوں کے رخ خواہ کسی طرف ہوں تمہیں میرے احکام کی تعمیل کرنی ہوگی۔‘‘

(بدر قادیان 2 جون 1908ء شمارہ نمبر22 جلد7 صفحہ8)

پھر آپؓ نے ایک موقع پر مسجد مبارک میں بڑے جلالی رنگ میں تقریرکرتے ہوئے فرمایا کہ تم نے اپنے عمل سے مجھے اتنا دکھ دیاہے کہ میں اس حصہ مسجد میں بھی کھڑا نہیں ہوا جو تم لوگوں کا بنایا ہوا ہے بلکہ میں اپنے مرزا کی مسجد میں کھڑا ہوا ہوں یعنی وہ حصہ مسجد جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وقت میں ابتدامیں بنا ہوا تھا آپؓ وہاں کھڑے تھے نہ کہ اس حصہ میں کہ جس کی بعد میں جماعت کے چندوں سے ایکسٹینشن ہوئی۔ آپؓ نے فرمایا کہ مَیں تو وہاں بھی نہیں کھڑا ہوتا۔ مَیں تو اصل حصہ مسجد میں کھڑا ہوں جو مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے کا بنا ہوا ہے یا آپؑ کے ابتدا میں تھا بعد کی ایکسٹینشن نہیں تھی۔ اور فرمایا کہ میرا فیصلہ ہے کہ قوم اور انجمن دونوں کا خلیفہ مطاع ہے اور یہ دونوں خادم ہیں یعنی انجمن بھی، ماننے والے بھی یہ سب خادم ہیں۔ انجمن مشیر ہے۔ ہاں مشیر کے طور پر انجمن سے مشورہ لیا جاتا ہے اور یہ مشورہ بھی ضروری چیز ہوتا ہے۔ اسی طرح یہ بھی فرمایا کہ جس نے یہ لکھا ہے کہ خلیفہ کا کام بیعت لینا ہے، اصل حاکم انجمن ہے وہ توبہ کرے۔ خدا نے مجھے خبر دی ہے کہ اگر اس جماعت میں سے کوئی تجھے چھوڑ کر مرتد ہو جائے گا تو میں اس کے بدلے تجھے ایک جماعت دوں گا۔ پھر فرمایا کہ کہا جاتا ہے کہ خلیفہ کا کام صرف نماز پڑھانایا نکاح پڑھا دینا یا پھر بیعت لے لینا ہے۔ یہ کام تو ایک ملاں بھی کر سکتا ہے۔ اس کے لیے خلیفہ کی کیا ضرورت ہے؟ اس کے لیے کسی خلیفہ کی ضرورت نہیں۔ فرمایا اس کے لیے تو کسی خلیفہ کی ضرورت نہیں اور میں اس قسم کی بیعت پر تھوکتا بھی نہیں کہ اس طرح کی بیعت لوں۔ بیعت وہی ہے جس میں کامل اطاعت کی جائے اور جس میں خلیفہ کے کسی ایک حکم سے بھی انحراف نہ کیا جائے۔

(ماخوذ از تاریخ احمدیت جلد3 صفحہ262)

پس اس خطاب نے جہاں منافقین کے منصوبے ناکام و نامراد کر دیے وہاں مخالفین کے منہ بھی بند کر دیے اور جس شخص کو بوڑھا کمزور شخص سمجھتے تھے وہ جب خدا تعالیٰ کی تائید سے بولا تو ایسا بولا کہ سب جھاگ کی طرح بیٹھ گئے۔ تعلّیاں کرنے والے اپنا منہ چھپانے لگے۔ مخلصین جماعت نے ایک نئے عزم کے ساتھ بیعت کا عہد کیا اور پھر دنیا نے دیکھا کہ کس طرح جماعت ترقی کی طرف رواں دواں ہو گئی۔

پھر جب مارچ 1914ء میں حضرت خلیفة المسیح الاولؓ کا وصال ہوا تو اس وقت جماعت میں پھر ایک زلزلہ کی کیفیت پیدا ہوئی۔ انجمن کے جو عمائدین انجمن کو ہی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا اصل جانشین منوانے پر تلے ہوئے تھے اور حضرت خلیفة المسیح الاولؓ کی وجہ سے خاموش ہو گئے تھے پھر سر اٹھانے لگے۔ اسی طرح منافقین نے بھی سر اٹھانے کی کوشش کی لیکن پھر اللہ تعالیٰ کی مدد اور نصرت کا ہاتھ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کیے ہوئے وعدے کے مطابق خلافت کے منصب کو سنبھالنے کا ذریعہ بنا۔ انجمن کے عمائدین کو خطرہ تھا کہ جماعت حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ کو اگلا خلیفہ منتخب کر لے گی۔ اس لیے انہوں نے بہت کوشش کی کہ خلیفہ نہ ہو۔ کسی نہ کسی طرح یہ بات ٹل جائے چاہے کچھ عرصہ کے لیے ہی سہی۔ حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ نے صاف کہا کہ خلیفہ تو بہرحال ہونا چاہیے لیکن ساتھ ہی یہ بھی مَیں واضح کر دیتا ہوں کہ مجھے کوئی شوق نہیں کہ مَیں خلیفہ بنوں۔ تم جسے چاہو خلیفہ بنا لو مَیں اور میرا پورا خاندان اس کی سچے دل سے بیعت کر لیں گے ۔لیکن یہ لوگ جو اپنے آپ کو عقل ِکل سمجھتے تھے اور ان کو خطرہ بھی تھا کہ فیصلہ تو ان کے حق میں ہی ہونا ہے، جو صرف اقتدار چاہنے والے تھے وہ یہ بات نہیں مانے۔ حضرت خلیفة المسیح الثانی حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمدؓ نے جب کہا کہ میں کسی کی بھی بیعت کرنے کے لیے تیار ہوں تم جس کو مقرر کرو لیکن خلیفہ بہرحال ہونا چاہیے تو وہ یہ بات نہیں مانے۔ بہرحال پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلام کی وصیت کے مطابق مومنین کی جماعت مسجد نور میں اکٹھی ہوئی اور یہ کم و بیش تقریباً دو ہزار یا زیادہ لوگ ہوں گے۔ سب نے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد کو اپنا خلیفہ منتخب کر لیا اور لوگ ایک دوسرے کے سروں پر سے پھلانگتے ہوئے بیعت کے لیے آگے بڑھ رہے تھے۔ دیکھنے والے لکھتے ہیں کہ لگتا تھا کہ فرشتے لوگوں کو پکڑ پکڑ کر اللہ تعالیٰ کے اس انتخاب کی بیعت میں لا رہے ہیں۔

(ماخوذ از سلسلہ احمدیہ جلد اول صفحہ 330-331)

آخر یہ سب کچھ دیکھ کر انجمن کے بعض عمائدین، ان میں سے جو بڑے بڑے چند لوگ تھے، انجمن کا تمام خزانہ لے کر وہاں سے غائب ہو گئے لیکن دنیا نے دیکھا کہ کس طرح خلافت احمدیہ کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو تمکنت عطا فرمائی۔

حضرت مصلح موعود خلیفة المسیح الثانی ؓکا باون سالہ دور خلافت اس بات کا گواہ ہے کہ وہ نوجوان جس کے سپرد اللہ تعالیٰ نے خلافت کی باگ ڈور کی ،کس تیزی سے جماعت کو لے کر ترقی کی منزلوں پر قدم مارتے ہوئے بڑھتا چلا گیا۔ وہ لوگ جو انجمن کا خزانہ خالی کر کے گئے تھے اور یہ دعویٰ کرتے تھے کہ قادیان میں اب عیسائیوں کی حکومت ہو گی۔ ہم تو یہ دیکھ رہے ہیں کہ آج ان کی نسلیں دیکھ رہی ہیں کہ خلافتِ احمدیہ کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ کی تائیدات ہیں وہ ہمیں عیسائیوں کو مسیح محمدی کے جھنڈے تلے جمع ہوتے دکھا رہی ہیں۔ حضرت مصلح موعودؓ نے دنیا کے بےشمار ملکوں میں مشن کھولے۔ افریقہ میں عیسائی مبلغین کو احمدی مبلغین کے سامنے کھڑے ہونے کی جرأت نہیں ہوتی تھی۔ آخر انہیں تسلیم کرنا پڑا کہ عیسائیت کے پھیلاؤ میں احمدیت ایک بہت بڑی روک ہے اور اس کا ان کی رپورٹوں میں ذکر ہے۔ غرض ہم دیکھتے ہیں کہ قادیان پر حملے کے منصوبے ہوں یا تبلیغ کا میدان ہو یا ہجرت کا وقت ہو ہر موقع پر اس اولوالعزم خلیفہ نے جماعت کی کشتی کو اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت کے ساتھ کامیابی کی منزلوں تک پہنچایا اور محفوظ رکھا۔

آخر الٰہی تقدیر کے مطابق نومبر 1965ء میں جب آپؓ کی وفات ہوئی تو الٰہی وعدوں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے قدرتِ ثانیہ کے تیسرے مظہر کو کھڑا کیا۔ پھر جماعت کو اللہ تعالیٰ نے خوف سے امن میں لاتے ہوئے حضرت مرزا ناصر احمد خلیفة المسیح الثالثؒ کے ہاتھ پر اکٹھا کر دیا اور پھر جماعت ترقی کی منزلوں پر قدم مارنے لگی۔ افریقہ میں سکول اور ہسپتال جاری ہونے کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ احمدیت کے افریقہ میں تعارف کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ دنیا میں جماعت کا تعارف بڑھنے لگا۔ خلیفة المسیح الثالثؒ کا افریقہ کے بعض ممالک کا پہلا دورہ ہوا جس کے غیر معمولی اثرات نظر آنے لگے۔ کسی بھی خلیفہ کا افریقہ کے ممالک میں یہ پہلا دورہ تھا جو خلیفة المسیح الثالثؒ نے کیا۔ 1974ء میں حکومتِ وقت نے احمدیوں کے خلاف ایک سخت مہم چلا کر احمدیوں کے خلاف غیرمسلم ہونے کا قانون پاس کیا تو خلافت کی ڈھال کے پیچھے اس خوفناک حملے سے بھی جماعت کامیاب ہو کر نکلی اور دشمن کی جماعت کی ترقی کو روکنے کی کوشش ناکام و نامراد ہوئی۔ دشمن جو جماعت کے ہاتھوں میں کشکول دینے کی باتیں کرتا تھا اس کی خواہش خاک میں مل گئی اور اللہ تعالیٰ نے مالی کشائش کے نئے نئے رستے کھول دیے۔ لوگوں کو، جماعت کے افراد کو جو معاشی لحاظ سے بالکل ہی کریپل (cripple) کر دیا گیا تھا یا کوشش کی تھی کہ ختم کردیں ان لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے مالی کشائش بھی عطا فرمائی اور پھر باہر نکلنے کے رستے بھی کھولے۔ پس وہ لوگ جو 74ء کے بعد جرمنی میں اور بعض دوسری جگہوں پر باہر آئے ہیں ان کو مالی کشائش ملی ہے ان کو یہ باتیں اپنی نسلوں اور اولاد کو بھی بتانی چاہئیں کہ کس طرح دشمن نے ایک کوشش کی تھی اور کس طرح خلافت کے سائے تلے پھر اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے نئے رستے کھولے اور پہلے سے ہزاروں گنا زیادہ مالی کشائش عطا فرما دی۔

پھر جون 1982ء میں حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ بھی ہم سے رخصت ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے پھر اپنے وعدے کے مطابق حضرت مرزا طاہر احمد خلیفة المسیح الرابعؒ کے ذریعہ جماعت کے خوف کو امن میں بدلا۔ دشمن جماعت کی ترقی کو دیکھ کر اس وقت حواس باختہ ہو چکا تھا۔ اس نے نئے سرے سے حملے کا منصوبہ بنایا اور کوشش کی کہ خلافتِ احمدیہ کو عضوِ معطل کر دیا جائے۔ یہاں دشمن نے اپنے زعم میں سرکاٹنے کی کوشش کی لیکن ان جاہلوں اور عقل کے اندھوں کو کیا پتہ کہ خدا تعالیٰ کے منصوبے کیا ہیں! غیرمعمولی تائید و نصرت کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفة المسیح الرابع ؒکی پاکستان سے ہجرت کروائی اور دشمن دیکھتا رہ گیا اور پھر ہجرت کے بعد خلافتِ رابعہ میں ترقیات کا ایک نیا دور شروع ہوا اور سیٹلائٹ کے ذریعہ خلیفہ وقت اور احمدیت اور حقیقی اسلام کا پیغام احمدیوں کے گھروں کے ساتھ ساتھ غیروں کے گھروں میں اور ہر ملک میں پہنچنا شروع ہوگیا اور تبلیغ کے نئے رستے کھلے۔ کئی ملکوں میں احمدیت کے پودے لگے اور حقیقی اسلام کی تعلیم پھیلنی شروع ہوئی۔ قرآن کریم کی اشاعت پہلے سے بڑھ گئی۔ اس کے تراجم نئی نئی زبانوں میں شروع ہوئے۔

پھر الٰہی تقدیر کے مطابق اپریل 2003ء میں خلیفة المسیح الرابعؒ کا وصال ہوا تو پھر جماعت کے لیے ایک بہت بڑا دھچکا تھا اور دشمن کے خیال میں ان کے لیے احمدیت کو ختم کرنے کا ایک بہت بہترین موقع تھا لیکن اللہ تعالیٰ نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدہ فرمایا ہے اس نے ایک دفعہ پھر جماعت کو سنبھالا اور ایسا سنبھالا کہ مخالف مولوی بھی کہنے لگے کہ باوجود اس کے کہ ہم تمہیںسچا نہیں سمجھتے لیکن ہم یہ دیکھ رہے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت تمہارے ساتھ ہے۔ لیکن یہ ماننے کے باوجود کہ خدا تعالیٰ کی فعلی شہادت ہمارے ساتھ ہے پھر بھی ماننے کو تیار نہیں۔ مومنین کی دعاؤں کو اللہ تعالیٰ نے سنا اور خوف کی حالت کو امن میں بدل دیا اور اسلام کی تاریخ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے ذریعہ خلافتِ خامسہ کا دور شروع ہوا۔

اسلام کے ابتدائی دور میں اگر خلافتِ راشدہ چار خلافتوں تک محدود تھی تو وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق تھی اور اب جو خلافتِ خامسہ کا دور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے ذریعے سے شروع ہوا تو یہ بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی بعثت کے بعد جس طرح اسلام کی تاریخ میں بہت سے نئے باب کھلے ہیں خلافت خامسہ بھی انہی کا ایک حصہ ہے۔ دشمن سمجھتا تھا کہ اب تو جماعت کی قیادت اتنے مضبوط ہاتھوں میں نہیں ہے لیکن ان کو کیا پتہ کہ اصل ہاتھ تو خداتعالیٰ کا ہاتھ ہے جو جس کی تائید میں اور جس کے ساتھ ہو اسے مضبوط کر دیتا ہے۔ آج دشمن کی حسد کی آنکھ پہلے سے بڑھ کر جماعت کی ترقیات کو دیکھ رہی ہے۔ جماعت کا جو تعارف اور دنیا میں اس کا غیر معمولی طور پر اظہار اس دور میں ،ہر طبقے میں اور ہر سطح پر ہوا ہے یہ غیر معمولی ہے۔ مَیں تو ایک بہت کمزور انسان ہوں میری کسی خوبی کی وجہ سے یہ ترقی نہیں ہو رہی۔ دنیا کی حکومتوں کے سرکردہ لوگوں اور ایوانوں میں جماعتِ احمدیہ کا تعارف ہو رہا ہے تو یہ صرف اور صرف خدا تعالیٰ کے فضلوں اور اس کے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام سے کیے گئے وعدوں کی وجہ سے ہو رہا ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ہو رہا ہے۔ ہر روز اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے نظارے ہم دیکھ رہے ہیں۔ اشاعتِ قرآن اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا کام مختلف زبانوں میں بہت بڑھ چکا ہے۔ ایم ٹی اے کے ذریعہ سے دنیا کے تمام ممالک میں اسلام کا حقیقی پیغام پہنچ رہا ہے۔ پہلے ایک زبان میں تھا اور ایک چینل تھا ۔اس وقت دنیا میں ایم ٹی اے کے آٹھ مختلف چینل کام کر رہے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں ایم ٹی اے سٹوڈیوز بن گئے ہیں جہاں سے ایم ٹی اے کے پروگرام جاری رہتے ہیں۔ اب ایک جگہ سٹوڈیو نہیں ہر جگہ بن چکے ہیں، ہر جگہ تو نہیں لیکن کئی جگہ افریقہ میں بھی اور نارتھ امریکہ میں بھی اور یورپ میں بھی بن چکے ہیں۔ اگر ہم اپنے وسائل کو دیکھیں تو یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ سوشل میڈیا کے ذریعہ بھی اسلام کا حقیقی پیغام پہنچ رہا ہے۔ پاکستان کی حکومت نے اس پر مختلف طریقوں سے پابندی لگائی ہے تو دنیا کے دوسرے ممالک میں پہلے سے بڑھ کر اللہ تعالیٰ نے راستے کھول دیے ہیں۔ پھر اللہ تعالیٰ نے خلافت سے تعلق قائم کرنے کے لیے ایک نیا رستہ بھی سمجھا دیا ہے جو آن لائن (online)ملاقات یا ورچوئل (virtual)ملاقات کے ذریعہ سے اس کووِڈ کی بیماری کی وجہ سے سامنے آیا۔ اس ذریعہ سے میٹنگیں بھی ہو رہی ہیں۔ ملاقاتیں بھی ہو رہی ہیں جس سے براہِ راست جماعتوں سے رابطہ ہو رہا ہے۔ لوگ خلیفۂ وقت سے براہ راست راہنمائی لے رہے ہیں۔ میں یہاں لندن سے کبھی افریقہ کے کسی ملک سے، کبھی انڈونیشیا سے، کبھی آسٹریلیا سے، کبھی امریکہ سے ملاقات کر لیتا ہوں تو یہ سب خدا تعالیٰ کی تائیدات کے نظارے ہیں۔ پس ہمیں کبھی نہیں بھولنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ جو اپنے فضلوں کے نظارے دکھا رہا ہےاور خلافت کے انعام سے جو ہمیں نوازا ہوا ہے اس کا ہم نے ہمیشہ حق ادا کرنے والا بننا ہے تا کہ قیامت تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق ہم اس نعمت سے فائدہ اٹھاتے رہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام سے تو اللہ تعالیٰ نے ترقیات کا وعدہ فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرتا لیکن ہمیں اس سے فیض پانے کے لیے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا۔ ہمیں اللہ تعالیٰ کا شکرگزاربندہ بنتے ہوئے اُس کے آگے جھکنا ہو گا۔ خلافت کی نعمت کا اظہار ہمارے ہر قول اور فعل سے ہونے کی ضرورت ہے۔ خلافت سے کامل اطاعت کا عہد آخری سانس تک نبھانے کے لیے ہمیں ہر قربانی کے لیے تیار رہنا چاہیے تبھی ہم قیامت تک اپنی نسلوں کو خلافت کا مطیع بنانے کا حق ادا کر سکتے ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے ہم میں سے انہیں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث بننے کی یقین دہانی کروائی ہے جو ایمان پرقائم رہتے ہوئے ہر قربانی کے لیے تیار رہیں گے۔ چنانچہ آپؑ فرماتے ہیں’’یہ مت خیال کرو کہ خدا تمہیں ضائع کر دے گا۔ تم خدا کے ہاتھ کا ایک بیج ہو جو زمین میں بویا گیا۔ خدا فرماتا ہے کہ یہ بیج بڑھے گا اور پھولے گا اور ہر ایک طرف سے اس کی شاخیں نکلیں گی اور ایک بڑا درخت ہو جائے گا۔ پس مبارک وہ جو خدا کی بات پر ایمان رکھے اور درمیان میں آنے والے ابتلاؤں سے نہ ڈرے کیونکہ ابتلاؤں کا آنا بھی ضروری ہے تا خدا تمہاری آزمائش کرے کہ کون اپنے دعویٔ بیعت میں صادق اور کون کاذب ہے۔ وہ جو کسی ابتلا سے لغزش کھائے گا وہ کچھ بھی خدا کا نقصان نہیں کرے گا اور بدبختی اس کو جہنم تک پہنچائے گی اگر وہ پیدا نہ ہوتا تو اس کے لئے اچھا تھا۔ مگر وہ سب لوگ جو اخیر تک صبر کریں گے اور ان پر مصائب کے زلزلے آئیں گے اور حوادث کی آندھیاں چلیں گی اور قومیں ہنسی اور ٹھٹھا کریں گی اور دنیا ان سے سخت کراہت کے ساتھ پیش آئے گی وہ آخر فتح یاب ہوں گے اور برکتوں کے دروازے ان پر کھولے جائیں گے۔ خدا نے مجھے مخاطب کر کے فرمایا کہ میں اپنی جماعت کو اطلاع دوں کہ جو لوگ ایمان لائے ایسا ایمان جو اس کے ساتھ دنیا کی ملونی نہیں اور وہ ایمان نفاق یا بزدلی سے آلودہ نہیں اور وہ ایمان اطاعت کے کسی درجہ سے محروم نہیں ایسے لوگ خدا کے پسندیدہ لوگ ہیں اور خدا فرماتا ہے کہ وہی ہیں جن کا قدم صدق کا قدم ہے۔‘‘

(رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 309)

پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ ’’خدا کا کلام مجھے فرماتا ہے کہ کئی حوادث ظاہر ہوں گے اور کئی آفتیں زمین پر اتریں گی۔ کچھ تو ان میں سے میری زندگی میں ظہور میں آ جائیں گی اور کچھ میرے بعد ظہور میں آئیں گی اور وہ اس سلسلہ کو پوری ترقی دے گا کچھ میرے ہاتھ سے اور کچھ میرے بعد۔‘‘

(رسالہ الوصیت، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 303-304)

پس ان شاء اللہ تعالیٰ یہ ترقیات تو ہونی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ہمیشہ ثابت قدم رکھے۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ سلسلہ کی پوری ترقی کے نظارے ہم اپنی آنکھوں سے دیکھنے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے عہدوں کو پورا کرنے والا بنائے تاکہ اللہ تعالیٰ کے وعدہ کے پورا ہونے کا نظارہ ہم اپنی زندگیوں میں دیکھ سکیں۔ ہماری عبادتیں، ہماری نمازیں، ہمارے عمل اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے ہوں۔ ہم خلافت کا صحیح ادراک حاصل کرنے والے ہوں اور اس بارے میں اپنی نسلوں کو بتانے والے ہوں تاکہ قیامت تک ہماری نسلیں اس نعمت سے فیضیاب ہوتی چلی جائیں۔

آج پھر مَیں دعاؤں کا کہنا چاہتا ہوں۔ پاکستان کے احمدیوں کو بھی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ مظلوم احمدیوں کو جہاں کہیں بھی ہیں دعاؤں میں یاد رکھیں۔ مظلوم مسلمانوں کو جہاںبھی ہیں ،فلسطین کے یا کہیں بھی ان کو دعاؤں میں یاد رکھیں۔ اللہ تعالیٰ سب کی مشکلات کو دور فرمائے اور آسانیاں پیدا فرمائے۔ اور جو احمدی ہیں ان سب کو توفیق دے کہ وہ حقیقی رنگ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی تعلیم پر عمل کرنے والے ہوں اور حقیقی احمدی بنیں اور وہ مسلمان جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کو ابھی تک پہچان نہیں رہے اللہ تعالیٰ انہیں پہچاننے اور بیعت میں آنے کی توفیق عطا فرمائے اور تمام دنیا میں ہم جلد از جلد اسلام کا جھنڈا اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا لہراتے ہوئے دیکھیں اور تمام دنیا میں ہم توحید کو قائم ہوتا ہوا دیکھیں۔

٭…٭…٭

(الفضل انٹرنیشنل 18؍جون 2021ءصفحہ 5تا9)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close