حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز

حسن سلوک کے اعلیٰ معیار

والدین سے حسن سلوک

مختلف رشتوں اور تعلقات کے حوالے سے احباب جماعت کو اُن کی ذمہ داریوں سے متعلق توجہ دلاتے ہوئے حضور انور نےایک خطبہ جمعہ میں تفصیل سے نصائح فرمائیں۔ اِس ضمن میں میاں بیوی کے حقوق کے حوالے سےارشاد فرمایا:

وَ اعۡبُدُوا اللّٰہَ وَ لَا تُشۡرِکُوۡا بِہٖ شَیۡئًا وَّ بِالۡوَالِدَیۡنِ اِحۡسَانًا وَّ بِذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡیَتٰمٰی وَ الۡمَسٰکِیۡنِ وَ الۡجَارِ ذِی الۡقُرۡبٰی وَ الۡجَارِ الۡجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالۡجَنۡۢبِ وَ ابۡنِ السَّبِیۡلِ ۙ وَ مَا مَلَکَتۡ اَیۡمَانُکُمۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ مَنۡ کَانَ مُخۡتَالًا فَخُوۡرَا (النساء:37)

ابھی جو آیت میں نے تلاوت کی ہے اس میں اللہ تعالیٰ فرماتاہے کہ میری عبادت کرو اور اس طرح عبادت کرو کہ جو عبادت کا حق ہے۔ یہ چھوٹے بُت یابڑے بُت یا دلوں میں بسائے ہوئے بُت تمہیں کسی طرح بھی میری عبادت سے روک نہ سکیں۔ پھر والدین سے حسن سلوک کاحکم ہے، اُن سے حسن سلوک کرواور اس حسن سلوک کا بھی مختلف جگہوں پر مختلف پیرایوں میں ذکر آیاہے۔

پھر فرمایا:

’’کہ یہ دو بنیادی باتیں ہیں اگر تم میں پیدا ہوگئیں تو پھر آگے ترقی کرنے کے لئے اور منازل بھی طے کرنی ہوں گی۔ دین کی صحیح تعلیم پر عمل کرنے کے لئے تم نے اخلاق کے اور بھی اعلیٰ معیار دکھانے ہیں۔ اگر یہ معیار قائم ہو گئے توپھرتم حقیقی معنوں میں مسلمان کہلانے کے مستحق ہواور اگر یہ معیار قائم کر لئے اور اپنے اندر اعلیٰ اخلاق پیدا کر لئے تو پھر ٹھیک ہے تم نے مقصد پا لیا اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بن گئے اور انشاء اللہ بنتے رہو گےاور اگر یہ اعلیٰ معیار قائم نہ کئے اور تکبر دکھاتے رہے اور ہر وقت اسی فکر میں رہے کہ اپنے آپ کو میں کسی طریقے سے نمایاں کروں تو یاد رکھو کہ یہ باتیں اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہیں۔ پھر تو حقوق العباد اداکر نے والے نہیں ہوگے بلکہ اپنی عبادتوں کو ضائع کرنے والے ہوگے۔ اگر حسن خلق کے اعلیٰ معیار قائم نہ کئے تو اس کے ساتھ ساتھ اپنی عبادتوں کو بھی ضائع کر رہے ہوگےاور وہ معیار کیاہیں جو اللہ تعالیٰ ہم سے چاہتاہے کہ ہم قائم کریں۔ فرمایا: وہ معیار یہ ہے کہ تم قریبی رشتہ داروں سے حسن سلوک کرو۔ وہ قریبی رشتہ دار جو تمہارے ماں باپ کی طرف سے تمہارے قریبی رشتہ دار ہیں، تمہارے رحمی رشتہ دار ہیں۔ پھرجو شادی شدہ لوگ ہیں ان کی بیوی کی طرف سے یا بیوی کے خاوند کی طرف سے رشتہ دار ہیں یہ سب قرابت داروں کے زمرہ میں آتے ہیں اور ان رشتوں سے حسن سلوک کا عورت اور مرد کو یکساں حکم ہے ایک جیسا حکم ہے جب عورت اور مرد ایک دوسرے کے رحمی رشتہ داروں سے حسن سلوک کر رہے ہوں گے، ایک دوسرے کے قریبیوں سے اچھے اخلاق سے پیش آ رہے ہوں گے، ان کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کررہے ہوں گے تو ظاہر ہے کہ میاں بیوی دونوں میں آ پس میں بھی محبت اور پیار کا تعلق خود بخود بڑھے گا۔ ایک دوسرے کے حقوق ادا کرنے کی پوری کوشش کریں گے تو فرمایا کہ قربت کے رشتوں کی یعنی رحمی رشتوں کی حفاظت کر رہے ہوگے تو پھر تم میرے پسندیدہ ہوگے۔ ‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ 23؍جنوری 2004ء۔

مطبوعہ خطبات مسرور جلد 2 صفحہ 64تا65)

میاں اور بیوی کے قریبی رشتہ داروں وقرابت داروں کےاحترام کے حوالے سےحضور انور ایّدہ اللہ تعالیٰ نے ایک موقع پر فرمایا:

’’کئی جھگڑے گھروں میں اس لئے ہو رہے ہوتے ہیں کہ ایک دوسرے کے رشتہ داروں کے لئے عزت اور احترام نہیں ہوتا۔ میاں اور بیوی کے سب سے قریبی رشتہ دار اس کے والدین ہیں۔ جہاں اپنے والدین سے احسان کے سلوک کا حکم ہے وہاں میاں اور بیوی کو ایک دوسرے کے والدین سے بھی حسن سلوک کا حکم ہے۔ بعض دفعہ خاوند زیادتی کرکے بیوی کے والدین اور قریبیوں کو برا بھلا کہتے ہیں اور بعض دفعہ بیویاں زیادتی کرکے خاوندوں کے والدین اور قریبی رشتہ داروں کو برا بھلا کہہ رہی ہوتی ہیں۔ تو احمدی معاشرے میں جس کو اللہ اور رسولﷺ کا حکم ہے کہ سلامتی پھیلاؤ، اس میں یہ باتیں نہیں ہونی چاہئیں۔ اس کے بعد کہ ہم نے زمانے کے امام کو مان لیا، اس کے بعد کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں اعلیٰ اخلاق پر قائم رہنے کے طریقے بھی سکھا دئیے۔ یہ بھی بتا دیا کہ میرے سے تعلق رکھنا ہے تواُن اعلیٰ اخلاق کو اپناؤ جن کا اللہ اور اس کا رسول حکم دیتا ہے۔

ہمیں سوچنا چاہئے کہ اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننے کے بعد جبکہ ہمیں مخالفتوں کا سامنا اس لئے ہو رہا ہے کہ تم نے کیوں اس شخص کو مانا جو کہتا ہے کہ میں مسیح موعود نبی اللہ ہوں۔ احمدیت قبول کرنے کے بعد بعض لوگوں کو اپنے رشتہ داروں سے بھی بڑی تکلیف اٹھانی پڑی۔ اپنوں نے بھی رشتے توڑ دیئے۔ باپوں نے اپنے بچوں پر سختیاں کیں اور گھروں سے نکال دیا۔ اس لئے نکال دیا کہ تم نے احمدیت کیوں قبول کی۔ تو اس صورتحال میں ایک احمدی کو کس قدر اپنے رشتوں کا پاس کرنا چاہئے۔ ہر ایک کو یہ سوچنا چاہئے کہ اُس شخص سے منسوب ہونے کے بعد جس کا نام خداتعالیٰ نے سلامتی کا شہزادہ رکھا ہے ہمیں کس قدر سلامتی پھیلانے والا اور رشتوں کو مضبوط کرنے کی کوشش کرنے والا ہونا چاہئے۔

پس ہر احمدی کو اپنے اندر یہ احساس پیدا کرنا چاہئے کہ ہم سلامتی کے شہزادے کے نام پر بٹہ لگانے والے نہ ہوں۔ اگر ہم اپنے رشتوں کا پاس کرنے والے، ان سے احسان کا سلوک کرنے والے، ان کو دعائیں دینے والے، اور ان سے دعائیں لینے والے نہ ہوں گے تو ان لوگوں سے کس طرح احسان کا سلوک کر سکتے ہیں، ان لوگوں سے کس طرح احسان کا تعلق بڑھا سکتے ہیں، ان لوگوں کا کس طرح خیال رکھ سکتے ہیں جن سے رحمی رشتے بھی نہیں ہیں۔ ‘‘

(خطبہ جمعہ فرمودہ یکم جون2007ء مطبوعہ الفضل انٹرنیشنل 22؍جون 2007ء)

(ماخوذ از عائلی مسائل اور ان کا حل صفحہ 59تا63)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close