متفرق شعراء

دریائے مہر و عشق اترنے نہیں دیا

مژگاں سے سیلِ اشک نکلنے نہیں دیا

دریائے مہر و عشق اترنے نہیں دیا

غربت میں گو کہ روز ہی مرتے رہے ہیں ہم

لیکن کبھی ضمیر کو مرنے نہیں دیا

کُچلا ہے عاجزی سے تکبّر کا شیش ناگ

ہم نے انا کے سر کو ابھرنے نہیں دیا

آتے رہے ہیں دشتِ وفا میں مقام سخت

قدموں کو راستہ بھی بدلنے نہیں دیا

جتنا جیے ہیں اپنی ہی اوقات میں جیے

غیروں کے خود کو جام میں ڈھلنے نہیں دیا

رسوا کرے ہمیں جو سرِ بزمِ دوستاں

ایسے کبھی خمار کو چڑھنے نہیں دیا

مدت ہوئی کہ نذر کیا تھا حضور کو

دل پھر کبھی کسی کو ظفؔر نے نہیں دیا

(مبارک احمد ظفؔر)

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close