سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح

(’اے ولیم‘)

آریہ سماج کی تعلیمات اور ویدوں کے بارے میں نظریہ

یہ لوگ الہام کے منکر ہیں لیکن وید کو تمام علوم کا سرچشمہ مانتے ہیں۔ پنڈت دیانند نے 4 ویدوں کے علاوہ باقی تمام ہندو شاستروں کو مسترد کر دیا۔ علاوہ ازیں اس زمانہ میں ویدوں کی مروجہ شروحات پر بھی شدید نکتہ چینی کی اور برہمنوں کے اس خیال کی بھی دھجیاں بکھیر ڈالیں کہ وید صرف برہمن ہی پڑھ سکتے ہیں۔ ان کے نزدیک ویدوں کے علم کا دروازہ ہر آدمی کے لیے یکساں کھلا ہے۔

(ماخوذ از مذاہب عالم کا تقابلی جائزہ از پروفیسرچوہدری غلام رسول چیمہ ایم اے، ایل ایل بی صفحہ 237)

ذات پات کے نظام کی مخالفت کرتے ہوئے ذات پات کی تمیز پر بھی خاصی ضرب لگائی۔

بت پرستی اور متعدد دیوتاؤں کی پوجا، ویدانت کا مسئلہ، وحدت وجود اور اوتار کے مسائل کو ناقابل قبول قرار دیا اور اگنی، وایو، جل، سورج، چاند وغیرہ کی طرح طرح سے تاویلیں کیں۔

آریہ سماج روح اور مادہ کو قدیم مانتے ہیں اور یہ یقین رکھتے ہیں کہ روح اورمادہ ازلی ابدی ہیں۔ جیسا کہ ستیارتھ پرکاش اور رگو ید آدی بھاشیہ بھومکا میں لکھا ہے :

’’پرمیشور(خدا)جیو(روح)اورپراکرتی(مادہ)انادی(قدیم)ہیں۔ پرمیشور نے اپنے گیان سے جیو اور پراکرتی پر قابو پا کر دنیا قائم کی۔ ‘‘

(ماخوذ از مذاہب عالم کا تقابلی جائزہ از پروفیسر چوہدری غلام رسول چیمہ ایم۔ اے، ایل ایل بی صفحہ 237)

اسی طرح پنڈت دیانند صا حب نے ارواح کے متعلق یہ عقیدہ بھی شائع کیا کہ

’’ارواح موجودہ بے انت ہیں اور اس کثرت سے ہیں کہ پرمیشر کو بھی ان کی تعداد معلوم نہیں، اس واسطے ہمیشہ مکتی پاتے رہتے اور پاتے رہیں گے مگر کبھی ختم نہیں ہوویں گے‘‘

(بحوالہ تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 153)

ستیارتھ پرکاش کے پہلے ایڈیشن میں سوامی جی نے کچھ خاص شرائط کے تحت گائے کا گوشت کھانے کی اجازت دی لیکن اس کے دوسرے ایڈیشن میں اس کی بکلی ممانعت کر دی گئی۔ حتی کہ 1882ء میں دیانند نے گئورکشھم سبھا/(Gaurakshim Sabha) گائے کی حفاظت کی تنظیم بنائی۔ جس کا مقصد عیسائیوں اور مسلمانوں کے خلاف گائے کو ذبح کرنےکی نسبت ہندوؤں میں شدید نفرت کوہوادینا تھا۔

(Modern Religious Movements in India By Farquhar pg 111)

آریہ سماجی تناسخ کے قائل اور نجات ابدی کے منکر ہیں۔

نیوگ: آریوں کا ایک عقیدہ نیوگ(Niyoga) کا ہے(جس کو سادہ الفاظ میں شادی کے بغیر جنسی تعلقات قائم کرنے کا عقیدہ کہہ سکتے ہیں)۔ اس عقیدہ کو تمام مذاہب کے ماننے والوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ حتیٰ کہ خود ہندوؤں نے اس عقیدہ کی بہت مخالفت کی یہانتک کہ آریوں نے ایک ہندو کے خلاف صرف اس لیے مقدمہ قائم کر دیا کہ اس نے نیوگ کو زنا سے تشبیہ دے دی تھی۔ لیکن یہ مقدمہ خارج کر دیا گیا۔

ہندوستان میں خصوصاً ہندودھرم کے تناظرمیں آریہ سماج کے کچھ مثبت پہلو بھی سامنے آئے جیساکہ

آریہ سماج کو ایک خصوصیت حاصل ہے کہ یہ ہندو ازم کے برعکس مورتی پوجا کے سخت خلاف ہیں۔

اسی طرح قدامت پرست ہندو صرف تین بڑی ذاتوں کو وید کے مطالعے کی اجازت دیتے تھے جبکہ آریہ سماج والے مرد اور عورت سمیت ہر کسی کو اس کے پڑھنے کی اجازت دیتے تھے۔ آریہ سماج والے بچپن کی شادی کے مخالف تھے اور بیوہ کو دوبارہ شادی کا حق دیتے تھے۔

(Modern Religious Movements in India By Farquhar pg 121-۔122)

سوامی دیانند کا انتقال

30؍اکتوبر 1883ء کو دیانند کا 59 سال کی عمرمیں انتقال ہو گیا۔ دیانند ان دنوں جودھ پور کے راجہ کے ہاں مقیم تھے کہ ایک دن آپ نے راجہ کو ایک ناچنے والی لڑکی کے ساتھ پایا آپ نے راجہ کو ایسے کاموں سے منع کیا تو لڑکی(اس کا نام ننھی بتایا جاتا ہے۔ وکی پیڈیا زیر ’’Dayananda Saraswati‘‘)غصہ میں آگئی اور اس نے دیانند کے باورچی کو رشوت دے کر اس کے دودھ میں زہر ملا دیا۔ اور یہی دیانند کی موت کا باعث بنا۔ دیانندکی موت سماج والوں کے لیے ایک بہت بڑا سانحہ تھا، لیکن اس سے سماج کے کاموں میں انہوں نے کوئی فرق نہیں پڑنے دیا بلکہ اب کام اور بھی زیادہ زور و شور سے کرنا شروع کر دیا۔ دیانند کی یادگار قائم کرنے کے لیے ایک بڑی رقم جمع کی گئی اور اس طرح 1887ء میں دیانند اینگلو ویدک کالج لاہور میں بطور یادگار قائم کیا گیا، اب اس میں مذہب کے ساتھ ساتھ انگریزی کی تعلیم بھی دی جانے لگی ہے۔

(ماخوذ از وکی پیڈیا و Modern Religious Movements in India By Farquhar pg 124)

آریہ سماج میں تقسیم

1892ء میں آریہ سماج دو فرقوں میں منقسم ہو گئی۔ ان میں سے ایک کالج یا مہذب فرقہ اور دوسرا سبزی خور یا مہاتما فرقہ کہلایا۔ ان میں سے پہلے نے نسبتاً زیادہ ترقی کی ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ آریہ سماج تما م دنیا کی اصلاح کے لیے ہے اور اسی وجہ سے انہوں نے جدید تعلیم اور کھانے میں نرمی برتی ہے۔ جبکہ ان کے مخالفین پرانی ہندو تعلیم کے حق میں ہیں اورسبزیاں کھانے کے موقف پر ابھی تک قائم ہیں اور اس کو صرف ہندو ؤں سے متعلقہ مذاہب سمجھتے ہیں۔ مشنریوں اور مبلغین کی ایک جماعت بھی سماج میں کام کر رہی ہے۔ ان میں سے چند تنخواہ کے بغیر کام کر رہے ہیں اور یہ انگریزی زبان بھی جانتے ہیں لیکن ایک جماعت تنخواہ پر بھی کام کرتی ہے ان میں زیادہ تعداد ہندو پنڈتوں کی ہے۔ اس کے علاوہ ان کی ٹریکٹ سوسائٹی، ستی سماج یعنی عورتوں کی آریہ سماج، آریہ کمار سبھا یعنی نوجوانوں سے متعلقہ آریہ سوسائٹی اور ان کے یتیم خانے بھی ہیں۔

(Modern Religious Movements in India By Farquhar pg 124-.125)

آریہ سماج کی گزشتہ اورموجودہ حالت کا تجزیہ

پنڈت دیانند کی زندگی میں سماج نے حیرت انگیز طور پر بہت تیزی سے ترقی کی۔ 1891ء کی مردم شماری (Census)رپورٹ کے مطابق آریہ سماج کی کل تعداد14,030تھی۔ جس میں 8,103مرداور5,927عورتیں شامل تھیں۔ پنڈت دیانند کی وفات کے کچھ عرصہ بعد تک سماج نے اپنی موجودہ حالت کو برقرار رکھا۔ لیکن زیادہ دیر تک سماج اپنی ترقی کی رفتار کو برقرار نہ رکھ سکی۔ چنانچہ 1901ء کی مردم شماری رپورٹ میں ان کی ترقی کی رفتار میں پہلے کی نسبت کمی واقع ہوئی تھی۔ 1911ء کی مردم شماری رپورٹ کے مطابق ملک میں آریوں کی کل تعداد 100,846تھی۔ جس میں 57,956 مرداور42,890 عورتیں شامل تھیں۔ صوبوں کے لحاظ سے آریوں کی سب سے زیادہ تعداد پنجاب میں موجود تھی۔

(CENSUS REPORT 1911 pg 133.-134)

دیانند کی 60 کے قریب تصنیفات ہیں، جن میں 16 جلدوں پر مشتمل ویدانوں کی تشریح بھی شامل ہے، اس کے علاوہ پانینی گرامر کی ایک تفسیر، وید کی اخلاقیات و رسومات اورمخالفین کے عقائدکے رد پر بہت سے ٹریکٹ بھی شامل ہیں۔ دیانند کی مشہور کتب ستیارتھ پرکاش، رگ وید آدی بھاشیہ بھومکا، سنسکارودی، رگ وید بھاشیم اور یجر وید بھاشیم ہیں۔ اس کے علاوہ خود پنڈت صاحب نے اجمیر شریف میں ایک پاروپکارینی سبھاقائم کی جو کہ پنڈت صاحب کے کاموں اور وید ٹیکسٹ کو شائع کرتی ہے۔

(وکی پیڈیا زیر لفظ’’Dayananda Saraswati‘‘)

اپریل1875ء میں بمبئ میں پنڈت دیانندسرسوتی نے آریہ سماج کی بنیادرکھی اور اس کے بعد پنجاب کے مرکزاور دارالعلوم لاہورمیں 1877ء میں آریہ سماج کاقیام عمل میں آیا۔ آریہ سماج نے بہت تھوڑے ہی عرصہ میں اپنے گرد پرجوش اور جنونی ہندوؤں کی ایک جماعت اکٹھی کرلی جوایک طرف تو اپنی من مرضی سے ویدوں کی ایسی تشریحات و تفسیرکررہی تھی کہ جوخودبہت سارے دیگرہندوگروہوں کوبھی تسلیم نہیں تھی اور دوسری طرف دوسرے مذاہب عیسائیت اور سکھ مت اور اس کے بزرگ مقدس پیشواؤں کے خلاف زبان طعن درازکرتے چلے جارہے تھے اور خاص طورپراسلام اور بانیٔ اسلام کے خلاف تودریدہ دہنی کی کوئی انتہاہی نہیں تھی۔ اس کی جھلک ستیارتھ پرکاش، اور اس زمانے کے دوسرے آریہ سماجی لٹریچراور اخبارات ورسائل میں ملاحظہ کی جاسکتی ہے اور جس کی ایک جیتی جاگتی تصویرآریہ مسافر پنڈت لیکھ رام بھی تھا۔ آریہ سماج سے دیگرمباحثات اور مناظرات کی تفصیل تو کسی الگ جلدمیں بیان ہوگی یہاں صرف 1877ء سے 1880ء تک کے زمانہ پرایک طائرانہ نظرہم ڈال رہے ہیں۔

مزید تفصیلات بیان کرنے سے قبل مناسب معلوم ہوتاہے کہ پنڈت دیانند سرسوتی کاایک تعارف پیش کردیاجائے۔

(باقی آئندہ)

٭…٭…٭

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button