خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍فروری2021ء

’’اے عثمان! ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے ایک قمیص پہنائے۔ اگر لوگ تجھ سے اس قمیص کے اتارنے کا مطالبہ کریں تو تو ان کے کہنے پر اسے ہرگز نہ اتارنا۔‘‘ (الحدیث)

آنحضرتﷺ کے عظیم المرتبت خلیفہ ٔراشد ذوالنّورین حضرت عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اوصافِ حمیدہ کا تذکرہ

حضرت عثمانؓ تو وہ انسان تھے جن کے متعلق حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے اسلام کی اتنی خدمات کی ہیں کہ وہ اب جو چاہیں کریں خدا ان کو نہیں پوچھے گا ان میں اتنی خوبیاں پیدا ہو گئی تھیں اور وہ نیکی میں اس قدر ترقی کر گئے تھے کہ یہ ممکن ہی نہ رہا تھا کہ ان کا کوئی فعل اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف ہو۔

چار مرحومین مکرم عبدالقادر صاحب(شہید) بازیدخیل پشاور، مکرم اکبر علی صاحب اسیرِ راہِ مولیٰ آف شوکت کالونی ضلع ننکانہ صاحب، مکرم خالد محمود الحسن بھٹی صاحب وکیل المال ثالث تحریک جدید ربوہ اور مکرم مبارک احمد طاہر صاحب مشیر قانونی صدرانجمن احمدیہ پاکستان کا ذکرِ خیر اور نمازِ جنازہ غائب

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍فروری2021ء بمطابق 26؍تبلیغ 1400 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ۔ بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے کے غزوات اور فتوحات کا ذکر چل رہا تھا۔ آج وہی بیان کروں گا۔ علی بن محمد مَدَائِنِی بیان کرتے ہیں کہ طبرستان پر حضرت عثمانؓ کے دور میں حضرت سعید بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے 30؍ہجری میں حملہ کیا، وہاں لڑائی ہوئی اور قلعہ فتح کیا۔

(تاریخ الطبری جلد 5 صفحہ 102-103، سنہ 30ھ دارالفکر 1998ء)

اسی طرح فتح صَوَارِی31؍ہجری میں ہے اس کے بارے میں آتا ہے کہ اکثر کتب تاریخ میں اس معرکے کے مقام کی تعیین درج نہیں ہے۔ علامہ ابن خلدون نے اس معرکے کا مقام اسکندریہ لکھا ہے۔

(تاریخ ابن خلدون الجزء 2 صفحہ 575، ولایة عبد اللّٰہ بن ابی سرح علی مصر و فتح افریقیہ ۔دارالفکر بیروت 2000ء)
(النجوم الزاھرة فی ملوک مصر و القاھرة ، جلد 1، صفحہ 80، ذکر ولایة ابن ابی سرح علی مصر۔ دارالکتب المصریة 1929ء)

ایک قول کے مطابق 31؍ ہجری میں مسلمانوں نے اہلِ روم کے ساتھ ایک جنگ لڑی جسے صواری کہا جاتا ہے۔ ابومَعْشَرْ کی روایت کے مطابق غزوۂ صَوَارِی34؍ ہجری میں ہوا اور اَسَاوِدَہْ کی بحری جنگ 31؍ہجری میں ہوئی۔ واقدی کے مطابق جنگ صَوَارِی اور جنگ اَسَاوِدَہْ دونوں 31؍ ہجری میں ہوئیں۔

(تاریخ الطبری جلد 5 صفحہ 115، غزوة الصواری۔سنہ 31ھ۔ دارالفکر 1998ء)

جب حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سَرحؓ نے فرنگیوں یعنی فرنچ اور بربریوں کو افریقیہ اور اندلس میں شکست دے دی تو رومی بڑے سیخ پا ہوئے اور سب مل کر قُسْطَنْطِیْن بن ہِرَقَلْ کے پاس جمع ہوئے اور مسلمانوں کے مقابلے میں ایسی فوج لے کر نکلے جس کی آغازِ اسلام سے اب تک کوئی مثال نہیں دیکھی گئی تھی۔ یہ لشکر پانچ سو بحری جہازوں پر مشتمل تھا جو مسلمانوں سے مقابلے کے لیے نکلا۔ امیر معاویہ نے حضرت عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کو بحری بیڑے کا امیر مقرر کیا۔ جب دونوں لشکر آمنے سامنے ہوئے تو سخت مقابلہ ہوا۔ بالآخر اللہ تعالیٰ کی نصرت سے مسلمانوں کو فتح نصیب ہوئی اور قسطنطین اور اس کا باقی ماندہ لشکر بھاگ کھڑا ہوا۔

(ماخوذ از تاریخ طبری جلد 5 صفحہ116دارالفکر 1998ء)
(ماخوذ از البدایۃ والنہایۃلابن کثیر جزء 7 صفحہ 152-153دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان2001ء)

فتح آرمینیا 31؍ ہجری میں ہوئی۔ واقِدی کے قول کے مطابق 31؍ ہجری میں حبیب بن مَسْلَمَہ فِہْرِی کے ہاتھ پر آرمینیا فتح ہوا۔

(تاریخ الطبری جلد 5صفحہ 118۔دارالفکر 1998ء)

فتح خُرَاسَان31؍ ہجری میں حضرت عبداللہ بن عَامِر خُراسَان کی طرف روانہ ہوئے اور انہوں نے اَبْرَشْہَر(Abarshahr)، طُوْس(Tous)، اَبِی وَرْد(Abivard) اور نسا (Nesa)کو فتح کر لیا یہاں تک کہ وہ سَرْخَسْ(Sarakhs) پہنچ گئے۔ اہل مَرْو(Merv)نے بھی اسی سال صلح کر لی۔

(تاریخ الطبری جلد 5صفحہ 123،شخوص عبد اللّٰہ بن عامر الی خراسان و ما قام بہ من فتوح۔دارالفکر 1998ء)

یہ مَرْوْترکمانستان میں ہے۔ باقی علاقے ایران کے ہیں۔ بلادِ روم کی طرف پیش قدمی 32؍ ہجری میں ہوئی۔ 32؍ ہجری میں امیر معاویہ نے بلادِ روم سے جنگ کی حتی کہ وہ قسطنطنیہ کے دروازے پر جا پہنچے۔

(البدایۃ والنہایۃلابن کثیر جزء 7 صفحہ 155۔دارالکتب العلمیة ۔بیروت لبنان2001ء)

مَرْوْ رُوْذ، طَالَقَان، فَارِیَابْ (Faryab)، جُوْزَجَان (Jowz) اور طَخَارِسْتَان (Takhar) کی فتوحات 32؍ ہجری کی ہیں۔ 32؍ ہجری میں حضرت عبداللہ بن عامر نے مَرْوْ رُوْذ، طَالَقَانموجودہ افغانستان میں بلخ اور مرورُوذکے درمیان علاقہ ہے، فاریاب یہ بھی افغانستان کا علاقہ ہے۔ جُوزَجَان، یہ بھی افغانستان کا علاقہ ہے۔ طَخَارِسْتَان، یہ بھی افغانستان کا علاقہ ہے، یہ سب علاقے فتح کیے۔

(تاریخ الطبری جلد 2 صفحہ 630،فتح مرو الروذ و الطالقان و الفاریاب و الجوزجان و طخارستان۔دار الکتب العلمیہ بیروت 1987ء)
(سیر الصحابہ جلد اول صفحہ 168 دار الاشاعت کراچی 2004ء)

ابو الْاَشْہَبْ سعدی اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ اَحْنَفْ بن قَیْسکی اہل مَرْوْ رُوْذ، طَالَقَان فَارِیَاباور جُوزَجَان سے رات کی تاریکی تک جنگ جاری رہی حتی کہ اللہ تعالیٰ نے دشمن کو شکست سے دوچار کیا۔

(تاریخ الطبری جلد 5 صفحہ 130،فتح مرو الروذ و الطالقان و الفاریاب و الجوزجان و طخارستان۔دارالفکر 1998ء)

اَحْنَفْ بن قَیسنے اَقْرَعْ بن حَابِسکو ایک گھڑ سوار لشکر کے ساتھ جُوزَجَان کی طرف روانہ کیا۔ اَقْرَعْکو اس باقی ماندہ لشکر کی طرف بھیجا گیا تھا جسے اَحْنَفْشکست دے چکا تھا۔ چنانچہ اَقْرَعبن حَابِسنے ان سے سخت جنگ کی جس میں ان کے شہ سوار شہید بھی ہوئے تاہم اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح سے ہمکنار کیا۔

(تاریخ الطبری جلد 5صفحہ 130-131،فتح مرو الروذ و الطالقان و الفاریاب و الجوزجان و طخارستان۔دارالفکر 1998ء)

بَلْخکی فتح 32؍ ہجری میں ہوئی۔ احنف بن قیس مَرْورُوذسے بَلْخکی طرف گئے اور وہاں جا کر اہلِ بَلْخکا محاصرہ کر لیا۔ قدیم بَلْخَخراسان کا ایک اہم ترین شہر تھا اور یہ موجودہ افغانستان کا سب سے قدیم شہر ہے۔ آج کل قدیم شہر کھنڈر کی شکل میں موجود ہے۔ دریائے بلخ کے دائیں کنارے سے 12 کلومیٹر دور واقع ہے۔ وہاں کے لوگوں نے چار لاکھ کی رقم ادا کرنے پر صلح کی درخواست کی جواَحْنَف بن قَیس نے قبول کر لی۔

(تاریخ الطبری جلد 5 صفحہ131،ذکر صلح الاحنف مع اہل بلخ۔دارالفکر 1998ء)
(معجم البلدان جلد اول صفحہ 568 دار الکتب العلمیہ بیروت)

ہَرَاتْ کی مہم 32؍ ہجری میں ہوئی۔ حضرت عثمانؓ نے خُلَیْد بن عبداللہ بن حَنَفِی کو ہَرَاتاور بَاذَغِیْسکی طرف روانہ کیا انہوں نے ان دونوں کو فتح کر لیا لیکن بعد میں انہوں نے بغاوت کر دی اور قَارِن بادشاہ کے ساتھ ہو گئے۔

(تاریخ الطبری جلد 5صفحہ 131،ذکر صلح الاحنف مع اہل بلخ۔دارالفکر 1998ء)

32؍ ہجری میں حضرت عبداللہ بن عامر نے خُرَاسَان پر قَیس بن ھَیْثَم کو اپنا جانشین مقرر کیا اور خود وہاں سے روانہ ہو گئے۔

(تاریخ الطبری جلد 5 صفحہ 132،ذکر صلح الاحنف مع اہل بلخ۔دارالفکر 1998ء)

قَارِن نے مسلمانوں کے لیے ایک بڑی فوج تیار کر رکھی تھی۔قیس بن ھَیْثَم امارت عبداللہ بن خازم کے حوالے کر کے حضرت عبداللہ بن عامر کے پاس مدد اور کمک کے لیے چلے گئے۔

(تاریخ الطبری جلد 5 صفحہ 132-133،ذکر صلح الاحنف مع اہل بلخ۔دارالفکر 1998ء)

کیونکہ فوج کافی تھی جس کا مقابلہ تھا۔ عبداللہ بن خَازِم چار ہزار کی فوج لے کر قَارِن کے ساتھ جنگ کرنے کے لیے روانہ ہوئے۔ عبداللہ بن خَازِم نے چھ سو سپاہیوں کو ہراول دستے کے طور پر آگے بھیجا اور ان کے پیچھے روانہ ہوئے۔ وہ ہراول دستہ آدھی رات کو قارن کے لشکر تک پہنچ گیا اور ان پر حملہ کر دیا۔ اس اچانک حملے سے دشمن خوفزدہ ہو گیا اور جب مسلمانوں کی باقی فوج پہنچی تو دشمن کو بری طرح شکست ہوئی اور قارن قتل ہوا۔ مسلمانوں نے تعاقب کیا اور بہت سے لوگوں کو قتل اور گرفتار کر کے قیدی بنا لیا۔

(تاریخ الطبری جلد 5 صفحہ 132،ذکر صلح الاحنف مع اہل بلخ۔دارالفکر 1998ء)

حضرت عثمانؓ کے دَور میں برصغیر پاک و ہند میں اسلام پہنچ گیا۔ امام ابو یوسف کتاب الخراج میں امام زہری کے حوالے سے لکھتے ہیں کہ مصر اور شام حضرت عمر ؓکے زمانے میں فتح ہوئے اور افریقیہ اور خراسان اور سندھ کا کچھ علاقہ حضرت عثمانؓ کے دور میں فتح ہوا۔

(کتاب الخراج از امام ابو یوسف صفحہ 218 فصل فی قتال اھل الشرک و اھل البغی و کیف یدعون، المکتبة التوفیقیة 2013ء)

برصغیر میں اسلام کی آمد کے متعلق ایک روایت یوںملتی ہے۔ حضرت عثمانؓ کے عہد میں حضرت عبیداللہ بن مَعْمَر کو فوج کا ایک دستہ دے کر مکران اور سندھ کی طرف بھیجا گیا۔ فتوحات مکران میں انہوں نے خوب بہادری کے جوہر دکھائے۔ بعد ازاں اس نواح کے مفتوحہ علاقوں کی امار ت ان کے سپرد ہوئی۔

(برصغیر میں اسلام کے اولین نقوش از محمد اسحاق بھٹی صفحہ63نومبر 2009ء)

حضرت مُجَاشِعْ بن مسعود سُلَمِّی کے متعلق لکھا ہے کہ حضرت مُجَاشِعْنے موجودہ افغانستان کے دارالحکومت کابل میں اسلامی فوج کے ایک دستہ کی کمان کرتے ہوئے مخالفینِ اسلام سے جہاد کیا۔ مؤرخین کے نزدیک اس زمانے میں کابل کا شمار بلاد ہند میں ہوتا تھا۔ حضرت مُجَاشِعْنے حضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں مخالفینِ اسلام سے جنگ کی اور اس سے ملحقہ علاقے سَجِسْتَانْ پر عَلَم لہرایا۔ اس کے بعد مسلمانوں نے برصغیر کے ان علاقوں میں سکونت اختیار کر لی اور انہیں اپنا وطن قرار دے دیا تھا۔

(برصغیر میں اسلام کے اولین نقوش از محمد اسحاق بھٹی صفحہ65نومبر 2009ء)

حضرت عثمانؓ کے دور خلافت میں فتنہ کی بابت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیاں بھی ہیں۔ حضرت عائشہؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے عثمان! ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تجھے ایک قمیص پہنائے۔ اگر لوگ تجھ سے اس قمیص کے اتارنے کا مطالبہ کریں تو تُو ان کے کہنے پر اسے ہرگز نہ اتارنا۔ یہ ترمذی کی روایت ہے۔

(سنن الترمذی ابواب المناقب باب منع النبیؐ عثمان ان لا یخلع۔۔۔ حدیث نمبر 3705)

سنن ابن ماجہ میں یہ روایت اس طرح ہے۔ حضرت عائشہؓ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے عثمان! اگر اللہ تعالیٰ کسی دن یہ امر تمہارے سپرد کر دے اور منافق تم سے چاہیں کہ تم اپنی قمیص کو جو اللہ نے تمہیں پہنائی ہے اتار دو تو تم اسے نہ اتارنا۔ آپؐ نے یہ تین دفعہ فرمایا۔ راوی نعمان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عائشہؓ سے عرض کیا کہ آپؓ کو کس بات نے منع کیا تھا کہ آپؓ لوگوں کو اس سے آگاہ کریں؟ حضرت عائشہؓ نے فرمایا مجھے یہ بات بھلا دی گئی تھی۔

(سنن ابن ماجہ افتتاح الکتاب…… فضل عثمان رضی اللّٰہ عنہ حدیث نمبر 112)

حضرت کَعْب بن عُجْرَہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک فتنہ کا ذکر فرمایا اور اسے قریب بتایا تو ایک شخص گزرا۔ جب بیان فرما رہے تھے تو وہاں سے ایک شخص گزرا جس نے سر ڈھانپا ہوا تھا، چادر اوڑھی ہوئی تھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ یہ شخص اس دن ہدایت پر ہو گا جب یہ فتنہ ہو گا۔ تو راوی کہتے ہیں کہ میں نے چھلانگ لگائی اور میں نے اس شخص کو پکڑا تو وہ حضرت عثمانؓ تھے۔ ان کو دونوں بازوؤں سے پکڑا۔ پھر میں نے رسول اللہ ؐکی طرف رخ کیا اور عرض کیا۔ کیا یہ؟ حضورؐ نے فرمایا: ہاں یہی۔

(سنن ابن ماجہ افتتاح الکتاب…… فضل عثمان رضی اللّٰہ عنہ حدیث نمبر 111)

حضرت عائشہؓ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ میرے پاس بعض صحابہ ہوں۔ ہم نے عرض کیا یا رسول اللہ ؐ!کیا ہم آپ کی خدمت میں ابوبکر ؓکو نہ بلا لیں؟ آپؐ خاموش رہے۔ پھر ہم نے کہا کیا ہم آپؐ کی خدمت میں عمر ؓ کو نہ بلا لیں؟ آپؐ خاموش رہے۔ پھر ہم نے کہا کیا ہم آپ کی خدمت میں عثمان ؓکو نہ بلا لیں؟ آپؐ نے فرمایا ہاں۔ وہ آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے تنہائی میں ملے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم ان سے گفتگو فرمانے لگے اور عثمانؓ کے چہرے کا رنگ بدل رہا تھا۔ قیس کہتے ہیں مجھ سے ابوسَہْلَہجو حضرت عثمانؓ کے آزاد کردہ غلام تھے انہوں نے بیان کیا کہ حضرت عثمان بن عفانؓ نے یوم الدار کے موقع پر بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک تاکیدی ارشاد فرمایا تھا اور میں اس کی طرف جا رہا ہوں۔ راوی بیان کرتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ نے فرمایا۔ اَنَا صَابِرٌ عَلَیْہِ ۔ میں اس پر مضبوطی سے قائم ہوں۔

یوم الدار اس دن کو کہا جاتا ہے جس دن حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو منافقوں نے آپؓ کے گھر میں محصور کر دیا تھا اور پھر انتہائی بے دردی سے شہید کر دیا۔

(سنن ابن ماجہ افتتاح الکتاب…… فضل عثمان رضی اللّٰہ عنہ حدیث نمبر 113 معہ حاشیہ)

حضرت عثمانؓ کے دورِ خلافت میں اختلافات کا آغاز اور اس کی وجوہات کے بارے میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے بڑی تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:

حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ ’’یہ دونوں بزرگ اسلام کے اوّلین فدائیوں میں سے ہیں اور ان کے ساتھی بھی اسلام کے بہترین ثمرات میں سے ہیں۔ ان کی دیانت اور ان کے تقویٰ پر الزام کا آنا درحقیقت اسلام کی طرف عار کا منسوب ہونا ہے۔ اور جو مسلمان بھی سچے دل سے اس حقیقت پر غور کرے گا اُس کو اِس نتیجہ پر پہنچنا پڑے گا کہ ان لوگوں کا وجود درحقیقت تمام قسم کی دھڑا بندیوں سے ارفع اور بالا ہے اور یہ بات بے دلیل نہیں بلکہ تاریخ کے اوراق اس شخص کے لئے جو آنکھ کھول کر ان پر نظر ڈالتا ہے اس امر پر شاہد ہیں۔ جہاں تک میری تحقیق ہے ان بزرگوں اور ان کے دوستوں کے متعلق جو کچھ بیان کیا جاتا ہے وہ اسلام کے دشمنوں کی کارروائی ہے اور گو صحابہؓ کے بعد بعض مسلمان کہلانے والوں نے بھی اپنی نفسانیت کے ماتحت ان بزرگوں میں سے ایک یا دوسرے پر اتہام لگائے ہیں لیکن باوجود اس کے صداقت ہمیشہ بلند و بالا رہی ہے اور حقیقت کبھی پردہ ٔخفا کے نیچے نہیں چھپی۔‘‘

(اسلام میں اختلافات کا آغاز ، انوار العلوم جلد4صفحہ 249 )

حضرت عثمانؓ کے خلاف جو فتنہ اٹھا تھا اس کے بارے میں حضرت مصلح موعودؓ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’سوال یہ ہے کہ یہ فتنہ کہاں سے پیدا ہوا؟ اس کا باعث بعض لوگوں نے حضرت عثمانؓ کو قرار دیا ہے اور بعض نے حضرت علیؓ کو۔ بعض کہتے ہیں کہ حضرت عثمانؓ نے بعض بدعتیں شروع کر دی تھیں جن سے مسلمانوں میں جوش پیدا ہو گیا اور بعض کہتے ہیں کہ حضرت علیؓ نے خلافت کے لئے خفیہ کوشش شروع کر دی تھی اور حضرت عثمانؓ کے خلاف مخالفت پیدا کر کے انہیں قتل کرا دیا تا کہ خود خلیفہ بن جائیں۔‘‘ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں ’’لیکن یہ دونوں باتیں غلط ہیں۔ نہ حضرت عثمانؓ نے کوئی بدعت جاری کی اور نہ حضرت علیؓ نے خود خلیفہ بننے کے لئے انہیں قتل کرایا یا ان کے قتل کے منصوبہ میں شریک ہوئے بلکہ اس فتنہ کی اَور ہی وجوہات تھیں۔ حضرت عثمانؓ اور حضرت علیؓ کا دامن اس قسم کے الزامات سے بالکل پاک ہے۔ وہ نہایت مقدس انسان تھے۔ حضرت عثمانؓ تو وہ انسان تھے جن کے متعلق حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ انہوں نے اسلام کی اتنی خدمات کی ہیں کہ وہ اب جو چاہیں کریں خدا ان کو نہیں پوچھے گا۔‘‘ یہ ترمذی کی روایت ہے۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں ’’اس کا یہ مطلب نہ تھا کہ خواہ وہ اسلام سے ہی برگشتہ ہو جائیں تو بھی مؤاخذہ نہیں ہو گا بلکہ یہ تھا‘‘ مطلب اس کا ’’کہ ان میں اتنی خوبیاں پیدا ہو گئی تھیں اور وہ نیکی میں اس قدر ترقی کر گئے تھے کہ یہ ممکن ہی نہ رہا تھا کہ ان کا کوئی فعل اللہ تعالیٰ کے احکام کے خلاف ہو۔ پس حضرت عثمانؓ ایسے انسان نہ تھے کہ وہ کوئی خلاف شریعت بات جاری کرتے اور نہ حضرت علیؓ ایسے انسان تھے کہ خلافت کے لئے خفیہ منصوبے کرتے۔‘‘

(اسلام میں اختلافات کا آغاز ، انوار العلوم جلد4صفحہ 253-254 )

پھر حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں کہ ’’حضرت عثمانؓ کی شروع خلافت میں چھ سال تک ہمیں کوئی فساد نظر نہیں آتا بلکہ معلوم ہوتا ہے کہ لوگ عام طور پر آپؓ سے خوش تھے۔ بلکہ تاریخ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس عرصہ میں وہ حضرت عمرؓ سے بھی زیادہ لوگوں کو محبوب تھے‘‘ یعنی حضرت عثمانؓ حضرت عمر ؓسے بھی زیادہ لوگوں کو محبوب تھے ’’صرف محبوب ہی نہ تھے بلکہ لوگوں کے دلوں میں آپؓ کا رعب بھی تھا جیسا کہ اس وقت کا شاعر اس امر کی شعروں میں شہادت دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اے فاسقو! عثمانؓ کی حکومت میں لوگوں کا مال لوٹ کر نہ کھاؤ کیونکہ ابنِ عَفَّانْ وہ ہے جس کا تجربہ تم لوگ کر چکے ہو۔ وہ لٹیروں کو قرآن کے احکام کے ماتحت قتل کرتا ہے اور ہمیشہ سے اس قرآن کریم کے احکام کی حفاظت کرنے والا اور لوگوں کے اعضاء و جوارح پر اس کے احکام جاری کرنے والا ہے۔ لیکن چھ سال کے بعد ساتویں سال ہمیں ایک تحریک نظر آتی ہے اور وہ تحریک حضرت عثمانؓ کے خلاف نہیں بلکہ یا تو صحابہؓ کے خلاف ہے یا بعض گورنروں کے خلاف۔ چنانچہ طبری بیان کرتا ہے کہ لوگوں کے حقوق کا حضرت عثمانؓ پورا خیال رکھتے تھے مگر وہ لوگ جن کو اسلام میں سبقت اور قدامت حاصل نہ تھی وہ سابقین اور قدیم مسلمانوں کے برابر نہ تو مجالس میں عزت پاتے اور نہ حکومت میں ان کو ان کے برابر حصہ ملتا اور نہ مال میں ان کے برابر ان کا حق ہوتا تھا۔ اس پر کچھ مدت کے بعد بعض لوگ اس تفضیل پر گرفت کرنے لگے اور اسے ظلم قرار دینے لگے مگر یہ لوگ عامۃ المسلمین سے ڈرتے بھی تھے اور اس خوف سے کہ لوگ ان کی مخالفت کریں گے اپنے خیالات کو ظاہر نہ کرتے تھے بلکہ انہوں نے یہ طریق اختیار کیا ہوا تھا کہ خفیہ خفیہ صحابہؓ کے خلاف لوگوں میں جوش پھیلاتے تھے اور جب کوئی ناواقف مسلمان یا کوئی بدوی غلام آزاد شدہ مل جاتا تو اس کے سامنے اپنی شکایات کا دفتر کھول بیٹھتے تھے اور اپنی ناواقفیت کی وجہ سے یا خود اپنے لئے حصولِ جاہ کی غرض سے کچھ لوگ ان کے ساتھ مل جاتے۔ ہوتے ہوتے یہ گروہ تعداد میں زیادہ ہونے لگا اور اس کی ایک بڑی تعداد ہو گئی۔‘‘ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ’’جب کوئی فتنہ پیدا ہونا ہوتا ہے تو اس کے اسباب بھی غیر معمولی طور پر جمع ہونے لگتے ہیں۔ اِدھر تو بعض حاسد طبائع میں صحابہؓ کے خلاف جوش پیدا ہونا شروع ہوا اُدھر وہ اسلامی جوش جو ابتداءً ہر ایک مذہب تبدیل کرنے والے کے دل میں ہوتا ہے ان نو مسلموں کے دلوں سے کم ہونے لگا جن کو نہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ملی تھی اور نہ آپؐ کے صحبت یافتہ لوگوں کے پاس زیادہ بیٹھنے کا موقع ملا تھا بلکہ اسلام کے قبول کرتے ہی انہوں نے خیال کر لیا تھا کہ وہ سب کچھ سیکھ گئے ہیں۔ جوشِ اسلام کے کم ہوتے ہی وہ تصرف جو ان کے دلوں پر اسلام کو تھا کم ہو گیا اور وہ پھر ان معاصی میں خوشی محسوس کرنے لگے جس میں وہ اسلام لانے سے پہلے مبتلا تھے۔ ان کے جرائم پر ان کو سزا ملی تو بجائے اصلاح کے سزا دینے والوں کی تخریب کرنے کے درپے ہوئے اور آخر اتحاد اسلامی میں ایک بہت بڑا رخنہ پیدا کرنے کا موجب ثابت ہوئے۔ ان لوگوں کا مرکز تو کوفہ میں تھا مگر سب سے زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ خود مدینہ منورہ میں ایک ایسا واقعہ ہوا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت بعض لوگ اسلام سے ایسے ہی ناواقف تھے جیسے کہ آج کل بعض نہایت تاریک گوشوں میں رہنے والے جاہل لوگ۔

حُمْرَان ابن اَبَانْ ایک شخص تھا جس نے ایک عورت سے اس کی عدت کے دوران میں ہی نکاح کر لیا۔ جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کو اس کا علم ہوا تو آپؓ اس پر ناراض ہوئے اور اس عورت کو اس سے جدا کر دیا اور اس کے علاوہ اس کو مدینہ سے‘‘ اس شخص کو مدینہ سے ’’جلا وطن کر کے بصرہ بھیج دیا۔ اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ کس طرح بعض لوگ صرف اسلام کو قبول کر کے اپنے آپ کو عالمِ اسلام خیال کرنے لگے تھے اور زیادہ تحقیق کی ضرورت نہ سمجھتے تھے یا یہ کہ مختلف اباحتی خیالات کے ماتحت شریعت پر عمل کرنا ایک فعل عبث خیال کرتے تھے۔‘‘

(اسلام میں اختلافات کا آغاز ، انوار العلوم جلد4صفحہ 262-263)

حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ ’’حق یہی ہے کہ یہ سب شورش ایک خفیہ منصوبہ کا نتیجہ تھی جس کے اصل بانی یہودی تھے جن کے ساتھ طمع دنیاوی میں مبتلا بعض مسلمان جو دین سے نکل چکے تھے شامل ہوگئے تھے ورنہ امراء بلاد کا نہ کوئی قصور تھا نہ وہ اس فتنہ کے باعث تھے۔‘‘ بعض یہودی اس کے بانی تھے اور ان کے ساتھ بعض مسلمان بھی مل گئے تھے۔ بہرحال جو مختلف امراء حضرت عثمانؓ کی طرف سے مقرر کئے گئے تھے ان کا کوئی قصور نہیں تھا نہ ہی وہ اس فتنہ کا باعث بنے تھے۔ ’’ان کا صرف اسی قدر قصور تھا کہ ان کو حضرت عثمانؓ نے اس کام کے لئے مقرر کیا تھا اور حضرت عثمانؓ کا یہ قصور تھا کہ باوجود پیرانہ سالی اور نقاہتِ بدنی کے اتحاد اسلام کی رسی کو اپنے ہاتھوں میں پکڑے بیٹھے تھے اور امّتِ اسلامیہ کا بوجھ اپنی گردن پر اٹھائے ہوئے تھے اور شریعتِ اسلام کے قیام کی فکر رکھتے تھے اور متمردین اور ظالموں کو اپنی حسب خواہش کمزوروں اور بے وارثوں پر ظلم و تعدی کرنے نہ دیتے تھے۔ چنانچہ اس امر کی تصدیق اس واقعہ سے بھی ہوتی ہے کہ کوفہ میں انہی فساد چاہنے والوں کی ایک مجلس بیٹھی اور اس میں افساد امر المسلمین پر گفتگو ہوئی تو سب لوگوں نے بالاتفاق یہی رائے دی۔ لَاوَاللّٰہِ لَا یَرْ فَعُ رَأْسٌ مَا دَامَ عُثْمَانُ عَلَی النَّاسِ یعنی کوئی شخص اس وقت تک سر نہیں اٹھا سکتا جب تک کہ عثمانؓ کی حکومت ہے۔ عثمانؓ ہی کا ایک وجود تھا جو سرکشی سے باز رکھے ہوئے تھا۔ اس کا درمیان سے ہٹانا آزادی سے اپنی مرادیں پوری کرنے کے لئے ضروری تھا۔‘‘

(اسلام میں اختلافات کا آغاز ، انوار العلوم جلد4صفحہ 282-283)

اس فتنہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود ؓ مزید بیان فرماتے ہیں کہ آپؓ نے ان مفسدوں کو بھی بلوایا اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کو بھی جمع کیا۔ جب سب لوگ جمع ہو گئے تو آپؓ نے ان لوگوں کا سب حال سنایا اور وہ دونوں مخبر بھی بطور گواہ کھڑے ہوئے اور گواہی دی جنہوں نے خبریں حضرت عثمانؓ کو پہنچائی تھیں کہ مفسدین کیا فساد پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس پر سب صحابہ نے فتویٰ دیا کہ ان لوگوں کو قتل کر دیا جائے۔ یہ جومفسدین ہیں جو اصلاح کے نام پر فساد پھیلا رہے ہیں ان کو قتل کر دیجیے کیونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ جو شخص ایسے وقت میں کہ ایک امام موجود ہو اپنی اطاعت یا کسی اَور کی اطاعت کے لیے لوگوں کو بلاوے اس پر خدا کی لعنت ہو۔ تم ایسے شخص کو قتل کر دو خواہ کوئی ہو۔یہ مسلم کی روایت ہے۔ اور حضرت عمرؓ کا یہ قول یاد دلایا کہ میں تمہارے لیے کسی ایسے شخص کا قتل جائز نہیں سمجھتا جس میں مَیں شریک نہ ہوں۔ یعنی سوائے حکومت کے اشارے کے کسی شخص کا قتل جائز نہیں۔ حضرت عثمانؓ نے صحابہ کا یہ فتویٰ سن کر فرمایا کہ نہیں۔ ہم ان کو معاف کریں گے اور ان کے عذروں کو قبول کریں گے اور اپنی ساری کوشش سے ان کو سمجھاویں گے اور کسی شخص کی مخالفت نہیں کریں گے جب تک کہ وہ کسی حد شرعی کو نہ توڑے یا اظہار کفر نہ کرے۔ پھر فرمایا کہ ان لوگوں نے کچھ باتیں بیان کی ہیں جو تم کو بھی معلوم ہیں مگر ان کا خیال ہے کہ وہ ان باتوں کے متعلق مجھ سے بحث کریں گے تا کہ واپس جا کر کہہ سکیں کہ ہم نے ان امور کے متعلق عثمان سے بحث کی اور وہ ہار گئے۔ یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس نے سفر میں یعنی حضرت عثمانؓ کے بارے میں کہتے ہیں کہ اس نے سفر میں پوری نماز ادا کی۔ ایک سفر کے دوران میں مکہ میں پوری نماز ادا کی حالانکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر میں نماز قصر کیا کرتے تھے۔ حضرت عثمانؓ کہتے ہیں مگر میں نے صرف منیٰ میں پوری نماز پڑھی ہے اور وہ بھی دو وجہ سے۔ ایک تو یہ کہ میری وہاں جائیداد تھی اور میں نے وہاں شادی کی ہوئی تھی۔ دوسرے یہ کہ مجھے معلوم ہوا تھا کہ چاروں طرف سے لوگ ان دنوں حج کے لیے آئے ہیں۔ ان میں سے ناواقف لوگ کہنے لگیں گے کہ خلیفہ تو دو رکعت پڑھتا ہے اور اس لیے نماز دو رکعت ہی ہوگی۔ کیا یہ بات درست نہیں؟ حضرت عثمانؓ نے صحابہؓ سے پوچھا کیا یہ بات درست نہیں؟ صحابہؓ نے جواب دیا کہ ہاں درست ہے۔ پھر حضرت عثمانؓ نے فرمایا: دوسرا الزام یہ لگاتے ہیں کہ میں نے رَکھ مقرر کرنے کی بدعت جاری کی ہے حالانکہ یہ الزام غلط ہے۔ رَکھ مجھ سے پہلے مقرر کی گئی تھی۔ حضرت عمرؓ نے اس کی ابتدا کی تھی اور میں نے صرف صدقہ کے اونٹوں کی زیادتی پر اس کو وسیع کیا تھا۔ جو سرکاری چراگاہ تھی جہاں جانور رکھے جاتے تھے اس کو وسیع کیا تھا اور پھر رَکھ میں جو زمین لگائی گئی ہے وہ کسی کا مال نہیں ہے۔ یہ سرکاری زمین تھی اور میرا اس میں کوئی فائدہ بھی نہیں ہے۔ میرے تو صرف دو اونٹ ہیں حالانکہ جب میں خلیفہ منتخب ہوا تھا اس وقت میں سب عرب سے زیادہ مالدار تھا۔ تو حضرت عثمانؓ نے کہا اس وقت میرے پاس صرف دو اونٹ ہیں اور میں سب سے زیادہ مالدار تھا جب خلیفہ منتخب ہوا ہوں۔ اب صرف دو اونٹ ہیں جو حج کے لیے رکھے ہوئے ہیں۔ کیا یہ درست نہیں ہے؟ صحابہؓ نے عرض کیا کہ ہاں درست ہے۔ پھر حضرت عثمانؓ نے فرمایا کہ یہ کہتے ہیں کہ نوجوانوں کو حاکم بناتا ہے حالانکہ میں ایسے ہی لوگوں کو حاکم بناتا ہوں جو نیک صفات، نیک اطوار ہوتے ہیں اور مجھ سے پہلے بزرگوں نے میرے مقرر کردہ والیوں سے زیادہ نو عمر لوگوں کو حاکم مقرر کیا تھا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر اسامہ بن زید کے سردار ِلشکر مقرر کرنے پر اس سے زیادہ اعتراض کیے گئے تھے جو اَب مجھ پر کیے جاتے ہیں۔ کیا یہ درست نہیں؟ صحابہؓ نے عرض کیا کہ ہاں درست ہے۔ پھر حضرت عثمانؓ نے فرمایا کہ یہ لوگوں کے سامنے عیب تو بیان کرتے ہیں مگر اصل واقعات نہیں بیان کرتے۔ غرض اسی طرح حضرت عثمانؓ نے تمام اعتراضات ایک ایک کر کے بیان کیے اور ان کے جواب بیان کیے ۔صحابہؓ برابر زور دیتے کہ ان مفسدین کو قتل کر دیا جائےمگر حضرت عثمانؓ نے ان کی یہ بات نہ مانی اور ان کو چھوڑ دیا۔ طبری کہتا ہے کہ اَبَی الْمُسْلِمُوْنَ اِلَّا قَتْلَھُمْ وَ اَبٰی اِلَّا تَرْکَھُمْ یعنی باقی سب مسلمان تو ان لوگوں کے قتل کے سوا کسی بات پر راضی نہ ہوتے تھے مگر حضرت عثمانؓ سزا دینے پر کسی طرح راضی نہ ہوتے تھے۔

اس واقعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ مفسد لوگ کس کس قسم کے فریب اور دھوکے سے کام کرتے تھے اور اس زمانے میں جبکہ پریس اور سامانِ سفر کا وہ انتظام نہ تھا جو آج کل ہے ۔کیسا آسان تھا کہ یہ لوگ ناواقف لوگوں کو گمراہ کر دیں۔ اصل میں ان لوگوں کے پاس کوئی معقول وجہ فساد کی نہیں تھی۔ نہ حق ان کے ساتھ تھا نہ یہ حق کے ساتھ تھے۔ ان کی تمام کارروائیوں کا دارومدار جھوٹ اور باطل پر تھا اور صرف حضرت عثمانؓ کا رحم ان کو بچائے ہوئے تھا ورنہ مسلمان ان کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیتے۔ وہ یعنی صحابہؓ کبھی برداشت نہیں کر سکتے تھے اور جو پرانے مسلمان تھے یہ برداشت نہیں کر سکتے تھے کہ وہ امن و امان جو انہوں نے اپنی جانیں قربان کر کے حاصل کیا تھا چند شریروں کی شرارتوں سے اس طرح جاتا رہے اور وہ دیکھتے تھے کہ ایسے لوگوں کو جلد سزا نہ دی گئی تو اسلامی حکومت تہ و بالا ہو جائے گی مگر حضرت عثمانؓ رحم مجسم تھے۔ وہ چاہتے تھے کہ جس طرح ہو ان لوگوں کو ہدایت مل جائے اور یہ کفر پر نہ مریں۔ پس آپؓ ڈھیل دیتے تھے اور ان کے صریح بغاوت کے اعمال کو محض ارادہ بغاوت سے تعبیر کر کے سزا کو پیچھے ڈالتے چلے جاتے تھے۔

اس واقعہ سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ ان لوگوں سے بالکل متنفر تھے کیونکہ اول تو خود وہ بیان کرتے ہیں کہ صرف تین اہل مدینہ ہمارے ساتھ ہیں یعنی مفسدین نے صرف تین اہل مدینہ کا نام لیا جو اُن کے ساتھ تھے اس سے زیادہ نہیں۔ اگر اَور صحابہ بھی ان کے ساتھ ہوتے تو وہ ان کا نام بھی لیتے۔ دوسرے صحابہؓ نے اپنے عمل سے یہ بھی ثابت کر دیا کہ وہ ان لوگوں کے افعال سے متنفر تھے اور ان کے اعمال کو ایسا خلاف شریعت سمجھتے تھے کہ سزا قتل سے کم ان کے نزدیک جائز ہی نہ تھی۔ اگر صحابہ ان کے ساتھ ہوتے یا اہل مدینہ ان کے ہم خیال ہوتے تو کسی مزید حیلہ و بہانہ کی ان لوگوں کو کوئی ضرورت ہی نہ تھی۔ اسی وقت وہ لوگ حضرت عثمانؓ کو قتل کر دیتے اگر مدینہ والے بہت سارے ان کے ساتھ ہوتے اور ان کی جگہ کسی اَور شخص کو خلافت کے لیے منتخب کر لیتے ۔مگر ہم دیکھتے ہیں کہ بجائے اس کے کہ یہ لوگ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل میں کامیاب ہوتے خود ان کی جانیں صحابہ کی شمشیر ہائے برہنہ سے خطرے میں پڑ گئی تھیں اور صرف اسی رحیم و کریم وجود کی عنایت و مہربانی سے یہ لوگ بچ کر واپس جا سکے جس کے قتل کا ارادہ ظاہر کرتے تھے اور جس کے خلاف اس قدر فساد برپا کر رہے تھے۔ ان مفسدوں کی کینہ وری اور تقویٰ سے بُعد پر تعجب آتا ہے۔ اس واقعہ سے انہوں نے کچھ بھی فائدہ نہیں اٹھایا۔ ان کے ایک ایک اعتراض کا خوب جواب دیا گیا اور سب الزام غلط اور بے بنیاد ثابت کر دیے گئے۔ حضرت عثمانؓ کا رحم و کرم انہوں نے دیکھا اور ہر ایک شخص کی جان اس پر گواہی دے رہی تھی کہ اس شخص کا مثیل اتنا رحم کرنے والا اس وقت دنیا کے پردے پر نہیں مل سکتا مگر بجائے اس کے کہ اپنے گناہوں سے توبہ کرتے، جفاؤں پر پشیمان ہوتے، اپنی غلطیوں پر نادم ہوتے، اپنی شرارتوں سے رجوع کرتے۔ یہ لوگ غیظ و غضب کی آگ میں اَور بھی زیادہ جلنے لگے اور اپنے لاجواب ہونے کو اپنی ذلت اور حضرت عثمانؓ کے عفو اور اپنے حسنِ تدبیر کا نتیجہ سمجھتے ہوئے آئندہ کے لئے اپنی بقیہ تجویز کے پورے کرنے کی تدابیر سوچتے ہوئے یہ لوگ واپس چلے گئے۔

(ماخوذ از اسلام میں اختلافات کا آغاز ، انوار العلوم جلد4صفحہ 293تا296)

یہ سلسلہ ابھی جاری ہے۔ آئندہ ان شاء اللہ (بیان) ہوگا۔

اس وقت میں کچھ مرحومین کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جن کی گذشتہ دنوں وفات ہوئی ہے۔ ان میں سب سے پہلے تو ایک شہید ہیں عبدالقادر صاحب ابن بشیر احمدصاحب بازید خیل پشاور کے۔ ان کو 11؍ فروری کو شہید کیا گیا تھا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

تفصیلات کے مطابق عبدالقادر صاحب اپنے چچا مرحوم ڈاکٹر منظور احمد صاحب کے کلینک واقع بازید خیل پشاور پر کام کرتے تھے۔ شہید مرحوم دیگر احباب جماعت کے ہمراہ جو کلینک پر موجود تھے، ایک کمرے میں نماز ظہر کے لیے جمع تھے کہ مریضوں کی سائیڈ سے کمرے کی bell ہوئی جس پر عبدالقادر صاحب نے دروازہ کھولا تو مریض کے روپ میں وہاں موجود لڑکے نے ان پر فائرنگ کر دی جس سے وہ شدید زخمی ہو گئے۔ سینے میں دو گولیاں لگیں۔ فوری طورپر ہسپتال لے جایا گیا جہاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے عبدالقادر صاحب شہید ہو گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ شہید مرحوم کی عمر 65 سال تھی۔ بہرحال پولیس نے پکڑ لیا یا لوگوں نے قاتل کوپکڑ کر پولیس کے سپرد کر دیا ۔ شہید مرحوم کی فیملی کو دیگر احمدی فیملیز کے ہمراہ عرصے سے شدید مخالفانہ حالات کا سامنا تھا۔ 19؍ جنوری 2009ء کو مذہبی انتہا پسندوں نے اسی کلینک پر حملہ کر دیا تھا جس کے نتیجہ میں مکرم عبدالقادر صاحب کی ٹانگ میں گولی لگی تھی جس کی بنا پر پشاور سے ہجرت پر مجبور ہوئے تھے اور عرصہ کے بعد پشاور جا کر رہائش پذیر ہو سکے تھے۔ حالیہ مخالفانہ لہر کے نتیجہ میں تقریباً دو ماہ پہلے دوبارہ جماعت کی ہدایت کے نتیجہ میں ربوہ ہجرت پر مجبور ہوئے۔ ان کی فیملی اب ربوہ میں ہی مقیم ہے۔ تاہم شہید مرحوم خود بسلسلہ ملازمت بازید خیل میں مذکورہ کلینک پر چلے گئے اور وہیں رہائش پذیر تھے۔

شہید مرحوم کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ ان کے دادا مکرم نظام الدین احمد کے ذریعہ ہوا جنہوں نے خلافت اولیٰ کے دور میں بیعت کر کے احمدیت میں شمولیت کی سعادت پائی۔ ان کے دادا کےدو بڑے بھائی تھے۔ ڈاکٹر فتح دین صاحب سول سرجن پشاور اور انجنیئر عبداللطیف صاحب۔ ڈاکٹر فتح دین صاحب نے زمانہ طالب علمی میں 1902ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعویٰ کی خبر سن کر قادیان جا کر زیارت کی تھی۔ حضور علیہ السلام نے ازراہ شفقت ان پر دست شفقت بھی رکھا تھا اور فرمایا تھا کہ بہت اچھا بچہ ہے تاہم یہ بیعت نہ کر سکے۔ بعد میں یہ یہاں یوکے میں سکالر شپ پر آئے۔ یہاں ڈاکٹری کی اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔ پھر انہوں نے 1908ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی وفات کی خبر سن کر قادیان جا کر خلافتِ اولیٰ کے دَور میں بیعت کی۔ ان کے دادا کے دوسرے بھائی عبداللطیف صاحب انجنیئر تھے انہوں نے بھی خلافتِ اولیٰ کے دَور میں اپنے بھائی کے ہمراہ ہی بیعت کی۔ دونوں بھائیوں کی تحریک پر خاندان کے دیگر افراد جن میں شہید مرحوم کے دادا بھی شامل تھے کچھ عرصہ بعد بیعت کر کے احمدیت میں شامل ہوئے۔

شہید مرحوم بے شمار خصوصیات کے حامل تھے۔ خلافت سے بے انتہا محبت تھی۔ جماعتی عہدیداران سے انتہائی عقیدت کا تعلق تھا۔ دعوت الی اللہ کا بہت شوق تھا۔ اس کی وجہ سے مخالفانہ حالات کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ ان مخالفانہ حالات کی وجہ سے گذشتہ دو سالوں میں سات مرتبہ گھر تبدیل کیا مگر بفضلہ تعالیٰ احمدیت پر قائم رہے۔ تہجد اور نمازوں کے علاوہ تلاوت قرآن کریم کے سختی سے پابند تھے۔ نہایت شفیق اور ملنسار تھے۔ زندگی بھر کبھی کسی سے جھگڑا نہیں کیا۔ ان کی اہلیہ نے بتایا کہ زندگی میں متعدد مرتبہ نشیب و فراز آئے لیکن انہوں نے کبھی بھی جارحانہ رویہ اختیار نہیں کیا اور میں جب ان سے سختی میں کوئی بات کر لیتی تو وہ پھر بھی ہمیشہ نرمی سے جواب دیتے۔ بچوں سے ہمیشہ شفقت اور محبت کا سلوک رکھا۔ شہادت کی بڑی شدت سے خواہش تھی۔ ہمیشہ کہتے اگر کبھی آزمائش کا وقت آیا تو خلافت احمدیہ سے دُوری کے بجائے موت کو ترجیح دوں گا۔ پھر یہ لکھتی ہیں کہ نمازوں کی ادائیگی کا یہ رنگ تھا کہ گھر والے ان کو بعض دفعہ سجدے کی حالت میں چھو کر دیکھا کرتے تھے کہ خدانخواستہ سجدے میں کہیں کچھ ہو تو نہیں گیا، لمبا سجدے میں پڑے ہوئے ہیں۔ شہید مرحوم کو بازید خیل میں منتظم تربیت کی حیثیت سے بھی جماعت کی خدمت کی توفیق ملی۔ شہید مرحوم کے پسماندگان میں اہلیہ ساجدہ قادر صاحبہ کے علاوہ چار بیٹے شامل ہیں اور پانچ بیٹیاں۔ اللہ تعالیٰ شہید مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور پسماندگان کا بھی خود حامی و ناصر ہو۔ ان کے بچوں کو بھی ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

دوسرا جنازہ اکبر علی صاحب اسیرِ راہ مولیٰ کا ہےجو ابراہیم صاحب کے بیٹے تھے۔ شوکت آباد کالونی ضلع ننکانہ کے رہنے والے تھے۔ اکبر علی صاحب اسیر راہ مولیٰ شیخو پورہ جیل میں 16؍ فروری 2021ء کو بوجہ ہارٹ اٹیک وفات پا گئے۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔

ان کے دو ساتھی اَور تھے۔ 2؍ مئی 2020ء کو ان کے خلاف مقدمہ درج ہوا تھا اور ہائی کورٹ میں اکتوبر میں ضمانت کی confirmationکی تاریخ پر عدالت نے ان کی جو عبوری ضمانت تھی منسوخ کر دی اور گرفتاری کا حکم دیا۔ بہرحال یہ تینوں ساتھی گرفتار ہوئے۔ پھر مجسٹریٹ ننکانہ صاحب نے ایک درخواست پر یکطرفہ سماعت کے بعد ہمارا موقِف سنے بغیر جنوری 2021ء کو 295cکا اضافہ کر دیا جو ایک اَور خطرناک دفعہ ہے۔ بہرحال مرحوم ساڑھے چار ماہ سے حالت اسیری میں تھے۔ بوقت وفات ان کی عمر 55 سال تھی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے نظام وصیت میں شامل تھے۔

مرحوم کے خاندان میں احمدیت کا نفوذ ان کے والد مکرم ابراہیم صاحب کے ذریعہ سے ہوا جنہوں نے اپنے بھائی مکرم میاں اسماعیل صاحب کے ہمراہ 1920ء میںخلافت ثانیہ کے دور میں بیعت کی تھی۔ اکبر علی صاحب فوج میں بھرتی ہوئے۔ تئیس سال فوج میں بحیثیت حوالدار خدمت کی۔ سولہ سال پہلے فوج سے ریٹائرڈ ہوئے اور اس کے بعد سیکیورٹی گارڈ کاکام کرتے رہے۔ بہت ذمہ دار اور بہادر انسان تھے۔ اسیری سے قبل بینک کے سیکیورٹی گارڈ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ اس بینک کے مینیجر کو ایک مخالف نے شکایت کی کہ اکبر علی کو آپ نے ملازمت دے رکھی ہے یہ تو کافر ہے۔ بینک مینیجر نے جواباً کہا کہ میں ہر صبح آکے ریکارڈنگ دیکھتا ہوں۔ سی سی ٹی وی کیمرے کی ریکارڈنگ چیک کرتا ہوں۔اکبر علی رات کو نفل ادا کرتے ہیں۔ تلاوت کرتے ہیں۔ رمضان کے روزے رکھتے ہیں۔ یہ شخص کافر کیسے ہو سکتا ہے؟ بہرحال کوئی بڑا جرأت مند مینیجر تھا۔ مرحوم کو بحیثیت صدر جماعت چھ سال خدمت کی توفیق ملی۔ اسیری سے قبل بحیثیت سیکرٹری مال خدمت کی توفیق پا رہے تھے۔ غریبوں کے ہمدرد، مہمان نوازی کے علاوہ خاندان کے سب افراد سے باہمی محبت کا تعلق تھا۔ دعوت الی اللہ کا بہت شوق تھا۔ ہمیشہ مدلل انداز میں بات کرتے جس کی وجہ سے مخالفانہ حالات کا سامنا رہا۔ سیکیورٹی گارڈ کی ملازمت بھی مخالفت کی وجہ سے چھوڑنا پڑی۔ پسماندگان میں دو بیوگان زینت بی بی صاحبہ اور فضیلت بی بی صاحبہ ہیں۔ اس کے علاوہ ایک بیٹا ہے انیس سال کا اور ایک بیٹی ہے سولہ سال کی۔ اللہ تعالیٰ ان سے مغفرت اور رحمت کا سلوک فرمائے اور درجات بلند فرمائے۔ ان کی اولاد کا بھی حافظ و ناصر ہو اور ان کو ان کی نیکیوں پر بھی چلنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اگلا ذکر خالد محمود الحسن بھٹی صاحب کا ہے جو آج کل ربوہ میں تحریک جدید میں وکیل المال ثالث تھے۔ اسی طرح نائب صدر انصار اللہ بھی تھے اور نائب افسر جلسہ سالانہ بھی تھے۔ طاہر ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں 67سال کی عمر میں ان کی وفات ہوئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ان کے دادا بابل خان بھٹی صاحب نے احمدیت قبول کی تھی لیکن خالد محمود الحسن بھٹی کے والد جو تھے انہوں نے احمدیت قبول نہیں کی تھی۔ ان کو شرح صدر نہیں تھی۔ والد نے کرلی تھی۔ بیٹے نے نہیں کی تھی۔ بہرحال کہتے ہیں ان کا ڈیرا تھا، زمیندارہ کرتے تھے۔ ایک دن ڈیرے پر بیٹھے ہوئے تھے تو خالد محمود کے والد بھی وہیں چادر تان کر لیٹے ہوئے تھے تو وہ غیر احمدی مولوی جس کی مسجد میں ان کے والد نماز پڑھنے جایا کرتے تھے اس کا وہاں سے گزر ہوا تو وہ بھی بیٹھ گیا اور گفتگو کا موضوع احمدیت کی طرف چل پڑا تو باتوں باتوں میں مولوی نے یہ اقرار کر لیا کہ درحقیقت احمدیت سچی ہے۔ اس پر ان کے والد نے فوراً اپنے منہ سے چادر ہٹائی اور اٹھ کر بیٹھ گئے اور کہا کہ اگر احمدیت سچی ہے تو پھر ہمیں گمراہ کیوں کرتے ہو؟ کہتے ہیں اب جو تُو نے مجھے گمراہ کیا کہ احمدیت جھوٹی ہے اور اسے قبول نہ کرو اور اپنے والد کے پیچھے نہ چل پڑو تو بہرحال سن لو کہ پھر جدھر سچائی ہے آج سے مَیں بھی ادھر ہی ہوں۔ پھر انہوں نے جا کر حضرت مصلح موعوؓد کے ہاتھ پر بیعت کر لی۔ خالد محمود الحسن بھٹی صاحب نے پنجاب یونیورسٹی سے بی اے کے بعد 1978ء میں پولیٹیکل سائنس میں اور 1980ء میں ہسٹری میں ایم اے کیا۔ پھر دو سال بطور لیکچرر گورنمنٹ سروس کی۔ پھر دو سال کے بعد استعفیٰ دیا۔ 1982ء میں اپنی زندگی وقف کر دی۔ مختلف حیثیتوں سے قریباً 38سال تک جماعت کی خدمت کی توفیق ملی۔ 1982ء میں ان کا تقرر وکالت تعمیل و تنفیذ میں ہوا تھا۔ پھرآپ نائب وکیل بھی رہے۔ پھر وکیل الدیوان مقرر ہوئے۔ پھر آپ وکیل المال ثالث تھے۔ پھر انڈونیشیا، سنگا پور، برما ،سری لنکا ،نیپال، یوگنڈا وغیرہ کے دورہ جات کرنے کی بھی ان کو توفیق ملی۔ جہاں بھی دوروں پر جاتے تھے بڑی گہرائی سے جا کے سارے جائزے لیتے تھے اور ان کی رہنمائی کرتے تھے اور ان جماعتوں میں جہاں یہ گئے ہیں خاص طور پر برما میں اور سری لنکا میں تو بہت کچھ ان جماعتوں نے سیکھا ہے اور وہاں کے لوگ اس کا اقرار بھی کرتے ہیں۔ کئی مجھے خط لکھ رہے ہیں کہ ہم نے بہت کچھ سیکھا اور نظام کے بارے میں صحیح آگاہی بھٹی صاحب نے ہمیں دی اور خلافت سے تعلق کو جوڑنے میں بہت کردار ادا کیا۔ پھر اسی طرح خدام الاحمدیہ کی مرکزی عاملہ اور انصار اللہ کی مرکزی عاملہ میں بھی رہے اور مختلف کمیٹیوں کے ممبر بھی رہے۔ قضا بورڈ کے ممبر بھی رہے۔ ان کی اہلیہ نصرت ناہید صاحبہ ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے دو بیٹیوں اور ایک بیٹے سے نوازا۔ ایک بیٹا خرم عثمان یہاں یوکے میں ہمارے ایم ٹی اے میں کام کر رہا ہے۔ واقف زندگی ہے۔

ان کی اہلیہ صاحبہ کہتی ہیں کہ ایم اے پولیٹیکل سائنس کرنے کے بعد اپنے والد سے انہوں نے کہا کہ میں ایم اے ہسٹری بھی کرنا چاہتا ہوں تو انہوں نے کہا کہ جتنا مرضی چاہے پڑھ لو لیکن یاد رکھو کہ اگر نوکری کرنی ہے تو پھر جماعت کی کرنا۔ کہتی ہیں 43سالہ شادی کا عرصہ ہے اس میں ہمیشہ شفقت کا سلوک رہا۔ جب بھی دوروں سے واپس آتے ہمیشہ واقعات سناتے کہ اللہ تعالیٰ نے کس طرح ان کے ساتھ پیار کا سلوک کیا۔ بچوں کے لیے شفیق باپ تھے۔ ہر بچے کی جائز خواہش پوری کرنے کی کوشش کرتے۔ ان کی بڑی بیٹی ڈاکٹر صائمہ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ میں نے ویزا اپلائی کیا تھا۔ دو دفعہ ریجیکٹ ہو گیا تھا۔ تیسری دفعہ پھر میں نے اپلائی کیا تو بھٹی صاحب دورے پر باہر جا رہے تھے تو اس نے کہا کہ آپ چند دن آگے کر لیں کیونکہ ویزے کی تاریخ آ رہی ہے ایمبیسی جانا ہے۔ تو انہوں نے کہا یہ نہیں ہو سکتا۔ تم اکیلی جاؤ کیونکہ میں خدا تعالیٰ کی خاطر یہ سفر کر رہا ہوں، اللہ تعالیٰ فضل کرے گا ۔اور اس دفعہ پھر اس بچی کا ویزا بھی لگ گیا۔ پھر چھوٹی بیٹی کہتی ہیں کہ بڑے نرم دل باپ تھے۔ بہت نرمی سے پیش آتے۔ کبھی ہمیں ڈانٹا نہیں۔ بڑے پیار سے سمجھاتے تھے۔ جماعتی کام کو ہمیشہ فوقیت دیتے۔ گھر کا چاہے کتنا ہی ضروری کام ہوتا پہلے دفتر کے کام نپٹاتے پھر گھر آتے۔ ہر وقت جماعتی خدمت کے لیے تیار رہتے۔ محبت اور لگن سے جماعتی کام کرتے۔ دین کو دنیا پر فوقیت دیتے۔ اور یہ تو میں نے بھی دیکھا ہے کہ بڑی محنت سے کام کرنے والے تھے اور بڑی وفا سے اور وقف کی روح کو قائم رکھتے ہوئے انہوں نے ہمیشہ خدمت کی ہے۔ ایک بیٹی کہتی ہے کہ جب بھی کوئی مشکل وقت آیا ہمیشہ ہمیں اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنے کی تلقین کی اور یہی کہتے تھے کہ اللہ نہیں چھوڑے گا اور کبھی اللہ تعالیٰ نے پھر چھوڑا بھی نہیں۔ ان کے بیٹے کہتے ہیں کہ جب سے ہم نے ہوش سنبھالا ہے ان کو جماعت کی خدمت کرتے ہی دیکھا ہے۔ جب بھی کوئی مشکل آتی یا آزمائش آتی تو ہمیشہ یہی کہتے کہ میں کیونکہ دین کی خدمت کر رہا ہوں، اللہ تعالیٰ کا کام کر رہا ہوں اللہ میرے کام کر دے گا اور اللہ پھر اپنا فضل بھی فرماتا اور ان کے کام بھی آسان ہو جاتے۔ حقیقی طور پر انہوں نے وقف کی روح کو قائم کیا لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہتا ہے کہ جماعتی مصروفیات کے باوجود گھر کے تمام فرائض میں کبھی کوتاہی نہیں کی۔ ہر ایک چیز کی مکمل دیکھ بھال خود کیا کرتے تھے۔

لئیق عابد صاحب تحریک جدید میں مشیر قانونی ہیں کہتے ہیں 38سال سے ان کے ساتھ ہوں۔ جماعتی روایات کے امین اور ان کا پاس رکھنے والے تھے۔ بہت سی خوبیوں میں سے ایک یہ بھی ان کی خوبی تھی کہ بڑی باریکی سے جماعتی اموال کی حفاظت کرنا بھی بہت ضروری سمجھتے تھے۔ ان کے ایک کلاس فیلو محمد ادریس صاحب کہتے ہیں کہ وقف کے بعد وہ خاموش سا خالد ایک منفرد شخصیت بن کے ابھرا۔ خلافت سے محبت شاید اس کے انگ انگ میں سرایت کر چکی تھی۔ خلیفۂ وقت کی اطاعت اس کا اوڑھنا بچھونا بن گئی تھی۔ ہر وقت دینی خدمت میں محو رہنا اس کی محبوب غذا بن چکی تھی۔ وکالت مال ثالث کے ایک کارکن ہیں وہ کہتے ہیں کہ دفتر میں جو بھی ڈاک آتی اس کو پینڈنگ (pending)نہیں کرتے تھے۔ فوری کارروائی کرتے اور ہمیں ہدایت تھی کہ آج کا کام آج ہی کریں۔ زندگی کا تو پتہ کوئی نہیں ،کل موقع ملتا ہے یا نہیں۔ بہرحال جیسا کہ میں نے کہا پاکستان میں بھی اور بیرون ملک جہاں بھی گئے بڑا اچھا اثر قائم کیا اور خدمت کے جذبے سے کام کیا اور بڑی وفا سے اپنے وقف کو نبھایا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند کرے۔ ان کی اولاد کو بھی ان کی نیکیوں کو جاری رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

اگلا ذکر مکرم مبارک احمد طاہر صاحب مشیر قانونی صدر انجمن احمدیہ کا ہے۔ ان کی 17؍ فروری کو طاہر ہارٹ انسٹی ٹیوٹ میں 81 سال کی عمر میں وفات ہوئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّآ اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔ ان کے ہاں خاندان میں احمدیت ان کے والد محترم صوفی غلام محمدصاحب کے ذریعہ 1927ء میں آئی تھی۔ جب ان کو قادیان میں جماعت کے قیام کا علم ہوا تو اپنے عزیزوں کے ساتھ فیصلہ کیا کہ قادیان جا کے دیکھا جائے۔ چنانچہ 1926ء میں تھرپارکر سندھ سے قادیان میں جلسہ میں شامل ہونے کے لیے گئے اور حضرت مصلح موعودؓ اور جماعت سے بڑے متاثر ہوئے لیکن بیعت نہیں کی۔ اگلے سال پھر انہوں نے ارادہ کیا لیکن باقی دوستوں نے انکار کر دیا۔ بہرحال یہ اگلے سال 1927ء میں جب گئے تو وہاں جا کر جلسہ سنا اور اس کے بعد بیعت کر لی۔ اس وقت ان کی عمر 28سال تھی۔ ان کا جو گاؤں ہے کٹر اہل حدیث تھا۔ بڑی مخالفت ہوئی۔ سسرال والوں نے ان کی بیوی کو یہ کہہ کر واپس بلا لیا کہ یہ کافر ہو گیا ہے لیکن بہرحال کچھ عرصہ بعد بیوی نے کہا کہ میں نے اس کو دیکھ لیا ہے کہ کافر ہونے کے بعد تو پہلے سے زیادہ مسلمان ہو گیا تھا۔تو یہ واپس آ گئیں اور کہا میں نہیں سمجھتی ان سے علیحدہ رہنے کی کوئی وجہ ہو۔ بہرحال پورے گاؤں نے اس فیملی کا بائیکاٹ کر دیا یہاں تک کہ گاؤں میں پانی لینے کے لیے کنواں تھا اس کنویں پر پانی بھی بند کر دیا۔ کئی میل دور جا کر پانی لانا پڑتا تھا۔ کہتے ہیں کچھ ہفتے گزرے تھے کہ گاؤں والوں کےاس کنویں کا پانی خشک ہو گیا اور پھر گاؤں والوں کو خیال آیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم نے صوفی صاحب کا پانی بند کیا تھا اس لیے ہمارے گاؤں کا پانی بند ہو گیا ہے۔ اس کے بعد دوبارہ کنواں تیار کرنے لگے تو ان کے پاس آئے کہ آپ سب سے پہلے اپنا چندہ ڈالیں کیونکہ آپ اس میں پیسے ڈالیں گے تو کنویں سے پانی بھی نکلے گا اور جاری بھی رہے گا۔ بہرحال رشتہ داروں نے احمدیت قبول تو نہیں کی لیکن اس واقعہ کے بعد ان کی مخالفت بند کر دی۔

ان کی اہلیہ راشدہ پروین صاحبہ ہیں اور اللہ تعالیٰ نے ان کو چار بیٹوں اور دو بیٹیوں سے نوازا۔ ایک بیٹے حافظ اعجاز احمد طاہر یہیں اسلام آباد میں ہیں۔ مربی سلسلہ ہیں۔ جامعہ احمدیہ یوکے میں پڑھاتے ہیں۔ دوسرے بیٹے نصر احمد طاہر واقف زندگی ہیں۔ ریویو آف ریلیجنز کینیڈا میں کام کر رہے ہیں۔

مکرم مبارک طاہر صاحب نے 1968ء میں ایم اے اکنامکس کیا۔ پھر 1969ء میں ایل ایل بی کی ڈگری حاصل کی اور پھر جنوری 1970ء ان کا وقف منظور ہوا اور وکالت علیاءمیں بطور محرر درجہ اول ان کا تقرر ہوا۔ پھر ان کو 5؍فروری 1971ء کو بطور ٹیچر یوگنڈا بھجوا دیا گیا۔ 1972ء میں ان کی واپسی ہوئی۔ وہاں سے پھر وکالت مال ثانی میں کچھ کام کی توفیق ملی۔ پھر حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ نے 1976ء میں آپ کو لاہور میں مختلف وکلاء کے ساتھ انکم ٹیکس اور جائیداد کے کام کی ٹریننگ دلوائی۔ بار کونسل میںenrolبھی ہوئے۔ 1970ء میں آپ تحریک جدید کے مشیر قانونی مقرر ہوئے۔ یکم جولائی 1983ء کو خلیفة المسیح الرابعؒ نے ان کو اس کے ساتھ مشیر قانونی صدر انجمن احمدیہ بھی مقرر فرمایا۔ تاوفات اسی خدمت پر مامور تھے۔ ان کا عرصۂ خدمت پچاس سال سے زائد ہے۔ مرکزی خدام الاحمدیہ میں بھی ان کو مختلف شعبوں میں مہتمم کے طور پر خدمت کی توفیق ملی۔

ان کی اہلیہ راشدہ پروین صاحبہ کہتی ہیں کہ ہمیشہ مسکراتے چہرے کے ساتھ گھر میں داخل ہوتے۔ سلام کرتے اور پہلے نماز ادا کرتے پھر کھانا کھاتے۔ پھر کہتی ہیں کہ سب خلفاء کے ساتھ گزرے ہوئے واقعات کی بے پناہ یادیں تھیں۔ جب اپنے خاندان کے بچوں کے ساتھ بیٹھتے تو ایمان افروز واقعات کا تذکرہ کرتے۔ خلافت کے ساتھ جڑے رہنے کی برکات سے اللہ کے افضال اور انعام ملنے کا بتاتے۔ خاموشی سے ضرورت مندوں کی مدد کرتے کہ ہمیں بھی پتہ نہیں لگتا تھا اور خود کبھی وہ مدد لینے والا آ کے بتا جاتا تھا کسی ذریعہ سے اظہار کر دیتا تھا تو پھر پتہ لگتا تھا۔ دوسروں کا دکھ بانٹنے والے اور خوشی میں خوش۔ نوافل ادا کرتے۔ تلاوت کرتے۔ درود شریف پڑھتے۔ کہتے تھے کہ واقف زندگی کے کام کی کامیابی خدا تعالیٰ اپنے ذمہ لے لیتا ہے۔ توکّل علی اللہ کریں، دعا کریں، استغفار کریں اور خلافت سے محبت کریں اور دعا کے لیے خلیفۂ وقت کو لکھیں۔ یہ بہت ضروری ہے اور یہ ساری باتیں حقیقت ہیں۔ بڑا توکّل تھا ان میں۔ بڑے بڑے مشکل کام بھی، میں نے دیکھا ہے جب میں ناظر اعلیٰ تھا تب بھی، اس سے پہلے بھی بعض معاملات میں ان کے ساتھ واسطہ پڑا۔ بڑا توکّل ہوتا تھا کہ جماعتی کام ہے، خلیفہ وقت کی دعائیں ہیں، ہو جائے گا ان شاء اللہ۔ صدقہ و خیرات اور دعاؤں کے ساتھ کام شروع کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے پھر کامیابیاں بھی ہوتی تھیں۔

ان کے بیٹے حافظ اعجاز صاحب کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک واقعہ سنایا کہ 1967ء میں جب خلیفة المسیح الثالثؒ ٹرین کے ذریعہ سے کراچی کے سفر پر جا رہے تھے۔ ریل حیدرآباد سٹیشن پر کچھ دیر کے لیے رکی۔ کثرت سے احمدی احباب حضور کو ملنے کے لیے وہاں آئے۔ حضور ریل کے دروازے پر کھڑے تھے۔ وہاں سے آپؒ نے مکرم مبارک طاہر صاحب کو ہاتھ کے اشارے سے بلایا۔ اس سے پہلے ان سے کوئی شناسائی نہیں تھی۔ کم از کم ان کو یہ خیال تھا کہ خلیفہ ثالث تو ان کو نہیں جانتے۔ بہرحال کہتے ہیں مبارک طاہر صاحب ہجوم میں تیزی سے حضور کی طرف آئے آگے بڑھے۔ جب دروازے کے قریب پہنچے تو حضور نے اپنی شیروانی کی جیب میں سے کچھ پیسے نکال کر مبارک طاہر صاحب کی جیب میں ڈال دیے اور اس کے بعد ٹرین چلی گئی۔ تو مبارک صاحب کہا کرتے تھے کہ حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ نے جو پیسے میری جیب میں ڈالے تھے ان کی برکت سے ہمیشہ میری جیب بھری رہی۔ اور یہ حقیقت بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کی جیب کو بھرا رکھا اور غیر معمولی طریقے سے ان کو بعض آمدنیاں ہوتی رہیں اور اسی طرح ہی انہوں نے اس کو خرچ بھی کیا۔ غریبوں پر اور جماعت پر بہت خرچ کرتے تھے۔

بہرحال کچھ عرصہ بعد انہوں نے ایک خواب کی بنا پر اپنی زندگی وقف کر دی۔ جب زندگی وقف کر دی تو اس وقت ان کا رشتہ ہو چکا تھا، نکاح بھی ہو چکا تھا اور یہ حیدرآباد میں تھے تو رشتہ دار خاتون ان کی اہلیہ کو علاج کروانے کے لیے لے کے آئیں۔ ان کو بھی بتایا کہ ڈاکٹر کے پاس جانا ہے۔ وہاں سے جب ٹرین سے اترے تو اس رشتہ دار خاتون نے کہا کہ سنا ہے تم نے وقف کر دیا ہے تو وقف والے کو تو کھانے کے پیسے بھی نہیں ہوتے۔ مبارک صاحب نے فوراً کہا کہ ابھی نکاح ہوا ہے رخصتی تو نہیں ہوئی آپ اپنی بیٹی کو اپنے گھر لے جائیں اگر آپ کو اتنا ہی شک ہے۔اور ناراض ہو کر وہاں سے چلے گئے۔ بہرحال انہوں نے غیرت رکھی اور اللہ تعالیٰ نے بھی غیرت رکھی کہ وقف میں رہتے ہوئے ان کو بےشمار نوازا، مالی لحاظ سے بڑی کشائش تھی۔

خلیفة المسیح الثالثؒ کے دور میں آپ مشیر قانونی تھے۔ کیسز کے لیے شہر سے باہر جانا پڑتا تھا اور بسوں پر سفر ہوتے تھے۔ اس وقت وہاں ربوہ میں ہر ایک کے پاس سفر کی سہولتیں،کاروں وغیرہ کی سہولت نہیں تھی اور خلیفة المسیح الثالثؒ کا یہ حکم تھا کہ جب بھی سفر سے واپس آؤ تو آ کے مجھے رپورٹ کرنی ہے۔ کہتے ہیں ایک مرتبہ بہت دیر ہو گئی۔ رات کو فجر کی نماز سے صرف دو گھنٹے پہلے میں ربوہ پہنچا۔ میں نے سوچا کہ اب جا کے حضرت خلیفةالمسیح الثالث ؒکو اطلاع دوں گا تو رات نیند خراب کرنے کی ضرورت نہیں پتہ نہیں نفل پڑھ رہے ہیں یا نمازیں پڑھ رہے ہیں یا سو رہے ہوں تو بہرحال دو گھنٹے پہلے میں پہنچا اور میں نے کہا فجرکی نماز پر اطلاع کر دوں گا۔ فجر کی نماز پر حضرت خلیفة المسیح الثالثؒ نے ان کو دیکھا تو فرمایا کہ مبارک صاحب رات کب آئے؟ انہوں نے کہا ابھی ڈیڑھ دو گھنٹے پہلے پہنچا ہوں تو حضرت صاحبؒ نے فرمایا کہ اگر آ کے مجھے اس وقت بتا دیتے تو میں بھی چند گھڑیاں سو لیتا۔ تمہارا انتظار کرتا رہا کہ پتہ نہیں سفر سے خیریت سے پہنچے ہو کہ نہیں۔

پھر ان کے بیٹے کہتے ہیں کہ جب میں نے وقف کرکے جامعہ جانے کا ارادہ کیا تو مجھے کہنے لگے کہ وقف تو اطاعت کا نام ہے۔ تمہاری طبیعت میں تھوڑی تیزی ہے اور اس سے وقف نہیں چلتا۔ وقف تو محض خاموشی اور اطاعت کے ساتھ خدمت کرنے کا نام ہے۔ اگر تو یہ کر سکتے ہو تو بڑی خوشی کی بات ہے ورنہ مجھے یہ نہیں پسند کہ تم وقف کرو اور پھر چھوڑ دو۔ تو اس طرح انہوں نے نصیحت کی، تربیت کی۔ اللہ کے فضل سے ابھی تک بیٹے کو نبھانے کی توفیق بھی مل رہی ہے آئندہ بھی توفیق ملتی رہے۔ خلیفہ وقت کے خطبات کے دوران گھر والوں کو ہدایت ہوتی تھی کہ خطبہ کے دوران ہر کام کو چھوڑ کر توجہ سے خطبہ سنو۔ کوئی نصیحت یا ہدایت یا مالی تحریک ہوتی تو خطبہ کے ختم ہوتے ہی اس تحریک کو عملی جامہ پہناتے اور ساتھ بچوں کو بھی ہدایت کرتے۔

مرزا عدیل احمد جو انجمن میں ان کے اسسٹنٹ مشیر قانونی ہیں کہتے ہیں کہ جہاں تک میں نے مشاہدہ کیا ہے خلافت کے سچے عاشق تھے۔ آپ کو دعا پر غیر متزلزل یقین تھا۔ کوئی بھی پریشانی ہوتی یا زیادہ مشکل کام ہوتا جس کے لیے آپ کو جانا پڑتا تو آپ کہتے نوافل میں بڑی دعا کی ہے، صدقہ بھی دیا ہے، خلیفہ وقت کی خدمت میں لکھتے ہیں دیکھو اللہ فضل فرمائے گا۔ اور پھر یہ کہتے ہیں کہ بڑے خوددار انسان تھے لیکن جماعت کے لیے اگر کسی دفتر کے چائے بنانے والے یا مدد گار کی منت کرنی پڑے تو کوئی عار نہیں سمجھتے تھے اور افسروں سے رابطہ کے لیے ہر ممکنہ ذرائع استعمال کرتے تھے۔

ایک دفعہ کوئی فیصلہ کیا انجمن نے تو ان کی رائے تھی کہ اگر اس فیصلہ پر عمل کیا گیا تو جماعت پر برا اثر پڑنے کا امکان ہے، جماعت پر اس کا غلط اثر پڑنے کا امکان ہے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ یہ فیصلہ ٹھیک نہیں لگ رہا لیکن پھر انہوں نے کہا کہ خلیفہ وقت کو ہم اپنی رائے لکھ دیتے ہیں۔ ہمارا کام تو خلیفہ وقت تک اپنی رائے پہنچانا ہے آگے جو وہ فیصلہ کریں اسی میں برکت ہے۔

ڈاکٹر سلطان مبشر کہتے ہیں کہ افسروں سے تعلقات بنانے آتے تھے۔ ہمیشہ ان تعلقات کو سلسلہ کے مفاد کے لیے استعمال کیا۔ مشکل سے مشکل حالات میں بھی ان کے منہ پر مسکراہٹ قائم رہتی تھی۔ ان کے چہرے پر کبھی گھبراہٹ کے آثار نہیں دیکھے۔ جماعتی مقدمات کے سلسلہ میں ایسے مقامات پر بھی جانا پڑتا تھا جہاں دیگر احتمالات کے علاوہ جان کا خطرہ بھی لاحق رہتا تھا مگر اس مرد جری نے کبھی اپنے فرائض سے پہلو تہی نہیں کی اور جیسا کہ میں نے کہا اللہ تعالیٰ نے ان کو مالی کشائش بھی عطا فرمائی تھی۔ اللہ تعالیٰ ان کی بانڈز کے ذریعہ سے بڑی مدد کرتا تھا اور بڑی بڑی رقمیں نکلتی تھیں۔ ایک دفعہ ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں کہ شاید پچاس لاکھ کا انعام نکلا تو اس میں سےقریباً ساٹھ فیصد انہوں نے مختلف مدات میں اور غریبوں کی مدد میں ادا کر دیا اور یہ کوئی ایک دفعہ کا واقعہ نہیں ہمیشہ یہی ان کا اصول تھا۔ اللہ تعالیٰ بڑی بڑی رقمیں عطا کرتا تھا اور اس میں سے اکثر بڑی بڑی رقمیں یہ چندوں میں اور غریبوں کی مدد میں دے دیا کرتے تھے۔ ان کی دو بڑی خواہشیں تھیں۔ اس کے لیے دعا کی تحریک کرتے تھے۔ ایک یہ کہ آخری سانس تک سلسلہ کی خدمت میں رہیں اور دوسرے یہ کہ چلتے پھرتے دنیا سے رخصت ہو جائیں اور کسی پر بوجھ نہ بنیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی یہ دونوں خواہشیں پوری فرمائیں۔ بےشمار اَور خوبیاں بھی تھیں۔ میں نے دیکھا ہے بڑے صبر سے اور حوصلے سے کام کرنے والے ،کبھی پریشانی کے حالات نہیں ہوئے۔ اللہ پر توکّل غیر معمولی تھا۔ اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے۔ ان کی نسلوں کو ان کی دعاؤں کا وارث بنائے۔

نمازوں کے بعد ان سب کی نماز جنازہ غائب پڑھاؤں گا ان شاء اللہ۔

٭…٭…٭

(الفضل انٹرنیشنل 19؍مارچ 2021ء صفحہ 5تا10)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close