سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح

(سید مبشر احمد ایاز)

باغ میں ملّت کے ہے کوئی گلِ رعنا کھلا

حضرت مسیح موعودؑ کے آبا واجداد

حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰة والسلام کی والدہ ماجدہ

حضرت چراغ بی بی صاحبہ رحمہا اللہ (حصہ دوم)

وفات والدہ ماجدہ

حضرت اقدس علیہ السلام جوکہ

بَرًّابِوَالِدَیْن

کی مجسم تصویرتھے۔انہوں نے اپنے والدصاحب کے اصرار پر سیالکوٹ میں سرکاری ملازمت اختیارفرمالی۔آپؑ سیالکوٹ میں ہی تھے کہ معلوم ہوتاہے آپؑ کی والدہ ماجدہ کی صحت کی حالت بگڑگئی۔قیاس کیاجاسکتاہے کہ آپؑ کووالدہ ماجدہ کی اس بیماری سے فوری آگاہ نہیں کیاگیا۔البتہ آپ کے والدبزرگوارماں بیٹے کی اس محبت اورلگاؤ سے بھی بخوبی آگاہ تھے اور محبت کی جس چنگاری کوباپ نے سینے میں دبایاہواتھا معلوم ہوتاہے کہ حضرت چراغ بی بی صاحبہ ؒکی بیماری نے اس کوہوادے کرشعلہ بنا دیا جس نے بیٹے کی اس دوری اورملازمت کے قیدخانہ کی زنجیروں کوجلاکرراکھ کردیااور باپ نے اپنے سعادت مندبیٹے کوپیغام بھیجاکہ ملازمت سے استعفیٰ دے کرفوراً واپس آجاؤ۔

حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحبؒ نے جب حضور کو استعفیٰ دے کر واپس چلے آنے کا پیغام بھجوایا تو حضور کی والدہ ماجدہ سخت بیمار تھیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پیغام سنتے ہی فوراً سیالکوٹ سے روانہ ہوگئے۔ امر ت سر پہنچے تو قادیان کے لئے تانگہ کا انتظام کیا۔ اسی اثناء میں قادیان سے ایک اَور آدمی بھی آپ کو لینے کے لئے امرت سر پہنچ گیا۔اورشایدیہ دوسراآدمی میراں بخش حجام تھا۔ اس نے یکہ بان سے کہا کہ یکہ جلدی چلاؤکیونکہ ان کی حالت بہت نازک تھی۔ پھر تھوڑی دیر کے بعد کہنے لگا بہت ہی نازک حالت تھی جلدی کرو کہیں فوت نہ ہوگئی ہوں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ سنتے ہی یقین ہوگیا کہ آپ کی والدہ ماجدہ کا انتقال ہوچکا ہے۔ چنانچہ قادیان پہنچے تو معلوم ہوا کہ آپ کی مشفق ومہربان اور جان سے پیاری والدہ آپ سے ہمیشہ کے لئے جدا ہوچکی ہیں۔

حضرت شیخ یعقوب علی صاحب عرفانیؓ نے’’حیات ِ احمدؑ‘‘ میں یہ واقعہ یوں بیان کیا ہے کہ

’’میراں بخش حجام کو آپ کے پاس بھیجا گیا اور اسے کہہ دیا گیا تھا کہ وہ یک دم حضرت والدہ مکرمہ کی وفات کی خبر حضرت مسیح موعودؑ کو نہ سنائے چنانچہ جس وقت بٹالہ سے نکلے تو حضرت کو حضرت والدہ صاحبہ کی علالت کی خبر دی یکہ پر سوار ہو کر جب قادیان کی طرف آئے تو اس نے یکہ والے کو کہا کہ بہت جلد لے چلو۔ حضرت نے پوچھا کہ اس قدر جلدی کیوں کرتے ہو؟اس نے کہا کہ ان کی طبیعت بہت ناساز تھی۔ پھر تھوڑی دور چل کر اس نے یکہ والے کو اور تاکید کی کہ بہت ہی جلد لے چلو۔ تب پھر پوچھا۔ اس نے پھر کہا کہ ہاں طبیعت بہت ہی ناساز تھی کچھ نزع کی سی حالت تھی۔ خدا جانے ہمارے جانے تک زندہ رہیں یا فوت ہوجائیں۔ پھر حضرت خاموش ہوگئے۔ آخر اس نے پھر یکہ والےکو سخت تاکید شروع کی تو حضرت نے کہا کہ تم اصل واقعہ کیوں بیان نہیں کردیتے کیا معاملہ ہے۔ تب اس نے کہا کہ اصل میں مائی صاحبہ فوت ہوگئی تھیں اس خیال سے کہ آپ کو صدمہ نہ ہویک دفعہ خبر نہیں دی۔ حضرت نے سن کر

اِنَّا للّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاْجِعُوْنَ

پڑھ دیا۔‘‘

(حیات احمدؑ جلداول ص 219)

اوریوں اب جب نہ جانے کتنی دیربعد واپس وطن کولوٹے توماں کی کھلی بانہوں کااستقبال اور چشم ترک اانتظاراور ماتھے پرپیار کے نشان ثبت کرنے والا مہربان وجود اس جہان سے جاچکاتھا۔

کس کو اب ہوگا وطن میں آہ! میرا انتظار؟

کون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بے قرار؟

جس کی آنکھیںسالوں بعد ماں کاذکرکرنےپر ڈبڈبا جایاکرتی تھیں۔اب اپنے گھرکوماں کے محبت بھرے وجودسے خالی پاکر خداجانے ماں کی مامتاکی کتنی کہانیاں سی یادآکے رہ گئی ہوں گی۔اور نہ جانے صبرورضاکامجسم وجودبن کروہ اپنی مادرِمہرباں کے چہرے کوکتنی دیرتک تکتارہاہوگا۔ اور

’’إِنَّ الْعَيْنَ تَدْمَعُ، وَالْقَلْبَ يَحْزَنُ، وَلاَ نَقُولُ إِلَّا مَا يَرْضَى رَبُّنَا، وَإِنَّا بِفِرَاقِكَ يَا إِبْرَاهِيْمُ لَمَحْزُوْنُوْنَ‘‘ (بخاری کتاب الجنائز بَابُ قَوْلِ النَّبِيّ ِصَلَّى اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اِنَّ بِکَ لَمَحْزُوْنُوْنَ:حدیث1303)

[یقیناً آنکھیں آنسو بہاتی ہیں اور دل غمگین ہے لیکن ہم وہی کہیں گے جس سے ہمارا رب راضی ہواور اے ابراہیم ہم یقیناًتیری جدائی سے غمگین ہیں] کے مصداق اس کے اشکوں میں نہ جانے اس وقت کتنی تصویریں پلکوں سے ڈھلک ڈھلک گئی ہوں گی۔

لو ڈھلک گیا وہ آنسو کہ جھلک رہا تھا جس میں

تیری شمعِ رُخ کا پَرتَو تِرا عکس پیارا پیارا

یہ سعادت مند اور فرمانبردار بیٹا کہ جو وَبَرًّا بِوَالِدَتِي کی فطرت لئے ہوئے پیداہوا تھا اپنی اس مادرصدیقہ کوزندگی بھرنہیں بھولا۔ تبھی تو عمرکے آخری حصہ میں بھی خدا کا یہ رسول جب بھی اپنی والدہ مہربان کا ذکر کرتا تو آنکھیں ڈبڈبا جایا کرتی تھیں۔ دن اور رات میں بیسیوں مرتبہ

رَبَّنَا اغْفِرْلِیْ وَلِوَالِدَیَّ

کی دعائیں پڑھنے کے باوجود آپ گاہے اپنی والدہ ماجدہ کے مزارپردعاکے لئے تشریف لے جاتے۔

ایک چشم دید واقعہ حضرت عرفانی صاحب ؓنے یوں بیان فرمایاہے کہ

’’ ان دعاوٴں کا تو ہمیں پتہ نہیں جو آپ اپنے والدین کے لئے کرتے ہوں گے مگر والدہ صاحبہ کی محبت کا ایک واقعہ اور جوش دعا کا ایک موقعہ میری اپنی نظر سے گزرا ہے۔ایک مرتبہ حضرت مسیح موعودؑ سیرکےلئے اس قبرستان کی طرف نکل گئے جو آپ کے خاندان کا پرانا قبرستان موسوم بہ شاہ عبدالله غازی مشہور ہے۔ راستہ سے ہٹ کر آپ ایک جوش کے ساتھ والدہ صاحبہ کی قبر پر آئے اور بہت دیر تک آپ نے اپنی جماعت کو لے کر جو اس وقت ساتھ تھی دعا کی۔اور کبھی حضرت مائی صاحبہ کا ذکر نہ کرتے کہ آپ چشم پُر آب نہ ہوجاتے۔حضرت صاحب کا عام معمول اس طرف سیر کو جانے کا نہ تھا مگر اس روز خصوصیت سے آپؑ کا ادھر جانا اور راستہ سے کترا کر قبرستان میں آ کر دعا کے لئے ہاتھ اٹھاناکسی اندرونی آسمانی تحریک کے بدوں نہیں ہو سکتا۔‘‘

(حیات احمدؑ جلدا ول صفحہ 221)

تاریخ وفات کی تعیین

حضرت اقدسؑ کی والدہ محترمہ کی تاریخ وفات بالعموم 1868ء بیان ہوتی ہے۔لیکن اب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کا ایک قلمی روزنامچہ حال ہی میں دریافت ہوا ہے[اس کی نقل ریسرچ سیل میں بھی محفوظ ہے۔مرتب]۔ جس کے اکثر اندراجات مرزا غلام قادر صاحب مرحوم کے قلم سے ہیں۔ انہوں نے اس میں حضرت والدہ صاحبہ کی تاریخ وفات 12؍ ذی الحج 1283 ھ(مطابق 18اپریل 1867ء) لکھی ہے۔‘‘

(تاریخ احمدیت جلداول صفحہ 103)

مزار مبارک

آپ کا مزار مبارک حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے قدیم خاندانی مقبرہ میں موجود ہے جو مقامی عیدگاہ کے پاس قادیان سے مغرب کی طرف واقع ہے۔ اس قبرستان کے ایک حصہ کا نقشہ حضرت صاحبزادہ مرزابشیراحمدصاحبؓ کی تحقیق کے مطابق سیرت المہدی میں درج ہے جس میں بعض قبورکی نشاندہی کی گئی ہے۔ ان میں سے ایک قبر حضرت والدہ محترمہ صاحبہ ؒکی بھی ہے جس کانشان ابھی تک محفو ظ وصحیح سلامت چلاآرہاہے۔

أللّٰہم اغفرلہا وارحمہا وادخلہا فی جنت النعیم

زندگانی تھی تری مہتاب سے تابندہ تر

خوب تر تھا صبح کے تارے سے بھی تیراسفر

مثلِ ایوانِ سحر مرقد فروزاں ہو ترا!

نور سے معمور یہ خاکی شبستاں ہو ترا!

آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے!

سبزۂ نورستہ اس گھرکی نگہبانی کرے!

دیگرجدّی رشتہ دار

حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب ؒ کے چار بھائی تھے:

٭ مرزاغلام مصطفیٰ صاحب

مرزاغلام مصطفیٰ صاحب جوکہ حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰة والسلام کے تایا تھے۔اور تین چچا تھے:مرزا غلام محمدصاحب،مرزا غلام محی الدین صاحب اور مرزاغلام حیدرصاحب۔مرزا غلام مصطفیٰ اور مرزا غلام محمدصاحبان کی نسل آگے نہیں چلی۔

(سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر128)

٭ مرزا غلام حیدرصاحب

یہ حضورعلیہ السلام کے چچا تھے۔ان کا ایک ہی بیٹا تھا مرزاغلام حسین جو کہ عرصہ پچیس تیس سال سے مفقودالخبر ہوگیاتھااور اسکی نسل آگے نہیں چلی۔یہ وہی مرزا غلام حسین صاحب ہیں جن کے ساتھ مرزا احمدبیگ صاحب کی ایک بہن امام بی بی صاحبہ بیاہی ہوئی تھیں۔سیرت المہدی کی روایت نمبر 179میں اس کی مزید تفصیل میں یہ لکھا ہواہے کہ

’’حضرت صاحب کا ایک چچا زاد بھائی غلام حسین مفقود الخبر ہو کر کالمیّت سمجھا گیا اور اسکے ترکہ کی تقسیم کا سوال پیدا ہوا۔ مرزا غلام حسین کی بیوہ مسماة امام بی بی مرزا احمد بیگ ہوشیار پوری کی بہن تھی۔اس لئے مرز ااحمد بیگ نے اپنی بہن امام بی بی اور مرزا نظام الدین اور مرزا امام الدین وغیرہ کے مشورہ سے یہ کوشش کی کہ غلام حسین مذکور کا ترکہ اپنے لڑکے یعنی محمدی بیگم کے بڑے بھائی محمد بیگ کے نام کر وا لے مگر یہ بغیر رضامندی حضرت مسیح موعودؑ ہو نہیں سکتا تھا۔اس لئے نا چار مرزا احمد بیگ حضرت صاحب کی طرف رجوع ہوا اوربڑی عاجزی اور اصرار کے ساتھ آپ سے درخواست کی کہ آپ اس معاملہ میں اپنی اجازت دے دیں۔ قریب تھا کہ حضرت صاحب تیار ہو جاتے مگر پھر اس خیال سے کہ اس معاملہ میں استخارہ کر لینا ضروری ہے رُک گئے اور بعد استخارہ جواب دینے کا وعدہ فرمایا۔چنانچہ اس کے بعد مرزا احمد بیگ کی با ر بار کی درخواست پر حضرت صاحب نے دریں بارہ استخارہ فرمایا تو جواب میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے و ہ الہامات ہوئے جو محمدی بیگم والی پیشگوئی کا بنیادی پتھر ہیں۔‘‘

(سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر179)

(باقی آئندہ)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close