متفرق شعراء

عشاق کو گستاخ کہو بات ہے کوئی

عشاق کو گستاخ کہو بات ہے کوئی

تم دن کو کہو رات تو وہ رات ہے کوئی

اُس حسن کی معراج پہ جاں اپنی فدا ہے

اس جاں سے بڑی دنیا میں سوغات ہے کوئی

وہ حسنِ دو عالم ہے مری جانِ تمنا

کونین میں اس ذات سے کب ذات ہے کوئی

ہو جاؤں مَیں اس یار کی بس خاکِ کفِ پا

بڑھ کر بھلا اس سے بھی مناجات ہے کوئی

ناصح نے کہا جب تو اسے چھوڑ دے حافظؔ

لگتا تھا میرے دل پہ پڑا ہات ہے کوئی

(ابنِ کریم)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close