متفرق شعراء

اکنافِ جہاں شوکتِ اسلام بڑھا دے

مالک تُو خلافت کے بھی انعام بڑھا دے

اکنافِ جہاں شوکتِ اسلام بڑھا دے

وہ امن کا شہزادہ سدا دے گا دعائیں

ظالم تو بھلے جتنے بھی دشنام بڑھا دے

سنگت میں تری قافلہ سالار رواں ہم

منزل ہے نگاہوں میں سبک گام بڑھا دے

پینا ہے بہر طور مئے اطہر و اصفا

اس سمت مرے ساقی ذرا جام بڑھا دے

رکھ دیں گے تہِ تیغِ محبت ہی، یہ گردن

’’دیوانوں کی فہرست میں اک نام بڑھا دے‘‘

روشن ہو ہر اک گوشۂ افلاک بھی جس سے

اس شمعِ خلافت کی ضیا تام بڑھا دے

ملکوتی تبسم پہ فدا لالہ و گُل سب

اس حسنِ ضیا پاش کی لَو اَور بڑھا دے

( ساجدہ تبسم شاہدجرمنی)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close