سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

احمد علیہ السلام۔ سیرت و سوانح

(سید مبشر احمد ایاز)

حضرت مسیح موعودؑ کے آبا واجداد

حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰة والسلام کے والد ماجد(حصہ سوم)

حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحبؒ

[پیدائش:اندازاً1791ءوفات:جون1876ء]

آپ کی اعلیٰ انتظامی اورفوجی خدمات

ابھی اوپر ایک اقتباس میں ذکر آیاہے کہ علاوہ آپ کی جائیداد کے حکومت کی طرف سے انعام یا سالانہ پنشن کی صورت میں سات سوروپے ملتے تھے اور آپ کے ایام ملازمت کی پنشن اسکے علاوہ تھی۔آپ کی ملازمت کے سلسلہ میں جوتفصیلات ملتی ہیں اس کے مطابق جب قادیان کی جدی ریاست مہاراجہ رنجیت سنگھ نے واگزار کردی تو اسی زمانہ میں حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحبؒ اپنے بھائیوں سمیت مہاراجہ کی فوج میں ملازم ہوگئے اور کشمیرکی سرحد پر بہادری کے جوہر دکھاتے رہے۔

اسی طرح یہ بھی ملتاہے کہ ایک وقت آپ کشمیر میں ’’صوبہ‘‘ کے عہدہ پربھی فائز رہے اوریہ عہدہ کمشنر یا ڈپٹی کمشنر کے برابرہواکرتاتھا۔ ان دونوں امورکی تفصیل جو بیان ہوئی ہے وہ کچھ یوں ہے۔ سیرت المہدی میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام سے روایت کرتے ہوئے حضرت ام المومنین اماں جانؓ نے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیراحمد صاحبؓ کو بیان فرمایا:

’’والدہ صاحبہ نے فرمایا کہ تمہارے دادا کشمیر میں صوبہ تھے۔اس وقت حضرت خلیفةالمسیح ثانی بھی اوپر سے تشریف لے آئے اور فرمانے لگے کہ جس طرح انگریزوں میں آجکل ڈپٹی کمشنر اور کمشنر وغیرہ ہوتے ہیں اسی طرح کشمیر میں صوبے گورنر علاقہ ہوتے تھے۔‘‘

( سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر 10)

اسی طرح آپ نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے ایک وفادار فوجی جرنیل کی حیثیت سے بھی قابل ذکر خدمات سرانجام دیں۔ چنانچہ سرلیپل گریفن جس نے پنجاب کے نامی گرامی خاندانوں اوران کے تذکرہ پرمشتمل ایک کتابThe Punjab Chiefsلکھی۔وہ اپنی اس کتاب میں لکھتاہے:

“Ranjit Singh, who had taken possession of all the lands of the Ramgarhia Misal, invited Ghulam Murtza to return to Kadian, and restored to him a large portion of his ancestral estates. He then,with his brothers, entered the army of the Maharaja, and performed efficient service on the Kashmir frontier and at other places.”(The Punjab Chiefs; Revised Edition, Vol:2 Page:41)

ترجمہ :رنجیت سنگھ نے جو رام گڑھیہ مسل کی جاگیر پر قابض ہو گیا تھا غلام مرتضیٰ کو قادیان واپس بلا لیا اور اس کی جدّی جاگیر کا ایک بڑا حصہ اسے واپس کر دیا۔ اس پر غلام مرتضیٰ اپنے بھائیوں سمیت مہاراجہ کی فوج میں داخل ہو گیا اور کشمیر کی سرحداور دوسرے مقامات پر قابل قدر خدمات سر انجام دیں۔

وفاکیش و وفاشعار

ہرقوم اور خاندان کا کوئی نہ کوئی قابل ذکر وصف اور خوبی ہوتی ہے اوروہ اس کا طرۂ امتیاز ہوتاہے۔دین اسلام سے محبت اس عظیم خاندان کے خون اورسرشت میں شامل تو تھی ہی البتہ اس کا طرہ ٔ امتیاز اس کااخلاص ووفا بھی تھا۔قادیان کی ساڑھے تین سوسالہ تاریخ اس بات کی گواہ ہےکہ اس خاندان نے جس کے ساتھ ایک بار تعلق رکھا تو پھر اس تعلق کا ایسا پاس کیا کہ برصغیر کی تاریخ میں کم ہی ایسے واقعات ملتے ہیں۔ اور دنیا کے اس خطے کی تاریخ سے واقفیت رکھنے والے جانتے ہیں کہ یہاں چڑھتے سورج اور بدلتے موسم کے ساتھ وفاؤں کا رخ بدلنا معمول تھا بلکہ اس کو ‘سیاسی بصیرت’اور‘دانشمندی’ جیسے الفاظ سے تعبیرکیاجاتاتھا۔ اور معمولی سی ریاست وسیادت اور روپے پیسے کے لئے اس طرح کے سینکڑوں،‘ننگِ ملت،ننگِ دیں، ننگِ وطن’عام تھے۔لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ قادیان کے اس بزرگ خاندان نے تاریخ کے تین ایسے نازک ترین طوفانی موڑ دیکھے کہ جس میں بڑے بڑے خاندانوں نے اپنی وفاؤں کے رخ وقت اورمصلحت کی ہواؤں کے دوش پر ازسرِنومتعین کئے اور بڑے بڑے پختہ عہدوپیمان بھول گئے۔ اگرچہ ہندوستان کی تاریخ ایسے واقعات سے بھری پڑی ہے لیکن قادیان کے اس صاحب اقتدار خاندان نے جو اپنے ساتھ فوج اور عوام الناس کی وفاداریاں بھی رکھتاتھا بعض مشکل مراحل پر وفا کا عہد نبھایا اگرچہ بعض اوقات اس کی بھاری قیمت بھی ادا کرنی پڑی۔ تاریخ میں بعض ایسے موڑ بھی آئے کہ یہ خاندان اپنی وفاداریاں تبدیل کرتے ہوئے بڑی آسانی سے اپنی آزادسلطنت قائم رکھ سکتاتھا لیکن…؂

ہم نے سیکھا نہیں انداز بدلتے رہنا

جب حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب کو مہاراجہ رنجیت سنگھ نے اپنے دربار میں طلب کیا اورپورے اکرام کے ساتھ قادیان کی جاگیر اورکچھ دیہات واپس کردیے تو اس خاندان نے بھی حق دوستی اداکرتے ہوئے اپنی وفا اور تعاون کا ہاتھ بڑھایا اور پھر کبھی پیچھے نہ ہٹے۔حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب اپنے بھائیوں سمیت مہاراجہ کی فوج میں داخل ہو گئے۔اورپھر جب تک مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت قائم رہی یہ خاندان اپنے عہدِ وفا پر قائم رہا۔ جیسا کہ ذکر ہو چکا ہے اس خاندان کی جانب سے کشمیر کی سرحد اور دوسرے مقامات پر قابل قدر خدمات پیش کی گئیں۔ نونہال سنگھ، شیر سنگھ اور دربار لاہور کے دور میں بھی حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب ہمیشہ فوجی خدمات پر مامور رہےاور 1841ء میں وہ ایک پیادہ فوج کے کمیدان بناکر پشاور بھیجے گئے اور مفسدہ ہزارہ میں انہوں نے اپنی نمایاں خدمات کا ثبوت دیا۔

جیسا کہ پہلے ذکر ہواہے کہ رنجیت سنگھ 1839ء میں جب اس جہان فانی سے رخصت ہوا تو جس حکمت اور طورطریق سے اس نے اپنی حکومت کو مستحکم کیاہواتھا اس حکومت کا شیرازہ چند سال کے اندربکھر کررہ گیا۔اور پھر طوائف الملوکی کا ایسا دور دورہ ہوا کہ بعض سکھ سرداروں تک نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی حکومت سے بے وفائی کرتے ہوئے حالات کے رخ دیکھ کر انگریزوں کا ساتھ دینا شروع کردیا جو ہرجائز اورناجائز طریق سے اس حکومت کو ختم کرنے کا تہیہ کرچکے تھے اور ‘وفاداریوں’ کے خریدار تھے۔ ان حالات میں حضرت مرزاغلام مرتضیٰ صاحب کے پاس دو‘بہترین اور سنہری’ مواقع تھے۔ایک یہ کہ آپ اپنی آزاد حکومت کا اعلان کرتے ہوئے اپنے علاقے کے ایک خودمختار سربراہ بن جاتےجس کے لیے حالات نہایت سازگار تھے اور کسی روک ٹوک کا اندیشہ بھی نہ تھا لیکن آپ کے باوفا ضمیر نے ایسا گوارا نہ کیا۔

ایک دوسراپہلو یہ تھا کہ انگریزوں سے الحاق کرتے ہوئے اپنی وفاداریاں تبدیل کرلیتے اور جاگیر اور عہدہ بھی پاتے۔لیکن بڑی سے بڑی جاگیراور ریاست کی پیشکش سے بھی آپ کے پائے وفا میں ذرا سی بھی لغزش نہ آئی۔جبکہ ہم یہ بھی دیکھتے ہیں کہ یہ وہی مرزاصاحب ؒ ہیں جو اپنی کھوئی ہوئی ریاست کو واپس لینے کے لئے ایسے کوشاں رہے کہ ہندوستان کا پیدل سفر تک کیا،ہرممکن کوشش اورتگ ودو کی، مہاراجہ رنجیت سنگھ نے بھی وہ ساری جائداد واپس نہیں کی۔ صرف چندایک دیہات دئے جواشک شوئی کے مصداق بھی نہیں شمار کیے جاسکتے تھے۔ اوریہی وہ سکھ سلطنت تھی کہ جس کی ایک مسل نے قادیان اور اس کے ساتھ ملحقہ 85سے زائد دیہاتوں کو چھین لیااورقادیان کی بستی سے اس خاندان کو بڑی بے بسی اوربے کسی کی حالت میں جلاوطن کردیاتھا۔مسجدوں کوگراکر دھرم سالوں میں بدل دیا،باغوں کو اجاڑدیا، مکانوں کو ویران کردیا،کتب خانوں کوقرآن کریم سمیت آگ لگادی۔ یہ ساراظلم اس خاندان نے دیکھا اور گو کہ حضرت مرزاغلام مرتضیٰ صاحب اس وقت اپنے لڑکپن کے دورسے گزررہے تھے لیکن ان کی آنکھوں کے سامنے یہ سارامنظر یقیناً گھوم جاتاہوگااوران کی سنگدلی اور بے رحمی کا یہ واقعہ بھی کہاں بھولاہوگا کہ جب یہ بائیس سالہ غمزدہ نوجوان اپنے باپ کی نعش اپنے کندھوں پر اٹھاکر اسکو آبائی قبرستان میں دفن کرنے کے لئے لایاتو انہوں نے دفن کرنے کی اجازت دینے سے انکارکردیا۔ہرچند کہ اس جری بہادر نے پھر بھی دفن تو اسی قبرستان میں کیالیکن یہ سب ظلم وستم وہ بھولانہیں ہوگا اوراب ان سب کا بدلہ لینے کا ایک ‘سنہری موقعہ’ تھا۔ لیکن نمک حلالی اور وفاداری اس خاندان کے خون میں رچی ہوئی تھی۔انہوں نے اپنے تین دیہاتوں پر قناعت کرتے ہوئے اس ساری پیشکش کوٹھکرادیا اور مہاراجہ رنجیت سنگھ کے عہدحکومت کے ٹمٹماتے ہوئے چراغ سے وفاداری کا تعلق ٹوٹنے نہ دیا۔

اس تاریخی حقیقت کو حضرت مرزاغلام مرتضیٰ صاحب کےپوتے اور جماعت احمدیہ کے دوسرے امام حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓبیان فرماتے ہیں:

’’بے شک مہاراجہ صاحب نے یہ گاؤں واپس کیا لیکن ہمارے خاندان نے بھی ہمیشہ ان کے خاندان سے وفاداری کی۔جب انگریزوں سے لڑائیاں ہوئیں تو بعض بڑے بڑے سکھ سرداروں نے روپے لے لے کر علاقے انگریزوں کے حوالہ کردیئے۔اوریہی وجہ ہے کہ وہاں ان کی جاگیریں موجودہیں۔یہاں سے پندرہ بیس میل کے فاصلہ پر سکھوں کا ایک گاؤں بھاگووال ہے۔وہاں سکھ سردار ہیں۔مگروہ بھی انگریزوں سے مل گئے تھے تو اس وقت بڑے بڑے سکھ خاندانوں نے بھی انگریزوں کا ساتھ دیا۔مگر ہمارے داداصاحب نے کہا کہ میں نے اس خاندان کا نمک کھایا ہے اس سے غداری نہیں کرسکتا۔کیا وجہ ہے کہ سکھ زمینداروں کی جاگیریں تو قائم ہیں مگر ہماری چھین لی گئیں۔اسی غصہ میں انگریزوں نے ہماری جائیداد چھین لی تھی کہ ہمارے دادا صاحب نے سکھوں کےخلاف ان کا ساتھ نہ دیا تھا۔تاریخ سے یہ امر ثابت ہے کہ مہاراجہ صاحب نے سات گاؤں واپس کئے تھے پھر وہ کہاں گئے؟ وہ اسی وجہ سے انگریزوں نے ضبط کرلئے کہ ہمارے دادا صاحب نے ان کا ساتھ نہ دیا تھا اورکہا تھا کہ ہم نے مہاراجہ صاحب کی نوکری کی ہے انکے خاندان کی غداری نہیں کرسکتے۔بھاگووال کے ایک اسی پچاسی سالہ بوڑھے سکھ کپتان نے مجھے سنایا کہ میرے دادا سناتے تھے کہ انکو خود سکھ حکومت کے وزیر نے بلا کر کہا کہ انگریز طاقتور ہیں ان کے ساتھ صلح کرلو خواہ مخواہ اپنے آدمی مت مرواؤ۔مگرہمارے داداصاحب نے مہاراجہ صاحب کے خاندان سے بے وفائی نہ کی اوراسی وجہ سے انگریزوں نے ہماری جائیداد ضبط کرلی۔ بعد میں جو کچھ ملا مقدمات سے ملا۔مگر کیا ملا۔قادیان کی کچھ زمین دے دی گئی۔باقی بھینی، ننگل اور کھارا کا مالکان اعلیٰ قراردے دیا گیا مگریہ ملکیت اعلیٰ سوائے کاغذ چاٹنے کے کیاہے؟ یہ برائے نام ملکیت ہے جو اشک شوئی کے طورپر دی گئی اور اس کی وجہ یہی ہے کہ ہمارے دادا صاحب نے غداری پسند نہ کی…تاریخ سے یہ بات ثابت ہے کہ جب ملتان کے صوبہ نے بغاوت کی توہمارے تایاصاحب نے ٹوانوں کے ساتھ مل کر اسے فروکیا تھا اور اس وقت سے ٹوانوں اورنون خاندان کے ساتھ ہمارے تعلقات چلے آتے ہیں۔ پس جہاں تک شرافت کا سوال ہے ہمارے خاندان نے سکھ حکومت سے نہایت دیانتداری کا برتاؤ کیا اوراسکی سزا کے طورپر انگریزوں نے ہماری جائیداد ضبط کرلی ورنہ سری گوبندپور کے پاس اب تک ایک گاؤں موجودہے جس کانام ہی مغلاں ہے اوروہاں تک ہماری حکومت کی سرحد تھی اوراس علاقہ کے لوگ اچھی طرح جانتے ہیں کہ وہاں تک ہماری حکومت تھی اوریہ مہاراجہ رنجیت سنگھ سے پہلے کی بات ہے۔‘‘

(خطبہ جمعہ غیرمطبوعہ۔بحوالہ تاریخ احمدیت جلداول ص42-43)

(باقی آئندہ)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close