خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2020ء

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابن عوف! تم جنت میں رینگتے ہوئے داخل ہوگے کیونکہ مالدار ہو۔ پس راہ خدا میں خرچ کرو تا کہ اپنے قدموں پر چل کر جنت میں داخل ہو سکو۔

آنحضرتﷺ کے عظیم المرتبت بدری صحابہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں بے دریغ خرچ کرنے والے حضرت عبدالرحمٰن بن عوف اور اسلام اور بانی اسلام ؐکے ایک نہایت جاں نثار عاشِق، نہایت درجہ مخلص باصفا، بے لوث فدائی ، بلند پایہ کے وفادار اور قبیلہ اوس کے رئیس اعظم حضرت سَعد بن مُعاذ رضی اللہ عنہما کے اوصافِ حمیدہ کا تذکرہ

عثمان بن عفانؓ اور عبدالرحمٰن بن عوفؓ زمین پر اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں سے دو خزانے ہیں جو اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون2020ء بمطابق 26؍ احسان 1399 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک ،اسلام آباد، ٹلفورڈ(سرے)، یوکے

گذشتہ خطبے میں بھی حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کا ذکر کیا گیا تھا اور بقایا کچھ حصہ اس ذکر کا رہتا تھا جو آج بیان کروں گا۔ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی سخاوت بھی مشہور تھی اور مالی قربانیاں بھی انہوں نے بہت کیں۔ اس حوالہ سے آج اکثر حوالے ہیں۔ ایک روایت میں ہے کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے وصیت کی تھی کہ جنگِ بدر میں شریک ہونے و الے ہر ایک کو چار سو دینار ان کے ترکہ میں سے دیے جائیں۔ چنانچہ اس پر عمل کیا گیا اس وقت ان اصحاب کی تعداد سو تھی۔

(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ جز ء4 صفحہ293 عبد الرحمٰن بن عوف دار الفکربیروت1995ء )

رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب صحابہ کرام ؓکو غزوۂ تبوک کی تیاری کے لیے حکم دیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے امراء کو اللہ کی راہ میں مال اور سواری مہیا کرنے کی تحریک بھی فرمائی۔ اس پر سب سے پہلے حضرت ابوبکرؓ آئے اور اپنے گھر کا سارا مال لے آئے جو کہ چار ہزار درہم تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکرؓ سے دریافت فرمایا کہ اپنے گھر والوں کے لیے بھی کچھ چھوڑا ہے تو انہوں نے عرض کیا کہ گھر والوں کے لیے اللہ اور اس کا رسول چھوڑ آیا ہوں۔ حضرت عمرؓ اپنے گھر کا آدھا مال لے کر آئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمرؓ سے دریافت فرمایا کہ اپنے گھر والوں کے لیے بھی کچھ چھوڑا ہے تو انہوں نے عرض کیا نصف چھوڑ کر آیا ہوں۔

حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے ایک سو اَوقیہ دیے۔ ایک اَوقیہ چالیس درہم کا ہوتا ہے۔ یعنی تقریباً چار ہزار درہم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عثمان بن عفانؓ اور عبدالرحمٰن بن عوفؓ زمین پر اللہ تعالیٰ کے خزانوں میں سے دو خزانے ہیں جو اللہ کی رضا کے لیے خرچ کرتے ہیں۔

(السیرۃ الحلبیہ جلد 3 صفحہ 184 غزوہ تبوک مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 2002ء)
(لغات الحدیث جلد 4 صفحہ527زیر لفظ "اوقیہ”)

حضرت ام بکر بنت مِسْوَؓر روایت کرتی ہیں کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے حضرت عثمانؓ سے ایک زمین چالیس ہزار دینار کے عوض خریدی اور بنو زُہْرَہ کے غرباء اور ضرورت مندوں اور امہات المومنین میں تقسیم فرما دی۔ مِسْوَر بن مَخْرَمہ کہتے ہیں کہ جب میں نے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو اس زمین میں سے ان کا حصہ دیا تو حضرت عائشہؓ نے دریافت فرمایا کہ یہ کس نے بھیجا ہے؟ میں نے کہا عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے۔ تو حضرت عائشہؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ میرے بعد تم سے حسن سلوک وہی کرے گا جو نہایت درجہ صبر کرنے والا ہو گا۔ پھر آپؓ نے دعا دی کہ اے اللہ ! عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو جنت کے چشمہ سلسبیل کا مشروب پلا۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد جزء 3 صفحہ 98 عبد الرحمٰن بن عوف دار الکتب العلمیۃ بیروت 1990ء)
(روشن ستارےاز غلام باری سیف صاحب جلد دوم صفحہ 119)

ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میرے بعد میرے اہل خانہ کی خبرگیری کرنے والا شخص سچا اور نیکو کار ہی ہو گا۔ چنانچہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ امہات المومنین ؓکو ان کی سواریوں سمیت لے کر نکلتے۔ انہیں حج کراتے اور ان کے کجاووں پر پردے ڈالتے اور پڑاؤ کے لیے ایسی گھاٹیاں منتخب کرتے جن میں گزرگاہ نہ ہوتی تا کہ بے پردگی نہ ہو اور آزادی سے وہ پڑاؤ کر سکیں۔

(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ جز ء4 صفحہ292 عبد الرحمٰن بن عوف دار الفکربیروت1995ء )

ایک بار مدینے میں اجناس خوردنی کا قحط تھا۔ اسی اثنا میں شام سے سات سو اونٹوں پر مشتمل گندم، آٹا اور خوردنی اشیاء کا قافلہ مدینہ آیا جس سے مدینے میں ہر طرف شور مچ گیا۔ حضرت عائشہؓ نے پوچھا یہ شور کیسا ہے؟عرض کیا کہ حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کا سات سو اونٹوں کا قافلہ آیا ہے جس پر گندم آٹا اور کھانے کی اشیاء لدی ہوئی ہیں۔ امّ المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فرمایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، آپؐ فرماتے تھے کہ عبدالرحمٰنؓ جنت میں گھٹنوں کے بل داخل ہو گا۔ ام المومنین حضرت عائشہ ؓکی یہ روایت جب حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کو پہنچی تو وہ آپؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ اے ماں! مَیں آپؓ کو گواہ ٹھہراتا ہوں کہ یہ سارا غلہ اور خوردنی اشیاء اور یہ سب بار دانہ اور اونٹوں کے پالان تک میں نے راہِ خدا میں دے دیے تا کہ میں چل کر جنت میں جاؤں۔

(اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ جزء 3 صفحہ478 عبد الرحمٰن بن عوف دار الکتب العلمیۃ بیروت )
(روشن ستارے از غلام باری سیف صاحب جلد دوم صفحہ 110-111)

حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے انفاق فی سبیل اللہ کے بیشتر واقعات صحابہ کے حالات مدوّن کرنے والوں نے جمع کیے ہیں۔ اسد الغابہ میں لکھا ہے کہ عبدالرحمٰن بن عوفؓ خدا کی راہ میں خرچ کرنے والے تھے۔ ایک بار انہوں نے ایک دن میں تیس غلام آزاد کیے۔

(روشن ستارے از غلام باری سیف صاحب جلد دوم صفحہ 110)

ایک مرتبہ حضرت عمرؓ کو کچھ روپے کی ضرورت تھی۔ انہوں نے حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ سے قرض مانگا۔ انہوں نے کہا اے امیر المومنین! آپؓ مجھ سے ہی کیوں مانگتے ہیں۔ آپؓ بیت المال سے بھی قرض لے سکتے ہیں اور عثمانؓ یا کسی اَور صاحبِ استطاعت سے بھی۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا ایسا اس لیے کرتا ہوں کہ شاید بیت المال کو رقم واپس کرنا بھول جاؤں اور کسی دوسرے سے لوں تو شاید وہ لحاظ یا کسی اَور وجہ سے مجھ سے رقم کی واپسی کا مطالبہ نہ کرے اور مَیں بھول جاؤں لیکن تم اپنی رقم مجھ سے مانگ کر بھی ضرورواپس لے لو گے۔(عشرہ مبشرہ از بشیر ساجد صفحہ 882 البدر پبلیکشنز لاہور )آپس میں بے تکلفی کی یہ حالت تھی اور جب ان کو ضرورت ہوتی تو وہ لے بھی لیا کرتے تھے، لے سکتے تھے۔

حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے بیٹے ابراہیم اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے ابنِ عوف! تم جنت میں رینگتے ہوئے داخل ہوگے کیونکہ مالدار ہو۔ پس راہ خدا میں خرچ کرو تا کہ اپنے قدموں پر چل کر جنت میں داخل ہو سکو۔ یہ جو حضرت عائشہ والی پہلی روایت ہے اس سے بھی یہ ملتی جلتی روایت ہے۔ تو حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ! راہِ خدا میں کیا خرچ کروں؟ فرمایا جو موجود ہے خرچ کرو۔ عرض کیا یا رسول اللہؐ کیا سارا؟ فرمایا ہاں۔ حضرت عبدالرحمٰنؓ یہ ارادہ کر کے نکلے کہ سارا مال راہ خدا میں دے دوں گا۔ تھوڑی دیر بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوا بھیجا اور فرمایا کہ تمہارے جانے کے بعد جبرئیل آئے۔ انہوں نے کہا کہ عبدالرحمٰن کو کہو کہ مہمان نوازی کرے۔ مسکین کو کھانا کھلائے۔ سوالی کو دے اور دوسروں کی نسبت رشتہ داروں پر پہلے خرچ کرے۔ جب وہ ایسا کرے گا تو اس کا مال پاک ہو جائے گا۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد جزء 3 صفحہ 97 من بنی زھرۃ بن کلاب دار الکتب العلمیۃ بیروت 1990ء)
(روشن ستارے از غلام باری سیف صاحب صفحہ 112)

اور پاک مال ، اللہ تعالیٰ کی راہ میں ایسا خرچ کیا ہوا مال جو ہے اس سے پھر گھٹنوں کے بل نہیں بلکہ آپؐ نے فرمایا کہ پاؤں پہ کھڑے ہو کے جنت میں جاؤ گے۔ نتیجہ آگے یہی نکلتا ہے۔ ایک بار اپنا آدھا مال جو چار ہزار درہم تھا راہ خدا میں دے دیا۔ پھر ایک مرتبہ چالیس ہزار درہم۔ پھر ایک بار چالیس ہزار دینار راہ خدا میں صدقہ دیا۔ ایک دفعہ پانچ صد گھوڑے راہ خدا میں وقف کیے۔ پھر دوسری دفعہ پانچ سو اونٹ راہ خدا میں دیے۔

(اسد الغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ جزء 3 صفحہ478 عبد الرحمٰن بن عوف دار الکتب العلمیۃ بیروت )
(روشن ستارے از غلام باری سیف صاحب جلد دوم صفحہ 111)

حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے بیٹے ابو سَلَمہ روایت کرتے ہیں کہ ہمارے ابا نے امہات المومنینؓ کے حق میں ایک باغیچے کی وصیت فرمائی۔ اس باغیچے کی قیمت چار لاکھ درہم تھی۔

(روشن ستارے از غلام باری سیف صاحب جلد دوم صفحہ 119)

حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے راہ ِخدا میں دینے کے لیے پچاس ہزار دینار کی وصیت کی تھی۔ ترکے میں ایک ہزار اونٹ، تین ہزاربکریاں، سو گھوڑے تھے جو بقیع میں چرتے تھے۔ جُرْفجو مدینے سے تین میل شمال کی جانب ایک جگہ ہے جہاں حضرت عمرؓ کی کچھ جائیداد تھی۔ اس مقام پر بیس پانی کھینچنے والے اونٹوں سے آپ زراعت کرتے تھے اور اسی سے گھر والوں کے لیے سال بھر کا غلہ مل جاتا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ ترکے میں اتنا سونا چھوڑا جو کلہاڑیوں سے کاٹا گیا یہاں تک کہ لوگوں کے ہاتھوں میں اس سے چھالے پڑ گئے۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد جزء 3 صفحہ 100-101 عبد الرحمٰن بن عوف دار الکتب العلمیۃ بیروت 1990ء)
(روشن ستارے از غلام باری سیف صاحب جلد دوم صفحہ 118)(فرہنگ سیرت صفحہ87 زوار اکیڈیمی کراچی 2003ء)

حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کا انتقال اکتیس ہجری میں ہوا۔ بعض کے نزدیک بتیس ہجری میں ہوا۔ بہتّر (72) برس زندہ رہے۔ بعض کے نزدیک اٹھہتر برس اور جنت البقیع میں دفن ہوئے۔ حضرت عثمانؓ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی۔ ایک قول کے مطابق حضرت زبیر بن العوامؓ نے جنازہ پڑھایا۔

(الاصابۃ فی تمییز الصحابۃ جز ء4 صفحہ293 عبد الرحمٰن بن عوف دار الفکربیروت1995ء )
(الطبقات الکبریٰ لابن سعد جزء 3 صفحہ 100 عبد الرحمٰن بن عوف دار الکتب العلمیۃ بیروت 1990ء)

حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کی وفات پر چارپائی کے پاس کھڑے ہو کر حضرت سعد بن مالکؓ نے کہا۔ وَاجَبَلَاہ۔ کہ ہائے افسوس پہاڑ جیسی شخصیت اٹھ گئی۔ حضرت علیؓ نے فرمایا ابنِ عوف اس جہان سے رخصت ہو گئے۔ انہوں نے دنیا کے چشمے سے صاف پانی پیا اور گدلا چھوڑ دیا۔ یا یوں کہہ لیجئے کہ ابنِ عوف نے اچھا زمانہ پایا اور بُرے وقت سے پہلے چلے گئے۔

(روشن ستارے از غلام باری سیف صاحب جلد دوم صفحہ 117)

حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے اپنے پسماندگان میں تین بیویاں چھوڑیں۔ ہر ایک بیوی کو اس کے آٹھویں حصے میں سے اسّی اسّی ہزار درہم دیے گئے جبکہ ایک دوسری روایت میں آپ کی چار بیویاں تھیں اور ہر ایک کے حصے میں اسّی ہزار درہم آئے۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد جزء 3 صفحہ 101 عبد الرحمٰن بن عوف دار الکتب العلمیۃ بیروت 1990ء)

اب اگلا ذکر جن صحابی کا ہے ان کا نام حضرت سعد بن مُعاذؓ ہے۔ حضرت سعد بن مُعاذؓ کا تعلق انصار کے قبیلہ اَوس کی شاخ بنو عَبْدُالْاَشْہَل سے تھا اور آپ قبیلہ اوس کے سردار تھے۔ آپؓ کے والد کا نام معاذ بن نعمان تھا اور والدہ کا نام کَبْشَہؓ بنتِ رَافِع تھا جو صحابیہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم تھیں۔ حضرت سَعد بن مُعاذؓ کی کنیت ابو عمَرو تھی۔ حضرت سَعد بن مُعاذؓ کی بیوی کا نام ہِندؓ بنت سِمَاکؓ تھا جو صحابیہ تھیں۔ حضرت ہندؓ سے حضرت سَعد بن مُعاذؓ کی اولاد میں عَمرو اور عبداللہ تھے۔ حضرت سَعد بن مُعاذؓ اور حضرت اُسَید بن حُضَیر نے حضرت مُصْعَب بن عُمَیرؓ کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا اور حضرت مُصْعَب بن عُمَیرؓ بیعت عقبہ ثانیہ میں شامل ہونے والے ستّر صحابہ سے پہلے مدینہ آ گئے تھے۔ ان کو مدینہ بھجوایا گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق لوگوں کو اسلام کی طرف بلاتے اور انہیں قرآن پڑھ کر سناتے۔ جب حضرت سَعد بن مُعاذؓ نے اسلام قبول کیا تو بنو عبدالاشہل سے کہا کہ مجھ پر حرام ہے کہ مَیں تمہارے مردوں اور عورتوں سے کلام کروں یہاں تک کہ تم اسلام قبول کر لو۔ چنانچہ اس قبیلے کے سب افراد نے اسلام قبول کر لیا اور انصار میں سے بنو عبدالاشہل کا گھرانہ وہ پہلا گھرانہ تھا جس کے سب مردوں اور عورتوں نے اسلام قبول کیا۔

حضرت سَعد بن مُعاذؓ حضرت مُصْعَب بن عُمَیرؓ اور حضرت اسعد بن زُرارہ ؓ کو اپنے گھر لے آئے۔ مُصْعَب بن عُمَیر ؓ اور اَسْعَد بن زُرَارہؓ دونوں آدمیوں کو لے آئے۔ پھر وہ دونوں حضرت سَعد بن مُعاذؓ کے گھر میں ہی لوگوں کو اسلام کی دعوت دیا کرتے تھے۔ حضرت سَعد بن مُعاذؓ اور حضرت اَسْعَد بن زُرَارہؓ خالہ زاد بھائی تھے اور حضرت سَعد بن مُعاذؓ اور حضرت اُسَید بن حُضَیر ؓنے بنو عبدالاشہل کے بت توڑے تھے۔ ایک ہی خاندان کے تھے۔ اس لیے جب سارا قبیلہ مسلمان ہو گیا تو انہوں نے ان کے بت توڑے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد کی مؤاخات حضرت سعد بن ابی وقاصؓ سے کی تھی۔ ایک دوسری روایت کے مطابق آپ کی مؤاخات حضرت ابوعُبَیدہ بِن الجَرَّاحؓ سے کی تھی۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد الجزء الثالث صفحہ320-321 ’’سَعْد بِنْ مُعَاذ‘‘ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1990ء)(اسد الغابہ فی معرفة الصحابہ المجلد الثانی صفحہ 461 ’’سَعْد بِنْ مُعَاذ‘‘ دار الکتب العلمیۃ بیروت2003ء)
(الاصابہ فی تمییز الصحابہ لابن حجر عسقلانی جلد03صفحہ70 ’’سَعْد بِنْ مُعَاذ‘‘ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1995ء)

حضرت سَعد بن مُعاذؓ کے قبولیت اسلام کے واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے سیرت خاتم النبیینؐ میں جو لکھا ہے وہ یہ ہے۔ لکھتے ہیں کہ

بیعت عقبہ اولیٰ کے بعد مکہ سے رخصت ہوتے ہوئے ان بارہ نو مسلمین نے درخواست کی کہ کوئی اسلامی معلم ہمارے ساتھ بھیجا جاوے تا کہ وہ ہمیں وہاں دین سکھائے ہمیں اسلام کی تعلیم دے اور ہمارے مشرک بھائیوں کو اسلام کی تبلیغ کرے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نےمُصْعَب بن عُمَیرؓ کو جو قبیلہ عبدالدَّار کے ایک نہایت مخلص نوجوان تھے ان کے ساتھ روانہ کر دیا۔ حضرت مُصْعَب بن عُمَیرؓ کو بھیج دیا۔ اسلامی مبلغ ان دنوں میں قاری یا مُقری کہلاتے تھے کیونکہ ان کا کام زیادہ تر قرآن شریف سنانا تھا کیونکہ یہی تبلیغِ اسلام کا بہترین ذریعہ تھا۔ چنانچہ مُصْعَب بھی جب مبلغ بن کے یثرب میں گئےتو اسی وجہ سے مُقری کے نام سے مشہور ہو گئے۔

مُصْعَب بن عُمَیرؓ نے مدینہ پہنچ کر اَسْعَد بن زُرَارَہ ؓ کے مکان پر قیام کیا۔ غالباً اس کا کچھ حصہ مَیں مُصْعَب بن عُمَیرؓ کے ذکر میں بھی بتا چکا ہوں۔ بہرحال یہاں بھی یہ ذکر ہے۔ انہوں نے اَسْعَد بن زُرَارَہؓ کے مکان پر قیام کیا جو مدینے میں سب سے پہلے مسلمان تھے۔ یہ اَسْعَد بن زُرَارہؓ ویسے بھی ایک نہایت مخلص اور بااثر بزرگ تھے اور اسی مکان کو اپنا تبلیغی مرکز بنایا اور اپنے فرائض کی ادائیگی میں ہمہ تن مصروف ہو گئے۔ اور چونکہ مدینے میں مسلمانوں کو اجتماعی زندگی نصیب تھی اور تھی بھی نسبتاً امن کی زندگی، اس لیے اَسْعَد بن زرَارہ ؓ کی تجویز پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مُصْعَب بن عُمَیرؓ کو جمعے کی نماز کی ہدایت فرمائی۔ اس طرح مسلمانوں کی اشتراکی زندگی کا آغاز اور اللہ تعالیٰ کا ایسا فضل ہوا کہ تھوڑے ہی عرصہ میں مدینہ میں گھر گھر اسلام کا چرچا ہونے لگا۔ جمعہ باقاعدہ وہاں پڑھا جانے لگا اور اسلام کا چرچا بھی ہونے لگا اور اَوس اور خزرج بڑی سرعت کے ساتھ مسلمان ہونے شروع ہو گئے۔ بعض صورتوں میں تو ایک قبیلے کا قبیلہ ایک دن میں ہی سب کا سب مسلمان ہو گیا۔ چنانچہ بنو عبدالاشہل کا قبیلہ بھی اسی طرح ایک ہی وقت میں اکٹھا مسلمان ہوا تھا۔ یہ قبیلہ انصار کے مشہور قبیلہ اوس کا ایک ممتاز حصہ تھا اور اس کے رئیس کا نام سَعد بن مُعاذؓ تھا جو صرف قبیلہ بنوعبدالاشہل کے ہی رئیس اعظم نہیں تھے بلکہ تمام قبیلہ اوس کے سردار تھے۔

جب مدینہ میں اسلام کا چرچا ہوا تو سَعد بن مُعاذؓ کو یہ بُرا معلوم ہوا اور انہوں نے اسے روکنا چاہا۔ جب سَعد بن مُعاذؓ مسلمان نہیں ہوئے تھے اور جب اسلام مدینے میں پھیلنا شروع ہوا یہ قبیلے کے رئیس تھے تو ان کو بہت برا لگا۔ مگر اَسْعَد بن زُرَارَہ ؓسے ان کی بہت قریب کی رشتہ داری تھی ایک دوسرے کے خالہ زاد بھائی تھے اور اسعد مسلمان ہو چکے تھے اس لیے سَعد بن مُعاذؓ خود براہِ راست دخل دیتے ہوئے جھجکتے تھے۔ رکتے تھے کہ آپس میں رشتہ داریوں میں کوئی بد مزگی پیدا نہ ہو جائے۔ لہٰذا انہوں نے اپنے ایک دوسرے رشتہ دار اُسید بن الحضیر سے کہاکہ اَسْعَد بن زُرَارہ ؓ کی وجہ سے مجھے تو کچھ حجاب ہے مگر تم جاکر مُصْعَب کو روک دو کہ ہمارے لوگوں میں یہ بے دینی نہ پھیلائیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مکے سے جو مبلغ بھیجے تھے ان کو جاکے روکو کہ یہ دین ہمارے شہر میں نہ پھیلائیں اور اسعدؓ سے بھی کہہ دو کہ یہ طریق اچھا نہیں ہے۔ اُسَید جو تھے وہ قبیلہ بنو اَشْہَل کے ممتاز رؤسا میں سے تھے۔ حتی کہ ان کا والد جنگِ بُعاث میں تمام اوس کا سردار رہ چکا تھا۔ جنگ بُعَاث جو ہے اس کا پہلے بھی ذکر ہو چکا ہے کہ یہ جنگ اسلام سے قبل مدینے کے دو قبائل اوس اور خزرج کے درمیان ہوئی تھی۔

بہرحال سَعد بن مُعاذؓ کے بعد اُسَید بن حُضَیر ؓ کا اپنے قبیلہ پر بہت اثر تھا۔ چنانچہ سعدؓ کے کہنے پر وہ مُصْعَب بن عُمَیرؓ اور اَسْعَد بن زرَارہ ؓ کے پاس گئے اور مصعبؓ سے مخاطب ہو کر غصہ کے لہجہ میں کہا۔ تم کیوں ہمارے آدمیوں کو بے دین کرتے پھرتے ہو۔ اس سے باز آ جاؤ ورنہ اچھا نہیں ہو گا۔ پیشتر اس کے کہ مصعبؓ کچھ جواب دیتے اسعدؓ نے آہستگی سے مصعبؓ سے کہا کہ یہ اپنے قبیلہ کے ایک بااثر رئیس ہیں ان سے بہت نرمی اور محبت سے بات کرنا۔ چنانچہ مصعبؓ نے بڑے ادب اور محبت کے رنگ میں اسیدؓ سے کہا کہ آپ ناراض نہ ہوں بلکہ مہربانی فرما کر تھوڑی دیر تشریف رکھیں، ٹھنڈے دل سے ہماری بات سن لیں اور اس کے بعد کوئی رائے قائم کریں۔ اُسَیدؓ اس بات کو معقول سمجھ کر بیٹھ گئے اور مصعبؓ نے انہیں قرآن شریف سنایا اور بڑی محبت کے پیرایہ میں اسلامی تعلیم سے آگاہ کیا۔ اُسیدؓ پر اتنا اثر ہوا کہ وہیں مسلمان ہو گئے اور پھر کہنے لگے کہ میرے پیچھے ایک ایسا شخص ہے جو اگر ایمان لے آیا تو ہمارا سارا قبیلہ مسلمان ہو جائے گا جس نے مجھے بھیجا ہے۔تم ٹھہرو میں اسے بھی یہاں بھیجتا ہوں۔ یہ کہہ کر اسید اٹھ کر چلے گئے اور کسی بہانہ سے سَعد بن مُعاذؓ کو مُصْعَب بن عُمَیرؓ اور اَسْعَد بن زُرَارہ ؓ کی طرف بھجوا دیا۔ سَعد بن مُعاذؓ آئے اور بڑے غضبناک ہو کر اَسْعَد بن زُرَارہ ؓ سے کہنے لگے کہ دیکھو اسعد! تم اپنی قرابت داری کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہو۔ میری جو تمہارے سے رشتہ داری ہے اس کا ناجائز فائدہ اٹھا رہے ہو اور یہ ٹھیک نہیں ہے۔ اس پر مصعبؓ نے جو مبلغ تھے اور مکہ سے آئے ہوئے تھے، اسی طرح نرمی اور محبت کے ساتھ ان کو ٹھنڈا کیا۔ حضرت مصعبؓ نے بڑی محبت سے ان سے بات کی۔ انہوں نے کہا کہ آپ ذرا تھوڑی دیر تشریف رکھ کر میری بات سن لیں اور پھرا گر اس میں کوئی چیز قابل اعتراض ہو تو بے شک ردّ کر دیں۔ سعد نے کہا ہاں یہ مطالبہ معقول ہے اور اپنا نیزہ ٹیک کر بیٹھ گئے۔ نیزہ ان کے ہاتھ میں تھا اور اکثر جو تھے وہ اس طرح ہی ہتھیار لے کے پھرا کرتے تھے۔ اور مصعبؓ نے اسی طرح پہلے قرآن شریف کی تلاوت کی اور پھر اپنے دلکش رنگ میں اسلامی اصول کی تشریح کی۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ؓلکھتے ہیں ابھی زیادہ دیرنہیں گزری تھی کہ یہ بت بھی رام تھا۔ یعنی دل ان کا نرم ہو گیا اور ان پر بھی اسلام کی تعلیم کا اثر ہو گیا۔ چنانچہ سعدؓ نے مسنون طریق پر غسل کر کے کلمہ شہادت پڑھ دیا اور پھر اس کے بعد سعدؓ اور اُسَید بن حُضَیر ؓ دونوں مل کر اپنے قبیلہ والوں کی طرف گئے اور سعدؓ نے ان سے اپنے قبیلے والوں سے مخصوص عربی انداز میں پوچھا کہ اے بنی عبدالاشہل تم مجھے کیسا جانتے ہو؟ سب نے ایک زبان ہو کر کہا کہ آپ ہمارے سردار اور سردار ابن سردار ہیں اور آپ کی بات پر ہمیں کامل اعتماد ہے۔ سعدؓ نے کہا تو پھر میرے ساتھ تمہارا کوئی تعلق نہیں جب تک تم اللہ اور اس کے رسولؐ پر ایمان نہ لاؤ۔ اسی وقت تبلیغ بھی شروع کر دی۔ اس کے بعد سعدؓ نے انہیں اسلام کے اصول سمجھائے یعنی اپنے قبیلے والوں کو اسلام کے اصول سمجھائے۔ تعلیم دی اور کہتے ہیں کہ ابھی اس دن پر شام نہیں آئی تھی اور دن ختم نہیں ہوا تھا کہ شام سے پہلے پہلے ہی تمام قبیلہ مسلمان ہو گیا اور سعدؓ اور اسیدؓ نے خود اپنے ہاتھوں سے اپنی قوم کے بت نکال کر توڑے۔

سَعد بن مُعاذؓ اور اُسَید بن حُضَیر ؓ جو اس دن مسلمان ہوئے تھے دونوں چوٹی کے صحابہ میں شمار ہوتے ہیں اور انصار میں تو حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ؓ لکھتے ہیں کہ لارَیب ان کا بہت ہی بلند مقام تھا۔ کوئی شک نہیں اس میں کہ ان کا بہت بلند مقام تھا۔ بالخصوص سَعد بن مُعاذؓ کو تو انصارِ مدینہ میں وہ پوزیشن حاصل تھی جو مہاجرین مکہ میں حضرت ابو بکر ؓکو حاصل تھی۔ یہ نوجوان نہایت درجہ مخلص، نہایت درجہ وفادار اور اسلام اور بانی اسلام ؐکا ایک نہایت جاں نثار عاشِق نکلا اور چونکہ وہ اپنے قبیلے کا رئیس اعظم بھی تھا اور نہایت ذہین تھا۔ اسلام میں اسے وہ پوزیشن حاصل ہوئی جو صرف خاص بلکہ اَخَصّ صحابہ کو حاصل تھی، بہت ہی خاص صحابہ کو وہ حاصل تھی اور لارَیب اس کی جوانی کی موت پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کہ سعدؓ کی موت پر تو رحمٰن کا عرش بھی حرکت میں آگیا ہے ایک گہری صداقت پر مبنی تھا۔ ان کی جوانی میں موت ہو گئی تھی۔

غرض اس طرح سرعت کے ساتھ اوس اور خزرج میں اسلام پھیلتا گیا۔ یہود خوف بھری آنکھ کے ساتھ یہ نظارہ دیکھتے تھے اور دل ہی دل میں یہ کہتے تھے کہ خدا جانے کیا ہونے والا ہے۔

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔ اے صفحہ224تا 227)
(فرہنگ سیرت صفحہ60 زوار اکیڈیمی کراچی 2003ء)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ؓنے کتاب سیرت خاتم النبیینؐ میں مزید ایک جگہ تحریر فرمایا ہے کہ ابھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کومدینہ میں تشریف لائے زیادہ عرصہ نہیں گزراتھا کہ قریش مکہ کی طرف سے عبداللہ بن ابی بن سلول رئیس قبیلہ خزرج اوراس کے مشرک رفقاء کے نام ، مکہ والوں کی طرف سے ایک تہدیدی خط آیا کہ تم لوگ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) کی پناہ سے دستبردار ہوجاؤ ورنہ تمہاری خیر نہیں ہے۔ چنانچہ اس خط کے الفاظ یہ تھےکہ تم لوگوں نے ہمارے آدمی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوپناہ دی ہے اورہم خدا کی قسم کھا کر کہتے ہیں کہ یاتو تم اس کا ساتھ چھوڑ کر اس کے خلاف جنگ کرو یا کم از کم اسے اپنے شہرسے نکال دو ورنہ ہم اپنا سارا لاؤ لشکر لے کر تم پر حملہ آور ہوجائیں گے اورتمہارے سارے مردوں کو تہ تیغ کردیں گے اور تمہاری عورتوں پر قبضہ کرکے انہیں اپنے لیے جائز کرلیں گے۔

جب مدینہ میں یہ خط پہنچا توعبداللہ اوراس کے ساتھی جو پہلے سے ہی دل میں اسلام کے سخت دشمن ہورہے تھے۔ ان کے اندر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف، اسلام کے خلاف کینے پنپ رہے تھے۔ انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے جنگ کرنے کے لیے تیاری شروع کر دی، تیار ہوگئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ اطلاع ملی توآپؐ فوراً ان لوگوں سے ملے اور ان لوگوں کے پاس گئے۔ ان کو، عبداللہ بن ابی بن سلول اور اس کے ساتھیوں کوسمجھایا کہ میرے ساتھ جنگ کرنے میں تمہارا اپنا ہی نقصان ہے کیونکہ تمہارے ہی بھائی بند تمہارے مقابلے میں ہوں گے۔ یہ لوگ جو مسلمان ہوئے ہیں یہ تمہارے قبیلے کے لوگ ہیں، تمہارے شہر کے لوگ ہیں اور جب جنگ کرو گے تو یہی لوگ میری طرف سے تمہارے خلاف لڑیں گے۔ یعنی اوس اورخزرج کے مسلمانوں نے بہرحال میرا ساتھ دینا ہے۔ آپؐ نےانہیں یہ فرمایا ۔ پھر آپؐ نے فرمایا پس میرے ساتھ جنگ کرنے کے صرف یہ معنے ہوں گے کہ تم لوگ اپنے ہی بیٹوں اوربھائیوں اور باپوں کے خلاف تلوار اٹھاؤ۔ اب تم خود سوچ لو کہ یہ ٹھیک ہے۔ عبداللہ اوراس کے ساتھیوں کو جن کے دلوں میں ابھی تک جنگ بُعاث کی تباہی کی یاد تازہ تھی۔ آپس میں یہ لڑتے رہے تھے۔ اس جنگ سے بڑی تباہی پھیلی تھی۔ ان کو یہ بات سمجھ آگئی کہ دوبارہ آپس میں ہی لڑنا پڑے گا اور وہ اس ارادے سے باز آ گئے۔

جب قریش کو اس تدبیر میں ناکامی ہوئی تو انہوں نے کچھ عرصے کے بعد اسی قسم کا ایک خط مدینے کے یہود کے نام بھی ارسال کیا۔ دراصل کفار مکہ کی غرض یہ تھی کہ جس طرح بھی ہو اسلام کے نام و نشان کو صفحہ ہستی سے مٹادیا جاوے۔ دنیا سے اس کا نام ہی ختم کر دیا جائے۔ مسلمان ان کے مظالم سے تنگ آ کر حبشہ گئے۔ جب حبشہ کی پہلی ہجرت ہوئی تھی تو وہاں انہوں نے ، کافروں نے ان کا پیچھا کیا۔ تو ہمیشہ پہلے دن سے ہی یہی کوشش کی تھی اوراس بات کی کوشش میں اپنی انتہائی طاقت صرف کردی کہ نیک دل نجاشی ان مظلوم غریب الوطنوں کو مکہ والوں کے حوالے کر دے۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے جب مدینہ آگئے توقریش نے آپ کا تعاقب کرکے آپ کوگرفتار کرلینے میں بھی کوئی دقیقہ اٹھا نہیں رکھا۔ پوری کوشش کی۔ ہر موقع پر انہوں نے کوشش کی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یا اسلام کو کسی طرح ختم کیا جائے اوراب جب انہیں یہ علم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اورآپؐ کے اصحاب مدینہ پہنچ گئے ہیں اور وہاں اسلام سرعت کے ساتھ پھیل رہا ہے توانہوں نے یہ تہدیدی خط بھیج کر مدینہ والوں کو آپؐ کے ساتھ جنگ کرکے اسلام کو ملیامیٹ کردینے یا آپؐ کی پناہ سے دستبردار ہوکرآپؐ کومدینہ سے نکال دینے کی تحریک کی۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ لکھتے ہیں کہ یہ خط جو لکھا تھا تو قریش کے اس خط سے عرب کی اس رسم پربھی روشنی پڑتی ہے کہ وہ اپنی جنگوں میں اپنے دشمنوں کے ساتھ دشمن کے سارے مردوں کو قتل کرکے ان کی عورتوں پر قبضہ کرلیا کرتے تھے اورپھر ان کو اپنے لیے جائز سمجھتے تھے اورنیز یہ کہ مسلمانوں کے متعلق ان کے ارادے اس سے بھی زیادہ خطرناک تھے کیونکہ جب یہ سزا انہوں نے مسلمانوں کے پناہ دینے والوں کو دینی تھی اور یہ ان کے لیے تجویز کی تھی کہ ہم تمہارے مردوں کو قتل کر دیں گے اور عورتوں کو اپنے لیے جائز کر لیں گے توخود مسلمانوں کے لیے تو یقینا ًوہ اس سے بھی زیادہ سخت ارادے رکھتے ہوں گے۔ بہرحال قریش مکہ کا یہ خط ان کے کسی عارضی جوش کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ مستقل طورپر اس بات کا تہیہ کر چکے تھے کہ مسلمانوں کو چین سے نہیں بیٹھنے دینا۔ ان کو چین نہیں لینے دیں گے اوراسلام کو دنیا سے مٹا کر چھوڑیں گے۔ چنانچہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے اپنی کتاب میں ایک واقعہ لکھا ہے۔

لکھتے ہیں کہ یہ تاریخی واقعہ مکہ کے خونی ارادوں کا پتہ دے رہا ہے۔وہ واقعہ اس طرح ہے جس کی بخاری میں روایت آتی ہے کہ ہجرت کے کچھ عرصہ بعد سَعد بن مُعاذؓ جو قبیلہ اوس کے رئیس اعظم تھے اورمسلمان ہو چکے تھے عمرہ کے خیال سے مکہ گئے اوراپنے زمانہ جاہلیت کے دوست، پرانے زمانے میں، جاہلیت کے زمانے میں امیہ بن خَلَف رئیس مکہ ان کا دوست تھا۔ وہ اس کے پاس جا کے ٹھہرے۔ چونکہ وہ جانتے تھے کہ اگر وہ اکیلے عمرہ ادا کرنے، طواف کرنے گئے تو مکہ والے ان کے ساتھ ضرور چھیڑ چھاڑ کریں گے۔ اس لیے انہوں نے فتنہ سے بچنے کے لیے امیہ سے کہا کہ میں کعبۃاللہ کاطواف کرنا چاہتا ہوں۔ تم میرے ساتھ ہوکرایسے وقت میں مجھے طواف کرا دو جبکہ میں علیحدگی میں امن کے ساتھ اس کام سے فارغ ہو کر اپنے وطن واپس چلا جاؤں۔ چنانچہ امیہ بن خَلَف دوپہر کے وقت جبکہ لوگ عموماً اپنے اپنے گھروں میں ہوتے ہیں سعد کو لے کر کعبہ کے پاس پہنچا لیکن اتفاق ایسا ہوا کہ عین اسی وقت ابوجہل بھی وہاں آ نکلا اور جونہی اس کی نظر سعدؓ پر پڑی اس کی آنکھوں میں خون اتر آیا مگر اپنے غصہ کو دبا کر وہ امیہ سے یوں مخاطب ہوا کہ اے ابوصفوان! یہ تمہارے ساتھ کون شخص ہے؟ امیہ نے کہاکہ یہ سَعد بن مُعاذؓ رئیس اوس ہے۔ اس پر ابوجہل نہایت غضبناک ہوکر سعدؓ سے مخاطب ہوا کہ کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہوکہ اس مرتد (نعوذ باللہ) محمد صلی اللہ علیہ وسلم کوپناہ دینے کے بعد تم لوگ امن کے ساتھ کعبہ کا طواف کر سکو گے اورتم یہ گمان کرتے ہو کہ تم اس کی یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت اورامداد کی طاقت رکھتے ہو؟ کہنے لگا کہ خدا کی قسم! اگر اس وقت تیرے ساتھ ابوصفوان نہ ہوتا تواپنے گھروالوں کے پاس بچ کر نہ جاتا سَعد بن مُعاذؓ فتنہ سے بچتے تھے مگران کی رگوں میں بھی ریاست کا خون تھا اور دل میں ایمانی غیرت جوش زن تھی۔ کڑک کر بولے کہ واللہ! اگرتم نے ہم کو کعبہ سے روکا تو یاد رکھو کہ پھر تمہیں بھی تمہارے شامی راستے پرامن نہیں مل سکے گا۔ ہم بھی راستے میں بیٹھے ہیں ہم بھی تمہارے خلاف بہت کچھ کریں گے۔ امیہ نے ان کی جو یہ بات سنی اور اسی طرح ان کا غصہ بھی دیکھا تو کہنے لگا کہ سعد دیکھو! ابوالحکم سید اہلِ وادی کے مقابلہ میں یوں آواز بلند نہ کرو۔ کہ یہ ابوالحکم جو ہے مکہ والےابوجہل کا نام ابوالحکم لیتے تھے، مکہ کی وادی کا یہ سردار ہے ۔ اس کے سامنے اس طرح بلند آواز سے نہ بولو۔ سعدؓ بھی غصے میں تھے اس کی یہ بات سن کے امیہ کو کہنے لگے کہ جانے دو امیہ ! تم اس بات میں نہ پڑو۔ واللہ ! مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی نہیں بھولتی کہ تم کسی دن مسلمانوں کے ہاتھوں سے قتل ہو گے۔ یعنی امیہ جو ہے وہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے قتل ہو گا۔یہ خبر سن کر امیہ بن خَلَف سخت گھبرا گیا اور گھر میں آ کر اس نے اپنی بیوی کو سعدؓ کی اس بات سے اطلاع دی اور کہا کہ خدا کی قسم! مَیں تو اب مسلمانوں کے خلاف مکہ سے نہیں نکلوں گا۔ یہ یقین تھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بات کی ہے اور ہمیشہ آپؐ کی باتیں پوری ہوتی ہیں تو میرے متعلق بھی یہ بات پوری ہو جائے گی ۔لیکن تقدیر کے نوشتے پورے ہونے تھے۔ بدر کے موقع پر امیہ کو مجبوراً مکہ سے نکلنا پڑا اور وہیں وہ مسلمانوں کے ہاتھ سے قتل ہوکر اپنے کیفرکردار کو پہنچا۔ یہ امیہ وہی تھا جوحضرت بلالؓ پراسلام کی وجہ سے نہایت سخت مظالم کیا کرتا تھا۔

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔ اے صفحہ 280 تا 282)

صحیح بخاری کی ایک روایت میں اس طرح ذکر ہے کہ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ سے روایت ہے کہ حضرت سَعد بن مُعاذؓ عمرے کی نیت سے چلے گئے۔ حضرت عبداللہؓ کہتے تھے اور وہ امیہ بن خَلَف ابوصفوان کے پاس اترے۔ انہوں نے یہ روایت کی کہ اس کے پاس اترے۔ پرانی واقفیت تھی۔ امیہ حضرت سعدؓ کے پاس مدینے میں آ کے ٹھہرا کرتا تھا اور جب آپؓ نے عمرے کا ارادہ کیا تو یہی سوچا کہ اس کے پاس ٹھہریں اور امن سے عمرہ کر سکیں۔ امیہ کی عادت تھی کہ جب شام کی طرف جاتا تھا تو مدینے سے گزرتا تھا اور حضرت سعدؓ کے پاس ٹھہرتا تھا۔ جیسا کہ مَیں نے کہا کہ پرانی واقفیت تھی۔ وہ ان کے پاس مدینے میں ٹھہرتا تھا تو آپؓ نے، حضرت سعدؓ نے بھی ارادہ کیاکہ اس کے پاس ٹھہریں۔ جب آپؓ نے ذکر کیا کہ میں نے عمرہ کرنا ہے تو امیہ نے حضرت سعدؓ سے کہا کہ ابھی انتظار کرو۔ جب دوپہر ہو اور لوگ غافل ہو جائیں تو جا کر طواف کر لینا۔ روایت والے کہتے ہیں کہ اس اثنا میں کہ حضرت سعدؓ طواف کر رہے تھے کیا دیکھتے ہیں کہ ابوجہل ہے۔ ابوجہل اس دوران آگیا اور وہ کہنے لگا یہ کون ہے؟ یہ کون ہے جو کعبہ کا طواف کر رہا ہے؟ حضرت سعدؓ نے کہا میں سعد ہوں۔ خود ہی جواب دیا میں سعد ہوں۔ ابوجہل بولا کیا تم خانہ کعبہ کا طواف امن سے کرو گے حالانکہ تم نے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) اور اس کے ساتھیوں کو پناہ دی ہے۔ حضرت سعدؓ نے کہا ہاں۔ تب ان دونوں نے ایک دوسرے کو گالیاں دیں۔ یہ راوی روایت کرتے ہیں۔ امیہ نے حضرت سعد سے کہا ابوالحکم پر اپنی آواز اونچی نہ کرو کیونکہ وہ باشندگانِ وادی کا سردار ہے۔ حضرت سعدؓ نے کہا یعنی ابوجہل کو کہا بخدا! اگر تم نے بیت اللہ کا طواف کرنے سے مجھے روکا تو میں بھی شام میں تمہاری تجارت بند کر دوں گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعوؓد کہتے ہیں کہ یہ سن کر امیہ حضرت سعدؓ سے یہی کہتا رہا کہ اپنی آواز کو بلند نہ کرو اور ان کو روکتا رہا۔ حضرت سعد ؓ غصہ میں آ گئے اور کہنے لگے ہمیں ان باتوں سے رہنے دو۔ میں اور یہ ابوجہل بات کر رہے ہیں، ہمیں بات کرنے دو اور امیہ کو کہا کہ میں نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے کہ امیہ کو یہی قتل کروانے والا ہے یعنی ابوجہل جو ہے یہی تمہارے قتل کا ذریعہ بنے گا۔ امیہ نے کہا، مجھے؟ حضرت سعدؓ نے کہا ہاں۔ یہ سن کر امیہ بولا اللہ کی قسم !محمدؐ جب بات کہتے ہیں تو جھوٹی بات نہیں کہتے۔ آخر وہ اپنی بیوی کے پاس واپس آیا اور کہنے لگا کیا تمہیں علم نہیں کہ میرے یثربی بھائی نے مجھ سے کیا کہا ہے؟ اس نے پوچھا کیا کہا؟ امیہ نے کہا کہتا ہے کہ اس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ وہ کہتے ہیں کہ ابوجہل ہی میرا قاتل ہو گا۔ اس کی بیوی نے کہا اللہ کی قسم !محمد تو جھوٹی بات نہیں کیا کرتے (صلی اللہ علیہ وسلم) ۔ حضرت عبداللہ بن مسعودؓ کہتے تھے کہ جب وہ بدر کی طرف نکلے اور مدد طلب کرنے کے لیے فریادی آیا تو امیہ کی بیوی نے اسے کہا کہ کیا وہ بات تمہیں یاد نہیں جو تمہارے یثربی بھائی نے تم سے کہی تھی۔ بدر کے لیے جب نکلنے لگے تو یاد کرایا کہ تم جا رہے ہو لیکن وہ بات یاد رکھو ۔کہتے تھے اس نے چاہا کہ نہ نکلے یعنی امیہ نےاس بات پر چاہا کہ نہ نکلے مگر ابوجہل نے اسے کہا کہ تم اس وادی کے رؤسا میں سے ہو تو ایک دو دن کے لیے ہی ساتھ چلو۔ چنانچہ وہ ان کے ساتھ دو دن کے لیے چلا گیا اور اللہ تعالیٰ نے اس کو قتل کرا دیا۔

(صحیح بخاری کتاب المناقب باب علامات النبوۃ فی الاسلام حدیث: 3632)

ایک دوسری روایت میں امیہ بن خَلَف کے جنگِ بدر میں شریک ہونے اور قتل کیے جانے کے بارے میں یوں بیان ہوا ہے۔ حضرت سعدؓ نے کہا امیہ! بخدا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے آپؐ فرماتے تھے کہ وہ یعنی صحابہ تمہیں مار ڈالیں گے۔ اس نے پوچھا مکہ میں؟ حضرت سعدؓ نے کہا کہ یہ میں نہیں جانتا۔ امیہ حضرت سعد کی یہ بات سن کر بہت ڈر گیا۔ جب امیہ اپنے گھر گیا تو اپنی بیوی صفیہ یا کریمہ بنت مُعْمَر سے کہنے لگا کہ اے ام صفوان! تو نے سعد کی بات سنی جو اس نے میرے بارے میں کہی۔ بیوی نے کہا کہ کیوں سعد ؓکیا کہتا ہے؟ اس پر امیہ نے کہا وہ کہتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے بیان کیا ہے کہ وہ مجھ کو مار ڈالیں گے۔ میں نے پوچھا کہ مکہ میں؟ تو اس نے کہا کہ میں نہیں جانتا۔ پھر امیہ نے کہا کہ بخدا میں مکہ سے نکلوں گا ہی نہیں۔ اس قدر خوفزدہ ہو گیا۔ جب بدر کی جنگ ہوئی تو ابوجہل نے لوگوں سے جنگ کے لیے نکلنے کوکہا اور امیہ کو بھی کہا کہ اپنے قافلے کو بچانے کے لیے پہنچو۔ امیہ نے نکلنا پسند نہیں کیا۔ ابوجہل امیہ کے پاس آیا۔ جب بھیجے ہوئے پیغامبر کو انکار کر دیا تو پھر ابوجہل خود آیا اور کہنے لگا کہ ابوصفوان! جب لوگ تمہیں دیکھیں گے کہ تم ہی پیچھے رہ گئے ہو جبکہ تم اہلِ وادی کے سردار ہو تو وہ بھی تمہارے ساتھ پیچھے رہ جائیں گے۔ ابوجہل اسے سمجھاتا رہا۔ آخر امیہ نے کہا کہ اگر تم نے مجبور ہی کرنا ہے تو بخدا میں مکہ سے ایک نہایت ہی عمدہ اونٹ خریدوں گا۔ اس کے بعد امیہ نے کہا ام صفوان میرے لیے سفر کا سامان تیار کرو۔ اپنی بیوی سے کہا تو وہ اسے کہنے لگی کہ تم وہ بات بھول گئے ہو جو تم سے تمہارے یثربی بھائی نے کہی تھی۔ کہنے لگا نہیں۔ مَیں بھولا نہیں ہوں۔ میں تھوڑی دور ان کے ساتھ جانا چاہتا ہوں۔ واپس آجاؤں گا آخر تک نہیں جاؤں گا۔ جب امیہ نکلا تو جس منزل میں بھی وہ اترتا وہاں اپنا اونٹ کا گھٹنا باندھ دیتا۔ وہ یہی احتیاط کرتا رہا یہاں تک کہ اللہ عز و جل نے بدر میں اس کو ہلاک کر دیا۔

(صحیح بخاری کتاب المغازی، باب ذکر النبی ﷺ من یقتل ببدر حدیث : 3950)

اس قتل کا واقعہ پہلے بھی ایک جگہ بیان ہو چکا ہے اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے ذکر میں گذشتہ خطبے میں بھی بیان ہو چکا ہے جب حضرت بلالؓ نے انصار کو بلا کر اس کے ظلم کی وجہ سےاسے قتل کروا دیا جو وہ حضرت بلالؓ پر کیا کرتا تھا ۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سَعد بن مُعاذؓ کے بارے میں فرماتے ہیں کہ’’مدینہ کے ایک رئیس سَعد بن مُعاذؓ جو اوس قبیلہ کے سردار تھے بیت اللہ کا طواف کرنے کے لیے مکہ گئے تو ابوجہل نے ان کو دیکھ کر بڑے غصہ سے کہا۔ کیا تم لوگ یہ خیال کرتے ہو کہ اس مرتد (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم) کو پناہ دینے کے بعد تم لوگ امن کے ساتھ کعبہ کا طواف کر سکو گے اور تم یہ گمان کرتے ہو کہ تم اس کی حفاظت اور امداد کی طاقت رکھتے ہو؟ خدا کی قسم! اگر اس وقت تیرے ساتھ ابوصفوان نہ ہوتا تو تُو اپنے گھر والوں کے پاس بچ کر نہ جا سکتا۔ سَعد بن مُعاذؓ نے کہا واللہ! اگرتم نے ہمیں کعبہ سے روکا تو یاد رکھو پھر تمہیں بھی تمہارے شامی راستہ پر امن نہیں مل سکے گا۔‘‘

(دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد 20صفحہ 235-236)

حضرت سَعد بن مُعاذؓ غزوۂ بدر، احد اور خندق میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شامل ہوئے۔ غزوۂ بدر کے روز اوس کا جھنڈا حضرت سَعد بن مُعاذؓ کے پاس تھا۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد الجزء الثالث صفحہ321-322 ’’سَعْد بِنْ مُعَا‘‘ ، دار الکتب العلمیۃ بیروت 1990ء)

غزوۂ بدر کے موقعے پر حضرت سَعد بن مُعاذؓ کا جوش و جذبہ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و فدائیت کا اظہار اس واقعے سے ہوتا ہے جو بدر میں انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنی رائے دی تھی اور جس کا حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ؓ نے سیرت خاتم النبیینؐ میں یوں ذکر کیا ہے کہ

جب مسلمان وادی صَفْرَا ،صفرا بھی بدر اور مدینے کے درمیان ایک وادی کا نام ہے جہاں آپ نے بدر کا تمام مال غنیمت مسلمانوں میں برابر تقسیم فرمایا تھا ۔اس وادی میں کھجور کے درخت اور کھیتی باڑی بھی کثرت سے ہوتی ہے۔ اس کے اور بدر کے درمیان ایک مرحلے کا فاصلہ ہے۔ بہرحال جب وہ اس وادی کے ایک پہلو سے گزرے اور گزرتے ہوئے زَفِرَانْ میں پہنچے جو بدر سے صرف ایک منزل ورے ہے تو یہ اطلاع موصول ہوئی کہ قافلے کی حفاظت کے لیے قریش کاایک بڑا جرار لشکر مکہ سے آرہا ہے۔ وہ ایک تجارتی قافلہ جو پہلے تھا اس کی مدد کے لیے ایک اَور جرار لشکر آ رہا ہے۔ ان کو شک تھا کہ شاید مدینہ والے اس قافلے پرحملہ کرنے والے ہیں۔ اب چونکہ اخفائے راز کا موقع گزرچکا تھا۔ چھپی ہوئی بات نہیں رہی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تمام صحابہ کو جمع کرکے انہیں اس خبر سے اطلاع دی اور ان سے مشورہ پوچھا کہ اب کیا کرنا چاہیے۔ بعض صحابہؓ نے عرض کیا کہ یارسول اللہؐ! ظاہری اسباب کاخیال کرتے ہوئے تو یہی بہتر معلوم ہوتا ہے کہ قافلہ سے سامنا ہو کیونکہ لشکر کے مقابلہ کے لیے ہم ابھی پوری طرح تیار نہیں۔مگر آپؐ نے اس رائے کوپسند نہ فرمایا۔ دوسری طرف اکابر صحابہ نے یہ مشورہ سنا تواٹھ اٹھ کرجاں نثارانہ تقریریں کیں اور عرض کیا کہ ہمارے جان ومال سب خدا کے ہیں۔ ہم ہر میدان میں ہر خدمت کے لیے حاضر ہیں۔ چنانچہ مقداد بن اسودؓ نے جن کا دوسرا نام مقداد بن عمرو بھی تھا کہا یا رسول اللہؐ! ہم موسیٰ کے اصحاب کی طرح نہیں ہیں کہ آپؐ کو یہ جواب دیں کہ جا تُو اور تیرا خدا جا کر لڑو ہم یہیں بیٹھے ہیں بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ آپؐ جہاں بھی چاہتے ہیں لے چلیں ہم آپؐ کے ساتھ ہیں اور ہم آپؐ کے دائیں اور بائیں اور آگے اور پیچھے ہوکر لڑیں گے۔ آپؐ نے یہ تقریر سنی تو آپؐ کاچہرہ مبارک خوشی سے تمتمانے لگا۔ مگر اس موقع پر بھی آپؐ انصار کے جواب کے منتظرتھے۔ چاہتے تھے کوئی انصاری سردار بھی یہی باتیں کہے۔ وہ کچھ بولیں کیونکہ آپؐ کو یہ خیال تھا کہ شاید انصار یہ سمجھتے ہوں کہ بیعتِ عقبہ کے ماتحت ہمارا فرض صرف اس قدر ہے کہ اگرعین مدینہ پر کوئی حملہ ہوتو اس کا دفاع کریں۔ چنانچہ باوجود اس قسم کی جاں نثارانہ تقریروں کے آپؐ یہی فرماتے گئے کہ اچھا پھر مجھے مشورہ دو کہ کیا کیا جاوے؟ سَعد بن مُعاذؓ رئیس اوس نے آپؐ کا منشا سمجھا اورانصار کی طرف سے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ؐ! شاید آپؐ ہماری رائے پوچھتے ہیں۔ خداکی قسم! جب ہم آپؐ کو سچا سمجھ کر آپؐ پرایمان لے آئے ہیں اورہم نے اپنا ہاتھ آپؐ کے ہاتھ میں دے دیا ہے توپھر اب آپؐ جہاں چاہیں چلیں ہم آپؐ کے ساتھ ہیں اوراس ذات کی قسم جس نے آپؐ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے کہ اگر آپؐ ہمیں سمندر میں کود جانے کو کہیں توہم کود جائیں گے اورہم میں سے ایک فرد بھی پیچھے نہیں رہے گا اورآپؐ ان شاء اللہ تعالیٰ ہم سب کو لڑائی میں صابر پائیں گے اورہم سے وہ بات دیکھیں گے جو آپؐ کی آنکھوں کوٹھنڈا کرے گی۔ آپؐ نے یہ تقریر سنی تو بہت خوش ہوئے اور فرمایا کہ اللہ کا نام لے کر آگے بڑھو اور خوش ہوکیونکہ اللہ نے مجھ سے یہ وعدہ فرمایا ہے کہ کفار کے ان دوگروہوں یعنی لشکر اور قافلہ میں سے کسی ایک گروہ پر وہ ہم کو ضرور غلبہ دے گا اور خدا کی قَسم! مَیں گویا اس وقت وہ جگہیں دیکھ رہا ہوں جہاں دشمن کے آدمی قتل ہو کر گریں گے۔

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیینؐ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے صفحہ 354-355)
(فرہنگِ سیرت صفحہ 173 زوار اکیڈمی کراچی 2003ء)

اور پھر ویسا ہی ہوا۔

بہرحال ابھی ان کا ذکر چل رہا ہے۔ باقی ان شاء اللہ تعالیٰ آئندہ خطبہ میں بیان ہو گا۔

(الفضل انٹرنیشنل 17 جولائی 2020ء صفحہ 5تا9)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close