متفرق شعراء

رانا نعیم الدین صاحب مرحوم پر

(آصف محمود باسط)

تم نے اِک فرعون کے دربار میں ثابت کیا

روشنی کو کوٹھڑی میں قید کر سکتے نہیں

جس طرح منظر کبھی آنکھوں میں بند ہوتا نہیں

جس طرح خوشبو کو ہم مٹھی میں بھر سکتے نہیں

تم نے پھانسی کے لیے سر پیش کر کے یہ کہا

موت سے تو ہم کبھی مر کے بھی ڈر سکتے نہیں

پار اتر کے تم نے طغیانی پہ ثابت کر دیا

کون کہتا ہے گھڑے دریا میں تر سکتے نہیں

ناز ہو جن کی وفاؤں پہ سپہ سالار کو

وہ سپاہی موت کے آنے سے مر سکتے نہیں

اوڑھ کر مٹی کو سو جاتے ہیں مٹی کے بدن

پر شہیدِ عشق قبروں میں اتر سکتے نہیں

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

For security, use of Google's reCAPTCHA service is required which is subject to the Google Privacy Policy and Terms of Use.

I agree to these terms.

Back to top button
Close