خطبہ جمعہ

خطبہ جمعہ فرمودہ 14؍فروری 2020ء

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 14؍فروری2020ء بمطابق 14؍تبلیغ 1399 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، مورڈن، (سرے)، یوکے

اسلام جھوٹ بولنے کی قطعاً اجازت نہیں دیتا

کیا آنحضرتﷺ نےمخصوص حالات میں جھوٹ بولنے کی اجازت دی؟ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشادات کی روشنی میں اس عام غلط فہمی کا ازالہ

سلطنتِ مدینہ کے معاہد بنو نضیر اور بنو قریظہ کی عہد شکنی کی وجہ سے ان کے خلاف کارروائی کا ذکر

اخلاص و وفا کے پیکر بدری صحابی حضرت محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کی سیرتِ مبارکہ کا تذکرہ

فتنہ پرداز اور اشتعال انگیز یہودی سردار سلّام بن ابی الحقیق المعروف ابورافع کے قتل اور اس کی وجوہات کا تفصیلی بیان

اسلام آباد کی ابتدائی آباد کاری میں بے لوث خدمت بجا لانے والے سلسلے کے دیرینہ خادم مکرم تاج دین صاحب کی وفات پر ان کا ذکرِ خیر اور نمازِ جنازہ غائب

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ- بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

گذشتہ خطبے میں حضرت محمد بن مسلمہؓ کے بارے میں بیان ہوا تھا اور کچھ حصہ رہ گیا تھا جو آج ان شاءاللہ بیان ہو گا۔ کعب بن اشرف کے قتل کے ضمن میں یہ بیان ہوا تھا کہ حضرت محمد بن مسلمہؓ نے اسے بہانے سے گھر سے دور لے جا کر قتل کیا تو کیا یہ جھوٹ نہیں ہے؟ نیز یہ بھی بیان ہوا تھا کہ ایک حدیث کے حوالے سے بعض علماء کے نزدیک تین موقعوں پر جھوٹ کی اجازت ہے، لیکن حقیقت میں یہ غلط تصور ہے یا حدیث کی غلط تشریح ہے جو کہ تین موقعوں پر غلط بیان کو یا جھوٹ کو جائز قرار دیتی ہے۔ بہرحال میں نے اُس وقت اس کی وضاحت کر دی تھی جو سیرت خاتم النبیینؐ میں بیان ہوئی ہے لیکن اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی اپنی کتاب ‘نور القرآن’ میں وضاحت سے روشنی ڈالی ہے جو ایک عیسائی کے اعتراض کے جواب میں آپؐ نے بیان فرمائی ہے۔ اس کا کچھ حصہ، اس میں سے بعض حصے مَیں ابھی بیان کروں گا جس سے اس بات کی بالکل وضاحت ہو جاتی ہے کہ اسلام جھوٹ بولنے کی قطعاً اجازت نہیں دیتا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام عیسائی کے اعتراض کے جواب کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ایک یہ اعتراض ہے کہ

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین جگہ جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے اور اپنے دین کو چھپا لینے کے واسطے قرآن میں صاف حکم دے دیا ہے مگر انجیل نے ایمان کو پوشیدہ رکھنے کی اجازت نہیں دی۔ یہ اعتراض ہے۔ اس کے جواب میں آپؑ فرماتے ہیں کہ واضح ہو کہ جس قدر راستی کے التزام کے لیے قرآن شریف میں تاکید ہے میں ہرگز باور نہیں کر سکتا کہ انجیل میں اس کا عشرِعشیر بھی تاکید ہو ۔

پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ قرآن شریف نے دروغ گوئی کو بت پرستی کے برابر ٹھہرایا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

فَاجْتَنِبُوا الرِّجْسَ مِنَ الْاَوْثَانِ وَاجْتَنِبُوْا قَوْلَ الزُّوْرِ۔

یعنی بتوں کی پلیدی اور جھوٹ کی پلیدی سے پرہیز کرو۔ پھر ایک جگہ فرماتا ہے۔

يٰٓاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا كُوْنُوْا قَوّٰمِيْنَ بِالْقِسْطِ شُهَدَٓاءَ لِلّٰهِ وَلَوْ عَلٰٓى اَنْفُسِكُمْ اَوِ الْوَالِدَيْنِ وَالْاَقْرَبِيْنَ۔

یعنی اے ایمان والو! انصاف اور راستی پر قائم ہو جاؤ اور سچی گواہیوں کو للہ ادا کرو اگرچہ تمہاری جانوں پر ان کا ضرر پہنچے یا تمہارے ماں باپ اور تمہارے اقارب ان گواہیوں سے نقصان اٹھاویں۔آپؑ اس معترض کو مخاطب ہو کر فرماتے ہیں کہ اب اے ناخدا ترس ذرا انجیل کو کھول اور ہمیں بتلا کہ راست گوئی کے لیے ایسی تاکید انجیل میں کہاں ہے؟

پھر اسی عیسائی کو جس کا نام فتح مسیح تھا مخاطب کر کے پھر آپؑ لکھتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تین جگہ جھوٹ بولنے کی اجازت دی ہے مگر یہ آپ کو اپنی جہالت کی وجہ سے غلطی لگی ہے اور اصل بات یہی ہے کہ کسی حدیث میں جھوٹ بولنے کی ہرگز اجازت نہیں بلکہ حدیث میں تو یہ لفظ ہیں کہ اِنْ قُتِلْتَ وَاُحْرِقْتَ یعنی سچ کو مت چھوڑ اگرچہ تو قتل کیا جائے اور جلایا جائے۔ پھر جس حالت میں قرآن کہتا ہے کہ تم انصاف اور سچ مت چھوڑو اگرچہ تمہاری جانیں بھی اس سے ضائع ہوں اور حدیث کہتی ہے کہ اگرچہ تم جلائے جاؤ اور قتل کیے جاؤ مگر سچ ہی بولو تو پھر اگر فرض کے طور پر کوئی حدیث قرآن اور احادیث صحیحہ کے مخالف ہو تو وہ قابلِ سماعت نہیں ہوگی کیونکہ ہم لوگ اسی حدیث کو قبول کرتے ہیں جو احادیثِ صحیحہ اور قرآن کریم کے مخالف نہ ہو۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ ہاں بعض احادیث میں توریہ کے جواز کی طرف اشارہ پایا جاتا ہے۔ یعنی مصلحت کے تحت بعض ذو معنی الفاظ بیان کر دیے ۔ اور اسی کو نفرت دلانے کی غرض سے کذب کے نام سے موسوم کیا گیا ہے۔ اورجب ذو معنی بات ہوتی ہے تو اسی بات کو مخالفین نفرت دلانے کے لیے جھوٹ کے نام سے موسوم کر رہے ہیں اور فرمایا کہ اور ایک جاہل اور احمق جب ایسا لفظ کسی حدیث میں بطور تسامح کے لکھا ہوا پاوے یعنی کسی کو سمجھانے کے لیے جب کوئی لفظ اس کو آسان کر کے استعمال کیا جاتا ہے۔ اس کوتسامح کے پاوے تو شاید اس کو حقیقی کذب ہی سمجھ لے کیونکہ وہ اس قطعی فیصلے سے بے خبر ہے کہ حقیقی کذب اسلام میں پلید اور حرام اور شرک کے برابر ہے مگر توریہ جو درحقیقت کذب نہیں گو کذب کے رنگ میں ہی اضطرار کے وقت عوام کے واسطے اس کا جواز حدیث سے پایا جاتا ہے مگر پھر بھی لکھا ہے کہ افضل وہی لوگ ہیں جو توریہ سے بھی پرہیز کریں اور توریہ اسلامی اصطلاح میں اس کو کہتے ہیں کہ فتنہ کے خوف سے ایک بات کو چھپانے کے لیے یا کسی اَور مصلحت پر ایک راز کی بات مخفی رکھنے کی غرض سے ایسی مثالو ں اور پیرایوں میں اس کو بیان کیا جائے کہ عقلمند تو اس بات کو سمجھ جائے اور نادان کی سمجھ میں نہ آئے اور اس کا خیال دوسری طرف چلا جائے جو متکلم کا مقصود نہیں اور غور کرنے کے بعد معلوم ہوکہ جو کچھ متکلم نے کہا وہ جھوٹ نہیں بلکہ حقِ محض ہے اور کچھ بھی کذب کی اس میں آمیزش نہ ہو اور نہ دل نے ایک ذرہ بھی کذب کی طرف مَیل کیا ہو۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ جیسا کہ بعض احادیث میں دو مسلمانوں میں صلح کرانے کے لیے یا اپنی بیوی کو کسی فتنہ اور خانگی ناراضگی اور جھگڑے سے بچانے کے لیے یا جنگ میں اپنے مصالح دشمن سے مخفی رکھنے کی غرض سے اور دشمن کو اَور طرف جھکا دینے کی نیت سے توریہ کا جواز پایا جاتا ہے مگر باوصف اس کے بہت سی حدیثیں دوسری بھی ہیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ توریہ اعلی درجہ کے تقویٰ کے برخلاف ہے اور بہرحال کھلی کھلی سچائی بہتر ہے اگر اس کی وجہ سے قتل کیا جائے اور جلایا جائے۔

پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حتَّی الوسع اس سے مجتنب رہنے کا حکم کیا ہے تا مفہوم کلام کا اپنی ظاہری صورت میں بھی کذب سے مشابہ نہ ہو۔ پھر آپؑ فرماتے ہیں کہ جب میں دیکھتا ہوں کہ جناب سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم جنگِ احد میں اکیلے ہونے کی حالت میں برہنہ تلواروں کے سامنے کہہ رہے تھے کہ میں محمد ہوں، میں نبی اللہ ہوں، میں ابن عبد المطلِب ہوں۔

یہاں یہ وضاحت کر دوں کہ جب کتاب چھپی تھی تو اسی کتاب کے حاشیے میں لکھا ہے کہ یہ سہو سے لکھا گیا ہے۔ یہ واقعہ غزوۂ حنین کا ہے۔ جنگِ احد کا نہیں۔ حالانکہ اب مجھے ہمارے ریسرچ سیل نے ہی سیرةالحلبیہ‘ کا حوالہ نکال کر بھجوایا ہے جس میں لکھا ہے کہ یہ الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حنین اور احد دونوں جنگوں میں فرمائے تھے۔ اس لیے اب اشاعت کا جو شعبہ ہے، نظارت اشاعت بھی ہے ان کوبھی اس حاشیے کو آئندہ نکال دینا چاہیے۔ اکثرمیَں نے دیکھا ہے کہ بعض دفعہ جلد بازی سے کام لے کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کے جو الفاظ ہیں ان کا مطلب نکالنے کے لیے یا آسانی پیدا کرنے کے لیے حاشیے میں لکھ دیا جاتا ہے یہ غلطی تھی یا سہو ہو گیا۔ حالانکہ بہت ساری ریسرچ کرنے کی ضرورت ہے، توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ اس لیے بہرحال اب یہ حوالہ تو میرے سامنے آ گیا تھا اور بڑا واضح لکھا ہوا ہے کہ یہ الفاظ حنین اور اُحد دونوں مواقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائے تھے۔ بہرحال یہ وضاحت اس بارے میں بھی ہو گئی۔

اب آگے پھرآپؑ فرماتے ہیں کہ اگر کسی حدیث میں توریہ کو بطور تسامح کذب کے لفظ سے بیان بھی کیا گیا ہو تو یہ سخت جہالت ہے۔ یعنی الفاظ کو آسان کرنے کے لیے ،سمجھانے کے لیے اگر کہیں کذب کا لفظ لکھ بھی دیا ہے تو فرمایا کہ یہ سخت جہالت ہے کہ کوئی شخص اس کو حقیقی کذب پر محمول کرے جبکہ قرآن اور احادیث ِصحیحہ بالاتفاق کذب ِحقیقی کو سخت حرام اور پلید ٹھہراتے ہیں اور اعلیٰ درجہ کی حدیثیں توریہ کے مسئلہ کو کھول کر بیان کر رہی ہیں تو پھر اگر فرض بھی کر لیں کہ کسی حدیث میں بجائے توریہ کے کذب کا لفظ آگیا ہو تو نعوذ باللہ اس سے مراد حقیقی کذب کیونکر ہوسکتا ہے بلکہ اس کے قائل کے نہایت باریک تقویٰ کا یہ نشان ہوگا جس نے توریہ کو کذب کی صورت میں سمجھ کر بطور تسامح کذب کا لفظ استعمال کیا ہو۔ ہمیں قرآن اور احادیث صحیحہ کی پیروی کرنا ضروری ہے۔ اگر کوئی امر اس کے مخالف ہوگا تو ہم اس کے وہ معنے ہرگز قبول نہیں کریں گے جو مخالف ہوں۔

پھر آپؑ فرماتے ہیں قرآن نے جھوٹوں پر لعنت کی ہے اور نیز فرمایا ہے کہ جھوٹے شیطان کے مصاحب ہوتے ہیں اور جھوٹے بے ایمان ہوتے ہیں اور جھوٹوں پر شیاطین نازل ہوتے ہیں اور صرف یہی نہیں فرمایا کہ تم جھوٹ مت بولو بلکہ یہ بھی فرمایا ہے کہ تم جھوٹوں کی صحبت بھی چھوڑ دو اور ان کو اپنا یار دوست مت بناؤ اور خدا سے ڈرو اور سچوں کے ساتھ رہو اور ایک جگہ فرماتا ہے کہ جب تو کوئی کلام کرے تو تیری کلام محض صدق ہو۔ ٹھٹھے کے طور پر ہنسی کے طور پر بھی اس میں جھوٹ نہ ہو۔

(ماخوذ از نور القرآن نمبر 2، روحانی خزائن جلد 9 صفحہ 402 تا 408)
(سیرۃ الحلبیۃ جلد 2 صفحہ 310 باب ذکر مغازیہﷺ، غزوہ احد مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 2002ء)

یہ تو اس کے حوالے سے بیان ہو رہا تھا جو پہلے بیان ہوا تھا۔ وضاحت ہو گئی۔ اب مَیں حضرت محمد بن مسلمہؓ کے باقی زندگی کے حوالے سے آگے چلتا ہوں۔ جب بنو نضیرنے دھوکے سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر چکی کا پاٹ گرا کر قتل کرنے کی کوشش کی تو اللہ تعالیٰ نے بذریعہ وحی اس کی خبر آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کو کر دی تھی اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تیزی سے اٹھے گویاآپ صلی اللہ علیہ وسلم کسی ضرورت کے لیے اٹھے ہیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرامؓ بھی کچھ دیر انتظار کے بعد آپؐ کے پیچھے مدینہ آ گئے۔ جب صحابہ کرامؓ مدینہ پہنچے تو انہیں معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت محمد بن مسلمہؓ کو بلایا ہے۔ حضرت ابوبکرؓ نے عرض کی یا رسول اللہؐ! آپؐ اٹھ کر چلے آئے اور ہمیں علم نہ ہوا۔ آپؐ نے فرمایا کہ یہودی میرے ساتھ دھوکا کرنا چاہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے مجھے بتا دیا تو مَیں اٹھ کر چلا آیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس بارے میں یہ آیت نازل فرمائی کہ

يَا أَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوا اذْكُرُوْا نِعْمَةَ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ إِذْ هَمَّ قَوْمٌ أَنْ يَّبْسُطُوْا إِلَيْكُمْ أَيْدِيَهُمْ فَكَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَاتَّقُوا اللّٰهَ وَعَلَى اللّٰهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ۔ (المائدة:11)

کہ اے ایمان دارو! تم اللہ کی اپنے اوپر نعمت یاد کرو جو اس وقت ہوئی تھی جب ایک قوم نے ارادہ کیا تھا کہ تم پر دست درازی کرے تب اس نے اس قوم کے ہاتھ تم سے روک دیے اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو اور مومنوں کو اللہ ہی پر توکل کرنا چاہیے۔

بہرحال حضرت محمد بن مسلمہؓ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود کے پاس بھجوایا اور اس کا واقعہ اس طرح بیان ہوا ہے کہ جب حضرت محمد بن مسلمہؓ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ بنو نضیر کے یہودیوں کے پاس جاؤ۔ انہیں کہو مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تمہارے پاس بھیجا ہے کہ تم میرے شہر سے نکل جاؤ۔ وہ یہودیوں کے پاس گئے کیونکہ انہوں نے یہ سازش کی تھی اور اپنے عہد کا پاس نہیں کیا تھا، اس کو توڑا تھا اس لیے ان کی سزا یہ تھی کہ شہر سے نکل جائیں۔ وہ یہودیوں کے پاس گئے۔ انہوں نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تمہارے پاس ایک پیغام دے کر بھیجا ہے لیکن میں اس کا تذکرہ تب تک نہیں کروں گا جب تک میں تمہیں ایک ایسی بات نہ یاد کرا دوں جسے تم اپنی مجالس میں یاد کیا کرتے تھے۔ ایک پرانی بات کاذکر کیا کہ وہ میں تمہیں یاد کرانا چاہتا ہوں۔ پھر یہود نے پوچھا کہ وہ کیا امر ہے؟ حضرت محمد بن مسلمہؓ نے کہا کہ میں تمہیں اس تورات کی قسم دیتا ہوں جسے اللہ تعالیٰ نے موسیٰ پر نازل کیا۔ کیا تم جانتے ہو کہ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل میں تمہارے پاس آیا تھا تم نے اپنے سامنے تورات کھول رکھی تھی تم نے مجھے اس محفل میں کہا تھا کہ اے ابن مسلمہ! اگر تم چاہتے ہو کہ ہم تمہیں کھانا پیش کریں تو ہم تمہیں کھانا پیش کرتے ہیں۔ اگر تم چاہتے ہو کہ ہم تمہیں یہودی بنائیں تو ہم تمہیں یہودی بنا دیتے ہیں ۔ حضرت محمد بن مسلمہؓ کہتے ہیں کہ میں نے اس وقت کہا تھا کہ مجھے کھانا کھلاؤ، مجھے یہودی نہ بناؤ۔ بخدا میں کبھی بھی یہودی نہیں بنوں گا۔ پھر واقعہ ہوا کہ تم نے مجھے ایک طشت میں کھانا دیا اور تم لوگوں نے مجھے کہا تھا کہ تم یہ دین صرف اس لیے قبول نہیں کرتے کیونکہ یہ یہودیوں کا مذہب ہے۔ یعنی یہودیوں نے محمد بن مسلمہ کو کہا کہ تم اس لیے قبول نہیں کرتے کہ یہ یہودیوں کا مذہب ہے۔ گویا تم وہ حنیفیت چاہتے ہو جس کے بارے میں تم نے سن رکھا ہے۔ ابو عامر راہب تو اس کا مصداق نہیں ہے۔ یعنی جو سن رکھا ہے کہ نبی آنے والا ہے۔ اور ابو عامر راہب جو ہے وہ اس کا مصداق نہیں بن سکتا۔ پھر انہوں نے کہا کہ اب تمہارے پاس وہ ہستی آئے گی جو مسکرانے والی ہے، جو جنگ کرنے والی ہے۔ اس کی آنکھوں میں سرخی ہے۔ وہ یمن کی طرف سے آئیں گے۔ وہ اونٹ پر سواری کریں گے۔ وہ چادر اوڑھیں گے۔ وہ تھوڑے پر قناعت کریں گے۔ ان کی تلوار ان کے کندھے پر ہو گی۔ وہ حکمت کے ساتھ گفتگو کریں گے گویا وہ تمہارے قرابت دار ہیں ۔ اللہ کی قسم! تمہاری اس بستی میں اب چھینا جھپٹی ہو گی اور قتل ہو گا اور مثلہ ہو گا۔ یہ سن کر یہود نے کہا کہ ہم اسی طرح کہا کرتے تھے۔ یہ ساری باتیں ان کو یاد کرائیں کہ تم اس طرح کہا کرتے تھے لیکن یہ وہ نبی نہیں ہے یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم وہ نبی نہیں ہیں۔ حضرت محمد مسلمہؓ نے کہا کہ میں اپنے پیغام سے اب فارغ ہو چکاجو میں تمہیں یاد کرانا چاہتا تھا۔ پھر آپؓ نے اگلی بات شروع کی کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجا ہے اور آپؐ نے فرمایا ہے کہ تم نے وہ معاہدہ توڑ دیا ہے جسے میں نے تمہارے لیے قائم کیا تھا کیونکہ تم نے مجھے دھوکا دینے کی کوشش کی ہے۔ حضرت محمد بن مسلمہؓ نے یہود کو ان کے اس ارادے کی خبر دی جو انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں کیا تھا اور یہ کہ عمرو بن جحاش کیسے چھت پر چڑھاتا کہ وہ آپؐ پر پتھر گرا دے ۔ اس پر انہوں نے چپ سادھ لی اور وہ ایک حرف تک نہ بول سکے۔ پھر حضرت محمد بن مسلمہؓ نے انہیں کہا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے تم میرے اس شہر سے نکل جاؤ۔ میں تمہیں دس دن کی مہلت دیتاہوں اس کے بعد جو ادھر نظر آیا تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ یہود نے کہا اے ابن مسلمہ! ہم تو سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ یہ پیغام اَوس قبیلے کا کوئی شخص لے کر آئے گا۔ حضرت محمد بن مسلمہؓ نے فرمایا اب دل تبدیل ہو چکے ہیں۔ چند دن یہود تیاری کرتے رہے۔ ان کی سواریاں ذوجدر مقام پر تھیں وہ لائی گئیں۔ ذوجدر قبا کی جانب مدینے سے چھ میل کے فاصلے پر ایک چراگاہ ہے وہاں ان کے جانور چرا کرتے تھے۔ وہی سواریاں تھیں وہ لائی گئیں وہاں سے ۔انہوں نے بنواشجع قبیلے سے کرائے پر اونٹ لیے اور روانگی کی تیاری مکمل کی ۔ یہ تاریخ کی کتاب کا حوالہ ہے۔

(سبل الھدٰی والرشاد جلد 4 صفحہ317 تا320 غزوہ بنی نضیر دار الکتب العلمیہ بیروت1993ء)
(سبل الھدٰی والرشاد (مترجم) جلد 4 صفحہ754 مطبوعہ زاویہ پبلشرز لاہور 2013ء)
(معجم البلدان جلد 2 صفحہ 132)

یہودیوں کے رویے کی کہ ان کا رویہ کس طرح ہوتا تھا ؟ ایک جگہ اس کا بیان کرتے ہوئے جس میں بنو قریظہ کی غداری کا واقعہ ہے گو یہ پہلے حضرت عمار بن یاسرؓ کے ضمن میں بیان ہو چکا ہے لیکن تاریخی لحاظ سے یہاں بھی بیان کر دینا ضروری ہے۔ حضرت خلیفة المسیح الثانیؓ لکھتے ہیں کہ

‘‘بنو قریظہ کا معاملہ طے ہونے والا تھا۔ ان کی غداری ایسی نہیں تھی کہ نظر انداز کی جاتی۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے’’ غزوہ خندق سے ‘‘واپس آتے ہی اپنے صحابہؓ سے فرمایا :گھروں میں آرام نہ کرو بلکہ شام سے پہلے پہلے بنو قریظہ کے قلعوں تک پہنچ جاؤ اور پھر آپؐ نے حضرت علیؓ کو بنو قریظہ کے پاس بھجوایا کہ وہ ان سے پوچھیں کہ انہوں نے معاہدہ کے خلاف یہ غداری کیوں کی؟ بجائے اس کے کہ بنو قریظہ شرمندہ ہوتے یا معافی مانگتے یا کوئی معذرت کرتے انہوں نے حضرت علیؓ اور ان کے ساتھیوں کو برا بھلا کہنا شروع کر دیا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کے خاندان کی مستورات کو گالیاں دینے لگے اورکہا ہم نہیں جانتے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) کیا چیز ہیں؟ ہمارا ان کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں ہے۔ حضرت علیؓ ان کا یہ جواب لے کر واپس لوٹے تو اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہؓ کے ساتھ یہود کے قلعوں کی طرف جا رہے تھے چونکہ یہود گندی گالیاں دے رہے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویوں اور بیٹیوں کے متعلق بھی ناپاک کلمات بول رہے تھے تو حضرت علیؓ نے اس خیال سے کہ آپؐ کو ان کلمات کے سننے سے تکلیف ہو گی عرض کیا کہ یا رسول اللہؐ! آپؐ کیوں تکلیف کرتے ہیں! ہم لوگ اس لڑائی کے لیے کافی ہیں۔ آپؐ واپس تشریف لے جائیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں سمجھتا ہوں کہ وہ گالیاں دے رہے ہیں اور تم یہ نہیں چاہتے کہ میرے کان میں وہ گالیاں پڑیں۔ حضرت علیؓ نے عرض کیا کہ ہاں یا رسول اللہؐ! بات تو یہی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر کیا ہوا اگر وہ گالیاں دیتے ہیں۔ موسیٰ نبی تو ان کا اپنا تھا اس کو اس سے بھی زیادہ انہوں نے تکلیفیں پہنچائی تھیں۔ یہ کہتے ہوئے آپؐ یہود کے قلعوں کی طرف چلے گئے مگر یہود دروازے بند کر کے قلعہ بند ہو گئے اور مسلمانوں کے ساتھ لڑائی شروع کر دی حتیٰ کہ ان کی عورتیں بھی لڑائی میں شریک ہوئیں۔ چنانچہ قلعہ کی دیوار کے نیچے کچھ مسلمان بیٹھے تھے کہ ایک یہودی عورت نے اوپر سے پتھر پھینک کر ایک مسلمان کو مار دیا لیکن کچھ دن کے محاصرہ کے بعد یہود نے یہ محسوس کر لیا کہ وہ لمبا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ تب ان کے سرداروں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خواہش کی کہ وہ ابولبابہ انصاری کو جو ان کے دوست اور اَوس قبیلہ کے سردار تھے ان کے پاس بھجوائیں تا کہ وہ ان سے مشورہ کر سکیں۔ آپؐ نے ابولبابہ کو بھجوا دیا۔ ان سے یہود نے یہ مشورہ پوچھا کہ کیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مطالبہ کو کہ فیصلہ میرے سپرد کرتے ہوئے تم ہتھیار پھینک دو، ہم یہ مان لیں؟ ابولبابہ نے منہ سے تو کہا ہاں! لیکن اپنے گلے پر اس طرح ہاتھ پھیرا جس طرح قتل کی علامت ہوتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت تک اپنا کوئی فیصلہ ظاہر نہیں کیا تھا مگر ابولبابہ نے اپنے دل میں یہ سمجھتے ہوئے کہ ان کے اس جرم کی سزا’’ یعنی جو مخالفین تھے، معاہدہ توڑنے والے یہودی تھے ان کے اس جرم کی سزا ‘‘سوائے قتل کے اَور کیا ہو گی۔ بغیر سوچے سمجھے اشارہ کے ساتھ ان سے ایک بات کہہ دی جو آخر ان کی تباہی کا موجب ہوئی۔ چنانچہ یہود نے کہہ دیا کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ مان لیتے تو دوسرے یہودی قبائل کی طرح ان کو زیادہ سے زیادہ یہی سزا دی جاتی کہ ان کو مدینہ سے جلا وطن کر دیا جاتا مگر ان کی بدقسمتی تھی ۔’’ یہود نے فیصلہ نہیں مانا اور یہ کہا کہ اگر وہ مان لیتے تو یہی ہوتا کہ ان کو جلا وطنی کی سزا ہو جاتی مگر ان کی بدقسمتی تھی کہ ‘‘انہوں نے کہا کہ ہم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فیصلہ ماننے کے لیے تیار نہیں بلکہ ہم اپنے حلیف قبیلہ اَوس کے سردار سعد بن معاذؓ کا فیصلہ مانیں گے۔ جو فیصلہ وہ کریں گے ہمیں منظور ہو گا لیکن اس وقت یہود میں اختلاف ہو گیا۔ یہود میں سے بعض نے کہا کہ ہماری قوم نے غداری کی ہے اور مسلمانوں کے رویے سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کا مذہب سچا ہے وہ لوگ اپنا مذہب ترک کر کے اسلام میں داخل ہو گئے۔ ایک شخص عمرو بن سُعدی نے جو اس قوم کے سرداروں میں سے تھا اپنی قوم کو ملامت کی اور کہا کہ تم نے غداری کی ہے کہ معاہدہ توڑا ہے اب یا مسلمان ہو جاؤ یا جزیہ پر راضی ہو جاؤ۔ یہود نے کہا نہ مسلمان ہوں گے نہ جزیہ دیں گے۔’’ ان میں سے اکثریت یہی تھی ‘‘کہ اس سے قتل ہونا اچھا ہے۔ پھر اس شخص نے ان سے کہا میں تم سے بری ہوتا ہوں۔ اور یہ کہہ کر وہ قلعہ سے نکل کر باہر چل دیا۔ جب وہ قلعہ سے باہر نکل رہا تھا تو مسلمانوں کے ایک دستہ نے جس کے سردار محمد بن مسلمہؓ تھے اسے دیکھ لیا اور اسے پوچھا کہ وہ کون ہے۔ اس نے بتایا کہ میں فلاں ہوں۔ اس پر محمد بن مسلمہؓ نے فرمایا

اَللّٰھُمَّ لَا تَحْرِمْنِیْ اِقَالَۃَ عَثْرَاتِ الْکِرَامِ۔

یعنی آپ سلامتی سے چلے جائیں اور پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کی الٰہی! مجھے شریفوں کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کے نیک عمل سے کبھی محروم نہ کیجیو۔ یعنی یہ شخص کیونکہ اپنے فعل پر اور اپنی قوم کے فعل پر پچھتاتا ہے تو ہمارا بھی اخلاقی فرض ہے کہ اسے معاف کر دیں۔ اس لیے میں نے اسے گرفتار نہیں کیا اور جانے دیا ہے۔ خدا تعالیٰ مجھے ہمیشہ ایسے ہی نیک کاموں کی توفیق بخشتا رہے۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس واقعہ کا علم ہوا تو آپؐ نے محمد بن مسلمہؓ کو سرزنش نہیں کی’’ کچھ نہیں پوچھا ‘‘کہ کیوں اس یہودی کو چھوڑ دیابلکہ اس کے فعل کو سراہا’’یا تعریف کی۔

(دیباچہ تفسیر القرآن، انوار العلوم جلد 20 صفحہ 282 تا 284)

پس مسلمانوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم اور تربیت کے مطابق ہمیشہ انصاف کا سلوک کیا ہے۔
اہل ِخیبر کی جب شرارت ہوئی تو پھر اس کی وجہ سے ابورافع یہودی کا قتل ہوا اس کا واقعہ اس طرح ہے۔ اور قتل کرنے کے لیے جو صحابہ کی جماعت بھیجی گئی تھی اس میں بھی حضرت محمد بن مسلمہؓ شامل تھے جنہوں نے ابورافع یہودی کو قتل کیا تھا ۔ قتل تو ایک شخص نے کیا تھا لیکن بہرحال وہ جماعت جو وہاں گئی تھی ان میں یہ شامل تھے۔ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ نے اس واقعہ کی تفصیل تواریخ سے لے کے اس طرح بیان کی ہے کہ

جن یہودی رؤسا کی مفسدانہ انگیخت اور اشتعال انگیزی سے 5؍ہجری کے آخر میں مسلمانوں کے خلاف جنگِ احزاب کا خطرناک فتنہ برپا ہوا تھا اس میں سے حُیی بن اخطب توبنو قریظہ کے ساتھ اپنے کیفرِکردار کوپہنچ چکا تھا لیکن سلّام بن ابی الحقیق جس کی کنیت ابورافع تھی ابھی تک خیبر کے علاقہ میں اسی طرح آزادانہ اورا پنی فتنہ انگیزی میں مصروف تھا بلکہ احزاب کی ذلت بھری ناکامی اورپھر بنوقریظہ کے ہولناک انجام نے اس کی عداوت کواَوربھی زیادہ کردیا تھا اور چونکہ قبائل غطفان کامسکن خیبر کے قریب تھا اورخیبر کے یہودی اورنجد کے قبائل آپس میں گویا ہمسائے تھے اس لیے اب ابورافع نے جو ایک بہت بڑا تاجر اور امیر کبیر انسان تھا دستور بنالیا تھا کہ نجد کے وحشی اور جنگجو قبائل کو مسلمانوں کے خلاف اکساتا رہتا تھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عداوت میں وہ کعب بن اشرف کاپوراپورا مثیل تھا۔ چنانچہ اس زمانہ میں جس کا ہم ذکر کررہے ہیں اس نے غطفانیوں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف حملہ آور ہونے کے لیے اموال ِکثیر سے امداد دی اورتاریخ سے ثابت ہے کہ ماہ شعبان میں بنو سعد کی طرف سے جوخطرہ مسلمانوں کو پیدا ہوا تھا اوراس کے سدباب کے لیے حضرت علیؓ کی کمان میں ایک فوجی دستہ مدینہ سے روانہ کیا گیا تھا اس کی تہ میں بھی خیبر کے یہودیوں کاہاتھ تھا جوابورافع کی قیادت میں یہ سب شرارتیں کررہے تھے۔ مگرابورافع نے اسی پر بس نہیں کی۔ اس کی عداوت کی آگ مسلمانوں کے خون کی پیاسی تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وجود اس کی آنکھوں میں خار کی طرح کھٹکتا تھا۔ چنانچہ بالآخر اس نے یہ تدبیر اختیار کی کہ جنگِ احزاب کی طرح نجد کے قبائل غطفان اور دوسرے قبیلوں کاپھر ایک دورہ کرنا شروع کیا اور انہیں مسلمانوں کے تباہ کرنے کے لیے ایک لشکرِ عظیم کی صورت میں جمع کرنا شروع کر دیا۔ جب نوبت یہاں تک پہنچ گئی اورمسلمانوں کی آنکھوں کے سامنے پھر وہی احزاب والے منظر پھرنے لگے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں قبیلہ خزرج کے بعض انصاری حاضر ہوئے اورعرض کیا کہ اب اس فتنہ کا علاج سوائے اس کے کچھ نہیں کہ کسی طرح اس فتنہ کے بانی مبانی ابورافع کاخاتمہ کر دیا جائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو سوچتے ہوئے کہ ملک میں وسیع کشت وخون کی بجائے ایک مفسد اور فتنہ انگیز آدمی کا مارا جانا بہت بہتر ہے ان صحابیوں کو اجازت مرحمت فرمائی اور عبداللہ بن عتیک انصاریؓ کی سرداری میں چار خزرجی صحابیوں کو ابورافع کی طرف روانہ فرمایا مگر چلتے ہوئے تاکید فرمائی کہ دیکھنا کسی عورت یابچے کوہرگز قتل نہ کرنا۔ چنانچہ 6؍ہجری کے ماہ رمضان میں یہ پارٹی روانہ ہوئی اور نہایت ہوشیاری کے ساتھ اپنا کام کرکے واپس آ گئی اور اس طرح اس مصیبت کے بادل مدینہ کی فضا سے ٹل گئے۔ اس واقعہ کی تفصیل بخاری میں ہے جس کی روایت اس معاملہ میںصحیح ترین روایت ہے۔ اس میں اس طرح درج ہے کہ براء بن عازب روایت کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے صحابہ کی ایک پارٹی ابورافع یہودی کی طرف روانہ فرمائی اوران پر عبداللہ بن عتیک انصاریؓ کوامیر مقرر فرمایا۔ ابورافع کاقصہ یہ تھا کہ وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوسخت دکھ دیا کرتا تھا اور آپؐ کے خلاف لوگوں کو ابھارتا تھا اوران کی مدد کیاکرتا تھا۔ جب عبداللہ بن عتیکؓ اوران کے ساتھی ابورافع کے قلعہ کے قریب پہنچے اورسورج غروب ہو گیا تو عبداللہ بن عتیکؓ نے اپنے ساتھیوں کوپیچھے چھوڑا اور خود قلعہ کے دروازے کے پاس پہنچے اوراس کے قریب اس طرح چادر لپیٹ کربیٹھ گئے جیسے کوئی شخص کسی حاجت کے لیے بیٹھا ہو۔ جب قلعہ کادروازہ بند کرنے والا شخص دروازہ پرآیا تواس نے عبداللہؓ کی طرف دیکھ کر آواز دی کہ اے شخص! میں قلعے کا دروازہ بند کرنے لگا ہوں۔ تم نے اندر آنا ہو تو جلد آ جاؤ۔ عبداللہؓ چادر میں لپٹے لپٹائے جلدی سے دروازہ کے اندر داخل ہوکر ایک طرف کوچھپ گئے اور دروازہ بند کرنے والا شخص دروازہ بند کر کے اوراس کی کنجی ایک قریب کی کھونٹی سے لٹکا کر چلا گیا۔

اس کے بعد عبداللہ بن عتیکؓ کااپنا بیان ہے کہ مَیں اپنی جگہ سے نکلا اورسب سے پہلے میں نے قلعہ کے دروازے کا قفل کھول دیا تاکہ ضرورت کے وقت جلدی اورآسانی کے ساتھ باہر نکلا جا سکے۔ اس وقت ابورافع ایک چوبارے میں تھا اوراس کے پاس بہت سے لوگ مجلس جمائے بیٹھے تھے اورآپس میں باتیں کررہے تھے۔ جب یہ لوگ اٹھ کر چلے گئے اورخاموشی ہو گئی تومیں ابورافع کے مکان کی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر چلا گیااورمیں نے یہ احتیاط کی کہ جو دروازہ میرے راستہ میں آتا تھا اسے میں آگے گزر کراندر سے بند کرلیتا تھا۔ جب میں ابورافع کے کمرے میں پہنچا تو اس وقت وہ چراغ بجھا کر سونے کی تیاری میں تھا اورکمرہ بالکل تاریک تھا۔ میں نے آواز دے کر ابورافع کو پکارا۔ جس کے جواب میں اس نے کہا۔ کون ہے؟ بس میں اس آواز کی سمت کا اندازہ کرکے اس کی طرف لپکا اور تلوار کاایک زوردار وار کیا مگر اندھیرا بہت تھا اور میں اس وقت گھبرایا ہوا تھا اس لیے تلوار کا وار غلط پڑااورابورافع چیخ مار کر چلایا جس پر میں کمرےسے باہر نکل گیا۔ تھوڑی دیر بعد میں نے پھر کمرہ کے اندر جاکر اپنی آواز کوبدلتے ہوئے پوچھا۔ ابورافع یہ شور کیسا ہوا تھا؟ اس نے میری بدلی ہوئی آواز کو نہ پہچانا اور کہاکہ تیری ماں تجھے کھوئے مجھ پر ابھی ابھی کسی شخص نے تلوار کاوار کیا ہے۔ میں یہ آواز سن کر پھر اس کی طرف لپکا اورتلوار کاوار کیا۔ اس دفعہ وار کاری پڑا مگر وہ مرا پھر بھی نہیں جس پر میں نے اس پرایک تیسرا وار کرکے اسے قتل کر دیا۔

اس کے بعد میں جلدی جلدی دروازے کھولتا ہوا مکان سے باہر نکل آیا لیکن جب میں سیڑھیوں سے نیچے اتررہا تھا توابھی چند قدم ہی باقی تھے کہ میں سمجھا کہ میں سب قدم اتر آیا ہوں جس پرمیں اندھیرے میں گر گیا اور میری پنڈلی ٹوٹ گئی اور ایک روایت میں یوں ہے کہ پنڈلی کاجوڑ اتر گیا مگرمیں اسے اپنی پگڑی سے باندھ کر گھسٹتا ہواباہر نکل گیا لیکن میں نے اپنے جی میں کہا کہ جب تک ابورافع کے مرنے کا اطمینان نہ ہوجائے میں یہاں سے نہیں جاؤں گا ۔ چنانچہ میں قلعے کے پاس ہی ایک جگہ چھپ کربیٹھ گیا۔ جب صبح ہوئی توقلعہ کے اندر سے کسی کی آواز میرے کان میں آئی کہ ابورافع تاجر حجاز وفات پاگیا ہے۔

اس کے بعد میں اٹھا اورآہستہ آہستہ اپنے ساتھیوں میں آ ملا اور پھر ہم نے مدینہ میں آ کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوابورافع کے قتل کی اطلاع دی۔ آپؐ نے سارا واقعہ سن کر مجھے ارشاد فرمایا کہ اپناپاؤں آگے کرو۔ میں نے اپنا پاؤں آگے کیا تو آپؐ نے دعا مانگتے ہوئے اس پراپنا دست مبارک پھیرا جس کے بعد میں نے یوں محسوس کیا کہ گویا مجھے کوئی تکلیف پہنچی ہی نہیں تھی۔

ایک دوسری روایت میں ذکر آتا ہے کہ جب عبداللہ بن عتیکؓ نے ابورافع پر حملہ کیا تو اس کی بیوی نے نہایت زور سے چلانا شروع کیا جس پر مجھے فکر ہوا کہ اس کی چیخ وپکار سن کر کہیں دوسرے لوگ نہ ہوشیار ہو جائیں اس پر میں نے اس کی بیوی پرتلوار اٹھائی مگر پھر یہ یاد کر کے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں کے قتل کرنے سے منع فرمایا ہے میں اس ارادے سے باز آگیا۔

پھر سیرت خاتم النبیینؐ میں لکھا ہے کہ ابورافع کے قتل کے جواز کے متعلق ہمیں اس جگہ کسی بحث میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ ابورافع کی خون آشام کارروائیاں تاریخ کاایک کھلاہوا ورق ہیں اوراس سے ایک ملتے جلتے واقعہ میں ایک تفصیلی بحث کعب بن اشرف کے قتل کے ضمن میں بیان ہو چکی ہے۔

اس وقت مسلمان نہایت کمزوری کی حالت میں چاروں طرف سے مصیبت میں مبتلا تھے ساراملک مسلمانوں کو مٹانے کے لیے متحد ہورہا تھا۔ایسے نازک وقت میں ابورافع عرب کے مختلف قبائل کواسلام کے خلاف ابھاررہا تھا۔ (یہ میں خلاصہ بیان کر رہا ہوں پوری تاریخ نہیں بیان کر رہا کہ کیوں اس کا قتل جائز تھا؟) اس کا اوراس بات کی تیاری کررہا تھاکہ غزوۂ احزاب کی طرف عرب کے وحشی قبائل پھرمتحد ہوکر مدینے پردھاوا بول دیں۔ عرب میں اس وقت کوئی حکومت نہیں تھی کہ جس کے ذریعہ دادرسی چاہی جاتی بلکہ ہر قبیلہ اپنی جگہ آزاد اور خود مختار تھا۔ پس سوائے اس کے کہ اپنی حفاظت کے لیے خود کوئی تدبیر کی جاتی اور کوئی صورت نہیں تھی۔

(ماخوذ از سیرت خاتم النبیینؐ صفحہ 721تا 724)

پچھلے خطبے میں اس کی یہ تفصیل بھی بیان ہو چکی ہے کہ کیوں کیا وجوہات تھیں؟ حکومت کے ضمن میں ، کوئی حکومت نہیں تھی اور جو حکومت تھی وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنی تھی۔ بہرحال ان حالات میں صحابہ نے جو کچھ کیا وہ بالکل درست اور بجا تھا اورحالتِ جنگ میں جب کہ ایک قوم موت وحیات کے ماحول میں سے گزر رہی ہو اس قسم کی تدابیر بالکل جائز سمجھی جاتی ہیں۔

حضرت عمرؓ نے حضرت محمد بن مسلمہؓ کو اپنے دورِ خلافت میں جُہینہ قبیلہ سے وصولی زکوٰة کے لیے مقرر کیا تھا۔ جب کبھی کسی عامل کے خلاف دربار خلافت میں شکایات موصول ہوتیں تو حضرت عمرؓ تحقیق کے لیے انہیں روانہ کیا کرتے تھے۔ اسی طرح حضرت عمرؓ کو ان پر اعتماد تھا اس لیے سرکاری محاصل کی وصولی کے لیے بھی ان ہی کو، حضرت محمد بن مسلمہؓ کو، بھیجا جاتا تھا۔ وہ حضرت عمرؓ کے ہاں مختلف علاقوں کے مشکل معاملات کو سلجھانے کے لیے مقرر تھے۔ کوفہ میں حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے محل تعمیر کیا تو اس کی چھان بین کے لیے حضرت عمرؓ کے نمائندے تھے۔ اس کے متعلق روایت کچھ یوں ملتی ہے کہ حضرت عمرؓ کو معلوم ہوا کہ حضرت سعد بن ابی وقاصؓ نے ایک محل بنایاہے اور اس کا دروازہ رکھا ہے جس کی وجہ سے آواز سنائی نہیں دیتی۔ چنانچہ آپؓ نے حضرت محمد بن مسلمہؓ کو روانہ کیا اور حضرت عمرؓ کی یہ عادت تھی کہ جب وہ حسبِ منشا کوئی کام کرنا چاہتے تو ان ہی کو یعنی محمد بن مسلمہؓ کو روانہ کیا کرتے تھے۔ حضرت عمرؓ نے ان سے فرمایا سعد کے پاس پہنچ کر اس کا دروازہ جلا دینا۔ چنانچہ وہ کوفہ پہنچے، دروازے پرپہنچے تو چقماق نکالی، آگ سلگائی پھر دروازے کو جلا دیا۔ حضرت سعد کو معلوم ہوا تو وہ باہر تشریف لائے اور حضرت محمد بن مسلمہؓ نے انہیں ساری بات بتا ئی کہ میں نے کیوں جلایاہے۔

(الاصابہ فی تمییز الصحابہ جلد6صفحہ28،محمد بن مسلمہؓ)

حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد حضرت محمد بن مسلمہؓ کے بارے میں ذکر آتا ہے کہ حضرت عثمانؓ کی شہادت کے بعد انہوں نے گوشہ نشینی اختیار کر لی اور لکڑی کی تلوار بنوا لی۔ کہتے تھے کہ مجھے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے یہی حکم دیا تھا۔ حضرت محمد بن مسلمہؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک تلوار تحفہ میں دی اور فرمایا کہ اس سے مشرکین سے جہاد کرنا جب تک وہ تم سے قتال کرتے رہیں اور جب تُو مسلمانوں کو دیکھے کہ وہ ایک دوسرے کوقتل کرنا شروع کر دیں تو اسے یعنی تلوار کو کسی چٹان کے پاس لاکر مارنا یہاں تک کہ وہ ٹوٹ جائے ۔ پھر اپنے گھر میں بیٹھ جانا یہاں تک کہ تمہارے پاس کسی خطاکار کا ہاتھ پہنچے یا تمہیں موت آ لے۔ پس آپؓ نے ایسا ہی کیا۔ آپؓ فتنوں سے الگ رہے اور جنگِ جمل اور صِفین میں شامل نہیں ہوئے۔

(اسد الغابہ۔ جلد چہارم صفحہ319 اور الاصابھ جلد6 صفحہ 29 محمد بن مسلمہ)

ضُبَیْعَۃ بِن حُصَین ثَعْلَبِی بیان کرتے ہیں کہ ہم حضرت حُذَیفہؓ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے انہوں نے بتایا کہ میں ایک ایسے آدمی کو جانتا ہوں جسے فتنہ کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ ہم نے کہا وہ کون ہے۔ حضرت حذیفہؓ نے کہا کہ وہ حضرت محمد بن مسلمہ انصاریؓ ہیں۔ پھر جب حضرت حذیفہؓ فوت ہو گئے اور فتنہ ظاہر ہو گیا تو مَیں ان لوگوں کے ساتھ نکلا جو مدینہ سے نکل رہے تھے۔ پھر میں پانی کے ایک مقام پر پہنچا۔ وہاں پانی available تھا۔ میں نے وہاں ایک ٹوٹا ہوا خیمہ دیکھا جو ایک طرف کو جھکا ہوا تھا اور ہوا کے تھپیڑے اسے لگ رہے تھے۔ میں نے پوچھا کہ یہ خیمہ کس کا ہے۔ لوگوں نے بتایا کہ یہ محمد بن مسلمہؓ کا خیمہ ہے۔ میں ان کے پاس آیاتو دیکھا کہ وہ ایک عمر رسیدہ انسان ہیں۔ میں نے ان سے کہا: اللہ آپؓ پر رحم فرمائے۔ میں دیکھتا ہوں کہ آپؓ مسلمانوں کے بہترین لوگوں میں سے ہیں۔ آپؓ نے اپنا شہر اور اپنا گھر اور اپنے اہل و عیال اور اپنے پڑوسی چھوڑ دیے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ میں نے یہ سب کچھ شر سے کراہت کی وجہ سے چھوڑا ہے۔

(الطبقات الکبریٰ لابن سعد۔ جزء ثالث صفحہ339۔ دارالکتب العلمیہ بیروت 1990ء)

ان کی وفات کے متعلق اختلاف ہے کہ کب ہوئی؟ مختلف روایات کے مطابق تینتالیس، چھیالیس یا سینتالیس ہجری میں مدینے میں آپؓ کی وفات ہوئی اور اس وقت آپؓ کی عمر 77 سال تھی۔ آپؓ کی نمازِ جنازہ مَروان بن حکَم نے پڑھائی جو اس وقت مدینے کے امیر تھے۔ بعض روایات میں یہ بھی ذکر ملتا ہے کہ کسی نے انہیں شہید کر دیا تھا۔

(اسد الغابہ فی معرفۃ الصحابہ جلد 5 صفحہ107 محمد بن مسلمہ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2003ء)
(الاستیعاب فی معرفۃ الصحاب جلد3صفحہ433 محمد بن مسلمہ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت2010ء)

ان کا یہ ذکر اب ختم ہوا۔ نمازوں کے بعد مَیں ایک جنازہ حاضر بھی پڑھاؤں گا جو مکرم تاج دین صاحب ولد صدر دین صاحب کا ہے۔ 10فروری کو 84سال کی عمر میں ان کی وفات ہو گئی۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْن۔

مرحوم اللہ تعالیٰ کے فضل سے موصی تھے۔ یہ یوگنڈا میں پیدا ہوئے۔ 1967ء میں یو۔کے شفٹ ہو گئے۔ 1984ء میں جب اسلام آباد کی زمین خریدی گئی تو مرحوم نے اسلام آباد کے لیے اپنی خدمات حضرت خلیفة المسیح الرابعؒ کی خدمت میں پیش کر دیں۔ پھر بائیس سال تک اسلام آبادمیں بڑے اخلاص کے ساتھ بڑی بے لوث خدمت کی توفیق پائی۔ اسلام آباد میں پہلے جلسے کے انعقاد سے لے کر آخری جلسے تک انتھک محنت کی اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مہمانوں کو ہر سہولت پہنچنانے کی ممکن کوشش کرتے رہے۔ ہر قسم کا ٹیکنیکل کام کر سکتے تھے اس لیے ان کو اسلام آباد میں دن رات ہر قسم کے کام کرنے کی توفیق ملی جس میں الیکٹرک، پلمبنگ، سینٹری، لکڑی وغیرہ کا کام شامل ہے۔ مرحوم صوم و صلوٰة کے پابند تھے۔ دین دار تھے۔ انتہائی خوش مزاج تھے۔ اطاعت گزار تھے۔ بڑے دھیمے مزاج کے انسان تھے۔ خلافت کے ساتھ بڑا گہرا اخلاص و وفا کا تعلق تھا۔ ان کے پوتے مدبر دین صاحب مربی سلسلہ ہیں۔ انہوں نے یو۔کے سے جامعہ پاس کیا تھا اور ایم۔ٹی۔اے میں آج کل کام کر رہے ہیں۔ یہ لکھتے ہیں کہ اکثر لوگ جو اسلام آباد میں رہا کرتے تھے بتاتے ہیں کہ انتہائی محنتی تھے۔ میرے دادا جان بتاتے تھے کہ جب وہ اسلام آباد آئے تو شروع میں بالکل اکیلے رہتے تھے۔ نہ تو کوئی بجلی اور نہ ہی ہیٹنگ تھی۔ بہت مشکل وقت تھا۔ مگر وہ اس بات پر خوش ہوتے تھے کہ ان کو جماعت اور خلیفۂ وقت کے لیے قربانی دینے کی توفیق مل رہی ہے۔ وقت پر نماز پڑھنا، خودہاتھ سے کام کرنا، مہمان نوازی اور صبر ان کے چند نمایاں اوصاف تھے۔ اور لکھنے والوں نے بھی ان کی یہی خوبیاں لکھی ہیں اور مجید سیالکوٹی صاحب نے بھی یہی بتایا ہے کہ یہاں اسلام آباد میں انہوں نے ورکشاپ بنائی۔ مشینوں کے کام کے ماہر تھے۔ لندن کی مختلف کمپنیوں سے رابطے کیے۔ اسلام آباد کی ہر بیرک کو باری باری آباد کیا۔ پھر رہائش کے قابل بنایا۔ اپنی ٹیم بنانے کے گُر بھی جانتے تھے۔ ہر سردیاں گرمیاں مصروف رہتے تھے کیونکہ پرانی چیزیں تھیں سب کو ٹھیک کرنا۔ دوبارہ نئے سرے سے بحال کرنا بڑا کام تھا جو بڑی محنت سے انہوں نے کیا اور پھر ہمیشہ خوش مزاج رہتے تھے۔ یہی کہا کرتے تھے کہ بس میرے لیے دعا کرو۔ کام کے دوران دن رات ایک چھوٹے سے کمرے میں وہاں اسلام آباد میں رہتے تھے، کبھی انہوں نے وہاں بیوی بچوں کی پروا نہیں کی جو لندن میں رہتے تھے اور کبھی کبھی ان کے پاس آ جاتے تھے۔

اللہ تعالیٰ مرحوم سے مغفرت اور رحم کا سلوک فرمائے اور ان کی اولاد کو اور نسلوں کو بھی ان کی طرح اخلاص و وفا میں بڑھائے اور صبر اور حوصلہ عطا فرمائے۔

(الفضل انٹرنیشنل 06؍مارچ2020ء صفحہ 5تا9)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close