سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

شمائل مہدی علیہ الصلوٰۃ والسلام: حضرت اقدس ؑکی نمازوں کا بیان(حصہ ششم)

(سید مبشر احمد ایاز)

سورتوں کی تلاوت/قراءت

حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے بیان کیا کہ

“حضرت مسیح موعود علیہ السلام یوں تو ہر امر میں قرآن مجید کی طرف رجوع کرتے تھے مگر بعض بعض آیات آپ خصوصیت کے ساتھ زیادہ پڑھا کرتے تھے۔علاوہ وفات مسیح کی آیات کے حسب ذیل آیات آپ کے منہ سے زیادہ سنی ہیں ۔

سورة فاتحہ۔

قَدْ اَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھَا (الشمس:10)
اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَ تْقٰکُمْ (الحجر:14)
رَحْمَتِیْ وَسِعَتْ کُلَّ شَیْ ءٍ (الاعراف:157)
ھُوَالَّذِیْ اَرْسَلَ رَسُوْلَہٗ بِالْھُدٰی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْھِرَہٗ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہٖ (التوبة:33)
مَنْ کَانَ فِیْ ہٰذِہٖٓ اَعْمٰی فَھُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰی(الاسراء :73)
اِنَّ النَّفْسَ لَأَمَّارَةٌ بِالسُّوْءِ (النساء:59)
یَااَیَّتُھَا النَّفْسُ الْمُطْمَئِنَّةُ ارْجِعِیْ اِلٰی رَبِّکِ رَاضِیَةً مَّرْضِیَةً فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ(الفجر:29)
وَاَمَّا بِنِعْمَةِ رَبِّکَ فَحَدِّث (الضحیٰ:12)
قُلْ یَا عِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰی اَنْفُسِھِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِن رَّحْمَةِ اللّٰہِ اِنَّ اللّٰہَ یَغْفِرُالذُّنُوْبَ جَمِیْعًا (الزمر:54)
وَبَشِّرِ الصَّابِرِیْنَ الَّذِیْنَ اِذَا اَصَابَتْھُمْ مُّصِیْبَةٌ قَالُوْااِنَّالِلّٰہِ وَاِنَّااِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ۔اُولٰٓئِکَ عَلَیْھِمْ صَلَوَاتٌ مِّن رَّبِھِمْ وَرَحْمَةٌ (البقرة:156)
مَایَفْعَلُ اللّٰہُ بِعَذَابِکُمْ اِنْ شَکَرْ تُمْ وَاٰمَنْتُمْ (النساء:148)
وَقُوْلَا لَہٗ قَوْلًا لَّیِّنًا (طٰہٰ:45)
اِنَّ عِبَادِیْ لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطَانٌ (الحجر:43)
وَاللّٰہُ یَعْصِمُکَ مِنَ النَّاسِ (المائدة:68)
وَآخَرِیْنَ مِنْھُمْ لَمَّا یَلْحَقُوْا بِھِمْ (الجمعة:4)
لَایُکَلِّفُ اللّٰہُ نَفْسًا اِلَّاوُسْعَھَا (البقرة:287)
لَا تُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَةِ (البقرة:196)
اَحَسِبَ النَّاسُ اَنْ یُّتْرَکُوْا اَنْ یَّقُوْلُوْا اٰمَنَّا وَھُمْ لَایُفْتَنُوْنَ (العنکبوت:3)
مَا یَنْطِقُ عَنِ الْھَوٰی اِنْ ھُوَ اِلَّاوَحْیٌ یُّوْحٰی(النجم:4)
ثُمَّ دَنٰی فَتَدَلّٰی فَکَانَ قَابَ قَوْسَیْنِ اَوْ اَدْنٰی (النجم:9)
لَا تَقْفُ مَالَیْسَ لَکَ بِہ عِلْمٌ (الاسراء:37)
قُلْ اِنْ کُنْتُمْ تُحِبُّوْنَ اللّٰہَ فَاتَّبِعُوْنِیْ یُحْبِبْکُمُ اللّٰہُ (اٰل عمران:32)
لَااِکْرَاہَ فِی الدِّیْنِ (البقرة:257)
قُلْ مَایَعْبَأُ بِکُمْ رَبِّیْ لَوْلَا دُعَاءُ کُمْ (الفرقان:78)

خاکسار عرض کرتا ہے کہ کیا خوب انتخاب ہے۔”

(سیرت المہدی روایت نمبر 997)

………………………………………………………………………………………………

دیگر ائمہ کے پیچھے نماز کی ادائیگی

اما مت نماز کی نسبت ایک شخص نے سوال کیا کہ حضور کس لیے نماز نہیں پڑھا تے ؟ فرمایا کہ:‘‘حدیث میں آیا ہے کہ مسیح جو آنے والا ہے وہ دوسروں کے پیچھے نماز پڑھے گا۔’’

(ملفوظات جلد ششم صفحہ159)

نماز اس زمانہ میں حضرت مولانا مولوی عبدالکریمؓ صاحب مرحوم سیالکوٹی پڑھایا کرتے تھے(جن )کو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم سے ایک عشق عطا فرمایا تھا اور نہایت خوش الحانی اور جو ش سے قرآن پڑھا کرتے تھے ان کی آواز نہایت بلند مگر دلکش تھی اکثر ایسا بھی ہوا کرتا تھا کہ ان کی قراءت سے بعض اوقات گہری نیند سوتے ہوئے دوست بیدار ہوجایاکرتے تھے۔

(اصحابِ احمد جلد نہم مؤلفہ ملک صلاح الدین ایم۔اے صفحہ 154)

میاں محمد یٰسین صاحب حضرت مولوی امیر الدین صاحبؓ ساکن گجرات کی روایت بیان کرتے ہیں :

“میں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ کھڑے ہو کر بائیں جانب نماز پڑھی ہے۔مگر میں نے خود حضرت صاحب کو نماز پڑھاتے نہیں دیکھا۔بلکہ اکثر اوقات مولوی عبدالکریم صاحب نمازپڑھاتے تھے۔بعض اوقات حضرت مولوی نور الدین صاحب بھی نماز پڑھایا کرتے تھے۔حضرت صاحب فرض نماز مسجد میں پڑھ کر باقی نماز گھر پر پڑھا کرتے تھے۔ہاتھ ناف کے تلے نہیں باندھتے تھے۔بلکہ ناف سے اوپر باندھتے تھے۔”

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد12صفحہ 101، 102 روایت میاں محمد یٰسین صاحبؓ)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں :

“ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں پانچ وقت کی نماز اور جمعہ کی نماز تو مولوی عبدالکریم صاحب پڑھاتے تھے۔مگر عیدین کی نماز ہمیشہ حضرت مولوی نورالدین صاحب پڑھایا کرتے تھے۔الاماشاء اللہ اور جنازوں کی نماز عموماً حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود پڑھاتے تھے۔”

(سیرت المہدی جلداول روایت نمبر464)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں :

“بیان کیا مجھ سے میاں عبدا للہ صاحب سنوری نے کہ اوائل میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام خود ہی اذان کہا کرتے تھے اور خود ہی نماز میں امام ہوا کرتے تھے۔خاکسارعرض کرتا ہے کہ بعد میں حضرت مولوی عبدالکریمؓ صاحب امام نماز مقرر ہو ئے اور سنا گیا ہے کہ حضرت صاحب نے دراصل حضرت مولوی نور الدین صاحب کو امام مقرر کیا تھا لیکن مولوی صاحب نے مولوی عبدالکریم صاحب کو کروا دیا۔چنانچہ اپنی وفات تک جو 1905ء میں ہوئی مولوی عبدالکریم صاحب ہی امام رہے۔حضرت صاحب مولوی عبدالکریم صاحب کے ساتھ دائیں طرف کھڑے ہوا کرتے تھے اور باقی مقتدی پیچھے ہوتے تھے۔مولوی عبدالکریم صاحب کی غیر حاضری میں نیز ان کی وفات کے بعد مولوی نور الدین صاحب امام ہوتے تھے۔جمعہ کے متعلق یہ طریق تھا کہ اوائل میں اور بعض اوقات آخری ایام میں بھی جب حضرت صاحب کی طبیعت اچھی ہوتی تھی جمعہ بڑی مسجد میں ہوتا تھا جس کو عموماً لوگ مسجد اقصیٰ کہتے ہیں اور مولوی عبدالکریم صاحب امام ہوتے تھے۔بعد میں جب حضرت کی طبیعت عموماً نا ساز رہتی تھی مولوی عبدالکریم صاحب حضرت صاحب کے لیے مسجد مبارک میں جمعہ پڑھاتے تھے اور بڑی مسجد میں حضرت مولوی نورالدین صاحب جمعہ پڑھا تے تھے۔مولوی عبدالکریم صاحب کی وفات کے بعد مسجد مبارک میں مولوی محمد احسن صاحب اور ان کی غیر حا ضر ی میں مولو ی محمد سرور شاہ صاحب امام جمعہ ہوتے تھے اور بڑی مسجد میں حضرت مولوی نورالدین صاحب امام ہوتے تھے۔حضرت صاحب کی وفات تک یہی طریق رہا۔عید کی نماز میں عموماً مولوی عبدالکریم صاحب اور ان کے بعد حضرت مولوی نورالدین صاحب امام ہوتے تھے۔جنازہ کی نماز حضرت مسیح موعو د ؑ جب آپ شریک نماز ہوں خود پڑھایا کرتے تھے۔”

(سیرت المہدی جلداول روایت نمبر155)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں :

“بیا ن کیا مجھ سے مولوی شیر علی صاحب نے کہ جب میں شروع شروع میں قادیان آیا تھا تو حضرت مسیح موعود ؑ نماز کے وقت پہلی صف میں دوسرے مقتدیوں کے ساتھ مل کر کھڑے ہوا کرتے تھے۔لیکن پھر بعض باتیں ایسی ہوئیں کہ آپ نے اندر حجرہ میں امام کے ساتھ کھڑا ہو نا شروع کر دیا اور جب حجرہ گرا کر تمام مسجد ایک کی گئی تو پھر بھی آپ بدستور امام کے ساتھ ہی کھڑے ہو تے رہے۔”

(سیرت المہدی جلداول روایت نمبر300)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں :

“مولوی محمد اسماعیل صاحب مولوی فاضل نے مجھ سے بیان کیا کہ جب میں 1908ء میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ہاتھ پر بیعت کر نے کے لیے قادیان آیا تو اس وقت نماز ظہر کے قریب کا وقت تھا اور میں مہمان خانہ میں وضو کر کے مسجد مبارک میں حاضر ہوا …چنانچہ میں حضرت مسیح موعود ؑ کی بیعت سے مشرف ہو گیااس وقت میرے ساتھ ایک اور شخص نے بھی بیعت کی تھی بیعت کے بعد دعا کر کے حضرت مسیح موعود ؑ نماز کے لیے کھڑے ہو گئے اور حضرت مولوی نور الدین صاحب نے نمازکرائی اور حضرت مسیح موعودؑ نے پہلی صف سے آگے حضرت مولوی صاحب کے ساتھ جانب شمال حضرت مولوی صاحب کی اقتدا میں نماز ادا کی۔اور حضرت مسیح موعود ؑ نماز فریضہ ادا کرتے ہی اندرون خانہ تشریف لے گئے۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ آخری ایام میں ہمیشہ امام کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز ادا فرمایا کرتے تھے اور آپ کے وصال کے بعد حضرت خلیفہ اوّل ہمیشہ مصلے پر آپ والی جگہ کو چھوڑ کر بائیں جانب کھڑے ہوا کرتے تھے۔اور کبھی ایک دفعہ بھی آپ مصلےٰ کے وسط میں یا دائیں جانب کھڑے نہیں ہوئے۔” (سیرت المہدی جلداول روایت نمبر429)

حضرت ڈاکٹر عبد اللہ صاحبؓ بیان کرتے ہیں :

“مسجد مبارک بہت چھوٹی ہوا کرتی تھی اس میں میرے خیال میں چار آدمی ایک صف میں کھڑے ہوا کرتے تھے۔اس کے آگے ایک چھوٹا سا کمرہ تھا جس میں حضرت خلیفہ اول امام ہو کر نماز پڑھایا کرتے تھے۔عاجز نے بھی اس چھوٹے کمرے میں بسبب جگہ نہ ہونے کے حضور خلیفہ اول کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز ادا کی۔اس مسجد کے د ا ہنی طرف میرے خیال میں ایک دروازہ تھا۔اس دروازے میں سے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام تشریف لایا کرتے تھے اور اس دروازے سے ذرا آگے ہو کر دیوار کے ساتھ حضور نماز کے لیے کھڑے ہو جایا کرتے تھے۔کندھے کی اونچائی کے بالمقابل دیوار پر ایک داغ تھا۔دوستوں نے بھی بتایا کہ یہ داغ حضرت مسیح موعود ؑکے کندھے کا ہے۔کبھی حضور بیمار ہوتے تو نماز میں اس دیوار سے سہارا لیتے یا شاید کہا کہ دوران سر کے وقت سہارا لیتے۔”

(رجسٹر روایات صحابہ ؓغیر مطبوعہ جلد2صفحہ 112روایت ڈاکٹر عبداللہ صاحبؓ)

جن اصحاب کے پیچھے حضورؑ نے نماز پڑھی

اس بارہ میں حضرت مرزا بشیر احمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ

“ڈاکٹر میر محمد اسمٰعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا۔کہ میرے سامنے مندرجہ ذیل اصحاب کے پیچھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے نماز باجماعت پڑھی ہے۔

(1) حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اوّلؓ (2) حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی(3)حضرت حکیم فضل الدین صاحب مرحوم بھیروی (4)پیر سراج الحق صاحب نعمانی (5)مولوی عبدالقادر صاحب لدھیانوی (6)بھائی شیخ عبدالرحیم صاحب (7)حضرت میر ناصر نواب صاحب (8) مولوی سیّد سرور شاہ صاحب (9)مولوی محمد احسن صاحب (امروہی)(10)پیر افتخار احمد صاحب۔

خاکسار عرض کرتا ہے کہ دوسری روایتوں سے قاضی امیر حسین صاحب اور میاں جان محمد کے پیچھے بھی آپ کا نماز پڑھنا ثابت ہے۔دراصل آپ کا یہ طریق تھا کہ بالعموم خود امامت کم کراتے تھے اور جو بھی دیندار شخص پاس حاضر ہوتا تھا اُسے امامت کے لیے آگے کر دیتے تھے۔”

(سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر 550)

فہرست اصحاب جن کے پیچھے حضور نے نماز پڑھی

(1) حضرت مولوی نور الدین صاحب خلیفہ اوّلؓ
(2) حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ
(3) حضرت حکیم فضل الدین صاحب مرحوم بھیرویؓ
(4) پیر سراج الحق صاحب نعمانیؓ
(5) مولوی عبدالقادر صاحب لدھیانویؓ
(6) بھائی شیخ عبدالرحیمؓ صاحب
(7) حضرت میر ناصر نواب صاحبؓ
(8) مولوی سیّد سرور شاہ صاحبؓ
(9) مولوی محمد احسن صاحب ؓ(امروہی)
(10) پیر افتخار احمد صاحبؓ
(11) قاضی امیر حسین صاحبؓ
(12) میاں جان محمد ؓ

…………………(باقی آئندہ)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close