سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

شمائل مہدی علیہ الصلوٰۃ والسلام: حضرت اقدس ؑ کی نمازوں کا بیان(حصہ پنجم)

(سید مبشر احمد ایاز)

نماز میں امامت

حضرت مولوی عبد الرحمٰن صاحبؓ آف کپورتھلہ بیان کرتے ہیں :

“شروع صدی چہاردہم میں کتاب براہین احمدیہ جبکہ شائع ہوئی تو کپورتھلہ میں حاجی ولی اللہ صاحب نے وہ کتاب منگائی۔وہ میرے افسر تھے ان کی عادت تھی کہ جو کتاب نئی منگواتے اول آپ اس کو پڑھتے بعد اس کے مجھ کو پڑھنے کے واسطے دے دیا کرتے تھے۔جب انہوں نے کتاب براہین احمدیہ منگوائی تو پڑھ کر مجھ کو بلایا اور فرمایا کہ لوتم بھی اس کو دیکھو۔میں نے اس کو اول سے آخر تک خوب پڑھا چونکہ میرا مذہب ان دنوں میں اہلحدیث تھا جن کو وہابی کہا جایا کرتا تھا۔میں نے دل میں سوچا کہ علم غیب تو خدا کے سوا کسی کو نہیں ۔اس کتاب میں بہت سے الہامات لکھے ہیں اور ان کا پورا ہونا بھی لکھا ہے یہ کوئی بڑے بزرگ شخص ہیں اور ان سے ملنا چاہیے اور کپورتھلہ والے بھائیوں نے بھی اس کتاب کو پڑھا اور دیکھا۔اس کے بعد ہم سب قادیان میں آنے لگے اور حضرت صاحب سے ملے۔یہ بات بیعت سے کئی سال پہلے کی ہے۔ان دنوں میں حضرت صاحب عصر اور ظہر کی نماز تو بڑی مسجد میں خودپڑھایا کرتے تھے اور باقی تین وقت کی نماز مسجد مبارک میں پڑھایا کرتے تھے۔”

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد1صفحہ200-199روایت مولوی عبد الرحمن صاحبؓ)

حضرت عبد الستار صاحبؓ بیان کرتے ہیں :

“حضرت صاحب کے دعویٰ سے پیشتر جبکہ چھوٹی مسجد مبارک بنی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام جماعت ظہر عصر مغرب عشاء پڑھایا کرتے تھے۔ہم تین کس صرف نماز ساتھ پڑھتے تھے۔میاں گلاب، عبدالستار اور میاں جان محمد صاحب مقتدی بنا کرتے تھے۔حضرت صاحب جس طرح نماز پڑھا کرتے تھے۔وہ طرز مجھے آتی ہے۔یعنی ہر نماز رکت (رقت)سے پڑھا کرتے تھے۔عاجزی، انکساری اور زاری سے ادا کرتے تھے۔جیسا کوئی اپنے ماں باپ کے آگے روکر کچھ بچہ مانگتا ہے۔ایسی نماز کا ہم مقتدیوں کے قلب پر بہت اثر پڑتا تھا۔یہ پہلا سبق ہے جو ہمیں ملاہے۔جب حضرت صاحب نماز سے فارغ ہو کر بیٹھتے تھے تو ہم آپ کی شکل کی طرف دیکھا کرتے تھے جو کہ نورانی ہوتی تھی۔اور ہمارے دلوں کو بہت لبھاتی تھی۔”

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد6صفحہ 177روایت عبدالستار صاحب ؓ)

حضرت بھائی محمود احمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں :

“ایک دفعہ حضور قادیان سے بوقت سحری قادیان دارالامان سے گورداسپور تاریخ کے واسطے روانہ ہوئے تین یکے تھے ایک یکہ پر حکیم فضل دین صاحب مرحوم علیہ الرحمۃ۔آپ کے ہمراہ جو دوست سوار تھے ان کے نام مجھے یاد نہیں دوسرے یکہ میں حضور اور آپ کے ہمراہ حافظ حامد علی صاحب اور تیسرے یکہ میں خواجہ کمال الدین صاحب مرحوم اور مولوی محمد علی صاحب تھے۔حضور کے یکہ کے ہمراہ ہم چار پانچ کس تھے جب کلو سوہل اور بھڑکے درمیان پہنچے تو نماز کا وقت ہو گیا حضور نے ارشاد فرمایا کہ نماز پڑھ لیں ۔چنانچہ سب نے وضوء کیا اور سنتیں ادا کیں بعد از فراغت سنت حضور نے ارشاد فرمایا کہ حکیم فضل دین صاحب مرحوم علیہ الرحمت کو کہیں کہ نماز پڑھائیں ۔عرض کی گئی کہ حضور ان کا یکہ آگے نکل گیا ہے حضور خاموش ہو رہے ہمراہی کسی دوست نے عرض کی کہ حضور خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب کا یکہ پیچھے آرہا ہے ان میں سے کوئی نماز پڑھا دے گا۔چنانچہ پھر حضور خاموش رہے خاکسار کے پاس چادر تھی میں نے چادر آگے بچھا دی چنانچہ حضور نے نماز پڑھائی۔پہلی رکعت میں آیت کرسی۔دوسری میں سورۃ فاتحہ …جب حضور نے سلام پھیرا تو مولوی محمد علی صاحب اور خواجہ کمال الدین صاحب کا یکہ بھی آپہنچا۔”

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد8صفحہ80 روایت بھائی محمود احمد صاحبؓ)

بیان محترمہ اہلیہ صاحبہ حضرت بھائی جی:

“حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہؓ والے صحن میں جو بیت العافیۃ (حصہ الدار)کے نیچے ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام مغرب کی نماز کھڑے ہو کر پڑھاتے تھے۔ ہم دس پندرہ مستورات حضور کی امامت میں نماز پڑھا کرتی تھیں ۔ ایک دفعہ حضور مغرب کی نماز پڑھا چکے تھے تو پاس ہی ایک چارپائی پڑی تھی، اس پر فوراً لیٹ گئے۔ حضرت ام المومنینؓ نے ہمیں انگلی کے اشارہ سے خاموش رہنے کو فرمایا اور بتایا کہ الہام ہو رہا ہے۔ جب الہام کی حالت جاتی رہی تو حضور کے چہرہ پر پسینہ آ گیا اور حضور ضعف محسوس کرنے لگے۔ حضور کا جسم دبایا گیا، اس حالت کے جاتے رہنے پر حضرت ام المومنینؓ نے دریافت کیا کہ کیا الہام ہوا ہے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ سب باتیں بتانے والی نہیں ہوتیں ۔ اس صحن سے بیت العافیۃ پر چڑھنے کے لیے ایک سیڑھی تھی، سیڑھی کے اوپر دروازہ تھا، حضور نے اس دروازہ کو مقفل کروا دیا اور فرمایا کہ یہ دروازہ بند رہے گا، جب میرے مولا کا حکم ہوگا تو کھولا جائے گا۔”

(اصحابِ احمد جلد نہم مؤلفہ ملک صلاح الدین ایم۔اے صفحہ 157-156حاشیہ )

نماز میں سورتوں کی تلاوت/قراءت

حضرت عبد اللہ صاحبؓ بیان کرتے ہیں :

“ایک دفعہ صبح کے وقت گورداسپور تشریف لے جانے کے وقت صبح کی نماز حضرت صاحب کے پیچھے پڑھی۔دارالامان سے باہر کی طرف بطرف گورداسپور ڈھاب کے پاس ایک چھوٹی سی مسجد میں پہلی رکعت میں حضرت صاحب نے‘‘الٓمٓ ذٰلِکَ الْکِتَابُ لَارَیْبَ فِیْہِ سے ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ”تک دوسری رکعت میں‘‘ آمَنَ الرَّسُوْلُ’’سے الخ پڑھ کر نماز فرض ادا فرمائی۔”

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد7صفحہ 192روایت عبداﷲصاحبؓ)

ایک اور روایت ہے کہ

“خاکسار کے اس سوال پر کہ کیا کبھی آپ نے حضرت مسیح موعود کو امامت کرتے دیکھا ہے؟ فرمایا کہ ایک دفعہ ایسا اتفاق ہوا ہے کہ حضور نے مسجد مبارک میں نماز پڑھائی۔ہم پیچھے تین آدمی تھے۔شام اور عشاء کی دو نمازیں ہم نے حضور کے پیچھے پڑھیں اور دونوں نمازوں میں حضور نے “قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ”ایک ایک رکعت میں پڑھا۔میں بھی مدت تک ایسا ہی کرتا رہا۔…………”

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد9صفحہ37)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے بیان کرتے ہیں :

“بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود ؑ جب کبھی مغرب کی نماز گھر میں پڑھا تے تھے تو اکثر سورہ یوسف کی وہ آیات پڑھتے تھے جس میں یہ الفاظ آتے ہیں اِنَّمَآ اَشْکُوْا بَثِّیْ وَحُزْنِیْ اِلَی اللّٰہ(یوسف:87)خاکسارعرض کرتا ہے کہ حضرت مسیح موعود ؑکی آواز میں بہت سوز اور درد تھا۔اور آپ کی قراء ت لہر دار ہوتی تھی۔”

(سیرت المہدی جلداول روایت نمبر85)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے بیان کرتے ہیں :

“شیخ کرم الٰہی صاحب پٹیالوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ اپنی بیعت سے قبل میں نے حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی تقریرلدھیانہ میں سنی۔جب وہ تقریر ختم ہوئی تو نماز مغرب ادا کی گئی۔امامت حضرت صاحب نے خود فرمائی۔اور پہلی رکعت میں فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص اور فَلَق تلاوت فرمائی۔اور دوسری رکعت میں فاتحہ کے بعد سورۃ اخلاص اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھی۔اس کے بعد حضور نے بیعت لی۔اس روز ہم دو آدمیوں نے بیعت کی تھی۔”

(سیرت المہدی جلددوم روایت نمبر1108)

حضرت خواجہ عبدالرحمٰن صاحبؓ بیان کرتے ہیں :

“جن دنوں کرم دین والا مقدمہ گورداسپور میں دائر تھا۔عموماً حضرت اقدس مقدمہ کی تاریخوں پر قادیان سے علی الصبح روانہ ہوتے تھے اور نماز فجر راستہ میں ہی حضرت مولوی فضل الدین صاحب بھیروی کی امامت میں ادا فرماتے تھے۔ایک دفعہ بُٹراں کی نہر کے قریب نماز فجر کا جو وقت ہوا۔تو حضرت مسیحِ موعود علیہ السَّلام نے فرمایا کہ نماز فجر کا وقت ہو گیا ہے یہیں نماز پڑھ لی جائے۔اصحاب نے عرض کی کہ حضور حکیم مولوی فضل الدین صاحب آگے نکل گئے ہیں اور خواجہ کمال الدین صاحب اور مولوی محمد علی صاحب ساتھ ہیں ۔حضور علیہ الصلوٰۃ والسَّلام خاموش ہو گئے اور خود ہی امامت فرمائی۔پہلی رکعت فرض میں آیت الکرسی اور دوسری رکعت میں سورۂ اخلاص تلاوت فرمائی۔”

(سیرت المہدی روایت نمبر520)

حضرت میاں خیر الدین صاحب سیکھوانیؓ بیان کرتے ہیں :

“نماز عموماً آپ دوسرے کی اقتداء میں پڑھتے تھے۔میں نے اس قدر طویل عرصہ میں دو دفعہ حضور کی اقتداء میں نماز پڑھی۔ایک دفعہ قبل دعویٰ کے مسجد اقصیٰ میں شام کی نماز۔ایک رکعت میں حضور نے سورہ والتین پڑھی تھی۔مجھے یاد ہے بڑی دھیمی آواز سے جو بمشکل مقتدی سن سکے۔اور دوسری دفعہ مولوی کرم دین والے مقدمہ میں گورداسپور کو جاتے ہوئے بڑی نہر پر ظہر کی نماز حضور کی اقتداء میں پڑھی۔”

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد14صفحہ2 روایت میاں خیرالدین صاحبؓ سیکھوانی)

حضرت بابو غلام محمد صاحبؓ بیان کرتے ہیں :

“مولوی عبدالکریم صاحب سردرد اور بخار کے سبب سے صاحب فراش ہو گئے۔ادھر شاہ دین سٹیشن ماسٹر بھی بخار میں مبتلا تھے۔حضور مجلس میں نماز کے لیے تشریف لائے۔کچھ دیر بیٹھنے کے بعد آپ نے فرمایا کہ مولوی صاحب کا کیا حال ہے؟ ایک آدمی نے اٹھ کر مولوی صاحب سے دریافت کیا۔آپ نے جواب دیا “دصدع” کہ بخار بھی ہے اور سردرد بھی ہے۔پھر انتظار کے بعد حضور نے فرمایا کہ پوچھو نماز پڑھائیں گے؟ مولوی صاحب نے عرض کیا کہ حضور مجھ سے تو اٹھا بھی نہیں جاتا۔ظہر کو دیر ہو رہی تھی کہ حضور (سے)کہنے لگے۔حضور خواجہ صاحب، مولوی محمد علی اور حکیم فضل دین صاحب موجود ہیں کیا وہ نماز پڑھا دیں ؟ اکثر کا نام لیا گیا مگر حضور خاموش بیٹھے رہے۔کچھ انتظار کے بعد حضور خود مصلیٰ پر تشریف فرما ہوئے اور ظہر پڑھائی۔ہم سب نے حضور کی اقتدا میں نماز ادا کی۔بہت ہی ہلکی نماز تھی۔سجدے بھی ہلکے تھے۔اسی طرح عصر کے وقت بھی حضور خود کھڑے ہوئے اور عصر بھی حضور نے پڑھائی۔مغرب کی نماز بھی حضور نے ہی پڑھائی۔دونوں رکعتوں میں حضور نے قُلْ ھُوَاللّٰہُ اَحَدٌ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ یا قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ الْفَلَقِ اور قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ پڑھی تھیں ۔حتیٰ کہ عشاء بھی انہی ہلکی ہلکی سورتوں کے ساتھ پڑھائی۔”

(رجسٹر روایات صحابہؓ (غیر مطبوعہ) جلد9صفحہ 80، 81 روایت حضرت بابو غلام محمد صاحب ؓ)

…………………(باقی آئندہ)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close