متفرق شعراء

گلوب کے دو اسلام آباد

(جمیل الرحمٰن)

اب مقابل پر ہيں دو اسلام آباد
ايک ميں فرعوں کا جبڑا دفن ہے
دوسرے پر ہے تجلّي طُور کي
کندني مٹي ميں موسيٰ دفن ہے
ايک پر قابض ہيں اب تک سامري
ايک ميں جوبن پہ اپنے بندگي
ايک ہے پيہم خزاں سے بےثمر
دوسرے ميں زندگي با برگ و بار
ايک ميں جينے کا رستہ ہي نہيں
دوسرے ميں ہيں امنگيں بے شمار
ايک ہے کاسہ بدستوں کي صدا
دوسرا پُرحمد سينوں کي دعا
ايک کے عيار ملّاں فتنہ جُو
دوسرے کو امن کي ہے جستجو
ايک ہے مےخانۂ حرص و ہوس
دوسرا عرفان و حکمت کا سبو
ايک بداعمال اور وعدہ شکن
دوسرا راہِ وفا پر گام زن
ايک اپني تيرگي کا ترجماں
ايک ميں روئے خلافت ضوفشاں
ايک نے تاريخ کو رسوا کيا
دوسرا مشعل برائے رہبراں
ايک ہر دم پيکرِ افسردگي
دوسرا آماجگاہِ روشني
ايک يزداں کي پکڑ ميں روز و شب
دوسرا برکت پہ برکت سے نہال
ہے اگر چشمِ بصيرت ديکھ لو
کيا ہے تقديرِ خدائے ذوالجلال

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close