خطبہ جمعہ

غزوۂ تبوک کے موقع پر پیچھے رہ جانے والے صحابہ کے مقاطعے اور ان کی معافی کا تفصیلی بیان

خطبہ جمعہ سیّدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایّدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 06؍دسمبر2019ء بمطابق 06؍فتح 1398 ہجری شمسی بمقام مسجد مبارک، اسلام آباد، ٹلفورڈ (سرے) یو کے

اخلاص و وفا کے پیکر بدری صحابہ حضرت ھِلَال بن امیہ واقِفی رضی اللہ عنہ کی سیرت مبارکہ کا بیان

وقفِ نوَ مرکزیہ (یوکے) کی ویب سائیٹ کے اجرا کا اعلان اور مختصر تعارف

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ- بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ٪﴿۷﴾

آج جن بدری صحابی کا مَیں ذکر کروں گا ان کا نام ہے حضرت ھِلَالؓ ۔ حضرت ھِلَال بن امیہ واقفیؓ ان کا پورا نام ہے۔ یہ انصار کے قبیلہ اوس کے خاندان بنو واقف سے تعلق رکھتے تھے۔ ان کے والد کا نام امیہ بن عامر اور والدہ کا نام انیسہ بنت ھِدْم تھا جو حضرت کلثوم بن ھِدْمؓ کی بہن تھیں ۔ کلثوم بن ھِدْمؓ وہی صحابی ہیں جن کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہجرتِ مدینہ کے موقعے پر قبا میں قیام فرمایا تھا۔

(اُسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ جلد5 صفحہ380-381 ھِلَالْ بِنْ اُمَیَّہْ دارالکتب العلمیہ بیروت 2003ء)
(معرفۃ الصحابہ جلد4 صفحہ 383حدیث :2995، ھِلَالْ بِنْ اُمَیَّہْ دارالکتب العلمیۃ بیروت 2002ء)

حضرت ھِلَال بن امیہ کی دو شادیوں کا ذکر ملتا ہے ایک فُرَیْعَہْ بنت مَالِک بن دُخْشُمسے جبکہ دوسری مُلَیْکَہْ بنت عبداللّٰہ کے ساتھ۔ حضرت ھِلَالؓ کی دونوں بیویوں کو اسلام قبول کرنے کی سعادت نصیب ہوئی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر انہوں نے بیعت کی۔

(الطبقات الکبریٰ جلد 8 صفحہ 282و285 وَمِنْ نِسَاءِ الْقَوَاقَلَہْ ،اَلْفُرِیْعَہْ بِنْت مَالِکْ/ مُلِیْکَہْ بِنْت عَبْدُاللہْ۔ دارالکتب العلمیۃ بیروت 1990ء)

حضرت ھِلَال بن امیہؓ قدیمی اسلام قبول کرنے والے تھے اور انہوں نے قبیلہ بنو واقف کے بت توڑے تھے اور فتح مکہ کے دن ان کی قوم کا جھنڈا ان کے پاس تھا۔

(اُسدالغابۃ فی معرفة الصحابة جلد5 صفحہ381 ھِلَالْ بِنْ اُمَیَّہْ دارالکتب العلمیہ بیروت 2003ء)

حضرت ھِلَال بن امیہؓ کو غزوۂ بدر، غزوۂ احد اور اسی طرح بعد کے غزوات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہم راہ شریک ہونے کی سعادت نصیب ہوئی تھی تاہم غزوۂ تبوک میں یہ شامل نہ ہو سکے تھے۔ ابن ہشام نے بدری صحابہ کی جو فہرست اپنی کتاب میں درج کی ہے اس میں حضرت ھِلَالؓ کا نام شامل نہیں ہے تاہم بخاری نے اپنی صحیح بخاری میں انہیں بدری صحابہ میں شمار کیا ہے۔

(الاصابہ فی تمییز الصحابہ الجزاء السادس صفحہ 428 ھِلَالْ بِنْ اُمَیَّہْ دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان 2005ء)
(اُسدالغابۃ فی معرفۃ الصحابۃ جلد5 صفحہ381 ھِلَالْ بِنْ اُمَیَّہْ دارالکتب العلمیہ بیروت 2003ء)
(صحیح البخاری کتاب المغازی باب تسمیة من سمی من اھل بدر )

حضرت ھِلَال بن امیہؓ ان تین انصار صحابہ میں سے تھے جو غزوۂ تبوک میں بغیر کسی عذر کے شامل نہ ہو سکے تھے۔ دوسرے دو صحابہ کعب بن مالکؓ اور مُرَارَة بن رَبِیعؓ تھے۔ ان کے بارے میں قرآن کریم میں یہ آیت بھی نازل ہوئی تھی کہ

وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِيْنَ خُلِّفُوْا حَتّٰى اِذَا ضَاقَتْ عَلَيْهِمُ الْاَرْضُ بِمَا رَحُبَتْ وَضَاقَتْ عَلَيْهِمْ اَنْفُسُهُمْ وَظَنُّوْا اَنْ لَّا مَلْجَاَ مِنَ اللّٰهِ اِلَّا اِلَيْهِ ثُمَّ تَابَ عَلَيْهِمْ لِيَتُوْبُوْا اِنَّ اللّٰهَ هُوَ التَّوَّابُ الرَّحِيْمُ۔(التوبۃ:118)

اور ان تینوں پر بھی اللہ توبہ قبول کرتے ہوئے جھکا جو پیچھے چھوڑ دیے گئے تھے یہاں تک کہ جب زمین ان پر باوجود فراخی کے تنگ ہو گئی اور ان کی جانیں تنگی محسوس کرنے لگیں اور انہوں نے سمجھ لیا کہ اللہ سے پناہ کی کوئی جگہ نہیں مگر اسی کی طرف۔ پھر وہ ان پر قبولیت کی طرف مائل ہوتے ہوئے جھک گیا تا کہ وہ توبہ کر سکیں اور یقینا ًاللہ ہی بار بار توبہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔

(اُسدالغابة فی معرفة الصحابة جلد5 صفحہ381 ھِلَالْ بِنْ اُمَیَّہْ دارالکتب العلمیہ بیروت 2003ء)

غزوۂ تبوک 9؍ہجری میں ہوا تھا اور صحیح بخاری میں اس کے بارے میں ایک تفصیلی روایت بھی ہے جس میں ان تینوں صحابہ کے پیچھے رہ جانے کا تذکرہ بیان ہوا ہے۔

حضرت کعب بن مالکؓ کے پوتے عبدالرحمٰن اپنے والد عبداللہ بن کعب سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت کعبؓ جب نابینا ہو گئے تو وہ انہیں پکڑ کر لے جایا کرتے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ میں نے حضرت کعب بن مالکؓ کو وہ واقعہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے۔ یہ جو لمبی روایت ہے یہ حضرت کعبؓ کے حوالے سے ہے۔ حضرت ھِلَال بن امیہؓ جن صحابی کا ذکر ہو رہا ہے ان کا ذکر بیچ میں آ جاتا ہے لیکن یہ ایک روایت ملتی ہے۔

بہرحال وہ کہتے ہیں کہ حضرت کعب بن مالکؓ کو وہ واقعہ بیان کرتے ہوئے سنا جبکہ وہ پیچھے رہ گئے تھے یعنی تبوک کا واقعہ۔ حضرت کعبؓ نے کہا کہ مَیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کسی غزوے میں بھی پیچھے نہیں رہا جو آپؐ نے کیا ہو سوائے غزوۂ تبوک کے۔ ہاں غزوۂ بدر میں بھی پیچھے رہ گیا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی پر بھی ناراضگی کا اظہار نہیں کیا تھا جو اس جنگ سے پیچھے رہ گیا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صرف قریش کے قافلے کو روکنے کے ارادے سے نکلے تھے مگر نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے بغیر اس کے کہ جنگ کی ٹھانی ہو ان کو دشمن سے ٹکرا دیا اور مَیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ عقبہ کی رات میں بھی موجود تھا۔ بدر کا واقعہ بیان کرتے ہیں کہ بدر میں بھی شامل نہیں ہوا تھا لیکن اس میں نہ شامل ہونے کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی ناراضگی کا اظہار نہیں فرمایا تھا۔

بہرحال کہتے ہیں جب ہم نے عقبہ میں اسلام پر قائم رہنے کا پختہ عہد و پیمان کیا تھا اور مَیں نہیں چاہتا کہ اس رات کے عوض مجھے بدر میں شریک ہونے کا موقع ملتا اگرچہ بدر لوگوں میں اس سے زیادہ مشہور ہے اور میری یہ حالت تھی کہ میں کبھی بھی اتنا تنو مند اور خوش حال نہیں تھا جتنا کہ اس وقت جبکہ میں آپؐ سے اس غزوہ میں پیچھے رہ گیا تھا یعنی تبوک کے۔ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! اس سے پہلے کبھی بھی میرے پاس سواری کے اونٹ اکٹھے نہیں ہوئے تھے اور اس غزوے کے اثنا میں سواری کے دو اونٹ اکٹھے کر لیے تھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس غزوے کا بھی ارادہ کرتے تھے تو آپؐ اس کو مخفی رکھ کر کسی اَور طرف جانے کا اظہار کرتے تھے۔ عمومی طور پر یہ ہوتا تھا کہ جو جنگی strategy ہے اس کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ایک تو مخفی رکھا کرتے تھے دوسرے سفر بھی لمبا کیا کرتے تھے یا راستہ بدلتے تھے۔ بہرحال کہتے ہیں کہ جب وہ غزوہ ہوا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس غزوے میں سخت گرمی کے وقت نکلے یعنی غزوۂ تبوک میں اور آپؐ کے سامنے دور دراز کا سفر اور غیر آباد بیابان اور جو دشمن تھا بہت بڑی تعداد میں تھا۔ آپؐ نے مسلمانوں کو ان کی حالت کھول کر بیان کر دی تا کہ وہ اپنے حملے کے لیے جو تیاری کرنے کا حق ہے تیاری کریں ۔ اس غزوے میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے کوئی چیز مخفی نہیں رکھی بلکہ بتا دیا کہ فلاں جگہ ہم نے جانا ہے اور فلاں دشمن ہے اس لیے تیاری اچھی طرح کر لو۔ کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اس طرف کا بھی بتا دیا جس طرف آپؐ جانا چاہتے تھے اور مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بکثرت تھے۔ حضرت کعبؓ کہتے تھے اَور کوئی شخص بھی ایسا نہ تھا جو غیر حاضر رہنا چاہتا ہو مگر وہ خیال کرتا کہ اس کا غیر حاضر رہنا آپؐ سے پوشیدہ رہے گا جب تک کہ اس سے متعلق اللہ کی وحی نازل نہ ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ غزوہ اس وقت کیا کہ جب پھل پک چکے تھے اور سائے اچھے لگتے تھے یعنی موسم بھی گرم تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مسلمانوں نے بھی سفر کی تیاری شروع کر دی۔ کہتے ہیں کہ میں صبح کو جاتا تا میں بھی ان کے ساتھ سامان کی تیاری کروں، سفر کی تیاری کروں۔ میں واپس لوٹتا اور کچھ بھی نہ کیا ہوتا۔ ارادے سے تو نکلتا تھا لیکن شام کو واپس آ جاتا اور تیاری نہیں ہوتی تھی۔ میں اپنے دل میں کہتا کہ میں تیاری کر سکتا ہوں۔ سامان میرے پاس موجود ہے۔ بہرحال کہتے ہیں یہ خیال مجھے لیت و لعل میں رکھتا رہا یہاں تک کہ لوگوں نے تیاری کر لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک صبح روانہ ہو گئے اور مسلمان بھی آپؐ کے ساتھ روانہ ہوئے اور میں نے اپنے سفر کی تیاری میں سے کچھ بھی نہ کیا تھا۔ میں نے سوچا کہ آپؐ کے جانے کے ایک دن یا دو دن بعد تیاری کر لوں گا اور پھر ان سے جا ملوں گا کیونکہ سفر کی سواری تو میرے پاس موجود تھی اور میں آسانی سےکر سکتا تھا۔ بہرحال کہتے ہیں ان کے چلے جانے کے بعد دوسری صبح گیا کہ سامان تیار کر لوں مگر پھر واپس آ گیا اور کچھ بھی نہ کیا۔ پھر میں اگلے دن یعنی تیسرے دن گیا اور واپس لوٹ آیا اور کچھ بھی فیصلہ نہ کر سکا اور یہی حال رہا یہاں تک کہ لشکر تیزی سے سفر کرتے ہوئے بہت آگے نکل گیا۔ میں نے بھی ارادہ کر لیا کہ کوچ کروں اور ان کو پا لوں اور کاش کہ میں ایسا کرتا مگر مجھے اس کی طاقت نصیب نہ ہوئی، مَیں کر نہیں سکا ۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جانے کے بعد جب بھی مَیں ان لوگوں میں نکلتا اور ان میں چکر لگاتا تو مجھے یہ بات غمگین کر دیتی کیونکہ جو پیچھے رہ گئے تھے ان میں سے اکثر مَیں ایسے ہی شخص کو دیکھتا جنہیں بوجہ نفاق کے حقارت سے دیکھا جاتا تھا۔ کہتے ہیںجب مَیں مدینہ کی گلیوں میں نکلتا تو انھی لوگوں کو دیکھتا جن کے بارے میں عام طور پر یہ تاثر تھا کہ ان میں نفاق پایا جاتا ہے یا کمزوروں میں سے ایسا شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے معذور ٹھہرایا تھا یا معذور تھے یا ایسے لوگ جو بزدل تھے اور جن کے دل میں نفاق تھا۔ بہرحال کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تبوک پہنچنے سے قبل مجھے یاد نہ کیا، میرے بارے میں نہ پوچھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم تبوک میں لوگوں کے ساتھ بیٹھے تھے جب آپؐ نے پوچھا کہ کعب کہاں ہے؟ بنو سلمہ میں سے ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ! اس کو اس کی دو چادروں نے اور اس کی اپنے دائیں بائیں مڑ کر دیکھنے نے روک رکھا تھا یعنی ایک تو شاید پیسہ آ گیا ہے یا کوئی تکبر پیدا ہو گیا ہے اس لیے نہیں آ سکا۔ حضرت معاذ بن جبلؓ نے یہ سن کر کہا کیا بُری بات ہے جو تم نے کہی ہے۔ انہوں نے کہا نہیں ، ایسی بات نہیں ہے۔ پھر انہوں نے کہا کہ یا رسولؐ اللہ! اس کے متعلق ہمیں اچھا ہی تجربہ ہے۔ کعب کے بارے میں اب تک تو ہمارا تجربہ اچھا ہے۔ نہ اس میں کوئی فخر ہے، نہ تکبر ہے، نہ منافقت ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ سن کر خاموش ہو گئے۔

حضرت کعب بن مالکؓ کہتے تھے کہ جب مجھے یہ خبر پہنچی کہ آپؐ جو اس سفر پہ نکلے تھے واپس آ رہے ہیں تو مجھے فکر ہوئی اور میں جھوٹی باتیں سوچنے لگا کہ کس بات سے کل آپؐ کی ناراضگی سے بچ جاؤں۔ کوئی بہانہ کروں اور اپنے گھر والوں میں سے ہر ایک اہل رائے سے میں نے اس بارے میں مشورہ لیا، لوگوں سے بھی پوچھا کہ کیا بہانہ ہو سکتا ہے۔ جب یہ کہا گیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آن پہنچے تو میرے دل سے سارے جھوٹے خیالات کافور ہو گئے۔ سب بہانے نکل گئے۔ سب جھوٹ نکل گئے اور میں نے سمجھ لیا کہ میں کبھی بھی آپؐ کے غصے سے ایسی بات سے بچنے والا نہیں جس میں جھوٹ ہو۔ اس لیے میں نے آپؐ سے سچ سچ بیان کرنے کی ٹھان لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے۔ جب آپ ﷺکسی سفر سے آتے تو پہلے مسجد میں جاتے اور اس میں دو رکعتیں نفل پڑھتے۔ پھر لوگوں سے ملنے کے لیے بیٹھ جاتے۔ جب آپؐ نے یہ کیا تو پیچھے رہ جانے والے لوگ آپؐ کے پاس آ گئے۔ جو نہیں گئے تھے وہ آگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے عُذر بیان کرنے لگے۔ ہر ایک بہانے کرنے لگ گیا کہ اس کے نہ جانے کی کیا کیا وجہ تھی اور قسمیں کھانے لگے اور ایسے لوگ اَسّی (80)سے کچھ اوپر تھے جو اس قسم کی قسمیں کھا کر، غلط بیانیاں کر کے بہانے کر رہے تھے۔ انہوں نے اپنے عذر بیان کیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ان کے ظاہری عذر مان لیے اور ان سے بیعت لی اور ان کے لیے استغفار کیا اور ان کا اندرونہ اللہ کے سپرد کیا۔ انہوں نے کہا ٹھیک ہے بظاہر تم یہ کہتے ہو تو مان لیتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ تمہاری بخشش کے سامان کرے۔ باقی یہ معاملہ مَیں اللہ کے سپرد کرتا ہوں۔ پھر کہتے ہیں کہ مَیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا جب مَیں نے آپؐ کو سلام کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض شخص کی طرح مسکرائے۔ میری طرف دیکھا مسکرائے لیکن اس طرح دیکھنا تھا جس طرح کہ ناراضگی ہوتی ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آگے آؤ۔ میں آیا اور آپؐ کے سامنے بیٹھ گیا۔ آپؐ نے مجھ سے پوچھا کہ کس بات نے تمہیں پیچھے رکھا ہے؟ ہمارے ساتھ کیوں نہیں سفر کیا؟ کیا تم نے سواری نہیں خریدی تھی؟ میں نے کہا ہاں اللہ کی قسم ! میں ایسا ہوں کہ اگر آپؐ کے سوا دنیا کے لوگوں میں سے کسی اَور کے پاس بیٹھا ہوتا تو مَیں سمجھتا ہوں کہ مَیں ضرور ہی اس کی ناراضگی سے عذر کر کے بچ جاتا کیونکہ مجھے قوت بیان دی گئی ہے۔ مجھے بڑے اچھے بہانے بنانے آتے ہیں میں بچ سکتا تھا مگر اللہ کی قسم ! میں جانتا تھا کہ اگر مَیں نے آج آپؐ سے کوئی ایسی جھوٹی بات بیان کی جس سے آپؐ مجھ پر راضی ہو گئے تو عنقریب اللہ آپؐ کو مجھ پر ناراض کر دے گا۔ مَیں بیان کر کے ناراضگی سے بچ تو سکتا ہوں لیکن اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کسی نہ کسی وقت ظاہر ہو جائے گی اور وہ آپؐ کو بھی پتا لگ جائے گی۔ پھر کہتے ہیں کہ اگر میں آپؐ سے سچی بات بیان کروں گا جس کی وجہ سے آپؐ مجھ پر ناراض ہوں تو میں اس میں اللہ کے عفو کی امید رکھتا ہوں ۔ آپؐ سچی بات سے ناراض ہو جائیں گے لیکن میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ مجھ سے عفو کا سلوک کرے گا۔ پھر حضرت کعبؓ نے عرض کیا کہ نہیں اللہ کی قسم! میرے لیے کوئی عذر نہیں تھا کہ عذر بیان کروں۔ اللہ کی قسم ! کوئی عذر نہیں تھا مَیں کبھی بھی ایسا تنومند اور آسودہ حال نہیں ہوا جتنا کہ اس وقت تھا جب آپؐ سے پیچھے رہ گیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ سن کر فرمایا: اس نے سچ بیان کیا ہے۔ پھر آپؐ نے فرمایا کہ اٹھو یہاں تک کہ اللہ تمہارے متعلق کوئی فیصلہ کرے۔ یہاں میرے سامنے سے چلے جاؤ ۔میں اٹھ کر چلا گیا اور بنو سلمہ میں سے بعض لوگ بھی اٹھ کر میرے پیچھے ہو لیے۔ انہوں نے مجھے کہا کہ اللہ کی قسم ! ہمیں علم نہیں کہ تم نے اس سے پہلے کوئی قصور کیا ہو اور تم یہ بھی نہ کر سکے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی بہانہ ہی بناتے جبکہ ان کے پیچھے رہنے والوں نے، بہت سارے لوگوں نے جو اَسّی لوگ تھے، آپؐ کے سامنے بہانے بنائے تھے۔ جس کا پہلے ذکر ہو چکاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا تمہارے لیے استغفار کر دینا ہی تمہارے اس گناہ بخشانے کے لیے کافی تھا۔ کعبؓ کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! یہ لوگ مجھے ملامت ہی کرتے رہے یہاں تک کہ مَیں نے بھی ارادہ کر لیا کہ لوٹ جاؤں اور اپنے آپ کو جھٹلا دوں۔ دوبارہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں واپس جاؤں اور عرض کروں کہ میں نے جو پہلے بات کی تھی وہ غلط تھی اور کوئی نہ کوئی عذر پیش کر دوں لیکن کہتے ہیں پھر میں نے ان لوگوں سے پوچھا، جو مجھے کہہ رہے تھے کہ تم نے غلط کیا کہ سچی بات بتا دی، واپس جاؤ۔ کہتے ہیں میں نے ان سے، ان لوگوں سےپوچھا جو مجھے بھڑکانے والے تھے یا غلط کام کی طرف ابھارنے والے تھے کہ کیا میرے ساتھ کوئی اَور بھی ہے جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس قسم کا اقرار کیا ہو جیسی باتیں میں نے کی ہیں، سچ سچ بیان کر دیا ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہاں ۔ دو اَور شخص ہیں انہوں نے بھی وہی کہا ہے جو تم نے کہا ہے اور ان کو بھی وہی جواب ملا ہے جو تمہیں دیا گیا ہے۔ میں نے کہا وہ کون ہیں ۔ کہنے لگے کہ ایک تو مُرَارہ بن ربیع عَمْرِیؓ ہیں اور دوسرے ھِلَال بن امیہ واقفِیؓ ہیں۔ حضرت کعبؓ کہتے ہیں کہ انہوں نے مجھ سے ایسے دو نیک آدمیوں کا ذکر کیا جو بدر میں شریک ہو چکے تھے۔ ان دونوں میں میرے لیے نمونہ تھا۔ جب لوگوں نے ان دونوں کا مجھ سے ذکر کیا تو مَیں ان کے پاس سے چل پڑا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم سے بات چیت کرنے سے منع کر دیا۔
جب یہ ذکر ہو گیا کہ ہاں دو شخص اَور ہیں تب مجھے خیال آیا کہ یہ دونوں حقیقی نیک لوگ ہیں، بدرمیں بھی شامل ہو چکے ہیں۔ اس لیے میں اب انھی کے ساتھ شامل ہوں گا۔ کوئی غلط بہانہ نہیں کروں گا۔ کہتے ہیں مَیں چلا گیا اور اس دوران میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو ہم سے بات چیت کرنے سے منع کر دیا یعنی ایک طرح کا مقاطعہ ہو گیا۔ لوگ ان سے کترانے لگے جو ان لوگوں میں سے تھے جو آپؐ سے پیچھے رہ گئے تھے۔ گویا کہ ہم سے بالکل ناآشنا ہیں۔ اس بات پہ جب منع کر دیا گیا تو ہمارے سامنے نہیں آتے تھے، ہم سے بچتے تھے جس طرح ہمیں جانتے ہی نہ ہوں یہاں تک کہ یہ زمین بھی مجھے اوپری نظر آنے لگی۔ وہ نہ تھی جس کو میں جانتا تھا ۔ مدینےکی گلیاں یہ شہر یہ زمین میرے لیے بالکل اوپری ہو گئی۔ یہ مجھے وہ چیز نہیں لگ رہی تھی جس کو میں پہلے جانتا تھا۔ لگتا تھا میں ایک نئی جگہ پر آ گیا ہوں کیونکہ لوگ میرے سے کترا رہے تھے۔ بہرحال کہتے ہیں کہ اس حالت پر پچاس راتیں رہے۔ اور جو میرے دوسرے دو ساتھی تھے حضرت ھِلَال بن امیہؓ اور مُرارہ بن ربیع انہوں نے شدید شرمندگی محسوس کی اور ان کا تو یہ حال تھا کہ وہ اپنے گھروں میں بیٹھ کر رونے لگے۔ وہ ھِلَالؓ وغیرہ تو گھروں سے باہر ہی نہیں نکلے۔ حضرت ھِلَالؓ تو گھر میں رہے۔ مستقل گھر میں رہتے تھے اور روتے تھے اور حضرت کعبؓ کہتے ہیں کہ میں تو ان لوگوں میں زیادہ جوان تھا اور ان لوگوں سے مصیبت کو زیادہ برداشت کرنے والا تھا۔ میں باہر بھی نکلتا تھا اور مسلمانوں کے ساتھ نمازوں میں شرکت کرتا تھا۔ میں گھرمیں بیٹھ کر روتا نہیں رہا۔ ان کی طرح استغفار نہیں کرتا رہا۔ استغفار کرتا تھا لیکن ساتھ ہی میں باہر بھی نکلتا تھا اور مسلمانوں کے ساتھ نمازوں میں بھی شریک ہوتا تھا۔ مسجد بھی آتا تھا۔ بازاروں میں بھی پھرتا تھا مگر مجھ سے کوئی بات نہیں کرتا تھا اور مَیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھی جاتا تھا۔ مسجد میں مجلس لگی ہوتی تھی تو وہاں بھی جاتا تھا ۔آپؐ کو سلام کرتا تھا جبکہ آپؐ نماز کے بعد اپنی جگہ بیٹھے ہوتے اور اپنے دل میں کہتا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سلام کا جواب دینے میں اپنے ہونٹ ہلائے ہیںیا نہیں اور آپؐ کے قریب ہو کر نماز پڑھتا اور نظر چرا کر آپؐ کو دیکھتا اور جب نماز پڑھنے لگتا تو آپؐ میری طرف دیکھتے اور جب میں آپؐ کی طرف توجہ کرتا تو آپؐ مجھ سے منہ پھیر لیتے۔ جب لوگوں کی یہ درشتی مجھ پر طول پکڑ گئی تو میں چلا اور میں نے حضرت ابوقتادہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے باغ کی دیوار کو پھلانگا۔ یہ میرے چچا کے بیٹے تھے اور مجھے تمام لوگوں سے زیادہ پیارے تھے۔ کہتے ہیں میں نے ان کو السلام علیکم کہا۔ پھر کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم! انہوں نے مجھے سلام کا جواب تک نہ دیا۔ میں نے کہا ابوقتادہؓ میں تم سے اللہ کی قسم دے کر پوچھتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ میں اللہ اور اس کے رسولؐ سے محبت رکھتا ہوں؟ وہ خاموش رہے۔ پھر ان سے پوچھا اور ان کو قسم دی تو وہ پھر خاموش رہے۔ پھر تیسری دفعہ ان سے پوچھا اور انہیں قسم دی مگر انہوں نے پھر کہا کہ اللہ اور اس کا رسولؐ بہتر جانتے ہیں کہ محبت رکھتے ہو یا نہیں رکھتے۔ یہ سن کر میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ میں وہاں سے دیوار پھلانگ کر پھر چلا آیا۔ پھر حضرت کعبؓ کہتے تھے کہ اس اثنا میں کہ مَیں مدینے کے بازار میں چلا جا رہا تھا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اہلِ شام کے نِبْطیوںمیں سے جو مدینہ میں غلہ لے کر بیچنے کے لیے آئے ہوئے تھے ایک نِبْطِی کہہ رہا تھا کہ کعب بن مالک کا کون بتائے گا؟ یہ سن کر لوگ اس کو اشارے سے بتانے لگے۔ جب وہ میرے پاس آیا تو اس نے غسّان کے بادشاہ کی طرف سے ایک خط مجھے دیا۔ اس میں یہ مضمون تھا کہ اَمَّا بَعْدُ مجھے یہ خبر پہنچی ہے کہ تمہارے ساتھی نے تمہارے ساتھ سختی کا معاملہ کر کے تمہیں الگ تھلگ چھوڑ دیا ہے اور تمہیں تو اللہ تعالیٰ نے کسی ایسے گھر میں پیدا نہیں کیا جہاں ذلّت ہو اور تمہیں ضائع کر دیا جائے۔ تم ہم سے آ کر ملو۔ ہم تمہاری خاطر مدارات کریں گے۔ کہتے ہیں جب میں نے یہ خط پڑھا تو میں نے کہا یہ بھی ایک آزمائش ہے۔ میں وہ خط لے کر تنور کی طرف گیا اور اس میں اس کو ڈال دیا۔
جب پچاس راتوں میں سے چالیس راتیں گزریں تو میں کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام لانے والا میرے پاس آ رہا ہے۔ اس نے کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تم سے فرماتے ہیں کہ تم اپنی بیوی سے الگ ہو جاؤ۔ میں نے پوچھا کیا میں اسے طلاق دے دوں یا کیا کروں ؟ اس نے کہا کہ اس سے الگ رہو اور اس کے قریب نہ جاؤ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے دونوں ساتھیوں کو بھی، دوسرے جودو ساتھی تھے، (حضرت ھِلَالؓ اور مُرارہ) ان کو بھی ایسا ہی کہلا بھیجا۔ کہتے ہیں میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اپنے گھر والوں کے پاس چلی جاؤ اور اس وقت تک انھیں کے پاس رہنا کہ اللہ اس معاملے میں کوئی فیصلہ کرے۔ حضرت کعبؓ کہتے تھے کہ پھر ھِلَال بن امیہؓ کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی۔ جن صحابی کا مَیں یہ ذکر بیان کر رہا ہوں ان کی بیوی آئیں اور کہنے لگیں یا رسول اللہؐ! ھِلَال بن امیہؓ بہت بوڑھا ہے۔ اس کا کوئی ملازم نہیں ہے۔ اگر میں اس کی خدمت کروں تو آپؐ ناپسند تو نہیں فرمائیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں ٹھیک ہے خدمت کرتی رہو۔ کھانا پکانا ،گھر کا کام کرنا وہ کرتی رہو لیکن وہ تمہارے قریب نہ آئے۔ کہنے لگی کہ اللہ کی قسم ! اس کو تو کسی بات کی تحریک ہی نہیں ہوتی۔ اللہ کی قسم! وہ اس دن سے آج تک رو رہا ہے۔ اس نے کیا کہنا ہے۔ جب سے اس کو سزا ملی ہے، مقاطعہ ہوا ہے، جب سے اس کے ساتھ یہ معاملہ ہوا ہے وہ تو اس دن سے بیٹھا رو رہا ہے۔ حضرت کعبؓ کہتے ہیں کہ میرے بعض رشتے داروں نے مجھ سے کہاکہ تم بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنی بیوی کے متعلق ایسی ہی اجازت لے لو جیسے حضرت ھِلَال بن امیہؓ کی بیوی کو اس کی خدمت کرنے کی اجازت دی ہے۔ اس کو مل گئی تو تمہیں بھی مل جائے گی۔ میں نے کہا اللہ کی قسم ! میں تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی اس بارے میں اجازت نہ لوں اور مجھے کیا معلوم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس کے بارے میں کیا جواب دیں۔ حضرت ھِلَالؓ تو بوڑھے آدمی ہیں اَور میں جوان آدمی ہوں۔ اس کے بعد کہتے ہیں مَیں دس راتیں اَور ٹھہرا رہا یہاں تک کہ ہمارے لیے پچاس راتیں اس وقت سے پوری ہوئیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے ساتھ بات چیت کرنے سے منع کیا تھا۔

جب پچاسویں رات کی صبح کو نماز فجر پڑھ چکا اور میں اس وقت اپنے گھروں میں سے ایک گھر کی چھت پر تھا اور اسی حالت میں بیٹھا ہوا تھا جس کا اللہ تعالیٰ نے ذکر کیا ہے یعنی میری جان مجھ پر تنگ ہو چکی تھی اور زمین بھی باوجود کشادہ ہونے کے مجھ پر تنگ ہو گئی تھی تو اس اثنا میں میں نے ایک پکارنے والے کی آواز سنی جو سلع پہاڑ پر، جو مدینہ کے شمالی جانب ایک پہاڑ کا نام ہے، وہاں چڑھ کر بلند آواز سے پکار رہا تھا کہ اے کعب بن مالک !تمہیں بشارت ہو !کہتے ہیں میں یہ سن کر سجدے میں گر پڑا اور سمجھ گیا کہ مصیبت دور ہو گئی ہے۔ اگر اس نے جو مجھے پکارا ہے، بشارت دی ہے تو یقینا ًمیری بریت کا کوئی سامان ہو گیا ہے، مصیبت دُور ہو گئی ہے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فجر کی نماز پڑھ چکےتو آپؐ نے یہ اعلان فرمایا کہ اللہ نے مہربانی کر کے ہماری غلطی کو معاف کر دیا ہے۔ یہ سن کر لوگ ہمیں خوش خبری دینے لگے اور میرے دونوں ساتھیوں کی طرف بھی خوش خبری دینے والے گئے یعنی حضرت ھِلَالؓ اور دوسرے ساتھی کی طرف اور ایک شخص میرے پاس گھوڑا دوڑاتے ہوئے آیا۔ اسلم قبیلے کا ایک شخص دوڑا آیا اور پہاڑ پر چڑھ گیا اوراس کی آواز گھوڑے سے زیادہ جلدی پہنچنے والی تھی۔ جب وہ شخص میرے پاس بشارت دینے آیا جس کی آواز میں نے سنی تھی تو میں نے اپنے دونوں کپڑے اتارے اور اس کو پہنائے اس لیے کہ اس نے مجھے بشارت دی تھی۔ اور اللہ کی قسم ! اس وقت اس کے سوا میرے پاس اور کچھ تھا نہیں۔ جو میرے پاس اس وقت تھا وہ دو کپڑے تھے اور میں نے دو اَور کپڑے عاریتاً لیے ۔کسی سے مانگے پھر اور انہیں پہنا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلا گیا اور لوگ مجھے فوج در فوج ملتے اور توبہ کی قبولیت کی وجہ سے مجھے مبارک باد دیتے۔ کہتے تھے کہ تمہیں مبارک ہو جو اللہ نے تم پر رحم کر کے توبہ قبول کی ہے۔ حضرت کعبؓ کہتے تھے کہ آخر مَیں مسجد پہنچا۔ کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہیں اور آپؐ کے ارد گرد لوگ ہیں۔ حضرت طلحہ بن عبید اللہؓ مجھے دیکھ کر میرے پاس دوڑے آئے اور مجھ سے مصافحہ کیا اور مبارک باد دی۔ مہاجرین میں سے ان کے سوا بخدا کوئی شخص بھی میرے پاس اٹھ کر نہیں آیا اور طلحہؓ کی یہ بات میں کبھی بھی نہیں بھولوں گا۔ اور حضرت کعبؓ کہتے تھے کہ جب میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو السلام علیکم کہا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور آپؐ کا چہرہ خوشی سے چمک رہا تھا۔ پھر آپؐ نے فرمایا تمہیں بشارت ہو نہایت ہی اچھے دن کی، ان دنوں میں سے جب سے تمہاری ماں نے تمہیں جنا ہے جو تم پر گزرے ہیں ۔ کہتے تھے کہ میں نے پوچھا یا رسولؐ اللہ !کیا یہ بشارت آپؐ کی طرف سے ہے یا اللہ کی طرف سے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خوش ہوتے تھے تو آپؐ کا چہرہ ایسا روشن ہو جاتا کہ گویا وہ چاند کا ٹکڑا ہے اور ہم اس سے آپؐ کی خوشی پہچان لیا کرتے تھے۔ کہتے ہیں کہ جب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا تو میں نے کہا یا رسولؐ اللہ ! مَیں اس توبہ کے قبول ہونے کے عوض اپنی جائیداد سے دست بردار ہوتا ہوں جو اللہ اور اس کے رسولؐ کی خاطر صدقہ ہو گی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنی جائیداد میں سے کچھ اپنے لیے بھی رکھو کیونکہ یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ میں نے کہا اپنا وہ حصہ رکھ لیتا ہوں جو خیبر میں ہے۔ میں نے کہا یا رسولؐ اللہ ! اللہ نے مجھے صدق کی وجہ سے نجات دی اور میری توبہ میں سے یہ بھی ہے کہ میں ہمیشہ ہی سچ بولا کروں گا جب تک کہ میں زندہ رہوں گا کیونکہ میں اللہ کی قسم! مسلمانوں میں سے کسی کو نہیں جانتا کہ اللہ نے اس کو سچی بات کہنے کی وجہ سے اس خوبی کے ساتھ آزمایا ہو جس خوبی سے میری آزمائش کی ہے۔ اس وقت سے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اصل واقعہ بیان کیا میں نے آج تک عمداً جھوٹ نہیں بولا اور پھر یہ کہتے ہیں کہ میں امید رکھتا ہوں کہ اللہ آئندہ بھی جب تک زندہ ہوں مجھے جھوٹ سےمحفوظ رکھے گا ۔

پھر کہتے ہیں کہ اللہ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ وحی نازل کی اور اللہ نبی پر اور مہاجرین اور انصار پر توبہ قبول کرتے ہوئے جھکا جنہوں نے تنگی کے وقت اس کی پیروی کی تھی، بعد اس کے کہ قریب تھا کہ ان میں سے ایک فریق کے دل ٹیڑھے ہو جاتے۔ پھر بھی اس نے ان کی توبہ قبول کی یقینا ًوہ ان کے لیے بہت ہی مہربان اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔

بہرحال کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ! اس کے بعد کہ اللہ نے مجھے اسلام کی ہدایت دی ،کبھی بھی اس نے کوئی انعام میرے نزدیک اس سے بڑھ کر نہیں کیا کہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سچ سچ بیان کر دیا۔ کہتے ہیں کہ شکر ہے کہ مَیں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے جھوٹ نہیں بولا ورنہ میں ہلاک ہو جاتا جیسا کہ وہ لوگ ہلاک ہو گئے جنہوں نے جھوٹ بولا تھا۔ پھر کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جھوٹ بولنے والوں کے بارے میں نہایت ہی نفرت آمیز الفاظ استعمال کیے ہیں جو اس نے کسی کے لیے استعمال کیے ہوں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے فرمایا جب تم ان کی طرف لوٹو گے وہ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھائیں گے۔ اللہ ان بد عہد لوگوں سے کبھی خوش نہیں ہو گا۔ حضرت کعبؓ کہتے تھے کہ ہم تینوں کا فیصلہ ان لوگوں کے فیصلے سے زیادہ مؤخر رکھا گیا جن سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عذر قبول کیا تھا۔ جب انہوں نے آپؐ کے سامنے قسمیں کھائیں اور آپؐ نے ان سے بیعت لی اور ان کے لیے مغفرت کی دعا کی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے فیصلے کو ملتوی کر دیا یہاں تک کہ اللہ نے اس کے متعلق فیصلہ فرمایا۔ سو وہ یہی بات ہے کہ اللہ نے فرمایا ہے کہ

وَعَلَى الثَّلَاثَةِ الَّذِيْنَ خُلِّفُوْا(التوبۃ: 118)

کہتے ہیں کہ یہ غزوہ سے ہمارا پیچھے رہنا نہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہ تین جو پیچھے رہ گئے تھے۔ اس سے مراد ہمارا غزوے سے پیچھے رہنا نہیں تھا بلکہ مراد یہ ہے کہ اللہ کے فیصلے سے ہمیں ان لوگوں سے پیچھے رکھا گیا تھا۔ اس سے یہ مراد ہے جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قسمیں کھائی تھیں یعنی ہم ان قسمیں کھانے والوں سے اور جھوٹ بولنے والوں سے علیحدہ تھے۔ یہ اس کا مطلب ہے نہ یہ کہ جنگ سے پیچھے رہ گئے ۔ بہرحال کہتے ہیں کہ یہ غزوہ سے ہمارا پیچھے رہنا نہیں تھا بلکہ اللہ کے فیصلے سے ہمیں ان لوگوں سے پیچھے رکھنا مراد ہے کہ جنہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس قسمیں کھائی تھیں اور آپؐ کے پاس معذرتیں کی تھیں اور آپؐ نے ان کی معذرت قبول کر لی تھی۔

(صحیح بخاری کتاب المغازی بَابُ حَدِيْثُ كَعْب بِنْ مَالِكْ حدیث 4418)
(فرہنگ سیرت صفحہ153 مطبوعہ زوار اکیڈمی پبلی کیشنز کراچی)

حضرت ھِلَال بن امیہؓ امیر معاویہ کے دَور ِحکومت میں فوت ہوئے تھے۔

(الاصابہ فی تمییز الصحابہ الجزء السادس صفحہ 428 ھِلَالْ بِنْ اُمَیَّہْ دار الکتب العلمیہ بیروت لبنان 2005ء)

غزوۂ تبوک کے بارہ میں ایک اَور مختصر نوٹ بھی ہے وہ بھی پڑھ دیتا ہوں ۔ پہلے بتا بھی چکا ہوں ایک دفعہ مزید مختصر دوبارہ بیان کر دیتا ہوں کہ تبوک مدینے سے شام کی اس شاہ راہ پر واقع ہے جو تجارتی قافلوں کی عام گزرگاہ تھی اور یہ وادیٔ القریٰ اور شام کے درمیان ایک شہر ہے۔ اسے اَصْحَابُ الْاَیْکَہْ کا شہر بھی کہا گیا ہے جن کی طرف حضرت شعیب علیہ السلام مبعوث ہوئے تھے۔ حضرت شعیب علیہ السلام مَدْیَنْ کے رہنے والے تھے اور آپؑ مَدْیَنْ کے ساتھ اَصْحَابُ الْاَیْکَہ کی طرف بھی مبعوث ہوئے تھے۔ (معجم البلدان جلد دوم صفحہ 17 دار الکتب العلمیہ بیروت)اور مدینے سے اس کا فاصلہ کم و بیش پونے چار سو میل ہے۔ غزوہ تبوک کے اَور نام بھی ہیں اس کو غَزْوَةُ الْعُسْرَہْ یا جَیْشُ الْعُسْرَہْ بھی کہتے ہیں یعنی تنگی والا غزوہ اور تنگی والا لشکر۔ غَزْوَةُ الْفَاضِحَہْ بھی کہتے ہیں وہ جنگ جو منافقین کو ذلیل و رسوا کرنے والی تھی۔

(شرح العلامۃالزرقانی علی المواھب اللدنیۃ جلد 4صفحہ66 ثم غزوة تبوک، دار الکتب العلمیۃ بیروت 1996ء)

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے بعد سب سے پہلا تبلیغی خط قیصرِروما کو لکھا اور اس کو لکھ کر اس وقت بُصْریٰ کا جو عیسائی گورنر حارث بن ابو شمر غسانی تھا، کو یہ خط بھجوایا۔ چنانچہ جب اسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا پیغام پہنچا تو اس نے عداوت کا اظہار کیا اور مدینے پر حملہ کی دھمکی دی جس کی وجہ سے مدینے کے لوگوں کو ایک عرصے تک یہ توقع رہی کہ وہ کسی وقت مدینے پر حملہ کرے گا۔

(ماخوذ از حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے صفحہ 802)
( ماخوذ از صحیح البخاری کتاب النکاح باب موعظۃ الرجل ابنتہٗ لحال زوجہا حدیث 4913)

اس جنگ کی تیاری کا سبب یہ امر بنا کہ شام کے نِبْطِی قبیلہ کے لوگ جو تیل کی تجارت کے لیے مدینہ سفر کرتے تھے ان کے ذریعہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خبر ملی کہ قیصرِ روم کا ایک لشکر قیصر کے ساتھ ملک شام میں اکٹھا ہوا ہے اور ایک دوسری روایت کے مطابق عرب کے عیسائیوں نے قیصر کی طرف لکھا کہ یہ شخص جو مدعی نبوت ہے یہ ہلاک ہو گیا ہے (نعوذ باللہ) تو مسلمانوں کو قحط نے آ لیا ہے جس کے نتیجے میں ان کے جانور ہلاک ہو گئے ہیں ۔ اس پر قیصر نے ایک عظیم سپہ سالار کی قیادت میں کئی قبائل، کے جنگجوؤں پر مشتمل چالیس ہزار سپاہیوں کا ایک لشکر جرار تیار کیا جو بَلْقَاء (جو ملک شام کا ایک شہر ہے) کے مقام پر جمع ہوا۔ اس خبر میں بہرحال کسی قسم کی صداقت نہیں تھی لیکن یہ خبر جو تھی وہ جنگ کی تیاری کا سبب بن گئی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو جب یہ خبر ملی اس وقت لوگوں میں طاقت نہیں تھی تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں میں کُوچ کا اعلان کروایا اور انہیں اس جگہ کے بارے میں آگاہ کر دیا جس طرف سفر کرنا تھا تا کہ وہ اس کے لیے تیاری کر سکیں ۔ یہ شرح علامہ زرقانی میں لکھا ہے۔

(شرح العلامۃالزرقانی علی المواھب اللدنیۃ جلد 4صفحہ67-68،ثم غزوة تبوک، دار الکتب العلمیۃ بیروت 1996ء)
(لغات الحدیث جلد1صفحہ174)

صحابہ کا ایثار اور منافقوں کی سازشیں بھی اس میں ظاہر ہوئیں ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غزوے کے لیے تیاری کا اعلان فرمایا ہی تھا کہ مدینے میں ایک گہما گہمی شروع ہو گئی۔ جو صحابہ وسائل رکھتے تھے وہ اپنی استطاعت کی انتہائی حدوں تک قربانیاں پیش کر رہے تھے۔ جو مجبور تھے ان کا جوش و جذبہ اس قدر عروج پر تھا کہ سینکڑوں میل کے سفر کے لیے پا پیادہ چلنے پر آمادہ تھے اور تیار تھے۔ اس مہم میں وسائل پیش کرنے کے لیے کوئی گھر کی طرف بھاگ رہا تھا تو کوئی اپنے اثاثے اکٹھے کر رہا تھا اور اپنے آقاؐ کے حضور زیادہ سے زیادہ دینے کے لیے کوشش کر رہا تھا۔ بہرحال کوئی اپنے مکانوں کی تلاشی لے رہا تھا کہ کچھ ملے تو مَیں اس کے ذریعہ سے غزوے میں شامل ہوں اور پیدل چلنے کے لیے بھی لوگ تیار تھے بلکہ بعض لوگوں کے پاس تو جوتیاں نہیں تھیں۔ ایسے لوگ جو تھے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ ہمیں پیدل چلنے کے لیے جوتیاں ہی مل جائیں تو ہم پیدل چلنے کو بھی تیار ہیں ۔اگر ہمارے ننگے پیر ہیں تو ہمیں بالکل نہیں کہ ہمارے پیر زخمی ہو جائیں گے اور ہم پہنچ نہیں سکیں گے۔ اس وقت وہ حالت تھی کہ ان کو وہ بھی مہیا نہیں ہو سکتی تھیں ۔ بہرحال ہر ایک اپنی اپنی جگہ اپنی جان کے نذرانے پیش کرنے کے لیے تیار تھا۔ حضرت عمر ؓکو خیال تھا کہ آپ کے گھر میں کافی مال ہے۔ چنانچہ انہوں نے سوچا کہ حضرت ابوبکرؓ سے سبقت لے جانے کا آج موقع ہے تو آپؓ نے اپنا آدھا مال لا کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رکھ دیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اپنے گھر والوں کے لیے کیا چھوڑ کر آئے ہو۔ حضرت عمرؓ نے عرض کیا کہ آدھا مال لایا ہوں اور آدھا چھوڑ آیا ہوں ۔

حضرت ابوبکرؓ نے اپنا سارا سامان آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حضور پیش کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےجب پوچھا کہ اپنے گھر کے لیے کیا چھوڑ کے آئے ہو تو انہوں نے عرض کیا کہ گھر والوں کے لیے اللہ اور اس کا رسولؐ چھوڑ آیا ہوں ۔ حضرت عمرؓ نے اس وقت حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ پر رشک کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کی قسم! میں حضرت ابوبکرؓ سے کسی شَے میں کبھی سبقت نہیں لے جا سکتا۔

(سنن الترمذی کتاب المناقب باب رجاءہ ان یکون ابوبکر ممن یدعی … الخ حدیث3675)

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام نے بھی اس واقعہ کا تذکرہ بیان کیا ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں کہ

‘‘ایک دفعہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روپیہ کی ضرورت بتلائی تو حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ گھر کا کل اثاث البیت لے کر حاضر ہو گئے۔ آپؐ نے پوچھا ابوبکر! گھر میں کیا چھوڑ آئے تو جواب میں کہا‘‘اللہ اور اس کا رسول۔ ’’ اللہ اور رسول کا نام چھوڑ آیا ہوں ۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نصف لے آئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا عمؓر! گھر میں کیا چھوڑ آئے؟ تو جواب دیا کہ نصف۔ حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں کہ اس پر ‘‘رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ابوبکر و عمر کے فعلوں میں جو فرق ہے وہی ان کے مراتب میں فرق ہے۔’’

(ملفوظات جلد دوم صفحہ 95)

حضرت ابوبکرؓ نے غزوہ تبوک کے موقع پر اپنا جو کل مال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا تھا اس کی مالیت اس موقع پر چار ہزار درہم تھی۔

(شرح العلامۃالزرقانی علی المواھب اللدنیۃ جلد4صفحہ69 ثم غزوۃ تبوک، دار الکتب العلمیۃ بیروت 1996ء)

حضرت عثمانؓ نے بھی اونٹوں اور گھوڑوں اور نقد کی قربانی پیش کی تھی۔ اس قربانی کی وجہ سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر کھڑے ہو کر فرمایا تھا کہ اس عمل کے بعد اب عثمانؓ کے کسی عمل پر کوئی مؤاخذہ نہیں ۔ ایک دوسری روایت کے مطابق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا آج کے دن کے بعد عثمانؓ جو بھی عمل کرے گا وہ اسے ضرر نہیں پہنچائے گا۔ یہ بات آپؐ نے دو مرتبہ فرمائی۔

(سنن الترمذی کتاب المناقب باب فی عد عثمان تسمیۃ شھیدا … الخ حدیث3700-3701)
(شرح العلامۃالزرقانی علی المواھب اللدنیۃ جلد4صفحہ68-69،غزوۃ تبوک، دار الکتب العلمیۃ بیروت 1996ء)

حضرت ابوعَقِیلؓ ایک صحابی تھے ان کے پاس غزوہ میں دینے کے لیے کچھ نہیں تھا تو انہوں نے یہ ترکیب سوچی کہ ایک جگہ رات کو اجرت پہ کام کر کے، مزدوری پہ کام کر کے کھیت کو پانی لگانے کا معاملہ ایک شخص سے طے کیا اور ساری رات رسی کھینچ کھینچ کر کنویں سے پانی نکالتے رہے اور کھیت کو سیراب کرتے رہے۔ اس کے بدلے میں ان کو دو صاع یعنی تقریباً چار پانچ کلو کھجوریں ملیں۔ انہوں نے آدھی اس میں سے اپنے بیوی بچوں کے لیے دے دیں اور آدھی لے کر اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کرنے کے لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو گئے۔

حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے اس موقع پر اپنا نصف مال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا جس کی مالیت چار ہزار چار سو درہم تھی۔ جب حضرت عاصم بن عدیؓ نے سو وسق، (ایک وسق میں ساٹھ صاع ہوتے ہیں ا ور ایک صاع اڑھائی کلو کا، کچھ کم اڑھائی سیر کا ہوتا ہے ) کھجوریں پیش کیں تو منافقوں نے یہ الزام لگایا کہ یہ ریاکاری ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت بھی نازل فرمائی۔ اس بارے میں یہ بھی بتا دوں کہ تقریباً یہ کھجوریں جو حضرت عاصم ؓنے پیش کیں چودہ ہزار کلو یا چودہ ٹن بنتی ہیں تو اسی پہ منافقوں نے کہا کہ دکھاوا ہے۔ یہاں یہ بھی وضاحت کر دوں گذشتہ خطبے میں مَیں نے غلطی سے ایک calculation میں چھے سو کلو کھجور کا کہا تھا وہ چھے سو نہیں چھے ہزار کلو تھی۔ بہرحال جب منافقوں نے یہ الزام لگایا کہ یہ ریا کاری ہے تو اللہ تعالیٰ نے سورۂ توبہ میں یہ آیت نازل فرمائی

اَلَّذِيْنَ يَلْمِزُوْنَ الْمُطَّوِّعِيْنَ مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ فِي الصَّدَقَاتِ وَالَّذِيْنَ لَا يَجِدُوْنَ اِلَّا جُهْدَهُمْ فَيَسْخَرُوْنَ مِنْهُمْ سَخِرَ اللّٰهُ مِنْهُمْ وَلَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ (التوبۃ:79)

کہ وہ لوگ جو مومنوں میں سے دلی شوق سے نیکی کرنے والوں پر صدقات کے بارے میں تہمت لگاتے ہیں اور ان لوگوں پر بھی جو اپنی محنت کے سوا اپنے پاس کچھ نہیں پاتے۔ پس وہ ان سے تمسخر کرتے ہیں اللہ ان کے تمسخر کا جواب دے گا اور ان کے لیے دردناک عذاب مقدر ہے۔

(اُسدالغابة فی معرفة الصحابة جلد6صفحہ215 ، ابو عقیل، دارالکتب العلمیہ بیروت لبنان)
(لغات الحدیث جلدچہارم صفحہ487 ’’وسق‘‘۔لغات الحدیث جلد دوم صفحہ 648 ’’صاع‘‘)

یہ ان منافقوں کے لیے یا ان لوگوں کے لیے ہے جو ایسے الزام لگانے والے ہیں۔ بہرحال یہ حضرت ھِلَال بن امیہؓ کے ضمن میں یہ بات آئی ، بیان ہوئی۔ ابھی حضرت ھِلَال بن امیہؓ کے ذکر کا کچھ اَور بھی حصہ ہے جو ان شاء اللہ تعالیٰ آئندہ بیان ہو گا۔

اس وقت شعبہ وقفِ نو کی طرف سے ایک اعلان بھی ہے کہ انہوں نے وقف نو کی
waqfenauintl.org کے نام سے ایک ویب سائٹ بنائی ہے جس کا آج ان شاء اللہ اجرابھی ہوگا۔ اس ویب سائٹ پر والدین اپنے ہونے والے بچے کو وقف نَو میں شامل کرنے کے لیے لکھے گئے خطوط کے متعلق اور ان کے جوابات کے متعلق شعبہ سے براہ راست رابطہ کر کے رہ نمائی لے سکتے ہیں ۔ پھر والدین واقفین نَو کی تعلیم و تربیت کے لیے جو میری ہدایات ہیں اور رہ نمائی ہے اس سے متعلق معلومات لے سکتے ہیں ۔ پھر ویب سائٹ پر خلفائے سلسلہ کے خطبات اور خطابات اور واقفین نَو کا نصاب اور ان کا جو رسالہ ہے۔ لڑکوں کا ‘اسماعیل’ اور لڑکیوں کا ‘مریم’ ان کے میگزین کے شمارے بھی اس میں دیکھ سکتے ہیں۔ پھر واقفین نو کو اس پہ کیرئیر پلاننگ کی رہ نمائی بھی مل سکتی ہے۔ پھر ویب سائٹ پر تجدیدِ وقف اور شعبہ وقفِ نو کے ساتھ اپنے رابطے کو قائم رکھنے اور اَپ ٹو ڈیٹ کرنے کی سہولت بھی موجود ہے۔ پھر واقفین نو کو جماعت کی ضروریات کے حوالے سے معلومات بھی مل سکتی ہیں اور یہ کہ وہ کس طرح کی تعلیم حاصل کریں تا کہ جماعت کی احسن رنگ میں خدمت کر سکیں ۔ پھر سیکرٹریان وقف نَو اور انتظامیہ کی رہ نمائی کے لیے معلومات اور رپورٹ فارم بھی اس پہ موجود ہوں گے۔ پھر واقفین نَو کے بعض سوالات جو مختلف وقتوں میں انہوں نے میری کلاسوں وغیرہ میں کیے ہیں ان کے ویڈیو کلپس بھی موجود ہیں ۔ پھر تحریک وقفِ نو کا تعارف اور شعبہ وقف نو کے ساتھ مستقل رابطہ میں رہنے کے لیے معلومات بھی موجود ہیں ۔ پھر مختلف ممالک میں وقف نَو کے حوالے سے ہونے والے پروگراموں کی رپورٹ اور تصویری جھلکیاں بھی اس میں دستیاب ہوں گی۔ بہرحال یہ ویب سائٹ آج سے شروع ہو گی ان شاء اللہ ۔اور جو واقفینِ نو ہیں اور جو واقفینِ نو کے والدین ہیں وہ ضرور اس سے استفادہ کریں۔

(الفضل انٹر نیشنل 24؍دسمبر2019ءصفحہ5تا09)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close