سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

شمائلِ مہدی علیہ الصلوٰۃ والسلام

(سید مبشر احمد ایاز)

آپؑ کے مشروبات پینے کا بیان

(گذشتہ سے پیوستہ )حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے بیان فرماتے ہیں :
“منشی ظفر احمد صاحب کپور تھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے بیٹھنے کی جگہ کھلے کواڑ کبھی نہ بیٹھتے تھے۔حضرت صاحبزادہ محمود احمد صاحب (حضرت امیر المومنین خلیفۃ المسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز) تھوڑی تھوڑی دیر کے بعد آکر کہتے‘‘ابا کنڈا کھول”اور حضوؑر اٹھ کر کھول دیتے۔میں ایک دفعہ حاضر خدمت ہوا۔حضوؑر بوریے پر بیٹھے تھے۔مجھے دیکھ کر حضوؑر نے پلنگ اٹھایااور اندر لے گئے۔میں نے کہا۔حضور میں اٹھا لیتا ہوں ۔آپؑ فرمانے لگے بھاری زیادہ ہے آپ سے نہیں اٹھے گا۔اور فرمایا آپ پلنگ پر بیٹھ جائیں ۔مجھے یہاں نیچے آرام معلوم ہوتا ہے۔پہلے میں نے انکار کیا۔لیکن آپؑ نے فرمایا۔نہیں آپ بلاتکلف بیٹھ جائیں ۔ پھر میں بیٹھ گیا۔مجھے پیاس لگی تھی۔میں نے گھڑوں کی طرف نظر اُٹھائی۔وہاں کوئی پانی پینے کا برتن نہ تھا۔آپ نے مجھے دیکھ کر فرمایا۔کیا آپ کو پیاس لگ رہی ہے۔میں لاتاہوں ۔نیچے زنانے سے جاکر آپؑ گلاس لے آئے۔پھر فرمایا۔ذرا ٹھہریے اور پھر نیچے گئے اور وہاں سے دو بوتلیں شربت کی لے آئے۔جو منی پور سے کسی نے بھیجی تھیں ۔بہت لذیذ شربت تھا۔فرمایا ان بوتلوں کو رکھے ہوئے کئی دن ہوگئے کہ ہم نے نیت کی تھی کہ پہلے کسی دوست کو پلا کر پھر خود پئیں گے۔آج مجھے یاد آگیا۔چنانچہ آپؑ نے گلاس میں شربت بنا کر مجھے دیا۔میں نے کہا پہلے حضور اس میں سے تھوڑا سا پی لیں تو پھر میں پیوں گا۔آپؑ نے ایک گھونٹ پی کر مجھے دے دیا۔اور میں نے پی لیا۔میں نے شربت کی تعریف کی۔آپؑ نے فرمایا کہ ایک بوتل آپ لے جائیں اور ایک باہر دوستوں کو پلادیں ۔آپؑ نے اُن دوبوتلوں سے وہی ایک گھونٹ پیا ہوگا۔میں آپؑ کے حکم کے مطابق بوتلیں لے کر چلا آیا۔”

(سیرت المہدی جلددوم روایت نمبر1090)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے بیان فرماتے ہیں :

“محترمہ مائی جانو صاحبہ زوجہ صوبا ارائیں ننگل نے بواسطہ مکرمہ محترمہ مراد خاتون صاحبہ والدہ مکرمہ خلیفہ صلاح الدین صاحب بذریعہ تحریر بیان کیا کہ حضورؑ ایک دفعہ ننگل کی طرف سیر کو تشریف لائے۔میں نے جو آتے دیکھا تو ایک کٹورے میں گرم دودھ اور ایک گڑ کی روڑی لے کر آئی۔حضور ؑنے فرمایا کہ‘‘اس لڑ کی نے بڑی مشقت کی ہے کہ ایک ہاتھ میں گرم دودھ اور دوسرے میں گڑ لائی ہے۔” حضورؑ میرے گھر کے دروازے پر جو لبِ سڑک ہے، کھڑے ہو گئے اور جو اصحاب ساتھ تھے وہ بھی ٹھہر گئے۔پھر اس دودھ میں سے خود بھی ایک دو گھونٹ نوش فرمائے اور باقی تمام ہمراہیوں نے تھوڑا تھوڑا پیا۔حکیم مولوی غلام محمد صاحب بھی تھے اسے کہا “گڑ کی ڈھیلی توڑو” تو وہ توڑ نہ سکے۔تو حضورؑ نے خود ہتھیلیوں سے دبا کر توڑی اور ا ن کو کہا “ سب کو تھوڑا تھوڑا گڑ بانٹ دو۔” خود بھی چکھا تھا۔”

(سیرت المہدی جلددوم روایت نمبر1514)

حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام کے آخری سفرلاہورمیں آپؑ کے مشروبات کابیان ایک روایت میں ملتاہے۔چنانچہ حضرت بھائی عبدالرحمن صاحب ؓ جوکہ ان دنوں سیرکے دوران حضورعلیہ السلام کے ساتھ ہوتے بیان کرتے ہیں :

“قیام لاہورکے زمانہ میں سیدنا حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام قریباً روزانہ سیرکے واسطے خاندان کی بیگمات اور بچوں سمیت تشریف لے جایاکرتے تھے۔بلکہ بعض روز تو صبح وشام دو وقتہ سیر فرمایاکرتے تھے۔ابتدا میں حضوربھی رتھ میں بیٹھ کربیگمات کے ساتھ سیرکوتشریف لے جاتے تھے۔کھلی سڑکوں پرکبھی اور شہرکے بازاروں مثلاً مال روڈ اور انارکلی میں بھی حضور سیر کے واسطے چلے جاتے تھے۔بازار میں سے گزرتے ہوئے بھی کبھی سواری ٹھہراکر ہندوحلوائیوں کے ہاں سے کھانے کی چیزیں بھی خریدفرما لیا کرتے تھے اور بیگمات اور بچوں کے علاوہ ہمرکاب خدام کوبھی شریک فرماتے تھے۔مجھے اچھی طرح یادہے کہ حضورانارکلی میں سے گزرتے ہوئے کیسری کی دکان پراکثرٹھہراکرتے اور سب کوسوڈا پلوایا کرتے تھے۔عام اجازت ہواکرتی تھی جو جس کاجی چاہتاپیتایعنی لیمن،روز اور آئس کریم یامائینیل وغیرہ وغیرہ۔مگرسیدنا حضرت اقدس خودکھاری بوتل بتاشہ ڈال کرپیاکرتے تھے اور یہ عمل کھلے بازارمیں کیسری کی دکان کے سامنے سواریاں کھڑی کرکے ہواکرتاتھا۔بیگمات بھی رتھ یافٹن میں تشریف فرماہواکرتی تھیں ۔”

(مضمون حضرت بھائی عبدالرحمٰن صاحب ؓ مطبوعہ سیرت المہدی جلددوم ص 379-378)

آپؑ کے چلنے کا بیان

حضرت شیخ یعقوب علی عرفانیؓ بیان کرتے ہیں :

“حضرت مسیح موعودؑ کواپنے والد بزرگوار کی اطاعت کےلیےاپنی جاگیر اور جائیداد کے مقدمات کے لیے سفر کرنے پڑے اور قادیان سے ڈلہوزی تک پا پیادہ سفر کیا۔آج سے قریباًپچاس سال پیشتر راستوں اور سڑکوں کاایسا اہتمام نہ تھا اور نہ سفر کی سہولتیں حاصل تھیں ۔پھر پہاڑوں کا دشوار گزار راستہ اور پیادہ پا طے کرنا آسان کام نہیں ۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آپؑ کو اپنے اس سفر میں کیسی جفا کشی اور غیر معمولی ہمت سے کام لینا پڑتا ہوگا…”

(حیات النبی صفحہ55) (شمائل احمدؑ صفحہ54-53)

حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ بیان کرتے ہیں :

“باوجود اس کے کہ آپ (حضرت مسیح موعودعلیہ السلام) دنیاسے ایسے متنفر تھے آپ سست ہرگز نہ تھے بلکہ نہایت محنت کش تھے اور خلوت کے دلدادہ ہونے کے باوجودمشقت سے نہ گھبراتے تھے۔اور بارہا ایسا ہوتا تھا کہ آپ کو جب کسی سفر پر جانا پڑتاتو سواری کا گھوڑا نوکر کے ہاتھ آگے روانہ کر دیتے اور آپ پیادہ پا بیس پچیس کوس کا سفر طے کر کے منزل مقصود پر پہنچ جاتے بلکہ اکثر اوقات آپ پیادہ ہی سفر کرتے تھے اور سواری پر کم چڑھتے تھے اور عادت پیادہ چلنے کی آپ کو آخر عمر تک تھی۔ستر سال سے متجاوزمیں جبکہ بعض سخت بیماریاں آپ کو لاحق تھیں اکثر روزانہ ہوا خوری کے لیے جاتے تھے اور چار پانچ میل روزانہ پھرآتے اور بعض اوقات سات میل پیدل پھر لیتے تھے۔اور بڑھاپے سے پہلے کا حال آپ بیان فرمایا کرتے تھے کہ بعض اوقات صبح کی نماز سے پہلے اٹھ کر (نماز کا وقت سورج نکلنے سے سوا گھنٹہ پہلے ہوتا ہے) سیر کے لیے چل پڑتے تھےاور وڈالہ تک پہنچ کر (جو بٹالہ سڑک پر قادیان سے قریباً ساڑھے پانچ میل پر ایک گاؤں ہے) صبح کی نماز کا وقت ہوتا تھا۔”

(سیرت حضرت مسیح موعودؑ ازحضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ صفحہ24،23)

حضرت سید ضیاء الحق خان صاحبؓ بیان کرتے ہیں :

“ہر روز صبح بعد ناشتہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ سیر میں ہم شریک ہوتے تھے۔حضور خوب تیز چلتے تھے۔حتّٰی کہ بعض ہمراہیوں کو دوڑنا پڑتا تھا۔”

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد 3صفحہ 57روایت سید ضیاء الحق خان صاحب ؓ)

حضرت ماسٹر خلیل الرحمٰن صاحبؓ بیان کرتے ہیں :

“حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام قریباً ہر روز صبح کے قریب آٹھ بجے کے سیر کے واسطے مع خدام تشریف لے جایا کرتے تھے اور حضور اقدسؑ اس قدر تیز چلتے تھے کہ جوان اور بچے بھی حضور کی رفتار میں مقابلہ نہیں کرسکتے تھے اور ہر ایک شخص قریباً دوڑتا ہوا نظر آتا تھا۔”

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد 4صفحہ123 روایت ماسٹر خلیل الرحمٰن صاحبؓ)

حضرت حافظ غلام رسول صاحبؓ وزیر آبادی بیان کرتے ہیں :

“حضور کی عادت تھی کہ چلتے وقت رومال منہ کے آگے رکھ لیا کرتے تھے۔”

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد12صفحہ174 روایت حافظ غلام رسول صاحبؓ وزیر آبادی)

حضرت شیخ محمد نصیب صاحبؓ بیان کرتے ہیں :

“چلتے وقت آپ تیزی سے چلتے۔تیز چلنے والا ہی آپ کا ساتھ دے سکتا تھا۔تقریر بھی ساتھ کرتے جاتے۔مگر سانس نہ پھولتا تھا۔آپ دائیں بائیں مطلقاً نہ دیکھتے تھے بلکہ آپ کی نگاہ عموماً آپ کے پاؤں پر ہی رہتی تھی۔آپ کو اتنا بھی پتہ نہ ہوتا تھا کہ میرے ساتھ کون کون جا رہا ہے۔وہ سمجھتے تھے کہ گویا سبھی ساتھ ہی جا رہے ہیں ۔چنانچہ کبھی کوئی بات دریافت کرنی پڑتی تو حضرت مولوی نورالدین صاحب کو جو زیادہ نہ چلنے کی وجہ سے پیچھے رہ جاتے مخاطب فرماتے ۔مگر جب علم ہوتا کہ مولوی صاحب ساتھ نہیں تو ٹھہر کر انتظار کرتے۔تا آنکہ مولوی صاحب دوڑ بھاگ کر حضرت صاحب کے ساتھ آملتے۔اور پھر تقریر کرتے ہوئے حضرت آگے کو چلتے۔مگر مولوی صاحب تھوڑی دور ساتھ چل کر پھر مجبوراً پیچھے رہ جاتے۔

یہ بھی آپ ہی کا خاصہ تھا کہ حضور چلتے پھرتے لکھتے بھی جاتے تھے۔آپ عموماً جامن رنگ کی سیاہی اور ہولڈر سے لکھا کرتے۔آپ کا خط بڑا پختہ تھا۔اور ہر ایک کا کام نہ تھا کہ اسے پڑھ لے اس خاکسار کو بھی حضور کا خط پڑھنے کا ربط تھا۔”

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد15صفحہ 30-29 روایت شیخ محمد نصیب صاحبؓ)

حضرت شیخ یعقوب علی عرفانیؓ آپؑ کی چلنے پھرنے کی عادت کے بارہ میں بیان کرتے ہیں :

“آپ کی یہ عادت چلنے پھرنے کی ایسی عام تھی کہ ریلوے کے سفر میں بھی آپ کو جہاں گاڑی کا انتظار کرنا پڑتا پلیٹ فارم پر ٹہلتے رہتے تھے۔”

(سیرت حضرت مسیحِ موعودؑ از شیخ یعقوب علی عرفانیؓ صفحہ 75)

حضرت شیخ یعقوب علی عرفانیؓ آپؑ کی چلنے پھرنے کی عادت کے بارہ میں بیان کرتے ہیں :

“مسجدہی میں عموماً ٹہلتے رہتے اور ٹہلنے کا اس قدر شوق تھا اور محو ہو کر اتنا ٹہلتے کہ جس زمین پر ٹہلتے وہ دب دب کر باقی زمین سے متمیز ہو جاتی۔”

(حیاتِ احمد جلد اول از شیخ یعقوب علی عرفانیؓ صفحہ 81)

آپؑ کے بیٹھنے کے انداز کا بیان

حضرت سیر کے واسطے تشریف لے گئے۔خدام ساتھ تھے۔حافظ محبوب الرحمٰن صاحب جو کہ اخویم منشی حبیب الرحمٰن صاحب رئیس حاجی پورہ اور بھائی جان منشی ظفر احمد صاحب کے عزیزوں میں سے ہیں ساتھ تھے۔حضرت نے حافظ صاحب کی طرف اشارہ کرکے فرمایا کہ

“یہ قرآن شریف اچھا پڑھتے ہیں اور میں نے اسی واسطے ان کو یہاں رکھ لیا ہے کہ ہر روز اُن سے قرآن شریف سُنا کریں گے۔مجھے بہت شوق ہے کہ کوئی شخص عمدہ ، صحیح ، خوش الحانی سے قرآن شریف پڑھنے والا ہوتو اس سے سُنا کروں۔پھر حافظ صاحب موصوف کو مخاطب کرکے حضرت نے فرمایا کہ آج آپ سیر میں کچھ سنائیں ۔

چنانچہ تھوڑی دور جاکر آپ نہایت سادگی کے ساتھ ایک کھیت کے کنارے زمین پر بیٹھ گئے اور تمام خدام بھی زمین پر بیٹھ گئے اور حافظ صاحب نے نہایت خوش الحانی سے سورہ دہر پڑھی جس کے بعد آپ سیر کے واسطے آگے تشریف لے گئے۔”

(ملفوظات جلد نہم صفحہ 256،255)

حضرت ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحبؓ بیان کرتے ہیں :۔

“اکڑوں بیٹھ کر آپ کو کھانے کی عادت نہ تھی بلکہ آلتی پالتی مار کر بیٹھتے یا بائیں ٹانگ بٹھا دیتے اور دائیاں گھٹنا کھڑا رکھتے۔”

(سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر 447)

حضرت اقدس جب والد صاحب کی خدمت میں جاتے تو نظر نیچی ڈال کر چٹائی پر بیٹھ جاتے تھے۔آپ کے سامنے کرسی پر نہیں بیٹھتے تھے۔

(حیاتِ احمد جلد اول از حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحبؓ صفحہ436)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے بیان کرتے ہیں :

“ڈاکٹر میر محمد اسماعیل صاحب نے مجھ سے بیان کیا کہ جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام مع چند خدام کے باوا صاحب کا چولہ دیکھنے کے لیے ڈیرہ بابا نانک تشریف لے گئے تو وہاں ایک بڑ کے درخت کے نیچے کچھ کپڑے بچھا کر جماعت کے لوگ مع حضور کے بیٹھ گئے۔”

(سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر 401)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے بیان کرتے ہیں :

“بیان کیا مجھ سے مرزا سلطان احمد صاحب نے بواسطہ مولوی رحیم بخش صاحب ایم۔اے، کہ دادا صاحب ہمارے تایا مرزا غلام قادر صاحب کو کرسی دیتے تھے۔یعنی جب وہ دادا صاحب کے پاس جاتے تو وہ ان کو کرسی پر بٹھاتے تھے لیکن والد صاحب جا کر خود ہی نیچے صف کے اوپر بیٹھ جاتے تھے۔کبھی دادا صاحب ان کو اوپر بیٹھنے کو کہتے تو والد صاحب کہتے کہ میں اچھا بیٹھا ہوں۔”

(سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر 192)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے بیان کرتے ہیں :

“منشی ظفر احمد صاحب کپورتھلوی نے بذریعہ تحریر مجھ سے بیان کیا کہ آتھم کے مناظرہ میں آخری دن … جب ہم اپنی جگہ واپس آئے غالباً کریم بخش ایک رئیس کی کوٹھی پر ہم ٹھہرے ہوئے تھے تو کرنیل الطاف علی خاں ہمارے ساتھ ہو لیے اور انہوں نے مجھ سے کہا کہ میں حضرت صاحب سے تخلیہ میں ملنا چاہتا ہوں۔کرنیل صاحب کوٹ پتلون پہنے اور ڈاڑھی مونچھ منڈائے ہوئے تھے۔میں نے کہا کہ آپ اندر چلے جائیں ۔باہر سے ہم کسی کو آنے نہ دیں گے۔چنانچہ کرنیل صاحب اندر چلے گئے اور آدھ گھنٹہ کے قریب حضرت صاحب کے پاس تخلیہ میں رہے۔کرنیل صاحب جب باہر آئے تو چشم پُر آب تھے۔میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے کیا باتیں کیں جو ایسی حالت ہے۔وہ کہنے لگے کہ جب میں اندر گیا تو حضرت صاحب اپنے خیال میں بوریے پر بیٹھے ہوئے تھے حالانکہ بوریہ پر صرف آپ کا گھٹنا ہی تھا اور باقی حصہ زمین پر تھا۔میں نے کہا حضور زمین پر بیٹھے ہیں ! اور حضور نے یہ سمجھا کہ غالباً میں (کرنیل صاحب) بوریے پر بیٹھنا پسند نہیں کرتا اس لیے حضور نے اپنا صافہ بوریے پر بچھا دیا کہ آپ یہاں بیٹھیں ۔یہ حالت دیکھ کر میرے آنسو نکل پڑے۔اور میں نے عرض کی کہ اگرچہ میں ولایت میں Baptize ہو چکا ہوں (یعنی عیسائیت قبول کر چکا ہوں )مگر اتنا بے ایمان نہیں ہوں کہ حضور کے صافے پر بیٹھ جاؤں ۔حضور فرمانے لگے کہ کچھ مضائقہ نہیں ۔آپ بلا تکلف بیٹھ جائیں۔میں صافے کو ہاتھ سے ہٹا کر بوریہ پر بیٹھ گیا۔اور میں نے اپنا حال سنانا شروع کیا۔کہ میں شراب بہت پیتا ہوں اور دیگرگناہ بھی کرتا ہوں ، خدا ،رسول کا نام نہیں جانتا۔لیکن میں آپ کے سامنے اس وقت عیسائیت سے توبہ کر کے مسلمان ہوتا ہوں۔ مگر جو عیوب مجھے لگ گئے ہیں ان کو چھوڑنا مشکل معلوم ہوتا ہے۔حضور نے فرمایا۔استغفار پڑھا کرو۔اور پنجگانہ نماز پڑھنے کی عادت ڈالو۔جب تک میں حضور کے پاس بیٹھا رہا۔میری حالت دگرگوں ہوتی رہی اور میں روتا رہا۔اور اسی حالت میں اقرار کر کے کہ میں استغفار اور نماز ضرور پڑھا کروں گا،آپ کی اجازت لے کر آگیا۔وہ اثر میرے دل پر اب تک ہے۔”

(سیرت المہدی جلد دوم روایت نمبر 1044)

حضرت چوہدری باغ محمد صاحب ؓ بیان کرتے ہیں :

“ایک دفعہ جلسہ سالانہ پر مورخہ 27 دسمبر1900ء کو ایک دوست عطامحمدنمبردار موضع رتڑچھتڑ نے رمزدار خط تحریر کر دیا اور لفافہ میں بند کر دیا۔اس روز بادل تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام بیت الدعا میں خلوت میں چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے اور خواجہ کمال الدین صاحب دروازے پر کھڑے تھے۔ہم چار پانچ کس تھے۔خاکسار باغ محمد و فقیرمحمد صاحب و چوہدری پیراں دتا صاحب و غلام نبی صاحب و حکیم اللہ دتا صاحب۔ہم نے خوا جہ صاحب سے کہا کہ ایک شخص نے ہم میں سے بیعت کرنی ہے اور یہی کام ہے۔خوا جہ صاحب نے فرمایا کہ بیعت نہیں ہو گی کیونکہ حضرت صاحب کی طبیعت علیل ہے۔ہم نے بآواز بلند عرض کیا کہ ہم دور سے آئے ہیں اور پھر واپس ہونے لگے۔پھر خوا جہ صاحب نے دوبارہ کہا کہ آ جاؤ شاید حضرت صاحب نے ہماری آواز سن لی ہو۔ان کے کہنے پر معلوم ہوتا ہے دوبارہ بلایا گیا۔

ہم خاکساران السلام علیکم کہہ کر بیٹھ گئے اور خاکسار نے عطامحمد صاحب نمبردار موصوف کا خط پیش کر دیا۔تو خط پکڑ کر بیٹھ گئے اور تکیہ کے ساتھ ڈھاسنا لگا کر پڑھا۔”

(رجسٹر روایات غیر مطبوعہ جلد نمبر 1 صفحہ 130 روایات چوہدری باغ محمد صاحبؓ)

حضرت شیخ یعقوب علی صاحب ؓ عرفانی بیان کرتے ہیں :

“مجلس میں جب آپ تشریف رکھتے تھےتو عام طور پر آلتی پالتی مار کر بیٹھتے جب کہ آپ فرش پر بیٹھے ہوتے تھے اور جب مسجد کے شہ نشین پر بیٹھتے تو ہمیشہ اس طریق سے نشست فرماتے تھے جس طرح پر کرسی پر بیٹھا کرتے ہیں ۔”

(سیرت حضرت مسیح موعودؑ از شیخ یعقوب علی صاحب عرفانی صفحہ 77)

……………………………(باقی آئندہ)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close