خطاب حضور انور

’’آج حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی غلامی میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو سرداری بخشی ہے تو اس کی قدر کریں اور دنیا کی حقیقی رہنمائی کریں‘‘

جامعہ احمدیہ کینیڈا، جرمنی اور برطانیہ سے فارغ التحصیل ہونے والے مبلّغینِ سلسلہ کی سالانہ تقریبِ تقسیمِ اسناد سےسیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزکا بصیرت افروز اور تاریخی خطاب فرمودہ مورخہ29؍اپریل 2019ء بروز سوموار بمقام جامعہ احمدیہ یوکے، Haslemere، ہمپشئر، یوکے

اس تحریر کو بآواز سننے کے لیے یہاں کلک کیجیے:

آپ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام کے حقیقی پیغام کو پھیلانے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کی ہیں۔ جامعہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔ یہاں سات سال تعلیم حاصل کی اور جو محنت آپ نے کی ہے اس کو اب آپ کو مزید بڑھانے اور اس علم کو مزید بڑھانے اور اس کو آگے پھیلانے کے لیے اب کوشش کرنی ہو گی

ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جو آج آپ کے کندھوں پر ڈالی جا رہی ہے اس کو سمجھنے والے بنیں۔ یہ کوئی معمولی ذمہ داری نہیں ہے جس کو آپ نے اٹھانے کا عہد کیا اور عزم کیا ہے اور اس عہد و عزم کو وفاداروں کی طرح نبھانے کی اور اٹھانے کی کوشش کریں

اللہ تعالیٰ کے وعدے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق مسیح موعود اور مہدی معہود کی آمد کے ساتھ جس خلافت حقہ کا آغاز ہونا تھا آپ نے اپنی زندگیاں وقف کر کے اس کا دست و بازو بننے کے لیے بھی اپنے آپ کو پیش کیا ہے

(اس خطاب کا متن ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِيْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّيْطٰنِ الرَّجِيْمِ- بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُلِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِنَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ﴿۷﴾

آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے مربیان کا ایک اور بیچ (batch)جامعات سے فارغ ہو کر نکل رہا ہے۔ رپورٹ ساروں کی آپ سن چکے ہیں۔ آپ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام کے حقیقی پیغام کو پھیلانے کے لیے اپنی زندگیاں وقف کی ہیں۔ جامعہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔ یہاں سات سال تعلیم حاصل کی اور جو محنت آپ نے کی ہے اس کو اب آپ کو مزید بڑھانے اور اس علم کو مزید بڑھانے اور اس کو آگے پھیلانے کے لیے اب کوشش کرنی ہو گی۔ میدانِ عمل میں جب جائیں گے تو صرف اسی پر اکتفا نہ کریں کہ سات سال پڑھ لیا بلکہ اپنے علم کو بڑھاتے رہیں اور علم بڑھانے سے ہی آپ کی علمی ترقی ہو گی اور علمی ترقی کے ساتھ ساتھ روحانی علم جب بڑھتا ہے تو خدا تعالیٰ کے وجود کا فہم اور ادراک بھی زیادہ بڑھتا ہے۔ آپ کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ یہ بہت ضروری چیز ہے کہ آپ نے اپنے علم کو اب آگے بڑھاتے چلے جانا ہے کیونکہ اسلام کا حقیقی پیغام پہنچانے کے لیے یہ بہت ضروری ہے اور تبھی آپ اپنے وقف زندگی کے مقصد کو بھی پورا کر سکیں گے۔

وہ مسیح و مہدی جس کو اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق اسلام کی نشأۃ ثانیہ کے لیے بھیجا تھا اس کے مشن کو پورا کرنے کے لیے آپ لوگوں نے اپنی زندگیاں وقف کی ہیں۔ پس یہ ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جو آپ نے اپنے اوپر لی ہے اور اس ذمہ داری کو سنبھالنا اور اس پر احسن رنگ میں عمل کرنا ، اس کے اچھے نتائج پیدا کرنا یہ ایک بہت بڑا کام ہے جو آپ کے ذمے ہے۔

اللہ تعالیٰ کے وعدے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق مسیح موعود اور مہدی معہود کی آمد کے ساتھ جس خلافتِ حقہ کا آغاز ہونا تھا آپ نے اپنی زندگیاں وقف کر کے اس کا دست و بازو بننے کے لیے بھی اپنے آپ کو پیش کیا ہے۔ پھر ہمیشہ یاد رکھیں کہ یہ کوئی معمولی چیز نہیں ہے۔ جب آپ نے پیش کیا کہ اسلام کی نشأۃ ثانیہ کے مشن کو ہم نے پورا کرنا ہے اوراس کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم کو پھیلانے کے لیے خلافت کے سپرد جو کام ہیں ان کو آگے پھیلانا ہے، اس کا دست و بازو بننا ہے تو یہ بہت بڑا کام ہے اور خود آپ نے اپنی مرضی سے اس کام کو سرانجام دینے کے لیے اپنے آپ کو پیش کیا ہے۔ پس ہمیشہ یاد رکھیں کہ اہلِ وفا کی طرح اس عہد کو پورا کرنے کے لیے آپ نے اپنی تمام تر صلاحیتوں کو لگانا ہے، اپنے علم کو لگانا ہے اور پھر علم میں اضافہ کرتے چلے جانا ہے۔

آپ میں سے بعض خاص طور پر یو۔کے کے، بعض دفعہ اپنی ڈائری میرے پاس لے آتے تھے کہ اس پہ کچھ نصیحت لکھ دیں۔ آپ میں سے بعض کی ڈائریوں میں مَیں نے یہ بھی لکھا ہو گا کہ ’خدا تعالیٰ سے بے وفائی نہ کرنا‘۔ ’اپنے اللہ سے وفا کرنا ‘ یا قرآن کریم کا ارشاد کہ وَاِبْرَاھِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰی (النجم:38)۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت ابراہیم ؑکی وفا کا خاص طور پر ذکر کیوں کیا ہے؟ اس بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے کئی موقع پر وضاحت فرمائی ہے۔ مَیں اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے جو بعض اقتباسات ہیں آپ کے سامنے رکھتا ہوں جس سے آپ کو پتا لگے کہ وفا کا وہ کیا معیار تھا اور کس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہم سے بھی وہ وفا چاہتے ہیں۔ آپؑ نے ایک جگہ فرمایا کہ

’’خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اسی لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعریف کی ہے جیسا کہ فرمایا ہے اِبْرَاھِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰی(النجم:38)کہ اس نے جو عہد کیا اسے پورا کر کے دکھایا۔‘‘

(ملفوظات جلد 6 صفحہ 234)

پس آپ لوگوں نے بھی وقف کا ایک عہد کیا ہے۔ اب وفا کا تقاضا یہ ہے کہ اس عہد کو پورا کر کے دکھائیں۔ اور صرف زبانی باتوں سے پورا نہیں ہو گا اس کے لیے بڑی محنت کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک جہاد کرنے کی ضرورت ہے۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں۔

’’نامرد، بزدل، بے وفا جو خدا تعالیٰ سے اخلاص اور وفاداری کا تعلق نہیں رکھتا بلکہ دغا دینے والا ہے وہ کس کام کا ہے۔‘‘ فرمایا کہ ’’اس کی کچھ قدر و قیمت نہیں ہے۔‘‘ پس اگر بے وفائی ہے، اگر اپنے وعدے کو پورا نہیں کیا تو پھر یہ دھوکا دینا ہے۔ ایک عہد کیا ہے اس کو پورا نہیں کیا تو یہ اللہ تعالیٰ کو دھوکا دینے والی بات ہے۔ اللہ تعالیٰ سے بے وفائی ہے اور پھر وہ کسی کام کا نہیں ہوتا۔ فرماتے ہیں اس کی کچھ قدر و قیمت نہیں ہے۔ فرمایا کہ ’’ساری قیمت اور شرف وفا سے ہوتا ہے۔‘‘ پس وفا کے لفظ کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں۔ پھر آپؑ فرماتے ہیں۔ ’’ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جو شرف اور درجہ ملا وہ کس بنا پر ملا؟‘‘ فرمایا کہ ’’قرآن شریف نے فیصلہ کر دیا ہے اِبْرَاھِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰی۔ابراہیم وہ جس نے ہمارے ساتھ وفاداری کی۔ آگ میں ڈالے گئے مگر انہوں نے اس کو منظور نہ کیا کہ وہ ان کافروں کو کہہ دیتے کہ تمہارے ٹھاکروں کی پوجا کرتا ہوں۔‘‘ آگ برداشت کرلی۔ سختیاں برداشت کر لیں۔ ظلم برداشت کر لیا لیکن اپنی وفا پہ حرف نہیں آنے دیا۔ پس یہ وہ معیار ہیں جو ہمیں بھی اختیار کرنے چاہئیں یا ایک واقف زندگی کو اختیار کرنے چاہئیں۔ پھر آپ ؑ فرماتے ہیں ’’خدا تعالیٰ کے لیے ہر تکلیف اور مصیبت کو برداشت کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ خدا تعالیٰ نے کہا کہ اپنی بیوی کو بے آب و دانہ جنگل میں چھوڑ آ۔ انہوں نے فی الفور اس کو قبول کر لیا۔‘‘ بعض واقفِ زندگی ایسے بھی ہیں کہ جنگل میں چھوڑنے کا وفا کا معیار تو بہت اونچا ہے ذرا سی معمولی معمولی باتوں پر ان کی طرف سے مطالبے آنے شروع ہو جاتے ہیں۔ اس لیے آپ لوگ جب میدان عمل میں جائیں گے تو آپ لوگوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ وفا کا تقاضا یہ ہے کہ ہر چیز کی قربانی آپ نے دینی ہے۔ جب وقف کیا ہے تو پھر اس عہد کو نبھانے کی کوشش کرنی ہے ۔ پھر آپؑ فرماتے ہیں ’’ہر ایک ابتلا کو انہوں نے اس طرح پر قبول کر لیا کہ گویا عاشق اللہ تھا۔‘‘ عشق تھا تو صرف اللہ تعالیٰ سے تھا اور اس لیے تکلیف کو قبول کیا۔ ’’درمیان میں کوئی نفسانی غرض نہ تھی۔‘‘

(ملفوظات جلد 6 صفحہ 261-262)

پس ہر قسم کی نفسانی غرضوں کو ایک واقفِ زندگی کو اپنے دل سے نکالنے کی کوشش کرنی ہو گی اور یہی وقف کی حقیقت ہے۔ آپؑ مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’دنیا میں بھی اگر ایک نوکر خدمت کرے۔ (کوئی ملازم ہو اور خود اچھا خدمت کرنے والا ہو،) اور حق وفا کا ادا کرے تو جو محبت اس سے ہو گی وہ دوسرے سے کیا ہو سکتی ہے۔‘‘ فرماتے ہیں کہ ’’جو صرف اس بات پر ناز کرتا ہے کہ میں نے کوئی اچک پنا نہیں کیا حالانکہ‘‘ (یہ تو کوئی نیکی نہیں ہے۔ یہ تو کوئی بڑی بات نہیں ہے۔) ’’اگر کرتا تو سزا پاتا۔‘‘ (اگر کوئی برائی کرتا،کوئی چوری کرتا یا بدمعاشی کرتا تو سزا ملنی تھی۔ اگر پکڑا جاتا تو اس بات پہ فخر نہیں ہونا چاہیے۔ فخر تو اس بات پہ بھی نہیں ہونا چاہیے کہ مَیں نے وفا کی لیکن اللہ تعالیٰ کا فضل مانگتے ہوئے اس کوشش میں رہنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ ہم سے راضی ہو اور ہم ہمیشہ اللہ تعالیٰ سے وفا کرنے والے ہوں اور اس کے نظام سے وفا کرنے والے ہوں۔) آپؑ فرماتے ہیں ’’اتنی سی بات سے حقوق قائم نہیں ہو سکتے‘‘ (کہ مَیں نے کوئی برائی نہیں کی۔) ’’حقوق تو صرف صدق ووفا سے قائم ہو سکتے ہیں۔ جیسے اِبْرَاھِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰی۔‘‘

(ملفوظات جلد 6 صفحہ 331-332)

پھر ایک جگہ آپؑ نے فرمایا۔ ’’جب تک انسان صدق و صفا کے ساتھ‘‘ (یہ بہت اہم بات ہے کہ) ’’جب تک انسان صدق و صفا کے ساتھ خدا تعالیٰ کا بندہ نہ ہو گا۔ تب تک کوئی درجہ ملنا مشکل ہے۔ جب ابراہیم کی نسبت خدا تعالیٰ نے شہادت دی وَاِبْرَاھِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰیکہ ابراہیم وہ شخص ہے جس نے اپنی بات کو پورا کیا۔‘‘ (اپنے عہد کو نبھایا)۔ ’’تو اس طرح سے اپنے دل کو غیر سے پاک کرنا اور محبت الٰہی سے بھرنا، خدا تعالیٰ کی مرضی کے موافق چلنا اور جیسے ظلّ اصل کا تابع ہوتا ہے ویسے ہی تابع ہونا کہ اس کی اور خدا کی مرضی ایک ہو کوئی فرق نہ ہو۔ یہ سب باتیں دعا سے حاصل ہوتی ہیں۔‘‘

(ملفوظات جلد 6 صفحہ 177)

وفا کے معیار حاصل کرنے کے لیے بھی کوشش تو ہے ایک لیکن ساتھ ہی دعا ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا ضروری ہے۔ جب تک دعا نہیں ہوگی اللہ تعالیٰ سے ایک ذاتی تعلق نہیں ہو گا اور اپنی وفا کے معیار کو بڑھانے کے لیے اس کی مدد کے طلبگار نہیں ہوں گے اس وقت تک صرف اپنے عمل سے ہی وفا حاصل نہیں ہو سکتی۔ اس لیے عمل کے ساتھ دعا بہت ضروری ہے اور خاص طور پر جب اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنا ہے تو اللہ تعالیٰ کا پیار اللہ تعالیٰ سے ہی مانگنا ہو گا۔ اس بات کو آپ ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں۔ پس یاد رکھیں کہ یہ وفا کے وہ معیار ہیں جو ہم سے اپنے عہد کو پورا کرنے اور وفا کا تقاضا کرتے ہیں۔ یہ معیار ہیں، یہ وفا کے تقاضے ہیں جو ہم نے پورے کرنے ہیں۔ یہ وفا کے تقاضے ہیں جو ہمیں عہد پورا کرنے میں مدد دے سکتے ہیں، خاص طور پر ان لوگوں سے جنہوں نے اپنے وقف کو نبھانے کا خاص طور پر عہد کیا۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے خاص طور پر اپنے شاعرانہ کلام میں اس طرف توجہ دلائی ہے۔ ایک مصرعہ ان کا ہے کہ؎

’’عہد شکنی نہ کرو اہلِ وفا ہو جاؤ‘‘

(کلام محمود صفحہ 63)

واقفِ زندگی اور پھر جو مربی اور مبلغ ہے اس کا عہد تو ایک عام احمدی کے عہد سے بہت بڑھ کر ہے کہ آپ نے ایک عہد بیعت بھی کیا ہوا ہے جو ہر احمدی نے کیا ہوا ہے اور ایک وقف کا عہد ہے۔ یہ عہد کیا کہ ہم اپنی زندگیاں اسلام کی تعلیم کی اور تبلیغ کے پھیلانے کی خاطر وقف کرتے ہیں۔ اللہ کرے کہ آپ میں سے ہر ایک کے دل سے یہ آواز اٹھے جو حضرت مصلح موعود ؓنے اپنے شاعرانہ کلام میں فرمائی ہے کہ

’’بے وفاؤں میں نہیں ہوں مَیں وفاداروں میں ہوں‘‘

(کلام محمود صفحہ 84)

یہ آواز ہے جو ہر وقفِ زندگی، ہر مربی اور مبلغ کے دل سے اٹھنی چاہیے اور وفا کا تقاضا جیسا کہ میں نے کہا پہلے بھی یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت میں بڑھیں اور بڑھتے چلے جائیں اور اس کے دین کی خدمت کے لیے اپنے آپ کو ہمہ وقت پیش کرنے کے لیے تیار رہیں۔

ہمیں اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔ ہم یہ دیکھیں کہ کیا ہم اللہ تعالیٰ کی محبت میں بڑھ رہے ہیں؟ صرف دعویٰ نہ ہو، صرف زبانی جمع خرچ نہ ہو۔ یہ دیکھیں کہ اللہ تعالیٰ کے عشق سے ہم مخمور ہیں؟ ہمارے دل اس میں ڈوبے ہوئے ہیں؟ اللہ تعالیٰ کے حقوق ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں؟ اس کی عبادت کرنے کے معیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اگر نہیں تو پھر مزید اس میں کوشش کی ضرورت ہے اور اب میدان ِعمل میں آ کر تو بہت زیادہ اس کی ضرورت پڑے گی۔
پھر یہ بھی بہت ضروری چیز ہے کہ دنیاوی آلائشوں سے پاک کرنا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے آپ سے بڑی نیک توقع رکھی اور اپنی ایک نظم میں یہ اعلان کیا۔ یہ شعر وہاں بھی (یعنی جامعہ کے آڈیٹوریم میں۔ ناقل) لکھا ہوا ہے کہ

’’وہ بھی ہیں کچھ جو کہ تیرے عشق سے مخمور ہیں

دنیوی آلائشوں سے پاک ہیں اور دُور ہیں‘‘

(کلامِ محمودؓ صفحہ 249)

پس اللہ تعالیٰ کے عشق سے مخمور ہونا اور پھر دنیاوی آلائشوں سے پاک ہونا یہ ایک بہت بڑا کام ہے۔ یہ ایک توقع ہے جو حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ نے اپنے زمانے میں خاص طور پر واقفینِ زندگی سے اور افرادِ جماعت سے کی اور یہی توقع ہے جو مجھے آپ سے ہے۔ اور میں امید کرتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ لوگ اللہ تعالیٰ کے عشق میں مخمور ہونے کی کوشش کریں گے اور دنیاوی آلائشوں سے ان شاء اللہ پاک ہونے کی کوشش کرتے چلے جائیں گے۔ پس اس امید اور توقع کو پورا کرنے کے لیے آپ کو دیکھنا ہو گا کہ کہیں بعض مواقع پر آپ کی دنیاوی خواہشات تو سامنے نہیں آ جاتیں۔ یہ تو نہیں ہوتا کہ کہیں ایسے حالات پیدا ہو جائیں جہاں دنیاوی خواہشات آپ کی روحانیت پر غلبہ حاصل کر لیں یا اللہ تعالیٰ کے عشق کی بجائے دنیاوی عشق غالب آنے لگ جائے۔ پس اس کے لیے خاص جہاد کی ضرورت ہے جو ہر مربی اور ہر واقف زندگی کو کرنے کی ضرورت ہے۔

پھر آپ کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ قرآن کریم کو پڑھنے اور اس پر فکر و تدبر کرنے کی کوشش کریں۔ تفاسیر پڑھیں بلکہ ان میں سے نکات نکالیں۔ میدان عمل میں بہت سے لوگ آپ سے سوال کریں گے۔ پس ان کے جو دینی سوال ہیں ان سوالوں کے جواب قرآن کریم سے تلاش کر کے ایک مبلغ اور ایک مربی کو دینے چاہئیں اور اس کے لیے پوری کوشش ہونی چاہیے۔ پھر سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ آپؐ کا اسوہ ہے۔ آپؐ کی احادیث ہیں، ان سے جواب تلاش کر کے دیں۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب ہیں۔ ان کو پڑھیں۔ ان کا علم حاصل کریں اور ان میں سے جواب تلاش کریں۔ اگر اور یہ تمام سوال جو آج کل دنیا میں کیے جاتے ہیں ان کے جواب آپ کو انھی جگہوں میں سے مل جائیں گے۔ بلکہ اگر قرآن کریم پہ غور کریں تو بہت سارے سوالوں کے جواب قرآن کریم سے ہی مل جاتے ہیں۔ پس اس کے لیے اس سات سال کی تعلیم پر انحصار نہیں کرنا بلکہ اپنے علم کو آپ نے بڑھانا ہے۔ پہلے بھی میں کہہ چکا ہوں کہ اس میں ترقی کرنی ہے۔

آپ اپنے ٹائم کا جو روزانہ کا شیڈیول بناتے ہیں، اپنے اس پروگرام میں کوشش کریں کہ آپ نے اپنے چند گھنٹے مطالعہ کے لیے ضرور مخصوص کرنے ہیں۔ جو بھی مصروفیت ہو۔ عبادت کے لیے بھی علاوہ فرض نمازوں کے نوافل کے لیے بھی مخصوص کرنے ہیں کیونکہ دعا کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا اور اسی طرح مطالعہ کے لیے کیونکہ علم کو بڑھانا بھی بہت ضروری ہے اور علم کو بڑھا کر اسے جذب کرنا اور اس کو آگے بیان کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا یہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہوتی ہے۔ اس کے لیے اللہ تعالیٰ سے دعا بھی ضروری ہے۔

پھر ایک مبلغ اور مربی میں ہمدردیٔ خلق کا جذبہ بھی بہت زیادہ ہونا چاہیے۔ اور ہمدردی یہ نہیں ہے کہ ایک عادی مجرم کی بھی پردہ پوشی کریں اور تمام نظام کو ہی اس کی وجہ سے بگاڑ دیں کہ اس کی پردہ پوشی کر کے ہم ہمدردی کر رہے ہیں۔ اس کو سزا سے بچا کے اس سے ہمدردی کر رہے ہیں۔ ایک عادی مجرم ہے۔ ایک نظام جماعت میںرخنہ ڈالنے والا ہے، جماعت میں نفاق پیدا کرنے والا ہے یا جماعت کو کسی بھی طرح نقصان پہنچانے والا ہے یا اپنے معاشرے میں اس کا ظلم اتنا بڑھ گیا ہے کہ اس سے معاشرے کو نقصان پہنچ رہا ہے تو وہاں ہمدردی یہ ہے کہ اس کو تباہ ہونے سے بچانے کے لیے اس کو سمجھائیں یا اگر ایسے موقعے پر نظام کو یا قانون کو بھی دینا پڑے تو دینے کی کوشش کریں۔ ہاں اس کے ساتھ ہی آپ کو ہمدردی اور پردہ پوشی بھی حالات کے مطابق جائزہ لے کے کرنے کی ضرورت ہے۔ ماشاء اللہ صاحبِ عقل ہیں خود فیصلہ بھی کر سکتے ہیں کہ کہاں ہم نے ہمدردی کے کیا معنی لینے ہیں۔ کیا اس سے ہمدردی یہ ہے کہ اس کو مزید ظلم سے بچایا جائے اور اس کے ہاتھ کو روکا جائے۔ مظلوم کی مدد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کرو اور ظالم کی بھی کرو۔

(صحیح البخاری کتاب المظالم باب اعن اخاک ظالما او مظلوما حدیث 2443)

تو ظالم کی مدد ہم اس کو اس کے ظلموں سے روک کے کرتے ہیں۔ پس ان باتوں کے فیصلے کرنے بھی ضروری ہیں لیکن عمومی طور پر ہمدردیٔ خلق کا جذبہ آپ لوگوں میں دوسروں سے بڑھ کر ہونا چاہیے اور اس کے لیے پھر وہی ہمدردیٔ خلق کا جذبہ ہی ہے جو آپ کے تعلقات جماعت کے اندر بھی وسیع کرے گا۔ خاص طور پر نوجوان نسل اور بچوں کی تربیت کے لیے ہمدردی کا جذبہ جو ہے وہ ان کو آپ کے قریب لائے گا اور آپ ان کی بہتر رنگ میں تربیت کر سکیں گے اور اسی طرح اپنے ماحول میں، اپنے معاشرے میں ہمدردی کے جذبات کا اظہار کریں گے تو لوگ آپ کے قریب آئیں گے اور آپ کی تبلیغ کو بھی سنیں گے۔ پس اب میدان عمل میں لوگوں کی آپ کی طرف نظر ہے۔ یہ نہ سمجھیں کہ ہم ابھی چھوٹے ہیں بڑی عمر کے بزرگوں کو کس طرح سمجھائیں گے۔ بچوں کو بھی سمجھانا آپ کا کام ہے، نوجوانوں کو بھی سمجھانا آپ کا کام ہے، بڑوں کو بھی سمجھانا آپ کا کام ہے کیونکہ آپ کے سپرد نظام جماعت نے یہ کام کیا ہے۔ آپ کسی تکبّر اور فخر کی وجہ سے یہ نہیں کر رہے۔ نظامِ جماعت نے آپ کی ذمہ داری ڈالی ہے تو سمجھانا ہے اور جہاں آپ نقص دیکھیں ان کو دور کرنا ، ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے بڑوں اور بزرگوں کی تربیت کرنا بھی آپ کا کام ہے۔ حکمت سے ہر ایک کو سمجھانا آپ کی ذمہ داری ہے لیکن اس کے لیے سب سے پہلے اپنے عمل قرآن اور سنت کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے، اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے کہ ہم جب سمجھانے کے لیے آگے آئیں تو ہمارے اندر کی جو برائیاں ہیں ان کو بھی حتی الوسع دور کرنے کی کوشش کریں اور دعا کرکے کوشش کریں۔ بالکل یہ ٹھیک ہے کہ کوئی انسان کامل نہیں ہو سکتا، مکمل نہیں ہو سکتا۔ دنیا میں اللہ تعالیٰ نے صرف ہمارے ایمان کے مطابق ایک ہی انسانِ کامل پیدا کیا اور وہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں لیکن آپؐ نے یہ فرمایا کہ میرا اسوہ، میرا عمل تمہارے لیے قابلِ تقلید ہے، تمہارے لیے نمونہ ہے اس پہ چلنے کی کوشش کرو۔ پس حتی الوسع اپنی اپنی صلاحیتوں کے حساب سے اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں اور نیت نیک ہونی چاہیے۔ جب نیت نیک ہو گی، اپنے عمل قرآن و سنت کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں گے، اپنے عمل اسلامی تعلیم کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں گے تو اللہ تعالیٰ پھر فضل بھی فرماتا چلا جائے گا اور آپ کی زبان میں برکت بھی ڈالے گا ۔ لوگ بھی آپ کی باتیں سنیں گے۔ خاص طور پر جہاں شریعت کے احکام کا تعلق ہے، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشادات کا تعلق ہے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ارشادات کا تعلق ہے، خلیفۂ وقت کی ہدایات پر عمل کروانے کا تعلق ہے کسی قسم کی بزدلی آپ کو نہیں دکھانی چاہیے۔ یہاں وفا کا تقاضا یہ ہے کہ کوئی بھی آپ کے سامنے ہو، مربی کا کام یہ ہے کہ ہر قسم کی مداہنت سے پاک رویہ اختیار کرے۔ ہر ایک قسم کی کمزوری دکھانے سے پاک ہو اور شریعت کے احکام پر عمل کروانے کے لیے ایک مضبوط چٹان کی طرح بن جائے تا کہ یہ نہ ہو کہ کوئی اس کو توڑ کر آگے گزر سکے، وہاں آپ نے احکام پر عمل کرنا ہے۔ خلیفۂ وقت اور نظامِ خلافت کی عزت کو قائم کرنے کے لیے آپ کو ایک ننگی تلوار کی طرح ہونا چاہیے۔ پس ان باتوں کو ہمیشہ سامنے رکھیں۔

بعض چھوٹی چھوٹی باتیں ہوتی ہیں لیکن شرعی احکامات ہیں۔ اب میں مثال دینے لگا ہوں۔ گذشتہ دنوں ایک مربی نے مجھے لکھا کہ خطبہ جمعہ کے دوران بعض عہدیداران باتیں کرتے ہیں۔ ان کو جب روکا گیا تو جواب ان کا یہ تھا کہ ہم عہدیدار ہیں بعض دفعہ ضروری باتیں کرنی پڑ جاتی ہیں۔ اس لیے ہمیں اجازت ہے۔ یہ کون سی نئی تعلیم اور شریعت ہے جو یہ لوگ یہاں پھیلا رہے ہیں۔ چاہے وہ کوئی عہدیدار ہو، چاہے وہ امیر ہے یا صدر ہے یا سیکرٹری ہے یا کوئی بھی ہے مربی کا کام ہے اگر وہ کوئی خلاف شریعت بات دیکھیں تو پیار سے سمجھائیں کہ یہ غلط ہے اور اگر وہ باز نہیں آتا تو پھر مجھے لکھیں۔ خطبہ جو ہے نماز کا حصہ ہے اور اس میں بولنا منع ہے۔ ایسے شخص کو اگر ضروری کام ہے تو دوسرے کو اشارے سے باہر لے جائیں۔ آپ یہ سمجھا سکتے ہیں کہ پھرآپ باہر جا کے بات کر سکتے ہیں ۔ باہر چلے جائیں اور جا کے بات کریں اور اگر کوئی ایسی ہنگامی صورتحال پیدا ہوتی ہے جو بہت ہی خطرناک ہے تو امام کو بھی پتا چل جاتا ہے۔ امام جو خطبہ دے رہا ہے اس کو بھی پتا ہے کہ ہنگامی صورت ہے اور اگر ایسی ہنگامی حالت ہو تو اس میں تو پھر شرعاً نماز توڑنا بھی جائز ہے لیکن ذرا ذرا سی بات پر کہنا کہ ہم عہدیدار ہیں ہم نے فلاں بات کرنی تھی جو بڑی ضروری تھی تو یہ غلط طریقہ کار ہے اور مربیان کا کام ہے کہ بغیر خوف کے ایسے عہدیداروں کو بھی سمجھائیں لیکن تہذیب اور ادب کے دائرے میں رہتے ہوئے بات کریں اور اگر وہ نہیں بات مانتا تو پھر اپنی رپورٹس میں ذکر کریں۔ آگے لکھیں، امیر جماعت کو بتائیں۔ مجھے لکھیں۔ بہرحال چاہے وہ چھوٹی چھوٹی باتیں ہی ہوں جو لوگ اپنے طور پر اپنی تشریحات کرتے رہتے ہیں ان کو صحیح راستے دکھانے آپ کا کام ہے لیکن یہاں بھی وہی بات کہ پہلے آپ کے اپنے نمونے اور خدا تعالیٰ سے تعلق ہمیشہ ایک ممتاز حیثیت رکھنے والا ہونا چاہیے۔ اللہ کرے کہ آپ میں سے ہر ایک حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس شعر کے مصداق بن جائیں کہ

’’قطب کا کام دو تم ظلمت و تاریکی میں

بھولے بھٹکوں کے لیے راہ نما ہو جاؤ‘‘

(کلامِ محمودؓ صفحہ 63)

آج جب دنیا کی اکثریت مادیت میں گرفتار ہو کر اپنے خدا کو بھول کر روحانی لحاظ سے ظلمت اور تاریکی میں ڈوبی ہوئی ہے تو اس میں اپنوں اور غیروں کے لیے قطب بننا آپ کا کام ہے۔ ان کا کام ہے جنہوں نے اپنی زندگیوں کو اس مقصد کے لیے پیش کیا ہوا ہے۔ قطب کا مطلب یہ ہے ’سردار‘ یا ’لیڈر‘ یا وہ ستارے کا نام بھی ہے۔ ’شمال کا وہ ستارہ جو نشاندہی کے کام آتا ہے، راستوں کی نشاندہی کرتا ہے‘ ۔ اور اس کا یہ مطلب بھی ہے ’ایک محور‘، ’ایک مرکز ‘۔ اور اس کا یہ مطلب بھی ہے کہ ’ولی اللہ‘ یا ’ولی کامل‘ جس کا تعلق اللہ تعالیٰ سے بڑھا ہوا ہو۔ پس دنیا کو دین سکھا کر اور خدا تعالیٰ کی طرف چلانے کی رہنمائی بھی آپ نے کرنی ہے۔ آپ کو آج اللہ تعالیٰ نے دنیا کا سردار بنایا ہے تو اس کی رہنمائی کرنے کے لیے بنایا ہے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اس مقصد کے لیے کھڑا کیا ہے کہ آپ وہ محور بن جائیں جس کے گرد لوگ اس لیے آئیں کہ دینی تعلیم حاصل کریں۔ جس کے گرد لوگ آئیں تا کہ روحانیت میں بڑھیں اور پھر وہی بات جو پہلے بھی ہوچکی ہے کہ قطب بننے کے لیے بھی اللہ تعالیٰ کے ولی بننے کی ضرورت ہے۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق بڑھانے کی ضرورت ہے۔ روحانیت میں بڑھنے کی ضرورت ہے۔ پس ان چیزوں کو حاصل کرتے چلے جائیں اور ہمیشہ اس کوشش میں رہیں کہ آپ نے اپنوں کی بھی تربیت کرنی ہے اور غیروں کو بھی پیغام پہنچانا ہے۔ اپنوں کو بھی ہر قسم کی بدعات سے پاک کرنا ہے اور وہ شریعت رائج کرنی ہے اور لاگو کرنی ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اتاری اور جو باتیں ہمیں حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمائی ہیں۔

پس دنیا کے پیچھے بالکل نہیں چلنا۔ اپنے اندر اعتماد پیدا کریں اور اعتماد میں بڑھتے چلے جائیں اور اسلام کی تعلیم کو بڑے اعتماد کے ساتھ پھیلاتے چلے جائیں۔ اسلامی تعلیم کی روشنی میں دنیا کو آپ نے اپنے پیچھے چلانا ہے نہ کہ دنیا کے پیچھے چلنا ہے۔ آج کل دنیا لغو اور بیہودہ نظریات پیش کرتی ہے۔ آزادی کے نام پر بے حیائیاں پھیل رہی ہیں اور آپ لوگ اس مغربی دنیا میں رہ رہے ہیں، یہیں پلے بڑھے ہیں اور اکثر یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں آپ نے تعلیم حاصل کی ہے اور اس معاشرے میں رہتے ہوئے آپ کو سب لغویات اور بے حیائیوں اور بیہودگیوں کا پتا بھی ہے۔ تو ان کا مقابلہ کرنا ہے۔ یہ لوگ جو اپنے آپ کو تعلیم یافتہ اور مہذب کہتے ہیں اور ترقی یافتہ کہتے ہیں یا سمجھتے ہیں انہیں حقیقی تہذیب سکھانا آپ کا کام ہے۔ دنیاوی ترقی جہالت ہے اگر اس میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں کی ملونی نہ ہو، اللہ تعالیٰ کے فضل شامل حال نہ ہوں۔ پس اصل تہذیب وہی ہے جس میں اللہ تعالیٰ کی تعلیم شامل ہو۔ اصل تہذیب وہی ہے جو خدا تعالیٰ کے حکموں کے مطابق ہے اور جس کو اللہ تعالیٰ نے انبیاء کے ذریعے سے دنیا میں رائج کیا۔ جنگلی انسان کو انبیاء نے ہی صحیح تہذیب سکھا کر انسان بنایا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لکھا ہے کہ جانوروں کو انسان بنایا، انسان کو تعلیم یافتہ انسان بنایا اور پھر تعلیم یافتہ انسان کو باخدا انسان بنایا۔

(ماخوذ از لیکچر سیالکوٹ، روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 206)

پس ہم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے مشن کو آگے بڑھانے والے ہیں اور اس عہد کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں کہ ہم اسلام کی تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچائیں گے تو ہمیں سب سے پہلے ان باتوں پر عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ بغیر کسی خوف کے، بغیر کسی ڈر کے ان نام نہاد تعلیم یافتہ یا تہذیب کے علمبردار لوگوں کو آپ نے حقیقی تعلیم دینی ہے اور اپنی نوجوان نسل کو،حقیقی تہذیب سکھانی ہے۔ آج کل نَوجوان نسل جو بعض دفعہ ان سے بہت متاثر ہو جاتی ہے ان کو ان کے جال سے نکالنا ہے اور تاریکی میں ڈوبنے سے ان کو بچانا ہے۔ یہ بہت بڑا کام ہے جو آپ کے سپرد کیا گیا ہے۔ اور اس کے لیے قطب بننا ضروری ہےجو ولیٔ کامل ہو جس کا خدا تعالیٰ سے تعلق ہو جیسا کہ حضرت مصلح موعودؓ نے خواہش کا اظہار کیا ۔ آج حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو سرداری بخشی ہے تو اس کی قدر کریں اور دنیا کی حقیقی رہنمائی کریں اور اللہ تعالیٰ نے جو آپ کو سردار بنایا ہے توسردار بننے کا حق ادا کرنے کی کوشش کریں ورنہ یہ سات سال کی تعلیم اور مربی بننا اور مبلغ بننا اور یہاں رہ کر نکلنا کہ ہم نے سند حاصل کر لی بالکل بے فائدہ چیزیں ہیں۔ پس ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جو آج آپ کے کندھوں پر ڈالی جا رہی ہے اس کو سمجھنے والے بنیں۔ یہ کوئی معمولی ذمہ داری نہیں ہے جس کو آپ نے اٹھانے کا عہد کیا اور عزم کیا ہے اور اس عہد و عزم کو وفاداروں کی طرح نبھانے کی اور اٹھانے کی کوشش کریں۔

آخر میں حضرت مصلح موعود کے الفاظ میں میری بھی آپ کے لیے یہ دعا ہے کہ

’’مورَدِ فضل و کرم وارثِ ایمان و ھدیٰ

عاشقِ احمدؐ و محبوبِ خدا ہو جاؤ‘‘

(کلامِ محمودؓ صفحہ 63)

اللہ تعالیٰ کرے کہ آپ ہمیشہ اپنی وفا کے معیاروں کو بڑھاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کو حاصل کرنے والے بنتے چلے جائیں۔ ایمان و ہدایت کے وارث بن کر پھر اس وراثت کو بڑھا کر اور حقیقی وارث تو وہ ہوتا ہے جو اس وراثت میں پھر ترقی بھی کرتا چلا جائے، اس وراثت کو بڑھاتا چلا جائے نہ کہ وہیں رک جائے۔ آگے پھر تعلیم تقسیم کرنے والے بنتے چلے جائیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق میں بڑھنے والے ہوں اور اللہ تعالیٰ سے محبت حاصل کرنے والے ہوں اور احمد ثانیؑ نے احمدِ اولؐ کی تعلیم کو دنیا میں پھیلانے کا جو کام اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت سے شروع کیا تھا اس کو آپ بھی اور مَیں بھی دنیا میں پھیلاتے چلے جانے والے بن جائیں اور آپ میں سے ہر ایک خلافت کا سلطان نصیر بنے تا کہ ہم پھر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا دنیا میں لہرا کر خدا تعالیٰ کی وحدانیت اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت کو دنیا میں قائم کرنے والے ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ سب کو اپنے عہد پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور کبھی آپ عہد شکنی کرنے والے نہ ہوں بلکہ ہمیشہ اہلِ وفا میں شامل رہیں۔ آمین۔ اب دعا کر لیں۔

(دعا)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close