سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

شمائل مہدی علیہ الصلوٰۃ والسلام

(سید مبشر احمد ایاز۔ پرنسپل جامعہ احمدیہ ربوہ)

اس تحریر کو بآواز سننے کے لیے یہاں کلک کیجیے:

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ‘ریشمی چوغہ’ پہننے کی روایت کی بابت ایک ضروری وضاحت

الفضل انٹرنیشنل میں شمائل مہدی ؑ کے عنوان سے جومضمون شائع ہورہاہے اس میں حضورعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے لباس کے متعلق یکم نومبر 2019ء کے شمارے میں شائع شدہ قسط میں حضرت اقدس علیہ السلام کی نسبت ریشمی چوغہ پہننے کی روایت درج ہے۔ جبکہ احادیث میں آیاہے کہ ریشم کااستعمال مردوں کے لیے منع ہے ۔اس ضمن میں مولّف مضمون ہٰذا کی ارسال کردہ درج ذیل وضاحت پیشِ خدمت ہے۔ (مدیر)
بعض روایات میں حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام کی نسبت کسی راوی نے یہ کہاہے کہ ریشمی چوغہ پہنا ہواتھاتو یہ امرواضح رہے کہ اوّل تو راوی کااپنا ایک مشاہدہ ہے اوردوسری بات یہ کہ یہاں خالص ریشم مراد نہیں ہے۔کیونکہ ہماری روزمرہ گفتگومیں لباس وغیرہ کے متعلق جو‘ریشم’کالفظ استعمال ہوتاہے وہ محض کاٹن یاسوتی کے بالمقابل ایک لفظ ہوتاہے نہ کہ خالص ریشم جوکہ ویسے ہی ناپیداورکمیاب ہوتاہے۔اوراسی خالص ریشم ،حریرودیباج کی ممانعت بیان ہوئی ہے ۔ یہ الگ بات ہے کہ کسی بیماری وغیرہ کے پیش نظر ایسے ریشم کے استعمال کی آنحضرت ﷺ نے اجازت بھی مرحمت فرمائی ہے ۔جیساکہ صحیح مسلم کتاب اللباس والزینۃ میں اس کی تفصیل موجودہے ۔بلکہ اسی باب میں یہ بھی ذکرہے کہ حضرت عائشہ ؓکی بڑی بہن حضرت اسماء بنت ابوبکرؓ کے پاس آنحضرت ﷺ کاایک ایساقیمتی چوغہ تھا جس کاگریبان اور اس کے دونوں بازودیباج یعنی خالص ریشم کے تھے۔اسی لیے علماء وفقہاء نے ایسے خالص ریشم کے استعمال کی بھی اجازت دی ہے کہ جس میں سوتی کپڑابھی شامل ہو۔ لیکن اس ساری تفصیل کے ساتھ ساتھ یہ امرزیادہ قابل غورہے کہ ہماری روزمرہ کی گفتگومیں لباس کے متعلق ریشم کا لفظ جب استعمال ہوتاہے تواس سے وہ خالص ریشم مرادنہیں ہواکرتا کیونکہ عام طورپرایساریشم دستیاب ہی نہیں ہوتا اورہماری مراد محض کاٹن یاسوتی کے مقابل پرایک لباس سے ہوتی ہے ۔واللہ اعلم

حضرت مسیح موعودؑ کے نعلَین مبارک کا بیان

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے بیان کرتے ہیں :

“جوتی آپ کی دیسی ہوتی ،خواہ کسی وضع کی ہو، پوٹھواری، لاہوری۔لدھیانوی، سلیم شاہی ہر وضع کی پہن لیتے مگر ایسی جو کھلی کھلی ہو۔انگریزی بوٹ کبھی نہیں پہنا۔گر گابی حضرت صاحب کو پہنے مَیں نے نہیں دیکھا۔جوتی اگر تنگ ہوتی تو اس کی ایڑی بٹھا لیتے مگر ایسی جوتی کے ساتھ با ہر تشریف نہیں لےجاتے تھے …”

(سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر447)

حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم۔اے بیان کرتے ہیں :

“…انگریزی جوتی نہ پہنتے تھے۔بلکہ دیسی جوتی ہی استعمال کرتے تھے…”

(سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر759)

“حضورعلیہ السلام کی جوتی عموماً سرخ دانے دار دیسی کھال کی ہوا کرتی تھی اس پر تلّے وغیرہ کا کام نہ ہوتا تھا اگر کبھی اس کی ایڑی بیٹھ جاتی تو حضور اسے درست فرمانے کی کوشش نہ فرماتے بلکہ ویسے ہی استعمال کرتے رہتے۔بعض دفعہ ایک پاؤں کی ایڑی سالم ہوتی اور دوسرے کی بیٹھ جاتی تب بھی حضور اسی طور پر استعمال میں لاتے رہتے۔”

(الفضل جلد 31نمبر22) ، (شمائل احمد صفحہ 84 طبع سوم)

حضرت حاجی غلامؓ صاحب بیان کرتے ہیں :

“خاکسار اور حاجی رحمت اﷲ صاحب سکنہ راہوں اور حکیم عطا محمد صاحب مرحوم مسجد مبارک میں حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے۔عطا محمد صاحب مرحوم سکنہ ہرسیاں ضلع جالندھر ایک نرم چمڑے کی دیسی جوتی حضور کے لیے بنوا کر لایا اور حضور کی خدمت میں پیش کرتے وقت مرحوم نے عرض کی کہ حضور یہ جوتی پاؤں کو لگے گی نہیں یعنی نرم ہے آرام دے گی۔حضور نے فرمایا: ایسی ہی جوتی چاہیے۔حضور خود اٹھا کر اندر لے گئے۔اگلے روز وہ جوتی مہمان خانہ سابق میں ایک بوڑھے شخص کے پاؤں میں دیکھی۔”

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد 1صفحہ29-28روایت حاجی غلام صاحبؓ)

حضرت سید میر عنایت علی شاہ ؓ صاحب بیان کرتے ہیں :

“ایک مرتبہ قادیان میں ہم حضرت اقدس کے ہمراہ سیر کو جا رہے تھے۔ایک امریکن سیاح ساتھ تھا۔حضرت اقدس نے نری کی جوتی جس کی ایڑی بیٹھی ہوئی تھی پہنی ہوئی تھی۔”

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد 1صفحہ125 روایت سید میر عنایت علی شاہ صاحبؓ)

حضرت غلام محمدؓ صاحب بیان کرتے ہیں :

“…گلے میں پوستین، سرخ لوئی، سر پر ٹوپی رومی پگڑی کے درمیان، چمڑہ کی جوتی جس کا ایک‘‘اڈا” بٹھا دیا ہوا تھا۔(ایسا معلوم ہوتا تھا کہ تنگ جوتا کو آپ ناپسند فرماتے اور’’اڈا’’ بٹھا لیتے)”

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد3صفحہ174روایت غلام محمد صاحبؓ)

ایک اَور روایت یوں ہے کہ

“حضرت اقدس علیہ السلام کا دستور تھا کہ آپؑ جوتی کی ایڑیاں نیچے کر لیا کرتے تھے تا کہ پاؤں کو ضرر نہ پہنچے۔”

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد5صفحہ144)

حضرت محمد رحیم الدین احمدیؓ صاحب بیان کرتے ہیں :

“اگست 1896ء میں مولوی عبدالرحمٰن کابل سے آئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے واسطے ایک جوڑا جوتا جو کامدار اور قیمتی تھا لائے تھے۔میں نے کسی احباب جماعت سے دریافت کیا تھا کہ یہ کون ہیں ۔اس نے بتایا کہ مولوی عبدالرحمٰن ہیں جو کابل سے آئے ہیں ۔”

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد5صفحہ165 روایت محمد رحیم الدین احمدی صاحبؓ)

حضرت حافظ نبی بخشؓ صاحب بیان کرتے ہیں :

“لباس:کرتہ بٹن والا، سیدھا گریبان، کھلے پائینچوں والا پاجامہ، جوتی دیسی ساخت کی سرخ کھال کی، پگڑی اکثر ٹسری سفید، کلاہ نہیں ہوتا تھا۔کوٹ لمبا سادا گرم ہو یا سرد۔”

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد6صفحہ301 روایت حضرت حافظ نبی بخش صاحبؓ)

حضرت ملک غلام حسین صاحبؓ روایت کرتے ہیں :

“ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ میں ابھی کام پر نہیں بیٹھا تھا کسی لڑکے نے کہا کہ حضرت بلاتے ہیں میں دروازے پر حاضر ہوا دستک دی اور عرض کیا حضور نے مجھے طلب فرمایا ہے۔ آپؑ نے فرمایا‘‘جی ہاں مجھے جوتی چاہیے لا دو۔’’ میں بازار گیا، ایک موچی سے جوتی کی قیمت کا تصفیہ کیا اور اسے اپنے ساتھ لے آیا۔ آکر آواز دی حضور نے فرمایا‘‘جی’’ میں نے عرض کیا یہ جوتی لایا ہوں حضور پہن لیں حضور نے فرمایا‘‘بہت اچھی ہے۔اس کی قیمت روپیہ سوا روپیہ ہو گی۔’’ میں نے عرض کی کہ حضور بارہ آنہ کو لایا ہوں حضور نے فرمایا‘‘بہت اچھی اور سستی لائے ہو۔’’

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد8صفحہ98 روایت ملک غلام حسین صاحبؓ)

حضرت شیخ عبد الغفورؓ صاحب روایت کرتے ہیں :

“میں اپنے داداحاجی شیخ الٰہی بخش صاحب تاجر کتب گجرات کے ساتھ قادیان گیا۔مجھے یاد ہے کہ میں نے حضرت اقدس کو مسجد اقصیٰ میں دیکھا۔حضورؑ کے سر پر ایک رومی ٹوپی تھی۔جس کے اوپر پٹکا لپیٹا ہوا تھا۔کندھے پر ایک رومال تھا۔کنویں کے پاس کھڑے تھے۔جوتی گامے شاہی تھی۔میرے دادا صاحب نے مجھے ایک روپیہ دیا اور فرمایا کہ حضرت صاحب سے مصافحہ کرواور یہ روپیہ پیش کرو۔میں نے ایسا ہی کیا۔حضور میری پیٹھ پر دیر تک ہاتھ پھیرتے رہے۔”

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد10صفحہ20 روایت شیخ عبدالغفور صاحب ؓ)

حضرت سردار بیگمؓ صاحبہ ایک موقع پر آپ کے لباس کے بارے میں بیان کرتی ہیں :

“…لدھیانے کا پائجامہ تھا۔ململ باریک کا کرتہ تھا۔جس کے کندھے پر پٹی تھی۔سر پر لنگی تھی۔پیروں میں دہلی کی لال کھال کی جوتی تھی۔”

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد10صفحہ208 روایت سردار بیگم صا حبہؓ)

حضرت قریشی شیخ محمدؓ صاحب بیان کرتے ہیں :

“حضورؑ کی جوتی عموماً سرخ دانے دار دیسی کھال کی ہوا کرتی تھی۔اس پر تلّے وغیرہ کا کوئی کام کیا ہوا نہیں ہوتاتھا۔اور اگر اس کی ایڑی بیٹھ جاتی تو پھر آپؑ اسے درست کروانے کی کوشش نہ فرماتے۔چنانچہ بعض اوقات ایسا بھی ہو تا کہ جوتی کا ایک پاؤں ٹھبہ ہوتا اور دوسرا صحیح سالم۔مگر حضور اسے اسی طرح استعمال کرتے۔حضور چلنے میں تیز رفتار تھے۔”

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد13صفحہ396 روایت قریشی شیخ محمد صاحبؓ)

حضرت میاں خیر الدین سیکھوانیؓ صاحب روایت کرتے ہیں :

“ایک دفعہ کا ذکر ہے جبکہ حضور نے ابھی دعویٰ نہیں کیا تھا۔حضورؑ کے بڑے بھائی کی شادی تھی۔اور انہوں نے کچھ بکرے منگائے تھے۔جنہیں ننگل باغباناں کا ایک شخص چرایا کرتا تھا۔ایک دن حضور سیر کو چلے جا رہے تھے کہ راستہ میں وہ بکرے چرا رہا تھا اس کے ساتھ اس کا بیٹا بھی تھا اور وہ ننگے پاؤں تھا۔حضور نے اس کی طرف دیکھ کر فرمایا میاں تم ننگے پاؤں پھر رہے ہو تم کو کانٹے نہیں چبھتے۔اس نے عرض کی۔حضور میرے پاس جوتی نہیں ہے اور باپ میرا غریب ہے وہ خرید نہیں سکتا۔حضور نے ایک جوتی کا پاؤں اتارا اور فرمایا کہ پہنو۔اس نے معذرت کی مگر حضور نے نہ مانی اور کہا پہنو۔اس نے ایک پاؤں پہن لیا حضور نے فرمایا ہاں ٹھیک ہے اور دوسرا اتار کر فرمایا اس کو بھی پہنو اس نے وہ بھی پہن لیا اس پر حضور خوش ہوئے اور فرمایا بس ٹھیک ہے۔چنانچہ آپؑ ننگے پاؤں گھر تشریف لے آئے۔یہ اس وقت کا ذکر ہے جبکہ حضور شاید بیس یا تیس سال کے ہوں گے۔”

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد14صفحہ34 روایت میاں خیرالدین صاحب سیکھوانیؓ)

شیخ محمد نصیب صاحب حال کلرک دفتر نشرواشاعت قادیان کی روایت ہے کہ

“…حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے… پاؤں میں کبھی جراب کے ساتھ اور کبھی اس کے بغیر ،سرخ رنگ کھال کی جوتی کبھی گرگابی ہوتی…”

(رجسٹر روایات صحابہ ؓ غیر مطبوعہ جلد 15صفحہ 24روایت شیخ محمد نصیب صاحبؓ)

ڈاکٹر مرزا یعقوب بیگ صاحب بیان فرماتے ہیں :

“حضور کے پہننے کا لباس علی العموم حضرت شیخ رحمت اللہ صاحب مالک انگلش ویئر ہاؤس طیار کرا کر بھیجا کرتے۔اور جوتا شیخ مولا بخش صاحب مالک بوٹ فیکٹری سیالکوٹ۔”

(پیغامِ صلح، لاہور مؤرخہ 26مئی 1923ء جلد11نمبر58 صفحہ 9 کالم 3)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں :

“ہمیں تو اللہ تعالیٰ نے ایسی فطرت ہی نہیں دی کہ ان کے لباس یا پوشش سے فائدہ اُٹھائیں ۔سیالکوٹ سے ایک دوبارانگریزی جوتا آیا۔ہمیں اس کا پہننا ہی مشکل تھا کبھی ادھر کا ادھر اور کبھی بائیں کا دائیں ۔آخر تنگ آکر سیاہی کا نشان لگایا گیا کہ شناخت رہے مگر اس طرح بھی کام نہ چلا۔آخر مَیں نے کہا کہ یہ میری فطرت ہی کے خلاف ہے کہ ایسا جوتا پہنوں ۔”

(ملفوظات جلدپنجم صفحہ341)

دسمبر2014ء کے جلسہ سالانہ قادیان کے موقعہ پرمحترم چوہدری حمیداحمدصاحب سے ملاقات ہوئی خاکسارکے استفسارپر انہوں نے اپنے آباؤاجدادکے قبول احمدیت کی داستان سنائی اور باتوں باتوں میں انہوں نے بتایاکہ ان کے پاس حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے کفش مبارک موجودہیں ۔میں نے عرض کیاکہ آپ دکھاسکتے ہیں۔ انہوں نے فراخ دلی سے وعدہ کیااور خاکسارکویہ سعادت بھی حاصل ہوئی کہ جلسہ سالا نہ قادیان سے واپسی پرخاکسارسب سے پہلے لاہوران کی رہائش گاہ پرحاضرہوااوران کے گھراس کفش مبارک کودیکھ کرآنکھیں ٹھنڈی کرنے کاموقعہ ملا۔ فجزاہ اللہ احسن الجزاء

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close