سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

شمائل مہدی علیہ الصلوٰۃ والسلام

(سید مبشر احمد ایاز۔ پرنسپل جامعہ احمدیہ ربوہ)

اس مضمون کو بآواز سننے کے لیے یہاں کلک کیجیے:

شلوار؍ پاجامہ؍ چادر

’’موسم گرما میں دن کو بھی رات کو تو اکثر آپؑ کپڑے اُتار دیتے اور صرف چادر یا لنگی باندھ لیتے۔گرمی دانے بعض دفعہ بہت نکل آتے توا س کی خاطر بھی کرتہ اُتاردیا کرتے۔تہ بند اکثر نصف ساق تک ہوتا تھا۔‘‘

(سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر447)

’’ایک مرتبہ لباس کے بارہ میں ذکر ہورہا تھا ،ایک کہتا کہ بہت کھلی اور وسیع موہری کا پاجامہ اچھاہوتا ہے۔جیسا ہندوستانی اکثر پہنتے ہیں ۔دوسرے نے کہا کہ تنگ موہری کا پاجامہ بہت اچھا ہوتا ہے۔مرزا صاحب نے فرمایا کہ‘‘بلحاظ ستر عورت تنگ موہری کاپاجامہ بہت اچھا اور افضل ہے۔اور اس میں پردہ زیادہ ہے۔کیونکہ اسکی تنگ موہری کے باعث زمین سے بھی ستر عورت ہو جاتا ہے۔سب نے اس کو پسند کیا۔‘‘

(سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر150)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے بیان کرتے ہیں :۔

‘‘بیان کیامجھ سے حضرت والدہ صاحبہ نے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی یہ عادت تھی کہ ہمیشہ رات کو سوتے ہوئے پاجامہ اتار کر تہ بند باندھ لیتے تھے اور عموما ًکرتہ بھی اتار کر سوتے تھے۔’’

(سیرت المہد ی جلد اول روایت نمبر61)

‘‘موسم سرما میں ایک دُھسّہ لیکر آپؑ مسجدمیں نماز کے لیے تشریف لایا کرتے تھے جو اکثر آپ کے کندھے پر پڑا ہوا ہوتا تھا۔اور اسے اپنے آگے ڈال لیا کرتے تھے۔جب تشریف رکھتے توپھر پیروں پر ڈال لیتے …۔’’

(سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر447)

ازار بند

حضرت شیخ محمد افضل صاحبؓ کی روایت ہے:

‘‘حضور کے ازار بند کا ایک سرا جس میں قُفل کی کلید باندھی ہوئی تھی نیچے گر گیا۔حضور ؑ نے اس کو اُٹھا کر ٹھیک کر لیا تو خادم نے دیکھا تو وہ ازار بند ریشم کا تھا۔اس سے پہلے میں ریشمی ازار بند کو مردوں کے لیے ممنوع خیال کرتا تھا۔معلوم ہوا کہ اس کا پہننا جائز ہے کیونکہ یہ پاجامہ کا ایک حصہ ہے۔پھر میں نے کبھی سوتی ازار بند نہیں ڈالا کیونکہ مسیح موعود علیہ السلام کا عمل شریعت کے عین مطابق تھا۔’’

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد 7صفحہ221-222روایت شیخ محمد افضل صاحب ؓ)

حضرت میاں عبد العزیز صاحبؓ بیان کرتے ہیں کہ

‘‘ٹوٹی ریشم کا ازار بند ہوتا تھا جو اصل ریشم نہیں ہوتا۔مجھے یاد ہے کہ حضور ایک دفعہ یہاں تشریف لائے تو ازار بند کے ساتھ چابیوں کا ایک بڑا گچھا بندھا ہوا تھا۔’’ (رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد9صفحہ54روایت میاں عبد العزیزصاحب ؓ)

حضرت مولوی محب الرحمان صاحبؓ بیان کرتے ہیں :

‘‘حضرت صاحب ان دنوں میں جو پاجامہ پہنا کرتے تھے اسے شرعی پاجامہ کہا جاتا تھا یعنی شلوار کی طرح کھلا نہیں ہوتا تھا۔پائنچہ زیادہ چوڑا نہیں ہوتا تھا۔کرتہ کلیوں والا پہنا کرتے تھے۔کف بعض اوقات بغیر بٹن کے سِلے ہوئے ہوتے تھے۔کوٹ لمبا ہوتا تھا۔میں نے حضور کو دو کوٹ پہنے بھی دیکھا ہے۔نیچے بند گلے والا اور اوپر چوغہ اوور کوٹ کی طرز کا۔عمامہ سفید ہوتا تھا۔ایک دو دفعہ میں نے عمامہ میں تُرکی ٹوپی بھی دیکھی ہے۔’’

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد9صفحہ90روایت مولوی محب الرحمان صاحب ؓ)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے کی روایت ہے:

‘‘خاکسار عرض کرتا ہے کہ جب ہم بچے تھے تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام خواہ کام کر رہے ہوں یا کسی اَور حالت میں ہوں ہم آپؑ کے پاس چلے جاتے تھے کہ ابّا پیسہ دو اور آپؑ اپنے رومال سے پیسہ کھول کر دے دیتے تھے۔اگر ہم کسی وقت کسی بات پر زیادہ اصرارکر تے تھے تو آپؑ فرماتے تھے کہ میاں میں اس وقت کام کر رہا ہوں زیادہ تنگ نہ کرو۔خاکسار عرض کرتا ہے کہ آپ معمولی نقدی وغیرہ اپنے رومال میں جو بڑے سائز کا ململ کا بنا ہوا تھا باندھ لیا کرتے تھے اور رومال کا دوسرا کنارا واسکٹ کے ساتھ سلوا لیتے یا کاج میں بندھوا لیتے تھے۔اور چابیاں ازار بند کے ساتھ باندھتے تھے جو بوجھ سے بعض اوقات لٹک آتا تھا۔اور والدہ صاحبہ بیان فرماتی ہیں کہ حضرت مسیح موعود ؑعموماً ریشمی ازار بند استعمال فرماتے تھے کیونکہ آپؑ کو پیشاب جلدی جلدی آتا تھا اس لیے ریشمی ازار بند رکھتے تھے تاکہ کھلنے میں آسانی ہو اور گرہ بھی پڑ جاوے تو کھولنے میں دقت نہ ہو۔سوتی ازار بند میں آپؑ سے بعض دفعہ گرہ پڑ جاتی تھی تو آپؑ کو بڑی تکلیف ہو تی تھی۔’’

(سیرت المہدی جلد اوّل روایت نمبر 65)

تولیہ کا استعمال

حضرت اقدسؑ کے تولیہ کےاستعمال کی بابت درج ذیل روایات موصول ہوتی ہیں:

بنام منشی رستم علی صاحب

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

مکرمی اخویم ۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

عنایت نامہ پہنچا ۔خداتعالیٰ آپ کو اپنی خاص محبت عطافرماوے۔جب خالص محبت کسی دل میں آجاتی ہے تو یادالہٰی کے لیے قوت اورشوق پیدا ہوجاتا ہے ۔جب تک وہ محبت نہیں کسل شامل حال ہے۔

مولوی نورالدین صاحب بصحت تام جموں پہنچ گئے ہیں۔تولیہ راہ میں مل گیا تھا۔میرے پاس موجود پڑا ہے۔ہمیشہ حالات خیریت آیات سے مطلع فرمایا کریں۔آپ کومحبت اوراخلاص جواس عاجز کے ساتھ ہے۔یقین کہ وہ کشاں کشاں آپ کو اعلی مقصد لےآئے گی۔

والسلام

25اگست 1889ء

خاکسار

غلام احمد عفی عنہ

بسم اللہ الرحمن الرحیم نحمدہ ونصلی علی رسولہ الکریم

محبی اخویم ۔السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

عنایت نامہ پہنچا ۔خدائے عزّوجل کوخواب میں دیکھنا بہرحال بہتر ہے۔خداتعالیٰ مبارک کرے ۔انشاء اللہ القدیر آپ کیلیے دعا کرتارہوں گا۔آپ بھی دعا اوراستغفار میں مشغول ہیں۔خداتعالی رحیم وکریم ہے۔آپ ایک محب خالص ہیں اورایسے محب کہ ایسے تھوڑے ہیں پھر کیونکر آپ بھول سکتے ہیں۔خداتعالی خودایسے محبوں کو بنظر محبت دیکھتا ہے۔آپ کاتولیہ استعمال کیاجائے گا۔
زیادہ خیریت ہے۔

والسلام خاکسار

غلام احمد از قادیان 2ستمبر 1889ء

(مکتوبات احمد جلد دوم ص564)

آپؑ کے سرِ مبارک ڈھانپنے کا بیان

پگڑی/عمامہ

‘‘حضرت مسیح موعود ؑ عام طور پر سفید ململ کی پگڑی استعمال فرماتے تھے جو عموماً دس گز لمبی ہو تی تھی۔پگڑی کے نیچے کلاہ کی جگہ نرم قسم کی رومی ٹوپی استعمال کرتے تھے۔اور گھر میں بعض اوقات پگڑی اتار کر سر پر صرف ٹوپی ہی رہنے دیتے تھے … گھر میں آپ کے لیے صرف ململ کے کُرتے اور پگڑیاں تیار ہوتی تھیں۔ باقی سب کپڑے عموماًہدیتہ آپ کو آجاتے تھے…’’

(سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر 83)

حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ ایم اے بیان کرتے ہیں :

‘‘بیان کیا مجھ سے چوہدری غلام محمد صاحب بی اے نے کہ جب میں 1905ء میں قادیان آیا تو حضرت صاحب نے سبز پگڑی باندھی ہو ئی تھی۔مجھے یہ دیکھ کر کچھ گراں گذرا کہ مسیح موعود ؑکو رنگ دار پگڑی سے کیا کام۔پھر میں نے مقدمہ ابن خلدون میں پڑھا کہ آنحضرت ﷺ جب سبز لباس میں ہوتے تھے تو آپ کو وحی زیادہ ہوتی تھی۔’’

(سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر 121)

لباس

حضرت حافظ نبی بخش صاحب بیان کرتے ہیں :

‘‘کرتہ بٹن والا،سیدھا گریبان،کھلے پائینچوںوالا پاجامہ، جوتی دیسی ساخت کی سرخ کھال کی، پگڑی اکثر ٹسری سفید، کلاہ نہیں ہوتا تھا، کوٹ لمبا سادا گرم ہو یا سرد۔’’

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد 6صفحہ301 روایت حضرت حافظ نبی بخش صاحبؓ)

حضرت چوہدری فقیر محمد صاحب بیان کرتے ہیں :

‘‘… حضور نے اس وقت سفید پگڑی سفید چوغہ۔سفید پاجامہ پہنا ہوا تھا ہاتھ میں چھڑی تھی اور حضور کسی کی طرف نہیں دیکھتے تھے نظر نیچے رکھتے تھے رنگ حضور کا گندم گوں تھا حضور کے منہ پر نور برس رہا تھا اور داڑھی لمبی تھی۔جو موتیوں کی طرح چمک رہی تھی۔’’

(رجسٹرروایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد11صفحہ348روایت چوہدری فقیر محمد صاحب ؓ)

حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ بیان کرتے ہیں :

‘‘غالباً 1896ءیا 1897ء کا ذکر ہےکہ ایک دفعہ میں لاہور سے قادیان آیا اور میری والدہ مرحومہ بھی میرے ساتھ تھیں جو بھیرے سے حضرت صاحب کی بیعت کے لیے تشریف لائی تھیں اور اسی سال انہوں نے حضرت صاحب ؑ کی بیعت کی تھی۔جب ہم واپس ہونے لگے تو حضرت صاحب ؑ ہمارے یکہ پر سوار ہونے کی جگہ تک ساتھ تشریف لائے اور ہمارے لیے کھانا منگوایا کہ ہم ساتھ لے جائیں ۔وہ کھانا لنگر والوں نے کسی کپڑے میں باندھ کر نہ بھیجا تھا۔تب حضرت صاحب نے اپنے عمامہ میں سے قریب ایک گز کپڑا پھاڑ کر اس میں روٹی کو باند ھ دیا۔’’

(ذکر حبیب صفحہ 35،36 مصنفہ حضرت مفتی محمدصادق صاحب)

صافہ

‘‘ظہر کے وقت حضرت اقدس علیہ السلام تشریف لائے تو کمر کے گرد ایک صافہ لپٹا ہوا تھا۔فرمایا کہ کچھ شکایت درد گردہ کی شروع ہو رہی ہے اس لیے میں نے باندھ لیا ہے ذرا غنودگی ہوئی تھی اس میں الہام ہوا ہے۔‘‘تا عود صحت’’ فرمایا کہ صحت تو اﷲ تعالیٰ ہی کی طرف سے ہوتی ہے۔جب تک وہ ارادہ نہ کرے کیا ہو سکتا ہے۔’’

(ملفوظات جلدچہارم صفحہ336)

‘‘حضرت مسیح موعود علیہ السلام انگریزی کوٹ اور صافہ یعنی دوپٹہ برابر باندھتے تھے جو مجھے یاد ہے وہ لکھا ہے اور گرمیوں میں کورتہ (کرتہ) استعمال فرماتے تھے۔اس پر واسکٹ ہوتی تھی۔’’ (رجسٹر روایات صحابہ ؓغیر مطبوعہ جلد 5صفحہ165 روایت محمد رحیم الدین احمدی ؓ)

پٹکا

‘‘خاکسار عرض کرتاہے کہ حضرت مسیح موعود ؑ بعض اوقات کمر پر پٹکا بھی استعمال فرماتے تھے اور جب کبھی گھر سے باہر تشریف لے جاتے تھے تو کوٹ ضرور پہن کر آتے تھے۔اور ہاتھ میں عصارکھنا بھی آپ کی سنت ہے۔’’

(سیرت المہدی جلد اوّل روایت نمبر 83)

حضرت سلطان علی صاحبؓ ایک موقع کی روایت بیان کرتے ہیں کہ

‘‘…حضور علیہ السلام نے اپنی کمر پر ایک سرخ پٹکا باندھا ہوا تھا اور اس وقت دیر تک باتیں کرتے رہے۔وہ باتیں اب خاکسار کو یاد نہیں رہیں ۔’’

(رجسٹر روایات صحابہ ؓغیر مطبوعہ جلد 1صفحہ153 روایت سلطان علی صاحبؓ)

ٹوپی

‘‘حضرت مسیح موعود ؑ عام طور پر سفید ململ کی پگڑی استعمال فرماتے تھے جو عموماً دس گز لمبی ہو تی تھی۔پگڑی کے نیچے کلاہ کی جگہ نرم قسم کی رومی ٹوپی استعمال کرتے تھے۔اور گھر میں بعض اوقات پگڑی اتار کر سر پر صرف ٹوپی ہی رہنے دیتے تھے۔’’

(سیرت المہدی جلد اوّل روایت نمبر83)

‘‘عمامہ شریف آپ ململ کا باندھا کرتے تھے اور اکثر دس گز یا کچھ اوپر لمبا ہو تا تھا۔شملہ آپ لمبا چھوڑتے تھے کبھی کبھی شملہ کو آگے ڈال لیا کر تے اور کبھی اس کا پلّہ دہن مبارک پر بھی رکھ لیتے۔جبکہ مجلس میں خاموشی ہوتی۔عمامہ کے باندھنے کی آپ کی خاص وضع تھی۔نوک تو ضرور سامنے ہوتی مگر سر پر ڈھیلا ڈھالا لپٹا ہوا ہوتا تھا۔عمامہ کے نیچے اکثر رومی ٹوپی رکھتے تھے اور گھر میں عمامہ اُتار کر صرف یہ ٹوپی ہی پہنے رہا کرتے مگر نرم قسم کی دہری جو سخت قسم کی نہ ہوتی …’’

(سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر447)

‘‘گلے میں پوستین، سرخ لوئی، سر پر ٹوپی رومی پگڑی کے درمیان، چمڑہ کی جوتی جس کا ایک‘‘اِڈّا’’ بٹھا دیا ہوا تھا۔’’

(رجسٹر روایات صحابہ ؓغیر مطبوعہ جلد 3صفحہ174 روایت غلام محمد صاحبؓ)

‘‘ایک دفعہ حضور اکیلے مسجدمبارک میں ٹہل رہے تھے سادہ لباس اور سر پر صرف رومی ٹوپی تھی۔پگڑی نہ تھی ٹوپی کو پھندنا بھی نہ تھا۔نمازیں حتی الوسع مسجد مبارک میں پڑھنے کی کوشش کرتا تھا اور حضور کی اکثر زیارت ہوتی رہتی تھی۔’’

(رجسٹر روایات صحابہ ؓغیر مطبوعہ جلد 5صفحہ166 روایت عطا محمد صاحبؓ)

‘‘ان ہی ایام میں ایک دن کا ذکر ہے کہ میں مسجد مبارک کے نیچے کی گلی میں سے گزر رہا تھا۔دوپہر کا وقت تھا غالباً مگر دوپہر کے کھانے کے بعد اور ظہر کی نماز سے قبل۔میں نے دیکھا کہ حضور اپنی ڈیوڑھی سے باہر تشریف لائے ہیں ۔حضور اس وقت بالکل اکیلے تھے۔لباس وہی تھا جو حضور عام طور پر پہنا کرتے تھے۔سوائے اس کے کہ سر پر صرف رومی ٹوپی تھی اور عمامہ نہیں تھا اور گلے میں کوٹ بھی نہیں تھا لیکن ہاتھ میں چھڑی تھی اور کُرتے کا ایک حصہ لباس کے کسی دوسرے حصہ کے ساتھ اٹک کر ذرا اونچا رہ گیا تھا اور وہاں سے تھوڑا سا حصہ بدن مبارک کا نظر آرہا تھا۔آپ اس گلی میں سے تشریف لے گئے جو مسجد اقصیٰ کو جاتی ہے۔’’

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد 6صفحہ250روایت سر محمد ظفر اللہ خاں صاحبؓ)

حضرت مولوی محب الرحمان صاحبؓ روایت کرتے ہیں:

‘‘حضرت صاحب ان دنوں میں جو پاجامہ پہنا کرتے تھے اسے شرعی پاجامہ کہا جاتا تھا یعنی شلوار کی طرح کھلا نہیں ہوتا تھا۔پائنچہ زیادہ چوڑا نہیں ہوتا تھا۔کرتہ کلیوں والا پہنا کرتے تھے۔کف بعض اوقات بغیر بٹن کے سلے ہوئے ہوتے تھے۔کوٹ لمبا ہوتا تھا۔میں نے حضور کو دو کوٹ پہنے بھی دیکھاہے۔نیچے بند گلے والا اور اوپر چوغہ اوور کوٹ کی طرز کا۔عمامہ سفید ہوتا تھا۔ایک دو دفعہ میں نے عمامہ میں ترکی ٹوپی بھی دیکھی ہے۔’’

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد 9صفحہ90 روایت مولوی محب الرحمان صاحب ؓ)

حضرت سید نذیر حسین شاہ صاحبؓ روایت کرتے ہیں :

‘‘حضرت صاحب کے گلے میں ایک قمیض دھاری دار تھی اور سر پر رومی ٹوپی پر پگڑی اور پائجامہ اس قسم کا تھا کہ اسے سلوار نہیں کہا جا سکتا مگر تنگ بھی نہیں تھا۔باغ میں ایک چبوترہ تھا حضرت اقدس اس پر آکر بیٹھ گئے۔پانی کی ضرورت پیش آئی۔حضور خود کنویں پر پانی لینے کے لیے آئے۔میں نے آگے بڑھ کر لوٹا پانی کا بھر دیا۔پھر حضور عورتوں کے پاس تشریف لے گئے اور وہاں عورتوں نے بھی نماز پڑھی اور حضرت اقدس نے بھی غالباً نفل پڑھے تھے۔قریباً دس گیارہ بجے کا وقت تھا۔’’

(رجسٹر روایات صحابہ ؓغیر مطبوعہ جلد10صفحہ247-248روایت سید نذیر حسین شاہ صاحبؓ)

حضرت حکیم دین محمد صاحبؓ کی روایت ہے کہ

‘‘گھر میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام صرف رومی ٹوپی سر پر رکھتے اور موسم گرما میں ململ کا کرتہ اور لٹھے کا پاجامہ پہنتے۔مسجد یا سیر کے وقت پورا لباس یعنی سفید پگڑی جس میں کلاہ کی بجائے رومی ٹوپی ہوتی۔کوٹ پہنتے۔بعض دفعہ موسم گرما میں بھی گرم لباس زیب تن کرتے۔یہ بعض بیماریوں کے سبب سے مجبوراً کرتے۔’’

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد13صفحہ 51روایت حکیم دین محمد صاحب ؓ)

حضرت شیخ محمد نصیب صاحبؓ بیان کرتے ہیں :

‘‘اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سرِ مبارک پر فولڈ ہو جانے والی پتلی سرخ رنگ کی رومی ٹوپی تھی۔بدن مبارک پر اس گرمی کے موسم میں فلالین کی قمیض اور گرم ہی پاجامہ تھا۔ہمیشہ ہی یہ حضور کی عادت تھی کہ کبھی کبھی مسجد میں کوٹ اور پگڑی کے بغیر ان تین کپڑوں میں بھی آجایا کرتے تھے۔مگر مکان کے نیچے جب حضور سیر وغیرہ کے لیے تشریف لے جاتے تو پھر پورا پورا لباس زیب تن ہوتا۔یعنی کوٹ پگڑی اور ٹوپی بھی ضرور ہوتی۔پگڑی ہمیشہ سفید ململ کی ہوتی جس کے نیچے کلاہ کبھی نہ ہوتا۔ہاں وہی فولڈ ہونے والی رومی ٹوپی اور کبھی خالی پگڑی پاؤں میں کبھی جراب کے ساتھ اور کبھی اس کے بغیر، سرخ رنگ کی کھال کی جوتی کبھی گرگابی ہوتی۔دائیں ہاتھ کی چھوٹی انگلی میں چاندی کی مہر پہنی ہوتی۔’’

(رجسٹر روایات صحابہؓ غیر مطبوعہ جلد15صفحہ24 روایت شیخ محمد نصیب صاحب ؓ)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close