متفرق شعراء

تِرے قدموں میں جان و دل لُٹانے ہم بھی آئے ہیں

(مبارک صدیقی)

تِرے قدموں میں جان و دل لُٹانے ہم بھی آئے ہیں

رُخِ روشن سے دل کو جگمگانے، ہم بھی آئے ہیں

وہ جس کی مسکراہٹ سے ستارے سے دمکتے ہیں

وہ جس کی اِک جھلک سے دشت خوشبُو سے مہکتے ہیں
اُسی اِک مہرباں سے فیض پانے ہم بھی آئے ہیں
تِرے قدموں میں جان و دل لُٹانے ہم بھی آئے ہیں

وہ جس کو دیکھتے ہی دل کا ہر موسم سہانا ہو
جسے وہ پیار سے دیکھے وہی مٹی خزانہ ہو
اُسی کو حالِ دل اپنا سنانے ہم بھی آئے ہیں
تِرے قدموں میں جان و دل لُٹانے ہم بھی آئے ہیں

وہ جس کے اِک اِشارے پر لُٹا دیں جان ہم اپنی
وہ جس کی رہ میں دُکھ پانا بھی سمجھیں شان ہم اپنی
اُسی کو نظم اِک تازہ سُنانے ہم بھی آئے ہیں
تِرے قدموں میں جان و دل لُٹانے ہم بھی آئے ہیں

ہمارا نام بھی آقا وفاداروں میں ہی لکھنا
تِرے قدموں کی مٹی کے طلب گاروں میں ہی لکھنا
دعا تیری، نگاہ تیری کو پانے ہم بھی آئے ہیں
تِرے قدموں میں جان و دل لُٹانے ہم بھی آئے ہیں

دعاؤں کو مِری مقبول اے پیارے خدا کرنا
مِرے آقا کی عمر و صحت میں برکت عطا کرنا
اِدھر بھی اِک نظر آقا دِوانے ہم بھی آئے ہیں
تِرے قدموں میں جان و دل لُٹانے ہم بھی آئے ہیں

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button