ادبیات

ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب (قسط 16)

(محمود احمد طلحہ ۔ استاد جامعہ احمدیہ یو کے)

رونا اور صدقات فرد قرارداد جرم کو ردّی کر دیتے ہیں

‘‘دعا بہت بڑی سِپر کامیابی کے لیے ہے۔یُونس ؑکی قوم گریہ وزاری اور دعا کے سبب آنے والے عذاب سے بچ گئی۔میری سمجھ میں محاتبت مغاضبت کو کہتے ہیں۔ اور حوت مچھلی کو کہتے ہیں اور نون تیزی کو بھی کہتے ہیں اور مچھلی کو بھی۔ پس حضرت یونسؑ کی وہ حالت ایک مغاضبت کی تھی۔اصل یوں ہے کہ عذاب کے ٹل جانے سے ا ن کو شکوہ اور شکایت کا خیال گزرا کہ پیش گوئی اور دعا یوں ہی رائیگاں گئی اور یہ بھی خیال گزرا۔ کہ میری بات پوری کیوں نہ ہوئی۔پس یہی مغاضبت کی حالت تھی۔اس سے ایک سبق ملتا ہے کہ تقدیر کو اللہ بدل دیتا ہے۔اور رونا دھونا اور صدقات فرد قرارداد جرم کو بھی ردّی کر دیتے ہیں۔اصول خیرات کا اسی سے نکلا ہے۔یہ طریق اللہ کو راضی کرتےہیں۔عِلم تعبیر الرؤیا میں مال کلیجہ ہوتا ہے۔اس لیے خیرات کرنا جان دینا ہوتا ہے۔انسان خیرات کرتے وقت کس قدر صدق وثبات دکھاتا ہے۔اوراصل بات تو یہ ہے کہ صرف قیل وقال سے کچھ نہیں بنتا ۔جب تک کہ عملی رنگ میں لا کر کسی بات کو نہ دکھایا جاوے۔صدقہ اس کو اسی لیے کہتے ہیں کہ صادقوں پر نشان کر دیتا ہے۔حضرت یونسؑ کے حالات میں در منثور میں لکھا ہے کہ آپ نے کہا کہ مجھے پہلے ہی معلوم تھا کہ جب تیرے سامنے کوئی آوے گا ۔تجھے رحم آجائے گا ۔؂

ایں مشت خاک راگر نہ بخشم چہ کنم’’

(ملفوظات جلد اوّل صفحہ 237-238)

*۔اس میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے حضرت محمد ﷺ کا یہ فارسی الہام شامل کیا ہے ‘‘اِیْں مُشْتِ خَاکْ رَا گَرْنَہْ بَخْشَمْ چِہْ کُنَمْ’’

ترجمہ:۔‘‘ اس مٹھی بھرخاک کو اگر میں معاف نہ کروں تو کیا کروں۔’’

آنحضرت ﷺ کا فارسی الہام جو کہ کتاب کوثر النبیؐ میں درج ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ایک دفعہ رسول کریم ﷺپر اعتراض ہوا تھاکہ کسی اَور زبان میں الہام کیوں نہیں ہوتاتو آپ کو اللہ تعالیٰ نے فارسی زبان میں الہام کیا ۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button