رپورٹ دورہ حضور انور

جلسہ سالانہ جرمنی کے موقع پر بیعت کرنے والوں کے تأثرات اور جذبات۔

(عبد الماجد طاہر۔ ایڈیشنل وکیل التبشیر لندن)

امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا دورۂ جرمنی 2019ء

……………………………………………

07؍جولائی2019ءبروزاتوار
(حصہ سوم۔آخری)

……………………………………………

٭ ڈاکٹر محمد الحمود صاحب اپنے تأثرات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں :

جب میں دو سال قبل پہلی بار جلسہ پر آیا تو مجھے بہت عجیب لگا اور میرے لیے بالکل نئی بات تھی کہ احمدی کہتے ہیں کہ مہدی اور مسیح آگیا اور ہمیں اس کا بالکل علم ہی نہیں ، میرے ذہن میں کئی سوالات گردش کرتے کہ ہم نے تو یہی سیکھا اور پڑھا ہے کہ مہدی عربی ہو گا اور اس کا نام محمد بن عبد اللہ ہوگا۔ کیا یہ جماعت دینی ہے یا سیاسی؟ اسی طرح کےکئی سوالات نے میرے ذہن کو جکڑ لیا۔ان سوالات کے جوابات حاصل کرنے کے لیے میں اگلے سال پھر جلسہ پر آیا اور احمدی بھائیوں سے مختلف موضوعات پر بات چیت ہوتی رہی۔ جلسہ کے بعد بھی میرا احمدیوں سے رابطہ رہا اور آہستہ آہستہ میرے تمام سوالات کے جوابات ملتے رہے اور مجھے یقین ہو گیا کہ احمدی ہی ایک حقیقی مسلمان کی تمام صفات اپنے اندررکھتے ہیں ۔ چنانچہ میں نے جماعت کی محبت اور اُلفت سے متاثر ہو کر بیعت کرنے کا ارادہ کر لیا۔

موصوف کہتے ہیں:یہ محبت جو جماعت کے لوگوں میں پائی جاتی ہے اگر اللہ تعالیٰ اس کا بیج ان کے دلوں میں نہ بوتا تو کبھی بھی یہ محبت پیدا نہ ہوتی۔ الحمد للہ ،اللہ تعالیٰ نے خاکسار کو اس جلسہ پر حضرت امیر المؤمنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی سعادت نصیب فرمائی اور بیعت کے وقت حضور کا چہرہ دیکھ کر اور بیعت کے الفاظ دہراتے ہوئے جو احساس تھا اس کو بیان کرنا بہت مشکل ہے ، میں بہت خوش قسمت ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے خلیفہ وقت کے ہاتھ پر مجھے بیعت کرنے کی توفیق دی ۔ میں جانتا ہوں کہ لاکھوں ہاتھ اس بابرکت ہاتھ کو چھونے کی تمنّا کرتے ہیں ۔

بیان کرتے ہیں: اگر بیعت پانچ گھنٹے بھی جاری رہتی تو میں بور نہ ہوتا اور نہ مجھے وقت کے گزرنے کا احساس ہوتا۔ جلسہ کے اختتام پر ملاقات کے دوران میں حضرت امیر المؤمنین سے بہت کچھ کہنا چاہتا تھا لیکن شدّت جذبات سے کچھ بھی نہ کہہ پایا۔

فواد النزّال صاحب جوایک سیرین دوست ہیں اور جرمنی میں مقیم ہیں کہتے ہیں:

میں جماعت کے تعارف سے پہلے اللہ تعالیٰ کی عظمت کے بارے سوچتا تھا اور مسلمانوں کی حالت پر نظر کرتا تھا جو دن بدن بری ہوتی چلی جارہی تھی اور یہ کہ ان کی حالت کب ٹھیک ہو گی، پھر جب میں جرمنی آگیا میں یورپ کے عرب دوستوں کو دیکھ کر سوچا کرتا تھا کہ کیا ان لوگوں کے ذریعہ یورپ میں اسلام پھیلے گا جیساکہ حدیث میں آیا ہے کہ آخری زمانہ میں یورپ میں اسلام پھیلے گا۔ اس دوران ایک احمدی دوست ماہر المعانی صاحب سے میری ملاقات ہوئی اور اس نے جماعت کے بارہ میں بتانا شروع کیا۔ شروع میں تو میں نے اس کی مخالفت کی لیکن جماعتی کتب کا مطالعہ کرنے کے بعد میں نے جلسہ پر جانے کا ارادہ کر لیا۔ میں نے جلسہ دیکھا اور سوچا کہ اس قدر لوگ کس طرح ایک شخص کے ہاتھ پر اکٹھے ہو گئے اور آپس میں محبت اور اُلفت کا تعلق ان میں قائم ہو گیا ، میں نے تہجد میں بہت دعا کی کہ اے اللہ اگر یہ جماعت سچی ہے تو مجھے اسی جلسہ میں بیعت کی توفیق عطاء فرمادے۔ پس اس جلسہ پر میرا دل مطمئن ہو گیا اور میں نے بیعت کرلی۔ لیکن میری بیوی نے بیعت کرنے سے انکار کر دیا اور میں نے اسے سمجھایا کہ تم یہ کتابیں پڑھو اور خدا سے استخارہ کرو ۔ تین مہینے بعد میری بیوی نے استخارہ کیا اور اس نے خواب میں دیکھا کہ لو گ جمع ہیں اور ایک سفید کبوتر ان کے درمیان موجود ہے ۔ میری بیوی نے پوچھا کہ یہ کبوتر کیا ہے ؟ تو ان میں سےایک شخص نے کہا کہ یہ کبوتر اسلام پھیلانے کے لیے قُدس کے علاقہ میں آیا ہے۔ اس خواب نے میری بیوی کے دل کو کھول دیا اور وہ اس جلسہ میں شامل ہوئیں اور بیعت کر لی۔

موصوف بیان کرتے ہیں:میں اس بات پر بہت خوش ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے میری تمام فیملی کو حضرت مسیح موعود ؑ کی بیعت کرنے کی توفیق دی ، میں اپنے تمام رشتہ داروں کو جماعت کی خوبصورت تعلیم کو پہنچانا چاہتا ہوں۔اللہ تعالیٰ مجھے اس کی توفیق دے ۔ آمین

٭ کمال علوان صاحب جو ایک لبنانی دوست ہیں وہ اپنے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:

میرے پاس ایک ریسٹورنٹ تھا جس میں ایک احمدی دوست محمدشہادہ صاحب آیا کرتے تھے، ایک دن مجھے کہنے لگے کہ میں آپ کو ایک بات بتانا چاہتا ہوں کہ امام مہدی آ بھی چکے ہیں اور وفات بھی پا چکے ہیں ۔ ان کے جانے کے بعد میں نے سوچا کہ شخص کون تھا؟ پھر کچھ عرصہ کے بعد وہ احمدی آتا اور کہتا کہ امام مہدی آچکا ہے اور ایک دن اس نے بعض باتوں کی وضاحت کی جن میں دجّال اور وفات مسیح کا ذکر تھا، میرے لیے یہ حیرت انگیز معلومات تھیں اور میرے دل میں گھر کر گئیں اور میرے دل میں تحریک پیدا کرنے لگیں کہ میں جماعت کے بارے میںمزید معلومات حاصل کروں۔ پھر اس نے مجھے جلسہ پر جانے کی دعوت دی جسے میں نے بخوشی قبول کر لیا۔

کہتےہیں: جلسہ میں جو سب سے پہلی میرے لیے جماعت کی سچائی کی دلیل بنی وہ اتنی بڑی تعداد اور اس کا حسن انتظام تھا ۔ جلسہ کے دوران ایک دوست نے مجھے بتایا کہ یہ خلیفۃالمسلمین ہیں۔ پھر میں نے احمدیوں سے مختلف سوالات کیے جن کا انہوں نے بڑے پیار سے جواب دیا۔ میرا دل احمدیت کی صداقت سے مطمئن ہوتا چلا گیا ۔ میں نے سوچا کہ اگلے سال تک زندہ رہوں گا بھی یا نہیں اس لیے ابھی بیعت کرنی چاہئے تو میں نے بیعت کر لی۔ اسی طرح میری دو خوابیں بھی جماعت کی صداقت کی وجہ بنیں ۔ اللہ کے فضل سے میرے ایک بیٹے نے بھی بیعت کر لی اور میں چاہتا ہوں کہ میری باقی اولاد بھی احمدی ہو جائے ۔ میں الحوار المباشر اور خطبات جمعہ غور سے دیکھتا ہوں ، میرے نزدیک دس شرائط بیعت حضرت مسیح موعود ؑ کی طرف سےصرف چند شرائط ہی نہیں بلکہ یہ خدائی لائحہ عمل ہے ، بیعت سے قبل میں دعا کیا کرتا تھا کہ خدا تعالیٰ مجھے امام مہدی کو دیکھنے کی توفیق دے۔ گزشتہ زندگی جو جماعت کے بغیر میں نے گزاری ہے اس پر مجھے ندامت ہوتی رہتی ہے، میں اس لیے ہر احمدی کا تہہ دل سے احترام کرتا ہوں کیونکہ یہ لوگ دین مصطفیٰ ﷺکی خدمت کر رہے ہیں ۔ مجھے اب اپنے بیوی بچوں اور کام کرنے کی اتنی فکر نہیں بلکہ مجھے یہ فکر لاحق رہتی ہے کہ میرے پاس اتنے پیسے ہوں کہ میں جماعت کی ترقی کے لیے خرچ کر سکوں اور جماعت کی خدمت کر سکوں۔ اللہ تعالیٰ میری خواہش کو قبول فرمائے۔ آمین

٭ ‘پَلُّومب بے یا’Pellumb Bejaصاحب اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں :

میں نے حضور کے ہاتھ پر بیعت کی اور جماعت میں داخل ہونے کی سعادت پائی اور اس کے لیے میں اللہ تعالیٰ کا بے حد شکرگزار ہوں کہ اس نے مجھے احمدیت میں آنے کی توفیق عطافرمائی ہے۔ حضور نے مجھ سے پوچھا کہ میں کس وجہ سے احمدی ہوا ہوں تو میں نے جواب دیا کہ شک سے یقین کی طرف اور اندھیرے سے نور کی طرف سفر کرنے سے میں احمدی ہواہوں ۔ میں اللہ تعالیٰ کا بے حد شکر گزار ہوں۔ ایک سال قبل میں ایمان سے خالی تھا۔ اس سال اللہ تعالیٰ نے مجھے ایمان کی دولت نصیب فرمائی ہے ۔ میری پیدائش اور پرورش مکمل لامذہب ماحول میں ہوئی۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے جلسہ سالانہ میں شمولیت اور حضور انور سے ملاقات کے ذریعہ مجھے ایمان سے آراستہ کیا۔

٭…ایک مہمان Besim Gjozi بیسِم جوزی صاحب کہتے ہیں کہ :

میں ایک دن قبل یعنی جلسہ کے آخری روز ہی بیعت کرکے جماعت احمدیہ مسلمہ میں شامل ہوا ہوں اور اس کے لیے میں اللہ تعالیٰ کا بہت شکرگزارہوں ۔

٭…ایک جرمن نومبائع خاتون جنہوں نے امسال بیعت کی سعادت حاصل کی تھی انہوں نے بتایا:

میں پہلی مرتبہ جلسہ سالانہ میں شامل ہوئی ہوں۔ میں جماعت کے بارے میں کسی حد تک واقف تھی۔ لیکن مزید علم حاصل کرنے کی غرض سے میں نے جلسہ سالانہ میں شرکت کی۔ جلسہ پر جس طرح کی محبت بھری اور روحانی فضا تھی، جسے گویا چھو کر محسوس کیا جا سکتا تھا۔ ہر چہرہ نفرت سے پاک اور ایک دوسرے کے لیے محبت لیے ہوئے تھا۔ میں نے تمام تقریروں کو بہت غور سے سُنا اور ان سے بہت کچھ سیکھا۔ جلسہ سالانہ کی چند چیزیں تو میں عُمر بھر نہیں بھول سکوں گی۔

ان میں سر فہرست نماز باجماعت کی ادائیگی ہے۔ نماز کے دوران جو روحانی ماحول ہوتا تھا، وہ روح کو جھنجھوڑ کر رکھ دیتا تھا۔دوسرا وہ لمحہ جب میں نے بیعت کر لی تو میں نے اپنے اندر ایک ایسا دائمی سکون اترتے پایا، جو بیان نہیں کر سکتی۔ ایک امن و سکون کا دریا تھا جو میرے اندر اتر گیا۔

اس کے بعد جب ہم نو مبائعات کی حضورِ انور کے ساتھ جب ملاقات تھی، جب اس کے بارے میں سوچتی ہوں تو کیفیت بیان کرنے کے لیے الفاظ نہیں ملتے۔ اُس لمحے میں جب حضورِ انور نے میٹنگ روم میں قدم رکھا، تمام ماحول بدل گیا تھا۔ دل ایک بہت خوبصورت کیفیت سے بھر گیا تھا، جیسے اس عاجزہ کو ان بابرکت قدموں کی برکت سے خُدا تعالیٰ کا قرب نصیب ہو گیا ہو۔

٭…ایک اور جرمن نو مبائعہ جنہوں نے امسال بیعت کرنے کی توفیق پائی وہ لکھتی ہیں:

جب میں نے پہلی مرتبہ حضورِ انور کی آواز مائیک پر سُنی تو معلوم ہوا حضور میرے بہت بہت قریب ہیں۔ حضور کی آواز میری روح میں اتر گئی۔ اس وقت میرے جو جذبات اور کیفیت تھی، وہ بیان کرنے سے قاصر ہوں۔ میں نے خود کو بہت ہی ہلکا سا محسوس کیا، ایک خوشی اور سکون کی کیفیت تھی جس سے میں سرشار تھی۔ میں جان گئی تھی کہ جس سکون اور روحانیت کی تلاش میں میں تھی، وہ میں آج احمدیت کی آغوش میں آکر مل گیا تھا۔ میں نے بیعت کرنے کا فیصلہ حضور کی آوز سننے کے بعد کر لیاتھا۔ بیعت کرنے کے اگلے روز ہم نو مبائعات کو حضور انور کے ساتھ ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔

اس ملاقات کے دوران ایک ناقابل یقین واقعہ ہوا، وہ یہ کہ مجھے یہ شرف حاصل ہوا کہ حضور انور مجھ سے مخاطب ہوئے۔ حضور انور کی پر شوکت شخصیت سے اتنی محبت، اتنا سکون اور روحانی کشش محسوس ہو رہی تھی، جسے بیان کرنا اس عاجزہ کے لیے ممکن نہیں۔

اس جلسہ سے بہت روحانی تحفے لے کر میں رخصت ہوئی اور اب بیعت کرنے کا شرف حاصل کرنے کے بعد بطور احمدی مسلمان خاتون اپنی زندگی کا آغاز کر چُکی ہوں۔

٭… جلسہ سالانہ جرمنی کے موقع پر Fyrkzada Aliyev (فُرک زادہ علیو) صاحب نے بھی بیعت کی توفیق پائی۔ موصوف نسلاً کُرد ہیں اور ان کا تعلق قاذقستان سے ہے۔ جرمنی میں پناہ گزین ہیں۔ چار سال پہلے ان سے ڈاکٹر عذیر صاحب کے ذریعہ جو ان کے ساتھ پناہ گزین کیمپ میں تھے رابطہ ہوا تھا۔ انہوں نے اپنے تأثرات بیان کرتے ہوئے کہا:

دو سال پہلے جب میں پہلی دفعہ جلسہ سالانہ جرمنی میں شریک ہوا تو جماعتی کتب کا مطالعہ کر چکا تھا اور مبلغ سے بالمشافہ اور فون پر بھی جماعتی عقائد سے واقفیت حاصل کر چکا تھا۔ جلسہ سالانہ کا ماحول، حضور انور کی ملاقات اور آپس کے بھائی چارے نے مجھے بہت متاثر کیا تھا اور اسی وقت بیعت کے لیے تیار تھا۔ لیکن اس وقت خاکسار اپنی بعض گھریلو پریشانیوں اور بیماریوں سے مغلوب تھا اس لیے بیعت کا ارادہ کہیں دب کر رہ رگیا۔ ان دو سالوں میں اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا۔ جماعت کے احباب سے بھی رابطہ مضبوط ہوا۔ مزید مطالعہ کا بھی موقع ملا جس نے دو سال پہلے کئے گئے میرے فیصلے کو جس کا میں نے کسی سے اظہار نہیں کیا تھا بہت تقویت دی۔ اور اللہ کا شکر ہے کہ اس جلسہ کے موقع پر خاکسار نے پورے شرح صدر کے ساتھ بیعت کی سعادت پائی۔الحمد اللہ۔خاکسار کی اہلیہ مزید غور فکر رہی ہیں۔ ان کے لیے دعا کی درخواست ہے۔

٭…ایک دوسری جرمن نومبائع خاتون جنہوں نے گزشتہ سال بیعت کی تھی وہ لکھتی ہیں؛

گزشتہ برس بیعت کرنے کے بعد خاکسار کے لیے بحثیت احمدی یہ پہلا جلسہ تھا۔ پتہ نہیں چلا یہ ایک سال کیسے گزر گیا۔ جماعت میں شامل ہو کر میں ایسے محسوس کرتی ہوں، جیسے میں اپنے گھر پہنچ گئی ہوں۔جلسہ سالانہ کا ہر لمحہ روحانیت سے بھر پور تھا، تمام تقاریر خصوصاً حضورِ انور کے خطابات بہت روح پرور تھے۔ ایک ایک لفظ روح میں اتر جانے والا تھا۔

گزشتہ سال میں مہمان تھی، جبکہ امسال میں بحثیت میزبان مہمانوں کی خدمت کرنے کی توفیق پا رہی تھی۔ یہ امر میرے لیے اتنا خوبصورت تھا کہ الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔ میں نے جماعت احمدیہ کو اُس وقت پایا جب میں امن، محبت اور روحانیت کی تلاش میں بہت تھک چُکی تھی۔

موصوفہ نے کہا:اب میں چاہتی ہوں کہ خُدا تعالیٰ کا جس نے مجھے اس سلسلہ میں شامل ہونے کی توفیق دی، ہر لمحہ حق ادا کرنے کی کوشش کروں۔ میں بہت شکر گزار ہوں کہ مجھے اس ٹیم میں شامل کیا گیا اور اس طرح مہمانوں کی خدمت کی توفیق ملی۔ میں نہیں جانتی میری کس نیکی کے بدلے خُدا تعالیٰ نے مجھے جماعت میں شامل ہونے کی توفیق دی، لیکن میں صرف یہ جانتی ہوں کہ اگر میں ساری عُمر بھی سجدے میں رہوں تو شکر ادا نہیں کر سکتی۔جلسہ سالانہ روح کے لیے ایک تربیتی کیمپ ہے۔ ہماری خوش قسمی ہے کہ حضور پُر نور بنفسِ نفیس ہم میں موجود ہوتے ہیں۔ وہ لمحہ جب حضورِ انور لجنہ جلسہ گاہ میں خطاب کے لیے تشریف لائے میری آنکھوں سے آنسو نہیں تھم رہے تھے، کہ اب سے میرے بھی حضور ہیں، میں بھی حضور کے ہاتھ پر بیعت کرنے کی توفیق پا چُکی ہوں۔حضورِ کے ہر لفظ کے ساتھ میری آنکھ سے آنسو گرتے رہے، یہاں تک کہ ترانے بھی ختم ہو گئے اور میں روتی رہی ۔ میرے ساتھ بیٹھی جرمن بہن نے مجھے گلے سے لگا لیا اور ہم دونوں زارو قطار رونے لگے۔ یہ وہ بے چینی کے آنسو نہیں تھے بلکہ یہ وہ خوشی کے آنسو تھے جو امن کی آغوش میں آنے کے بعد فرطِ جذبات میں بہے چلے جا رہے تھے۔

شکریہ پیارے خُدا کہ تو نے ہمیں سیدھا رستہ دکھا دیا۔

بعض مہمانوں نے بیعت کی تقریب کے حوالہ سے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

٭…جارجیا کےوفد میں دینی علوم کی طالبہ Nanuka Zumbululidze بھی شامل تھیں۔بیعت کی تقریب کے حوالہ سے یہ اپنے جذبات بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ؛

بیعت کی تقریب جذبات سے بھرپورتھی۔ مجھے مذہبی اتحاد کاایک نظارہ دیکھنے کو ملا اور معلوم ہوا کہ کس طرح مختلف رنگ ونسل کے لوگ امن کے ساتھ اکٹھے رہ سکتے ہیں۔میں دینی علم حاصل کررہی ہوں۔جلسہ پر پہلی مرتبہ آئی ہوں اور میرا یقین ہے کہ یہ جلسہ امن کے حصول کا ایک بہترین ذریعہ ہے۔

٭…مشرقی علوم کے طالبِ علم Giga Gigauri بھی اس وفد میں شامل تھے۔ یہ کہتے ہیں؛
لوگ بہت ہمدرد تھے جس کی وجہ سے میں یہاں ہوں۔بیعت کی تقریب کو میں ایک زائر کے طور پر دیکھ رہا تھا۔ میرے پاس الفاظ نہیں کہ میں اپنے جذبات کا اظہار کرسکوں۔ لوگوں کا اس رنگ میں اکٹھا ہونا ایک شاندار امر ہے۔

٭…جارجیا سے ایک وکیل اور یونیورسٹی لیکچرار Temor Shengelaya پہلی مرتبہ جلسہ میں شامل ہوئےاور بہت متاثر ہوئے۔ بیعت کی تقریب کے بعد باربار کہتے رہے کہ یہ ایک معجزہ ہے، یہ ایک معجزہ ہے۔

کہتے ہیں کہ؛ جماعت سے باہمی محبت بہت زیادہ ہے۔ بالخصوص میں نے مشاہدہ کیا ہے کہ آپ لوگوں کے چہروں پر ہمیشہ مسکراہٹ رہتی ہے۔

جلسہ سالانہ جرمنی کی موقع پر میڈیا کوریج

جلسہ سالانہ جرمنی کی ایلیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا اور سوشل میڈیا میں بڑے وسیع پیمانہ پر کوریج ہوئی۔
٭… جرمنی میں کل 13؍میڈیا outlets پر جلسہ کی کوریج ہوئی۔

٭… اس میں جرمنی کے سب سے زیادہ پڑھے جانے والے اخبار FAZ سے لے کر بعض لوکل اخبارات، آن لائن اخبارات اور میگزین بھی شامل ہیں۔

٭…اس کے علاوہ صوبائی ٹی وی SWR پر بھی خبر نشر وہئی اور اس کی ویب سائٹ پر آرٹیکل کے ساتھ خبر لگائی گئی۔

٭…جرمنی کے علاوہ اٹلی، چین اور سلوواکیا کے آن لائن اخبارات میں بھی جلسہ کے حوالہ سے خبریں شائع ہوئیں۔

٭…اندازے کے مطابق ان تمام media outlets کی پہنچ 2کروڑ26 لاکھ سے زائد افراد تک ہے۔
ایم ٹی اے (افریقہ) کے ذریعہ بھی افریقہ کے ممالک میں کوریج ہوئی ہے۔

٭… ایم ٹی اے افریقہ ٹیم نے افریقہ بھر میں نیشنل ٹی وی چینلز کو روزانہ کی بنیاد پر جلسہ سالانہ جرمنی کے حوالہ سے رپورٹس بنا کر مہیا کیں جوکہ درج ذیل نیشنل ٹی وی چینلز پر یہ رپورٹس نشر ہوئیں۔

1۔ گھانا نیشنل ٹیلی ویژن ۔ 2۔ سیرالیون نیشنل ٹیلی ویژن
3۔ گیمبیا نیشنل ٹیلی ویژن 4۔ یوگنڈا نیشنل ٹیلی ویژن
5۔ روانڈا نیشنل ٹیلی ویژن

٭…جلسہ کے حوالہ سے رپورٹس خاص نیوز بلٹن میں نشر ہوئیں۔ ان ٹی وی چینلز کو دیکھنے والوں کی تعداد 30 ملین سے زائدہے۔

٭…سیرالیون کے نیشنل ٹیلیویژن اور دیگر دو نیشنل ٹی وی چینلز پر جلسہ سالانہ جرمنی کی کارروائی روزانہ چوبیس گھنٹے نشر کی جاتی رہی۔

٭… امسال پہلی مرتبہ جلسہ سالانہ جرمنی کی نشریات افریقن زبانوں میں ترجمہ کے ساتھ نشر ہوئیں۔ پہلی مرتبہ جلسہ کے تینوں دن ایم ٹی اے سٹوڈیو کے تمام پروگرام جس میں studio discussion بھی شامل ہیں Twi، یوروبا اور سواحیلی زبانوں میں ترجمہ کے ساتھ نشر ہوئے۔

٭…رسالہ ریویو آف ریلیجنز کے ذریعہ بھی سوشل میڈیا پر وسیع پیمانہ پر کوریج ہوئی ہے۔

٭…امسال انگریزی، سپینش اور جرمن ایڈیشن کی ویب سائٹس پر جلسہ سالانہ کی کوریج کی گئی۔

٭…حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دورہ کے دوران مختلف مصروفیات جس میں وفود کے ساتھ ملاقاتیں، انفرادی ملاقاتیں اور آمین وغیرہ کے پروگرام کے حوالہ سے مختصر 13 ویڈیوز بنائی گئیں۔

٭…اس کے علاوہ 21 نئے آرٹیکل ڈالے گئے۔

٭…سوشل میڈیا پر بھی 115سے زائد پوسٹس ڈالی گئیں۔

٭…ان ویڈیوز، آرٹیکلز اور سوشل میڈیا کی posts کے ذریعہ 7لاکھ 30 ہزار کے قریب لوگوں تک پیغام پہنچا جس میں کوشش کی گئی تھی کہ پیغام غیر مسلم اور مغربی ممالک کے لوگوں کو جائے۔

٭… اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اندازے کے مطابق آئندہ یہ تعداد ایک ملین تک ہو جائے گی۔ انشاء اللہ۔

……………………………………………

08؍جولائی2019ءبروزسوموار

……………………………………………

حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیزنے صبح سوا چار بجے تشریف لا کر نماز فجر پڑھائی۔ نماز کی ادائیگی کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ اپنی رہائشگاہ پر تشریف لے گئے۔

صبح حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے دفتری ڈاک، خطوط اور رپورٹس ملاحظہ فرمائیں اور ہدایات سے نوازا۔ اور حضور انور کی مختلف دفتری امور کی انجام دہی میں مصروفیت رہی۔

آج پروگرام کے مطابق مختلف ممالک سے آنے والے وفود کی حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے ملاقاتیں تھیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز دس بجکر پندرہ منٹ پر مسجد کے مردانہ ہال میں تشریف لائے جہاں رشیا، تاجکستان اور ملک اسٹونیا (Estonia) سے آنے والے وفود نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی سعادت حاصل کی۔

حضور انور کے استفسار پر مہمانوں نے عرض کیا کہ جلسہ بہت اچھا تھا ۔ منظم تھا اور بڑے اعلیٰ پیمانے پر تھا۔

اسٹونیا سے آنے والے ایک مہمان سے حضور انور نے فرمایا آپ نئے احمدی ہیں۔ آپ سورۃ فاتحہ عربی میں یاد کریں اور پھر اس کا ترجمہ سیکھیں۔ اور اس کو بار بار پڑھیں۔ ایّاک نعبد و ایّاک نستعین بھی بار بار پڑھیں۔ خدا تعالیٰ سے ہی مدد چاہو اور اُس کی ہی عبادت کرو۔ اس کے علاوہ دینی علم بھی سیکھیں۔ اور اپنے آپ کو ریفارم کریں۔

ماسکو سے آنے والے ایک نو مبائع نے عرض کیا کہ ایک سال سے احمدی ہوں۔ اس پر حضور انور نے فرمایا آپ کی مذہبی بیک گراؤنڈ کیا ہے۔ اس پر موصوف نے عرض کیا کہ کیتھولک چرچ سے تعلق تھا۔ بیس سال قبل اسلام قبول کیا تھا اور اب ایک سال سے احمدی ہوں۔

موصوف کے ایک سوال پر حضور انور نے فرمایا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ آخری زمانہ میں ایک ریفارمر مسیح و مہدی آئے گا اور اسلام کا احیائے نو کرے گا۔ چنانچہ وہ مسیح و مہدی آیا اور آپ بانی جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی علیہ السلام ہیں۔ آپ نے قرآن کریم کی تیس آیات اپنی کتب میں درج کی ہیں اور بتایا ہے کہ ان سے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی وفات ثابت ہوتی ہے۔

حضور انور نے فرمایا تمام مسلمان مسیحؑ کی آمد ثانی کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہم کہتے ہیں کہ جس مسیحؑ نے آنا تھا وہ آچکا ہے اور قرآن کریم اور احادیث میں مسیح و مہدی کی آمد کے جو نشانات ہیں وہ بھی پورے ہو چکے ہیں۔ بہت سے مسلمان یقین رکھتے ہیں کہ نشانات تو پورے ہو چکے ہیں لیکن وہ پھر بھی مسیح کی انتظار میں بیٹھے ہیں۔

حضور انور نے فرمایا چاند سورج گرہن کا نشان بھی پورا ہو چکا ہے۔ ابھی یہ نشان ظاہر نہ ہوا تھا تو لوگوں نے کہا کہ چاند سورج گرہن کا نشان پورا نہیں ہوا۔ چنانچہ 1894ء میں حدیث میں بیان کردہ تمام نشانیوں کے ساتھ چاند سورج گرہن لگا۔ اور پھر اگلے سال 1985ء میں ویسٹ Hemisphere میں چاند اور سورج گرہن ہوا۔

حضور انور نے فرمایا مسلم اُمّہ ریفارمر چاہتی ہے لیکن ابھی تک انتظار کر رہی ہے۔ اگر اب نہیں آنا تو پھر کب آنا ہے۔ ہم ان کو بتاتے ہیں کہ یہ نشانات ہیں اور یہ پیشگویاں ہیں اور سب پوری ہو چکی ہیں اور مسیح و مہدی کے آنے کا یہی وقت ہے۔

٭حضور انور نے موصوف سے فرمایا کہ حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کی کتاب دعوۃ الامیر کا رشین ترجمہ ہوچکا ہے اس کو پڑھیں۔

٭ملک تاجکستان سے آنے والے ایک دوست نے عرض کیا کہ ان کی عمر 70 سال ہے۔ اگر جماعت احمدیہ اتنی پرانی ہے تو ان کو پہلے معلوم کیوں نہ ہوا۔ اس پر حضور انور نے فرمایاکہ اسلام 1400 سو سال پرانا ہے تو برّ اعظم امریکہ کے بعض دور دراز کے مملک جزائر ایسے ہیں کہ وہاں کے لوگوں کو اب اسلام کا علم ہوا ہے۔ ایک پادری نے بھی اس بات کا اظہار کیا تھا کہ فلاں فلاں ایریا میں عیسائیت کا پیغام نہیں پہنچا اس لیے ان سے باز پرس نہ ہو گی۔ معلوم ہوتا ہے کہ عیسائیت وہاں نہیں پہنچی۔

٭حضور انور نے فرمایا اب اشاعت کا زمانہ ہے۔ مسیح موعود علیہ السلام کا زمانہ ہے۔ 130 سال میں ایک چھوٹے سے گاؤں سے پیغام نکل کر 212 ملکوں میں پھیل گیا ہے۔ حضور انور نےفرمایا مذاہب کی ایک تاریخ ہے۔ اس کو دیکھیں۔ مذاہب اسی طرح تدریجاً پھیلے ہیں۔

حضور انور نے فرمایا جہاں تک پیغام پہنچانے کی راہ میں روکوں کا سوال ہے وہ تو بعض حکومتوں کی طرف سے قائم ہوتی ہیں۔ مولوی ظہور حسین بخارا صاحب کو بھی تو قید کرلیا گیا تھا کہ وہ اسلام کا پیغام نہ پہنچا سکیں۔

٭ماسکو سے جماعت کے مقامی معلم رستم حماد ولی صاحب بھی جلسہ سالانہ جرمنی میں شامل ہوئے تھے۔ موصوف نے عرض کیا کہ جلسہ سالانہ جرمنی میں بھی آنے کاموقع ملا ہے۔ یہاں بھی دور دور کے ممالک سے لوگ آئے ہیں۔ جماعت جرمنی نے بڑی ترقی کی ہے۔ دیکھ کر بہت خوشی ہوتی ہے۔ یہ جلسہ بھی انٹرنیشنل لیول کا جلسہ بن گیا ہے۔ لوگ اس سے مستفید ہورہے ہیں۔

٭ایک مہمان ‘عبدالستار بوبوایو’ صاحب Absussator Boboev پولینڈ سے جلسہ میں شامل ہوئے جو تاجک ہیں، وہ اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں: میں نے احمدیوں کے بارے میں سنا تھا کہ وہ مسلمان نہیں ہیں اور شراب کو جائز سمجھتے ہیں۔ جلسہ میں شامل ہونے سے پہلے احمدیوں کی ‘مسجد سبحان’دیکھی اور اس میں نماز پڑہی تو پتا لگا کہ یہ لوگ مسلمان ہیں اور پانچ ارکان دین پر عمل کرتے ہیں ۔ جلسہ میں شامل ہو کر پتا چلا کہ یہ امام مہدی کو مانتے ہیں اور بالکل شراب نہیں پیتے اور قرآن کریم کے احکامات پر عمل کرتے ہیں۔ یہاں جلسہ میں شامل ہونے کے بعد بہت زیادہ معلومات احمدیہ جماعت کے بارہ میں ملیں اور میں بنیادی طور پر آپ کو مسلمان سمجھنے لگا ہوں۔ ارکان دین اور ارکان اسلام وہی ہیں جو مسلمانوں کے ہوتے ہیں۔ امام ابو حنیفہ کو آپ لوگ امام سمجھتے ہیں اور ان کی فقہ پر عمل کرتے ہیں۔ مجھے اس بار ہ میں علم حاصل ہوا ہے۔ جلسہ میں بہت کچھ اچھا لگا۔ یہاں پر حج کے بعد دوسری مرتبہ اتنے مسلمانوں کو اکٹھے ہوتے دیکھا۔ خلیفہ سے ملاقات بہت اچھا تجربہ تھا۔ ان کا چہرہ بہت نورانی تھا۔ جب میں تاجکستان ہوتا تھا تو ایم۔ٹی۔اے پر ان کو دیکھا کرتا تھا اور بہت متاثر ہوتا تھا۔ وہ بہت نیک انسان ہیں۔

٭مرزا رحیم صاحب اور ان کے تین ساتھی تاجکستان سے ہیں اور لتھوینیا میں ہوتے ہیں۔ یہ اپنے اور اپنے ساتھ آئے ہوئے تینوں تاجک ساتھیوں کے تاثرات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں:

جلسہ ہمارے لیے بہت اچھا اور متاثر کرنے والا تھا ۔ نظم و ضبط کا معیار بہت اچھا تھا اور اس سے پتا چلتا ہے کہ جماعت نے اپنے قدم مضبوط کر لیے ہیں۔ جلسہ کے پروگراموں میں کوئی بھی تبدیلی نہ کرنا اور کسی پروگرام میں بھی دیر نہ کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ جلسہ میں جماعت کا نظم و ضبط کا معیار بہت اچھا ہے۔ ہمیں یہ بات بہت اچھی لگی کہ مسلمانوں میں سے ایک گروہ نے یورپین لوگوں کا اعتماد حاصل کر لیا ہے۔ ہم لوگ جو ابھی نئے نئے یورپ میں آئے ہیں ہم نے اس سے ایک اچھا تجربہ حاصل کیا ہے کہ ہم کس طرح یورپین ممالک میں کام کر سکتے ہیں۔ جلسہ میں ہر ایک قوم و ملت کے لوگ بغیر کسی روک کے شامل تھے۔ ہمیں جماعت کا نعرہ کہ ‘‘محبت سب کے لیے نفرت کسی سے نہیں’’ بہت اچھا لگا۔
اس کے علاوہ ہمیں جماعت احمدیہ کے امام مرزا مسرور احمد کی باتیں بہت اچھی لگیں خاص طور پر یہ کہ ‘‘دہشتگردی کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں اور اسلام مہربانی، مل جل کر رہنے اور ایک دوسرے کو سمجھنے کا نام ہے۔’’

آخر پر ہم جلسہ کے تمام کارکنوں کا اور خاص طور پر ان کا جنہوں نے ہمیں اس طرح کے پُرشوکت جلسہ میں شامل ہونے کی دعوت دی، دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں اور ان کے لیے نیک تمنائیں رکھتے ہیں۔

٭یہ ملاقات دس بجکر 40 منٹ تک جاری رہی۔ آخر پر وفد کے ممبران نے شرف مصافحہ حاصل کیا اور تصویر بنوانے کی سعادت پائی۔

٭بعد ازاںدس بجکر 45 منٹ پر انڈونیشیا سے آنےوالے وفد کی حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کا پروگرام شروع ہوا۔ انڈونیشیا سے امسال 35؍ افراد پر مشتمل وفد جلسہ سالانہ جرمنی میں شامل ہوا۔ جن میں 23 خواتین اور 12 مرد حضرات تھے۔

٭حضور انور کے استفسار پر وفد کے ممبران نے عرض کیا کہ جلسہ سالانہ کے تمام انتظامات بہت اچھے تھے۔ سارے کام بڑ ے منظّم طریق پر ہوئے ہیں۔

٭حضور انور کی خدمت میں وفد کے ایک ممبر نے عرض کیاکہ ہماری جماعت میں کافی نئے احمدی ہیںان سے چندہ حاصل کرنا کافی مشکل کام ہے۔

اس پر حضور انور نے فرمایا: پہلے ان کی تربیت کرو۔ ایمان لانا فرض ہے۔ پانچ نمازیں فرض ہیں ان کی ادائیگی کی طرف توجہ دلاؤ۔ روزہ فرض ہے۔ پھر بعد میں مالی قربانی فرض ہے۔ پہلے ان کی تربیت کرو۔ تین سال کی تربیت کا عرصہ اس لیے رکھا ہوا ہے کہ ان کی تربیت ہو جائے پھر ان کو چندہ کے نظام میں شامل کریں، قربانی کا جذبہ دل سے نکلنا چاہیے۔ صحابہ ؓنے دل سے اسلام کو قبول کیا اور پھر قربانیاں پیش کیں۔ چندہ کوئی ٹیکس نہیں ہے بلکہ خدا کی رضا کے لیے دینا ہے۔ نو مبائعین کو شروع سے ہی یہ عادت ڈالیں کہ تحریک جدید اور وقف جدید کے لیے کچھ نہ کچھ ضرور دیں۔

٭ایک خاتون نے عرض کیا کہ غیر احمدی مجھ سے نفرت کرتے ہیں اور میر امذاق اڑاتے ہیں۔ میں کیا کروں؟

اس پر حضور انور نے فرمایا: جب آنحضرت ﷺ نے دعویٰ کیا تو لوگ آپﷺ سے نفرت کرتے تھے اور ظلم بھی کرتے تھے۔ لوگ صحابہ کرام ؓ سے بھی نفرت کرتے تھے اور مارتے تھے۔ سب صبر کے ساتھ برداشت کرتے تھے۔ حضور انور نے فرمایا آپ بھی صبر سے برداشت کریں کہ یہ احمدیت کی تعلیم ہے۔
٭ایک خاتون نے عرض کیا کہ میرے خاوند پہلے نیک احمدی تھے۔ اب فیملی کے دباؤ کے تحت احمدیت سے دور ہورے ہیں۔ دعا کریں کہ وہ واپس آجائیں اور میرے بچے جماعت سے منسلک رہیں۔

اس پر حضور انور نے فرمایا: اپنے بچوں کو مسجد میں لائیں۔ ان کا مسجد سے تعلق بنا دیں۔

حضور انور نے فرمایا میری رپورٹ ہے کہ جس طرح MTA دیکھا جانا چاہیے ویسے انڈونیشیا میں نہیں دیکھا جاتا۔ اپنے بچوں کو ، اپنی نسلوں کو MTA سے منسلک کریں۔ نئی نسل کے لیے پروگرام انڈونیشین زبان میں بنائیں۔ حضور انور نے وفد کے ممبران سے جائزہ لیا کہ کون کون خطبہ جمعہ سنتا ہے۔

٭وفد کے ایک ممبر نے سوال کیا کہ جماعت احمدیہ کے ذریعہ غلبہ کس شکل میں ہوگا۔ اس پر حضور انور نے فرمایا تعداد کے لحاظ سے بھی ہوگا۔ تعداد بڑھے گی اور اکثریت احمدیت میں داخل ہوجائے گا۔ لوگ خراب حالت میں بھی رہیں گے۔

٭ایک دوست عبد الرحمٰن صاحب نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں بہت خوش ہوں کہ یہ اعزاز ملا کہ جلسہ میں شامل ہو سکوں اور حضور کو پہلی مرتبہ دیکھ سکوں۔ میں کبھی اس تجربہ کو نہیں بھولوں کا۔

ایک صاحب نے عرض کیا کہ یہ جلسہ ایک بہترین جلسہ تھا۔ جس کا انتظام قریباً ہر لحاظ سے بہت اچھا تھا۔ ہمیں حضور انور سے ملنے کی توفیق ملی۔ مختلف ممالک سے آنے والے بھائیوں سے ملنے کا موقع ملا۔ اسی طرح ایمان افروز تقاریر سننے کا موقع ملا۔ جس سے ہمارے ایمان میں ترقی نصیب ہوئی۔

(باقی آئندہ)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button