حضرت مصلح موعود ؓ

سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم (قسط 24)

(حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد المصلح الموعود خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ)

سب کا موں میں صحابہ ؓ کے مدد گار رہتے آپؐ مسجد کی اینٹیں ڈھوتے رہتے

آنحضرت ﷺ کی کو نسی خوبی ہے جسے انسان خاص طور پر بیان کر سکے ۔کو ئی شعبۂ زندگی بھی تو نہیں جس میں آپؐ دوسروں کے لیے نظیر نہ ہوں۔مختلف خوبیوں میںمختلف لوگ باکمال ہو تے ہیں مگر یہ دین و دنیا کا با دشاہ تو ہر با ت میں دوسروں پر فائق تھا۔جو بات بھی لواس میں آپؐ کو صاحبِ کمال پاؤ گے۔میں نے پچھلے باب میں بتا یا تھا کہ آپ ؐ اپنے گھر میں بیویوں کو ان کے کاموںمیں مدد دیتے تھے مگر اب اس سے زیادہ میں ایک واقعہ بتاتا ہوں جس سے معلوم ہو تا ہے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں آپؐ کسی ادنیٰ سے ادنیٰ کا م میں حرج نہ دیکھتے تھے بلکہ اس میںفخر محسوس کر تے تھے اور صحابہ ؓکے دو ش بدوش ہو کر ہر ایک چھوٹے سے چھوٹا کام کرتے اور کبھی یہ نہ ہو تا کہ انہیں حکم دے دیں اور آپ خاموش ہو کر بیٹھ رہیں۔صحابہ ؓکی خوشی تو اسی میں تھی کہ آپؐ آرام فرما ئیں اور وہ آپؐ کے سامنے اپنی فدائیت اور اخلاص کے جو ہر دکھا ئیں مگر آپؐ کبھی اس کو پسند نہ فر ما تے اور ہر کا م میں خود شریک ہو تے اور صحابہ ؓ کا ہاتھ بٹاتے۔

حضرت عائشہ ؓ ہجرت کے متعلق ایک لمبی حدیث بیان کرکے فر ما تی ہیں کہ

ثُمَّ رَکِبَ رَاحِلَتَہٗ فَسَارَ یَمْشِیْ مَعَہٗ النَّاسُ حَتّٰی بَرَکَتْ عِنْدَ مَسْجِدِ الرَّسُوْلِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِیْنَۃِ وَھُوَ یُصَلِّیْ فِیْہِ یَوْمَئِذٍ رِجَالٌ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ وَکَانَ مِرْبَدًا لِلتَّمْرِ لِسُھَیْلٍ وَسَھْلٍ غُلَامَیْنِ یَتِیْمَیْنِ فِیْ حَجْرِ اَسْعَدَ بْنِ زُرَارَ ۃَ فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حِیْنَ بَرَکَتْ بِہٖ رَاحِلَتُہٗ ھٰذَا اِنْ شَاءَ اللّٰہُ الْمَنْزِلُ ثُمَّ دَعَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْغُلَامَیْنِ فَسَاوَمَھُمَا بِالْمِرْبَدِ لِیَتَّخِذَہٗ مَسْجِدًا فَقَالَا لَا بَلْ نَھَبُہٗ لَکَ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ فَاَبیٰ رَسُوْلُ اللّٰہِ اَنْ یَقْبَلَہُ مِنْھُمَا ھِبَۃً حَتَّی ابْتَاعَہٗ مِنْھُمَا ثُمَّ بَنَاہُ مَسْجِدًا وَطَفِقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَنْقُلُ مَعَھُمُ اللَّبِنَ فِیْ بُنْیَانِہٖ وَیَقُوْلُ وَھُوَ یَنْقُلُ اللَّبِنَ

ھٰذَا الْحِمَالُ لَا حِمَالَ خَیْبَرَ

ھٰذَا اَبَرُّ رَبَّنَا وَ اَطْھَرُ

وَیَقُوْلُ

اللّٰھُمَّ اِنَّ الْاَجْرَ اَجْرُ الْاٰخِرَۃِ

فَارْحَمِ الْاَنْصَارَ وَ الْمُھَاجِرَۃَ

(بخاری باب ھجرۃ النبی صَلَّی اللہ علیہ وسلم واصحابہ الی المدینہ)

یعنی پھر آپؐ اپنی اونٹنی پر سوار ہو ئے او ربنی عمرو بن عوف کے پاس سے جہاں آپؐ سب سے پہلے آکر ٹھہرے تھے۔مدینہ کی طرف روانہ ہو ئے۔اور لوگ بھی آنحضرتؐ کےساتھ ساتھ پیدل چل رہے تھے یہاں تک کہ آپؐ کی اونٹنی اس جگہ پر جا کر بیٹھ گئی جہاں بعد میں آنحضرت ؐ کی مسجد بنا ئی گئی اور اس جگہ ان دنوں میں کچھ مسلمان نماز پڑھا کرتے تھے اور یہ سہیل اور سہل نا می دو لڑکوں کی کھجوریں سکھانے کا مقام تھا جو یتیم تھے اور اسعد بن زرارہ کی ولا یت میں تر بیت پارہے تھے۔پس رسول اللہ ﷺ نے جب آپ ؐکی اونٹنی وہاں بیٹھ گئی۔ فر مایا کہ اِن شاء اللہ یہاں ہمارے رہنے کی جگہ ہو گی۔پھر رسول اللہ ﷺ نے ان دونوں لڑکوں کو جن کی وہ جگہ تھی بلوایا اور ان سے اس جگہ کی قیمت دریافت کی تا کہ وہاں آپؐ مسجد تیار کریں۔انہوں نے کہا کہ ہم آپؐ کے ہا تھ فروخت نہیں کرتے بلکہ آپؐ کو ہبہ کر تے ہیں۔ مگر رسول اللہ ﷺنے ان سے بطور ہبہ کے وہ زمین لینے سے انکار کر دیا یہاں تک کہ ان دنوں لڑکوں نے وہ زمین فروخت کر دی۔پھر آپؐ نے وہاں مسجد بنا نی شروع کی اور مسجد بنتے وقت آپ ؐ خود بھی صحابہ ؓ کے ساتھ اینٹیں ڈھوتے تھے اور ڈھوتے وقت یہ شعر پڑھتے جا تے تھے۔یہ بو جھ خیبر کا بو جھ نہیں بلکہ اے ہمارے خدا ! یہ اس سے زیا دہ پا کیزہ اور عمدہ ہے۔اسی طرح آپؐ یہ شعر بھی پڑھتے اے خدا ! بدلہ تو وہی بہتر ہے جو آخرت کا ہو پس جب یہ بات ہے تو تُو مہاجرین اور انصار پر رحم فر ما۔

اس حدیث میں آپؐ کا یہ قول کہ یہ خیبرکا بو جھ نہیں اس سے یہ مراد ہے کہ لو گ خیبر سے کھجوریں یا اور پھل پھول ٹوکروں میں بھر کر لا یا کر تے تھے۔آپؐ فر ما تےہیں کہ یہ اینٹیں جو ہم اٹھا رہے ہیں یہ اس بو جھ کی طرح نہیں ہیں بلکہ اُس میں تو دنیا کا فائدہ ہو تا ہے اور اس بو جھ کے اٹھا نے سے آخرت کا فا ئدہ ہے اس لیے یہ بو جھ اس بو جھ سے بہت بہتر اور عمدہ ہے۔

اس حدیث کو پڑھ کر کون انسان ہے جو حیرت میں نہ پڑ جا ئے۔ آنحضرتؐ کے ارشاد پر قربان ہو نے والوں کا ایک گروہ موجود تھا جو آپؐ کی را ہ میں اپنی جان قربان کر نے کے لیے تیار تھے مگر آپؐ کا یہ حال ہے کہ خوداپنے جسمِ مبارک پر اینٹیںلادکرڈھورہےہیں۔ یہ وہ کمال ہے جو ہرایک بے تعصب انسان کو خود بخود آپؐ کی طرف کھینچ لیتا ہے اور چشمِ بصیرت رکھنے والا حیران رہ جا تا ہے کہ یہ پا ک انسان کن کمالات کا تھا کہ ہر ایک بات میں دوسروں سے بڑھا ہوا ہے۔ خدا تعالیٰ کی عبادت کے لیے ایک گھر بن رہا ہے اور آپؐ اس کی اینٹیں ڈھونے کے ثواب میں بھی شا مل ہیں۔خود اپنے کندھوں پر اینٹیں رکھتے ہیں اور مسجد کی تعمیر کر نے والوں کو لا کر دیتے ہیں۔یہ وہ عمل تھا جس نے آپؐ کو ابرا ہیمؑ کا سچا وارث اور جانشین ثابت کر دیا تھا کیونکہ اگر حضرت ابرا ہیمؑ نے خود اینٹیں ڈھو کر کعبہ کی تعمیر کی تھی تو اس وارثِ علوم ِسماویہ نے مدینہ منورہ کی مسجد کی تعمیر میں اینٹیں ڈھونے میں اپنے اصحاب ؓکی مددکی۔
کہنے کو تو سب بزرگی اور تقویٰ کا دعویٰ کرنے کو تیارہیں مگر یہ عمل ہی ہے جو پا کبازی اور زبا نی جمع خرچ کر نے والوں میں تمیز کر دیتا ہے اور عمل ہی میں آکر سب مدعیانِ تقویٰ کو آپؐ کے سامنے با ادب سر جھکا کر کھڑا ہو نا پڑتا ہے۔

اس حدیث سے اگر ایک طرف ہمیں یہ معلوم ہو تا ہے کہ آنحضرت ﷺ کو اللہ تعالیٰ کی را ہ میں کسی قسم کے کام کرنے سے خواہ وہ بظاہر کیسا ہی ادنیٰ کیوں نہ ہو کسی قسم کا عار نہ تھا۔آپؐ اس معبود حقیقی کی رضا کی تمام را ہوں میںدوسروں سے آگے قدم ما رتےتھے تو دوسری طرف یہ امر بھی رو شن ہو جا تا ہے کہ آپؐ ما تحتوں سے کام لینے کے ہر فن میں بھی اپنی نظیر آپؐ ہی تھے۔ تاریخ نے ہزاروں لا کھوں بر سوں کے تجربات کے بعد ثابت کیا ہے کہ ماتحتوں میںجوش پیدا کر نے اور انہیں اپنے فرائض کے ادا کر نے میں ہو شیا ر بنانے کا سب سے اعلیٰ اور عمدہ نسخہ یہی ہے کہ خود آفیسر بھی انہیں کام کرکے دکھا ئیںاور جو شخص خود کام کرے گا اس کے ماتحت ضرور کام میں چست و چالاک ہوں گے مگر جو آفیسر کام سے جی چرائے گا اس کے ماتحت بھی اپنے فرائض کے ادا کرنے میں کو تا ہی کریں گے اور بہا نہ ہی ڈھونڈتے رہیں گے کہ کسی طرح اپنی جان چھڑا ئیں۔آنحضرتؐ نے اس گُر کو ایسا سمجھا تھا کہ آپؐ کی سا ری زندگی اس قسم کی مثالوں سے پُر ہے۔آپؐ اپنے ما تحتوں کو جو حکم بھی دیتے اس میں خود بھی شریک ہو تے اور آپؐ کی نسبت کو ئی انسان یہ نہ کہہ سکتا تھا کہ آپؐ صحابہ ؓکو مشکلات میں ڈال کر خود آرام سے بیٹھ رہتے ہیں بلکہ آپؐ ہر ایک کام میں شریک ہوکر ان کے لیے ایسی اعلیٰ اور ارفع نظیر قائم کر دیتے کہ پھر کسی کو اس پر اعتراض کر نے کاموقع نہ رہتا ۔ اگر کو ئی افسر اپنے ماتحتوں کو کو ئی حکم دے کر خود آرام سے پیچھے بیٹھ رہے تو ضرور ان کے دل میں خیال گزرے گا کہ یہ شخص خود تو آرام طلب ہے مگر دوسروں کو ان کی طاقت سے بڑھ کر کام دیتا ہے اور گو مفوضہ کام زیا دہ بھی نہ ہو تو بھی وہ با لطبع خیال کر یں گے کہ انہیں ان کی طا قت سے زیادہ کا م دیا گیا ہے اور اس بے دلی کی وجہ سے وہ جس قدر کا م کر سکتے ہیں اس سے نصف بھی نہ کر سکیں گے اور جو کچھ کریں گے بھی وہ بھی اد ھورا ہو گا مگر جب خود افسر اس کام میں شریک ہو گا اور سب سے آگے اس کا قدم پڑتا ہو گا تو ما تحت شکایت تو الگ رہی اپنی طاقت اور قوت کا سوال ہی بھول جائیں گے اور ان میں کوئی اَور ہی روح کا م کرنے لگے گی۔

اور اسی حکمت سے کام لے کر آنحضرت ؐنے صحابہ کی زندگیوں میںایسی تبدیلی پیدا کر دی تھی کہ وہ معمولی انسانوں سے بہت زیا دہ کا م کر نے والے ہو گئے تھے۔وہ ہر ایک کام میں اپنے سامنے ایک نمونہ دیکھتے تھےحتّٰی کہ اگر اینٹیں ڈھونے کا کام بھی ہو تا تھاجو عام مزدوروں کا کام ہے اور ان کا رسولؐ انہیں اس کام کے کر نے کا حکم دیتا تھا تو سب سے پہلے وہ خود اس کا م کی ابتداکر تا تھا جس کی وجہ سے مردہ دلوں کے دل زندہ اورسستوں کے بدن چست اور کم ہمتوں کی ہمتیں بلند ہو جاتی تھیں ۔ہر ایک عقل مند اس با ت کو سوچ کر معلوم کر سکتا ہے کہ جو لوگ آنحضرتؐ کی نسبت یہ یقین رکھتے تھے کہ آپؐ خدا تعالیٰ کے بر گزیدہ بندے ہیں،اس کے رسول ؐ ہیں، اس کے نبی ؐ ہیں، سب انبیاء سے افضل ہیں،آپؐ کی اطاعت سے خدا تعالیٰ کی رضا حاصل ہوسکتی ہے،آپؐ کی ہی فرمانبرداری میں اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری ہے،آپؐ کل انبیاء کے کمالا ت کے جامع ہیں،آپؐ کی ہی خدمت کر نے سے جنت کے دروازے کھلتےہیں،وہ جب دیکھتے ہوں گے کہ ایسا عظیم الشان انسان خود اپنے کندھوں پر اینٹیںرکھ کر مسجد بنانے والوں تک پہنچاتا ہے تو ان کے اندر کن خیالات کا دریا موجزن ہو تا ہو گا اور وہ کس جو ش اور کس خلوص سے اس کا م کو بجالاتے ہوں گے بلکہ کس طرح بجائے تھکان کے ان کے چہروں سے بشاشت ٹپکتی ہو گی۔ان میں اچھے اچھے رؤسابھی تھے،سردار بھی تھے مال دار بھی تھے،معزز بھی تھے، مگر وہ سب کے سب اپنے عقیدہ کی بنا پر اپنے آپ کو آنحضرتؐ سے کم درجہ پر یقین کر تے تھے اور اپنے آپ کو خادم سمجھتے تھے۔پس جب وہ آپؐ کو اس جوش سے کا م کر تے ہوئے دیکھتے ہوں گے تو کیا ان کے بدن کے ہر ایک حصہ میں سنسناہٹ نہ پھیل جاتی ہو گی ؟اور کیا امیر سے امیر انسان بھی اس بلند رتبہ انسان کی معیت میں اینٹیں ڈھونا اپنے لیے ایک نعمت ِعظمیٰ نہ خیال کر تا ہو گا ؟ او ر بجائے ذلت کے عزت نہ جا نتا ہو گا ۔ہا ں ان میں سے ہر ایک ایسا ہی سمجھتا ہو گا اور با لکل ایسا ہی سمجھتا ہو گااور چو نکہ آنحضرت ؐ اپنی سا ری عمر میں اسی نمونہ پر قائم رہے اور آپؐ نے کبھی اس سنت کو ترک نہیں کیا اس لیے آپؐ کے صحابہ ؓ میںیہ بات طبیعت ثانی ہو گئی تھی اور وہ روزانہ ان کی معیت کے جو ش سے متاثر ہو کر جس طرح کام کر تے تھے اس کے ایسے عادی ہوگئے تھے کہ آپؐ کی غیر حاضری میں بلکہ آپؐ کی وفات کے بعد بھی ان کا طریق عمل وہی تھا اور یہ ایک عام بات ہے کہ انسان جس کا م کو کچھ مدت تک لگا تا ر کرتا رہے اس کا عادی ہو جا تا ہے اور جو لوگ ابتدا میں سستی کی عادت ڈال لیتے ہیں وہ سست ہی رہتے ہیں اور جو چستی سے کام کر نے کے عادی ہوں وہ اسی طریق پر کام کیے جا تے ہیں ۔ پس جبکہ آنحضرتؐ ہر ایک کام میں صحابہ ؓکے شریک حال بن کر ان کو خطر ناک سے خطر ناک اور خوف ناک سے خوف نا ک کا م کے کر نے پر آما دہ کر دیتے تھے۔اور اسی طر ح دنیا داروں کی نظرو ں میں ادنیٰ سے ادنیٰ نظر آنے والے کاموں میں بھی سا تھ شریک ہو کر ان کے دلوں سے جھوٹی عزت اور تکبر کے خیالا ت کو با لکل نکال دیتے تھے اور اس طریق کا آپؐ ان کو دس سال متواتر عادی کر تے رہے تھے۔یہ عا دت انہیں کیونکر بھول سکتی تھی؟ چنانچہ جب صحابہؓ کو اپنے سے کئی کئی گنا سپاہ سے مقابلہ پیش آیا اور اس وقت کی کل متمدن قوموں سے ایک ہی وقت میں جنگ چھڑ گئی تو ان کے قدموں میں وہ ثبات دیکھا گیا اور ان کے ہا تھوں نے ایسی طاقت کے کا رنامے دکھا ئے اور ان کے دلوں نے ایسی بے ہراسی اور بے خوفی کا اظہا ر کیاکہ دنیا دنگ ہو گئی اور اس کی وجہ یہی تھی کہ آنکھوں کے سامنے آنحضرتؐ کا پاک نمونہ ہروقت رہتا تھا اور وہ ایک لمحہ کے لیے بھی اس دین و دنیا کے بادشاہ کو نہ بھولتے تھے اور اپنے سے دس دس گنا فوج کو الٹ کر پھینک دیتے تھے۔ بلکہ صحابہ ؓ دوسرے عربوں کی جنگ پر بھی ہنستے تھے اور کہتے تھے کہ اب دنیا کو کیا ہو گیا۔ آنحضرتؐ کے ماتحت تو ہم اس طرح لڑتے تھے کہ پروں کے پرے اڑادیتے تھے اور کو ئی ہمارے سا منے ٹھہرنہ سکتا تھا ۔ پس آپؐ کے سا تھ مل کر کام کر نے میں تدبیر ملکی کا وہ نمونہ نما یاں ہے کہ جس کی مثال کو ئی اَور انسان نہیں پیش کرسکتا۔اس حدیث سے ایک ا َور بات بھی معلوم ہو تی ہے کہ آنحضرتؐ کو ہر وقت اپنے صحابہ ؓکو نیکی اور تقویٰ کی تعلیم دینے کا خیال رہتا تھا کیونکہ آپؐ نے اس موقع پر جو اشعار چُنے ہیں وہ ایسے بے نظیر اور مناسب موقع ہیں کہ ان سے بڑھ کر نا ممکن ہے۔آپؐ کی عادت تھی کہ آپؐ پو را شعر نہیں پڑھا کر تے تھے مگر صرف اس موقع پر یا ایک دو اَور موقعوں پر آپؐ نے پورے شعر پڑھے ہیں۔ہاں آپؐ شعر با لکل نہ کہتے تھے اور یہ شعر بھی کسی اَور مسلمان کے کہے ہو ئے تھے۔

ہاں تو ان اشعار میںآپؐ نے صحابہ ؓکوبتا یا ہے کہ تم خیبر کی کھجور یں اور سبزیاں وغیرہ اکثر اُٹھاتے ہو گے اور اس کے اٹھا نے میں تمہیں یہ خیال ہو تا ہو گا کہ ہم دنیا کا فا ئدہ اٹھائیں گے اور مال کمائیں گے۔مگر یہ یادرکھو کہ خدا تعالیٰ کے لیے جو کام انسان کر تا ہے وہ گو بظاہر کیسا ہی ادنیٰ معلوم ہودرحقیقت نہایت پا ک اور عمدہ نتا ئج پید اکر نے والا ہو تا ہے ۔ پس یہ خیال اپنے دلوں میں مت لانا کہ ہم اس وقت کیسا ادنیٰ کا م کر تے ہیں کہ مٹی اور اینٹیں ڈھو رہے ہیں بلکہ خوب سمجھ لو کہ یہ اینٹیں جو تم ڈھورہے ہو ان کھجوروں اور میووں کے بو جھ سے جو خیبر سے آتا ہے کہیں بہتر ہیں اور اس میں تمہارے نفوس کی پاکیزگی کا سا مان ہے ان میووں کے بو جھ کی ہستی ہی کیا ہے کہ اس کے مقابلہ میں اسے رکھا جا ئے۔

دوسرے شعر میںآنحضرتؐ نے انہیں بتا یا ہے کہ اس کا م میں کسی مزدوری یا نفع کا خیال مت رکھنا بلکہ یہ تو خدا کا کام ہے جس میں اگر کسی نفع کی امید ہے تو وہ اللہ ہی کی طرف سے ہو گا اور بجا ئے فوری نفع کے انجام کی بہتری ہو گی اور جس کا انجام اچھا ہو اس سے زیا دہ کا میاب کو ن ہو سکتا ہے پس اسی پر نظر رکھو۔اور سا تھ ہی اللہ تعالیٰ سے دعا بھی کر دی کہ خدایا ! یہ لو گ اپنے کام چھوڑ کر تیرے لیے مشقت اٹھا رہے ہیں تو ان پر رحم فرما۔پس شاعر نے تو جن خیالات کے ما تحت اشعار کہے ہوں گے ان سے وہی واقف ہو گا مگر آپؐ نے ان اشعار کو پڑھ کر اس کے معانی کو وہ وسعت دے دی ہے کہ با ید و شاید۔

(باقی آئندہ )

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button