ادبیات

ملفوظات حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اور فارسی ادب (قسب نمبر 15)

(محمود احمد طلحہ ۔ استاد جامعہ احمدیہ یو کے)

فترت وحی کی حکمت

‘‘اس مضمون کو دیکھ کر انسان کس قدر انشراح کے ساتھ قبول کر سکتا ہے کہ قرآن کریم کس قدر عالی مضامین کو کیسے اندازاور طرز سے بیان کرتا ہے۔پھر قرآن شریف میں ایک مقام پر رات کی قسم کھائی ہے۔کہتے ہیں کہ یہ اس وقت کی قسم ہے ۔جب وحی کا سلسلہ بند تھا۔یاد رکھنا چاہیے کہ یہ ایک مقام ہےجو ان لوگوں کے لیے جو سلسلہ وحی سے افاضہ حاصل کرتے ہیں آتا ہے۔وحی کے سلسلے سےشوق اور محبت بڑھتی ہے،لیکن مفارقت میں بھی ایک کشش ہوتی ہے جو محبت کے مدارج عالیہ پر پہنچاتی ہے۔اللہ تعالیٰ نے اس کو بھی ایک ذریعہ قرار دیا ہے۔کیونکہ اس سے قلق اور کرب میں ترقی ہوتی ہے۔اور روح میں ایک بے قراری اور اضطراب پیدا ہوتا ہے جس سے وہ دعاؤں کی روح اس میں نفخ کی جاتی ہے کہ وہ آستانہ الوہیت پر یا رب !یارب!!کہہ کر اور بڑے جوش اور شوق اور جذبہ کے ساتھ دوڑتی ہے۔جیسا کہ ایک بچہ جو تھوڑی دیر کے لیے ماں کی چھاتیوں سے الگ رکھاگیا ہو ۔بے اختیارہو ہو کر ماں کی طرف دوڑتا اور چلّاتا ہے۔اسی طرح پر بلکہ اس سے بھی بے حد اضطراب کے ساتھ روح اللہ کی طرف دوڑتی ہے اور اس دوڑ دھوپ اور قلق وکرب میں وہ لذت اور سرور ہوتا ہے جس کو ہم بیان نہیں کر سکتے۔یاد رکھو!روح میں جس قدر اضطراب اور بے قراری خدا تعالیٰ کے لیے ہو گی۔اسی قدر دعاؤں کی توفیق ملے گی اور ان میں قبولیت کا نفخ ہو گا۔غرض یہ ایک زمانہ ماموروں اور مرسلوں اور ان لوگوں پر جن کے ساتھ مکالمات الہٰیہ کا ایک تعلق ہوتا ہے،آتا ہے اور اس سے غرض اللہ تعالیٰ کی یہ ہوتی ہے کہ تا ان کو محبت کی چاشنی اور قبولیت دعا کے ذوق سے حصہ دے اور ان کو اعلیٰ مدارج پر پہنچا دے تو یہاں جو ضحی اور لیل کی قسم کھائی،اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے مدارج عالیہ اور مراتب محبت کا اظہار ہے ۔اور آگے پیغمبر خداؐکا ابراء کیا کہ دیکھو دن اور رات جو بنائے ہیں۔ان میں کس قدر وقفہ ایک دوسرے میں ڈال دیا ہے۔ضحی کا وقت بھی دیکھو اور تاریکی کا وقت بھی خیال کرو۔مَاوَدَّعَکَ رَبُّکَ ۔خدا تعالی نے تجھے رخصت نہیں کر دیا۔اس نے تجھ سے کینہ نہیں کیا بلکہ ہمارا یہ ایک قانون ہے۔جیسے رات اور دن کو بنایا ہے اسی طرح انبیاء علیہم السلام کے ساتھ بھی ایک قانون ہے کہ بعض وقت وحی کو بند کر دیا جاتا ہے تا کہ ان میں دعاؤں کے لیے زیادہ جوش پیدا ہو۔اور ضحی اور لیل کو اس لیے بطور شاہد بیان فرمایا ۔تاآپؐ کی امید وسیع ہواور تسلی اور اطمینان پیدا ہو۔مختصر یہ کہ اللہ تعالی نے ان قسموں کے بیان کرنے سے اصل مدعایہ رکھا ہےکہ تابد یہات کے ذریعہ نظریات کو سمجھادے۔ اب سوچ کر دیکھو کہ یہ کیسا پر حکمت مسئلہ تھا۔مگر ان بدبختوں نے اس پر بھی اعتراض کیا؂

چشم بداندیش کہ بر کندہ باد

عیب نماید ہنرش در نظر’’

(ملفوظات جلداول صفحہ 228-230)

*۔اس حصہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شیخ سعدی کایہ شعر استعمال کیاہے ۔

چَشْمِ بَدْاَنْدیش کِہْ بَرْ کَنْدِہ بَادْ

عَیْب نُمَایَدْ ہُنَرَشْ دَرْ نَظَر

شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی نے اپنی کتا ب گلستان میں درج ذیل حکایت کے بعدیہ شعر تحریر کیا ۔
حکایت: ایک ہونہار طالب علم اپنے استادسے پوچھتا ہے اے استاد صاحب جیسے آپ میری تعلیم کے متعلق رائے دیتے ہیں میرے اخلاق کے بارہ میں بھی کچھ بتائیں تااگر کوئی ناپسندیدہ خلق ہے تو میں اسے دور کروں ۔اس پر استاد نے جواب دیا اے لڑکے یہ سوال کسی اَور سے پوچھ کیونکہ مجھے بجز کمال کے تیرے اندر کچھ اَور نظر نہیں آتا ۔

چَشْمِ بَدْاَنْدیش کِہْ بَرْ کَنْدِہ بَادْ

عَیْب نُمَایَدْ ہُنَرَشْ دَرْ نَظَر

ترجمہ :بد خواہ کی آنکھ خدا کرے پھوٹ جائے۔اسے ہنر بھی عیب دکھائی دیتاہے۔

وَرْھُنَرِیْ دَارِیْ وَھَفْتَادْ عَیْب

دُوْست نَہْ بِیْنَدْ بِجُزْآنْ یِکْ ھُنَرْ

اگر تجھ میں ایک ہنرپایا جاتاہے اور ستر عیب۔دوست کوبجزاس ایک ہنر کےکچھ دکھائی نہیں دیتا۔

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button