سیرت صحابہ کرام ؓ

حضرت امام حسنؓ و حسینؓ کا عظیم الشان مقام و مرتبہ

(انیس احمد خلیل۔ ربوہ)

(ازافاضات بانیٔ جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰةو السلام)

بانیٔ جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد مسیح موعود و مہدی معہود علیہ السلام پرمحض تعصب اور جو ش مخالفت میں بے جا طور پر یہ الزام لگایاجاتاہےکہ آپ کے دل میں اہل بیت خصوصاً حضرت امام حسن ؓ و حسینؓ کےلیے احترام نہ تھا اور آپ نے ان کی توہین کی (نعوذ باللہ من ذالک)حالانکہ آپ سر تاپا عشق رسول و اہل بیت و صحابہ رسول ﷺسے سرشار تھے ۔کوئی بھی شخص اگر بلاتعصب اور بغور آپ کی سیرت و سوانح اور کتب کا مطالعہ کرے تووہ یہ ماننے پر مجبور ہوجائے گا کہ کس طرح آپؑ کی سیرت وتحریرات سے عشق رسول ﷺ و اہل بیت و صحابہ رسول ﷺمترشح ہے ۔آئیے اب ہم قارئین کے لیے آپؑ کی تحریرات سے چند حوالہ جات پیش کرتے ہیں جن سے یہ بات اظہر من الشمس ہوجائے گی کہ آپ کی تحریرات سے عشق رسولﷺ و اہل بیت اورخصوصا ً حضرت امام حسن ؓ و حسینؓ سے جو عقیدت و محبت تھی وہ کس طرح جھلکتی ہے ۔

حضرت بانی جماعت احمدیہ اپنے منظوم کلام میں فرماتے ہیں :

جان و دلم فدائے جمال محمدؐ است

خاکم نثار کوچہ ٔ آل محمدؐ است

(درثمین فارسی ۔صفحہ 89)

میری جان اور دل حضرت محمد مصطفی ٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے جمال پر فدا ہے اور میری خاک آل مصطفی ٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے کوچے پر نثار ہے۔

حضرت امام حسین ؓ سے غیر معمولی عشق

قمر الانبیاء حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ جب محرم کا مہینہ تھا اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنے باغ میں ایک چار پائی پر لیٹے تھے آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہماری ہمشیرہ مبارکہ بیگم سلمہا اور ہمارے بھائی مبارک احمد مرحوم کو جو سب بہن بھائیوں میں چھوٹے تھے اپنے پاس بلایا اورفرمایا‘‘آؤ میں تمہیں محرم کی کہانی سناؤں ’’پھر آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بڑے دردناک انداز میں حضرت امام حسینؓ کی شہادت کے واقعات سنائے آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام یہ واقعات سناتے جاتے تھے اور آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کی آنکھوں سے آنسورواں تھے اور آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام اپنی انگلیوں کے پوروں سے اپنے آنسوپونچھتے جاتے تھے ۔اس دردناک کہانی کو ختم کرنے کے بعد آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بڑے کر ب کے ساتھ فرمایا؛۔

‘‘یزید پلید نے یہ ظلم ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نواسے پر کروایا۔مگر خدا نے بھی ظالموں کو بہت جلد اپنے عذاب میں پکڑلیا’’۔

اس وقت آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام پر عجیب کیفیت طاری تھی اور اپنے آقا صلی اللہ علیہ وسلم کے جگر گوشہ کی المناک شہادت کے تصور سے آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کا دل بہت بے چین ہو رہا تھا۔

(روایت حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم ۔سیرت طیبہ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحب رضی اللہ عنہ ۔صفحہ 36تا37)

حضرت امام حسینؓ وحسنؓ ائمة الہدیٰ

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں :

‘‘حضرت امام حسین اور امام حسن ر ضی اللہ عنہما خدا کے برگزیدہ اور صاحب کمال اور صاحب عفت اور عصمت اور ائمة الہدی ٰتھے او ر وہ بلا شبہ دونوں معنوں کے رو سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے آل تھے۔’’

(تریاق القلوب ۔روحانی خزائن ۔جلد 15صفحہ 364تا365حاشیہ)

راستبازاورمتقی

فرمایا:۔‘‘ہم ان کو راستباز اورمتقی سمجھتے ہیں ’’۔

(ملفوظات جلد5صفحہ 328)

سید المظلومین

‘‘حضرت امام حسین سید المظلومین تھے’’۔

(ترجمہ از عربی سر الخلافة روحانی خزائن جلد 8صفحہ 353)

حضرت امام حسینؓ سرداران بہشت میں سے

ایک مرتبہ کسی نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اطلاع دی کہ حضرت امام حسین ؓ کے مقام اور رُتبے کے بارہ میں کسی احمدی نے غلط بات کی ہے۔ تو اس پر آپؑ نے فرمایا کہ‘‘مجھے اطلاع ملی ہے کہ بعض نادان آدمی جو اپنے تئیں میری جماعت کی طرف منسوب کرتے ہیں، حضرت امام حسینؓ کی نسبت یہ کلمات منہ پر لاتے ہیں کہ نعوذ باللہ حسین بوجہ اس کے کہ اُس نے خلیفہ وقت یعنی یزید سے بیعت نہیں کی، باغی تھا اور یزید حق پر تھا۔ لَعْنَتُ اللّٰہ عَلَی الْکَاذِبِیْنَ۔(اٰلِ عمران:62) مجھے امیدنہیں کہ میری جماعت کے کسی راستباز کے مُنہ پر ایسے خبیث الفاظ نکلے ہوں’’۔ فرمایا ‘‘بہر حال مَیں اس اشتہار کے ذریعہ سے اپنی جماعت کو اطلاع دیتا ہوں کہ ہم اعتقاد رکھتے ہیں کہ یزید ایک ناپاک طبع دُنیا کا کیڑا اور ظالم تھا اور جن معنوں کی رو سے کسی کو مومن کہا جاتا ہے وہ معنے اس میں موجودنہ تھے۔ مومن بننا کوئی امرِ سہل نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ ایسے شخص کی نسبت فرماتا ہے قَالَتِ الْاَعْرَابُ اٰمَنَّا۔ قُلْ لَّمْ تُوْمِنُوْا وَلٰکِنْ قُوْلُوْآ اَسْلَمْنَا (الحجرات: 15) مومن وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے اعمال ان کے ایمان پر گواہی دیتے ہیں۔ جن کے دل پر ایمان لکھا جاتا ہے اور جو اپنے خدا اور اس کی رضا کو ہر ایک چیز پر مقدم کر لیتے ہیں اور تقویٰ کی باریک اور تنگ راہوں کو غذا کے لیے اختیار کرتے اور اس کی محبت میں محو ہو جاتے ہیں اور ہر ایک چیز جو بُت کی طرح خدا سے روکتی ہے خواہ وہ اخلاقی حالت ہو یا اعمالِ فاسقانہ ہوں یا غفلت اور کسل ہو سب سے اپنے تیئں دُور تَر لے جاتے ہیں۔ لیکن بدنصیب یزید کو یہ باتیں کہاں حاصل تھیں۔ دُنیاکی محبت نے اس کو اندھا کر دیا تھا۔ مگر حسینؓ طاہرمطہّر تھا اور بلا شبہ وہ اُن بر گزیدوں میں سے ہے جن کو خدا تعالیٰ اپنے ہاتھ سے صاف کرتا اور اپنی محبت سے معمور کر دیتا ہے اور بلا شبہ وہ سردارانِ بہشت میں سے ہے اور ایک ذرّہ کینہ رکھنا اس سے موجب سلبِ ایمان ہے اور اس امام کی تقویٰ اور محبت الہٰی اور صبر، استقامت اور زہد اور عبادت ہمارے لیے اسوۂ حسنہ ہے اور ہم اس معصوم کی ہدایت کے اقتداء کرنے والے ہیں جو اس کو ملی تھی۔ تباہ ہو گیا وہ دل جو اس کا دشمن ہے اور کامیاب ہو گیا وہ دل جو عملی رنگ میں اس کی محبت ظاہر کرتا ہے اور اس کے ایمان اور اخلاق اور شجاعت اور تقویٰ اور استقامت اور محبت الٰہی کے تمام نقوش انعکاسی طور پر کامل پیروی کے ساتھ اپنے اندر لیتا ہے جیسا کہ ایک صاف آئینہ میں ایک خوب صورت انسان کا نقش۔ یہ لوگ دُنیا کی آنکھوں سے پوشیدہ ہیں۔ کون جانتا ہے ان کا قدر مگر وہی جو اُن میں سے ہیں۔ دُنیا کی آنکھ ان کو شناخت نہیں کر سکتی کیونکہ وہ دُنیا سے بہت دُور ہیں۔ یہی وجہ حسینؓ کی شہادت کی تھی کیونکہ وہ شناخت نہیں کیا گیا۔ دنیا نے کس پاک اور بر گزیدہ سے اس کے زمانہ میں محبت کی تا حسینؓ سے بھی محبت کی جاتی۔ غرض یہ امر نہایت درجہ کی شقاوت اور بے ایمانی میں داخل ہے کہ حسینؓ کی تحقیر کی جائے اور جو شخص حسینؓ یا کسی اَوربزرگ کی جو آئمہ مطہرین میں سے ہے تحقیر کرتا ہے یا کوئی کلمہ استخفاف کا اس کی نسبت اپنی زبان پر لاتا ہے وہ اپنے ایمان کو ضائع کرتا ہے کیونکہ اللہ جلّشانہ اس شخص کا دشمن ہو جاتا ہے جو اس کے برگزیدوں اور پیاروں کا دشمن ہے’’۔

(مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ546-544۔ اشتہار نمبر 270مطبوعہ ربوہ)

ہم حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما دونوں کے ثنا خواں ہیں

ہم حضرت حسن اور حسین رضی اللہ عنہما دونوں کے ثنا خواں ہیں

‘‘حضرت حسن ؓ نے میری دانست میں بہت اچھا کام کیا کہ خلافت سے الگ ہوگئے ۔پہلے ہی ہزاروں خون ہو چکے تھے۔انہوں نے پسند نہ کیا کہ اَور خون ہوں ۔اس لیے معاویہ سے گزارہ لےلیا ۔چونکہ حضرت حسن ؓ کے اس فعل سے شیعہ پر زد ہوتی ہے اس لیے امام حسن ؓپر پورے راضی نہیں ہوئے۔ ہم تو دونوں کے ثنا خواں ہیں ۔اصلی بات یہ ہےکہ ہر شخص کےجدا جدا قوی ٰمعلوم ہوتے ہیں ۔حضرت امام حسن ؓ نے پسند نہ کیا کہ مسلمانوں میں خانہ جنگی بڑھے اور خون ہوں ۔انہوں نے امن پسندی کو مد نظر رکھا اور حضرت امام حسین ؓنے پسند نہ کیا کہ فاسق فاجر کے ہاتھ پر بیعت کروں کیونکہ اس سے دین میں خرابی ہوتی ہے۔ دونوں کی نیت نیک تھی ۔اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیَّاتِ’’

(ملفوظات ۔جلد 4۔صفحہ 579تا580)

حضرت علیؓ اور حضرت حسینؓ سے آپ علیہ السلام کی مشابہت

پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام حضرت علیؓ اور حضرت حسینؓ سے اپنی مشابہت بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

‘‘مجھے علیؓ اور حسینؓ سے ایک لطیف مشابہت ہے اور اس بھید کو مشرق اور مغرب کے ربّ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ اور یقیناً مَیں علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور آپ کے دونوں بیٹوں سے محبت رکھتا ہوں اور اُس سے دشمنی کرتا ہوں جو ان دونوں سے دشمنی رکھتا ہے’’۔

(سرالخلافۃ۔ روحانی خزائن جلد 8صفحہ 359)

حضرت امام حسین ؓ کی شہادت اور بلند درجہ

حضورؑ فرماتے ہیں:

‘‘امام حسینؓ کو دیکھو کہ ان پر کیسی کیسی تکلیفیں آئیں۔آخری وقت میں جوان کو ابتلاء آیا تھا کتنا خوفناک ہے۔ لکھا ہے کہ اس وقت ان کی عمر ستاون برس کی تھی اورکچھ آدمی ان کے ساتھ تھے ۔ جب سولہ یا سترہ آدمی مارے گئے اور ہر طرح کی گھبراہٹ اور لاچاری کا سامنا ہوا تو پھر ان پر پانی کا پینا بند کر دیا گیا ۔اور ایسا اندھیر مچایا گیا کہ عورتوں اور بچوں پر بھی حملے کیے گئے اور لوگ بول اٹھے کہ اس وقت عربوں کی حمیت اور غیرت ذرا بھی باقی نہیں رہی ۔اب دیکھو کہ عورتوں اور بچوں تک بھی ان کے قتل کیے گئے اور یہ سب کچھ درجہ دینے کے لیے تھا ’’

(ملفوظاات ۔جلد 5۔صفحہ 336)

اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک خاص تعلق

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک خط میں تحریر فرمایا:

‘‘جن لوگوں کی جان توڑکوششوں سے دنیا میں اسلام پھیلا۔اگر وہ منافق اوربے ایمان ہوتے ۔تو اسلام نابود ہو جاتا۔خدا نے قرآن شریف میں ان کی تعریفیں کی ہیں اور میرے پر خدا نے یہی ظاہر کیا ہے ۔میرا اہل بیت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک خاص تعلق ہے ۔اگر خدا میرے پر ظاہر کرتاکہ خلفائے ثلاثہ درحقیقت منافق تھے اور اہل بیت کے دشمن تھے۔ تومیں سب سے پہلے تبرا کے لیے تیار ہوجاتا۔خدا کا کلام میرے پر نازل ہوتاہے خدانے میرے پر ظاہر کیاہے کہ خلفاء ثلاثہ اور ان کی جماعت کے لوگ نیک اور ناصر دین تھے اور علیؓ اورحسنؓ اورحسین ؓ یہ سب نہایت درجہ مقدس تھے۔ جن کا بغض کسی لعنتی کا کام ہے ۔اللہ تعالیٰ قرآن شریف میں فرماتاہےو نزعنا ما فی …یعنی صحابہؓ اور اہل بیت میں کچھ باہم رنج واقعہ ہوگئے تھے قیامت کو ہم وہ رنجشیں ان کے سینوں میں سے دور کردیں گے او ر وہ باہم بھائی ہوں گے ۔جو ایک دوسرے کے مقابل پر تختوں پر آبیٹھیں گے۔سچی بات یہی ہے۔اگر کوئی مجھے سچا سمجھتا ہے ۔تو اسے قبول کرے گا۔ ’’

(الفضل 6نومبر 1937ء)

بانی ٔ جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ حضرت امام حسن ؓ کے بلند مقام اور ان سے اپنی محبت کا اظہار کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

‘‘میں حضرت علی اور ان کے دونوں بیٹوں سے محبت کرتاہوں اور جو ان کا دشمن ہے میں اس کا دشمن ہوں ’’

(ترجمہ از عربی سر الخلافة روحانی خزائن جلد 8صفحہ 358،359)

مظلوم حسین

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ

‘‘امام حسین ؓکا مظلومانہ واقعہ خدائے تعالیٰ کی نظرمیں بہت عظمت اور وقعت رکھتاہے اور یہ واقعہ حضرت مسیح کے واقعہ سے ایسا ہمرنگ ہے کہ عیسائیوں کو بھی اس میں کلام نہیں ہو گی ’’

(ازالہ اوہام روحانی خزائن جلد 3صفحہ 135)

حضرت امام حسین ؓاوران کی جماعت اجماع سے باہر رہی

فرمایا ‘‘یزید پلید کی بیعت پر اکثر لوگوں کا اجماع ہو گیا تھا مگر امام حسین ؓ نے اور ان کی جماعت نے ایسے اجماع کو قبول نہیں کیا اور اس سے باہر رہے’’۔

(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ178خط بنام مولوی عبد الجبار مطبوعہ ربوہ)

حضرت مسیح کو امام حسین ؓسے تشبیہ

ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ حضرت مسیح کو امام حسین ؓسے تشبیہ دی گئی ہے اور استعارہ در استعارہ کے الفاظ استعمال کیے۔ اس تشبیہ سے ظاہر ہے کہ آنے والا مسیح بھی یعنی یہ مسیح موعود بھی اس تشبیہ سے حصہ لے گا۔ اس پر بھی ایک لحاظ سے امام حسین کی تشبیہ صادق آتی ہے۔

لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا زمانہ انشاء اللہ ان باتوں کو نہیں دہرائے گا۔

(ماخوذ از ازالہ اوہام۔ روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 136-137 مطبوعہ ربوہ)

حضرت علی ؓ اورحضرت امام حسین ؓ کا درجہ

پھر ایک جگہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ

‘‘اس بات کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے کہ انبیاء علیہم السلام اور ایسا ہی اَور جو خدا تعالیٰ کے راستباز اور صادق بندے ہوتے ہیں وہ دنیا میں ایک نمونہ ہو کر آتے ہیں۔ جو شخص اس نمونہ کے موافق چلنے کی کوشش نہیں کرتا لیکن اُن کو سجدہ کرنے اور حاجت روا ماننے کو تیار ہو جاتا ہے’’۔ (یعنی غلُوسے کام لیتا ہے۔ اُن کا نمونہ تو نہیں اپناتا ہے لیکن مبالغہ اتنا بڑھ جاتا ہے کہ اُن کو سجدہ کرنے لگ جائے اور اپنی حاجتیں پوری کرنے والا سمجھ لے) ‘‘وہ کبھی خدا تعالیٰ کے نزدیک قابلِ قدر نہیں ہے بلکہ وہ دیکھ لے گا کہ مرنے کے بعد وہ امام اُس سے بیزار ہو گا۔ ایسا ہی جو لوگ حضرت علی (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) یا حضرت امام حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) کے درجہ کو بہت بڑھاتے ہیں گویا اُن کی پرستش کرتے ہیں وہ امام حسین کے متّبعین میں نہیں ہیں اور اس سے امام حسین (رضی اللہ تعالیٰ عنہ)خوش نہیں ہو سکتے۔ انبیا ء علیہم السلام ہمیشہ پیروی کے لیے نمونہ ہو کرآتے ہیں اور سچ یہ ہے کہ بدُوں پیروی کچھ بھی نہیں’’۔

(ملفوظات جلد 3صفحہ 535 ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

ماہ محرم درودشریف اور دعائیں

حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:

‘‘پس حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے جن کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ وہ سردارانِ بہشت میں سے ہیں، ہمیں صبر و استقامت کا سبق دے کر ہمیں جنت کے راستے دکھا دیے۔ ان دنوں میں یعنی محرم کے مہینہ میں خاص طور پر جہاں اپنے لیے صبر و استقامت کی ہر احمدی دعا کرے، وہاں دشمن کے شر سے بچنے کے لیے رَبِّ کُلُّ شَیْئٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَانْصُرْنِیْ وَارْحَمْنِیْ کی دعا بھی بہت پڑھیں۔ پہلے بھی بتایا تھا کہ ہمیں یہ دعا محفوظ رہنے کے لیے پڑھنے کی بہت ضرورت ہے۔ اَللّٰھُمَّ اِنَّا نَجْعَلُکَ فِیْ نُحُوْرِھِمْ وَنَعُوْذُبِکَ مِنْ شُرُوْرِھِمْ کی دعا بھی بہت پڑھیں۔ درود شریف پڑھنے کے لیے میں نے گزشتہ جمعہ میں بھی کہا تھا پہلے بھی کہتا رہتا ہوں کہ اس طرف بہت توجہ دیں۔ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو اپنی حفاظت میں رکھے۔ دشمن جو ہمارے خلاف منصوبہ بندیاں کر رہا ہے اس کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ اپنی خاص تائید و نصرت فرمائے اور ہم پر رحم کرتے ہوئے دشمنانِ احمدیت کے ہر شر سے ہر فردِ جماعت کو اور جماعت کو محفوظ رکھے۔ ان کا ہر شر اور منصوبہ جو جماعت کے خلاف یہ بناتے رہتے ہیں یا بنا رہے ہیں، اللہ تعالیٰ انہی پر الٹائے۔ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی حقیقی آل میں شامل فرمائے۔ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ہے کہ اصل مقام روحانی آل کا ہے۔ اگر جسمانی رشتہ بھی قائم رہے تو یہ تو ایک انعام ہے۔ لیکن اگر جسمانی آل تو ہو لیکن روحانی آل کا مقام حاصل کرنے کی یہ جسمانی آل اولاد کوشش نہ کرے تو کبھی اُن برکات سے فیضیاب نہیں ہو سکتی جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے منسلک ہونے سے اللہ تعالیٰ نے دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔’’

(خطبہ جمعہ 23؍ نومبر 2012ء)

اللہ تعالیٰ ہمیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ ﷺکی آل کا صحیح مقام و مرتبہ سمجھتے ہوئے ان سے عقیدت و محبت اور ہمیشہ ان پر درود بھیجنے توفیق عطا فرماتا چلا جائے۔آمین

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close