سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نصرتِ الٰہی پر کامل یقین

(ایاز محمود خان۔ یوکے)

تقریر جلسہ سالانہ یوکے 2019ء

اِنَّا لَنَنْصُرُ رُسُلَنَا وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَ یَوْمَ یَقُوْمُ الْاَشْہَادُ ۔

یقیناً ہم اپنے رسولوں کی اور اُن کی جو ایمان لائے اِس دنیا کی زندگی میں بھی مدد کریں گے اور اُس دن بھی جب گواہ کھڑے ہوں گے۔

(سورۃ المؤمن ۔آیت 52)

دنیا میں ہم مشاہدہ کرتے ہیں کہ دوست ہمیشہ ایک دوسرے کا ساتھ دیتے ہیں۔ دوستوں کو ایک دوسرے پر بھروسا بھی ہوتا ہے۔ پھر ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا والوں کی دوستی اگر کسی ایسے شخص کے ساتھ ہوجائے جو اعلیٰ عہدےپر فائز ہو تو بساوقت وہ اس پر بڑا فخر اور ناز کرتے ہیں۔

لیکن سامعین و حضرات ذرا اس شخص کے بارے میں سوچیں جس کا دوست تمام بادشاہوں کا مالک ، زمین و آسمان کاپیدا کرنے والا ، ہر وفاکرنے والے سے زیادہ وفادار ، قادر مطلق خدا بن جائے۔ جسے اللہ تعالیٰ کی دوستی کا شرف نصیب ہوجائے اسے اَور کیا چاہیے؟

اولیاء اللہ کے مقدس گروہ میں سب سے بڑھ کے خدا تعالیٰ کے انبیا علیہم السلام ہوتے ہیں۔اور اس زمانہ میں اپنے آقا و مطاع حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی کامل غلامی میں جس پاک اور بابرکت وجود کو خدا تعالیٰ نےنبوت کی خلعت پہنا کر اسلام کی نشأۃ ثانیہ کے لیے مبعوث فرمایا اور خدائی قدرت کے نشانوں کو ایک مرتبہ پھر پوری آب و تاب سے دنیا پر ظاہر کرنے کے لیے کھڑا کیا وہ بانیٔ جماعت احمدیہ حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی مسیح موعود و مہدی معہود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا وجود ہے۔

خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تائیدونصرت میں بے شمارنشان دکھائے جو یقینا ًسب کے سب ہستی باری تعالیٰ کےزبردست ثبوت ہیں۔لیکن آج اس بابرکت اجلاس میں جس موضوع پر عاجزکو اپنی چند گزارشات پیش کرنے کی سعادت مل رہی ہے اُس کا مرکز خدا کے ایک محبوب بندے کا وہ کامل اعتماد ہے جو اسے اپنے پیارے خدا پر تھا، وہ یقین ہے جو اسے اپنے رب کی مدد پر تھا، وہ بھروسا ہے جو ایک دوست کو اپنے حقیقی دوست پر تھا۔خاکسار کا موضوع ہے:

‘‘حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا نصرتِ الٰہی پر کامل یقین ’’

انبیاء علیہم السلام سے اللہ تعالیٰ کا سلوک اور ان کا یقین

معزز سامعین! خدا کی تائید ونصرت پر انبیا ءعلیہم السلام کو ایسا اعلیٰ درجے کا یقین ہوتا ہے کہ وہ پوری تحّدی سے اپنے مخالفین کو چیلنج کرتے ہیں کہ

یٰقَوْمِ اِنْ کَانَ کَبُرَ عَلَیْکُمْ مَّقَامِیْ وَ تَذْ کِیْرِیْ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ فَعَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْتُ فَاَجْمِعُوۤا اَمْرَکُمْ وَ شُرَکَآءَکُمْ ثُمَّ لَا یَکُنْ اَمْرُکُمْ عَلَیْکُمْ غُمَّۃً ثُمَّ اقْضُوۤا اِلَیَّ وَ لَا تُنْظِرُوْنِ

یعنی اے میری قوم! اگر تم پر میرا مؤقف اور اللہ کے نشانات کے ذریعہ نصیحت کرنا شاق گزرتا ہے تو میں تو اللہ ہی پر توکل کرتا ہوں۔ پس تم اپنی تمام طاقت اکٹھی کر لو اور اپنے شرکاء کو بھی۔ پھر اپنی طاقت پر تمہیں کوئی اشتباہ نہ رہے پھر کر گزرو جو مجھ سے کرنا ہے اور مجھے کوئی مہلت نہ دو۔

(سورۃ یونس ۔آیت 72)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو یقین اور اعتماد اپنے رب کی تائید ونصرت پر تھا اس کی اس زمانے میں نظیر نہیں ملتی۔اور ایسا کیوں نہ ہوتا؟ آپ کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً فرمایا:

‘‘لَا تَخَفْ اِنَّکَ اَنْتَ الْاَعْلیٰ’’

یعنی تم خوف نہ کرو یقیناً تم ہی غالب رہوگے۔

(براہین احمدیہ حصہ چہارم ۔ روحانی خزائن ، جلد 1، صفحہ 658حاشیہ در حاشیہ نمبر 4)

حضرت اقدس علیہ السلام فرماتے تھے کہ‘‘اِدھر ہم نے سونے کے لیے تکیے پر سر رکھا اُدھر آواز آنی شروع ہوئی کہ دن میں تمہیں بہت گالیاں لوگوں نے دی ہیں۔ مگر فکر نہ کرو ہم تمہارے ساتھ ہیں۔اوراکثر تکیے پر سر رکھنے سے لے کر اٹھنے تک اللہ تعالیٰ اسی طرح تسلی دیتا رہتا ہے۔’’ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ‘‘بعض دفعہ ساری ساری رات یہی الہام ہوتا رہا ہے کہ اِنّیِ مَعَ الرَّسُوْلِ اَقُوْمیعنی میں اپنے رسول کے ساتھ کھڑا ہوں۔’’

(الف:۔ماخوذ از الفضل ۱۰؍ ستمبر ۱۹۳۸ء صفحہ ۶تا۷، جلد ۲۶، نمبر ۲۰۹۔ ب:۔ الفضل ۲۰ ؍مارچ ۲۰۱۵ء صفحہ ۷ خطبہ جمعہ بیان فرمودہ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز، مورخہ ۲۷ ؍فروری ۲۰۱۵ء)

تو پھر وہ خوش قسمت اور بابرکت وجود جسے عرش کا خدا ساری ساری رات تسلیاں دیتا ہو اور ایک مشفق ماں سے بھی زیادہ محبت سے اپنی گود میں اس کا سر رکھ کے اسے یہ کہتا ہوکہ تم فکر نہ کرو میں تمہارے ساتھ ہوں وہ ایک لمحے کے لیے بھی کس طرح اپنے خدا پر شک کرسکتا ہے ۔ نصرتِ الٰہی پر جو یقین اور اعتماد اسے ہو گا وہ الفاظ میں کیسے بیان کیا جائے؟

پیشگوئیوں پر یقین

آپؑ کو اپنی پیشگوئیوں پر ایسا یقین تھا کہ بعض اوقات اُن کا ذکر کرکے فرمایا کرتے تھے کہ وہ ضرور پوری ہوں گی اور اگر ایسا نہ ہوا تو میں اس بات کے لیے تیار ہوں کہ مجھے مفتری قرار دے کر پھانسی دے دی جائے یا کوئی اَور سزا جو فریق مخالف تجویز کرے۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی فرماتے تھے کہ ایسا کبھی نہیں ہوگا کیونکہ خدا کی باتیں ضرور میرے حق میں پوری ہوں گی۔

جب آپ علیہ السلام نے ‘مصلح موعود ’کی عظیم الشان پیشگوئی فرمائی اور معترضین نے اس پر اعتراضات کیے تو آپ نے انتہائی وثوق سے فرمایا:

‘‘میں جانتا ہوں اور محکم یقین سے جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق مجھ سے معاملہ کرے گا……اور اگر مدت مقرر سے ایک دن بھی باقی رہ جائے گا تو خدائے عز و جل اس دن کو ختم نہیں کرے گا جب تک اپنے وعدہ کوپورا نہ کرلے’’۔

(اشتہار تکمیل تبلیغ مورخہ ۱۹ ؍جنوری ۱۸۸۹ء، مجموعہ شتہارات، جلد ۱، صفحہ ۱۹۱)

مضمون بالا رہا

جب وسیع پیمانے پر جلسۂ اعظم مذاہبِ عالم لاہور میں منعقد ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو بھی اس جلسے میں اپنا مضمون پیش کرنے کی دعوت دی گئی جو اب اسلامی اصول کی فلاسفی سے موسوم ہے ۔جب آپ نے مضمون مکمل کرلیا تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو الہاماً یہ خوشخبری دی کہ

‘‘مضمون بالا رہا۔’’

(حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن، جلد ۲۲، صفحہ ۲۹۱)

آپؑ نے عام جلسے سے پانچ چھے روز قبل ایک اشتہاردیا اور اس میں فرمایاکہ یہ مضمون انسانی طاقتوں سے برتر اور خدا کے نشانوں میں سے ایک نشان اور خاص اس کی تائید سے لکھا گیا ہے۔آپؑ نے فرمایا کہ خدائے علیم نے الہام سے مطلع فرمایا ہے کہ یہ وہ مضمون ہے جو سب پر غالب آئےگا۔پس دوست اپنا اپنا ہرج بھی کرکے اس مضمون کو سننے کے لیے ضرور تاریخ جلسہ پر آویں۔

حضرت اقدس علیہ السلام کا یہ اشتہار جو ایک عظیم الشان پیشگوئی پر مشتمل تھا ملک کے دور دراز مقامات تک پھیلایا گیا ، لاہور کے درو دیوار پر بھی چسپاں کیا گیا اور لوگوں میں کثرت سے تقسیم بھی کیاگیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا فرمانا کہ یہ مضمون خاص اللہ کی تائید کا نشان ہے، آپؑ کا تحدی سے فرمانا کہ یہ مضمون تمام دیگر تقاریر پر غالب رہے گا، اور آپ کا پورے اعتماد سے لوگوں کو دعوت دینا کہ اپنا ہرج کرکے بھی اس مضمون کوسننے کے لیے آئیں اور پھر آپؑ کا قبل از وقت اس الہام کوکثرت سے شائع کرکے لوگوں میں تقسیم کردینا یہ سب ظاہر کرتا ہے کہ آپؑ کو اللہ تعالیٰ کے کلام پر اور اس کی نصرت پر کامل یقین تھا۔

اپنی علمی قابلیت اور لیاقت پر فخر کرنے والے بہتیرے ہیں لیکن ایسا دعویٰ ہر گز انسان کے بس کی بات نہیں کیونکہ کوئی مقرر یا مصنف خواہ کتنا ہی قادر الکلام کیوں نہ ہواسے دوسروں کے دلوں پر اختیار نہیں ہوتا۔لیکن جس خدا کی تائید ونصرت پر حضرت اقدس علیہ السلام کو کامل یقین تھا وہ وہ خدا تھا جس کے ہاتھ میں لوگوں کے دل ہیں۔اور آپؑ کو پورا اعتماد تھا کہ جس خدا نے مجھے غلبے کا وعدہ دیا ہے وہی لوگوں کے دلوں کوبھی میرے مضمون کی طرف پھیرے گا۔

اور تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ آپؑ کے مضمون کو ہی سب سے زیادہ پذیرائی حاصل ہوئی۔حضرت اقدس ؑکی مخالفت کے باوجود ہزاروں لوگ بے حد شوق سےآپ کامضمون سننے آئے جن میں بڑے بڑے سرکردہ احباب بھی شامل تھے ۔ حاضرینِ جلسہ کے اصرار پر نہ صرف اُس روز کی کارروائی کے وقت میں اضافہ کیا گیا بلکہ جلسےکا ایک دن صرف اس مضمون کو مکمل کرنے کے لیے مزید بڑھایا گیا۔

بند لفافہ

ایک دفعہ بٹالہ کے عیسائیوں نے حضرت اقدس علیہ السلام کو چیلنج کیا کہ اگر آپؑ واقعی خدا کی طرف سے ہیں تو ہم ایک خط کے اندر کچھ عبارت لکھ کے اور اسے لفافہ میں بند کرکے آپؑ کے سامنے میز پر رکھ دیتے ہیں۔اگر آپؑ سچے ہیں تو اپنی روحانی طاقت سےاس لفافے کے اندر کا مضمون بتادیں۔وہ شاید سمجھتے ہونگے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ایسا عجیب وغریب چیلنج قبول کرنے سے انکار کردیں گےاور انہیں حضور کے خلاف غلط خبریں پھیلانے کا موقع مل جائے گا۔لیکن جب اسلام کے دوسرے مذاہب کے ساتھ مقابلے کا سوال ہو تو آپؑ کہاں چیلنج سے پیچھے ہٹتے تھے۔آپؑ نے پورے اعتماد سے فرمایا:

‘‘میں چیلنج کو قبول کرتا ہوں اور اس مقابلہ کے لیے تیار ہوں کہ دعا اور روحانی توجہ کے ذریعہ آپ کے بند خط کا مضمون بتادوں مگر شرط یہ ہے کہ اس کے بعد آپ لوگوں کو مسلمان ہونا ہوگا۔ ’’

(اصحابِ احمد، جلد چہارم، صفحہ ۱۰۴)

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا پر توکل کرتے ہوئے اور اس کی نصرت پر کامل یقین کے ساتھ جب یہ فرمایا تو عیسائیوں پر ایسا رعب پڑا کہ وہ بالکل خاموش ہوگئے ۔خود اپنی طرف سے چیلنج دے کر پھر سامنےآنے کی جرأت نہ ہوئی۔یہ واقعہ آپ علیہ السلام کے نصرت الٰہی پر کامل یقین کا زبردست ثبوت ہے۔آپ نے مخالفین کے ایسے چیلنج کو قبول کیا جو بظاہر محالات میں سے تھا۔لیکن جب خدا ئےقادر پر یقین کامل ہو تو ہر غیر ممکن امر ممکن نظر آتا ہے۔

اگر میں سچا ہوںتو مسجد مل کے رہے گی

ایک اور واقعہ پیش کرتا ہوں۔جب جماعت احمدیہ کپورتھلہ کی مسجد پر قبضہ کرنے کی کوشش کی گئی اور بالآخر یہ معاملہ عدالت میں پہنچاتوجس جج کے پاس یہ مقدمہ گیا وہ جماعت کا سخت مخالف تھا ۔اس کی وجہ سے کپورتھلے کی جماعت کو بڑی فکر ہوئی اور وہ اسی فکرمندی سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں دعا کے لیے عرض کرتے۔ایک دن حضرت اقدسؑ نے غیرت اور جلال سے فرمایا:

‘‘گھبراؤ نہیں۔اگر میں سچا ہوں تو یہ مسجد تمہیں ضرور مل کر رہےگی’’۔

(سیرت المہدی، مرتبہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے، روایت۷۹)

لیکن جج کی مخالفت جاری رہی اور ایک دن اس نے عدالت میں برملا کہہ بھی دیا کہ تم لوگوں نے نیا مذہب نکالا ہے اب مسجد بھی تمہیں نئی بنانی پڑےگی ۔ آخر اپنے عہدے کے گھمنڈ میں اس جج نے کپورتھلے کے احمدیوں کے خلاف فیصلہ لکھ دیا۔جس دن اس نے فیصلہ سنانا تھا اس روز صبح عدالت میں پہنچنے سے پہلے ہی اچانک اس کو دل کا حملہ ہوا اور وہ ختم ہوگیا۔اس کی جگہ جب دوسرا جج آیا تو اس نے احمدیوں کے حق میں فیصلہ کردیا۔

احباب کرام ذرا غور کیجیے! یہ معلوم ہے کہ جج احمدیوں کے خلاف ہے اور وہ اپنے تعصب کا برملا اظہار بھی کرتا ہے۔بلکہ جج فیصلہ بھی لکھ دیتا ہے ۔لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اِس دنیاوی جج سے کہیں بڑھ کے اپنےاحکم الحاکمین خداکی قدرت اور نصرت پر توکل اور یقین تھا۔آپؑ کو اللہ کی مدد پر اس قدر یقین تھا جتنا کہ آپ کو اپنے مامور من اللہ ہونے پر ۔ اِس دنیاوی حاکم کو یہ خیال نہ رہا کہ جس جماعت کے خلاف وہ فیصلہ سنانے جارہا تھا وہ خدا کے اُس برگزیدے کی جماعت تھی جواِس زمانے میں آسمانی بادشاہت کا حکم تھا۔دو حکومتوں کا مقابلہ تھا ۔ زمینی حاکم نے جب حضرت اقدس علیہ السلام کے خلاف قلم چلایا تو زمین و آسمان کے بادشاہ نے اپنےپیارے کا پاس کرتے ہوئے اُسے حرف غلط کی طرح اس دنیا سے ہی مٹادیا۔
اور اس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کو یہ نہ بھولنے والا سبق دیا کہ جب عرش کا خدا ہمیں کچھ عطا کرنا چاہے تو دنیا کی کوئی طاقت اسے روک نہیں سکتی۔پس ہمیں بھی اپنی تمام تر امیدوں کا مرجع خدا تعالیٰ کو ہی سمجھنا چاہیے۔

جب میرا کیسہ خالی ہو

ہم عام طور پرمشاہدہ کرتے ہیں کہ جب مالی مشکلات کا سامنا ہو تو لوگ شدید پریشانی کا شکار ہوجاتے ہیں۔لیکن ذرا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے الفاظ سنیں۔آپؑ فرماتے ہیں:

‘‘میں اپنے قلب کی عجیب کیفیت پاتا ہوں جیسے سخت حبس ہوتا ہے اور گرمی کمال شدت کو پہنچ جائے، لوگ وثوق سے امید کرتے ہیں کہ اب بارش ہوگی۔ایسا ہی جب میں اپنی صندوقچی کو خالی دیکھتا ہوں تو مجھے خدا کے فضل پریقین واثق ہوتا ہے کہ اب یہ بھرے گی اور ایسا ہی ہوتا ہے۔’’

(ملفوظات، جلد ۱، صفحہ ۲۹۷)

پھر آپؑ خدا تعالیٰ کی قسم کھا کرفرماتے ہیں:

‘‘جب میرا کیسہ خالی ہوتا ہے جو ذوق و سرور خدا تعالیٰ پر توکل کا اُس وقت مجھے حاصل ہوتا ہے میں اُس کی کیفیت بیان نہیں کرسکتا اور وہ حالت بہت ہی زیادہ راحت بخش اور طمانیت انگیز ہوتی ہے بہ نسبت اس کے کہ کیسہ بھرا ہوا ہو۔’’

(ملفوظات، جلد ۱، صفحہ ۲۹۷)

بلا شبہ حضرت اقدس علیہ السلام کے دل میں خداپر توکل اور اس کی مدد پر ایسا پختہ یقین تھا کہ اِس زمانہ میں اُس کی نظیر نہیں ملتی ۔آپؑ کا دل اس یقین سے بھرا ہوا تھا کہ خدا تعالیٰ کبھی بھی آپ کو تہی دست نہیں چھوڑے گا اور ہمیشہ آپؑ کی ضروریات پوری کرے گا تاکہ آپ اپنے الٰہی مشن کے کاموں کو تکمیل تک پہنچا سکیں۔یقیناً اللہ تعالیٰ نے ابتدا میں جو آپؑ کو یہ الہام کیا کہ اَلَیْسَ اللّٰہُ بِکَافٍ عَبْدَہٗ یعنی کیا خدا اپنے بندے کے لیے کافی نہیں یہ ہمیشہ ہی آپؑ کی زندگی میں نصرت الٰہی کے کرشمے دکھاتا رہا۔ اور آپؑ کی نصرت الٰہی پر یقین کامل ہونے کی بنیاد بنا۔

یہ جان آگ میں پڑ کرسلامت آنے والی ہے

حضرت مسیح موعود علیہ السلام اللہ تعالیٰ میں ایسے فنا تھے اور خدا بھی آپ سے ایسی محبت کرتا تھا کہ آپ کو اپنے رب کی غیر معمولی تائید ونصرت اور حفاظت پر ناز تھا۔ایک دفعہ جب ایک ہندو نے اسلام پر یہ اعتراض کیا کہ قرآن نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے متعلق یہ بات قانون قدرت کے خلاف بیان کی ہے کہ دشمنوں نے ان کو آگ میں ڈالا اور خدا کے حکم سے آگ ان پرٹھندی ہوگئی تو حضرت مولانا نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ نے اس اعتراض کا یہ جواب دیا کہ حقیقی آگ مراد نہیں بلکہ جنگ اور مخالفت کی آگ مراد ہے ۔ جب حضرت اقدس علیہ السلام نے یہ جواب سنا تو آپؑ نے بڑےجلال کے ساتھ فرمایا:

‘‘اس تاویل کی ضرورت نہیں۔حضرت ابراہیم کا زمانہ تو گزر چکا۔اب ہم خدا کی طرف سے اس زمانہ میں موجود ہیں ہمیں کوئی دشمن آگ میں ڈال کر دیکھ لے کہ خدا ا ُس آگ کو ٹھنڈا کر دیتا ہے کہ نہیں۔آج اگر کوئی دشمن ہمیں آگ میں ڈالے گا تو خدا کے فضل سے ہم پر بھی آگ ٹھنڈی ہوگی۔’’

(سیرت المہدی، مرتبہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے، روایت۱۴۷)

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام خدا کی نصرت پر کس یقین اور تحدی سے فرماتے ہیں:

ترے مکروں سےاے جاہل مرا نقصاں نہیں ہر گز

کہ یہ جاں آگ میں پڑ کر سلامت آنے والی ہے

سامعین و حضرات! دنیا کی نظر میں اس ہندو کا اعتراض بظاہر معقول معلوم ہوتا ہے۔اور قانون قدرت یہی ہے کہ آگ جلاتی ہے۔لیکن یہ جری اللہ فی حلل الانبیاء ، اللہ تعالیٰ کا یہ پہلوان جو تمام انبیاء کا لبادہ اوڑھے ہوئے اور ان کی متفرق خصوصیات اپنے وجود میں جمع کیے ہوئے اس زمانے میں مبعوث ہوا تاکہ زندہ نشانوں کے ذریعہ اسلام کو تمام مذاہب پر غالب کر دکھائے کس شان سے فرماتے ہیں کہ دنیا کی نظر میں قانون قدرت یہی ہوگا کہ آگ جلاتی ہے لیکن جس قادر مطلق ہستی نے مجھے کھڑا کیا ہے وہ قانون قدرت کا بھی مالک ہے اور آج بھی اگر اسلام پر کوئی اعتراض کرتا ہے تو مجھے خدا کی نصرت پر ایسا یقین ہے کہ وہ ضرور آج بھی میرے ہاتھ پر گزشتہ زمانہ کے معجزات ظاہر کرےگا جو بظاہر دنیا کی نظر میں بالکل ناممکن اور قانون قدرت کے خلاف ہیں۔

خدا تعالیٰ نے تو حضرت اقدس علیہ السلام کو الہاماً یہ بھی فرمایا کہ تو لوگوں سے کہہ دے:۔

‘‘آگ سے ہمیں مت ڈراؤ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔’’

(البدر، جلد ۱، نمبر ۵، ۶، مورخہ ۲۸ نومبر اور ۵دسمبر ۱۹۰۲ء، صفحہ ۳۴)

اللہ تعالیٰ کے لیے لوہے کے کنگن

ایک طرف جہاں حضرت اقدس علیہ السلام کو نصرتِ الٰہی پر اس قدر بھروسا تھا کہ آگ میں پڑ کر بھی سلامت نکل آنے کا یقین تھا وہاں آپؑ اپنے خدا کے لیے ہر تکلیف برداشت کرنے کے لیے تیار تھے اور اسے عین راحت محسوس کرتے۔

ایک بار جب سپرنٹنڈنٹ پولیس لیکھرام کے قتل کے شبہ میں اچانک قادیان آیااور حضرت میرناصرنواب صاحب رضی اللہ عنہ کواِس کی اطلاع ہوئی تووہ سخت گھبراہٹ کی حالت میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے پاس گئے۔غلبہ رقت کی وجہ سے بڑی مشکل سے آپ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو یہ خبر دی کہ سپرنٹنڈنٹ پولیس (S.P )وارنٹ گرفتاری کے ساتھ ہتھکڑیاں لیے ہوئے آرہا ہے۔حضرت اقدس علیہ السلام اس وقت اپنی کتاب‘‘نورالقرآن’’تصنیف فرما رہے تھے۔سر اٹھا کر اطمینان سے مسکراتے ہوئے فرمایا:
‘‘میرصاحب! لوگ خوشیوں میں چاندی سونے کے کنگن پہناہی کرتے ہیں ہم سمجھ لیں گے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کی راہ میں لوہے کے کنگن پہن لیے۔’’

(ملفوظات، جلد ۱، صفحہ ۲۷۹)

پھرذراتأمل کےبعد فرمایا:

‘‘مگرایسانہ ہوگا۔کیونکہ خدا تعالیٰ اپنے خلفائے مامورین کی ایسی رسوائی پسند نہیں کرتا۔’’

(ملفوظات، جلد ۱، صفحہ ۲۷۹)

اللہ تعالیٰ کی تائید ونصرت پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یقین ایسا غیر متزلز ل تھا کہ آپؑ اس خبر سے بالکل پریشان نہیں ہوئے۔پولیس ہتھکڑیاں لے کر دروازے پر کھڑی ہے اور آپ کس جرأت سے فرماتے ہیں کہ مجھے کچھ نہیں ہوگا۔میرا خدا میرے ساتھ ہے اور ضرور مجھے رسوائی سے بچائے گا۔اور ایسا ہی ہوا۔سپرنٹنڈنٹ کو تلاشی کے نتیجے میں کوئی قابل اعتراض بات نہیں مل سکی اوروہ جس طرح آیا تھا اسی طرح واپس چلا گیا۔

پس اگر ہم بھی اللہ تعالیٰ کے ہوجائیں اور یہ حقیقت سمجھ لیں کہ اللہ تعالیٰ کے اذن کے بغیر ایک پتا بھی نہیں گر سکتا تونہ کوئی ہمیں مرعوب کرسکتا ہے اور نہ دنیا کی کوئی طاقت ہم پر غالب آسکتی ہے۔

طاعون کے زمانے میں آپؑ کا یقین اور توکل

جس زمانے میں طاعون زوروں پر تھا اور پورے ہندوستان میں شہروں کے شہر خالی ہورہے تھے انگریز حکومت نے ٹیکےکا انتظام کیا تاکہ لوگوں کی جان بچائی جاسکے ۔طاعون کے پھوٹنے سےبہت پہلے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے پیشگوئی فرمائی تھی کہ اس ملک میں نشان کے طور پر طاعون پھیلے گا اور اُس وقت چونکہ طاعون کا نام و نشان نہ تھا لوگوں نے آپؑ کا خوب استہزا کیا۔آپ نے یہ پیشگوئی بھی شائع فرمائی کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ

‘‘اِنِّی اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارِ’’

یعنی ہر ایک جو تیرے گھر کی چار دیواری کے اندر ہےمیں اس کو بچاؤں گا۔

(الحکم جلد ۶ نمبر ۱۶ مورخہ ۳۰ ؍اپریل ۱۹۰۲ء صفحہ ۷)

طاعون کی وجہ سے چاروں طرف موتا موتی کا عالم تھا۔لیکن ذرا دیکھیے کہ حضرت اقدس علیہ السلام کو خدا کی نصرت پر کیسا اعلیٰ درجےکا یقین تھا۔آپؑ نے فرمایا کہ چونکہ طاعون میری تائید میں ایک نشان ہے اس لیے اگر ٹیکہ لگواکے ہم اس وبا سے محفوظ رہے تو اِس نشان کی عظمت کو کم کرنے والے ہوں گے۔لہٰذا میں ٹیکہ نہیں لگواؤں گا اور اس کے باوجود طاعون سے بچایا جاؤں گا بلکہ وہ سب بھی بچائے جائیں گے جو میری چار دیواری کے اندر رہتے ہیں۔اور آپؑ نے فرمایا کہ میرے منجانبِ اللہ ہونے کایہ نشان ہوگا کہ میری جماعت بھی نسبتاً و مقابلۃً طاعون کے حملے سے بچی رہے گی۔پس نہ صرف آپؑ خود محفوظ رہے بلکہ آپؑ کے سچے پیروکار بھی اس مہلک بیماری سے ٹیکا لگوائے بغیر اللہ کی حفاظت میں رہے۔

اسی زمانے میں مولوی محمد علی صاحب جو ان دنوں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے گھر میں مقام پذیر تھے ان کو بخار ہوگیا۔مولوی صاحب نےگھبراہٹ کے عالم میں حضورؑ سے ذکر کیا اور یہ فکر ظاہر کی کہ انہیں طاعون ہوگیا ہے۔تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انتہائی اعتماد اور یقین سے فرمایا:
‘‘مولوی صاحب اگر آپ کو طاعون ہوگئی ہے تو پھر میں جھوٹا ہوں اور میرا دعویٰ الہام غلط ہے۔’’

(حقیقۃ الوحی ۔روحانی خزائن، جلد ۲۲، صفحہ ۲۶۵)

اور پھر چند ہی لمحات میں بخار بھی اتر گیا اور آپ بالکل صحت یاب ہوگئے۔

سامعین و حضرات!کیا یہ ایک عظیم الشان معجز ہ نہیں؟ کیا ایسا دعویٰ انسان کی طاقت میں ہے؟کیا اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ حضرت اقدس علیہ السلام کو نصرت الٰہی پر ایسا کامل یقین تھا کہ موت بھی آپ سے دور بھاگتی تھی؟ جب سارے ملک میں عام وبا پھیلی ہوئی ہو تو کون اتنے دعوے سے کہہ سکتا ہے کہ نہ میں ٹیکہ لگواؤں گا اور نہ میرے سچے پیروکار لیکن اس کے باوجودہم سب اس جان لیوا بیماری سے بچے رہیں گے۔

میں شکار نہیں شیر ہوں اور وہ بھی خدا کا شیر

ایک اَور واقعہ آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔جس زمانے میں حضرت اقدس علیہ السلام کے خلاف کرم دین کی طرف سے ایک لمبا مقدمہ چل رہا تھا آریوں نے اس کیس کے ہندو مجسٹریٹ کو جس کا نام چندو لال تھا خوب اکسایا اور حضرت اقدسؑ کا نام لے کر اسے کہا کہ یہ شخص ہمارا سخت دشمن اور ہمارے لیڈر لیکھرام کا قاتل ہے۔اب وہ آپ کے ہاتھ میں شکار ہے اور ساری قوم کی نظرآپ کی طرف ہے ۔ اگر آپ نے اس شکار کو ہاتھ سے جانے دیا تو آپ قوم کے دشمن ہوںگے۔ اس پر مجسٹریٹ نےاپنا یہ ارادہ ظاہر کیا کہ اگلی پیشی میں وہ کچھ ایسا کرے گا کہ بغیر ضمانت قبول کیے نعوذ باللہ حضور کو گرفتار کروا کے حوالات میں دے دےگا۔
حضرت اقدس علیہ السلام کے جاں نثار صحابہ کو اس کی خبر قبل از وقت مل گئی تھی اور سب بے حد پریشان تھے۔جب یہ سارا ماجرا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو سنایا گیا اور شکار کا لفظ آیا تو حضرت صاحب لیٹے ہوئے تھے۔ آپؑ یکلخت اُٹھ کر بیٹھ گئے اور آپؑ کی آنکھیں چمک اُٹھیں اور چہرہ سُرخ ہوگیا اور آپؑ نے فرمایا:

‘‘میں اُس کا شکار ہوں! میں شکار نہیں ہوں۔ میں شیرہوں، اور شیر بھی خدا کا شیر۔وہ بھلا خدا کے شیر پر ہاتھ ڈال سکتاہے ؟ ایسا کر کے تو دیکھے۔’’

(سیرت المہدی، مرتبہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے، روایت ۱۰۷)

یہ الفاظ کہتے ہوئے آپؑ کی آواز اتنی بلند ہوگئی کہ کمرے کے باہر بھی سب لوگ چونک اُٹھے۔ حضور نے کئی دفعہ خدا کے شیر کے الفاظ دوہرائے اور اُس وقت آپؑ کی آنکھیں جو ہمیشہ جھکی ہوئی اور نیم بند رہتی تھیں واقعی شیر کی آنکھوں کی طرح کھل کر شعلہ کی طرح چمکتی تھیں اور چہرہ اتنا سرخ تھا کہ دیکھا نہیں جاتا تھا۔پھر آپؑ نے فرمایا ‘‘میں کیا کروں میں نے تو خدا کے سامنے پیش کیا ہے کہ میں تیرے دین کی خاطر اپنے ہاتھ اور پاؤں میں لوہا پہننے کو تیار ہوں مگر وہ کہتا ہے کہ نہیں میں تجھے ذلت سے بچاؤں گا اور عزت کے ساتھ بری کرونگا۔’’

(سیرت المہدی، مرتبہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب ایم اے، روایت ۱۰۷)

اِس شیرِ خدا کو اپنے مولیٰ کی نصرت پر جو اندھا یقین تھا وہ تو دیکھ لیا۔اب اُس نعم المولیٰ اور نعم النصیر خدا کا سلوک بھی سن لیجیے ۔جس پیشی میں اس مجسٹریٹ کا ارادہ تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو حوالات میں دے دے گا وہ پیشی ملتوی ہوگئی پھر اِسی وقفے میں اِس مجسٹریٹ کا گورداسپور سے تبادلہ ہوگیا۔اور پھر کسی نا معلوم وجہ سے اس کا تنزل بھی ہو گیا۔پس جو کہتا تھا کہ مسیح دوراں اس کا شکار ہے وہ خود ذلت کا شکار ہوا۔اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام اور خدا کا کلام:

اِنِّی مُھِیْنٌ مَنْ اَرَادَ اِھَانَتَکَ

کہ جو تیری ذلت کا ارادہ کرےگا میں اسے ذلیل کردوں گا ایک قہری تجلی کے ساتھ پورا ہوا۔

حضرت اقدس علیہ السلام کیا خوب فرماتے ہیں:

جو خدا کا ہے اسے للکارنا اچھا نہیں

ہاتھ شیروں پر نہ ڈال اے روبۂ زار و نزار

ہے سرِ رہ پر مرے وہ خود کھڑا مولیٰ کریم

پس نہ بیٹھو میری رہ میں اے شریرانِ دیار

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت

سامعین و حضرات! بے شک حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ساری زندگی توکل علی اللہ اور نصرتِ الٰہی پر یقین کا وہ اعلیٰ نمونہ قائم کیا جو ہمیشہ ہمارے لیے مشعل راہ بنا رہے گا۔جب آپؑ نے ماموریت کا دعویٰ کیا تو مخالفت کا ہولناک طوفان اٹھا جس کی لہریں گویا آسمان کو چھوتی ہوئی بار بار آپؑ پر گرتیں لیکن آپؑ ایک مضبوط چٹان کی طرح اپنے الٰہی مقصد میں پورے عزم و استقلال سے قائم رہے اور ڈنکے کی چوٹ پر یہ اعلان فرماتے رہے کہ خدا نے مجھے بتایا ہے کہ میں تیری تبلیغ کو زمین کے کناروں تک پہنچاؤں گا۔ کیا یہ نصرت الٰہی پرآپ کے کامل یقین کا ثبوت نہیں؟ایک وہ وقت تھا جب قادیان میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے صرف 75؍افراد سےجلسہ سالانہ کا آغاز فرمایا۔اور اب ہم وہ وقت دیکھ رہے ہیں کہ ہر رنگ ونسل کے لوگ جو دنیا کے کونے کونے میں پھیلے ہوئے ہیں اس عالمگیر جلسے میں خلافت سے مستفیض ہونے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی برکت سے حصہ پانے اور نبی کریم ﷺ کا فیض سمیٹنے آتے ہیں اور قادیان میں بھی زمین کے کناروں سے مسیح پاک کے عشاق اپنے دلوں کی پیاس بجھانے کثرت سے آتے ہیں۔اور یہ اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ جب خدا کا بندہ اس پر توکل اور یقین کرکےتمام تر مخالفتوں کے باوجود اسی کے لیے اپنی زندگی جیتا ہے تو خدا تعالیٰ بھی نہ صرف اگلے جہان میں بلکہ اس دنیا میں بھی اسےہمیشہ کے لیے زندہ کردیتا ہے۔

خدا تعالیٰ کے انبیاء اپنے نمونے اسی لیے قائم کرتے ہیں تاکہ ان کی جماعتیں بھی اِن پر عمل کرکے اپنے اندر ایک پاک تبدیلی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ دنیا میں بھی ایک انقلاب برپا کرسکیں۔

حضرت اقدس علیہ السلام فرماتے ہیں:

خدا کے پاک لوگوں کو خدا سے نصرت آتی ہے

جب آتی ہے تو پھر عالَم کو اک عالَم دکھاتی ہے

پس اگر ہم اپنی زندگیوں میں خدا تعالیٰ کی تائید و نصرت کے نظارے دیکھنا چاہتے ہیں تو اس کی بنیادی شرط دل کی پاکیزگی ہے۔ اگرہم چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آج بھی ہمارے حق میں اپنی قدرت کے نشان دکھائے اور ہمارا دوست بن جائے تو ضرور ی ہے کہ ہم دلی خلوص کے ساتھ اللہ کے ہوجائیں اور ہر وہ راستہ اختیار کریں جو اس کی خوشنودی اور رضا کی طرف لےجانے والا ہے۔ہمارا خدا آج بھی زندہ ہے اوریہ معجزات اور یہ نشانات آج بھی خلافت کی برکت سے ظاہر ہو رہے ہیں۔

اے مسرور ! میں تیرے ساتھ ہوں

سامعین و حضرات! یہ ہماری خوش بختی ہے کہ اس دور میں ہم نے اپنی آنکھوں سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ الہام بڑی شان سے پورا ہوتا دیکھا کہ

‘‘اِنِّی مَعَکَ یَا مَسْرُوْرُ’’

یعنی اے مسرور ! میں تیرے ساتھ ہوں۔

(الحکم جلد ۱۱نمبر ۴۶ مورخہ ۲۴ ؍دسمبر ۱۹۰۷ صفحہ ۴)

ہم وہ خوش قسمت لوگ ہیں جنہیں خلافتِ خامسہ کا بابرکت دور ملا۔ہاں ہم وہ خوش قسمت قوم ہیں جنہیں حضرتِ مسرور کی شاندار قیادت کی نعمت نصیب ہوئی ۔ ہم یہ کبھی نہیں بھول سکتے کہ آج جو مردِ خدا ہمارا امام ہے، جو ہماری چھاؤں ہے، جو ہماری ڈھال ہے ، جو ہمارا دل اور ہماری جان ہے ، جس کی قیادت میں آج احمدیت کا قافلہ رواں دواں ترقیات کی منازل طے کر رہا ہے اُس مردِ خدا کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی معیت اور خاص مدد اور نصرت کا الٰہی وعدہ ہے۔آج یہی مردِ خدا ان تھک ہمت سے ہمیں پکار پکار کے بلاتا ہے تاکہ ہم خدا کی رضا کی راہوں پر چل کے نجات پاجائیں۔ یہی مردِ خدا، ہمارے غم میں، نہ اپنے لیے ،راتوں کو جاگ جاگ کے ہمارے لیے دعائیں کرتا ہے ۔پس جب تک ہم اِس امام سے چمٹے رہیں گے،اُس کی صحت وسلامتی کے لیے دعائیں کرتے رہیں گے، اور اُس کی کامل اطاعت کریں گے اور جب تک ہمارے دلوں میں یہ احساس قائم رہے گا کہ ہماری تمام تر ترقیات خلافت سے وابستہ رہنے میں ہیں تو بیعتِ خلافت کی برکت سے ہمیں بھی حضرتِ مسرور سےکیے گئے الٰہی معیت اور نصرت کے وعدوں سے حصہ ملتا رہے گا۔ اور دنیا کی کوئی طاقت ہمارے قدموں کو روک نہیں سکے گی ۔خلافت کی قیادت میں ہم آگے سے آگے بڑھتے ہی جائیں گے۔ان شاء اللہ العزیز۔

آخر میں خاکسار اپنی تقریر کا اختتام حضرت مسیح موعود علیہ السلام کےاِن پُر از یقین الفاظ سے کرتا ہے۔ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں:

‘‘صادق تو ابتلاؤں کے وقت بھی ثابت قدم رہتے ہیں اور وہ جانتے ہیں کہ آخر خدا ہمارا ہی حامی ہوگا ۔اور یہ عاجز اگرچہ ایسے کامل دوستوں کے وجود سے خداتعالیٰ کا شکر کرتا ہے ۔ لیکن باوجود اس کے یہ بھی ایمان ہے کہ اگرچہ ایک فرد بھی ساتھ نہ رہے اور سب چھوڑ چھاڑ کر اپنا اپنا راہ لیں تب بھی مجھے کچھ خوف نہیں ۔ میں جانتا ہوں کہ خداتعالیٰ میرے ساتھ ہے اگر میں پیسا جاؤں اور کچلا جاؤں اور ایک ذرّے سے بھی حقیر تر ہو جاؤں اور ہر ایک طرف سے ایذا اور گالی اور لعنت دیکھوں ۔تب بھی میں آخر فتح یاب ہوں گا ۔ مجھ کو کوئی نہیں جانتا مگر وہ جو میرے ساتھ ہے ۔ میں ہرگز ضائع نہیں ہوسکتا ۔دشمنوں کی کوششیں عبث ہیں اور حاسدوں کے منصوبے لاحاصل ہیں ۔

اے نادانو اور اندھو مجھ سے پہلے کون صادق ضائع ہوا جو میں ضائع ہو جاؤں گا ۔ کس سچے وفادار کو خدا نے ذلت کے ساتھ ہلاک کر دیا جو مجھے ہلاک کرے گا یقیناً یاد رکھو اور کان کھول کر سنو کہ میری روح ہلاک ہونے والی روح نہیں اور میری سرشت میں ناکامی کا خمیر نہیں مجھے وہ ہمت اور صدق بخشا گیا ہے جس کے آگے پہاڑ ہیچ ہیں۔ میں کسی کی پرواہ نہیں رکھتا ۔ میں اکیلا تھا اور اکیلا رہنے پر ناراض نہیں کیا خدا مجھے چھوڑ دے گا کبھی نہیں چھوڑے گا ۔کیا وہ مجھے ضائع کر دے گا کبھی نہیں ضائع کرے گا۔ دشمن ذلیل ہوں گے اور حاسد شرمندہ اور خدا اپنے بندہ کو ہر میدان میں فتح دے گا ۔ میں اُس کے ساتھ وہ میرے ساتھ ہے کوئی چیز ہمارا پیوند توڑ نہیں سکتی اور مجھے اُس کی عزت اور جلال کی قسم ہے کہ مجھے دنیا اور آخرت میں اِس سے زیادہ کوئی چیز بھی پیاری نہیں کہ اُس کے دین کی عظمت ظاہر ہو ۔ اُس کا جلال چمکے اور اُس کا بول بالا ہو۔ کسی ابتلا سے اُس کے فضل کے ساتھ مجھے خوف نہیں اگرچہ ایک ابتلا نہیں کروڑ ابتلا ہوں ۔ابتلاؤں کے میدان میں اور دکھوں کے جنگل میں مجھے طاقت دی گئی ہے۔’’

(انوار الاسلام، روحانی خزائن جلد 9، ص23)

وَ اٰخِرُ دَعْوَانَا اَنِ الْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close