متفرق شعراء

جلسہ سالانہ برطانیہ 2019

ظلم سب چھٹ رہے تھے جلسے پر

فاصلے گھٹ رہے تھے جلسے پر

دل میں اک نور اترتا جاتا تھا

پردے سب ہٹ رہے تھے جلسے پر

دل بہ دل سب جڑے ہوئے تھے واں

لمحے جو کٹ رہے تھے جلسے پر

جھولیاں بھر کے لوگ لوٹے ہیں

فیض ہی بٹ رہے تھے جلسے پر

پھول ہی پھول تھے حدیقے میں

راستے اَٹ گئے تھے جلسے پر

پیارے آقا کو دیکھ کر خادم

اور بھی ڈَٹ رہے تھے جلسے پر

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button