کلام امام الزمان علیہ الصلاۃ والسلام

اعمال کا تعلق قلب سے ہے

…جو کچھ ہے خدا تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے جو چاہے کرتا ہے

بِیَدِہٖ مَلَکُوۡتُ کُلِّ شَیۡءٍ وَّ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ (یٰسٓ:84)

دیکھو خدا تعالیٰ نے ہم میں اور ہمارے دشمنوں میں کیسا امتیاز رکھا ہے۔ یہی قادیان ہے جس میں کئی مرے اور پھر ہماری جماعت بالکل محفوظ رہی۔ ان مسلمانوں میں کئی گدی نشین ہیں۔ کئی الہام کا دعویٰ کرتے ہیں کئی مقربان الٰہی بنتے ہیں۔ مگر کیا کسی کو یہ بھی وعدہ دیا گیا ہے

اِنِّیْ اُحَافِظُ کُلَّ مَنْ فِی الدَّارَ۔

یقیناً نہیں۔ اگر کسی کو یہ دعویٰ ہے تو پیش کرے تاکہ اللہ تعالیٰ اس کو جھوٹ ثابت کرے۔ دیکھو ان میں سے جس نے دعویٰ کیا وہ فوراً پکڑے گئے۔ جموں کے چراغ دین نے دعویٰ کیا تھا اور پھر الٰہی بخش جو میری نسبت طاعون سے مرنے کا خیال رکھتا تھا طاعون ہی سے ہلاک ہوئے۔ مومنِ کامل تو کبھی طاعون سے نہیں مرتا۔ پچھلے تمام انبیاء علیہم السلام کی نظیر موجود ہے۔ کیا کوئی نبی طاعون سے مرا؟ پھر کامل مومنین حضرت ابو بکر و عمر و عثمان رضی اللہ عنہم کی سوانح کو پڑھو۔ کیا اُن میں سے کوئی طاعون سے مرا؟ ہرگز نہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ تورات و انجیل میں اس طاعون کو عذاب قرار دیا گیا۔ گویا ایک قسم کا جہنّم ہے۔ چنانچہ میرے الہامات میں اکثر جہنّم کا ذکر آیا ہے تو اس سے مراد طاعون ہی ہے۔ پس مومنِ کامل تو جہنّم سے بالکل محفوظ رکھا جاتا ہے۔ اگر وہ اس میں پڑے تو پھر مومن کیسا ہوا؟ خدا تعالیٰ بھی فرماتا ہے:

فَاَنۡزَلۡنَا عَلَی الَّذِیۡنَ ظَلَمُوۡا رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا کَانُوۡا یَفۡسُقُوۡنَ (البقرۃ:60)

یعنی طاعون کا عذاب ظالموں اور فاسقوں کے لیے ہے۔ یہ مامور من اللہ کے انکار اور فسق کی سزا ہے گویا اس کی خصوصیت کفر کے ساتھ ہے ۔ہاں جو مومن کامل نہیں بلکہ معمولی ہیں چونکہ اللہ تعالیٰ کو اُن کی تمحیص مقصود ہوتی ہے اس لیے ممکن ہے کہ انہیں دُنیا میں اصلاح کے لیے بطور کفّارۂ ذنوب جہنم میں داخل کرے اور یہ سب فرقہ ہائے اسلام کی مانی ہوئی بات ہے کہ ایک فریق مومنوں کا بھی جہنّم میں کچھ مدّت کے لیے پڑے گا۔ پس ماننا پڑتا ہے کہ بعض مومنوں کو بھی طاعون ہو سکتا ہے مگر یاد رہے وہی مومن جو کامل نہیں۔ اسی لیے میرے الہام میں ہے کہ وہ طاعون سے محفوظ رہیں گے جو لَمْ یَلْبِسُوْٓا اِیْمَانَھُمْ بِظُلْمٍکے مصداق ہیں یعنی اپنے ایمان کے نُور میں کسی قسم کی تاریکی شامل نہیں کرتے اور یہ مقام سوائے کاملین کے کسی کو حاصل نہیں ہو سکتا۔ 6؍ہجری میں جب طاعون پڑا ہے تو کوئی مسلمان نہیں مَرا لیکن جب حضرت عمرؓ کے عہد میں طاعون پڑا تو کئی صحابی بھی شہید ہوئے وجہ یہ کہ کامل مومن ہی ایسی باتوں سے محفوظ رہتے ہیں۔

اب دیکھنا تو یہ ہے کہ جسے موسیٰ ہونے کا دعویٰ تھا وہ تو یقیناً کامل مومنین سے ہے۔ پس اس کے لیے ضرور تھا کہ طاعون سے محفوظ رہتا کیونکہ یہ ایک عذاب جہنّم ہے جس میں خدا تعالیٰ کے برگزیدے نہیں پڑ سکتے۔ وہ تو اپنی نسبت یہ الہام سناتا تھا کہ ‘‘ بعد از خدا بزرگ توئی قصّہ مختصر’’۔ اب ایسے عالیشان آدمی کو (اگر وہ واقعی تھا) یہ جہنم (طاعون) کیوں نصیب ہوا۔ یہ تو واقعی عجیب بات ہے کہ جسے وہ فرعون کہتا تھا وہ تو اب تک زندہ ہے اور اس کے گھر کا ایک چُوہا بھی نہیں مرا مگر وہ جو موسیٰ تھا وہ طاعون سے مَر گیا جو ایک عذاب جہنّم ہے۔ کیا خدا تعالیٰ کے فرشتہ کو دھوکا ہو گیا؟ جیسے روافض کہا کرتے ہیں کہ وحی نبوت آنی تو علیؓ پر تھی مگر بھول کر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم پر چلی گئی۔ ایسا ہی طاعون کا فرشتہ بجائے قادیان میں آنے کے لاہور چلا گیا۔

اس نکتہ کو خوب یاد رکھنا چاہیے کہ جو معمولی مومن ہو اس کے لیے ممکن ہے کہ تمحیص کے لیے طاعون کے جہنّم میں پڑے تاکہ آخرت میں جنّت نصیب ہو۔ مگر وہ جو کامل مومنین سے ہو اس کے لیے ہر گز سنت اللہ نہیں کہ ایسے عذاب میں گرفتار ہو۔ بعض لوگوں کی نسبت اعتراض کیا جاتا ہے کہ فلاں تو نماز پڑھتا تھا یا ایسا تھا پھر کیوں اُسے طاعون ہوا۔ اصل میں اعمال کا تعلق قلب سے ہے اور قلب کے حالات سے بجز اللہ کے کوئی آگاہ نہیں۔ پس نہیں کہہ سکتے کہ فلاں متقی تھا یا مخلص احمدی تھا۔ پھر کیوں طاعون سے مرا؟

یونکہ ہر انسان کا معاملہ خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے۔ کسی کو کیا معلوم کہ فلاں کے دل میں کیا کیا گند بھرے ہیں۔ دعا کرتا رہتا تھا تو کیا عیسائی دعا نہیں کرتے؟ کیا وہ بعض اوقات نہیں روتے؟ پس ایسے معاملے خدا تعالیٰ کے سپرد ہونے چاہئیں ہاں جب ایمان کا ثبوت ہو تو پھر ایسے طاعون سے مرنے والے شہید ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے ہزاروں نشان دکھائے مگر یہ لوگ ایسے ہیں کہ مانتے نہیں اگر نجاست قلبی نہ ہو تو بعض اوقات ایک نکتہ ہی کفایت کرتا ہے۔ دیکھو جب لدھیانہ میں بیعت ہوئی تو صرف قریباً چالیس آدمی تھے۔ پھر اب چار لاکھ ہیں۔ کیا ایسی کامیابی کسی مفتری کو بھی ہوئی ہے۔ حالانکہ اس کی پیشگوئی بھی کر چکا ہو؟ اچھا مَیں نے اگر کوئی نشان نہ دکھلایا تو اُن کے موسیٰ نے کیا دکھایا؟ کیا یہی کہ طاعون سے مر گیا۔ اگر خدا تعالیٰ کے اولیاء کا یہی انجام ہوتا ہے تو پھر اسلام کا خدا ہی حافظ۔

(ملفوظات جلد 5 صفحہ 204۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button