متفرق شعراء

نعت

محمدؐ کی جو بھی جبیں دیکھتے ہیں

وہ چاند اور سورج نہیں دیکھتے ہیں

جو ‘شق القمر’ والی انگشت دیکھیں

وہ موسیٰ کی کب آستیں دیکھتے ہیں؟

دل ان پر تصدّق ہوا چاہتا ہے

ہر اک نقش ان کا حسین دیکھتے ہیں

اِدھر تختِ دل پر وہ ہیں جلوہ فرما

اُدھر ان کو سدرہ نشیں دیکھتے ہیں

یہ اُمّی نبی کی ہے زندہ کرامت

علوم ان کے زیرِ نگیں دیکھتے ہیں

جو اس دور میں ہیں محمدؐ کے طالب

وہ مرزا کو عکسِ حسیں دیکھتے ہیں

کھڑے ہیں جو اس در پہ پھیلا کے دامن

وہ دامن میں دنیا و دیں دیکھتے ہیں

محمدؐ کے لفظوں کی حکمت نہ پوچھو!

مطالب نگیں در نگیں دیکھتے ہیں!

چھپے ہیں کئی اس میں عیسیٰؑ و موسیٰؑ

محمدؐ کی جب آستیں دیکھتے ہیں

مِرا دل خوشی سے ہے بَلیوں اچھلتا

وہ جب میرا قلبِ حزیں دیکھتے ہیں

اگر جچ گیا ہوں میں ان کی نظر میں

تو پھر کیوں مجھے نکتہ چیں دیکھتے ہیں

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button