سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام

شمائل مہدی علیہ الصلوٰۃ والسلام

(سید مبشر احمد ایاز۔ پرنسپل جامعہ احمدیہ ربوہ)

آپؑ فارسی الاصل ہیں نہ کہ مغل۔ خدائی وحی سےتائید

آنے والے موعودامام الزمان کے خاندان کا ذکر احادیث میں ہے اور یہ کہ وہ فارسی الاصل ہوگا۔اور یہ کہ وہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل سے ہوگا۔حضرت اقدس علیہ السلام نے یہ دعویٰ فرمایا کہ آپؑ ہی وہ موعود امام الزمان ہیں جس کے بارہ میں یہ پیشگوئیاں تھیں ۔البتہ ایک بات ایسی تھی کہ جو قابل ذکر ہے اور وہ یہ ہے کہ آپؑ کو اللہ تعالیٰ نے الہاماً بتلایا کہ آپ ؑ کا خاندان فارسی الاصل ہے نہ کہ مغل۔لیکن حیرت انگیز بلکہ تعجب انگیز امر ہے کہ جب یہ الہام ہوا کہ آپ ؑ فارسی الاصل ہیں تو آپؑ اس قسم کا کوئی دستاویزی یا تاریخی ثبوت اپنے پاس نہیں رکھتے تھے۔بلکہ معاملہ اس کے برعکس تھا… حضرت مولاناعبدالرحیم صاحبؓ درد نے ایک تفصیلی مقالہ لکھا جس میں اپنی اعلیٰ اور زبردست تحقیقات سے یہ ثابت فرمایا کہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کا خاندان فارسی الاصل ہے اور یہ کہ مغل کا نام غلطی سے یا وسعت استعمال کی بنا پر اس خاندان کے ساتھ لگایاگیاتھا۔44صفحات پرمشتمل یہ تحقیقی مقالہ ماہنامہ ریویوآف ریلیجنز دسمبر 1934ء میں شائع ہواتھا۔…

حارث /حرّاث /زمیندارہ خاندان

آنحضرت ﷺ نے اس آنے والے موعود کو جہاں فارسی الاصل بتایا وہاں یہ بھی بتایا کہ وہ‘‘حارث’’ یعنی زمیندارہ خاندان سے ہوگا۔اس کے متعلق حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو تشریح فرمائی وہ درج ذیل ہے۔

یہ حدیث مبارکہ ہم اوپر درج کرچکے ہیں اس کی تشریح وتوضیح کرتے ہوئے حضرت اقدس علیہ السلام فرماتے ہیں :

“یعنی روایت ہے علی کرم اللہ وجہہ سے کہ کہا فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ ایک شخص پیچھے نہر کے سے نکلے گا یعنی بخارا یا سمرقند اس کا اصل وطن ہو گا اور وہ حارث کے نام سے پکارا جاوے گا یعنی باعتبار اپنے آباو اجداد کے پیشہ کے افواہ عام میں یا اس گورنمنٹ کی نظر میں حارث یعنی ایک زمیندار کہلائے گا پھر آگے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ کیوں حارث کہلائے گا اس وجہ سے کہ وہ حر ّاث ہوگا یعنی ممیّز زمینداروں میں سے ہوگا اور کھیتی کرنے والوں میں سے ایک معزز خاندان کا آدمی شمار کیاجاوے گا۔’’

(ازالہ اوہام ،روحانی خزائن جلد3 ص148حاشیہ)

آپؑ کی ولادت باسعادت کا بیان

بانی سلسلہ احمدیہ سیدنا حضرت اقدس مرزا غلام احمد قادیانی علیہ الصلوٰۃوالسلام14شوال1250ھ بمطابق 13فروری 1835ءبروز جمعہ طلوع فجر کے بعدقادیان ضلع گورداسپور (بھارت)میں پیدا ہوئے۔آپؑ کے والد ماجد کا نام نامی حضرت مرزاغلام مرتضیٰ صاحبؒ اور والدہ ماجدہ کا نام حضرت چراغ بی بی صاحبہؒ تھا۔
آپؑ کا نام نامی مرزا غلام احمد علیہ السلام اور کنیت ابومحموداحمدتھی۔

(لجۃ النور، روحانی خزائن جلد16صفحہ 337)

حضرت اقدس علیہ السلام کی ابتدائی سیرت وسوانح کی کتب میں آپ ؑ کی تاریخ پیدائش 1831ء سے لے کر 1840ء بیان ہوئی ہے۔تاریخ معین نہ ہونے کی ایک وجہ یہ ہے کہ اس زمانے میں ہندوستان میں عام طور پر تاریخ پیدائش کا کوئی ریکارڈ نہ رکھاجاتاتھا۔نہ سرکاری طور پر اورنہ مقامی طور پر۔بس بہت ہوا تو اس سال یا قریب قریب کوئی اہم واقعہ ہوگیا تو اس کو یاد رکھا گیا مثال کے طور پر کوئی جنگ،کوئی اہم تہوار،یا کوئی اور قابل ذکر واقعہ توکہہ دیاجاتاکہ فلاں جنگ کے زمانہ میں ،یا عید یا بیساکھی یا کوئی اور واقعہ کی مناسبت سے کہ اس وقت پیدائش ہوئی۔اوریوں عمروں کاحساب ایک تخمینہ اور موٹے اندازے کے طورپررکھاجاتا۔تین چارسال کم یاچارپانچ سال زیادہ ،حضرت اقدس علیہ السلام نے اپنی کسی تحریریا خط یا کتاب یا اشتہار میں اپنی معین تاریخ پیدائش کا ذکر نہیں فرمایا۔ہاں مختلف جگہ اپنی عمرکا تخمینہ لگایا ہے۔البتہ اپنی مختلف تحریرات میں پیدائش کے حوالے سے ایسے اشارے آپ ؑ نے دیے ہیں کہ تاریخ پیدائش کی تعیین میں ایسی سہولت ہوسکتی ہے کہ جس میں غلطی کا امکان کم سے کم ہو جاتا ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمدصاحب ؓنے ان اشارات اورمروجہ جنتریوں اور دیگر قرائن کو سامنے رکھتے ہوئے جوتحقیق فرمائی اس کی روشنی میں حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام کی تاریخ پیدائش 14 شوال /یکم پھاگن /13 فروری 1835ء کو جمعہ کے روز ہوئی۔

(یہ تفصیلی بحث ملاحظہ ہوسیرت المہدی روایت 613 ص77-74 اور اخبار الفضل مورخہ 11اگست 1936ء)

پیدائش میں ندرت

حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کی طرح آپ کی پیدائش میں بھی ندرت اور معجزانہ رنگ تھا۔عالم اسلام کے مشہور صوفی حضرت محی الدین ابن عربی ؒکی ایک پیشگوئی کے مطابق آپؑ توام یعنی Twinsپیدا ہوئے تھے۔حضرت ابن عربی ؒ نے لکھاہے کہ امام مہدی توام یعنی Twins پیداہوگا۔

(فصوص الحکم صفحہ 36ترجمہ مولانا الفاضل محمد مبارک علی)

آپؑ سے پہلے ایک لڑکی جن کا نام ‘جنت’ تھا پیدا ہوئی۔ جوچندروز زندہ رہنے کے بعد فوت ہوگئی اور یوں خداتعالیٰ نے اس بطل جلیل سے انثیت اورکمزوری کا مادہ پیداہوتے ہی الگ فرمادیا۔

آپؑ کی دایہ اور رضاعت

آپ ؑکی دایہ کانام لاڈو تھا۔چنانچہ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیراحمدصاحبؓ بیان فرماتے ہیں:‘‘بیان کیا مجھ سے حضرت والدہ صاحبہ (رضی اللہ عنہا)نے کہ حضرت صاحب ؑ کی دائی کا نام لاڈو تھا اوروہ ہاکوناکوبروالوں کی ماں تھی۔جب میں نے اسے دیکھا تھا تو وہ بہت بوڑھی ہو چکی تھی۔مرزا سلطان احمدبلکہ عزیز احمد کو بھی اسی نے جنایا تھا۔ایک دفعہ حضرت صاحب نے اس سے اپنی پیدائش کے متعلق کچھ شہادت بھی لی تھی۔اپنے فن میں وہ اچھی ہوشیار عورت تھی۔چنانچہ ایک دفعہ یہاں کسی عورت کے بچہ پھنس گیا اور پیدا نہ ہوتا تھاتو حضرت صاحب نے فرمایا تھاکہ لاڈو کو بلا کر دکھاؤ۔ہو شیار ہے چنانچہ اسے بلایا گیا تو اللہ کے فضل سے بچہ آسانی سے پیدا ہو گیا۔”

(سیرت المہدی جلد اوّل روایت نمبر 262)

اسی طرح دوبچوں کے لیے ماں کا دودھ کافی نہ ہونے کی بنا پر حضرت اقدس علیہ السلام کو آپؑ کی حقیقی چچی صاحب جان صاحبہ نے چند دن دودھ پلایاتھا۔اس ضمن میں سیرت المہدی میں ایک روایت یوں ہے :
“حضرت والدہ صاحبہ نے مجھ سے بیان کیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو مائی صاحب جان صاحبہ زوجہ مرزا غلام حیدر صاحب نے دودھ پلایا تھا۔مرزا غلام حیدر صاحب حضرت صاحب کے حقیقی چچا تھے۔مگر جب مرزا نظام الدین صاحب اور ان کے بھائی حضرت صاحب کے مخالف ہو گئے تو مائی صاحب جان بھی مخالف ہو گئی تھیں ۔اور والدہ صاحبہ فرماتی ہیں کہ اس زمانہ میں وہ اس قدر مخالف تھیں کہ مجھے دیکھ کر وہ چھپ جایا کرتی تھیں اور سامنے نہیں آتی تھیں ۔نیز مجھ سے والدہ صاحبہ عزیزم مرزا رشید احمد نے بیان کیا کہ حضرت صاحب کو ماں کے سوا دوسرے کا دودھ پلانے کی اس لیے ضرورت پیش آئی تھی کہ آپ جوڑا پیدا ہوئے تھے اور چونکہ آپ کی والدہ صاحبہ کا دودھ دونوں بچوں کے لیے مکتفی نہیں ہوتا تھا۔اس لیے مائی صاحب جان نے دودھ پلانا شروع کر دیا تھا۔”

(سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر760)

آپؑ کے بہن بھائی

حضرت مرزاغلام مرتضیٰ صاحب کے ہاں سب سے پہلے ایک لڑکا پیداہوا تھا جو چھوٹی عمر میں ہی فوت ہوگیا۔اس کے بعد ایک لڑکی پیداہوئی جو آپ ؑ کی سب سے بڑی ہمشیرہ تھیں۔ان کانام مراد بیگم صاحبہؒ تھا، جو مرزا غلام غوث ہوشیارپوری صاحب کے عقد زوجیت میں آئیں ۔(یہ محمدی بیگم صاحبہ کے والد احمدبیگ کے بھائی تھے)لیکن جوانی میں ہی بیوہ ہوگئیں ۔یہ بڑی عابدہ اور صاحب روٴیا و کشف خاتون تھیں ۔تیسرے نمبر پر پیداہونے والے صاحبزادہ مرزا غلام قادر صاحب مرحوم تھے۔جو کہ اندازاً 1828ء میں پیداہوئے۔(اور1883ء میں 55سال کی عمر میں وفات پائی)پھر ایک یا دوبھائی اور پیداہوئے اور چھٹے یا ساتویں نمبر پر وہ بیٹا پیداہوا جس کے ساتھ اب ساری دنیا کی تقدیریں وابستہ کردی گئی تھیں ۔بعض روایات سے معلوم ہوتاہے کہ آپ ؑ کے ایک یا دواور بھائی پیداہوئے تھے جو پیداہونے کے کچھ عرصہ بعد ہی فوت ہوتے رہے۔جس کی بناءپر آپؑ کی والدہ ماجدہ حضرت چراغ بی بی صاحبہ کو بہت دکھ تھا اوربڑی شدید خواہش تھی کہ ان کا کوئی بیٹا ہوجو زندگی پانے والا ثابت ہو۔

حضرت مولانا عبدالرحیم دردصاحب مصنف‘‘لائف آف احمد’’اپنی کتاب کے ص27 پر لکھتے ہیں :

It is Said that Charagh Bibi, the Wife of Mirza Ghulam Murtaza,had been long praying for a Son who would Live long when Hazrat Mirza Ghualm Ahmad was born..

(Life of Ahmad by A.R.Dard ,M.A, Vol;1 page :27 )

اس کی تائید سیرت المہدی کی اس روایت سے بھی ہوتی ہے۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیراحمدصاحب ؓ موٴلف سیرت المہدی بیان فرماتے ہیں :

“… والدہ صاحبہ نے بیان کیا کہ مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے سنا ہوا ہے کہ تمہارے تایا (مرزا غلام قادرصاحب۔ناقل) کے بعد تمہارے داد ا کے ہاں دو لڑکے پیدا ہو کر فوت ہوگئے تھے اسی لیے میں نے سنا ہے کہ حضرت صاحب کی ولادت پر آپ کے زندہ رہنے کے متعلق بڑی منتیں مانی گئی تھیں اور گویا ترس ترس کر حضرت صاحب کی پرورش ہو ئی تھی۔اگر تمہارے طایااورحضرت صاحب کے درمیان کو ئی غیر معمولی وقفہ نہ ہوتا یعنی بچے پیدا ہوکر فوت نہ ہو تے تو اس طرح منتیں ماننے اور ترسنے کی کوئی وجہ نہ تھی پس ضرور چند سال کا وقفہ ہوا ہوگا اور مرزا سلطان احمد صاحب بیان کر تے ہیں کہ شاید پانچ یا سات سال کا وقفہ تھا۔اور والد ہ صاحبہ بیان کرتی ہیں کہ مجھے جہاں تک یاد ہے وہ یہ ہے کہ سب سے پہلے تمہارے دادا کے ہاں ایک لڑکا ہوا جو فوت ہوگیا پھر تمہاری پھوپھی مراد بی بی ہوئیں پھر تمہارے تایا پیدا ہوئے پھر ایک دو بچے ہو ئے جو فوت ہو گئے پھر حضرت صاحب اور جنت توام پیدا ہوئے اور جنت فوت ہوگئی اور والدہ صاحبہ کہتی ہیں کہ تمہاری تائی کہتی تھیں کہ تمہارے تایا اور حضرت صاحب اوپر تلے کے تھے مگر جب میں نے منتیں ماننے اور ترسنے کا واقعہ سنا یا تو انہوں نے اسے تسلیم کیامگر اصل امر کے متعلق خاموش رہیں ۔”

(سیرت المہدی جلد اول روایت نمبر212)

أللّٰہُمَّ صَلِّ عَلٰی مُحَمَّدٍوَّآلِ مُحَمَّدٍ

………………………

آپؑ کی تعلیم کا بیان

دگراستادرانامے ندانم

کہ خواندم دردبستانِ محمدؐ

حضرت اقدس مسیح موعودومہدی معہودؑ نے اپنے سوانح بیان فرماتے ہوئے لکھتے ہیں :

“بچپن کے زمانہ میں میری تعلیم اس طرح پر ہوئی کہ جب میں چھ سات سال کا تھا تو ایک فارسی خواں معلم میرے لیے نوکر رکھا گیا۔جنہوں نے قرآن شریف اور چند فارسی کتابیں مجھے پڑھائیں اور اس بزرگ کا نام فضل الٰہی تھا۔اور جب میری عمر تقریباً دس برس کے ہوئی تو ایک عربی خواں مولوی صاحب میری تربیت کے لیے مقرر کئے گئے جن کا نام فضل احمد تھا۔میں خیال کرتا ہوں کہ چونکہ میری تعلیم خدا تعالٰے کے فضل کی ایک ابتدائی تخم ریزی تھی اس لیے ان استادوں کے نام کا پہلا لفظ بھی فضل ہی تھا۔مولوی صاحب موصوف جو ایک دیندار اور بزرگوار آدمی تھے وہ بہت توجہ اور محنت سے پڑھاتے رہے۔اور میں نے صَرف کی بعض کتابیں اور کچھ قواعد نحو ان سے پڑھے۔اور بعد اس کے جب میں سترہ یا اٹھارہ سال کا ہواتو ایک اور مولوی صاحب سے چند سال پڑھنے کا اتفاق ہوا۔ان کانام گل علی شاہ تھا۔ان کو بھی میرے والد صاحب نے نوکر رکھ کر قادیان میں پڑھانے کے لیے مقرر کیا تھا۔اور ان آخر الذکر مولوی صاحب سے میں نے نحو اور منطق اور حکمت وغیرہ علوم مروجہ کو جہاں تک خدا تعالٰے نے چاہا حاصل کیا۔اور بعض طبابت کی کتابیں میں نے اپنے والد صاحب سے پڑھیں اور وہ فن طبابت میں بڑے حاذق طبیب تھے۔”

(کتاب البریّہ، روحانی خزائن جلد13 صفحہ 179 تا181حاشیہ)

یہ پہلے استاد فضل الٰہی صاحب قادیان کے باشندے اور حنفی المذہب تھے۔دس برس کی عمر میں یعنی 1845ء میں دوسرے استاد مولوی فضل احمد صاحب تدریس کے فرائض کی سعادت پانے لگے۔یہ بزرگ فیروز والہ ضلع گوجرانوالہ کے رہنے والے اور اہلحدیث تھے۔

حضرت اقدس ؑ نے اپنے اس استاد کا تذکرہ ایک اور جگہ یوں فرمایاہے :

“حضرت مولوی فضل احمدصاحب مرحوم ایک بزرگوار عالم باعمل تھے مجھ کو ان سے از حد محبت تھی۔کیونکہ علاوہ استاد ہونے کے وہ ایک باخدا اور صاف باطن اور زندہ دل اور متقی اور پرہیزگار تھے۔”

قادیان کی درس گاہ

آپؑ کی تدریس تواس وقت کے مروجہ دستورکے مطابق شروع ہوئی لیکن اس میں ایک اور امتیازیہ بھی تھا کہ حضر ت اقدسؑ کے والد ماجدنے کچھ اس طرح کاانتظام فرمایاہواتھاکہ ہرچندکہ ان اساتذہ کوالاؤنس یاوظیفہ توخوددیاکرتے لیکن قادیان کے جتنے بچے بھی پڑھنا چاہتے تھے ان کواجازت تھی کہ مفت تعلیم حاصل کرنے کے لیے یہاں آیاکریں ۔درس وتدریس کے لیے وہ کون سی جگہ تھی اس کے متعلق ہمیں یہ معلوم ہوتاہے کہ یہ مدرسہ/ درسگاہ اس جگہ واقع تھی جس جگہ آج کل (2011ءمیں )وقف جدید کا دفتر اور حضرت نواب محمد علی خان صاحب ؓکا مکان ،یعنی گول کمرے کے سامنے والی جگہ جو اُس وقت کچا دیوان خانہ تھی۔

حضرت شیخ یعقوب علی عرفانی صاحب ؓ اس زمانہ طالب علمی میں آپ ؑ کے معمولات اور اس درس گاہ کاذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں :

“مجھے وہ دستور العمل بیان کر دینا چاہیے جو ایام طالب علمی میں آپ کا تھا۔وہ کچا دیوان خانہ جہاں آج کل نواب محمد علی خان صاحب کے مکانات بنے ہوئے ہیں یہ تعلیم گاہ تھا۔عام طور پر مدرس لوگ طلباء سے کچھ ماہوار لے لیا کرتے تھے مگر حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب اپنے بچوں کی تعلیم کے لیے جس استاد کو مقرر کرتے آپ اس کو پوری تنخواہ دیتے اور دوسرے بچوں کو مفت تعلیم دینے کی اجازت دیتے۔اس وجہ سے جہاں حضرت اقدس مرزا غلام احمد صاحب تعلیم پاتے تھے اس مکتب میں آپ کے طفیل سے اور بچے بھی پڑھتے اور بچے بچے ہی ہوتے ہیں ان میں ہر قِسم کی باتیں کھیل کود، ہنسی، مذاق کی ہوتی ہیں ۔ان کی عام عادت یہ تھی کہ یہ اپنا سبق آپ پڑھا کرتے تھے۔

بعض لڑکوں کا دستور ہوتا ہے کہ وہ صرف سماعت کرتے ہیں قرأت نہیں کرتے مگر حضرت مرزا صاحب ہمیشہ اپنا سبق آپ پڑھتے اور دو یا تین دفعہ کہہ لینے کے بعد جماعت سے اٹھ جاتے اور اوپر بالاخانہ میں چلے جاتے۔اور بالاخانہ اب تک موجود ہے اور وہاں جا کر اکیلے اس کو یاد کرتے۔اور اگر کچھ بھول جاتا تو پھرنیچے آتے اور استاد سے براہ راست پوچھتے اور پوچھ کر پھر اوپر چلے جاتے۔ان لڑکوں کی کھیل کود اور تفریحوں میں کبھی شریک نہ ہوتے تھے۔ہاں یہ آپ کے عادات میں داخل تھا کہ ان بچوں اور لڑکوں میں سے اگر کسی کو سبق بھول جائے یا نہ آئے تو اس کو بتلا دینے اور یاد کرا دینے میں کبھی بخل سے کام نہ لیتے۔”

(حیات احمد جلد اول صفحہ213،214)

حضور اقدسؑ نے ایک مرتبہ اپنے بچپن میں مدرسہ جانے کے بارہ میں ذکر فرمایا ہے۔ممکن ہے وہ اسی مدرسہ کی بابت ہو۔آپؑ فرماتے ہیں :

“بچپن میں جو بچّوں کو مدرسہ میں بٹھاتے ہیں ۔اس کی کش مکش ساری عمر یاد رہتی ہے۔استاد کی حکومت کے نیچے ایک قسم کی تلخی معلوم ہوتی ہے۔ہمیں اس وقت تک بھی یاد ہے کہ چھٹی کے دن کے بعد یعنی ہفتہ کو جو مدرسہ کا جانا ہوتا تھا تو سخت ناگوار گذرا کرتا تھا۔اور تو کچھ یاد نہیں رہا، مگر یہ درد ضرور یاد ہے کہ مدرسہ جانا ایک درد محسوس ہوا کرتا تھا۔”

(ملفوظات جلد سوم صفحہ421)

(جاری ہے)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button