کچھ جامعات سے

جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل گھانا کے تیسرے کانووکیشن کا انعقاد

8؍ ممالک سے تعلق رکھنے والے 14 مبلغین میدانِ عمل میں خدمت کے لیے حاضر ہو گئے۔ اب تک جامعہ احمدیہ گھانا سے 53؍ مبلغین فارغ التحصیل ہو چکے ہیں

محض اللہ تعالی کے فضل سے جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل گھانا کا تیسرا سالانہ کانووکیشن 23؍ جون 2019ء کو بخیر و خوبی منعقد ہوا جس میں 8 ممالک کے 14 طلبہ فارغ التحصیل ہو کر مبلغین کی صف میں شامل ہو گئے۔ اس سے قبل 2017ء کے پہلے کانووکیشن میں 11 ممالک کے 26طلبہ اور دوسرے سال 2018ء میں 10 ممالک کے 13 طلبہ نے شاہد کی ڈگری حاصل کی تھی۔ اس طرح جامعہ کی اس شاخ سے اب تک کل 53مبلغین میدان عمل میں پہنچ چکے ہیں الحمدللہ۔ امسال فارغ التحصیل ہونے والے طلباء کے ممالک کے نام یہ ہیں: گھانا، نائجیریا، بورکینا فاسو، آئیوری کوسٹ، کینیا، کانگو، یو گینڈا اور بینن۔ یاد رہے کہ جامعہ انٹرنیشنل گھانا کا قیام 2012ء میں عمل میں آیا تھا اور اس وقت اس میں 26 ممالک کے 186 طلبہ زیر تعلیم ہیں۔

اس خوبصورت اور پر وقار تقریب کے لیے سیدنا حضرت خلیفتہ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالی بنصرہ العزیز نے خصوصی پیغام ارسال فرمایا تھا جو ہر سال کی طرح یہ پیغام ایک ہزار کی تعداد میں شائع کر کے تمام حاضرین کی خدمت میں تقسیم کیا گیا۔یہ محض حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ کی شفقت ہے کہ حضور انور ہر سال اس تقریب کے لیے جامعہ کو اپنے خصوصی پیغام سے نوازتے ہیں۔

تقریب کی صدارت امیر و مشنری انچارج گھانا محترم مولوی نور محمد بن صالح صاحب نے فرمائی۔ ملکی عمائدین، سیاسی شخصیات، ضلعی پولیس کمانڈر، مربیان سلسلہ، جماعتی عہدیداران اور کثرت سے احباب جماعت اور نومبائعین نے شرکت کی جن کی تعداد 900 کے لگ بھگ تھی۔مکرم فرید احمد نوید صاحب پرنسپل جامعہ احمدیہ نے آنے والے معزز مہمانوں کا خود استقبال کیا اور بعد ازاں ایک قافلے کی شکل میں انہیں تقریب کے مقام تک لے جایا گیا۔ پروگرام کا اہتمام ‘‘مسرور ہوسٹل’’ کے ایک نَو تعمیر شدہ ہال میں کیا گیا تھا۔ اصل سکیم کے مطابق اس ہال کی تکمیل میں ابھی کچھ وقت باقی تھا لیکن انتظامیہ، کارکنان اور طلبہ نے دن رات محنت کر کے اس کو تقریب کے لیے تیار کر دیا اور پھر نہایت عمدگی سے اس کو سجا دیا، اس طرح اس تقریب کے ذریعہ اس ہال کا افتتاح بھی عمل میں آگیا۔

پروگرام کا آغاز محترم امیر صاحب کی صدارت میں تقریبا 11؍ بجے قبل دوپہر ہوا جو 3 بجے سہ پہر اختتام پذیر ہوا۔ حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ کے پیغام میں مذکور آیات قرآنی او ر اشعار کی روشنی میں تلاوت اور نظم کا انتخاب کیا گیا نیز سٹیج کو بھی حضور کے پیغام پر مبنی آیات اور الفاظ سے سجایا گیا ۔ تلاوت کے بعد حضرت مصلح موعود ؓکی ایک نظم کے چند اشعار طلبہ کے ایک گروپ نے خوش الحانی سے پڑھے۔ محترم امیر صاحب نے ابتدائی کلمات میں سب مہمانوں کو خوش آمدید کہا،تقریب کی غرض و غایت بیان کی، جامعہ احمدیہ کا تعارف کروایا اور پھر سیدنا حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ کا درج ذیل پیغام پڑھ کر سنایا:

بسم اللہ الرحمٰن الرحیم

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم و علی عبدہ المسیح الموعود
خدا کے فضل اور رحم کے ساتھ
ھو النّاصر

فارغ التحصیل ہونے والے عزیز ان جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل گھانا

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ

مجھے اس بات کی بہت خوشی ہے کہ خدا کے فضل سے آپ جامعہ احمدیہ سے فارغ التحصیل ہونے والے تیسرے گروپ میں شامل ہو کر جماعت احمدیہ کے مبلغین بن رہے ہیں ۔ الحمد للہ۔ یہ بات بھی باعث مسرت ہے کہ پاس ہونے والے 14 طلباء، 8 ممالک نائجیریا، آئیوری کوسٹ، بور کینا فاسو، کینیا، کانگو، یوگینڈا، بینن اور گھانا کی نمائندگی کر رہے ہیں۔آپ سب نے اپنی ذاتی خوشی اور رضا کے مطابق اپنی زندگیاں وقف کی ہیںتاکہ آپ اُس خلافت حقہ اسلامیہ کے مددگار بن سکیںجو حضرت اقدس مسیح موعودو مہدی معہودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے آنے سے اسلام کی نشأۃ ثانیہ کے لیے دوبارہ قائم کی گئی ہے اور جو خدا تعالیٰ کے وعدے اور آنحضرت ﷺ کی پیش گوئیوں کے عین مطابق ہے۔آپ نے اپنی زندگیاں وقف کیں اور جامعہ ا حمدیہ میں داخل ہوکر سات سال بڑی محنت سے تعلیم حاصل کی ۔ اب جب کہ آپ عملی میدان میں قدم رکھنے جا رہے ہیں تو محض اس بات پر مطمئن نہ ہو جائیں کہ ہم نے سات سال کے دوران کافی کچھ سیکھ لیا ہے بلکہ آپ اپنا علم بڑھاتے چلے جائیں، اسی صورت میں آپ خدا تعالی کا قرب حاصل کرنے اور اسلام کے پیغام کو پھیلانے کے لیے اپنی زندگی کے مقصد کو پورا کرنے والے ہوں گے۔اب آپ کے کندھوں پر ایک بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے ۔ اس کو کوئی معمولی چیز نہ سمجھیں۔اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لیے اپنی زندگیاں پیش کرنا اور خلافت احمدیہ کے مددگار بننا اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیمات کو پھیلانا ایک عظیم الشان کام ہے، چنانچہ آپ کو اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لاتے ہوئے اپنے اس عہد کو وفا اور مکمل اطاعت کے ساتھ پورا کرنا ہے۔ میں آپ کو نصیحت کرتا ہوں کہ کبھی بھی خدا تعالیٰ سے بے وفائی نہ کریں بلکہ ہمیشہ اپنے پروردگار کے وفادار رہیں ۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ اسی لیے خداتعالیٰ نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی قرآن کریم میں درج ذیل الفاظ میں تعریف فرمائی ہے:

وَإِبْرَاہِیْمَ الَّذِیْ وَفَّیٰ اور ابراہیم جس نے عہد کو پورا کیا۔ (سورۃ النجم: 38)

یعنی حضرت ابراہیم علیہ السلام ہمیشہ اپنے خداکے وفادار رہے اور ہمیشہ اپنے عہد کی پاسداری کی۔ پس آپ نے بھی وقف کا عہد باندھا ہے اور اپنی زندگیاں وقف کی ہیں اس لیے آپ کو بھی اپنے اس عہد کوپورا کرنے کی مکمل کوشش کرنی چاہیے۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلو ۃ والسلام فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے سخت تکالیف برداشت کیں اور کٹھن حالات کا مقابلہ کیا کیونکہ آپؑ کامل طور پر خدا کی محبت میں مخمور تھے۔آپؑ کی کوئی ذاتی خواہش نہیں تھی۔ اور یہی وقف کی حقیقت ہے ۔ چنانچہ جب آپ میدان عمل میں جائیں تو آپ کو یہ بات مد نظر رکھنی ہو گی کہ وقف آپ سے ہر قسم کی قربانی مانگتا ہے۔

حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی ہم سے بہت اعلیٰ توقعات ہیں چنانچہ آپؓ اپنی ایک نظم میں فرماتے ہیں

وہ بھی ہیں کچھ جو کہ تیرے عشق سے مخمور ہیں
دنیوی آلائشوں سے پاک ہیں اور دُور ہیں

چنانچہ اپنے آپ کو خدا کی محبت میں محو کر دینا اور تمام قسم کے دنیاوی لالچوں سے خود کو الگ رکھنا ایک بہت بڑا امتحان ہے ۔ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی ممبرانِ جماعت اور خصوصی طور پر واقفین زندگی سے یہی توقعات تھیں۔ میں بھی آپ سے یہی توقع رکھتا ہوں اورامید کرتاہوںکہ اللہ کے فضل سے آپ خود کو دنیاوی آلائشوں سے پاک کرنے کے لیے کوشش کرتے چلے جائیں گے۔

آج کے اس دَور اور زمانے کے حوالے سے آپ کو مختلف حالات اور مذاہب کے متعلق سوالات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا ۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے سوالوں کے جواب قرآن کریم سے براہ راست حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ اس لیے قرآن کریم کی تلاوت اوراس کی آیات پر غور و فکر کریں ، مختلف تفاسیر کا مطالعہ کریں اور ان میں سے ضروری نِکات اخذ کریں۔ اس کے علاوہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت اور احادیث ہیں جن سے راہنمائی لی جا سکتی ہے ۔ پھر ہمارے پاس حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی کتب ہیں۔ چنانچہ آپ کو اپنا علم بڑھاتے چلے جانا چاہیے۔آپ خواہ کتنے ہی مصروف کیوں نہ ہوں،اپنے پروگرام اور روزانہ کے معمول میں سے چند گھنٹے مطالعہ کے لیے ضرور رکھیں۔فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ اپنی عبادات اور نوافل کے لیے بھی چند گھنٹے ضرورمختص کریں کیونکہ دعاؤں کے بغیر کچھ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔آج دنیا کی اکثریت مادہ پرستی کے جا ل میں پھنس کر خدا تعالی سے دور ہو چکی ہے ،جس کے نتیجے میں وہ روحانی اعتبار سے تاریکی کی اتھاہ گہرائیوں میں گر چکے ہیں۔ بے چینی کے اس دور میں یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ قطب یعنی رہنمائی کرنے والا ستارہ بنیں۔آج خدا تعالیٰ نے آپ کو دنیا کے لیڈروں کے طور پر چنا ہے تاکہ آپ دنیاکی رہنمائی کرسکیں اور دین کی تعلیمات دے سکیں اور انہیں خدا تعالیٰ کے قریب لا سکیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔اپنے پیغام کا اختتام میں حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے الفاظ سے کرتا ہوں اور یہی میری آپ لوگوں کے لیے دعا ہے۔

مور دِ فضل و کرم وارثِ ایمان وہدیٰ
عاشقِ احمد و محبوب خدا ہو جاؤ

خدا کرے کہ آپ میں سے ہر ایک حقیقی معنوں میں خلافت کا دست و بازو بنے تاکہ ہم آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا جھنڈا پوری دنیا میں لہرا سکیں تاکہ خدا کی توحید قائم ہو اور دنیا میں اس کا بول بالا ہو۔خدا کرے کہ آپ میں سے ہر ایک اپنے عہد کو پورا کرنے والا ہوجو اس نے باندھا ہے اور آپ کبھی کسی پہلو سے بھی بے وفائی کرنے والے نہ ہوں بلکہ ہمیشہ ان لوگوں میں شامل ہوں جو مکمل وفاداری کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ اللہ تعالی آپ کے ساتھ ہو۔

والسلام ۔خاکسار
(دستخط)مرزا مسرور احمد
خلیفۃ المسیح الخامس

مکرم عباس بن ولسن صاحب جنرل سیکرٹری جماعت احمدیہ گھانا نے معزز مہمانو ں کا تعارف کروایا۔ طلبہ نے کچھ حمدیہ نغمات پیش کیے جس کے بعد کانووکیشن کی رپورٹ مکرم مرزا خلیل احمد بیگ صاحب صدر اکیڈیمک کمیٹی جامعہ نے پڑھ کر سنائی۔رپورٹ میں بتایا گیا کہ جامعہ احمدیہ کا آغاز سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہش پر آپ کی زندگی میں ہی ہو گیا تھا اور متعدد مراحل سے گزرنے کے بعد خلافت خامسہ میں اس کی عالمی شاخوں کا اجرا ہوا جن میں سے ایک جامعہ احمدیہ انٹرنیشنل بھی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ جامعہ کا نصاب اور تمام پروگرام قرآن کریم اور سنت نبوی ؐ کے گرد گھومتے ہیںاور اس کی روشنی میں طلبہ کو دینی اور د نیاوی علوم سے متعارف کرایا جاتا ہے۔ فارغ ہونے والے طلبہ تدریسی علوم کے علاوہ عملی کارروائیوں میں بھی حصہ لیتے رہے مثلاًMTA کے لیے پروگراموں کی تیاری، گھانا ٹیلی ویژن GTV اورCine Plus کے متعدد تبلیغی پروگراموں میں شامل ہوتے رہے۔ وقف عارضی میں حصہ لے کر انہیں میدان عمل کی ذمہ داریوں کو سمجھنے میں مدد ملی۔ تحریری، تقریری اور دیگر علمی مقابلوں میں شامل ہوتے رہے۔ مختلف کھیلوں فٹ بال، والی بال، رسہ کشی وغیرہ کے علاوہ 20 کلومیٹر کراس کنٹری ریس اور سائیکلنگ میں حصہ لیتے رہے۔ انہیں ڈرائیونگ، کمپیوٹر اور کھانا پکانے کے متعلق عملی تربیت بھی دی گئی جبکہ آخری سال میں انہیں 16 لیکچرز کے ذریعہ نظام جماعت کے مختلف شعبوں، پروگراموں اور اداروں کا تعارف کرایا گیا۔اس کانووکیشن سے قبل انہوں نے گھانا کے مرکزی مشن ہاؤس میں جا کر تمام دفاتر اور جماعتی نظام سے آگاہی حاصل کی۔ جامعہ کے 7 سالوں کے اختتام پر تحریری امتحان بھی ہوتا ہے اور تمام طلبہ ایک علمی موضوع پر مقالہ بھی تحریر کرتے ہیں۔ اللہ کے فضل سے سب طلبہ امتحان اور مقالہ نویسی میں کامیاب قرار پائے۔

اس تفصیلی تعارف اور رپورٹ کے بعد کئی معزز مہمانوں نے خطاب کیا اور جماعت کی امن پر مبنی کاوشوں اور کوششوں کو سراہا۔بعض اہم مہمانان کے اسمائے گرامی یہ ہیں:

Hon. Yusuf Jaajah, MP Ayawaso North, Minority Leader. 2. Hon. Muhamed Abdul Samed Gunu, MP Savelugu. 3. Nana Doctor, Ama Amissah, Paramount Queen Mother of Mankessim. 4. Augustin Mensah Meyer, District Police Commander. 5. Sheikh Ahmad Seidu, Secretary Jamiyyat Ulma and Aimma Ghana, along with four Imams

مؤخر الذکر دونوں معزز مہمانوں کو قبل از خلافت حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے گھانا میں قیام کے دوران حضور سے پڑھنے اور حضور انور کے شاگرد ہونے کا اعزاز بھی حاصل ہے۔انہوں نے یہ بات بڑی خوشی سے خود بتائی اور حضور کی تازہ تصویر کو بڑے غور سے دیکھتے رہے۔بعض عیسائی مہمانوں نے جماعت کے عقائد سے متعلق معلومات حاصل کیں۔

مختلف مہمانوں نے سالانہ امتحانات میں پوزیشن لینے والوں اور علمی مقابلہ جات میں اعزاز پانے ولے طلبہ میں انعامات تقسیم کیے۔ حافظ اسماعیل احمد ایڈوسائی درجہ شاہد نے طلبہ کی طرف سے سب معززین اور مہمانوں کا شکریہ ادا کیا۔آخرپر محترم امیر صاحب نے شاہدین کو میڈل پہنائے، نیز قرآن کریم ، سندات اور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے مطبوعہ پیغام کا تحفہ عنایت فرمایا۔ امیر صاحب نے طلبہ کو مبارک باد دی۔ جامعہ کے انتظامات کو سراہا اور تبلیغ کی مہم وسیع کرنے کی نصیحت کی۔ پروگرام میں خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد نے بھی شرکت کی ۔ تمام مہمانوں کی خدمت میں تقریب کے بعد ظہرانہ پیش کیا گیا اور نماز ظہر و عصر کے بعد یہ باوقار تقریب اختتام کو پہنچی۔الحمدللہ۔

(رپورٹ: عبدالسمیع خان۔ استاذ جامعہ احمدیہ گھانا)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button