متفرق شعراء

حمد و مناجات

مری تشنگی کو جواز دے
کبھی زیر لب آواز دے
میں کروں جو سجدۂ جاں بلب
تو کرم سے اپنے نواز دے

میں کہ ظلمتوں کا اسیر ہوں
میں فقیر ابنِ فقیر ہوں
تری بخششوں کی طلب میں ہوں
مرے دل کو سوز و گداز دے

بے حجاب محفلِ جاں میں آ
جو نہیں تو ایک جھلک دکھا
ترا عکس دل میں اتار لوں
کبھی ایک پل ہی نیاز دے

کرو راہِ عشق سہل ذرا
‘‘ہے دراز دستِ دعا مرا’’
جو محبتوں کو زبان دے
مجھے ایسا نغمہ و ساز دے

کبھی رو بروئے جہاں تو ہو
کہ رفاقتوں کا گماں تو ہو
ہو ترے ملن کی کلید جو
مجھے ایسا عشق مجاز دے

تو ہے بادشاہِ سخن وری
مرے لفظ خالی و کمتری
جو کہے ہیں تیری جناب میں
انہیں آپ منصب و ناز دے

(نجیب اللہ خاں ایّاز)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button