متفرق مضامین

احمدیت کے علمبردار دو گروہوں کے صدی کے سفر کا تقابلی جائزہ (قسط نمبر 5)

(لئیق احمد مشتاق ۔ مبلغ سلسلہ سرینام، جنوبی امریکہ)

مرکزی اخبار ورسائل

ریویو آف ریلیجنزوہ بابرکت رسالہ ہے جسے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے1902ء میں مغربی دنیا کو اسلام کی خوبصورت تعلیم سے روشناس کروانے کے لیے جاری فرمایا ، اور اس کے ذریعہ اپنی تحریرات،کتب اور الہامات کی اشاعت فرمائی۔مولوی محمد علی صاحب اس کے پہلے ایڈیٹر مقرر ہوئے، اور یہی ان کی پہلی وجہ شہرت ہے۔مگر جب 1914ء میں وہ قادیان سے جدا ہوئے، تو مالک حقیقی نے ان سے اور ان کی جماعت سے یہ توفیق بھی چھین لی کہ وہ اس مقدس رسالے کو جاری رکھ سکیں۔مگر خلافت حقہ کے زیر سایہ ‘‘ریویوآف ریلیجنز’’ کا فیض آج بھی جاری ہے۔

مورخہ 13؍اگست 2016ء کو جماعت احمدیہ برطانیہ کے 50ویں جلسہ سالانہ کے موقع سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز نے فرمایا:‘‘ریویو آف ریلیجنز جس کا اجراء حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ و السلام نے 1902ء میں فرمایا تھا،اور اب اس کو114سال ہوگئے ہیںاب اس کو اللہ تعالیٰ کے فضل سے جدید زمانے کے مختلف طریق اور ذرائع استعمال کرتے ہوئے تقریباً ایک ملٹی پلیٹ فارم پر لے آیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس رسالے کے پرنٹ ایڈیشن ، ویب سائٹ ، سوشل میڈیا ، یوٹیوب اور دیگر نمائشوں کے ذریعہ ایک کثیر تعداد تک اسلام کا پیغام پہنچایاجا رہا ہے… اس وقت اس رسالے کا پرنٹ ایڈیشن تین ممالک یوکے، کینیڈا اور انڈیا سے شائع ہو رہا ہے، جن کی کل تعداد سولہ ہزار بنتی ہے… خدام الاحمدیہ کینیڈا کی ٹیم نے ریویو آف ریلیجنز کی موبائل ایپ بھی تیار کی ہے، جو اس وقت ٹیسٹنگ کے مراحل میں ہے ۔ ریویو آف ریلیجنزکو سوشل میڈیا ، فیس بُک اور ٹوئٹر اور انسٹا گرام پر پندرہ ہزار سے زیادہ لوگ فالو کر رہے ہیں۔ اور ریویو آف ریلیجنزکے یوٹیوب چینل کے کل سبسکرائبرزکی تعداد دس ہزار سے زائد ہو چکی ہے’’۔ (الفضل انٹر نیشنل لندن 20جنوری 2017ء صفحہ 13،14۔ جلد 24،شمارہ 3)

انگریزی ،جرمن اور فرنچ کے بعد ان شا ءاللہ العزیز اب یہ رسالہ ہسپانوی زبان بولنے والوں کی روحانی طراوت کا باعث بنے گا اور حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز نے وسطی امریکہ کے ملک گوئٹے مالا کے تار یخی دورے کے دوران مورخہ 23اکتوبر 2018ء کو سپینش ایڈیشن کا باقاعدہ اجراء فرمایا ہے۔(الفضل انٹرنیشنل لندن ،16نومبر 2018ء،صفحہ 11۔جلد 25،شمارہ 46)

سلسلہ عالیہ احمدیہ کے پہلے صحافی اور اوّلین مورخ کا دائمی اعزا ز رکھنے والی محترم ہستی عرفانی الکبیر حضرت شیخ یعقوب علی صاحب تراب نے جماعت کے اپنے اخبار کے اجراء کے لیے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں ایک عریضہ لکھا، اس کے جواب میں حضور نے فرمایا:‘‘ہم کو اس بارہ میں تجربہ نہیں۔ اخبار کی ضرورت تو ہے مگر ہماری جماعت غرباء کی جماعت ہے۔ مالی بوجھ برداشت نہیں کر سکتی ۔ آپ اپنے تجربہ کی بنا پر جاری کر سکتے ہیں تو کر لیں، اللہ تعالیٰ مبارک کرے’’۔رب ذوالجلال کی دی ہوئی توفیق سے ایک تہی دست شخص اکتوبر 1897ء میں جماعت احمدیہ کا پہلا بلند پایہ اخبار ‘‘ ہفت روزہ الحکم’’ جاری کرنے میں کامیاب ہوا۔زودنویسی کا زبردست جوہر والا یہ مجاہد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ملفوظات وارشادات کو برق رفتاری سے قلم بند کرکے الحکم میں شائع کرتارہا۔یہ اخبار حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب اور سلسلہ احمدیہ کی تاریخ کا مستند ذخیرہ ہے۔ 1901ء تک ‘‘الحکم’’نے تنہا یہ خدمت سر انجام دی،پھر البدر بھی ان بابرکت ارشادات اور الہامات کی نشرو اشاعت میں شامل ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں : ‘‘یہ دواخبار ہمارے دو بازو ہیں، الہامات کو فوراً ملکوں میںشائع کر تے اور گواہ بنتے ہیں’’۔ یہ اخبار چند برسوں کے وقفے سے جولائی 1943ء تک جاری رہا۔(تاریخ احمدیت جلد اوّل صفحہ 641۔642۔ایڈیشن 2007ء قادیان)
خدا تعالیٰ کے فضل و کرم کے ساتھ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصر العزیز نے 23مارچ 2018ء کو ‘‘الحکم’’ کا انگریزی زبان میں اجرا فرمایا ہے اورجدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ یہ اخبار ہر ہفتے انٹرنیٹ پر شائع ہوتا ہے اور موبائل ایپ پر بھی دستیاب ہےاور اب اس کی پرنٹڈ کاپی بھی حاصل کی جا سکتی ہے ۔ ( الفضل انٹر نیشنل 13اپریل2018ء صفحہ 9۔ جلد 25، شمارہ 15)

مورخہ 31اکتوبر 1902ء کو قادیان سے با بو محمد افضل صاحب کی ادارت میں جماعت کا دوسرا اخبار بدر جاری ہوا۔ اس اخبار کا نام حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خود تجویز فرمایا، اور ارشاد فرمایا:‘‘ہماری طرف سے اجازت ہے ، خواہ آپ ایک سو پرچہ جاری کریں ’’۔21مارچ 1905ء کو محمد افضل صاحب انتقال کر کیے تو حضرت اقدس علیہ السلام نے مفتی محمد صادق صاحب کو اس کا ایڈیٹر مقرر فرمایا۔بدراخبار دسمبر 1913ء تک جاری رہا، پھر اس کی اشاعت بند ہو گئی۔ قریباً چالیس سال کے وقفے کے بعد 7مارچ 1953ء کو درویشان قادیان کی کوششوں سے اس کا احیا ء ہوا۔

(تاریخ احمدیت جلد 2،صفحہ 221۔ایڈیشن 2007ء۔قادیان)

مسیح وقت کے زمانے کی یہ نشانی اب خلافت کے زیر سایہ ‘‘ ہفت روزہ بدر قادیان’’کے نام سے پوری آب و تاب کے ساتھ جاری ہے اور ترقی کے نئے دور میں داخل ہو چکا ہے اور پانچ زبانوں اردو، بنگلہ ،ملیالم ، اوڑیا اور تامل میں ہر ہفتے باقاعدگی سے شائع ہوتا ہے۔

http://www.akhbarbadrqadian.in )

جماعت کا قدیم اور اہم اخبار اپنوں اور غیروں میں یکساں پہچان رکھنے والا ، سلسلہ عالیہ احمدیہ کی سوسالہ تاریخ کا امین، کامیاب معمور اور خدا کے فضلوں اورجماعت کی جاں نثاریوں سے مرصع ‘‘الفضل ’’ 18جون 1913ء کو سیدنا محموؓد کے ہاتھوں ہفت روزہ اخبار کی شکل میں اس کے استاد اور روحانی آقا نور الدین رضی اللہ عنہ کی اجازت اور آشیر باد سے جاری ہوا۔ اور اسی بزرگ ہستی نے اسے ‘‘ الفضل’’ کے نام سے موسوم کیا ۔

(تاریخ احمدیت جلد 3صفحہ 444۔ایڈیشن 2007ء)

مورخہ 28مارچ 1914ء سے الفضل ہفتے میں تین بار شائع ہونے لگا۔11 دسمبر 1925ء سے ہفتے میں دو بار شروعات ہوئیں۔8مارچ 1935ء سے روزانہ اشاعت کا آغاز ہوا۔ قیام پاکستان کے بعد15ستمبر 1947ء کو لاہور سے جاری ہوا۔3اکتوبر 2002ءسے انٹر نیٹ پر اکناف عالم میں پھیلے عشاق کے لیے میسر ہو گیااور 18جون 2013ء کو کامیاب و کامران اشاعت کے سو سال مکمل کیے۔(روزنامہ الفضل صدسالہ جوبلی سوونیئر۔2013ء)

خلافت احمدیہ کی تاریخ کا حامل،امین اور پاسبان یہ روزنامہ اخبار دسمبر 2016ء سے عارضی جبری تعطل کا شکار ہے، اورمطلق العنان شاہوں کی طرف سے یہ ظلم اس پر پہلے بھی ڈھایا گیا۔خدا نے چاہا تو یہ روکیں جلد دور ہوں گی اور ان شاءاللہ العزیز عالم احمدیت ایک بار پھر‘‘دیکھو میرے دوستو !اخبار شائع ہو گیا’’کے پرکیف منظر کا گواہ بنے گا۔

مورخہ سات جنوری 1994ء کوسیدنا طاہر رحمہ اللہ تعالیٰ کے بابرکت سائے میں ‘‘الفضل’’ نئی آب و تاب اور شان کے ساتھ نئے عالمی دور میں داخل ہوا اور ‘‘ہفت روزہ الفضل انٹر نیشنل’’ کا آغار ہواجو اب پوری جدت اور آب وتاب کے ساتھ جاری ہے، اور اس اخبار کو یہ منفرد اعزاز حاصل ہے کہ ہر ہفتے دنیا کے 74ممالک میں بذریعہ ڈاک بھجوایا جاتا ہےاور اب اللہ کے فضل سے24مئی کے شمارہ سے اس کی اشاعت ہفت روزہ سے سَہ روزہ کر دی گئی ہے ۔ الحمد للہ علیٰ ذالک

اس کے علاوہ عربی زبان میں ‘‘التقویٰ’’،اور ‘‘موازنہ مذاہب’’ جیسے مرکزی رسائل ہر ماہ باقاعدگی سے شائع ہوتے ہیں، اور اکناف عالم میں بجھوائے جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ عالمگیر کی اس وقت اکناف عالم میں پھیلی جماعتوں اور ذیلی تنظیموں کے تحت پچیس زبانوں میں141 تعلیمی، تربیتی اور معلوماتی مضامین پر مشتمل رسائل و جرائد مختلف ممالک میں مقامی طور پر شائع کیے جا رہے ہیں۔

( الفضل انٹر نیشنل لندن 20جنوری 2017ء صفحہ 4۔ جلد 24،شمارہ 3)

اب اہل پیغام کے مرکزی اخبار کی ترقی معکوس ملاحظہ ہو۔جولائی1913ء میں سید محمد حسین شاہ صاحب نے دیگر سات افراد کے ساتھ ملکر ‘‘پیغام صلح سوسائٹی’’ کی بنیاد رکھی، جس کا مرکزی دفتر احمدیہ بلڈنگز لاہور میں قائم ہوا۔اس سوسائٹی نے 10جولائی 1913ء کو ‘‘پیغام صلح’’ اخبار جاری کیا، جس کی اشاعت ہفتے میں تین بار ہوتی تھی۔اس اخبار کے دو بنیادی مقاصد تھے، بغض محمود، اور خواجہ کمال الدین صاحب کے مشن کا پراپیگنڈا۔ اِس اخبار کو حضرت خلیفۃ المسیح ا وّل رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے‘‘ پیغام جنگ ’’ کا نام دیا اور مفتی محمد صادق ؓصاحب کو حکم دیا کہ‘‘ اگرچہ ہم قیمت دے چکے ہیں، پھر بھی ہمارے نام اگر ڈاک میں آئے تو واپس کر دیں’’۔

( تاریخ احمدیت جلد 3، صفحہ 452۔456،ایڈیشن 2007ء)

مصنف مجاہد کبیر رقم طراز ہیں:‘‘جولائی 1913ء میں جماعت میں اندرونی طور پر بہت خلفشار پیدا ہو چکا تھا ، اور میاں محمود احمدصاحب اور ان کی پارٹی کے افراد لاہور کے ممبروں کے متعلق جماعت میں چہ مگوئیاں کرتے پھرتے تھے۔اس و قت قادیان کے اخبارات ‘‘الحکم’’ اور بدر زیادہ تر میاں صاحب کے ہی زیر اثر تھے ، اور مولوی نور الدین صاحب کو مولانا محمد علی صاحب، خواجہ صاحب اور لاہور کے ممبروں سے بد ظن کرنے کی کوششیں بڑے زورو شورسے جاری تھیں ۔ دوسری طرف خواجہ کمال الدین صاحب کو انگلستان گئے ایک ہی سال ہوا تھا ، اور وہاں سے رسالہ‘‘ مسلم انڈیا اینڈاسلامک ریویو’’ جاری ہو چکا تھا۔ضرورت اس بات کی تھی کہ اس رسالے کے چیدہ چیدہ مضامین کا اردو ترجمہ اور ووکنگ مشن کی ضروری خبریںہندوستان کے لوگوں کو پہنچائی جائیں ۔ ان ضروریات کو محسوس کرتے ہوئے ڈاکٹر سید محمد حسین شاہ صاحب نے ‘‘پیغام صلح سوسائٹی’’کے نام سے مشترک سرمائے کی ایک کمپنی بنائی ، اور اس کے ماتحت اخبار ‘‘پیغام صلح’’ جولائی 1913ء میں جاری ہوا’’۔

(مجاہد کبیر صفحہ 115،ایڈیشن دسمبر 1962ء۔ ناشر احمدیہ اشاعت اسلام لاہور)

منور دل ،مخلص انسانوں ،اسلام اور قرآن کی اشاعت کا جنون رکھنے والی اس جماعت کا یہ مرکزی اخبار دسمبر 1941ء تک سہ روزہ آرگن کی صورت میں شائع ہوتا رہا۔1942ء سے 1984ء ہفتہ وار شائع ہونے لگا۔ 1989ء سے 1992ء تک پندرہ روزہ اخبار کے طور پر اس کی اشاعت ہوئی۔ 1994ء ،1995ء میں ماہانہ اخبار کے نام سے دوماہ میں ایک شمارہ شائع ہوتا رہا۔ 1999ء اور2000کے دوران امریکہ سے اس کے کچھ شمارے مہینے میں ایک بار شائع ہوئے ، مگر مخلصین کی یہ جماعت زیادہ عرصہ خدمت کا یہ بوجھ برداشت نہ کر سکی ۔ اکتوبر 2009ء سے پندرہ روزہ کے نام پر مہینے میں ایک بار لاہور سے اس کی شاعت شروع ہوئی۔جنوری 2016ء سے یہ ‘‘پندرہ روزہ پیغام صلح انٹرنیشنل’’ کے نام سے جرمنی سے مہینے میں ایک بار شائع ہوتا ہے۔اس کے علاوہ اس عالمگیر جماعت کے دو رسائل The Light and Islamic Review سہ ماہی اورThe HOPE Bulletin ماہانہ امریکہ سے ، اور Bashshaar نامی سہ ماہی رسالہ آسٹریلیا سے شائع ہوتا ہے۔پس یہاں بھی ایک فرق ِنمایاں نظر آتا ہے ۔

( http://www.muslim.org/light/intro.htm )

http://aaiil.org/text/articles/hope/2018/hopebulletin2018.shtml http://aaiil.org/australia/bashshaar/bashshaar.shtml


ہم شاخیں درخت وجود کی ہیںسر پرہے خلافت کا سایہ
افسوس ہے ان کی حالت پر جو تپتی دھوپ میں جلتے ہیں

(جاری ہے)

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button