سیرت خلفائے کرام

خلافت: اتحادِ امت کی ضامن، امنِ عالم کی نوید اور عصرحاضر کے جملہ مسائل کا یقینی حل

(فخر الحق شمس)

جنگِ بدر میں بظاہر سنگ ریزوں کی مُٹھی ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھینکی جو تیز آندھی کی شکل اختیار کر گئی اور مسلمانوں کو غزوہ ٔ بدر میں خدا تعالیٰ نے فتح سے ہم کنار فرمایا۔ قرآن کریم فرماتا ہے کہ یہ سنگ ریزے دراصل خدانے پھینکے تھے کیونکہ اس کے نتیجے میں جس طرح فی الفور آندھی چلی اورصنادید قریش اندھے اور بد حواس ہوگئے یہ خالص خدائی طاقت و قوت کی جلوہ نمائی تھی، چنانچہ یہ حقیقت ہے کہ آج بھی اگر ساری دنیا کے سائنسدان ایک میدان میں جمع ہوکر کنکروں کی بارش بھی کردیں تووہ آندھی تو کیا ہلکی ہوا بھی نہیں بنا سکتے جو مٹی کو آنکھوں میں ڈال کر کسی کو پریشان کر سکے۔ اب ایسا کیوں نہیں ہو سکتا ؟ آئیے غور کرتے ہیں۔

قرآن کریم ، آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت مبارکہ اور تاریخ اسلام پر تدبر کرنے والے جانتے ہیںکہ وہ آندھی جس نے بدر کے میدان میں دشمنانِ اسلام کو بوکھلاہٹ میں مبتلا کردیا تھاجو آخر ان کی شکست پر منتج ہوئی تھی وہ تو اللہ تعالیٰ کی تائید و نصرت اور اُسی کے ارادے سے ظہور میں آئی تھی کیونکہ اللہ تعالیٰ مومنوں کی جماعت کے ساتھ تھا اور چاہتا تھا کہ وہ زمین پر اس کا نام پھیلائیں ، اس کی واحدانیت کو عام کریں اور اچھے اخلاق سے غیروں کے دل جیتیں ۔

ہم دیکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آج بھی اپنی قدرت نمائی کے ویسے ہی جلوے مومنین کی جماعت پر فرمارہا ہے۔ آج کے دَور میں اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور عنایات کی بارشیں ترقیات اور فتوحات میں ڈھل کر خلافت کے سائے تلے جماعت احمدیہ کے حصے میں آرہی ہیں ۔ اور ایسا کیوں نہ ہو؟ایسا ہونا جماعت احمدیہ کے مقدر میں لکھا گیا ہےاور دنیا کی کوئی طاقت اب جماعت احمدیہ پر برسنے والے فضلوں کی بارش کو روک نہیں سکتی ، اس لیے کہ جماعت احمدیہ کو وہ نظام خلافت میسر ہے جو سورۂ نور کی آیت ِ استخلاف سے نصِ صریح کے طور پر بالبداہت ثابت ہے کہ خلافت راشدہ کا آسمانی نظام، نبوت کے تتمہ کے طور پر عرش کا خدااپنے دستِ قدرت سے قائم فرماتا ہے۔جو خدا کی توحید کو دنیا میں پھیلاتی ہے اور اتحاد امت اور تمکنت دین کا باعث بنتی ہے۔

حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام اتحاد امت کا مرکزی نقطہ بلکہ اتحادِ اُمم اور وحدتِ انسانی کا بھی مرکزی محور اور موعود اقوامِ عالم ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ کی نمائندگی میں توحید امت کا یہی عظیم کام خلافتِ احمدیہ سرانجام دے رہی ہے ۔ آج رُوئے زمین پر صرف خلافتِ احمدیہ ہی ہےجس کی روحانی حکومت مشرق و مغرب اور شمال و جنوب پر سایہ فگن ہے۔ آج دنیا میں کون دعویٰ کرتا ہے کہ اس کی روحانی حکومت کا جھنڈا دو سو سے زائد ملکوں میں لہرا رہا ہے ۔ کون اس بات کا مدعی ہے کہ آج دنیا کی سُپر پاورز پر تو سورج اور چاند غروب ہو جاتے ہیں مگرخلافت کےفدائیوں پر سورج اور چاند غروب نہیں ہوتے۔یہ صرف اور صرف خلافتِ احمدیہ ہے جو اتحاد ِاُمت کی ضامن ہے، جو امنِ عالم کی نوید سناتی ہےاور جو بقائے انسانیت کی ضمانت دیتی ہے۔پس خلافت کی یہ نعمت جو جماعت احمدیہ کو حاصل ہے ، اکنافِ عالم کے احمدی سوا سو سال سے اس نعمت کے سائے تلے بیٹھے ہیں اور دنیا اس کے لیے ترس رہی ہے ۔

کسی شاعر نے کیا خوب کہا ہے؎

پانچ گُل ہائے خلافت باغ مہدی میں کھلے
ہے گلِ نایاب سے مہکی کیاری یہ صدی
نوردیں، محمود، ناصر، طاہر و مسرور کی
شکل میں اللہ کا ہے فیضان جاری یہ صدی

امام الزمان حضرت مسیح موعود بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اشتہار 7جون1897ء سے آپؑ کاپیغام حقانی پیش ہے ، فرماتے ہیں:عقل مند اور ایماندار جانتے ہیں کہ ایسے شخص کے ساتھ جس کو خدا آسمانی خلافت دے کر ایک عظیم الشان کام کے لیے بھیجتا ہے …ایک ظاہر ی فرماں روا کی کیا حیثیت ہے… وہ خلافت جس کا آج سے سترہ برس پہلے براہین احمدیہ اور نیز ازالہ اوہام میں ذکر ہے حقیقی خلافت وہی ہے … ہاں ہماری خلافت روحانی ہے اور آسمانی ہے نہ زمینی ہے۔

(مجموعہ اشتہارات جلد 2صفحہ 423)

امت محمدیہؐ کےبعض مفکرین آج امت کی امراض کا واحد حل خلافت میں ہی ڈھونڈتے ہیں مگر اس سچائی کو سمجھنے سے کوتاہ ہیںکہ خلافت انسانوں کی مرضی سے نہیں بلکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے عطا کی جاتی ہے۔ پاکستان اور دنیا کے مختلف ممالک میں جن درد مند دل رکھنے والے دانش وروں اور مذہبی لیڈروں نے نظام خلافت راشدہ کی ضرورت اور اس کی برکات و ثمرات سے ملک کے دینی اور علمی حلقوں کو روشناس کرایا ہے یہ دانشور اور لیڈر ز ایسے ہیں جو اپنے کالموں ، مضمونوں ، تحریروں ، تقریروں ، بیانات اور درسوں میں ضرورت خلافت کی طرف ضرور دعوت دیتے ہیں اوربڑی حسرت سے بتاتے ہیں کہ ہماری ذلت و پستی کا واحد سبب نظام خلافت سے محرومی ہے ، وہ اس غم میں خون کے آنسوخود بھی روتےہیں اور دوسروں کو بھی رُلاتے ہیں۔ یادرہے کہ ڈاکٹر اسرار احمد سمیت پاکستان کے بہت سے علماء، مفکرین اور دانش ور اپنے دور میں خلافت کے داعی اور عالم اسلام کی نجات کا واحد حل خلافت کو ہی تصور کرتے رہے ہیں اور اپنے زعم میں خلافت جاری کرنے کے انسانی منصوبے بھی بناتے رہے جوکبھی کامیاب نہ ہو سکے۔ اس کے باوجود کہ اسلام کے مقتدر حلقوں میں ان کی آواز سنی جاتی تھی اور وہ پذیرائی رکھتے تھے لیکن ان کی اس محنت اور کاوشوں کا کوئی نتیجہ نہ نکل سکاکیونکہ یہ لوگ خلافت کو انسانی ہاتھ کا کمال سمجھ کر ایک آسان کام خیال کرتے تھے اور اس بات کے سمجھنے سے یکسر عاری تھے کہ خلافت کے بنانے سنوارنے اور پروان چڑھانے میں تو صرف خداکا ہاتھ ہوا کرتا ہے انسان کے بس کی یہ بات نہیں ہے ۔ اور یہ بھی نہیں جانتے کہ ایک انسان اس وقت تک مخلص مسلمان نہیں بن سکتا جب تک اسے خدا کی طرف سے قائم شدہ خلافت کا پانی سیراب نہ کرے ۔ اکبر الٰہ آبادی کا مشہور شعر یہاں صادق آتا ہے؎

مسلمان تو وہ ہیں جو ہیں مسلماں علمِ باری میں
کروڑ وں یوں تو ہیں لکھے ہوئے مردم شماری میں

چند مفکرین اور دانش ور وں کے ایسے حوالہ جات بلاتبصرہ پیش ہیں جن میں نہ صرف خلافت کے قیام کی اہمیت بیان کی گئی ہے بلکہ امت کے بگاڑ کی وجہ بھی خلافت کا قیام نہ ہونا بتائی گئی ہے۔

علامہ الشیخ الطنطاوی الجوہری اپنی کتاب ‘القرآن والعلوم العصر یہ ’ صفحہ 21پر آیت استخلاف درج کرنے کے بعد لکھتے ہیں:(ترجمہ عربی عبارت) اس آیت کا ہم نے اس کتاب میں دوبارہ ذکر کیا ہے اور مسلمانوں کے درمیان اتحاد کا طریق بیان کرنے کے بعد ہم نے پھر اس آیت کو دُہرایا ہے کیونکہ اس طریق کا علم ہمیں کتاب عزیز سے ہوتا ہے اور اس کے بغیر مسلمانوں کی کامیابی کا اور کوئی طریق نہیں ۔ نہ ہی انہیں زمین میں خوش حالی اور طاقت حاصل ہوسکتی ہے اور نہ ہی حکومت میسر آسکتی ہے اور نہ ہی ان کا خوف امن سے تبدیل ہو سکتا ہے مگر صرف اور صرف اس (خلافت) کے ذریعہ سے ۔

( القرآن والعلوم العصر یہ صفحہ 21۔ بحوالہ الفرقان مئی جون 1967ء صفحہ 25)

حضرت سید محمد اسماعیل صاحب شہید اپنی ایک فارسی تصنیف ‘منصب امامت ’ میں (جس کا اردو ترجمہ گیلانی پریس لاہور نے 1949ء میں شائع کیا تھا) مسئلہ خلافت کی اہمیت کے متعلق لکھتے ہیں : خلافت راشدہ کے ظہور کے لیے دعائیں کی جائیں ، نزول نعمت الہٰی یعنی ظہور خلافت راشدہ سے کسی زمانہ میں مایوس نہ ہونا چاہیے اور اسے مجیب الدعوات سے طلب کرتے رہنا چاہیے اور اپنی دعا کی قبولیت کی امید رکھنا اور خلیفہ راشد کی جستجو میں ہر وقت ہمت صرف کرنا چاہیے شاید کہ یہ نعمت کاملہ اسی زمانے میں ظہور فرما وےاور خلافت راشدہ اسی وقت ہی جلوہ گرہوجائے… جیسا کہ کبھی کبھی دریائے رحمت سے کوئی موج سر بلند ہوتی ہے اور ائمہ ہدیٰ میں سے کسی امام کو ظاہر کرتی ہے ایسا ہی اللہ کی نعمت کمال تک پہنچتی ہے تو کسی کو تختِ خلافت پر جلوہ افروز کردیتی ہے اور وہی امام اس زمانہ کا خلیفہ راشد ہے اور وہ جو حدیث میں وارد ہے کہ خلافت راشدہ کا زمانہ رسول مقبول علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بعد تیس سال تک ہے اس کے بعد سلطنت ہوگی ۔ اس سے مراد یہ ہے کہ خلافت راشدہ متصل اور تواتر طریق پر تیس سال تک رہے گی اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قیامت تک خلافت راشدہ کا زمانہ وہی تیس سال ہے اور بس ۔ بلکہ حدیث مذکورہ کا مفہوم یہی ہے کہ خلافتِ راشدہ تیس سال گذرنے کے بعد منقطع ہوگی نہ یہ کہ اس کے بعد پھر خلافت راشدہ کبھی عود ہی نہیں کر سکتی بلکہ ایک دوسری حدیث خلافت راشدہ کے انقطاع کے بعد پھر عود کرنے پر دلالت کرتی ہے … امامت ِ تامہ کو خلافت راشدہ خلافت علیٰ منہاج النبوۃ اور خلافتِ رحمت بھی کہتے ہیں۔ واضح ہو کہ جب امامت کا چراغ شیشہ خلافت میں جلوہ گر ہوا تو نعمتِ ربانی بنی نوع انسان کی پرورش کے لیے کامل تک پہنچی اور کامل روحانی اسی رحمت ربّانی کے کمال کے ساتھ نورٌ علیٰ نور آفتاب کی مانند چمکا۔

(منصب امامت، بحوالہ الفرقان مئی جون 1967ء صفحہ 9۔ 10)

مسٹر جسٹس (ر) اے۔ آر چنگیزکہتے ہیں: مغربی طرز کا صدارتی نظام یا پارلیمانی نظام صرف ان ملکوں میں کامیاب ہوسکتا ہے جہاں سب ہی تعلیم یافتہ ہوں اور قوم کی اقتصادی سطح بہت بلند ہو … ہمیں اس میں کیوں شرم محسوس ہوتی ہے کہ ہم مرد مومن کا ہاتھ پکڑ یں اور خلافت کا نظام قائم کریں ۔ یہ نظام تو خود رسول اللہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم کیا تھااور خلفائے راشدین نے اس پر عمل کیا تھا۔کیا ہم اس نظام کو اپنانےسے اس لیے گھبراتے ہیں کہ ماڈرن زمانے میں جہاں مشینی دَور دورہ ہے اورسائنسدانوں نے ہمیں چاند سے بھی آگے پہنچا دیا ہے وہاں ہم چود ہ سو سال پرانے نظام کو اپنا رہے ہیں ۔ یہ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کو اسی زمین پر خلیفہ ہی تو بنا کر بھیجا تھا۔ اور اولاد آدم سے وعدہ کیا تھا کہ اگر تم ایمان لائےاور نیک راستے پر چلے تو ہم تمہاری خلافت زمین پر قائم رکھیں گے۔

(نوائے وقت 5۔ اکتوبر 1977ء)

سید ابوالاعلیٰ مودودی کا درج ذیل بیان روزنامہ پاکستان ٹائمز میں شائع ہوا:

He said merely the Islamic System of politics is entirely different from all other systems, neither the Presidential nor the Parliamentary system bear any resemblence to the Islamic system. But you can have the true Islamic system only when you have a leader like Umar Farooq and a nation like the Momineen of the early days of Islam.

(The Pakistan Times Setember 25, 1977, page 4, colmn 6.)

ترجمہ: انہوں نے کہا اسلام کا سیاسی نظام دوسرے تمام نظاموں سے مختلف ہے۔ صدارتی اور نہ ہی پارلیمانی نظام اس سے کوئی مشابہت رکھتا ہے ۔ آپ صحیح اسلامی نظام صرف اسی صورت میں حاصل کرسکتے ہیں جب آپ میں سے کوئی لیڈر عمر فاروقؓ کی مانند اور کوئی قوم قرونِ اولیٰ کے مومنین کی مثل موجود ہو۔ ( پاکستان ٹائمز 25ستمبر 1977ء صفحہ 4، کالم 6)

اہلِ تشیّع کا ایک اخبار،معارف اسلام اپنے اداریے میں لکھتا ہے: مسلمانوں کا ایک مرکز پر اکٹھا ہونا ناممکن ہے۔ تا وقتیکہ اُن کا مسلک ایک، اُن کادستورایک، اُن کا طریق عمل ایک ، اُن کا قانون ایک ، اُن کا تخیل ایک، امن کی پالیسی ایک اور اُن کا امام ایک نہ ہو۔

ہنوز ایں چرخِ نیلی کج خرام است
ہنوز ایں قافلہ دُور از مقام است
زکارِ بے نظام اُوچہ گوئم
نمی دانی کہ اُمتِ بے امام است

(اقبال)

موجودہ حالات میں تو ان دنیاوی مدبرین اسلام اور طبقہ علماء و ممالکِ اسلامیہ کے حکمران طبقے میں سے کوئی اس بات کا دعوےدار اور اہل بھی نہیں ہے کہ وہ جمیع مسلمانانِ عالم کا امام کہلاسکے۔ جمہوریت اس سلسلے میں تہی دست ہے۔ وہ کسی کو مسلمانوں کا مشترکہ پیشوا نہیں بنا سکتی ۔ مندرجہ بالا ہر سہ طبقات کے ذہنی و فکری اختلافات سے انکار محال۔ ان کے مسلک جداجدا ۔ لہٰذا امامِ وقت منجانب اللہ ہونا ناگزیر ہے۔

(اداریہ ، معارف اسلام لاہور فروری 1961ء)

مولوی زاہد الراشدی اپنے کالم ‘نوائے قلم ’ میں بعنوان نظامِ خلافت اور عالم اسلام لکھتے ہیں: اس وقت ہم سب دنیا کے مسلمان مجموعی طور پر شرعی فریضے کے تارک اور خلافت اسلامیہ قائم نہ کرنے کے گناہ کار ہیں اور اسی وجہ سے افرادی قوت ، بے پناہ وسائل اور دولت ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ کی رحمت و رضا سے محروم ہوکر غیروں کے دست نگر بن کر رہ گئے ہیں۔

آج دنیا میں کسی جگہ بھی خلافت اسلامیہ کا نظام موجود نہیں ہے البتہ عالم اسلام کے مختلف حصوں میں خلافت کے احیاء و قیام کے لیے مساعی اور جدوجہد کا سلسلہ جاری ہے اور بیسیوں تحریکات مختلف مسلم ممالک میں خلافت کے قیام کے لیے تگ و دوکر رہی ہیں۔ پاکستان میں جو حلقے اس مقدس جدوجہد میں مصروف ہیں ان میں محترم ڈاکٹر میر معظم علی علوی کا حلقہ بطور خاص قابل ذکر ہے جو خلافت کی اہمیت کو مسلمانوں کے ذہنوں میں اُجاگر کرنے اور اس کے لیے لوگوں کی ذہن سازی و فکر ی تربیت کے کام میں ہمہ تن مصروف ہے۔ (روزنامہ اوصاف 14جولائی 2001ء)

جناب ابو یاسر فاروقی تحریر کرتے ہیں: قیام پاکستان سے لے کر آج تک اسلامی اصولوں کے مطابق وطن عزیز میں خلیفہ کا انتخاب نہیں ہوسکاہے ۔ انہوں نے کہا کہ خلیفہ اللہ کی زمین پر اللہ تعالیٰ کا نائب ہوتا ہےجو احکامِ خداوندی کا خود بھی پابند ہوتا ہے اور عامۃ الناس پر یہ احکام نافذ کرکے عمل کرانے کا پابند بھی ہوتا ہے ۔

(روزنامہ نوائے وقت لاہو25جولائی 1990ءصفحہ4)

جناب پروفیسر خالد محمود ترمذی خلافت کی ضرورت اور اصلاح احوال میں اس کے بنیادی کردار کی اہمیت کو واضح کرتے ہوئے لکھتے ہیں: آخر میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ انسانی عقل جو مخلوق ہے بغیر اپنے خالق کی راہنما ئی اور ہدایت کے اپنے جیسے انسانوں کی راہنمائی نہیں کرسکتی ۔ خالق حقیقی نے اپنے بندوں کی ہدایت اور راہنمائی کے لیے انبیاء بھیجے انہوں نے ہمیں صحیح راستہ دکھایا ۔ میرا ایمان ہے کہ ایک وقت آئے گا کہ جمہوریت کا بھوت لوگوں کے سر سے اُتر جائے گا اور لوگ صرف اسلام اسلام پکاریں گے ۔ خلافت دوبارہ جمہوریت کی جگہ لےلے گی۔ انشاء اللہ العزیز۔

(روزنامہ جنگ لاہور31جولائی 1990ءصفحہ 3)

مولانا عبد الماجد دریا بادی، مدیر صدق جدید لکھنؤ 1974ء میں لاہور میں منعقد ہونے والی مسلم سربراہ کانفرنس پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں: اتنے تفرق اور تشتت کے باوجود کبھی کسی کا ذہن اس طرف نہیں جاتا کہ عراق کا منہ کدھر ، شام کا رخ کس طرف ہے، مصر کدھر اور حجاز اور یمن کی منزل کونسی ہے۔ اور لیبیا کی کونسی؟

ایک خلافت اسلامیہ آج ہوتی تو اتنی چھوٹی چھوٹی ٹکڑیوں میں آج مملکت اسلامیہ کیوں تقسیم در تقسیم ہوتی ۔ ایک اسرائیل کے مقابلہ پر سب کی الگ الگ فوجیں کیوں لانا پڑتیں ۔ ترک اور دوسرے فرمانرواآج تک تنسیخ خلافت کی سزا بھگت رہے ہیںاور خلافت کو چھوڑ کرقومیتوںکا فسوں شیطان نے پھونک دیا، وہ دماغوں سے نہیں نکلتا۔ (صدق جدید لکھنؤ یکم مارچ 1974ء)

مدیر تنظیم اہلحدیث نے اپنے رسالہ 12ستمبر 1969ء میں لکھا : اگر زندگی کے ان آخری لمحات میں ایک دفعہ بھی خلافت علیٰ منہاج نبوت کا نظارہ نصیب ہو گیا تو ہوسکتا کہ ملت اسلامیہ کی بگڑی سنور جائے اور روٹھاہوا خدا پھر سے من جائے اور بھنور میں گری ہوئی ملت اسلامیہ کی یہ ناؤ کسی طرح سے اس نرغہ سے نکل کر ساحل عافیت سے ہمکنار ہوجائے۔

علامہ اقبال نے اپنے منظوم کلام میں نہایت حسر ت بھرے انداز میں لکھا۔

تا خلافت کی بنا دنیا میں ہو پھر استوار
لا کہیں سے ڈھونڈ کر اسلاف کا قلب و جگر

روزنامہ نوائے وقت کے کالم سرراہے مطبوعہ 16دسمبر 2003ء میں مخلص لیڈرشپ یعنی خلافت کے حوالے سے لکھا ہے: افسوس ہے کہ اس وقت عالم اسلام کا کوئی لیڈر نہیں ہے اور مسلمان ممالک کے اکثر حکمران امریکہ کے پٹھو بنے ہوئے ہیں ۔ اس صورتحال میں اللہ ہی سے دعا کی جاسکتی ہے کہ وہ عالم اسلام کو مخلص قیادت عطا فرمائے جو صرف مسلمانوں کے مفاد کو سامنے رکھے اپنے ذاتی مفاد کا خیال نہ کرے ۔ جس طرح مسلمان بارش نہ ہونے پر نماز استسقاء ادا کرتے ہیں اسی طرح تمام دنیا کے مسلمانوں کو کسی ایک روز نماز قیادت ادا کرنی چاہیے اور اللہ سے رو رو کر دعا کرنی چاہیے کہ وہ انہیں مخلص لیڈر شپ عطا فرمائے۔ آمین

(روزنامہ نوائے وقت لاہور مورخہ 16دسمبر 2003ء ، ادارتی صفحہ)

سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے ترجمان میگزین المرشد لاہور، اکتوبر 2006ء کے فکر انگیز اداریہ کا ایک حصہ ملاحظہ فرمائیں: اس رسالے کے ایڈیٹر پوپ بینی ڈکٹ کے ایک بیان پر اظہار افسوس کرنے کے بعد تنظیم الاخوان کے امیر مولانا محمد اکرم اعوان کا یہ بیان درج کرتے ہیں: امت مسلمہ کے لیے اس وقت قابل غور بات یہ ہے کہ دنیا بھر میں اس وقت جتنے بھی مذاہب موجود ہیں ان کے پاس مذہبی حوالے سے ایک مرکزیت موجود ہے لیکن ملت اسلامیہ اس وقت یکسر محروم ہے حالانکہ دین اسلام میں اس مرکزیت کو کلیدی اہمیت حاصل ہے جسے عرف عام میں خلافت کہا جاتا ہے ۔

عہد رسالت صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر ترک سلطنت عثمانیہ تک یہ خلافت کسی نہ کسی صورت میں موجود رہی لیکن سلطنت عثمانیہ کے زوال کے بعد مسلمان اس مرکزیت سے محروم ہوئے اور یہ محرومی بے شمار مسائل کا بنیادی سبب بن گئی ۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ روئے زمین پر صرف مسلمان ہی وہ واحد قوم ہیں جو ایک مرکز پر جمع ہو سکتے ہیں ۔ کیونکہ ان کے پاس اللہ کی آخری کتاب آج بھی اصل حالت میں موجود ہے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات و برکات بھی پوری طرح جگمگا رہی ہیں لیکن مسلمان مرکز یت کی ناگزیر ضرورت سے نا آشنا ہیں۔

اس وقت 56سے زائد مسلم ریاستیں ہیں اور ہر طرح کے وسائل ان کے پاس ہیں لیکن یہ تمام ممالک اپنےاپنے مفاد ات کی جنگ لڑ رہے ہیں ۔ اگر آج خلافت اسلامیہ قائم ہو جائے بالفاظ دیگر ایک ایسا پلیٹ فارم بن جائے جس کا ہر فیصلہ پوری دنیا کے مسلمانوں کے لیے قابل قبول ہو تو کسی کو ملت اسلامیہ کی طرف ٹیڑھی آنکھ سے دیکھنے کی جرات نہ ہو۔

(المرشد لاہور ، اکتوبر 2006ء صفحہ 1) ( بحوالہ الفضل انٹر نیشنل 2جولائی 2007ء)

جناب چوہدری رحمت علی مدیر‘سبق پھر پڑھ’ سابق پروجیکٹ ڈائریکٹر واپڈا ، پاکستان کے معروف دانش ور ،صحافی اور علمی شخصیت تھے ۔ انہوں نے بیسویں صدی کے آخری عشرے میں خالص خلافت کے موضوع پر اپنے ذاتی مسلک کی بناپر ایک کتاب بعنوان خلافت راشدہ اور کتاب اللہ، شائع کی جس میں خلافت کے بہت سے پہلوؤں کا احاطہ کرنے کے بعد زبردست دلائل و براہین سے ثابت کیا کہ ہمارے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف خلا فت راشدہ میں مضمر ہے اور یہی امت کی فنا اور بقاء کا مسئلہ ہے۔ یہ محققانہ تصنیف مشہور ادارہ خلافت پبلیکیشنز، احمد منیر شہید روڈ، اچھرہ لاہور )نے خاص اہتمام سے شائع کی تھی ۔جناب چوہدری رحمت علی کی گراں قدر کتاب کے دو اقتباسات ہدیہ قارئین ہیں:

امت مسلمہ آج اگر ذلت و خواری سے دوچار ہے تو یہ حادثہ جانکاہ کوئی راتو ں رات نہیں ہوگیا ۔ ہمارے زوال کی داستان تقریباً ساڑھے تیرہ سو سال پر محیط ہے۔ جس نسبت سے ہم خلافت سے دور ہوتے چلے گئے اس سے کئی گنا سُرعت سے ہم قعرِ ذلت و مسکنت میں لڑھکتے چلے گئے ۔

اس حقیقت کو اچھی طرح ازبر کرلیں کہ مسلمانوں کا اس دنیا میں عروج و زوال براہِ راست خلافت کے وجود و عدم سے منسلک ہے۔ جب خلافت قائم تھی دنیا میں غالب بھی ہم ہی تھے۔ جونہی خلافت سے قدرے روگردانی ہوئی، ہم بھی اسی نسبت سے نظامِ خلافت کی برکات سے محروم ہو گئے ۔ پھر جب خلافت بے جان و برائے نام ہوگئی تو ہم اغیار کی غلامی اور کاسہ لیسی پر مجبور ہوگئےاور آج جب خلافت کا وجود ہے ہی نہیںہم ہیں کہ کفار و مشرکین کے رحم و کرم پر ۔ یعنی وہ ہیں ترقی یافتہ ممالک اور ہم ہیں تیسری دنیا کے ممالک ۔بیماری اور علالت کی تشخیص ہوچکی۔ ہماری جملہ گراوٹوں ، ذلتوں اور مسکنتوں کی ایک ہی وجہ ہے اور وہ ہے دنیا میں اس وقت خلافت کا نہ ہونا۔ علاج بھی واضح کہ خلافت کی بحالی ہی سے ہم مسلمان اپنا کھویا ہوا مقام پھر حاصل کر سکتے ہیں ۔

( خلافت راشدہ اور کتاب اللہ از چوہدری رحمت علی، ناشر خلافت پبلیکیشنز احمد منیر شہید روڈ اچھرہ لاہور۔ صفحہ 77۔78)

خلافت کی ضرورت و اہمیت دانشوروں اور ملت اسلامیہ کے لیڈرز کی زبانی آپ نے مطا لعہ فرما لی ہے۔ آخر پر حضرت مسیح موعود ؑکی ایک عظیم الشان پیش گوئی ملاحظہ فرمائیں۔ آپؑ فرماتے ہیں:

‘‘دیکھو وہ زمانہ چلا آتا ہے بلکہ قریب ہے کہ خدا اس سلسلہ کی دنیا میں بڑی قبولیت پھیلائے گا اور یہ سلسلہ مشرق اور مغرب اور شمال اور جنوب میں پھیلے گا اور دنیا میں اسلام سے مراد یہی سلسلہ ہوگا ۔ یہ باتیں انسان کی نہیں یہ اس خدا کی وحی ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں ۔ ’’

(تحفہ گولڑویہ ،روحانی خزائن جلد 17صفحہ182)

حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ کا یہ ارشاد بھی ہمارے دوستوں اور بھائیوں کے لیے قابل غور ہے ۔ حضورؒ فرماتے ہیں: آخری پیغام میرا یہی ہے کہ وقت کے امام کے سامنے سر تسلیم خم کرو خدا نے جس کو بھیجا ہے اس کو قبول کرو وہی ہے جو تمہاری سربراہی کی اہلیت رکھتا ہے …خداکی قائم کردہ قیادت کے انکار کے بعد تمہارے لیے کوئی امن و فلاح کی راہ باقی نہیں، اس لیے واپس آؤ توبہ و استغفار سے کام لو میں تمہیں یقین دلاتا ہوں خواہ معاملات کتنے ہی بگڑ چکے ہوں اگر آج تم خدا کی قائم کردہ قیادت کے سامنے سر تسلیم خم کرلو تو نہ صرف یہ کہ دنیا کے لحاظ سے تم ایک عظیم طاقت کے طور پر اُبھرو گے بلکہ تمام دنیا میں اسلام کے غلبہ نَو کی ایک ایسی عظیم تحریک چلے گی کہ دنیا کی کوئی طاقت اس کا مقابلہ نہیں کر سکے گی …

اگر تم شامل ہو یانہ ہو جماعت احمدیہ بہرحال تن من دھن کی بازی لگاتے ہوئے جس طرح پہلے اس راہ میں قربانیاں پیش کرتی رہی ہے آج بھی کر رہی ہے کل بھی کرتی چلی جائے گی اور آخری فتح کا سہرا پھر صرف جماعت احمدیہ کے نام لکھا جائے گا ۔ پس آؤ اس مبارک سعادت میں تم بھی شامل ہو جاؤ ۔

(خطبہ جمعہ فرمودہ 3۔ اگست 1990ء ۔ خطبات طاہر جلد 9 صفحہ 449۔ ناشر طاہر فاؤنڈیشن ربوہ)

خلافتِ احمدیہ کی صدی کا قصہ جماعت احمدیہ کے معروف شاعر جناب عبد الکریم قدسی کی زبانی منظوم انداز میں ملاحظہ فرمائیں:

یہ ایک صدی کا قصہ ہے جو ہم پر بیتی گزری ہے
یہ صبرو رضا کی ہڈ بیتی جو اپنے خون سے لکھی ہے
یہ بچوں کا کوئی کھیل نہیں جو بازی ہم نے کھیلی ہے
یہ قربانی کی خوشبو ہے جو ایک صدی پر پھیلی ہے
خوشبو کے سفر کو روک سکے ، دنیا کے بس کی بات نہیں
یہ ایک صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں
یہ پھول خلافتِ حقہ کے سو برسوں بعد بھی تازہ ہیں
یہ امن،محبت،پیار ، وفاؤں کے چہرے کا غازہ ہیں
یہ شہد سے بڑھ کر شیریں ہیں خوش شکل بے اندازہ ہیں
یہ روشنیوں کا رستہ ہیں یہ خوشبو کا دروازہ ہیں
یہ آزادی کے نغمے ہیں یہ قید و قفس کی بات نہیں
یہ ایک صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں
یہ بات ہے دل کی دھڑکن کی ناقوس و جرس کی بات نہیں
یہ ایک صدی کا قصہ ہے دو چار برس کی بات نہیں

خاکسار اپنے مضمون کا اختتام حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے خلافت کے حوالے سے ایک وجد آفرین ارشاد پر کرتا ہے۔

سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے صدسالہ جوبلی خلافتِ احمدیہ کے موقع پر عالم گیر جماعت احمدیہ کے نام ایک پُر معارف پیغام عطا فرمایا جس میں فرمایا:

یہ الہٰی تقدیر ہے ۔ یہ اسی خدا کا وعدہ ہے جو کبھی جھوٹے وعدے نہیں کرتا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے وہ پیارے جو آپ کے حکم کے ماتحت قدرت ثانیہ سے چمٹے ہوئے ہیں،انہوں نے دنیا پر غالب آنا ہےکیونکہ خدا ان کے ساتھ ہے۔ خدا ہمارے ساتھ ہے۔ آج اس قدرت کو سوسال ہو رہے ہیں اور ہر روز نئی شان سے ہم اس وعدہ کو پورا ہوتے دیکھ رہے ہیں … پس ہر احمدی کا فرض ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مشن کو قدرت ثانیہ سے چمٹ کر اپنی تمام استعدادوں کے ساتھ پورا کرنے کی کوشش کرے ۔آج ہم نے عیسائیوں کو بھی آنحضرتﷺ کے جھنڈے تلے لانا ہے۔یہودیوں کو بھی آنحضرت ﷺ کے جھنڈے تلے لانا ہے۔ ہندوؤ ں کو بھی اور ہر مذہب کے ماننے والے کو بھی آنحضرت ﷺکے جھنڈے تلے لانا ہے۔یہ خلافتِ احمدیہ ہے جس کے ساتھ جڑ کرہم نے روئے زمین کے تمام مسلمانوں کو بھی مسیح و مہدی کے ہاتھ پر جمع کرنا ہے۔

پس اے احمدیو! جو دنیا کے کسی بھی خطہ زمین میں یا ملک میں بستے ہو، اس اصل کو پکڑلو اور جو کام تمہارے سپرد امام الزمان اور مسیح و مہدی نے اللہ تعالیٰ سے اذن پاکر کیا اسے پورا کرو جیسا کہ آپ علیہ السلام نے ‘یہ وعدہ تمہاری نسبت ہے’ کے الفاظ فرما کریہ عظیم ذمہ داری ہمارے سپرد کردی ہے۔ وعدے تبھی پورے ہوتے ہیں جب ان کی شرائط بھی پوری کی جائیں۔

پس اے مسیح محمدی کے ماننے والو! اے وہ لوگوجو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے پیار ے اور آپ کے درخت وجود کی سر سبز شاخیں ہو، اٹھواور خلافتِ احمدیہ کی مضبوطی کے لیے ہر قربانی کے لیے تیار رہو تاکہ مسیح محمدی اپنے آقا و مطاع کے جس پیغام کو لے کر دنیا میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ، اس حبل اللہ کو مضبوطی سے پکڑ تے ہوئے دنیا کے کونے کونے میں پھیلادو ۔ دنیا کے ہر فرد تک یہ پیغام پہنچادو کہ تمہاری بقاخدائے واحدو یگانہ سے تعلق جوڑنے میں ہے ۔ دنیاکا امن اس مہدی و مسیح کی جماعت سے منسلک ہونے سے وابستہ ہے کیونکہ امن و سلامتی کی حقیقی اسلامی تعلیم کایہی علمبردار ہے، جس کی کوئی مثال روئے زمین پر نہیں پائی جاتی ۔آج اس مسیح محمدی کے مشن کو دنیا میں قائم کرنے اور وحدت کی لڑی میں پروئے جانےکا حل صرف اور صرف خلافتِ احمدیہ سے جڑے رہنے سے وابستہ ہے اور اسی سے خدا والوں نے دنیا میں ایک انقلاب لانا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر احمدی کو مضبوطی ایمان کے ساتھ اس خوبصورت حقیقت کو دنیا کےہر فرد تک پہنچانے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

(خطابات ، امام جماعت احمدیہ عالمگیر حضرت مرزا مسرور احمد صاحب، خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز۔صفحہ 18تا20۔ ناشر اسلام انٹر نیشنل پبلیکیشنز ، یوکے)

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close