خطاب حضور انور

نیشنل اجتماع واقفینِ نَو برطانیہ کے اختتامی اجلاس سے حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کا بصیرت افروز خطاب

(امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بںصرہ العزیز)

فرمودہ مورخہ 7؍ اپریل 2019ء بمقام طاہر ہال مسجد بیت الفتوح مورڈن

(اس خطاب کا اردو ترجمہ ادارہ الفضل اپنی ذمہ داری پر شائع کر رہا ہے)

عہدِ وقف اور اس کا نبھانا

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ۔
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ-بِسۡمِ اللّٰہِ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ﴿۱﴾
اَلۡحَمۡدُ لِلّٰہِ رَبِّ الۡعٰلَمِیۡنَ ۙ﴿۲﴾ الرَّحۡمٰنِ الرَّحِیۡمِ ۙ﴿۳﴾ مٰلِکِ یَوۡمِ الدِّیۡنِ ؕ﴿۴﴾ إِیَّاکَ نَعۡبُدُ وَ إِیَّاکَ نَسۡتَعِیۡنُ ؕ﴿۵﴾
اِہۡدِ نَا الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ ۙ﴿۶﴾ صِرَاطَ الَّذِیۡنَ أَنۡعَمۡتَ عَلَیۡہِمۡ ۬ۙ غَیۡرِ الۡمَغۡضُوۡبِ عَلَیۡہِمۡ وَ لَا الضَّآلِّیۡنَ ٪﴿۷﴾

‘‘اللہ تعالیٰ کے فضل سے احمدی والدین کی تعداد جو اپنے بچوں کو دین کی خاطر وقف کررہے ہیں مسلسل بڑھ رہی ہے اور یوں ہر سال پیدا ہونے والے ہزاروں بچے وقف نَو کی سکیم میں شامل ہو رہے ہیں۔ آپ سب ان خوش قسمت لوگوں میں سے ہیں جن کی زندگیاں ان کے والدین نے پیدائش سے قبل ہی اسلام کی خاطر وقف کر دی تھیں اور اب آپ میں سے بہت سے شعور کی عمر کو پہنچ رہے ہیں۔

آپ میں سے کچھ ابھی سکول میں ہیں، جبکہ بہت سے اپنی اعلیٰ تعلیم مکمل کرکے جماعت میں مستقل طور پر وقف زندگی کی حیثیت سے خدمت کی توفیق پا رہے ہیں۔ بہت سے ایسے بھی ہیں جو جامعہ احمدیہ سے تعلیم مکمل کرنے اورتربیت پانے کے بعد میدانِ عمل میں بحیثیت مربی و مبلغ کام کر رہے ہیں۔ بعض ایسے بھی ہیں جو جماعت کی اجازت سے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں اپنے کام کر رہے ہیں مگر ان کے لیے یہ بہت ضروری ہے کہ وہ جماعتی خدمت کے لیے جتنا زیادہ سے زیادہ ممکن ہو وقت نکالیں اور ہمیشہ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ وہ واقفِ نَو ہیں۔

سب سے اول اور اہم بات ہر واقفِ نَو کو سمجھ لینی چاہیے کہ اس کا وقف تب ہی حقیقی اور فائدہ مندہو سکتا ہے جب اس کا اللہ تعالیٰ سے مخلصانہ تعلق قائم ہو اور اس کے لیے اہم ترین راستہ اللہ تعالیٰ کی عبادت اور نماز کا قیام ہے۔ اس لیے ہر حال میں پانچ وقت نمازیں پورے اخلاص اور لگن سے اللہ تعالیٰ کے حضور ادا کریں۔

ہر احمدی مسلمان مرد کا یہ مذہبی فریضہ ہے کہ وہ باجماعت نمازیں ادا کرے۔ لہٰذا آپ میں سے جو مسجد یا نماز سنٹر سے مناسب فاصلے پر رہتے ہیں ہر ممکن کوشش کریں کہ نمازیں باجماعت ادا کریں۔ باجماعت نماز آپ کی روزمرہ زندگی کا سب سے اہم جزوہونا چاہیے۔

جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے کہ بہت سے واقفین نَوشعور اور سوجھ بوجھ کی عمر کو پہنچ چکے ہیں اور بہت سے بلوغت میں قدم رکھ رہے ہیں اس کے باوجود نماز باجماعت تو درکنار، بعض سے پوچھنے پر یہ معلوم ہوتا ہے کہ پنجوقتہ نماز کا ہی التزام نہیں۔ ایسے وقف کا کیا مقصد اور اس کا کیا فائدہ ؟ ایک طرف انہوں نے اپنی زندگیاں اللہ تعالیٰ کی خاطر وقف کرنے کا عہد کیا ہے اور دوسری طرف وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت سے غافل ہیں جو ایمان کا اقرار کرنے کے بعد ہر مسلمان کے دین کا سب سے اہم رکن ہے۔ اس لیے یہ بات یاد رکھیں کہ آپ کے وقفِ زندگی کا عہد تبھی بامقصد ہو سکتا ہے جب آپ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کریں اور ہر حال میں اس سے مخلصانہ تعلق قائم رکھیں۔

برطانیہ کے نیشنل اجتماع وقف نَو (خدام و اطفال) کے اختتامی اجلاس سے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز خطاب فرما رہے ہیں

اگر آپ اللہ تعالیٰ کی عبادت کا بنیادی فریضہ ہی ادا نہیں کر رہے تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ آپ اس سے وفا اور اخلاص کا تعلق پیدا کر سکیں ؟ اس لیے اگر آپ یہ ثابت کرنا چاہتے ہیں کہ آپ صرف نام کے ہی وقفِ نَو نہیں بلکہ آپ نے حقیقی رنگ میں اپنی زندگی اسلام کی خاطر وقف کی ہے اور آپ اس عہد کو پوراکرنے کے لیے پُرعزم ہیں جو آپ کے والدین نے کیا تھا تو پھر آپ کو دین کے اس لازمی حصہ کو مقدم رکھنا ہوگا۔ آپ کو اپنی عبادتوں کے معیار بڑھانے ہوں گے اور اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ کوئی دن بھی ایسا نہ گزرے جس میں آپ پنجوقتہ نمازوں کے بنیادی فریضہ کو انجام دینے سے غافل رہے ہوں۔ یہ بات واضح رہے کہ اگر آپ اس میں ناکام رہتے ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا وقف بے معنی اور بے مقصد ہے۔

اسی طرح بحیثیت وقفِ نَو یہ ضروری ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کے باقی احکامات پر بھی عمل کرنے کی کوشش کریں اور دوسروں کے حقوق ادا کرنے کی بھی کوشش کریں۔ ایک وقفِ نَو کا حقوق اللہ یعنی اللہ تعالیٰ کے حقوق اور حقوق العباد یعنی اللہ تعالیٰ کی مخلوق کے حقوق کی ادائیگی کا معیار باقی سب لوگوں سے بہت اونچا ہونا چاہیے۔

مختصراً یہ کہ آپ کو صرف اس لیے اطمینان سے نہیں بیٹھ جانا چاہیے کہ آپ کا نام وقفِ نَو کی فہرست میں شامل ہے بلکہ آپ کو ہمیشہ اپنی ذمہ داریوں کی وسعت اور اپنے عقیدے کی پاسداری کا احساس رہنا چاہیے۔ آپ کا فرض ہے کہ اپنی اخلاقی حالت کو بہتر سے بہتر بناتے چلے جائیں اور اپنا دینی علم بڑھائیں۔ کبھی نہ بھولیں کہ آپ کے والدین نے آپ کی زندگیاں دین کی خاطر وقف کی تھیں اور آپ کے لیے دعائیں بھی کی تھیں۔

اس سلسلہ میں یہ بہت ضروری ہے کہ تمام واقفین نَو کے والدین کو جنہوں نے پیدائش سے قبل ہی اپنے بچوں کو جماعت کی خاطر وقف کر دیا تھا یاددہانی کروائی جائے کہ وہ اپنے بچوں کے لیے بھرپور دعائیں کریں کہ اللہ تعالیٰ ان کے بچوں کو وقف کے تفاضے پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ اسی طرح والدین کا فرض ہے کہ وہ بچوں کی اخلاقی اور دینی تربیت کی طرف خاص توجہ دیں اور ان کی رہنمائی کریں کہ انہوں نے عہدِ وقف کو کیسے نبھانا ہے۔

خوش نصیب واقفین نَو اپنے پیارے آقا کے خطاب سے فیضیاب ہو رہے ہیں

اب والدین کو مختصراً مخاطب کرنے کے بعد میں دوبارہ واقفینِ نَو کی طرف آتا ہوں۔ آپ سب کو ان ذمہ داریوں اور معیاروں کو سمجھنا ہو گا جن کی ایک واقف زندگی سے توقع کی جاتی ہے۔ خلاصۃً وقف کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کی مخلوق کے حقوق ادا کرنا اور ہمیشہ اپنے علم میں اضافہ کرنے اور اپنے اخلاقی اور روحانی معیار کوبڑھانے کے لیے کوششوں میں لگے رہنا۔ درحقیقیت صرف اپنے عقیدے کا علم ہونا کافی نہیں بلکہ ہر حال میں اپنے دین پر عمل بھی کرتے رہنا ضروری ہے۔

بحیثیت واقف ِنَو آپ کو حضرت مسیح موعود ؑکی اُن توقعات کا علم ہونا چاہیے جو آپؑ نے افرادِجماعت سے رکھی ہیں بالخصوص ان سے جنہوں نے اسلام کی خاطر اپنی زندگیوں کو وقف کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے آپ کو حضرت مسیح موعود ؑکی کتب اور تحریرات کا مطالعہ کرنا ہو گا جہاں بہت سے مواقع پر آپ ؑ نے ان توقعات کا واضح اظہار فرمایا ہے۔

اس حوالہ سے میں اب اپنے الفاظ میں حضرت مسیح موعود ؑکی بیان فرمودہ چند بابرکت ہدایات بیان کروں گا۔ ایک موقع پر حضرت مسیح موعود ؑنے فرمایا کہ اگر کوئی نجات چاہتاہے۔ اور حیات طیّبہ یا ابدی زندگی کا طلبگار ہے تو وہ اللہ تعالیٰ کے لیے اپنی زندگی وقف کرے۔ اورہر ایک اِس کوشش اور فِکر میں لگ جاوے کہ وُہ اس درجہ اور مرتبہ کو حاصِل کرے کہ کہہ سکے کہ میری زندگی، میری موت، میری قربانیاں، میری نمازیں اللہ ہی کے لیے ہیں۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ …حضرت ابراہیمؑ کی طرح ہماری رُوح بول اٹھے۔ اَسْلَمْتُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ کہ میں کلّیۃً خداکافرمانبرداد ہو چکا ہوں۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد 2 صفحہ 100)حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ جو شخص باریکی سےاللہ تعالیٰ کے احکامات کی پیروی نہیں کرتا اور بھول جاتا ہے کہ اس کی زندگی کا اولین مقصد خدا تعالیٰ کی عبادت ہے وہ کبھی بھی حقیقی مومن کا درجہ حاصل نہیں کر سکتا ۔پس آپ کو یہ سمجھنا چاہیے کہ گوکہ آپ مغربی معاشرے میں رہتے ہیں ، آپ کو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کی خاطر اپنی زندگیاں اسلامی تعلیمات کے مطابق گزارنی چاہئیں۔ آپ کو پختگی کے ساتھ اپنی مذہبی روایات اور اطوارپر قائم رہنا چاہیے اور اپنی زندگیوں میں وہ پاک تبدیلی لے کر آنی چاہیے جس کے بعد آپ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کرنے والے ہوں۔ آپ کی ہمیشہ یہ کوشش ہونی چاہیے کہ آپ اخلاقی اور روحانی لحاظ سے بہتر سے بہتر ہوتے چلے جائیں اور اپنے علم میں اضافہ کرنے والے ہوں۔
اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں یہ بھی سکھایا ہے کہ وہ لوگ جو آپؑ کے ساتھ عقد بیعت باندھتے ہیں انہیں اپنی زندگی خدا تعالیٰ اور اس کے دین کے لیے اسی طرح وقف کرنی چاہیے جس طرح آپؑ نے اپنی زندگی وقف کی تھی۔پس ہمیں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مثال ہر وقت اپنے سامنے رکھنی چاہیے جنہوں نے اپنا ہر دن اور اپنی ہر رات خدمتِ اسلام کے لیے وقف کر رکھے تھے حتٰی کہ آپؑ نے آخری سانس تک اپنی زندگی کا ہر لمحہ اسلام کی حقیقی تعلیمات کے احیاء اور دنیا میں ان کی اشاعت میں صرف کیا۔

مثال کے طور پر آپؑ ایک جگہ تحریر فرماتے ہیں کہ بعض وقت لکھتا ہوں تو آنکھوں کے آگے اندھیرا اُتر جاتا ہے اور یقین ہو جاتا ہے کہ غشی آ گئی۔ (ماخوذ از مکتوبات احمدؑ جلد 5 صفحہ 382)جب ایسی حالت ہوتی تو آپ تھوڑی دیر کے لیے سستا لیتے۔ یہ ہے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا عظیم کردار جس کی پیروی کرنا ہماری ذمہ داری ہے۔

مجھے کامل یقین ہے کہ اگر تمام واقفین نَو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نمونہ کی معمولی سی بھی پیروی کرنے لگ جائیں تو وہ دنیا میں روحانی اور اخلاقی انقلاب برپا کر سکتے ہیں۔

جماعت احمدیہ برطانیہ کے نیشنل اجتماع وقف نَو (خدام و اطفال)کا ایک منظر

جہاں تک خدمت کا سوال ہے، تو ضروری نہیں کہ آپ کو بالغ ہوتے ہی جماعت کی ہمہ وقت خدمت کے لیے بلا لیا جائے۔ اورجیسا کہ میں بیان کر چکا ہوں کہ آپ میں سے کئی واقفینِ نَو نظام سے باقاعدہ اجازت حاصل کر کے باہر ملازمتیں اور اپنے کام بھی کر رہے ہیں۔ پس آپ جو بھی کام کریں، یہ بات آپ کے ذہن نشین رہے کہ آپ دنیا کے کاموں میں بالکل ہی نہ کھو جائیں بلکہ آپ کا وقف ہی آپ کی اولین ترجیح رہے۔
آپ کی ہمیشہ یہ کوشش ہونی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کے معیار میں ترقی کرنے والے ہوں ، آپ کے روحانی اور اخلاقی معیار بلند سے بلند تر ہوتے چلے جائیں اور یہ کہ آپ اپنے دینی علم کو بھی بڑھائیں۔
قطع نظر اس کے کہ آپ کہاں رہ رہے ہیں یا کہاں کام کر رہے ہیں آپ کی زندگی اسلامی تعلیم کا عملی نمونہ ہو اور پوری دنیا میں جہاں تک ممکن ہو سکے اپنے دین کی تبلیغ کریں۔ آپ اپنی خداد اد صلاحیتوں کو اپنے دین کے فروغ کے لیے بروئے کار لائیں۔ اگر آپ یہ سب کچھ کریں گے تبھی یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ ایک حقیقی واقفِ نَو کی زندگی گزارنے والے ہیں۔

ایک موقع پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے تحریر فرمایا کہ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اسی لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعریف کی ہے جیسا کہ فرمایا ہے اِبْرَاہِیْمَ الَّذِیْ وَفّٰی ٰ۔ کہ اس نے جو عہد کیا اسے پورا کرکے دکھایا۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد 6 صفحہ 234)

اس آیت کا یہ مطلب ہے کہ ابراہیم علیہ السلام نے اس وعدے کو جو انہوں نے اللہ تعالیٰ سے کیا تھا کامل اطاعت اور فرمانبرداری کے ساتھ پورا کیا۔ اور یوں وہ اپنے خالق کے پیار کے مستحق ٹھہرے۔پس اب آپ کی ذمہ داری ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے مقدس عہدکو پورا کریں۔ ایسا کرنا آسان یا معمولی بات نہیں۔ وقف ِزندگی اور وقفِ نَو کا عہد بہت وسیع اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ یہ عہد تقاضا کرتا ہے کہ ہم اپنی زندگیاں اپنے دین کی خدمت کے لیے وقف کر دیں۔ اور جیسا کہ میں بیان کرچکا ہوں کہ یہ عہد تقاضا کرتا ہے کہ آپ ہر آن اپنی عبادات کے معیار کو بلند سے بلند تر کریں اور اپنے اخلاقی اور روحانی معیار میں ترقی کریں۔
بے شک اگر تمام واقفینِ نَو اپنے عہد کو پورا کریں تو ہم دنیا میں ایک عظیم الشان انقلاب اور روحانی تبدیلی برپا ہوتے دیکھیں گے۔ لیکن ابھی منزل مقصود بہت دور ہے۔

بعض اوقات مجھ سے نئے شادی شدہ جوڑے آکر ملتے ہیں اور خاوند یا بیوی اس بات کو بڑے فخر سے بتاتے ہیں کہ میں وقفِ نَو ہوں یا یہ کہ میرا خاوند یا میری بیوی وقفِ نَو ہے اور اسی طرح ہمارا یہ بچہ بھی وقفِ نَو ہے۔ یہ بہت اچھی بات ہے کہ ان کا پورا گھر اس بابرکت تحریک میں شامل ہے۔ مگر جیسا کہ میں نے کئی بار کہا ہے کہ صرف وقف نو کا ٹائیٹل لگا لینا بے معنی ہے۔ آپ اس وقت حقیقی طَور پر واقفِ نَو بنیں گے جب آپ اپنے عہد کو سمجھتے ہوئے اپنی تمام تر استطاعت کے ساتھ اسے پورا کرنے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔

اس عہد کی پاسداری مستقل جدو جہد، اعلیٰ جذبے اور عظیم قربانیوں نیز اپنے خالق سے کامل وفاداری کا تقاضا کرتی ہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ایک مرتبہ فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی راہ میں کامل طور پر فرمانبرداری اختیار کی جائے جیسا کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اختیار کی۔ جنہوں نے اپنی ذات خدا تعالیٰ کی کامل اطاعت میں ڈال دی اور اللہ تعالیٰ کی خاطر ہر مشکل برداشت کی۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں آپؑ کی اطاعت اور اخلاص کی تصدیق فرمائی۔ پس یہ وہ معیار ہے جس کی تقلید کی کوشش ہر ایک وقف نو کو کرنی چاہیے۔

ایک اَور جگہ پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ فاداری اور صدق اور اخلاص دکھانا ایک موت چاہتا ہے۔ جب تک انسان دنیا اور اس کی ساری لذتوں اور شوکتوں پر پانی پھیر دینے کو تیار نہ ہو جاوے۔ اور ہر ذلّت اور سختی اور تنگی خدا کے لیے گوارا کرنے کو تیار نہ ہو۔ یہ صفت پیدا نہیں ہو سکتی۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے مزید فرمایا کہ بُت پرستی یہی نہیں کہ انسان کسی درخت یا پتھر کی پرستش کرے بلکہ ہر ایک چیز جو اللہ تعالیٰ کے قرب سے روکتی ہے اور اس پر مقدم ہوتی ہےوہ بت ہے۔ (ماخوذ از ملفوظات جلد 4 صفحہ 429) آپ سب کو اس بات پر غور کرنا چاہیے اور اپنی زندگیوں کو سامنے رکھتے ہوئے اس بات کا جائزہ لینا چاہیے کہ کہیں آپ بھی دنیاوی کاموں اور دنیا وی ترقیوں کو حاصل کرنے کی دوڑ میں اپنے دین سے دور تو نہیں نکل گئے؟

اگر ایک انسان کو اس قسم کے دنیاوی مفادات اللہ تعالیٰ کو بھلانے پر مجبور کر دیں تو وہ کس طرح یہ دعویٰ کر سکتا ہے کہ وہ اسی طرح اللہ تعالیٰ کا وفادار ہے جس طرح حضرت ابراہیم علیہ السلام تھے یا یہ کہ وہ ان معیاروں کو پا چکا ہے جن کی توقع حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے رکھی ہے؟
بہت سارے واقفینِ نَو نوکریوں اور کاروباروں میں مصروف ہیں لیکن انہیں اپنے دنیاوی کاموں کو خدا تعالیٰ کی عبادت میں حائل نہیں ہونے دینا چاہیے۔ اسی طرح ایسے بچے جو کمپیوٹر گیمز کھیلتے ہیں یا دوسرے مشاغل رکھتے ہیں انہیں اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ ان کی کھیلیں یا ان کے مشغلے ان کو نمازوں کی ادائیگی اور مذہبی فرائض پر عمل کرنے سے غافل نہ کر دیں۔ ان کو چاہیے کہ وہ ایسی عادت ڈال لیں کہ جب بھی نماز کا وقت ہو وہ کھیل اور دوسرے کاموں کو چھوڑ دیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کا دین ان کی دنیاوی خواہشات پر مقدم رہے۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ ہماری جماعت کو یاد رکھنا چاہیے کہ جب تک وہ بُزدلی کو نہ چھوڑے گی اور استقلال اور ہمت کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی ہر ایک راہ میں ہر مصیبت و مشکل کے اٹھانے کے لیے تیار نہ رہے گی وہ صالحین میں داخل نہیں ہوسکتی۔(ماخوذ از ملفوظات جلد 6 صفحہ 255)
پس یہ اپنے دین سے وفاداری کا معیارہےجو اللہ تعالیٰ کے افضال اور اس کا قرب پانے کے لیے ضروری ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے ذکر کیا ہے، صرف وقفِ نَو کی تحریک میں شامل ہوجانا اور اپنے آپ کو وقفِ نَو کہلانا کوئی قابلِ فخربات نہیں۔پس اگر کوئی مجھے یہ بتاتا ہے کہ وہ ،اس کی بیوی اور بچے سب وقفِ نو ہیں تو ان کو سمجھنا چاہیے کہ جب تک وہ اطاعت کے ان اعلیٰ معیاروں تک نہیں پہنچتے جن کا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہم سے تقاضا فرمایا ہے اس وقت تک وقفِ نَو کی تحریک میں شامل ہونا کوئی معنیٰ نہیں رکھتا۔ جب تک آپ اپنے دین کو تمام دنیاوی معاملات پر ترجیح نہیں دیتے،صرف وقف ِنو میں شامل ہوجانا بے معنیٰ ہے۔ اس کے علاوہ آپ کو ہمیشہ اپنے لیے یہ دعا کرنی چاہیے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اپنی ذمہ داریاں اور اپنے ایمان کے تقاضے پورے کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

یہاں میں کم عمر بچوں کو جو ابھی اطفال ہیں اور خدام کو بھی اس بات کی یاد دہانی کرانا چاہتا ہوں کہ وقفِ نو کی حیثیت سے آپ کو اطفال الاحمدیہ اور خدام الاحمدیہ کا فعال رکن ہونا چاہیے۔آپ کو دیگر اطفال اور خدام کے لیے نمونہ بنتے ہوئے ہر ذمہ داری ادا کرنے اور قربانی دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔

پھر ایک وقفِ نَو کی عبادتوں کا معیار بھی دیگر احمدیوں سے اونچا ہونا چاہیے۔جیسا کہ میں کہہ چکا ہوں آپ کو باقاعدگی سے نماز باجماعت ادا کرنی چاہیے اور ہر روز قرآن کریم کی تلاوت کرنی چاہیے۔صرف اسی صورت میں آپ اپنے آپ کو حقیقی واقفِ نو کہہ سکتے ہیں ۔

فرض نمازوں کے ساتھ ساتھ بڑی عمر کے واقفینِ نو بچوں کو باقاعدگی کے ساتھ نوافل ادا کرنے چاہئیں۔ تب ہی آپ اپنے آپ کو حقیقی واقفِ نو کہہ سکتے ہیں۔

پھر نوجوان اطفال اور خدام الاحمدیہ کے تمام ممبران کو توجہ کے ساتھ قرآن کریم کا ترجمہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کی بیان فرمودہ تفاسیر کا مطالعہ کرنا چاہیے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ کے احکام کا علم ہونا چاہیے اور اپنی تمام تر صلاحیتوں کے ساتھ ان پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ تب ہی آپ اپنے آپ کو حقیقی وقفِ نو کہہ سکتے ہیں۔

ایک واقفِ نَو کے اخلاق و عادات ہر حال میں مثالی ہوں گے تو تب ہی آپ اپنے آپ کو حقیقی واقفِ نو کہہ سکتے ہیں۔

مزید یہ کہ بے شک تمام اطفال اور خدام کو مناسب لباس پہننا چاہیے اور دوسروں کے ساتھ عزت اور خوش اخلاقی سے پیش آنا چاہیے، لیکن ایک واقفِ نَو کے معیار اس سے بھی بلند ترہونے چاہئیں۔ صرف اسی صورت میں آپ اپنے آپ کو حقیقی وقفِ نو کہہ سکتے ہیں۔

لڑکیوں کے مقابلہ میں لڑکے معاشرے میں پھیلی بے حیائی اور بداخلاقی سے زیادہ جلد متاثر ہوجاتے ہیں۔ تاہم ہمارے لڑکوں کو اپنی پاکدامنی کا خیال رکھنا چاہیے اور کسی نامناسب اور غیر اخلاقی حرکت میں مبتلا نہیں ہونا چاہیے۔ صرف تب ہی آپ اپنے آپ کو حقیقی واقفِ نو کہہ سکتے ہیں۔

آپ کو چاہیے کہ آپ اپنے والدین کی عزت کریں،ان کی اطاعت کریں،ان کا خیال رکھیں اور ان کے لیے دعا کریں۔ تب ہی آپ اپنے آپ کو حقیقی واقفِ نو کہہ سکتے ہیں۔

اسی طرح اپنے بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ پیار اور محبت سے پیش آئیں اور ان کے لیے ایسی نیک مثال قائم کریں جس سے وہ بھی سیکھیں۔ تب ہی آپ اپنے آپ کو حقیقی واقفِ نَو کہہ سکتے ہیں۔

اگر آپ شادی شدہ ہیں تو آپ اپنی بیوی اور بچوں کے لیے بہترین نمونہ قائم کریں۔ اُ ن سے پیار کا سلوک رکھیں اور ان کا خیال رکھیں اور ان کی ضروریات پوری کریں۔ اس بات کے لیے سنجیدگی کے ساتھ کوشش کریں کہ جماعت احمدیہ کی آئندہ نسل اخلاص کے ساتھ نظامِ جماعت سے وابستہ رہے ۔ صرف تب ہی آپ اپنے آپ کو حقیقی واقفِ نو کہہ سکتے ہیں۔

اسی طرح آپ میں سے جو شادی کرنے کا سوچ رہے ہیں انہیں چاہیے کہ احمدی، نیک لڑکیوں کا انتخاب کریں تاکہ آپ کی آئندہ نسلیں نیک ماحول میں پروان چڑھیں۔ اگر آپ جماعت کے مستقبل کو محفوظ کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کر رہے ہیں تو تب ہی حقیقی واقفِ نَو کہلا سکتے ہیں۔ آپ کو سخت جان اور مضبوط اعصاب کا مالک ہونا چاہیے۔ آپ کو شدید محنت اور دین کی خاطر ہر خدمت کرنے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ آپ کو ہر قسم کی مشکلات برداشت کرنے اور جماعت کے لیے ہر قسم کی قربانی دینے کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ صرف اسی صورت میں آپ اپنے آپ کو حقیقی واقفِ نو کہہ سکتے ہیں۔

واقفینِ نَوکو تبلیغ کے میدان میں سب سے آگے ہونا چاہیے اور اسلامی تعلیمات کی اشاعت کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہوئے بجا لانا چاہیے۔ اور اس مقصد کے لیے آپ کے پاس دین کا علم ہونا چاہیے۔ پس میں دوبارہ اس بات کی اہمیت کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ قرآن کریم کے گہرے معانی کو سمجھنے اور جماعت کی طرف سے شائع کردہ کتب اور رسائل کو پڑھنے کی کوشش کریں۔ صرف اسی صورت میں آپ اپنے آپ کو حقیقی واقفِ نو کہہ سکتے ہیں۔

پھر ہمیشہ یاد رکھیں کہ یہ ایک واقفِ نو کی ذمہ داری ہے کہ وہ خلیفۂ وقت کے پیغام اور اس کے مشن کو پھیلائے اور ان کا سلطانِ نصیر بنے۔ آپ یہ کام صرف اسی صورت میں کر سکتے ہیں جب آپ خلافت کے کامل اطاعت گزار ہوں گے۔ آپ دوسروں کو بھی اس بات کی نصیحت صرف اسی صورت میں کر سکتے ہیں جب آپ خود خلیفۂ وقت کی ہدایات اور راہنمائی پر عمل کرنے والے ہوں گے۔

جہاں تمام احمدیوں کو یہ مستقل عادت بنا نی چاہیے کہ وہ میرے خطباتِ جمعہ اور دیگر پروگراموں کو سنیں وہاں واقفینِ نو کے لیے یہ لازمی ہے کہ وہ خطبات سننے کے ساتھ ساتھ نوٹس بھی لیں اور جو میں نے کہا ہے اس پر عمل کرنے کی کوشش کریں اور جو وہ سیکھیں اپنی روزمرہ کی زندگی کو اس کے مطابق ڈھالنے کی کوشش کریں۔

پھر ایک واقفِ نَو کو ہر قسم کے تکبر اور غرورسے پاک ہونا چاہیے۔ اس کے برعکس عاجزی اور صبر و تحمل آپ کا طرۂ امتیاز ہونا چاہیے۔ آپ صرف اسی صورت میں اللہ تعالیٰ کی رضا اور قرب کو پاسکتے ہیں جب آپ ان تمام خوبیوں کو پیدا کرنے کی کوشش کریں گے۔

اللہ تعالیٰ آپ سب کو اپنی ذمہ داری اور عہدکو سمجھنے اور وقف کے تقاضوں کو کماحقہٗ پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔چاہےآپ باقاعدہ طور پر کسی جماعتی خدمت پر مامور ہوں یا ذاتی کام کر رہے ہوں، آپ کو اُس مقدس عہد کو پورا کرنے کے لیے پوری کوشش کرنی چاہیے جو آپ کے والدین نے آپ کی پیدائش سے پہلے کیا تھا۔

اللہ تعالیٰ آپ کو علم و ایمان میں مسلسل ترقی کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آپ کو اپنی اخلاقی اور روحانی حالتوں میں ترقی کرنے کی توفیق عطا فرمائے ۔آپ کو جماعت کے لیے اپنی خدمات میں مسلسل اضافہ کرنے اور کامل اخلاص کے ساتھ اپنا عہد پورا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

٭…٭…٭

مزید دیکھیں

متعلقہ مضمون

رائے کا اظہار فرمائیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button